Powered By Blogger

پیر, نومبر 15, 2021

پھوپال:وزیر اعظم نریندر مودی آج بھوپال میں نئے عالمی معیار کے ریلوے اسٹیشن کا افتتاح کریں گے۔ اس کا نام رانی کملا پتی (پہلے حبیب گنج) اسٹیشن رکھا گیا ہے۔ اسے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) ماڈل پر بنایا گیا ہے


 


پھوپال:وزیر اعظم نریندر مودی آج بھوپال میں نئے عالمی معیار کے ریلوے اسٹیشن کا افتتاح کریں گے۔ اس کا نام رانی کملا پتی (پہلے حبیب گنج) اسٹیشن رکھا گیا ہے۔ اسے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) ماڈل پر بنایا گیا ہے

پھوپال:وزیر اعظم نریندر مودی آج بھوپال میں نئے عالمی معیار کے ریلوے اسٹیشن کا افتتاح کریں گے۔ اس کا نام رانی کملا پتی (پہلے حبیب گنج) اسٹیشن رکھا گیا ہے۔ اسے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) ماڈل پر بنایا گیا ہے۔

لگژری سہولیات سے آراستہ ہوائی اڈہ بھی اس اسٹیشن کے سامنے پیلا نظر آئے گا۔ یہ ملک میں پی پی پی ماڈل پر بنایا جانے والا پہلا ریلوے اسٹیشن ہے۔ اس ماڈل پر ناگپور، گوالیار، امرتسر اور سابرمتی میں عالمی معیار کے ریلوے اسٹیشن بنائے جائیں گے۔

حکومت کا ملک کے 110 ریلوے اسٹیشنوں کی دوبارہ ترقی کا منصوبہ تیار ہے۔ ان میں سے 60 اسٹیشن انڈین ریلوے اسٹیشن ڈیولپمنٹ کارپوریشن اور 50 ریلوے لینڈ ری ڈیولپمنٹ اتھارٹی  کے ذریعے تیار کیے جائیں گے۔

وزارت ریلوے کی وضع کردہ شراکتی پالیسی 2012 کے مطابق 13 منصوبے پی پی پی ماڈل پر بنائے جائیں گے۔ ان کی لاگت 6,176 کروڑ روپے ہے۔ ساتھ ہی 11 پروجیکٹوں پر 22,098 کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔ کوئلہ اور بندرگاہ کے رابطے کی سہولت بھی یہاں دستیاب ہوگی۔ 7 دیگر منصوبوں پر 13,421 روپے خرچ ہوں گے۔


ٹی 20 عالمی کپ : آسٹریلیاکے سرپرعالمی چمپین کانیاتاج ، نیوزی لینڈکو 8 وکٹوں سے شکست

ٹی 20 عالمی کپ : آسٹریلیاکے سرپرعالمی چمپین کانیاتاج ، نیوزی لینڈکو 8 وکٹوں سے شکست
آن لائن نیوزڈیسک
آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ورلڈ کپ کے فائنل میں آسٹریلیا نے نیوزی لینڈ کو آٹھ وکٹوں سے شکست دے کر پہلی مرتبہ ٹائٹل اپنے نام کر لیا ہے۔
دبئی میں کھیلے گئے فائنل میں آسٹریلوی ٹیم نے نیوزی لینڈ کی جانب سے 173 رنز کا ہدف 19 ویں اوور میں پورا کر لیا۔
آسٹریلیا کی جانب سے اوپنر ڈیوڈ وارنر اور مچل مارش نے شان دار نصف سینچریاں اسکور کیں۔
مچل مارش نے 50 گیندوں پر 77 رنز بنائے اور آؤٹ نہیں ہوئے جب کہ ڈیوڈ وارنر نے 38 گیندوں پر 53 رنز بنائے۔ مچل مارش نے اپنی اننگز میں چار چھکے اور چھ چوکے لگائے جب کہ وارنر نے تین چھکوں اور چار چوکوں کی مدد سے نصف سینچری مکمل کی۔
مچل مارش کو پلیئر آف دی میچ جب کہ ڈیوڈ وارنر کو پلیئر آف دی ٹورنامنٹ کا ایوارڈ دیا گیا۔
اننگز کے 13 ویں اوور میں نیوزی لینڈ کے کپتان ٹرینٹ بولٹ کو واپس لائے جنہوں نے اوور کی دوسری گیند پر ڈیوڈ وارنر کو بولڈ کر کے نیوزی لینڈ کے لیے اُمید کی کرن پیدا کی۔
لیکن دوسرے اینڈ پر مچل مارش نے جارحانہ بلے بازی جاری رکھے اور ایش سودھی کے اوور میں 16 رنز حاصل کر کے آسٹریلیا کو ہدف کے مزید قریب پہنچا دیا۔
اس سے قبل آسٹریلوی کپتان ایرن فنچ نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا۔ نیوزی لینڈ کی ٹیم کا آغاز اچھا تھا، لیکن پاوور پلے میں آسٹریلوی بالرز نے نپی تلی بالنگ کرتے ہوئے نیوزی لینڈ کے بلے بازوں کو کھل کر کھیلنے سے روکے روکا۔
نیوزی لینڈ پاوور پلے کے چھ اوورز میں صرف 32 رنز اسکور کر سکی، تاہم نیوزی لینڈ کے کپتان کین ولیمسن نے اننگز کو آگے بڑھایا اور 32 گیندوں پر نصف سینچری مکمل کی۔
کین ولیمسن نے 48 گیندوں پر 85 رنز کی جارحانہ اننگز کھیلی جس میں تین چھکے اور 10 چوکے شامل تھے۔ وہ جوش ہیزل ووڈ کی گیند پر آؤٹ ہوئے۔
نیوزی لینڈ کے اوپنر مارٹن گپٹل نے 35 گیندوں پر 28 رنز بنائے جو 12 ویں اوور میں ایڈم زمپا کی گیند پر مارکوس سٹوائنز کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔
آسٹریلیا کی جانب سے اُن کے اسٹرائیک بالر مچل اسٹارک مہنگے ثابت ہوئے۔ اُنہوں نے اپنے چار اوورز میں 60 رنز دیے جب کہ کوئی وکٹ حاصل نہ کر سکے۔
آسٹریلیا نے اپنی سیمی فائنل والی ٹیم میں کوئی تبدیلی نہیں کی تھی جب کہ نیوزی لینڈ کی ٹیم میں ڈیوڈ کانوے کی جگہ ٹیم میں ٹم سیفرٹ کو شامل کیا گیا۔
آسٹریلیا نے سیمی فائنل میں پاکستان کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد جب کہ نیوزی لینڈ کی ٹیم نے انگلینڈ کو شکست دی تھی۔
نیوزی لینڈ کی ٹیم پہلی مرتبہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے فائنل میں پہنچی تھی، لیکن وہ ٹائٹل کے حصول میں ناکام رہی۔
آسٹریلیا سے قبل 2016 میں ویسٹ انڈیز، 2014 میں بھی ویسٹ انڈیز، 2012 میں نیوزی لینڈ، 2010 میں انگلینڈ، 2009 میں پاکستان جب کہ 2007 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھارت نے کامیابی حاصل کی تھی۔
آسٹریلیا کی ٹیم میں کپتان ایرن فنچ، ڈیوڈ وارنر، مچل مارش، اسٹیو اسمتھ، گلین میکسویل، مارکوس سٹوائنز، میتھیو ویڈ، پیٹ کمنز، مچل اسٹارک، ایڈم زمپا اور جوش ہیزل ووڈ شامل تھے۔
نیوزی لینڈ کی ٹیم میں مارٹن گپٹل، ڈیرل مچل، کین ولیمسن، گلین فلپس، ٹم سیفرٹ، جیمز نیشم، مچل سینٹنر، ایڈم ملن، ٹم ساؤتھی، ایش سودھی اور ٹرینٹ بولٹ شامل تھے۔

اتوار, نومبر 14, 2021

ایک خاتون نے اپنی پوری جائیداد رکشہ والے کے نام کردی

ایک خاتون نے اپنی پوری جائیداد رکشہ والے کے نام کردیبھونیشور: ایک ایماندار رکشہ والے کی قسمت اس وقت کھل گئی جب ایک خاتون نے کروڑہا روپئے کی جائیداد اس کے نام کردی۔ یہ واقعہ ریاست اڈیشہ کے سنبھل پورکا ہے۔ مقامی 63 سالہ خاتون میتانی پٹنائک کا شوہرسال 2020 میں فوت ہوگیا جبکہ سال 2021 میں اس کی بیٹی کی موت ہوگئی۔ جائیداد کیلئے رشتہ دارخاتون کے قریب ہونے کی کوشش کررہے تھے لیکن انھوں نے برے وقت میں خاتون کی خدمت نہیں کی، رشتہ داروں کے رویہ پردل برداشتہ اس خاتون نے گذشتہ 25 سال سے ان کے خاندان کی ایمانداری کے ساتھ خدمت کرنے والے رکشہ راں بدھانکو کے نام اپنی پوری جائیداد کردی جس میں ایک کروڑ روپئے کا گھربھی شامل ہے۔ خاتون نے اپنے فیصلہ کے تعلق سے بتایا کہ رکشہ والا بنا کسی لالچ کے ان کی خدمت کررہا ہے۔

سکون حاصل کرنے کا آزمودہ نسخہکامران غنی صبا اسسٹنٹ پروفیسر نیتیشور کالج، مظفرپور

سکون حاصل کرنے کا آزمودہ نسخہ
کامران غنی صبا 
اسسٹنٹ پروفیسر نیتیشور کالج، مظفرپور 

بچوں سے پیار ہمارے نبی کی سنت ہے اور ہر سنت اپنے اندر بے شمار حکمتیں رکھتی ہے. نبی رحمت بچوں سے اس قدر پیار کرتے تھے کہ بعض احادیث سے تو یہاں تک اشارے ملتے ہیں کہ بچوں سے پیار نہ کرنا اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف پہنچانے کے مترادف ہے. چنانچہ بخاری شریف کی ایک حدیث میں ہے
اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو بوسہ دے رہے ہیں، یہ دیکھ کر کہنے لگے کہ حضور  میرے دس بچے ہیں، میں نے کبھی کسی کو بوسہ نہیں دیا، آپ نے فرمایا: جو شخص رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا.
بخاری شریف کی ہی ایک اور حدیث میں ہے کہ
ایک دفعہ آپ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو بوسہ دے رہے تھے ایک دیہاتی نے حیرت کا اظہار کیا تو فرمایا کہ اگر اللہ نے تیرے دل سے رحمت کو نکال دیا تو میں کیا کرسکتا ہوں.
سیرت رسول کا مطالعہ کیجیے تو بے شمار ایسے واقعات مل جائیں گے جس سے نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی بچوں کے تئیں بے پناہ شفقت و محبت ظاہر ہوتی ہے.
مذہبی نقطہ نظر سے قطع نظر اگر صرف اور صرف مادی اور نفسیاتی نقطہ نظر سے بھی دیکھا جائے تو اس میں کوئی دو رائے نہیں بچوں سے محبت کرنے والے لوگ زیادہ خوش مزاج، نرم مزاج، متحمل اور پرسکون ہوتے ہیں. بچوں کی محبت میں کوئی مفاد، ریاکاری اور دکھاوا نہیں ہوتا. بچوں کی محبت دل کی سختی کو دور کرتی ہے. میں اس معاملہ میں خود کو انتہائی خوش نصیب سمجھتا ہوں کہ مجھے بچوں کی بے پناہ محبتیں ملی ہیں. اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ میری زندگی کی سب سے بڑی کمائی کیا ہے تو میرا جواب ہوگا "بچوں کی محبت".
گاؤں میں شادی ہے. اہل خانہ کا اصرار ہے کہ شادی میں کسی بھی طرح آنا ہے. دن کی شادی ہے. میں چھٹی ضائع کرنا نہیں چاہتا. کوئی معقول بہانہ تلاش کر کے گھر والوں سے معذرت کر لیتا ہوں. ٹھیک شادی والے دن صبح صبح بچوں کے والد کا فون آتا ہے کہ "سر کسی بھی طرح آ جائیے. آپ کی بہت مہربانی ہوگی. بچوں کو ضد ہے کہ سر جب تک نہیں آئیں گے ہم لوگ کمرے سے باہر ہی نہیں نکلیں گے. اگر آپ کو آنے میں دشواری ہے تو ہم کسی کو بھیج دیتے ہیں"
بچوں کی یہ محبت بسا اوقات مجھے پریشان بھی کرتی ہے لیکن سچ پوچھیے تو یہ محبت ہی میری زندگی کی کمائی ہے.
زندگی میں قدم قدم پر اذیتیں ہیں. کرب ہے. رشتوں کی شکست و ریخت ہے. شکایتیں ہیں. عداوتیں ہیں. سیاست ہے. مکر و فریب کا خوب صورت بازار ہر طرف سجا ہوا ہے. ہم اس بازار کا حصہ ہیں. کبھی ہم مکر و فریب فروخت کر رہے ہوتے ہیں تو کبھی ہماری حیثیت خریدار کی ہوتی ہے. جائے پناہ کہیں نہیں ہے. انسان ہر طرف سے تھک ہار کر مذہب کی پناہ میں آنا چاہتا ہے لیکن یہاں بھی اسے پناہ شاید ہی مل پاتی ہے. بظاہر ہنستے مسکراتے چہرے اپنے اندرون میں کتنا زخم چھپائے بیٹھے ہیں اس کا اندازہ بہت مشکل ہے.
ایسے میں حقیقی سکون اگر کہیں ہے تو وہ معصوم بچوں کی رفاقت میں ہی ہے. کتنی عجیب بات ہے کہ بچے عبادت نہیں کرتے، پوجا پاٹھ اور مذہبی رسوم و قیود کی باریکیوں سے ناآشنا.... لیکن پھر بھی فرشتے ہوتے ہیں..... جب انہیں عبادت کا شعور آ جاتا ہے تو فرشتے نہیں رہتے...... بلکہ بسا اوقات تو اتنے خطرناک ہو جاتے ہیں کہ شیطان بھی پناہ مانگنے لگتا ہے.  یہ بڑے راز کی بات ہے.
واصف علی واصف صاحب میری ائڈیل شخصیت ہیں. وہ کہتے ہیں
"ڈیپریشن آ جائے تو عبادت کرو. پھر بھی ڈیپریشن آ جائے تو خیرات کرو. پھر بھی ڈیپریشن آ جائے تو محبت کرو...... اگر زیادہ ڈپریشن آ جائے تو معصوم بچوں کو ساتھ رکھنا شروع کر دو......."
آپ سبھی کو یوم اطفال مبارک.....

بہار میں نکسل حملہ : نکسلی حملوں سے دہلا4 لوگوں کو پھانسی اورمکان کو دھماکے سے اڑا یا

بہار میں نکسل حملہ : نکسلی حملوں سے دہلا4 لوگوں کو پھانسی اورمکان کو دھماکے سے اڑا یا

بہار کے گیا میں نکسلی حملہ ہوا ہے۔ گیا، بہار میں نکسلیوں کا زبردست ننگا ناچ جاری ہے۔ گیا سے 70 کلومیٹر دور ڈومریا بلاک کے منور گاؤں میں ماؤنوازوں نے دو خواتین سمیت چار لوگوں کو قتل کر دیا۔ اس کے بعد نکسلیوں نے متوفی کے گھر کو دھماکے سے اڑا دیا۔ چاروں کو گھر کے باہر کھائی میں ٹکا دیا گیا۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک ہی گھر کے دو شوہر اور ان کی بیویاں شامل ہیں۔

ہلاک ہونے والوں میں ستیندر سنگھ، مہندر سنگھ، منورما دیوی اور سنیتا سنگھ شامل ہیں۔ ماؤنوازوں نے کہا ہےکہ قاتلوں، غداروں اور انسانیت سے غداری کرنے والوں کے لیے موت کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ پولس کے مطابق یہ واقعہ سنیچر کی رات پیش آیا، جب نکسلیوں نے اس واردات کو انجام دیا۔ معاملے کی اطلاع ملتے ہی مقامی پولیس موقع پر پہنچ گئی۔

چاروں کو بے دردی سے مارنے کے بعد نکسلیوں نے گھر کو بھی بم لگا کر اڑا دیا۔ اس کے بعد نکسلیوں نے گاؤں میں ایک پمفلٹ بھی چھوڑا ہے۔ نکسلیوں نے اس میں لکھا ہے کہ کچھ دن پہلےمرنے والوں نے چار نکسلیوں کو زہر کھلا کر ہلاک کر دیا تھا۔ نکسلیوں نے پمفلٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ مارے گئے نکسلیوں کا کوئی انکاؤنٹر نہیں ہواہے۔ مارے گئے نکسلیوں امریش کمار، سیتا کمار، شیو پوجن کمار اور ادے کمار کے نام بھی پمفلٹ میں درج کیے گئے ہیں۔

بتا دیں کہ ہفتہ کو چھتیس گڑھ-مہاراشٹر سرحد پر گڈچرولی علاقے میں پولس اور نکسلیوں کے درمیان تصادم ہوا۔ اس تصادم میں سیکورٹی فورسز نے 26 نکسلیوں کو مار گرایا ہے۔ اس تصادم میں 3 جوان زخمی بھی ہوئے ہیں۔ گڈچرولی کے ایس پی انکیت گوئل کے مطابق، اس انکاؤنٹر میں سینئر کیڈر کٹر نکسلائٹ ملند تیلٹمبڈے بھی مارا گیا ہے۔

ہفتہ کی صبح جیسے ہی مہاراشٹر پولس کے C-60 یونٹ کے جوان اس علاقے کے جنگلوں میں پہنچے، ماؤنوازوں نے فوجیوں پر فائرنگ شروع کر دی۔ جوابی کارروائی میں جوانوں نے 26 نکسلیوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ موقع سے بھاری مقدار میں اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے۔

بہار بورڈ کی تانا شاہی ، ڈاکٹر ذاکر حسین ہائی اسکول کی ایک گروپ کے دباومیں آکر الحاق منسوخ کرنا افسوسناک

بہار بورڈ کی تانا شاہی ، ڈاکٹر ذاکر حسین ہائی اسکول کی ایک گروپ کے دباومیں آکر الحاق منسوخ کرنا افسوسناکبرسوں سے چل رہے مسلم اقلیتی اسکول پر بہار بورڈ کی بدنیتی پر مبنی کارروائی ،الحاق کی گئی رد
اسمبلی میں ا?واز اٹھائے جانے کے بعد بھی مسلم اقلیتی اسکول کو نہیں مل رہا ہے انصاف
پٹنہ، 14 نومبرراجدھانی پٹنہ کے ڈاکٹر ذاکر حسین ہائی اسکول کے احاطہ میں منعقد پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں ڈاکٹر ذاکر حسین ہائی اسکول 2 کے پرنسل نقی امام نے خطاب کیا۔ ساتھ میں سماجی خدمت گار وصی اختر اور استاد پروین کمار بھی موجود رہے۔ انہوں نے اپنی بات رکھتے ہوئے درج ذیل نکات پر حکومت اور میڈیا کی توجہ مبذول کرائی۔
ڈاکٹر ذاکر حسین ہائی سکول 2 سلطان پٹنہ میں واقع ایک مسلم اقلیتی اسکول ہے جو اقلیتی برادری میں تعلیم کو فروغ دینے کے لئے گزشتہ 15 سال سے سرگرم ہے۔ محکمہ تعلیم کے ذریعہ اسکول کا معائنہ کیا گیا اور اس وقت کے وزیر تعلیم کے ذریعہ عمارت اور زمین کی شرائط میں نرمی کرتے ہوئے 1983 میں محکمہ تعلیم کے ذریعہ مستقل طور پر تسلیم کیا گیا تھا۔
بہار بورڈ کو کورونا مدت میں (06 اپریل - 2021)میں ایک شکایت موصول ہوئی جس میں کسی شخص کا کوئی دستخط نہیں تھا اور نہ ہی کوئی حلف نامہ منسلک کیا گیا تھا۔ بہار اسکول اکزامیشن بورڈ اسی شکایت کی بنیاد پرسہ رکنی کمیٹی کو اسکول کی جانچ کرنے کے لئے دو تین دنوں کے ا ندر بھیجتی ہے اور اسکول کمیٹی کی بات سنے بغیر حکم مندرجہ بالا کو قبول کرتے ہوئے دو مہینے کے اندر اسکول کی الحاق منسوخ کر دیتی ہے۔ جب کہ بورڈ کو 2011 سے الحاق دینے کا حق حاصل ہے۔جبکہ اسکول کو مالیات کے ساتھ مستقل شناخت حاصل ہے نہ کہ الحاق سے۔ اسکول کو ہائر سیکنڈری میں 16 اور سیکنڈری میں 12 یونٹ حاصل ہے۔
قانون ساز کونسلر مولانا غلام رسول بلیاوی کے ذریعہ اسکول سے متعلق تمام حقائق قانون ساز کونسل کی میز پر رکھے گئے تھے اس وقت وزیر اعلیٰ نتیش کمار خود ایوان میں موجود تھے۔ وزیر تعلیم وجے کمار چودھری نے یقین دہانی کرائی کہ فوری کارروائی کرتے ہوئے حقائق کی بنیاد پر حتمی فیصلہ لیا جائے گا۔ لیکن ا?ج تک ان کی سطح سے کوئی فیصلہ نہیں لیا گیا ہے۔
بہار بورڈ کی جانب سے منسوخ کیے گئے حکم نامے میں یہ ذکر کیا گیا تھا کہ اسکول کے پاس 2 ایکڑ زمین نہیں ہے ، اس لیے اسکول کی الحاق منسوخ کی جاتی ہے۔ جبکہ پورے بہار میں کئی ایسے سرکاری اسکول ہیں جو کہ دوسروں کی زمین اور عمارت میں کام کر رہے ہیں اوراگر اس طرح کا قانون نافذ ہوتا ہے تو اسکول کے پاس 2 ایکڑ زمین ہونی چاہئے تو بہار کے ہزاروں اسکول بند ہوجائیں گے۔
ڈاکٹر محمد نظر امام اسکول کے سابق سکریٹری کے عہدہ پر 18 سال تک کام کئے۔ سکریٹری کے عہدہ پر فائز رہتے ہوئے انہوں نے ڈاکٹر نظر امام انٹر نیشنل اسکول کھولا تھا جس کا زمین پرکوئی وجود نہیں تھا۔ جب 2016 میں ٹاپرس گھوٹالے میں یہ پھنسے تو بہار بورڈ کے چیئر مین کے کہنے پر اپنے اسکول کا الحاق واپس کر دیا۔ واضح ہو کہ ڈاکٹر نظر امام اور ان کی اہلیہ ڈاکٹر تبسم ا?رہ کا بورڈ کے چیئر مین کے ساتھ گہرا اور دیرینہ رشتہ ہے۔ اسکول کمیٹی نے انہیں اس فعل پر برطرف کر دیا ، پھر بددیانتی کی بنا پر بورڈ کے چیئرمین سے ملی بھگت کر کے اسکول کی الحاق منسوخ کرا دی۔ بورڈ کے صدر نے اسکول کی الحاق منسوخ کرانے میں اہم کردار ادا کئے ہیں۔
ڈاکٹر ذاکر حسین ہائی اسکول کی جانب سے الحاق کی منسوخی کے خلاف اسکول انتظامیہ کے ذریعہ سے معزز ہائی کورٹ میں درخواست د ی گئی ہے ، جو ابھی تک زیر التوا ہے۔ سینئر ایڈووکیٹ پی کے شاہی اور ایڈوکیٹ سمن کمار معزز ہائی کورٹ میں اسکول کی طرف رکھے گئے ہیں

سہارا انڈیا کے ایجنٹ نے خودکشی کر لی

سہارا انڈیا کے ایجنٹ نے خودکشی کر لیبوکارو ، 14 نومبر ۔سہارا انڈیا میں لوگوں کا خون اور پسینہ جمع ہے۔ انہیں واپس لانے کا دباؤ ایجنٹ پر شدیدہے۔ ایجنٹ اب عوام کا دبائو برداشت کرنے کے قابل نہیں رہے۔ یہی وجہ ہے کہ سہارا انڈیا کے دفتر میں ہر روز ہنگامہ ہوتا ہے۔ ایساہی ایک معاملہ میںدباؤ میں آکر سہارا انڈیا کے ایجنٹ گنیش نونیا نے پھانسی لگا کر خودکشی کرلی، واقعہ بوکارو ضلع کے گومیا کے آئی ای ایل تھانہ علاقے کی گورنمنٹ کالونی کا ہے۔ گنیش نونیا گزشتہ 20 سالوں سے سہارا انڈیا میں ایجنٹ کے طور پر کام کر رہا تھا۔ اس وقت عوام کی جمع پونجی واپس حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد وہ ڈپریشن میں تھے۔ وہ ہفتے کی رات گھر سے نکلے اور اپنے اصطبل میں رسی کی مدد سے جھول کر خودکشی کرلی۔ اتوار کی صبح واقعہ کاپتہ اس وقت چلاجب متوفی کی بیوی رادھا دیوی اسے ڈھونڈنے گئی۔ مقامی لوگوں نے آئی ای ایل پولیس اسٹیشن کو اطلاع دی۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر لاش کو قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا۔ تھانہ انچارج آشیش کمار نے بتایا کہ گنیش نونیا کچھ دنوں سے ذہنی تناؤ سے گزر رہے تھے۔ اس کی وجہ سہارا انڈیا میں رقم واپس نہ کرنا بتایا جا رہا ہے۔ لیکن معاملے کی جانچ کی جا رہی ہے۔

اردودنیانیوز۷۲

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا ...