Powered By Blogger

پیر, جون 13, 2022

وطن کی فکر کرو لوگو___مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ وجھارکھنڈ

وطن کی فکر کرو لوگو___
مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ وجھارکھنڈ
ہمارے ملک ہندوستان کا شمار پوری دنیا میں عظیم ترین جمہوری ملک کے طور پر ہوتا ہے، جمہوریت کی بنیادیں یہاں مضبوط ہیں اور اس کو مضبوطی عطا کرنے میں مقننہ (پارلیامنٹ ، راجیہ سبھا اور اسمبلیاں)، عدلیہ (لُوَر، اَپر، ہائی اور سپریم کورٹ)، انتظامیہ (افسران ، وزراء اور بیروکریٹ)، اور ذرائع ابلاغ (پرنٹ اور الکٹرونک میڈیا) کا بڑا ہاتھ رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ ان چاروں کو جمہوریت کی بنیاد کہا جاتا ہے، ان میں سے کوئی ایک کمزور ہوجائے تو جمہوریت کمزور ہو گی اور چاروں کمزور پڑجائیں تو جمہوریت کی عمار ت کو منہدم ہونے سے کوئی بچا نہیں سکتا ۔
 آزادی کے بعد ۱۹۵۰ء میں دستور ہند کے نفاذکے وقت اس ملک کو سیکولر جمہوریہ قرار دیا گیا، اس وقت جن لوگوں کے ہاتھوں میں اقتدار کی باگ ڈور تھی، وہ اس دستور کے پابند تھے، انہوںنے غلام ہندوستان کو دیکھا تھا جدوجہد آزادی میں حصہ لیا تھا، حکمراں پارٹی پر مسلمانوں کا دبدبہ باقی تھا اور کوئی فیصلہ لیتے وقت حکومت بار بار سوچتی تھی کہ اس کا اثر رائے عامہ پر کیا پڑے گا اور انتخابی سیاست میں رائے دہندگان کا رخ اس فیصلے کے بعد کدھر ہوگا، پھر ہوا یہ کہ دھیرے دھیرے مقننہ میں ایسے لوگ آگیے جن کی ذہنیت فرقہ واریت سے مسموم تھی، او رجن کے دلوں میں خدمت کے جذبہ کے بجائے مال ودولت کے حصول کا جذبہ پروان چڑھ چکا تھا ، نتیجہ یہ ہو ا کہ جمہوریت کا پہلا ستون کمزور ہو گیا ، ممبران کی خرید وبکری سے لے کر سوالات پوچھنے کے لیے رشوت لینے تک کے واقعات سامنے آئے، اس خرید وفروخت کی وجہ سے حکومتیں بنتی اور گرتی رہیں، آیا رام گیارام کی مثل عام ہو گئی ، سیاسی گلیاروں میں ہو رہی اس بد عنوانی نے لوگوں کے اعتماد کو ٹھیس پہونچا یا اور عوام میں سیاسی لیڈران کی پکڑ ہی نہیں قدر بھی کم ہوئی ، عدلیہ پر لوگوں کا اعتماد جما ہوا تھا ، اور ہر ظلم کے خلاف انصاف کے حصول کے لیے لوگوں کی نظر ادھر جاتی تھی ، لیکن بابری مسجد حقیت کے معاملے میں زمین کی تقسیم ، جسٹس لویا کی موت اور عدالت عظمیٰ کے چار ججوں کے ذریعہ تاریخ میں چیف جسٹس کے رویہ پر ہونے والی پہلی پریس کانفرنس میں ججوں کے ذریعہ یہ اعلان کہ جمہوریت خطرے میں ہے نے عوام کے ذہن ودماغ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ،  ان معاملات کی وجہ سے جمہوریت کے اس دوسرے ستون پر بھی زوال کے آثار دِکھنے لگے ہیں، خصوصا اس صورت میں جب عدالت میں بحالیاں قابلیت کے بجائے پارٹی وفاداری کی بنیاد پر کی جا رہی ہوں۔
 جمہوریت کے تیسرے ستون انتظامیہ کا حال یہ ہے کہ فائل کو جس قدر مضبوطی سے آپ دوڑانا چاہتے ہیں، رشوت کے اتنے مضبوط پہیے کا استعمال کرنا ہوگا ، اگر رشوت کا پہیہ نہ لگایا گیا یا مضبوط انداز میں نہیں لگایا گیا تو وہ فائل دفاتر میں سرک بھی نہیں سکتی ہے ، کوئی کام کرانا ہے توشُبِدھا شلک (رشوت) دینا ہی ہوگا، اس طرح تیسرا ستون بد عنوانی میں کمر تک نہیں گردن تک ڈوب کر رہ گیا ہے۔
 ان معاملات ومسائل نیز عوام کی پریشانیوں کو سرکاری محکموں تک پہونچانے کے لیے ذرائع ابلاغ چوتھا ستون تھا ، اخبارات ، ٹیلی ویزن وغیرہ کے ذریعے آواز اٹھانے پر حکومت کے کان کھلتے تھے اور اس کے نتیجے میں پریشانیاں دور ہوتی تھیں، لیکن اب ذرائع ابلاغ پرنٹ اور لکٹرونک میڈیا بھی حکمراں جماعت کے ہاتھ مال ودولت کی ہوس میں بک چکے ہیں، اس لیے اینکر، ٹی وی کے اناؤنسر فرقہ واریت پھیلا نے ، اقلیتوں کے مسائل کو دبانے اور حکومت کو شاباشی دینے میں لگے ہوئے ہیں، رائے عامہ ذرائع ابلاغ ہی بیدار کرتے تھے، ان کے بک جانے سے ملک کے عوام کے ذہن وسوچ کو صحیح رخ نہیں مل پارہا ہے، جس کی وجہ سے جمہوری قدروں کا جنازہ نکلتا چلا جا رہا ہے، گویا خطرات کے بادل دین پر بھی منڈلا رہے ہیں مسلمان ایک زندہ قوم اور بیدار امت ہے،ا س کے لیے مایوسی اور اللہ کی رحمت سے نا امیدی کفر کی طرح ہے، ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے نہیں رہ سکتے، ان حالات کو بدلنے کے لیے ایمانی جذبے، اسلامی حوصلے اور پوری قوت کے ساتھ کوشش کرنی ہوگی، اللہ کا وعدہ ہے کہ انسان کو وہ چیز مل جاتی ہے، جس کے لیے وہ کوشش کرتا ہے۔

