Powered By Blogger

منگل, نومبر 16, 2021

چار دنوں کے چار واقعات بتاتے ہیں کہ یوپی میں مسلمانوں کی زندگی کتنی مشکل ہو گئی ہے !

چار دنوں کے چار واقعات بتاتے ہیں کہ یوپی میں مسلمانوں کی زندگی کتنی مشکل ہو گئی ہے !

کاس گنج پولیس اسٹیشن میں 9 نومبر کو 21 سالہ نوجوان الطاف کو پیٹ پیٹ کر قتل کر دیا گیا۔ 10 نومبر کو ڈاکٹر کفیل خان کو برطرف کر دیا گیا۔ 11 نومبر کو غازی آباد کے لونی علاقے میں مویشیوں کی اسمگلنگ کے الزام میں پولیس نے مبینہ مقابلہ کے دوران مسلم طبقہ سے تعلق رکھنے ولے 7 نوجوانوں کے پیر میں گولی مار دی۔ 12 نومبر کو آگرہ کے شاہ گنج علاقے میں ایک جواں سال خاتون کی خودکشی کے بعد اس معاملے کو فرقہ وارانہ رنگ دیا گیا اور اس کے بعد پتھراؤ اور فائرنگ کی گئی۔

پڑھیں آس محمد کیف کی یہ رپورٹ

اتر پردیش میں صرف چار دنوں کے اندر چار بڑے واقعات رونما ہوئے ہیں۔ ہر واقعہ ایک دوسرے سے زیادہ خوفناک ہے اور سماج میں انصاف اور حکومتی غیر جانبداری کے حوالے سے مایوسی پیدا کرتا ہے۔ لیکن اس کے برعکس ریاست کی حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی کی پروپیگنڈہ مہم مسلمانوں کے تئیں نفرت کو فروغ دیتی نظر آتی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ آنے والے ایام میں اس طبقہ کے خلاف ہراساں کرنے کے واقعات میں اضافہ ہو سکتا ہے اور اسے اکثریتی طبقہ کے ایک حصے کی طمانیت (تشٹی کرن) کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

کاس گنج کے نگلہ سید احرولی میں 21 سالہ نوجوان الطاف کی قبرستان میں تدفین ہو چکی ہے لیکن وہ اب بھی اس کے والد چاند میاں کے خواب میں نظر آ رہا ہے۔ چاند میاں بتاتے ہیں کہ آنکھیں بند کرتے ہی الطاف نظر آنے لگتا ہے اور پھر میری آنکھیں بالکل نہیں لگتی!چار روز کی مسلسل کوششوں کے بعد کل (ہفتہ) الطاف کے قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ پولیس نے الطاف کو 8 نومبر کو ان کے گھر سے بلایا تھا۔ اس پر ایک مقامی لڑکی کو ورغلانے کا الزام تھا۔ لڑکی کا تعلق اکثریتی طبقہ سے تھا اور اس کی بازیابی ابھی تک ممکن نہیں ہو سکی۔ الطاف کے اہل خانہ اور مقامی لوگوں کا خیال ہے کہ لڑکی کسی اور لڑکے کے ساتھ فرار ہو گئی تھی۔ الطاف کی موت کاس گنج شہر کوتوالی میں واقع ہوئی تھی۔ پولیس نے بیان دیا ہے کہ الطاف نے بیت الخلا کی ٹونٹی سے لٹک کر خودکشی کی ہے، جبکہ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ الطاف کی موت پولیس کی پٹائی سے ہوئی ہے اور اسے جان بوجھ کر قتل کیا گیا ہے۔ اتر پردیش کی حزب اختلاف حراست میں ہونے والی اس موت کے حوالہ سے چراغ پا ہیں۔ سماج وادی پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے حکومت پر سخت نکتہ چینی کی ہے۔


کاس گنج کے ہی رہائشی اور سماج وادی پارٹی کے ترجمان عبدالحفیظ گاندھی کا کہنا ہے کہ وہ پچھلے چار دنوں سے الطاف کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں۔ اس دوران الطاف کے والد کے مزاج کو سمجھنا مشکل ترین رہا ہے۔ میں نے ان کے درد کو سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ الطاف کے خاندان کی مالی حالت بہت کمزور ہے۔ ایسے گھرانوں میں جوان بیٹا بڑی امیدوں کا چراغ ہوتا ہے۔ گھر والوں کا خیال ہوتا ہے کہ وہ کمانے لگے گا تو گھر میں چراغ روشن ہوگا! ان کی موت کے بعد پولیس اہلکاروں کی طرف سے کاغذ پر سمجھوتہ لکھوانا اور الطاف کے والد کا انگوٹھا لگوانا اور بھی تکلیف دہ ہے۔ اس معاملے میں معاوضے کے حوالے سے بھی امتیازی سلوک دیکھا گیا ہے۔ واقعے کے چار روز بعد نامعلوم مقام پر مقدمہ درج کر لیا گیا جبکہ الطاف کے والد کو تاحال کوئی معاوضہ نہیں ملا ہے، یہ بات اس سے پہلے کی حراستی موت کے مقدمات سے مختلف ہے۔ حفیظ کا کہنا ہے کہ انہیں شبہ ہے کہ مقدمے کے اندراج کے بعد بھی پولیس اس معاملے میں منصفانہ کارروائی کر سکے گی اور مجرموں کو سزا ملے گی۔


اتر پردیش کا کاس گنج ضلع علی گڑھ، آگرہ اور ہاتھرس کے قریب ہے۔ علی گڑھ سے کاس گنج ایک گھنٹے سے بھی کم کی دوری پر ہے۔ چار سال پہلے، کاس گنج شہر کے مرکز میں ترنگا یاترا کا ہنگامہ ہوا تھا۔ پچھلے کچھ سالوں سے اس لودھ، راجپوت اور مسلم اکثریتی پٹی پر نفرت کی کھیتی کی جا رہی ہے۔ پٹیالی کی سابق ایم ایل اے زینت خان اور سماج وادی پارٹی لیڈر کی بیٹی ناشی خان اس کی تصدیق کرتی ہیں۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کرنے والی ناشی خان کا کہنا ہے کہ انتہائی مضحکہ خیز بیانات اور چھوٹی چھوٹی باتوں کو فرقہ وارانہ رنگ دینے سے سماجی ہم آہنگی متاثر ہو رہی ہے۔ پولیس انتظامیہ حکمرانوں کے دباؤ میں ہے۔ جب دو مختلف طبقوں سے متعلق معاملات کی بات آتی ہے تو انہیں فیصلے لینے میں مشکل پیش آتی ہے اور خاص طور پر ایک طبقہ کے ساتھ سختی کی جاتی ہے۔ الطاف کی موت اسی بنیادی جذبہ سے ماخوذ ہے۔ بعض مقامات پر انتظامی امتیاز بھی صاف نظر آ رہا ہے۔


کاس گنج سے ڈیڑھ گھنٹے کے فاصلہ پر واقع آگرہ کے شاہ گنج علاقے میں گزشتہ دو دنوں سے کشیدگی ہے اور فورس تعینات ہے۔ یہاں کے ایک نوجوان ارمان نے دوسرے طبقہ کی لڑکی سے شادی کی تھی۔ جس کے بعد وہ اپنے خاندان سے الگ رہنے لگا۔ جمعہ کے روز ارمان کی اہلیہ کی موت مشکوک حالات میں ہو گئی۔ اس کے بعد ہندوتوادیوں کی بھیڑ نے ہنگامہ کھڑا کر دیا۔ کچھ دکانوں پر توڑ پھوڑ اور مارپیٹ کے واقعات بھی پیش آئے۔ اس کے بعد دونوں فریق آمنے سامنے آ گئے اور شدید پتھراؤ اور فائرنگ کی گئی۔ جبکہ پولیس فائرنگ کے امکان سے انکار کر رہی ہے۔


شاہ گنج کے رہائشی ندیم احمد کا کہنا ہے کہ پولیس کو اپنا کام کرنے کی مکمل آزادی ہونی چاہیے تھی۔ وہ تحقیقات کر کے کارروائی کرتے لیکن ہندوتوا طاقتوں نے قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کی اور اب ماحول کشیدہ ہو گیا ہے۔ پولیس بھی ان کے سامنے بے بس دکھائی دی ہے۔ ندیم کا کہنا ہے کہ حال ہی میں ایسے بہت سے معاملات سامنے آئے ہیں جنہیں فرقہ وارانہ رنگ دیا جا رہا ہے۔ اس سے اقلیتی مسلمانوں میں خوف کا ماحول پیدا ہو رہا ہے۔


ایسا ہی ایک مسئلہ گورکھپور کے بی آر ڈی کالج کے ڈاکٹر کفیل خان سے متعلق ہے۔ کفیل خان کو حال ہی میں ملازمت سے برطرف کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے وہ معطلی کی زد میں تھے۔ ڈاکٹر کفیل خان چار سال پہلے اس وقت زیر بحث آئے تھے جب گورکھپور کے بی آر ڈی میڈیکل کالج میں آکسیجن کی کمی کے باعث متعدد بچوں کی موت ہو گئی تھی اور انہوں نے آکسیجن کے بندوبست کی کوششیں کی تھی۔ برطرف ڈاکٹر کفیل خان نے بتایا کہ انہیں ابھی تک آرڈر نہیں ملا لیکن انہیں حکومت سے انصاف کی امید نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ''عدالت میں 10 نومبر کو سماعت ہوئی تھی اور حکومت نے وہاں کوئی برطرفی کے کاغذات داخل نہیں کیے تھے۔ اب سماعت 7 دسمبر کو ہوگی۔ ویسے بھی حکومت کو میری برطرفی کا کوئی حق نہیں ہے، اس کے لیے اتر پردیش پبلک سروس کمیشن سے اجازت لینی چاہیے تھی۔''


علماء کونسل کے ترجمان طلحہ رشیدی کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر کفیل ایک مسیحا کی طرح اپنی ذمہ داری نبھا رہے تھے لیکن ان کی تعریف اور حکومت کی خامیاں منظر عام پر آنا کسی کی آنکھوں میں کھٹک گئی۔ سب سمجھ رہے ہیں کہ انہیں یہ سزا کیوں مل رہی ہے! اتر پردیش میں ایک طبقہ کو ولن کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے اور اکثریتی آبادی کے ذہنوں میں ان کے لیے نفرت پیدا کی جا رہی ہے۔


اتر پردیش کے غازی آباد ضلع کے لونی علاقے میں 11 نومبر کو پیش آئے ایک انکاؤنٹر کے حیران کن واقعے پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ یہاں پولیس کے ساتھ تصادم میں 7 نوجوانوں کی ٹانگوں میں ایک ہی جگہ گولی لگی ہے۔ جن لڑکوں کے گولی لگی ہے ان کے نام مستقیم، سلمان، مونو، آصف، انتظار اور ناظم ہیں۔ پولیس کے مطابق انہیں بہٹا حاجی پور علاقہ میں ایک گودام میں مویشیوں کو غیر قانونی طور پر ذبح کرنے کی اطلاع موصول ہوئی تھی اور جب پولیس وہاں پہنچی تو 'بدمعاشوں' نے ان پر گولی چلا دی۔ اس دوران پولیس کو جوابی کارروائی کرنی پڑی جس میں 7 نوجوانوں کی ٹانگ میں گولیاں لگیں۔ غازی آباد کے سابق ایم ایل سی آشو ملک نے اس انکاؤنٹر پر سوال اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آخر یہ کیسے ممکن ہے کہ تمام نشانے پیر میں ایک ہی جگہ پر لگیں! مقامی لوگ بھی گودام میں غیر قانونی ذبح کی بات نہیں کر رہے ہیں۔ پیر میں گولی لگنے کی ایک جیسی کہانی سوال کھڑے کرتی ہے!


آئی سی سی کی 'ٹیم آف دی ٹورنامنٹ' میں کسی ہندوستانی کھلاڑی کو جگہ نہیں! بابر اعظم کپتان


اتر پردیش کے رہائشی اور کانگریس اقلیتی شعبہ کے سربراہ عمران پرتاپ گڑھی ان واقعات کو محض اتفاق نہیں سمجھتے اور انہیں ایجنڈا قرار دیتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ یوپی کی بی جے پی حکومت کے دور میں ایسے سینکڑوں واقعات رونما ہوئے ہیں جن پر غور کیا جائے تو دلتوں اور مسلمانوں کے خلاف ایسے واقعات جابرانہ قرار دیئے جا سکتے ہیں۔ یہ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی 'ٹھوک دو' پالیسی کا نتیجہ ہے۔ وزیر اعلیٰ کے مشیر اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر مسلسل نفرت پھیلا رہے ہیں۔ لوگ اس حکومت کو بدلنے کے لیے بے چین ہیں اور وہ اب زمین پر پریشان عوام کے ایک بڑے حصے کو پولرائز کرنے اور تقسیم کی سیاست کے ذریعے دوبارہ اقتدار حاصل کرنے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ بدقسمتی سے وہ سماج کو ایک ولن کے طور پر پیش کر کے باہمی بھائی چارے کی خلیج کھود رہے ہیں۔ ان کی حالیہ انتخابی مہم یہ ثابت کرتی ہے کہ ان کے پاس شمار کرنے کے لئے کوئی کام نہیں ہے لیکن ان کی دو پالیسیاں ہیں 'ٹھوک دو' اور 'نام بدلو'۔ آنے والے دنوں میں اتر پردیش کے لوگوں کو بہت ہوشیار رہنا ہوگا۔ بھائی چارے کو بچانے کے لیے انہیں اضافی کوششیں کرنی ہوں گی۔

سعودی عرب نے پاکستان کودیادوخوبصورت مسجدوں کاعظیم تحفہ

سعودی عرب نے پاکستان کودیادوخوبصورت مسجدوں کاعظیم تحفہآن لائن نیوزڈیسک
سعودی عرب نے پاکستان کے عوام کے لیے مسجد الحرام اور مسجد نبوی کی طرز پر تعمیر کی گئی دو مساجد حکومت پاکستان کے حوالے کر دی ہیں۔
اکتوبر 2005 کے زلزلے کے بعد سعودی حکومت نے جہاں پاکستان میں تعمیر اور بحالی کے دیگر منصوبے شروع کیے وہیں مقامی آبادی کی خواہش پر دو وسیع و عریض جامعہ ملک عبد العزیز مانسہرہ میں اور جامعہ ملک فہد بن عبدالعزیز مظفر آباد میں تعمیر کی گئیں۔
سوموار کو اسلام آباد میں سعودی سفارت خانے میں مساجد کی تکمیل اور انتظامی حوالگی کی تقریب ہوئی جس میں سعودی سفیر نواف سعید المالکی پاکستان کے وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری نے شرکت کی۔
اس موقع پر خطاب میں سعودی سفیر کا کہنا تھا کہ نئی مساجد سعودی حکومت کی جانب سے حکومت پاکستان اور پاکستانی بھائیوں کے لیے تحفہ ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مسجد شاہ عبد العزیز میں 10 ہزار سے زائد اور مسجد شاہ فہد میں چھ ہزار سے زائد نمازیوں کی گنجائش موجود ہے۔ اسی طرح دونوں مسجدوں کے کشادہ صحن ہیں اور عمدہ ڈیزائننگ سے آراستہ ہیں جو خانہ کعبہ اور مسجد نبوی سے مستعار ہیں۔
نواف سعید المالکی کا کہنا تھا کہ سعودی حکومت ہر قسم کے حالات میں پاکستان کی مددگار رہی ہے۔ حکومت سعودی عرب کی دانشمندانہ قیادت اور فراخ دلانہ حکم نامے کے باعث یہ تعاون جاری ہے جو شاہ عبد العزیز اور ان کے بیٹوں سے ہو کر خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبد العزیز آل سعود، اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبد العزیز تک ہے۔
اپنے خطاب میں وفاقی وزیر مذہبی امور کا کہنا تھا کہ 2005 کے زلزلے کے بعد سب سے پہلے برادر ملک سعودی عرب کے ادارے مدد کو پہنچے تھے۔
مقامی افراد نے مخیر تنظیموں کو مساجد کی تعمیر کی درخواست کی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ سعودی حکومت کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں خوبصورت مساجد تعمیر کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔ پاکستان کا سعودی عرب سے تاریخی، دینی ، ثقافتی اور روحانی رشتہ ہے۔
ہم پاکستانی حکومت اور عوام کی جانب سے سعودی سفیر، عوام اور قیادت کا بطور خاص شکریہ ادا کرتے ہیں۔
سعودی حکومت کے تعاون سے جامع شاہ فہد پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے صدر مقام مظفر آباد اور جامع شاہ عبدالعزیز صوبہ خیبر پختونخواہ کے شہر مانسہرہ میں تعمیر کی گئی۔

بھارت : گائیوں کے لیے پہلی مرتبہ ایمبولنس سروس

بھارت : گائیوں کے لیے پہلی مرتبہ ایمبولنس سروس

بھارتی ریاست اترپردیش میں مویشی پروری کے وزیر لکشمی نارائن نے اتوار کے روز ایک تقریب کے دوران اطلاع دی کہ ریاستی حکومت سنگین بیماریوں میں مبتلا گائیوں کو ویٹرنری ہسپتال لے جانے کے لیے ایک خصوصی ایمبولنس سروس شروع کرنے جا رہی ہے۔

انہوں نے اس کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ دسمبر سے شرو ع ہونے والی اس ایمبولنس سروس کے لیے لکھنؤ میں ایک کال سینٹر بنایا گیا ہے جہاں ضرورت مند افراد ایک مخصوص ایمرجنسی نمبر پر فون کرکے خدمات حاصل کرسکیں گے۔ اس سروس کے تحت گائیوں کو ممکنہ کم سے کم وقت میں ویٹرنری ہسپتال تک پہنچایا جائے جس میں زیادہ سے زیادہ پندرہ سے بیس منٹ لگیں گے۔ ہر ایمبولنس میں ایک ویٹرنری ڈاکٹر اور دو معاونین بھی موجودہوں گے۔''اس سے سنگین طور پر بیمار گایوں کے جلد علاج میں مد د ملے گی۔''

مویشی پروری کے وزیر لکشمی نارائن نے بتایا کہ فی الحال 515ایمبولنس گاڑیاں اس کام کے لیے تیار کھڑی ہیں۔

'یہ سب الیکشن کا کھیل ہے'

بھارت میں گائے انتخابات کے دوران اہم ترین موضوعات میں سے ایک ہے۔ شمالی بھارت جسے عرف عام میں Cow Belt بھی کہا جاتا ہے، پنچایت سے لے کر پارلیمنٹ تک کے انتخابات گائے کے بغیر مکمل نہیں ہوتے۔ چونکہ ہندو مت میں گائے کو مقدس مقام دیا جاتا ہے اور اسے ماں کا درجہ حاصل ہے اس لیے ہندو قوم پرست جماعتیں گائے کے تحفظ کے نام پر ووٹروں کو راغب کرتی ہیں جب کہ مبینہ سیکولر جماعتیں گائے کے نام پر شدت پسند ہندووں کے ذریعہ لنچنگ کے واقعات کو پیش کرتی ہیں۔

اترپردیش سمیت بی جے پی کی حکومت والی کئی ریاستوں نے ذبیحہ گائے کے خلاف سخت قوانین بنائے ہیں، جس میں جرم ثابت ہونے پر دس برس تک قید اور پانچ لاکھ روپے تک کے جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے۔ لیکن گائے کے حوالے سے کوئی مرکزی قانون نہیں ہے۔ ہندو قوم پرست حکومت بھی گائے کے حوالے سے کوئی ٹھوس قانون بنانے سے گریز کرتی ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ سب کچھ الیکشن کے کھیل ہے۔ بھارتی صحافی شرد گپتا نے اس حوالے سے ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن آنے والے ہیں، ایسے میں یوگی ادیتیہ ناتھ کی بی جے پی حکومت اس طرح کے اور بھی کئی اعلانا ت کرسکتی ہے۔

شرد گپتا کا کہنا تھا،''اترپردیش میں آوارہ گائیوں کا معاملہ ایک سنگین مسئلہ بنتا جارہا ہے۔ جب گائے دودھ دینا بند کردیتی ہے تو کسانوں کے لیے ان کی پرورش کرنا ممکن نہیں رہ جاتا اور چونکہ قانوناً وہ اسے کسی کو فروخت بھی نہیں کرسکتے لہذا انہیں آوارہ چھوڑ دیتے ہیں۔''

شرد گپتا کہتے ہیں، ''گائیوں کے لیے ایمبولنس سروس سننے میں تو اچھا لگتا ہے اور یہ یقیناً اچھی چیز بھی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی ریاست میں بدحال ہیلتھ سروسز میں بھی سدھار کیا جانا چاہئے۔ تاکہ لوگوں کو ضرورت پڑنے پر 15سے 20منٹ کے اندر ایمبولنس مل سکے اور وہ ہسپتال پہنچ سکیں۔''

ہیلتھ سروسز کی خستہ حالی

رپورٹوں کے مطابق صحت کے میعارات کے لحاظ سے اترپردیش کی حالت بہت خراب ہے۔ اترپردیش نے گوکہ 'نیشنل فیملی ہیلتھ سروے' کے تازہ ترین اعدادوشمار جاری نہیں کیے ہیں تاہم 'سیمپل رجسٹریشن سروے' کے2019کے اعدادو شمار کے مطابق اترپردیش، نوزائیدہ بچوں کی شرح اموات کے لحا ظ سے دوسرے نمبر پر ہے جب کہ 2016-18کی رپورٹ کے مطابق زچگی کے دوران حاملہ خواتین کی اموات کے لحاظ سے بھی یوپی دوسرے نمبر پر ہے۔

'رورل ہیلتھ اسٹیٹسٹکس 2020-21' کے مطابق شہری علاقوں میں صحت خدمات کی حالت اچھی نہیں ہے جبکہ دیہی علاقوں میں تو حالات اور بھی ابتر ہیں۔حکومتی ادارے نیتی آیوگ کی رپورٹ کے مطابق اترپردیش میں کسی بھی ضلع ہسپتال میں بستروں کی اوسط تعداد فی ایک لاکھ نفوس پر صرف 13ہے۔

کاس گنج پولس حراست موت معاملہ : الطاف کے والدنے انکشاف کیاکہ خاموش رہنے کے لئے پولس نے دیئے 5 لاکھ روپے کاس گنج ( ایجنسی )

کاس گنج پولس حراست موت معاملہ : الطاف کے والدنے انکشاف کیاکہ خاموش رہنے کے لئے پولس نے دیئے 5 لاکھ روپے کاس گنج ( ایجنسی )کاس گنج میں 21 سالہ مسلم لڑکے الطاف کی پولیس حراست میں موت کا معاملہ دن بہ دن طول پکڑتا جا رہا ہے۔ یہ الزام لگانے کے بعد کہ اسے مقامی پولیس کو کلین چٹ دینے کے لیے مجبور کیا گیا تھا، مہلوک کے والد چاند میاں نے اب دعویٰ کیا ہے کہ پولیس اہلکاروں نے اسے کاغذ پر اپنا انگوٹھا لگانے کے لیے مجبور کیا اور اس ایشو پر خاموش رہنے کے لیے 5 لاکھ روپے نقد دیے تھے۔
چاند میاں نے دعویٰ کیا کہ پولیس اہلکاروں نے انھیں بتایا کہ پیسہ حکومت کی جانب سے ہے۔ اتنا ہی نہیں، ان سے معاملے کو آگے نہیں بڑھانے کے لیے بھی کہا۔ انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ گوراہا پولیس چوکی پر پولیس اور انتظامیہ کے سینئر افسران کی موجودگی میں انھیں 500 روپے کے نوٹوں کے بنڈلوں میں نقدی مہیا کرائی گئی تھی۔ چاند میاں نے کہا کہ پیسہ اب بھی ان کے پاس ہے۔ میں اسے واپس کرنے کے لیے تیار ہوں۔ میں بس اپنے بیٹے کے لیے انصاف چاہتا ہوں۔
مرحوم الطاف کے والد نے کہا کہ کاغذ میں لکھا تھا کہ اس کا بیٹا ڈپریشن سے متاثر تھا اور اس نے کوتوالی صدر تھانہ کے لاک اَپ کے واش روم میں خودکشی کر لی تھی۔ انھوں نے کہا کہ ان کے رشتہ داروں کو بھی اس معاملے کے بارے میں میڈیا سے بات نہ کرنے اور لاش کو خاموشی سے دفن کرنے کی تنبیہ کی گئی تھی۔ ایک دیگر رشتہ دار نے کہا کہ اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) ویریندر سنگھ اندولیا (اب معطل)، کچھ دیگر پولیس اہلکاروں کے ساتھ ایک سب ڈویژنل مجسٹریٹ اور ایک مقامی کارکن گوراہا پولیس چوکی پر موجود تھے، جب پیسہ الطاف کے والد کو سونپا گیا تھا۔
کاس گنج کے پولیس سپرنٹنڈنٹ (ایس پی) بوترے روہن پرمود نے حالانکہ اس کے طرح الزام سے انکار کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پولیس نے الطاف کے والد کو کوئی نقد پیسہ نہیں دیا ہے۔ معاملے کے بارے میں پوچھے جانے پر ضلع مجسٹریٹ ہرشیتا ماتھر نے کہا کہ ابھی تک مہلوک کے کنبہ کے لیے مالی امداد کا کوئی اعلان نہیں ہوا ہے۔ ہم نے اس سلسلے میں ریاستی حکومت کو تجویز بھیجی ہے۔ ہم الطاف کے کنبہ میں سے ایک کو ملازمت دلوانے کی بھی کوشش کریں گے۔
یو پی کے ایڈیشنل ڈی جی پی راجیو کرشن نے کہا کہ مجھے اس طرح کے کسی بھی لین دین کے بارے میں کوئی جانکاری نہیں ہے۔ بھلے ہی پورے معاملے کو چھپانے کے لیے نقدی سونپ دی گئی ہو، یہ اب بے معنی ہے۔ مہلوک شخص کے والد کی شکایت پر ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ جانچ کا فوکس حراست میں ہوئی موت پر ہے۔ اس تعلق سے مجسٹریل اور محکمہ جاتی جانچ بھی کی جا رہی ہے۔
اس درمیان کاس گنج پولیس نے 16 سالہ ہندو لڑکی کو اغوا کنندگان کے چنگل سے چھڑا لیا ہے جس کا مبینہ طور پر الطاف اور ایک نامعلوم دوست کے ذریعہ اغوا کیا گیا تھا۔ ایک سینئر پولیس افسر نے کہا کہ اسے بیان درج کرانے کے لیے عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ اتر پردیش کے کاس گنج میں گزشتہ ہفتے منگل کو چاند میاں کا بیٹا الطاف تھانہ کے لاک اَپ کے واش روم میں مبینہ طور پر 2 فیٹ اونچے پانی کے پائپ سے لٹکا پایا گیا تھا۔ پولیس اسے ایک لڑکی کو بھگانے کے الزام میں گرفتار کر تھانے لے گئی تھی۔ گھر والوں کا الزام ہے کہ الطاف کی موت پولیس کی پٹائی کے سبب ہوئی۔ علاوہ ازیں 5 فیٹ سے زیادہ قد رکھنے والے الطاف کی 2 فیٹ اونچی نل کی ٹونٹی سے لٹک کر خودکشی کرنے کی پولیس کی تھیوری کسی کے گلے نہیں اتر رہی ہے

پیر, نومبر 15, 2021

بچے تعلیم یافتہ ہونگےتو صالح معاشرہ کی تعمیر ہوگی : پروفیسر رقیب احمد

بچے تعلیم یافتہ ہونگےتو صالح معاشرہ کی تعمیر ہوگی : پروفیسر رقیب احمدارریہ،15؍نومبر - (مشتاق احمد صدیقی) قومی شاہراہ 57 پر واقع اور سی بی ایس سے افیلیٹیڈ معروف ومشہور تعلیمی وتربیتی درسگاہ کیریئر گائیڈ اکیڈمی،جبار نگر دیا گنج کے وسیع وعریض کیمپس میں یومِ اطفال کی تقریب بڑے جوش و خروش کے ساتھ منائی گئی اور دیر رات تک مہمانان، اساتذۂ کرام،طلبہ و طالبات سمیت بڑی تعداد میں گارجین حضرات یہاں کے بچوں اور بچیوں کے ذریعہ پیش کئے گئے لطف اندوز اور سبق آموز ثقافتی پروگرام سے لطف اندوز ہوتے رہے۔ یوم اطفال کے موقع پر ثقافتی پروگرام کے تحت یہاں کے بچوں اوربچیوں نے دلکش غزلیں، نظمیں، گیت، خواتین کو بااختیار بنانے، اتحاد اور ورزش پر مبنی ایشو گیم کی جھلک جیسے جاذب نظرپروگرام پیش کرکے خوب خوب تالیاں بٹوریں وہیں دوسری جانب طلبہ اور طالبات نے ہندی،اردو اور انگریزی زبانوں میں پنڈت جواہر لعل نہرو، مولانا ابوالکلام آزاد اور مہاتما گاندھی کی زندگیوں پر تقریری مقابلے میں حصہ لے کراپنی باطنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا اور یومِ اطفال کی مناسبت سےانعامی پینٹنگ مقابلہ میں گروپ وائز بچوں اور بچیوں کے ذریعہ پنڈت جواہر لال نہرو،مولانا ابوالکلام آزاد اور مہاتما گاندھی ودیگر سیاسی لیڈروں کی تصویر کی قابلِ دید اسکیچنگ نے ناظرین کا دل موہ لیا کے۔ اکیڈمی کے ڈائریکٹر،ٹرسٹ کے چیئرمین اور الشمس ملیہ ڈگری کالج کے پرنسپل پروفیسر رقیب احمد نے اس موقع پر موجود جم غفیر کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بچے تعلیم یافتہ ہونگےتو معاشرہ تعلیم یافتہ ہوگا اور معاشرہ تعلیم یافتہ ہو جائے گا توصالح معاشرہ کی تعمیر ہوگی اور صالح معاشرہ سے پورے ملک کے گوشے گوشے تک صالحیت پہنچے گی تو ملک ہمہ جہتی ترقی کی جانب گامزن ہوگا۔ .....اس کے بعد اکیڈمی کے چیئرمین پروفیسر رقیب احمد کے دست مبارک سے اکیڈمی کی جانب سے درجنوں ہندی، اردو اور انگریزی زبانوں کے پرنٹ،الکٹرانک اور سوشل میڈیا کے نمائندوں کو ان کی بہتر کارکردگی پر کل کے یومِ اطفال کے مبارک موقع پرشال اوڑھاکر اور مومنٹو دیکر اعزاز بخشا گیا اس کے علاوہ علاقے کے سیاسی رہنماؤں میں سے کانگریس ضلع کمیٹی کے صدرایڈوکیٹ انیل کمار سنہا، کسیار گاؤں کے مکھیا مانک چند سنگھ، سابق مکھیالکشمن چودھری، رام پور کدر کٹی کے سابق مکھیا شہزاد عالم کو ان کے اچھے کام کرنے کے انداز پر یادگاری شال اور مومنٹو دے کر اعزاز سے نوازاگیا۔ اس موقع پراسکول کے منیجنگ ڈائریکٹر سبطین احمد نے کہا کہ اسکول بچوں کی ہمہ جہت ترقی کے لئے تیار ہے جس میں اسکول کے تمام اساتذہ اپنا کرداراور اپنے فرائض منصبی کو بحسن و خوبی انجام دے رہے ہیں،اس کے لئے میں تمام اساتذہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہیں دے کی عمیق گہرائیوں اس اڈریس کے بعد یہاں کی ممتاز طالبہ تسنیم آرزو، طالب علم میزان احمد اور عاطف سرور کو NEET اور JEE میں کامیابی پر اعزاز بخشا گیا۔ منیجنگ ڈائریکٹر نے پروگرام کو کامیاب بنانے پراسکول کی تمام اکیڈمک اور غیر تعلیمی ورکنگ کمیٹیوں، بچوں کے والدین کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ والدین کی سرگرمی اسکول کو مزید بہتر بناتی ہےسے مبارکباد پیش کرتا ہوں!

ریلوے: رات میں کیوں نہیں ہوگی ٹکٹ کی بکنگ

ریلوے: رات میں کیوں نہیں ہوگی ٹکٹ کی بکنگ

محکمہ ریلوے کی جانب سے پسنجر ریزرویشن سسٹم (PRS) کواپ گریڈ کیا جا رہا ہے۔ یہ اپ گریڈیشن 14 نومبر کی رات سے شروع ہوگیا ہے، جو کہ آئندہ 21 نومبر کی صبح تک جاری رہے گا۔

خیال رہے کہ اپ گریڈیشن کے دوران 11.30 بجے سے صبح 5.30 بجے تک ریلوے ٹکٹ بک نہیں کرائے جا سکتے۔ یہ اقدام نئے ٹرین نمبروں اور دیگر ڈیٹا کو اپ گریڈ کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔

ریلوے نے کہا کہ چونکہ تمام ٹرینوں میں پرانے ٹرین نمبروں اور موجودہ مسافروں کی بکنگ کے اعداد و شمار کی ایک بڑی مقدار کو اپ ڈیٹ کیا جانا ہے، اس لیے اسے کئی مراحل میں کرنے کا منصوبہ ہے۔

اس کی وجہ سے ٹکٹنگ سروسز پر پڑنے والے اثرات کو کم کرنے کے لیے رات کو یہ کام کیا جا رہا ہے۔

اس کی وجہ سے ان 6 گھنٹوں کے دوران پی آر ایس خدمات جیسے ٹکٹ ریزرویشن، کرنٹ بکنگ، کینسلیشن اور انکوائری خدمات دستیاب نہیں ہوں گی۔

ریلوے نے کہا کہ اس کے علاوہ ریلوے اہلکار متاثرہ وقت کے دوران ٹرینوں کو شروع کرنے کے لیے پیشگی چارٹنگ کو یقینی بنائیں گے۔

ریلوے کی وزارت نے کہا کہ پی آر ایس خدمات کے علاوہ دیگر تمام انکوائری خدمات بشمول ڈائل 139 خدمات دستیاب رہیں گی۔

خصوصی ٹرینیں معمول کی ٹرینوں کی طرح چلائی جائیں گی۔

کورونا کے دوران خصوصی ٹیگ کی وجہ سے بڑھے ہوئے کرائے کے ساتھ چلنے والی تمام ٹرینیں اب پرانے نام اور نمبر کے ساتھ چلیں گی۔ وزارت ریلوے نے مسافروں کو بڑا ریلیف دینے کا اعلان کیا ہے۔

وزارت نے کہا ہے کہ وہ تمام ٹرینیں جنہیں کورونا کے دوران خصوصی ٹرینوں میں تبدیل کیا گیا تھا اب وہ پہلے کی طرح معمول کے مطابق چلائی جائیں گی۔

اس سے ان ٹرینوں میں لگائے جانے والے خصوصی چارج میں کمی آئے گی جس سے کرایہ تقریباً 30 فیصد کم ہو جائے گا۔

مکمل لاک ڈاون کے لیے تیار۔ عدالت میں دہلی سرکار کا حلف نامہ

مکمل لاک ڈاون کے لیے تیار۔ عدالت میں دہلی سرکار کا حلف نامہ

دہلی:دہلی حکومت نے سپریم کورٹ میں ایک حلف نامہ داخل کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ آلودگی کو روکنے کے لیے مکمل لاک ڈاؤن جیسے اقدامات کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔

سپریم کورٹ نے آلودگی کے مسئلہ پر مرکز اور دہلی حکومت کی سخت سرزنش کی ہے۔ آلودگی کے معاملے پر سماعت کے دوران عدالت نے دونوں حکومتوں سے کہا ہے کہ وہ آلودگی کو روکنے کے لیے جلد از جلد سخت اقدامات کریں۔

عدالت نے دہلی حکومت سے کل تک جواب طلب کیا ہے، جب کہ مرکزی حکومت کو ہنگامی اجلاس بلانے اور دہلی، پنجاب اور ہریانہ حکومتوں کو مل بیٹھ کر آلودگی کے مسئلے کا حل تلاش کرنے کو کہا گیا ہے۔

سماعت کے دوران مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ دہلی اور شمالی ریاستوں میں اس وقت پرالی جلانا آلودگی کی بڑی وجہ نہیں ہے کیونکہ یہ آلودگی میں صرف 10 فیصد حصہ ڈالتی ہے۔

سپریم کورٹ نے مرکزی اور ریاستی حکومتوں سے کل شام تک جواب دینے کو کہا ہے کہ کون سی صنعتوں کو روکا جا سکتا ہے، کن گاڑیوں کو روکا جا سکتا ہے اور کون سے پاور پلانٹس کو روکا جا سکتا ہے اور اس وقت تک آپ متبادل بجلی کیسے فراہم کر سکتے ہیں؟۔

 سپریم کورٹ نے کہا کہ فضائی آلودگی کے لیے ٹرانسپورٹ، صنعتیں اور ذرائع نقل و حمل سب سے زیادہ ذمہ دار ہیں۔ پرالی جلانا بھی کچھ علاقوں میں فضائی آلودگی کا باعث ہے۔

اس کے ساتھ ہی حکومت نے یہ بھی کہا ہے کہ اس طرح کے اقدامات کا اثر کچھ وقت تک ہی پڑے گا۔ کیجریوال حکومت نے کہا کہ دہلی کے ساتھ ساتھ این سی آر خطے میں بھی لاک ڈاؤن نافذ کرنے کی ضرورت ہے، تب ہی ایسے اقدامات کا اثر ہوگا۔

دہلی حکومت نے مرکزی حکومت سے کہا ہے کہ وہ دہلی کو این سی آر کا حصہ مانے اور پورے این سی آر میں لاک ڈاؤن نافذ کرے۔

اردودنیانیوز۷۲

عید الفطر کا پیغام

عید الفطر کا پیغام  مضمون نگار : محمد ضیاء العظیم، معلم چک غلام الدین ہائی اسکول، ویشالی، بہار، موبائل نمبر :7909098319 اللہ رب ...