Powered By Blogger

ہفتہ, نومبر 13, 2021

السلام علیکمحالات حاضرہ پر ایک مضمون حاضر خدمت ہے امید ہے قریبی شمارے میں جگہ عنایت فرمائیں گے۔ شکریہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مولانا قمر غنی عثمانی کی گرفتاری اور تری پورہ میں کھلے عام بھگوا دہشت گردی کے خلاف بولنے/لکھنے والوں کے خلاف یو۔پی۔اے۔ کا مقدمہ جمہوریت کی گال پر زوردار طمانچہ

السلام علیکم

حالات حاضرہ پر ایک مضمون حاضر خدمت ہے امید ہے قریبی شمارے میں جگہ عنایت فرمائیں گے۔ شکریہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مولانا قمر غنی عثمانی کی گرفتاری اور تری پورہ میں کھلے عام بھگوا دہشت گردی کے خلاف بولنے/لکھنے والوں کے خلاف یو۔پی۔اے۔ کا مقدمہ جمہوریت کی گال پر زوردار طمانچہ
ازقلم: محمد شعیب رضا نظامی فیضی
چیف ایڈیٹر: ہماری آواز، گولا بازار گورکھ پور یو۔پی۔
9792125987

گزشتہ دنوں تری پورہ میں ہندوؤں کے فرقہ پرست عناصر کے ذریعہ مسلمانوں کی دکانوں، مکانوں اور عبادت گاہوں پر ظلم و تشدد اور پیغمبر اعظم کی شان میں گستاخی اور ان پر پولیس، میڈیا و حکومت کی خاموشی  و پشت پناہی نے ہٹلر کی یادوں کو نہ صرف تازہ کیا ہے بلکہ ہٹلر کو بھی دو قدم پیچھے چھوڑنے کا کام کیا ہے۔ کھلے عام مسلمانوں پر ہورہے ظلم پر نہ تو تری پورہ کی بی۔جے۔پی۔ حکومت نے لب کشائی کی جسارت کی اور نہ ہی مرکز کی مودی حکومت نے، وشیوہندوپریشد اور بجرنگ دل کے فرقہ پرست کارکنان کی مسجدوں میں توڑ پھوڑ اور پیغمبر اعظمﷺ کی شان میں توہین پر نہ تو ملک کی زرخرید میڈیا کا رد عمل آیا اور نہ ہی پولیس انتظامیہ نے اب تک کوئی کارروائی کی۔ ابھی تک یہ بھی واضح نہ ہوسکا ہے کہ ان فرقہ پرست عناصر کے خلاف ایف۔آئی۔آر۔ لکھا بھی گیا ہے یا نہیں؟ گرفتاری کی بات ہی درکنار!!!
اوپر سے حالات کا جائزہ لینے اور مسلمانوں کی امداد کو پہنچے تحریک فروغ اسلام کے بانی حضرت مولانا قمر غنی عثمانی صاحب اور آپ کی ٹیم کو گرفتار بھی کرلیا گیا؟؟؟؟ عجیب غنڈہ گردی ہے بھائی!!! مطلب یہ ہے کہ اب مظلوموں کی داد رسی کرنے پر بھی جیل؟؟؟ ابھی تک جو معلومات سامنے آئے ہیں ان سے صرف یہی پتہ چل سکا ہے کہ مولانا اور ان کی ٹیم نے سوشل میڈیا پر تری پورہ کے ایک مسجد کی ویڈیو اپلوڈ کردی تھی جو مسجد ان بھگوا فرقہ بازوں کے آتنک کا شکار ہوئی تھی۔۔۔ حد ہے یار!!! ظلم و ستم کو دنیا کے سامنے لانے پر جیل؟؟؟ ملک میں ظلم و ستم کی نئی داستان لکھی جارہی ہے جناب! اگر قمر غنی عثمانی صاحب نے تری پورہ میں ہندو تنظیموں کے ظلم و زیادتی کی شکار مسجد کی ویڈیو بنائی ہے تو اس میں گناہ کیا ہے؟ ہاں گناہ یہ ہے کہ انھوں تمھیں ثبوتوں کو مٹاکر ان فرقہ پرست عناصر کو بچانے سے روکا ہے۔
اسی طرح تری پورہ میں ہوئے ظلم وستم کے خلاف آواز اٹھانے والے وکیلوں اور سو سے زائد سوشل میڈیا صارفین کے خلاف یو۔اے۔پی۔اے۔ کا مقدمہ درج کرنا صرف اور صرف ثبوتوں کو مٹانے کی کوشش، فرقہ پرست عناصر کی پشت پناہی اور جمہوریت کی شیرازہ بندی ہے۔
ملک اور صوبہ کا ماحول بگاڑنے کا کام ان ہندو تنظیموں نے کیا ہے نہ کہ وکیلوں اور مولانا قمر غنی عثمانی نے۔
ہم جانتے ہیں کہ آج بھی ملک میں گنگا-جمنی تہذیب کے پیروکاروں کی اکثریت ہے صرف مٹھی بھر دہشت گردی کرنے والے یہ لوگ اور آتنک پھیلانے والی تنظیم کی غنڈ گردی سے ملک کی شبیہ داغ دار ہورہی ہے، عالمی ادارہ سے لے کر یو۔اے۔ای۔ کی شہزادی تک سب نے ملک کی جمہوریت پر انگشت نمائی شروع کردی ہے اور حد تو یہ ہے آج وہ لوگ انگشت نمائی کرنے لگے ہیں جن کی اوقات ہمارے ملک کے ایک چھوٹے صوبے کے وزیر اعلیٰ سے بات کرنے کی بھی نہیں ہے مگر صرف مٹھی بھر ان ہندو فرقہ پرستوں کی وجہ سے پورے ملک کو عالمی پیمانے پر ہزیمت اٹھانی پڑ رہی ہے لہذا حکومت سے میری گزارش ہے کہ وہ فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے مجرمین جس میں تری پورہ کی پولیس وشیوہندوپریشد کے کارکنان اور ان کے ساتھ جو بھی اس غنڈہ گردی میں شامل تھے سب کو کیفر کردار تک پہنچائے ورنہ نہ تو تاریخ اسے بھلا سکے گی اور نہ ہی آنے والی نسلیں۔۔۔۔۔

ریلوےنے دی عام مسافرین کو بڑی راحت، کورونا کے دوران خصوصی ٹیگ کی وجہ سے بڑھے ٹرینوں کے کرائے میں 30 فیصدی تک کی تخفیف

ریلوےنے دی عام مسافرین کو بڑی راحت، کورونا کے دوران خصوصی ٹیگ کی وجہ سے بڑھے ٹرینوں کے کرائے میں 30 فیصدی تک کی تخفیف
ریلوے نے دی عام مسافرین کو بڑی راحت، کورونا کے دوران خصوصی ٹیگ کی وجہ سے بڑھے ٹرینوں کے کرائے میں 30 فیصدی تک کی تخفیف۔

نئی دہلی: کورونا کے دوران خصوصی ٹیگ کی وجہ سے بڑھے ہوئے کرائے کے ساتھ چلنے والی تمام ٹرینیں اب پرانے نام اور نمبر کے ساتھ چلیں گی۔ وزارت ریلوے نے مسافروں کو بڑا ریلیف دینے کا اعلان کیا ہے۔ وزارت نے کہا ہے کہ وہ تمام ٹرینیں جنہیں کورونا کے دوران خصوصی ٹرینوں میں تبدیل کیا گیا تھا اب وہ پہلے کی طرح معمول کے مطابق چلائی جائیں گی۔ اس سے ان ٹرینوں میں لگائے جانے والے خصوصی چارج میں کمی آئے گی جس سے کرایہ تقریباً 30 فیصد کم ہو جائے گا۔
سرکلر جاری کر دیا گیا ہے۔
کووڈ-19 کے معاملات میں کمی کی وجہ سے وزارت ریلوے نے جمعہ کی میٹنگ میں کووڈ سے پہلے (کورونا سے پہلے) شیڈول کے تحت دوبارہ ٹرینیں شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ ریلوے بورڈ نے خصوصی ٹرینوں کو پہلے کی طرح معمول کے مطابق چلانے کے لیے سرکلر بھی جاری کیا ہے۔ یہ سرکلر جمعہ کی شام دیر گئے جاری کیا گیا۔
اس سرکلر کے مطابق نئے رہنما خطوط کے ساتھ اب تمام ٹرینیں عام کرایہ کے ساتھ چلائی جائیں گی۔ ریلوے کے ایک اہلکار کے مطابق، اےسی ٹرینوں کی دوسری کلاس کسی بھی قسم کی نرمی کے بغیر ریزرو کے طور پر چلتی رہے گی۔ ان خصوصی ٹرینوں میں سفر کرنے والے مسافروں کو اب بھی 30 فیصد اضافی کرایہ ادا کرنا ہوگا۔

1700 ٹرینیوں پر اچانک لگ گیا تھا بریک۔
مرکزی حکومت نے گزشتہ سال مارچ میں کورونا کے کیسز میں اضافے کی وجہ سے لاک ڈاؤن کا اعلان کیا تھا۔ اس سے پہلے ٹرینوں کی آمدورفت روک دی گئی تھی۔ اس سے تقریباً 1700 ایکسپریس ٹرینیں متاثر ہوئیں۔
بعد ازاں ریلوے نے آہستہ آہستہ ٹرینوں کو دوبارہ پٹری پر لانا شروع کر دیا تاہم تمام ٹرینیں مکمل ریزرویشن کے ساتھ خصوصی ٹیگ کے ساتھ چل رہی تھیں۔ ان ٹرینوں میں تقریباً 30 فیصد اضافی کرایہ وصول کیا جا رہا تھا جس کا نقصان عام مسافر کی جیب پر پڑ رہا تھا۔

بی جے پی فیس بک کے ذریعہ نفرت پھیلا رہی ہے : کانگریس

بی جے پی فیس بک کے ذریعہ نفرت پھیلا رہی ہے : کانگریسنئی دہلی: کانگریس نے سوشل میڈیا فیس بک پر الزام لگایا ہے کہ وہ مودی حکومت کے ساتھ گٹھ جوڑ کررکھا ہے ۔ اس لیے اس سوشل میڈیا کے ذریعے نفرت پھیلانے کا کام کیا جارہاہے ۔ کانگریس کی سوشل میڈیا یونٹ کے سربراہ روہن گپتا نے جمعہ کو یہاں ایک پریس کانفرنس میں یہ بات کہی۔ فیس بک کے ذریعے جو خبریں پھیلائی جا رہی ہیں وہ سب جھوٹ ہیں اور اس کی وجہ سے نفرت کی فضا بہت خطرناک ہوتی جا رہی ہے ۔ فیس بک غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کر رہا ہے اور اسے کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے ۔ گپتا نے بتایا کہ اس سلسلے میں انہوں نے فیس بک کے سربراہ مارک زکربرگ کو ایک خط لکھا ہے ، جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ فیس بک ہندوستان میں جس طرح کی سرگرمیوں میں ملوث ہے اور جس طرح سے نفرت کا ماحول پھیلانے کے لیے کام کر رہی ہے ، اس کی اچھی طرح سے جانچ ہونی چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک رپورٹ کے مطابق جب فیس بک کے ایک ملازم نے ہندوستان میں اس میڈیا کے ذریعہ پھیلائے جانے والے نفرت انگیز اور جھوٹی خبروں کے مواد کی طرف توجہ دلائی تو اس کے حکام کا جواب تھا کہ یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے ۔

جمعہ, نومبر 12, 2021

دوروزہ چمپارن دورہ کی روداد____✍️محمد نظر الہدیٰ قاسمینور اردو لائبریری حسن پور گنگھٹی بکساما مہوا ویشالی

دوروزہ چمپارن دورہ کی روداد____

✍️محمد نظر الہدیٰ قاسمی
نور اردو لائبریری حسن پور گنگھٹی بکساما مہوا ویشالی
8229870156
عبد الرحیم دربھنگہوی

١١/نومبر ٢٠٢١ء بروز جمعرات رشید الامت حضرت مولانا عبد الرشید صاحب دامت برکاتہم شیخ الحدیث مدرسہ اسلامیہ عربیہ بیت العلوم سراۓ میر اعظم گڈھ یوپی کے حکم پر چمپارن کا کامیاب اور یادگار دورہ ہوا،مولانا مہتاب عالم  امام و خطیب جامع مسجد چکیا و استاذ صوفیہ یونانی میڈیکل کی خصوصی توجہ سے میں مدرسہ فیض اقبال سسوا سوپ چمپارن کے احاطہ میں پہونچا علماء کی ایک جم غفیر پگڑی،ٹوپی اور کرتا میں ملبوس مدرسہ کے احاطہ کو رونق بخش رہے تھے،مختلف علماء سے علیک سلیک،معانقہ،مصادرہ،مباطنہ  کرنے کے بعد رشید الامت حضرت مولانا عبد الرشید صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی خدمت میں حاضر ہوا،حضرت نے مجھے دیکھ کر خوشی کا اظہار فرمایا  اور سینۂ سے لگاتے ہوئے خیرو عافیت دریافت کی،پھر بعد نماز مغرب طے شدہ پروگرام کے مطابق  مدرسہ کی مسجد میں جلسہ سیرت النبی کے باضابطہ انعقادسے قبل بچوں کا خوبصورت پروگرام پیش کیا گیا،بچوں نے  اردو،عربی اور انگریزی زبان میں اپنی کارکردگی کا مظاہرہ کیا، بچوں کے پروگرام دیکھنے سے یہ اندازہ ہوا کہ یہاں کے تعلیم معیاری اور مظبوط انداز میں ہورہی ہے اساتذہ بچوں کی تئیں مخلص اور فکر مند ہیں،پھر قاری مامون الرشید (استاذ مدرسہ طیب المدارس پریہار) و قاری محمد انظار طاہر(استاذ مدرسہ تحفیظ القرآن پٹنہ) صاحبان کی مسحور کن تلاوت اور مولانا شاہد قاسمی کی نعت نبی سے مجلس کا باضابطہ آغاز ہوا، حضرت مولانا مفتی عبد الماجد صاحب خلیفہ و مجاز بیعت حضرت اقدس مولانا عبد الرشید صاحب،حضرت مولانا مفتی محمد محفوظ الرحمن صاحب قاسمی ناظم مدرسہ سراج العلوم سیوان اور احقر کی سیرت النبی کے موضوع پر تقریر ہوئی،اخیر میں شیخ المشائخ نمونہ اسلاف رشید الامت حضرت اقدس مولانا عبد الرشید صاحب شیخ الحدیث مدرسہ اسلامیہ عربیہ بیت العلوم سراۓ میر کی ملک  میں بڑھتے ہوئے ارتداد کے  فتنہ  اور اسکے حل اور سیرت النبوی  پر تفصیلی گفتگو  ہوئی پھر دعا کے بعد پروگرام کا اختتام ہوا  مجمع حساس،علماء کا قدرداں  اور حضور صلی االلہ علیہ وسلم کا شیدا تھا____
مدرسہ فیض اقبال سسوا سوپ چمپارن جسکی ابتدا 1999ء میں حضرت مولانا سجاد صاحب قاسمی کی کدو کاوش سے ایک مکتب کی شکل میں  ہوا، اس مکتب کی بنیاد مدرسہ اسلامیہ جامع العلوم مظفرپور کے مائہ نازاستاذ حضرت مولانا مفتی محمد اقبال صاحب قاسمی کے ہاتھوں پڑی، اب  یہ ادارہ مدرسہ کی شکل میں  ٧ اساتذہ کی نگرانی میں  پورے آب و تاب کے ساتھ حضرت مولانا مفتی صابر صاحب خلیفہ و مجاز حضرت مولانا عبد الرشید صاحب دامت برکاتہم کے زیر اہتمام چل رہا ہے اور  اس کا فیض مدرسہ کے  قرب و جوار میں جاری و ساری ہے۔
کل ہوکر علی الصباح حضرت مولانا قاری اطیع اللہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ  کے قائم کردہ  مدرسہ معراج العلوم  کٹھملیا ڈھاکہ حضرت کی معیت  میں پورے قافلہ کے ساتھ حاضری کی سعادت حاصل ہوئی، مدرسہ کے احاطہ میں پہونچنے کے بعد حضرت مولانا قاری اطیع اللہ صاحب سے ملاقات ہوئی حضرت  نے قاری صاحب سے میرا تعارف کرایا تو خوشی کا اظہار فرمایا اور خوب دعائیں دیں وہاں سے مولانا فیض صاحب کی توسط سے حضرت مولانا عبد الرشید صاحب دامت برکاتہم کی معیت میں جامعہ ماریہ نسواں تعلیم آباد پچپکڑی روڈ ڈھاکہ،مشرقی چمپارن میں حاضری کا موقع ملا، یہ ادارہ جامعہ اسلامیہ عربیہ ہتھوڑا باندہ،یوپی کے ناظم اعلیٰ حضرت اقدس الحاج مولانا سید حبیب  احمد  ابن حضرت مولانا سید صدیق احمد صاحب باندوی رحمتہ اللہ کی سرپرستی مولانا نثار احمد قاسمی صاحب کے زیر اہتمام ١٥ معلمین ٦ معلمات اور ٥ دیگر عملہ کی زیر نگرانی ٤٢٠ طالبات زیور تعلیم و تربیت سے آراستہ ہورہی ہیں۔پھر جامع مسجد ڈھاکہ میں جمعہ کی نماز سے قبل حضرت  کا پر مغز خطاب ہوا اور پھر یہیں پر ١٢/نومبر ٢٠٢١ء کو میرا دوروزہ چمپارن دورہ بحسن و خوبی انجام پذیر ہوا۔اللہ تعالیٰ اس دورہ کو قبول فرمائے۔آمین ثم آمین۔

جرائم کے خوگر بچے مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ

جرائم کے خوگر بچے 
مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ 
عبد الرحیم دربھنگہوی

 والدین اور گارجین حضرات کی بے توجہی کی وجہ سے بچوں میں بُری عادتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں اور ان کے جرائم میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے ، نیشنل جوڈیشیل ڈاٹا گریڈ اور قومی جرائم رکارڈ بیورو (نیشنل کرائم رکارڈ بیورو) کے مطابق گذشتہ چند سالوں میں سولہ سال سے کم عمر کے بچے بڑی تعداد میں جرائم کے خوگر ہو گئے ہیں، ان کی مجرمانہ ذہنیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک رپورٹ کے مطابق سال بھر میں بچوں نے انتیس ہزار سات سو چھیاسی (۲۹۷۸۶) سے زائد واردات کو انجام دیا، جن میں قتل اغوا، چوری، لوٹ اور ڈکیتی جیسے جرائم بھی شامل ہیں، ۲۰۱۹ء کے مقابل یہ تعداد تھوڑی زیادہ ہے ، ۲۰۱۹ء مین بچوں کے ذریعہ انجام دیے گئے واردات کی تعداد انتیس ہزار بائیس (۲۹۰۲۲) تھی، ان نابالغ بچوں میں بڑی تعداد ان کی ہے، جن کی تعلیم پرائمری سے آگے نہیں بڑھ سکی تھی۔
عدالت عظمی (سپریم کورٹ) کے ایک وکیل منیش پاٹھک کی رائے ہے کہ بچوں مین جرائم کی عادت میں اضافہ کی وجہ قانون کا کُھلا پن ہے، بھیانک جرائم کے انجام دینے کے بعد بھی نابالغ ہونے کی وجہ سے جو ینائل جسٹس ایکٹ کا سہارا لے کر وہ سزا سے بچ جاتے ہیں، زیادہ سے زیادہ انہیں تین سال کے لیے ’’ بال سدھار گرہ‘‘ بھیجا جا سکتا ہے ، اس کے بعد وہ رہا ہو کر باہر آجاتے ہیں اور پھر اپنی سابقہ روش پر چل پڑتے ہیں ۔
 بچوں کو جرائم سے دور رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ والدین اور گارجین حضرات ان کی تعلیم وتربیت پر خصوصی توجہ دیں، سماج میں ایسے ماحول کو پروان چڑھایا جائے، جس میںجرائم سے نفرت کی ذہنیت بنے ،انہیں روزگار فراہم کرایا جا ئے، تاکہ وہ کام سے لگ سکیں، صرف قانون کے ڈنڈا اور اطفال مزدوری کو روک کر اس پر قابو نہیں پایا جا سکتا ،صالح اقدار کو فروغ دینے کے لیے حکومت نہیں سماج کو بھی اپنی ذمہ داری نبھانی ہوگی۔

قـومـي تنـظـيـم ، پٹنہ ، جمعہ ۱۲ نومبر ۲۰۲۱ ء ویشالی میں مسجد کے امام نے حجرہ میں کی خودکشی ، علاقے میں پھیلی سنسنی جای پورندیم اشرف مظہر حسن شاہنواز

قـومـي تنـظـيـم ، پٹنہ ، جمعہ ۱۲ نومبر ۲۰۲۱ ء ویشالی میں مسجد کے امام نے حجرہ میں کی خودکشی ، علاقے میں پھیلی سنسنی جای پورندیم اشرف مظہر حسن شاہنوازویشالی میں مسجد کے امام نے حجرہ میں کی خودکشی ، علاقے میں پھیلی سنسنی جای پورندیم اشرف مظہر حسن شاہنواز ، ویشالی ضلع کے بدو پور تھانہ حلقہ کے اندھوارہ بدو پور اسٹیشن کے قریب ایک مسجد کے امام نے اپنے جرے میں ہی گلے میں پھانسی کا پھندا ڈال کر خودکشی کر لی ہے یہ واقعہ بدھ کا ہے فجر کی اذان نہیں ہونے پر مقتدی نے امام صاحب کو بیدار کرنے گیے تو حجرہ کے کواڑ پر دستک دی کوئی کرتے ہیں اس لیے پولیس بار یکی سے تحقیق کرے تو دودھ اور پانی الگ ہونے کے بعد خودکشی یاقتل معمہ بنا یہ واقعہ کا انکشاف ہو جاے گا حالانکہ یہاں کے باشندے محمد یونس ، محمدرضا محمد سراج ، محمد شہزاد وغیر ہم نے بتایا کہ مولانا نے عشاء کی نماز کے بعد کھانا کھلانے کے بعد سڑک پر تھوڑی دیر ٹہلے اور لوگوں سے آواز نہیں ملی تو گاؤں کے چند لوگوں کو خبر کی حب گاؤں کی مسجد میں امامت وخطابت کے ساتھ بات چیت کرنے کے بعد جرہ میں جا کر سو گئے مسجد کا صدر دروازہ کا پلاتوڑ کر دیکھا تو مقتدی ساتھ بچوں کوتعلیم وتربیت میں لگے ہوئے تھے فجرکی آذان نہیں ہونے پرمقتدی گیے تو یہ واقعہ سمیٹ دیگر گاؤں کے لوگ مششدر رہ گئے وہ 2 نومبر کتنخواہ ملنے کے بعد گھر کیے تھے وہ دیکھ کر حیران رہ گئے مولانا کوکسی سے گلہ شکوہ چونکہ مولانا کی لاش ان کے جرہ میں بچھاہے سوموار 8 نومبر کو گھر سے لوٹے تھے کے وہ شکایت نہ تھا کافی ملنسار اخلاق مند تھے لگی ہوئی تھی جس سے علاقے میں سنسنی پھیل گئی مولانا کی موت سے نہیں صرف بدو پور ویشالی دوسرے دن خودکشی کر لی ہے مولانا نے گھریلو طرح پھیل گئی اور دیکھتے دیکھتے لاتے از خواہ غرق کی وجہ جی پی آئی مسجد کے امام کی موت کی خبر جنگل کی آگ کی تازعہ کم تنخواہ غربی کی وچیر کر اپنی جوانی گنوا حاجی پور میں غم کی لہر دوڑ گئی بلکہ ان کے آبائی کے دی یا کسی نے قتل کر لاش کو پھانسی کے پھندے گاؤں بینی پٹی مدھوبنی میں بھی غم کی لہر دوڑ گئی دونوں طبقات کے لوگوں کی ہجوم امڈ بڑی اس میں لڑکا یا چونکہ جس ری سے لی لاش ملی وہ ری ہے ان کے اہل خانہ میں ماتمی سناٹا چھایا ہوا ہے واقعہ کی اطلاع مقامی تھانہ و برانٹی او پی کودی گئی نئی ہے ۔ مولانا کسی سازش کے شکار تو نہیں مولانا کی موت کی خبر ملتے ہی سب سے پہلے جہاں پولیس نے پہنچ کر حجرے سے لاش کو قینے ہوۓ اس کی باریکی سے تحقیق کے بعد ہی قلعہ لڑوی پدار پور گاؤں باشندہ ڈاکٹرمحمد جمال میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے صدر اسپتال ہلاکت کی جانکاری مل سکی ہےاور ویشالی پولیس انصاری موقع پر پہنے اس کے بعد جمعیت علماء حاجی پر بھیج دیا گیا اور واقعہ کی تحقیقات میں کومحنت کرنے کی ضرورت ہے چونکہ جوفوٹو ویشالی کے سیکرٹری حافظ صیح الدین عرف مدنی چٹ گی ہے مولا نا محد ابوالکلام برکاتی بینی پی وایرل ہوا وہ حقیقت کچھ اور بیاں کر رہی ہیں اس کے بعد پاتے پور کے راجد صدر مقبول احمد مدھوبنی کے رہنے والے تھے وہ تقریبا پانچ فوٹو میں مولانا اپنی جان بچانے کے لیے دفاع شہباز پوری بھی ایک واقعہ کی حیات کی مگری سالوں سے حامی پور جنداباقومی شاہراہ 322 کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اگر خودشی ہوتی کو کچھ پہ نہیں چل سکا کے مولانا نے خودکشی کی کے کنارے بدو پراسٹیشن کے پاس اندھوارہ توہاتھ نیچے جھلا مگر وہ گردن پر رکھ کر اپنا بچاؤ یاتل ہوا ۔

اچانک ٹرین پر گرنے لگے پتھر ، 2348 مسافروں کی اٹک گئی جان

اچانک ٹرین پر گرنے لگے پتھر ، 2348 مسافروں کی اٹک گئی جانبنگلور،12نومبر- کرناٹک میں جمعہ کی صبح ایک بڑا ٹرین حادثہ ٹل گیا۔ صبح تقریباً 3.50 بجے کننور-بنگلورو ایکسپریس کے پانچ ڈبے بنگلورو ڈویڑن کے ٹوپورو-سیودی کے درمیان اچانک پٹری سے اتر گئے۔ ساؤتھ ویسٹرن ریلوے سے موصولہ اطلاع کے مطابق حادثے کے وقت تمام 2348 مسافر محفوظ ہیں۔ کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔معلومات کے مطابق آج صبح جب کنور-بنگلور ایکسپریس ٹوپورو-سیودی کے درمیان سے گزر رہی تھی تو اچانک پہاڑ کے پتھر نیچے گرنے لگے۔ پٹریوں پر پتھراؤ کی وجہ سے کنور-بنگلورو ایکسپریس کے پانچ ڈبے پٹری سے اتر گئے۔ ڈرائیور نے سمجھداری دکھاتے ہوئے فوراً ٹرین روک دی جس کی وجہ سے کوئی بڑا حادثہ نہیں ہوا۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی جائے وقوعہ پر پہنچنے والے ساؤتھ ویسٹرن ریلوے حکام نے جائے حادثہ کاجائزہ لیا۔ پٹریوں سے پتھر ہٹانے کا کام جاری ہے۔بتا دیں کیونکہ حادثہ تقریباً 3.50 بجے ہوا، اس وقت ٹرین میں لوگ سو رہے تھے۔ ٹرین میں موجود مسافروں کے مطابق حادثے کے دوران ٹرین پر بڑے بڑے پتھر گرنے لگے۔ ایک دم ایسا لگا جیسے کوئی دھماکہ ہوا ہو۔

اردودنیانیوز۷۲

عید الفطر کا پیغام

عید الفطر کا پیغام  مضمون نگار : محمد ضیاء العظیم، معلم چک غلام الدین ہائی اسکول، ویشالی، بہار، موبائل نمبر :7909098319 اللہ رب ...