دہلی : راہل گاندھی کی حمایت میں کانگریس کا مارچ ، ٹریفک پولیس ان راستوں کو کیا بند

دہلی : راہل گاندھی کی حمایت میں کانگریس کا مارچ ، ٹریفک پولیس ان راستوں کو کیا بند

نئی دہلی: دہلی کی سڑکوں پر کانگریس کارکنان اپنے ہیڈکوارٹر سے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے دفتر تک مارچ نکالنے جا رہے ہیں، جہاں سینئر لیڈر راہل گاندھی پیش ہونے والے ہیں۔ مارچ کے پیش نظر دہلی ٹریفک پولیس نے خصوصی تیاریاں کی ہیں اور پیر کے روز ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے لوگوں سے کہا ہے کہ کچھ مخصوص راستوں پر جانے سے گریز کریں۔

دہلی پولیس ٹریفک پولیس نے رہنما ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ صبح 7 بجے سے دوپہر 12 بجے تک موتی لال نہرو روڈ، اکبر روڈ، جن پتھ اور مان سنگھ روڈ پر جانے سے اجتناب کریں۔ خصوصی انتظامات کے باعث ان سڑکوں پر ٹریفک بند رہے گا۔ اس دوران لوگوں سے گول میتھی جنکشن، تغلق روڈ جنکشن، کلیریجز جنکشن، کیو پوائنٹ جنکشن، سنہری مسجد جنکشن، مولانا آزاد روڈ جنکشن اور مان سنگھ روڈ جنکشن سے گریز کرنے کو بھی کہا گیا ہے۔

ایک اور ٹوئٹ میں کہا گیا، ''ٹریفک کے خصوصی انتظامات کی وجہ سے نئی دہلی میں گول ڈاک خانہ جنکشن، پٹیل چوک، ونڈسر پلیس، تین مورتی چوک، پرتھوی راج روڈ سے آگے بسوں کی نقل و حرکت پر پابندی ہوگی۔'' اس دوران موتی لال نہرو مارگ، اکبر روڈ، ادیوگ بھون روڈ سمیت کئی سڑکوں کو پولیس نے مکمل طور پر بند کر دیا ہے۔ لوگوں کو ان سڑکوں پر چلنے کی بھی اجازت نہیں ہوگی۔

خیال رہے کہ ای ڈی نے نیشنل ہیرالڈ معاملے میں راہل گاندھی اور پارٹی کی سربراہ سونیا گاندھی کے ساتھ کانگریس کے کئی لیڈروں کو 23 جون کو طلب کیا ہے۔ کانگریس پارٹی نے اعلان کیا ہے کہ راہل گاندھی جس وقت پیش ہونے کے لئے جائیں گے تو پارٹی لیڈران پارٹی ہیڈکوارٹر سے ای ڈی دفتر تک مارچ نکالیں گے، تاہم پولیس نے مارچ کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ کانگریس لیڈران کی جانب سے ملک کی کئی شہروں میں واقع ای ڈی دفتر کے سامنے بھی احتجاج کیا جا رہا ہے۔

اتوار, جون 12, 2022

نوپور شرما کا سر قلم کرتے ہوئے ویڈیو اپ لوڈ کرنے پر سری نگر میں یوٹیوبر گرفتار

نوپور شرما کا سر قلم کرتے ہوئے ویڈیو اپ لوڈ کرنے پر سری نگر میں یوٹیوبر گرفتار

ایک کشمیری یوٹیوبر، جس کا ویڈیو سوشل میڈیا پلیٹ فارمس پر بی جے پی کی معطل ترجمان نپرشرما کا سر قلم کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا، کو عوامی سکون کو خراب کرنے اور عوام میں خوف پیدا کرنے کے الزام میں ہفتہ کو یہاں گرفتار کیا گیا۔ حالانکہ نوجوان نے ویڈیو کو ڈیلیٹ کر دیا ہے اور اس کے لیے معافی بھی مانگی ہے۔ اپنی گرفتاری سے پہلے اس نے ایک اور ویڈیو پوسٹ کی جس میں اس نے کہا کہ اس کا لوگوں یا کسی مذہب کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

یوٹیوبر فیصل وانی کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس نے یوٹیوب پر ایک مجرمانہ ویڈیو اپ لوڈ کی تھی جو کہ عوامی امن کے خلاف ہے اور اس نے عام لوگوں میں خوف اور خطرے کی گھنٹی پھیلائی ہے۔ ایف آئی آر تعزیرات ہند کی دفعہ 505 اور 506 کے تحت درج کی گئی ہے۔ صفا کدل پولیس اسٹیشن نے مذکورہ شخص کو گرفتار کیا ہے۔ وانی کی گرفتاری اس وقت عمل میں آئی جب اس نے وائرل ویڈیو کو ڈیلیٹ کیا اور اپنے یوٹیوب چینل "ڈیپ پیئن فٹنس" پر پوسٹ کی گئی ایک نئی ویڈیو میں معافی مانگی۔"میں نے کل رات نوپور شرما کے بارے میں ایک ویڈیو اپ لوڈ کی تھی۔ یہ ایک VFX ویڈیو تھا جو پورے ہندوستان میں وائرل ہوا اور مجھ جیسا ایک بے قصور شخص اس میں پھنس گیا۔ میرا کبھی کسی دوسرے مذہب کو ٹھیس پہنچانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے، کیونکہ اسلام ہمیں دوسروں کا احترام کرنا سکھاتا ہے۔ اس نے کہا کہ اس نے متنازعہ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد اسے ڈیلیٹ کر دیا'۔

اس نے کہا کہ "میں تمام مذاہب کا احترام کرتا ہوں۔ ہاں، میں نے وہ ویڈیو بنائی تھی، لیکن میرا کسی چیز کی خلاف ورزی کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ میں نے کل رات ہی ویڈیو کو ڈیلیٹ کر دیا تھا، لیکن میں اس کے لیے معذرت خواہ ہوں"۔ اس نے مزید کہا کہ اگر اس کی وجہ سے کسی کو تکلیف پہنچی ہے تو میں انتہائی معذرت خواہ ہوں۔ میرا کسی کو تکلیف پہنچانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ اپنے آپ کو ایک سادہ شخص کے طور پر بیان کرتے ہوئے، وانی نے امید ظاہر کی کہ دوسرا ویڈیو بھی وائرل ہو جائے گا "تاکہ میری معذرت سب تک پہنچ جائے۔ اس نے کہا کہ میں ایک بے قصور شخص ہوں اور اس میں ملوث نہیں ہونا چاہتا۔ وانی کی اب ڈیلیٹ کی گئی اس کے چینل پر پوسٹ کی گئی ویڈیو میں ننگے جسم والے یوٹیوبر کو تلوار چلاتے اور شرما کی تصویر کا سر قلم کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

واضح ہو کہ نوپور شرما کو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے معطل کر دیا تھا جبکہ ایک اور رہنما نوین جندل کو پیغمبر اسلام کے بارے میں ان کے متنازعہ ریمارکس پر نکال دیا گیا تھا۔ ان تبصروں پر کئی اسلامی ممالک میں شدید ردعمل سامنے آیا اور ہندوستانی مصنوعات کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا گیا۔ ملک کے کئی شہروں میں بھی مظاہرے ہوئے ہیں، جب کہ شرما کے خلاف متعدد ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔

اترپردیش پولیس نے جمعہ کو ہونے والے تشدد کے الزام میں 304 لوگوں کو گرفتار کیا

اترپردیش پولیس نے جمعہ کو ہونے والے تشدد کے الزام میں 304 لوگوں کو گرفتار کیالکھنؤ: اترپردیش پولیس نے بی جے پی کی معطل کارکن نوپور شرما کے پیغمبر اسلام کے بارے میں متنازعہ ریمارکس کے خلاف احتجاج کے دوران جمعہ کو ہونے والے تشدد کے سلسلے میں ریاست کے آٹھ اضلاع سے اب تک 300 سے زیادہ لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔اتوار کو یہاں جاری ایک بیان میں ایڈیشنل ڈائرکٹر جنرل آف پولیس (لا اینڈ آرڈر) پرشانت کمار نے کہا، “ریاست کے آٹھ اضلاع سے 304 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، اور نو اضلاع میں اس سلسلے میں 13 مقدمات درج کیے گئے ہیں۔”مزید وضاحت کرتے ہوئے کمار نے کہا، “91 افراد کو پریاگ راج میں، اس کے بعد سہارنپور میں 71، ہاتھرس میں 51، امبیڈکر نگر اور مرادآباد میں 34، فیروز آباد میں 15، علی گڑھ میں چھ اور جالون میں دو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔”سینئر افسر نے بتایا کہ 13 مقدمات میں سے، پریاگ راج اور سہارنپور میں تین تین، اور فیروز آباد، امبیڈکر نگر، مراد آباد، ہاتھرس، علی گڑھ، لکھیم پور کھیری اور جالون میں ایک ایک کیس درج کیا گیا ہے۔یوپی کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ جنہوں نے اکثر کہا ہے کہ ان کے دور حکومت میں ریاست کو بار بار ہونے والے فسادات سے کیسے نجات ملی ہے انہوں نے ہفتے کے روز ایک سخت انتباہ جاری کیا۔انہوں نے عہدیداروں کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ ''گزشتہ چند دنوں میں مختلف شہروں میں ماحول کو خراب کرنے کی افراتفری کی کوششوں میں ملوث سماج دشمن عناصر کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے گی۔''مہذب معاشرے میں ایسے سماج دشمن لوگوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ کسی بے قصور کو ہراساں نہیں کیا جانا چاہئے، لیکن ایک بھی قصوروار کو نہیں بخشا جانا چاہئے،'' انہوں نے کہا۔ہندی میں ایک ٹویٹ میں چیف منسٹر کے میڈیا ایڈوائزر مرتیونجے کمار نے ہفتے کے روز کہا تھا، ''بے قاعدہ عناصر کو یاد ہے، ہر جمعہ کے بعد ہفتہ ہوتا ہے'' اور بلڈوزر سے عمارت کو گرانے کی تصویر پوسٹ کی۔آدتیہ ناتھ کے تحت، ریاستی انتظامیہ مجرموں اور فسادات کے ملزمان کے خلاف کریک ڈاؤن کر رہی ہے، ان کی املاک کو ضبط یا مسمار کر رہی ہے۔ ان کے ناقدین نے اکثر ان پر مضبوط بازو کی حکمت عملی اپنانے کا الزام لگایا ہے۔جمعہ کو مساجد میں نماز جمعہ کے بعد احتجاج کے دوران پریاگ راج اور سہارنپور میں لوگوں نے پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ کیا۔کم از کم چار دیگر شہروں میں ایسے ہی مناظر ان مارچوں کے دوران دیکھے گئے جو بی جے پی کی معطل ترجمان نوپور شرما کے پیغمبر محمد کے بارے میں متنازعہ ریمارکس کے خلاف احتجاج کے لیے نکالے گئے تھے۔پریاگ راج میں، ہجوم نے چند موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں کو آگ لگا دی اور ایک پولیس گاڑی کو بھی نذر آتش کرنے کی کوشش کی۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور لاٹھیوں کا استعمال کیا اور امن بحال کیا۔ پولیس کے مطابق ایک پولیس اہلکار زخمی ہوا۔شرما کو بی جے پی نے معطل کر دیا تھا کیونکہ کئی اسلامی ممالک نے ایک ٹی وی بحث کے دوران پیغمبر اسلام کے بارے میں ان کے تبصروں کی مذمت کی تھی۔سہارنپور میں مظاہرین نے شرما کے خلاف نعرے لگائے اور ان کے لیے موت کی سزا کا مطالبہ کیا۔ بجنور، مرادآباد، رام پور اور لکھنؤ میں بھی احتجاجی مظاہرے ہوئے۔

الہ آباد تشدد : کلیدی ملزم کے گھر بلڈوزر سے انہدامی کارروائی ، مین گیٹ مسمار ، بھاری فورس تعینات

الہ آباد تشدد : کلیدی ملزم کے گھر بلڈوزر سے انہدامی کارروائی ، مین گیٹ مسمار ، بھاری فورس تعینات

الہ آباد: توہین رسالتؐ کے خلاف جمعہ کے روز ہونے والے تشدد کے سلسلہ میں پولیس نے سخت کارروائی شروع کر دی ہے۔ اس ضمن میں الہ آباد میں بلڈوزر کی کارروائی شروع ہو گئی ہے۔ پولیس اور انتظامہ کے لوگ معاملہ کے مبینہ 'ماسٹر مائنڈ' جاوید پمپ کے گھر پر پہنچ گئے ہیں۔ 'آج تک' کی رپورٹ کے مطابق جاوید کے گھر کے مین گیٹ کو توڑ دیا گیا ہے۔

قبل ازیں، پی ڈی اے (پریاگراج ڈیولپمنٹ اتھارٹی) نے جاوید پمپ کے مکان پر نوٹس چسپاں کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس گھر کو صبح 11 بجے تک خالی کر دیا جائے تاکہ اتھارٹی انہدامی کارروائی انجام دے سکے۔ دریں اثنا، پولیس نے جاوید کے گھر کو چھاونی میں تبدیل کر دیا ہے۔ سب سے پہلے جاوید کے گھر کا مین گیٹ توڑ گیا اور اس کے بعد باؤنڈری وال بھی گرا دی گئی ہے۔ ایس پی سٹی لوگوں سے کہہ رہے ہیں کہ وہ موقع سے ہٹ جائیں۔ تاہم جاوید کا گھر اندر سے بند ہے۔

آج تک کی رپورٹ کے مطابق پولیس اہلکار جاوید کے گھر میں داخل ہو گئے اور سامان باہر نکال دیا۔ پولیس اہلکاروں نے مکان کی پہلی منزل پر پہنچ کر کرسیاں اور دیگر سامان نیچے پھینکا۔ جاوید کا گھر اندر سے بند ہے اور صبح سے کوئی رکن باہر نہیں آیا۔ رپورٹ کے مطابق پولیس افسران نے پہلے ہی صاف کر دیا تھا کہ اگر دروازہ نہیں کھولا جاتا تو اسے توڑ کر لوگوں کو باہر نکالا جائے۔ موقع پر خاتون پولیس اہلکار بھی تعینات ہیں تاکہ خواتین مخالفت کریں تو انہیں قابو میں کیا جا سکے۔

خیال رہے کہ پی ڈے کی جانب سے رات گئے جاوید کے گھر پر نوٹس چسپاں کیا گیا تھا۔ نوٹس میں کہا گیا تھا کہ 12 جون کو صبح 11 بجے تک گھر خالی کر دیا جائے۔ نوٹس میں کہا گیا تھا کہ گھر کا تمام سامان باہر نکال لیں، تاکہ اتھارٹی اپنی کارروائی انجام دے سکے۔

گستاخِ رسول کا عبرتناک انجام ___ ✍️شمشیر عالم مظاہری دربھنگوی

گستاخِ رسول کا عبرتناک انجام ___
   ✍️شمشیر عالم مظاہری دربھنگوی
امام جامع مسجد شاہ میاں روہوا ویشالی بہار
  مٹ گئے ، مٹتے ہیں، مٹ جائیں گے، اعدا تیرے
نہ مٹا ہے ۔نہ مٹے گا کبھی چرچا تیرا 
معاندین اسلام اور مفاد پرست لیڈر اسلام اور اہل اسلام کے معاملہ میں سنگین حد تک تنگ نظری کا شکار ہیں اور انہوں نے
 اپنے نظریہ کے اعتبار سے اسلام کے خاتمہ کا بیڑا ہی اٹھا لیا ہے یہ افراد اسلامی شعار کو کیا برداشت کریں گے کہ جن چیزوں سے مسلمانوں کا ادنیٰ تعلق بھی ظاہر ہو اسے بھی گوارہ کرنے کے روادار نہیں ہیں
کچھ دنوں سے دیکھا جا رہا ہے کہ مسلمانوں کے تعلق سے؛ ہندوتوا؛  کا رویہ بڑا جارحانہ ہوگیا ہے مذہب، تہذیب، زبان تینوں پر زبردست یلغار ہے فتنہ پرور عناصر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اتنی خفیہ اور طویل المیعاد سازشیں کر رہے ہیں کہ ان کے پیچ و خم کو سمجھنا اور اپنے دفاع کے لیے ہر وقت تیار رہنا ہر مسلمان کے لیے ازبس ضروری ہو گیا ہے ۔چاروں طرف اسلام کی بد خواہی کی زوردار آندھیاں چل رہی ہیں اسلام  مخالفت کی گھنگھور گھٹائیں چھائی ہیں بدین عناصر اور اسلام دشمن تحریکیں اپنی حیلہ سازیوں اور ہماری غفلت شعار یوں کے سبب اسلام کے مذہبی، اصلاحی، تبلیغی، اشاعتی، تہذیبی، اخلاقی، تمدنی، ثقافتی، اقتصادی، معاشی، معاشرتی، سماجی، اور سیاسی نظام و آداب اور اصول و ضوابط کو ناقابل عمل بنانے کی انتھک کوششیں کر رہی ہیں گلشن اسلام کو خاکستر بنا دینے کے خواب دیکھے جارہے ہیں اسلام و مسلمین کے خلاف دنیا بھر میں باطل پرستوں اور طاغوتی طاقتوں کی مختلف جماعتیں باہم متحد اور منظم نظر آرہی ہیں اسلام ان کا مشترکہ دشمن بنا ہوا ہے جسے مٹانے اور نیست و نابود کردینے کی سعی اور مسلمانوں کا مضحکہ اڑانے کی کوشش کی جارہی ہے اسلام پر سامراجیت وصیہونیت کے خوفناک ساۓ ہیں آۓ دن تحریر و تقریر کے ذریعہ عالمی سطح پر اسلام و بانی اسلام کی شان میں بدترین گستاخیاں کر کے ہر محاذ پر مسلمانوں کو حیران و پریشان مرعوب و مغلوب  اور مجبور و محکوم بنانے کا سامان فراہم کیا جارہا ہے مجموعی طور پر اسلام کے لئے یہ بڑے خطرے کا وقت ہے ۔ ہمیں زمانے کے تیور حالات کی نزاکت اور عالمی سیاست سے باخبر رہ کر اپنے اسلاف کے طریقہ و انداز سے تعلیم و تربیت اور ارشاد و ہدایت کا کام بڑی سوجھ بوجھ اور باہمی مشورہ سے کرنا چاہیے تاکہ اسلام کے تشخص کو نقصان پہنچنے اور مسلمانوں کی جمعیت کا شیرازہ منتشر ہونے سے محفوظ رکھا جاسکے اگر ہم نے وقت کی اس دردناک چیخ پر توجہ نہ دی تو مستقبل میں ہماری نسلیں اسلام سے کتنی دور ہوجائیں گی کچھ نہیں کہا جا سکتا ۔
انسان کتنا احمق ہے وہ جب ظلم کرتا ہے تو بھول جاتا ہے کہ خود مجھ پر ظلم ہو سکتا ہے جب وہ کسی کی عزت و آبرو خراب کرتا ہے تو بھول جاتا ہے کہ میری آبرو بھی لٹ سکتی ہے جب وہ کسی کا دل دکھاتا ہے تو اسے یاد نہیں رہتا کہ میرا دل بھی دکھایا جا سکتا ہے حالانکہ اس دنیا میں بھی مکافات عمل کا سلسلہ جاری رہتا ہے جو بویا جاتا ہے وہی کاٹا جاتا ہے یہ تو ممکن ہے کہ ظالم کو کچھ وقت کے لئے ڈھیل دے دی جائے لیکن کب تک بالآخر اللہ اسے پکڑتا ہے اور اللہ کا پکڑنا تو پھر نرا لا ہی ہوتا ہے اور ایسا پکڑتا کہ ہے ظالموں اور متکبروں کو عالم انسانی کے لئے عبرت کا نشان بنا دیتا ہے وہ جب پکڑتا ہے تو مال و دولت عہدہ ومنصب اور دوست و احباب میں سے کوئی بھی کام نہیں آتا ۔
اللہ تعالیٰ مختلف قسم کے جرم کی سزا دنیا میں بھی دے دیتا ہے لیکن ضروری نہیں کہ ہر ظلم کی سزا اسی دنیا میں دے دی جائے کیونکہ یہ دنیا تو  دارالعمل ہے دارالجزاء تو قیامت ہے لیکن ظلم اور غرور یہ دو ایسے جرم ہیں کہ ان کی سزا کسی نہ کسی پہلو سے اس دنیا میں بھی ضرور مل کر رہتی ہے تاریخ اٹھا لیجیۓ اور ایک ایک ظالم اور متکبر کے عبرتناک انجام کا مطالعہ کیجئے حالانکہ گناہ تو دوسرے بھی ہیں شراب نوشی  گناہ ہے زناکاری گناہ ہے عبادت سے روگردانی گناہ ہے لیکن ان گناہگاروں کے گناہوں کی جزا کا معاملہ اکثر و بیشتر یومِ آخرت تک مؤخر ہو جاتا ہے لیکن ظالموں اور متکبروں کو ان کے ظلم اور تکبر کا کچھ نہ کچھ مزہ دنیا میں بھی چکھا دیا جاتا ہے۔  اسی لیے امام ابو حنیفہ  فرمایا کرتے تھے کہ ظالم اور متکبر اپنی موت سے قبل ہی اپنے ظلم اور کبر کی  کچھ نہ کچھ سزا ضرور پاتا اور ذلت و نامرادی کا منہ دیکھتا ہے چنانچہ خدا کے سچے پیغمبروں سے الجھنے والی قوموں اور تاریخ کی ظالم و مغرور ہستیوں کی عبرتناک ہلاکت و بربادی اس دعوے کی بہترین دلیل ہے 
قبر نے ٹھکرا دیا
بارگاہِ نبوت کے ایک گستاخ کا واقعہ جس کو امام بخاری نے باب علامات النبوۃ میں نقل فرمایا ہے کہ ایک نصرانی مشرف بہ اسلام ہو ا اور سورہ بقرہ و سورۂ آل عمران کا حافظ بھی ہوگیا اور بارگاہ نبوت میں اس قدر مقرب ہو گیا کہ وحی بھی لکھنے لگا مگر ناگہاں اس کے سر پر بدنصیبی کا ایسا بھوت سوار ہوگیا کہ وہ رحمت عالم کی بے ادبی کرنے لگا اور یہ کہنے لگا کہ محمد کو تو صرف اتنا ہی علم ہے جتنا میں ان کو لکھ کر دیتا ہوں غرض یہ مردود مرتد ہو کر بارگاہ نبوت سے بھاگ نکلا لیکن جب یہ مرا تو اس پر قہر  خداوندی نازل ہوا کہ نصرانیوں نے جب اس کو دفن کیا تو قبر نے اس کی لاش کو باہر پھینک دیا نصرانیوں نے جب اس کی کی لاش کو قبر سے باہر دیکھا تو انھیں یہ شبہ ہوا کہ صحابہ نے اس کی لاش کو قبر سے نکال دیا ہو گا چنانچہ نصرانیوں نے دوبارہ نہایت گہری قبر کھود کر اس کو دفن کیا مگر پھر بھی اس کی لاش خود بخود نکل کر زمین کے اوپر آ گئی اس وقت نصرانیوں کو بھی یقین ہوگیا کہ یہ کسی انسان کا کام نہیں ہے بلکہ یقیناً یہ خدا کا قہر و غضب ہی ہے چنانچہ ان لوگوں نے پھر دوبارہ اس کو دفن کرنا گوارہ نہیں کیا اور اس کی لاش کو پھینک دیا (بخاری) 
منہ ٹیڑھا ہوگیا
مکہ مکرمہ میں ایک بہت بڑا دشمن رسول تھا جس کا نام تھا ابوالعاص  یہ اپنا منہ ٹیڑھا کر کے حضور اکرم صلی اللہ وسلم کا منہ چڑایا کرتا تھا ایک دن سرور کائنات کے قلب مبارک پر انتہائی صدمہ گزر گیا آپ نے جلال نبوت میں اس کی یہ حرکت دیکھ کر فرمایا کن کذالک یعنی تو ایسا ہی ہوجا  زبان مبارک سے ان الفاظ کا نکلنا تھا کہ ابوالعاص کا منہ ہمیشہ کے لئے ٹیڑھا ہوگیا جو ہر وقت ہلتا رہتا تھا (خصائص کبریٰ)
ابولہب کا انجام
سورۃ تبت یدا کے نزول کے بعد ابو لہب اور ام جمیل کی آتش غضب اور زیادہ بھڑک اٹھی اور یہ دونوں اور زیادہ خدا کے محبوب کی دل آزاری کرنے لگے مگر خداوند ذوالجلال کا قہاری حکم عذاب دارین بن کر ان دونوں کے سروں پر منڈلا رہا تھا چنانچہ صرف چند ہی دن گزرے کہ خداوندعالم کا قھر و غضب اس طرح عذاب بن کر ان دونوں پر اتر پڑا کہ دونوں انتہائی ذلت و رسوائی اور بے پناہ تکالیف میں مبتلا ہو کر موت کے گھاٹ اتر گئے ابولہب خطرناک اور زہریلی چیچک کی بیماری میں مبتلا ہو گیا اس کا تمام جسم پھوڑا ہو گیا جس کی بدبو سے کسی کا اس کے پاس ٹھہرنا دشوار تھا اس نے اپنے علاج پر پانی کی طرح روپیہ بہا دیا مگر خدا کا قہاری اعلان کہ ما اغنی عنہ مالہ وماکسب  کب ٹلنے والا تھا نہ اس کا مال اس کو بچا سکا نہ اس کی کمائی اس کے کام آئی اس کا سارا بدن سڑ گیا اور وہ جنگ بدر کے ساتویں دن یعنی 24 رمضان 2ھجری کو ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرگیا 
ام جمیل کی پھانسی
ام جمیل ابو لہب کی بیوی تھی یہ خبیثہ کانٹوں کا گٹھا جو مونجھ کی رسی سے بندھا ہوا تھا اور رسی کا کچھ حصہ اس کے گلے میں لپٹا ہوا تھا حسب عادت اپنے سر پر لئے ہوئے چلی جا رہی تھی کہ ناگہاں تھک کر ایک پتھر کی چٹان پر بیٹھ گئی اتنے میں عذاب الہی کا ایک فرشتہ آیا اور اس گٹھے کو اس کے سر سے گرا دیا اور ایک دم رسی سے اس کے گلے میں ایسی پھانسی لگ گئی کہ اس کا دم گھٹ گیا اور وہ وہیں تڑپ تڑپ کر مرگئی 
الغرض  جس شخص کو یہ دیکھیں کہ وہ خدا کے مقدس بندوں انبیاء اولیاء اور صدیقین و شہداء یا علماء و فقہاء کی شان میں گستاخی و بے ادبی اور طعنہ زنی و بدگوئی کرتا ہے  تو پھر سمجھ لیں کہ قہر خداوندی عذاب کا بادل بن کر اس کے سر پر منڈلا رہا ہے اور یقین کر لیں کہ یہ شخص طرح طرح کے عیوب اور بداعمالیوں میں مبتلا ہوکر دونوں جہاں میں خائب و خاسر اور ذلیل و رسوا ہونے والا ہی ہے

مودی جی کی حکمرانی کے آٹھ سال___مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ وجھارکھنڈ

مودی جی کی حکمرانی کے آٹھ سال___
مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ وجھارکھنڈ
 مرکز میں بھاجپا کی حکومت اور مودی کے وزیر اعظم بنے ہوئے آٹھ سال مکمل ہو چکے ہیں، ان آٹھ سالوں کو ہندوستانی جمہوریت کی تباہی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، راج کوٹ میں وزیر اعظم نریندر مودی اپنی پیٹھ تھپتھپاتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ میں نے ان آٹھ سالوں میں کوئی ایسا کام نہیں کیا جس سے ہندوستان کے شہریوں کا سر شرم سے جھکے، مودی جی کی شبیہ ملک اور بیرون ملک میں جملہ باز اور لمبا پھینکنے کی رہی ہے ، اس پھینکنے میں حقائق سے دور باتیں کہنے کی ان کی عادت پُرانی ہے، اس لیے عام لوگوں کا خیال ہے کہ وہ جو کچھ’’ من کی بات‘‘ میں کہیں یا تقریر کریں تو سامعین کو اپنی معلومات کی روشنی میں اس کا موازنہ اور مقابلہ کر لینا چاہیے، کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ اس کو بعینہ نقل کر دیں اور اہل علم وتحقیق اور مؤرخین آپ کا مذاق اڑانے لگیں۔
مودی جی نے ان آٹھ سالوں میں جمہوری اقدار کو توڑنے اور کمزور کرنے کاجو کام کیا ہے، فرقہ پرست طاقتوں نے  نفرت کی کھیتی کوجس طرح پروان چڑھایا وہ ان کے دور اقتدار کی خاص بات ہے، ماب لنچنگ اور دوسرے معاملات وواقعات پر ان کی خاموشی اور زبان بندی نے فرقہ پرستو ں کے حوصلے بلند کیے اور سڑک سے لے کر ٹرینوں تک میں نفرت کے سودا گروں نے سفر کو غیر محفوظ اور پریشان کن بنا دیا، جو مقیم ہیں ان کے گھروں پر بلڈوزر چل رہا ہے، آپ کو یاد ہوگا کہ مودی جی کے دور میں ہی کالے دھن کو واپس لانے اور پندرہ، پندرہ لاکھ ہر شہری کے کھاتے میں ٹرانسفر کی بات ہوئی تھی، اس لمبے جملے پر تو کام نہیں ہوا، لیکن کالے دھن کو بر آمد کرنے کے نام پر جو نوٹ بندی کا کام کیا گیا، اس نے چھوٹے صنعت کاروں، مزدوروں اور غریبوں کی کمر توڑ کر رکھ دی،کتنی بچیوں کے ہاتھ پیلے ہونے سے رہ گیے، مار کیٹ سے رقم غائب ہو گئی تو طلب ورسد (ڈیمانڈ اور سپلائی) کا توازن بگڑ گیا اور بڑی تعداد میں لوگ بھوک مری کے شکار ہوئے، لطیفہ یہ ہے کہ ایک ہزار کے نوٹ بند کرکے دو ہزار کے نوٹ چھاپے گیے تاکہ کالے دھن کو چھپانے میں سہولت ہو، اب یہ اس طرح چھپالیا گیا کہ اس کی صورت بھی نظر ہیں آتی، نئے ڈیزائن اورنئے سائز کے نوٹ چھاپے گیے، لیکن وہ اپنی خوبصورتی اور جمالیات میں پُرانے نوٹوں کے مقابل انتہائی بھدے اور بد نما دکھائی دیتے ہیں۔ مودی جی کے دور میں ہی کورونا کی وبا آئی اور اس سے نمٹنے کے جو انتظام کیے گیے،تالی اور تھالی پیٹی گئی، چراغاں کرکے فضائی آلودگی میں اضافہ کیا گیا، اس کی وجہ سے لاکھوں لوگوں کو اپنی جان گنوانی پڑی ، سڑکوں پر لوگ گھسٹ گھسٹ کر مر گیے، ان میں بڑے بوڑھے ، عورت مرد سبھی شامل تھے، دوائیوں کی قیمت آسمان کوپہونچ گئی، آکسیجن کے سلنڈر بازار سے غائب ہو گیے، اور لوگ تڑپ تڑپ کر مرنے پر مجبور ہوئے، آخر رسومات کی ادائیگی میں جو پریشانی ہوئی اور جس طرح انسانی لاشوں کو کتے گیدر اور جنگلی جانوروں نے کھایا ، دریا میں جس طرح بہایا گیا وہ انسانیت کو شرمسار کرنے کے لئے کافی تھا۔
 مودی جی کے دور میں جی اس ٹی نے جس طرح رلایا، پیاز اور ٹماٹر کی چھوڑئیے، پٹرول، ڈیزل اور غذائی اجناس کے دام جس تیزی سے بڑھے اس کی کوئی دوسری نظیر ماضی قریب میں نہیں ملتی ، آج بھی یہ سلسلہ جاری ہے ۔
 مودی جی کے دور میں ہی چین کی فوجیں ہمارے ملک میں گھس آئیں اور ایسا ۱۹۶۲ء کے بعد پہلی بار ہوا ، چین ایک پل بھی بنا رہا ہے اور سٹلائٹ سے لی گئی تصویرکی مانیں تو بڑے علاقے پر اس کا قبضہ آج بھی ہے، یہ وہ معاملات وواقعات ہیں، جن کو پڑھ کر اور دیکھ کر ہر ہندوستانی کا سر شرم سے جھک جاتا ہے، بے روزگاری جس طرح بڑھی ہے اس سے نوجوانوں کا مستقبل تاریک نظر آتا ہے، اس کے باوجود مودی جی دعویٰ کررہے ہیں کہ کسی شہری کا سرشرم سے نہیں جھکا تو اسے بے شرمی کی انتہا کہنا چاہیے۔

اردودنیانیوز۷۲

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا ...