Powered By Blogger

منگل, جون 14, 2022

16 جون کو بند ہو جائے گی ' گوگل ٹاک ' سروس ، پھر آپ کیا کریں گے ؟

16 جون کو بند ہو جائے گی ' گوگل ٹاک ' سروس ، پھر آپ کیا کریں گے ؟

گوگل نے اعلان کیا ہے کہ وہ جمعرات یعنی 16 جون کو اپنی سروس 'گوگل ٹاک' بند کر رہا ہے، گوگل ٹاک نے ٹیکسٹ اور وائس دونوں طرح کا مواصلاتی نظام پیش کیا تھا۔ کمپنی نے ایک بلاگ پوسٹ میں لکھا ہے کہ ''ہم گوگل ٹاک کو بند کر رہے ہیں۔ 16 جون 2022 کو ہم پجن اور گاجم سمیت تھرڈ پارٹی کے ایپس کے لیے اپنی حمایت ختم کر دیں گے، جیسا کہ ہم نے 2017 میں اعلان کیا تھا۔''بلاگ پوسٹ میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ ''اپنے رابطوں کے ساتھ چیٹ جاری رکھنے کے لیے ہم گوگل چیٹ کا استعمال کرنے کی صلاح دیتے ہیں۔ آپ دوسروں کے ساتھ زیادہ آسانی سے منصوبہ بنا سکتے ہیں، فائلس کو شیئر اور کولیبوریٹ کر سکتے ہیں اور چیٹ کی بہترین اسپیس فیچر کے ساتھ کام اسائن کر سکتے ہیں۔ آپ کے پاس بھی وہی مضبوط فشنگ سیکورٹی ہے جو ہم جی میل میں بناتے ہیں۔''ینڈرائیڈ پولیس کے مطابق گوگل ٹاک کمپنی کی بنیادی انسٹینٹ میسجنگ سروس تھی جسے شروع میں جی میل رابطوں کے درمیان فوری بات چیت کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔ لیکن نئی گوگل خدمات کے ذریعہ بدلے جانے سے پہلے یہ جلد ہی بڑھ گئی۔ گوگل ٹاک اینڈرائیڈ ڈیوائسز کے ساتھ ساتھ بلیک بیری پر بھی ایک ایپلی کیشن بن گیا۔ 2013 میں کمپنی نے سروس کو ختم کرنا شروع کر دیا اور لوگوں کو اپنے دیگر میسجنگ ایپ پر سوئچ کرنا شروع کر دیا۔ اس وقت گوگل ہینگ آؤٹس تبدیل شدہ میسجنگ ایپ تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ سروس اب بھی بند ہو گئی ہے، گوگل چیٹ آپ کو گوگل اکاؤنٹس کے ذریعہ سے فوری پیغام بھیجنے کے لیے اہم متبادل کی شکل میں ہے۔

بغیرشادی پیدا ہونے والا بچہ جائیداد کا حقدار : سپریم کورٹ

بغیرشادی پیدا ہونے والا بچہ جائیداد کا حقدار : سپریم کورٹ

نئی دہلی : سپریم کورٹ نے اہم فیصلہ سناتے ہوئے بغیر شادی کے پیدا ہونے والے بچوں کو بھی باپ کی جائیداد میں حقدار قرار دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ اگر کوئی عورت اور مرد طویل عرصے تک ساتھ رہتے ہیں تو اسے شادی سمجھا جائے گا اور اس رشتے سے پیدا ہونے والے بچوں کو بھی باپ کی جائیداد میں حق ملے گا۔

سپریم کورٹ نے کیرالہ ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو منسوخ کر دیا جس میں عدالت نے ایک نوجوان کو اس کے والد کی جائیداد میں حصہ دار نہیں سمجھا کیونکہ اس کے والدین کی شادی نہیں ہوئی تھی۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ دونوں نے شادی نہیں کی ہو گی لیکن دونوں ایک طویل عرصے سے میاں بیوی کی طرح ساتھ رہے ہیں۔ ایسے میں اگر ڈی این اے ٹیسٹ میں یہ ثابت ہو جائے کہ بچہ ان دونوں کا ہے تو بچے کا باپ کی جائیداد پر پورا حق ہے۔

کیرالہ ہائی کورٹ کا فیصلہ پلٹ گیا۔

کیرالہ کے ایک شخص نے اپنے والد کی جائیداد کی تقسیم میں حصہ نہ ملنے پر ہائی کورٹ میں مقدمہ دائر کیا تھا۔ اس نے کہا تھا کہ اسے ناجائز بیٹا کہہ کر حصہ نہیں دیا جا رہا ہے۔ کیرالہ ہائی کورٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ جس شخص سے وہ جائیداد کا دعویٰ کر رہا ہے، اس کی ماں نے اس سے شادی نہیں کی، ایسی صورت میں اسے خاندانی جائیداد کا حقدار نہیں سمجھا جا سکتا۔

لائیو ان ریلیشن کے بارے میں قانون کیا کہتا ہے؟

2010 میں سپریم کورٹ نے لیو ان ریلیشن شپ کو تسلیم کیا۔ اس کے ساتھ گھریلو تشدد ایکٹ 2005 کے سیکشن 2 (ایف) میں بھی لیو ان ریلیشن کا اضافہ کیا گیا۔ یعنی لیو ان میں رہنے والا جوڑا گھریلو تشدد کی رپورٹ بھی درج کرا سکتا ہے۔ لیو ان ریلیشن کے لیے جوڑے کو میاں بیوی کی طرح ایک ساتھ رہنا پڑتا ہے لیکن اس کے لیے کوئی وقت کی حد نہیں ہے۔

روہت شیکھر نے نارائن دت تیواری کے ساتھ اپنے تعلقات کو ثابت کیا۔

ایسا ہی معاملہ کانگریس کے رہنما نارائن دت تیواری کے ساتھ بھی ہوا، جو اتر پردیش اور اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ تھے۔ کانگریس لیڈر اجولا شرما نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کا اور نارائن دت تیواری کا رشتہ تھا جس سے ایک بیٹا روہت شیکھر پیدا ہوا تھا۔ اس نے تیواری کی جائیداد میں روہت کا حق مانگا تھا۔ نارائن دت تیواری نے عدالت میں رشتہ سے انکار کیا تھا۔

طویل مقدمے کی سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے ڈی این اے ٹیسٹ کا حکم دیا۔ اس ٹیسٹ سے ثابت ہوا کہ روہت شیکھر نارائن دت تیواری کا بیٹا ہے۔ عدالت کے حکم کے بعد روہت اور اجولا کو نارائن دت تیواری نے گود لیا تھا۔

یو پی ایس سی امتحان کے نتائج مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ وجھارکھنڈ

یو پی ایس سی امتحان کے نتائج 
مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ وجھارکھنڈ
 یونین پبلک سرورس کمیشن نے سول سرویز امتحان ۲۰۲۱ء کے نتائج جاری کر دیے ہیں، اول ، دوم سوم مقام حاصل کرکے لڑکیوں نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ وہ پڑھنے اور تیاری کے معاملے میں لڑکوں سے کہیں آگے ہیں، چھ سو پچاسی کامیاب امیدواروں میں پانچ سو آٹھ (۵۰۸) مرد اور ایک سو ستہتر (۱۷۷) خواتین شامل ہیں، طبقاتی طور پر دیکھیں تو عام زمرہ (جنرل کٹیگری) سے دو سو چوالیس (۲۴۴) معاشی اعتبار سے پسماندہ تہتر(۷۳) پسماندہ طبقات سے دو سو تین (۲۰۳) درج فہرست ذات کے ایک سو پانچ (۱۰۵) اور درج فہرست قبائل کے ساٹھ(۶۰) امیدوار شامل ہیں، تئیس(۲۳) مسلم امید وار بھی کامیاب ہوئے ہیں، جن کا تناسب کامیاب امیدواروں میں صرف تین (۳) فی صد ہے، ایک سو آٹھ (۱۰۸) رینک تک کوئی مسلمان نہیں ہے، کامیاب امیدواروں میں اریبہ نعمان ایک سو نو (۱۰۹) رینک لا کر سب سے اوپر ہیں، جب کہ چھ سو رینک لا کر انور حسین مسلم امیدواروں میں سب سے نیچے پائیدا ن یعنی تئیسویں (۲۳) نمبر پر ہیں، اس تفصیل سے یہ بھی معلوم ہو رہا ہے کہ سول سروسز امتحان میں کامیاب امیدواروں کی تعداد مسلسل گھٹتی جا رہی ہے، اور اس بار کامیابی کا تناسب گذشتہ دس (۱۰) سالوں میں سب سے کم ہے، گذشتہ سال یعنی ۲۰۲۰ء میں یہ تعداد اکتیس(۳۱) تھی جو مجموعی طو پر کامیاب امیدواروں میں ۰۷ء ۴؍ فی صد تھی۔ ۲۰۱۹ء میں بیالیس (۴۲)  ۲۰۱۸ء میں ستائیس (۲۷) ۲۰۱۶ء میں باون (۵۲) ۲۰۱۷ء میں پچاس(۵۰) ۲۰۱۵ء میں چونتیس(۳۴) ۲۰۱۴ء میںاڑتیس (۳۸) ۲۰۱۳ء میں چونتیس(۳۴) ۲۰۱۲ء میں (۳۰) ۲۰۱۱ء میں اکتیس (۳۱) مسلم امیدواروں نے کامیابی حاصل کی تھی، دس سال پہلے ۲۰۱۰ء میں صرف اکیس (۲۱) امیدوار کامیاب ہوئے تھے، جن میں کشمیر کے شاہ فیصل نے اول پوزیشن حاصل کی تھی، بعد میں انہوں نے سول سروسز سے استعفیٰ دے کر سیاست کرنی شروع کی تھی، لیکن وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکے اور خبر ہے کہ انہوں نے دوبارہ سول سروس میں واپسی کی ہے۔ 
 ہمارا دیرینہ مطالبہ رہا ہے کہ ہمیں دس فی صد نمائندگی ملنی چاہیے، لیکن کامیابی کا تناسب تین فی صد ہوگا تو دس فی صد کس طرح سول سروس میں جاسکیں گے، ہمیں معلوم ہے کہ قلم ان لوگوں کے ہاتھ میں ہے، جن کے منصوبوں میں ہماری نمائندگی کم کرنا شامل ہے، اس کے با وجود ہمارے طلبہ وطالبات کو غیر معمولی محنت کرکے بھر پور صلاحیتوں کے ساتھ آگے آنا چاہیے، ساٹھ فی صد صلاحیت کے مقابل اسی نوے فی صد صلاحیت ہمارے بچوں کے پاس ہوگی تبھی وہ مقابلاتی دور میں آگے بڑھ سکیں گے، ہیوی اکسٹرا صلاحیت کو دبا دینا کسی کے بس میں نہیں ہوتا، عامر سبحانی ، شاہ فیصل، اے پی جے عبد الکلام کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں، ان حضرات کی ترقیات صرف ان کی غیر معمولی صلاحیتوں کی دین ہے۔

یوپی میں 'بلڈوزر' کے خلاف جمعیۃ علماء ہند سپریم کورٹ میں

یوپی میں 'بلڈوزر' کے خلاف جمعیۃ علماء ہند سپریم کورٹ میں

نیو دہلی : اترپردیش میں مسلمانوں کی پر چلنے والے غیر قانونی بلڈوزر کے خلاف جمعیۃ علما ہند سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔نوپور شرما اور نوین جندال کی جانب سے توہین رسول ﷺ کیئے جانے بعد کانپور شہر میں احتجاج کیا گیا تھا جس کے دوران فساد پھوٹ پڑا تھا۔ ایک پریس ریلیز میں تنظیم نے کہا ہے کہ ایک جانب جہاں فساد میں مسلمانوں کی یک طرفہ گرفتاریاں ہوئیں وہیں دوسری جانب گذشتہ تین دنوں سے کانپور، پریاگ راج( الہ آباد) اور سہارنپور شہروں میں انتظامیہ نے مسلمانوں کی املاک کو نقصان پہونچانا شروع کیا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے متعدد مکانات کو بلڈوزر کی مدد سے زمین دوز کردیا گیا۔

تنظیم نے اپنی درخواست میں کہا کہ کانپور میں تشدد کے بعد، "متعدد سرکاری افسران نے میڈیا میں کہا ہے کہ مشتبہ افراد / ملزمان کی جائیدادوں کو ضبط اور منہدم کردیا جائے گا۔ یہاں تک کہ ریاست کے وزیر اعلیٰ نے میڈیا میں کہا ہے کہ بلڈوزر کا استعمال کرتے ہوئے ملزمان کے گھروں کو مسمار کر دیا جائے گا۔ ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل (لا اینڈ آرڈر) مسٹر پرشانت کمار اور کانپور کے پولیس کمشنر مسٹر وجے سنگھ مینا نے بھی اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ ملزمان کی جائیدادوں کو ضبط کر کے منہدم کر دیا جائے گا۔

داخل پٹیشن میں جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی مدعی بنے ہیں۔اس ضمن میں آج جمعیۃ علماء ہند نے سپریم کورٹ آف انڈیا میں دو عبوری درخواستیں (انٹریم اپلیکشن ) داخل کی ہیں ،

یہ درخواستیں جہانگیر پوری، کھرگون معاملے میں سپریم کورٹ میں زیر سماعت پٹیشن میں داخل کی گئی ہیں، اس پٹیشن پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے 21؍ اپریل 2022 کو ریاست اترپردیش سمیت مدھیہ پردیش، اتراکھنڈ ، گجرات اور دہلی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے بلڈوزر کے ذریعہ کی جانے والی انہدامی کارروائی پر جواب طلب کیا تھا۔

جمعیۃ علما ء ہند کی جانب سے داخل عبوری درخواست میں یہ تحریر کیا گیا ہیکہ سپریم کورٹ کی جانب سے ماضی میں انہدامی کارروائی پر نوٹس جاری کیئے جانے کے بعد بھی غیر قانونی طریقے سے انہدامی کارروائی کی جارہی ہے جس پر روک لگانا ضروری ہے۔

نیز ان افسران کے خلاف کارروائی کی جائے جنہوں نے قانون کی دھجیاں اڑاکر مسلمانوں کی املاک کو نقصان پہنچایا ہے۔ عبوری عرضداشت میں تحریر کیا گیا ہیکہ قانون کے مطابق کسی بھی طرح کی انہدامی کارروائی شروع کیئے جانے سے قبل پندرہ دن کی نوٹس دینا ضروری ہے نیز اتر پردیش بلڈنگ ریگولیشن ایکٹ1958 ؍کی دفعہ 10؍ کے مطابق انہدامی کارروائی سے قبل فریق کو اپنی صفائی پیش کرنے کا مناسب موقع دینا چاہئے اسی طرح اتر پردیش اربن پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ ایکٹ 1973 کی دفعہ 27 کے تحت کسی بھی طرح کی انہدامی کارروائی سے قبل 15؍ دن کی نوٹس دینا ضروری ہے اسی کے ساتھ ساتھ اتھارٹی کے فیصلہ کے خلاف اپیل کا بھی حق ہے اس کے باوجود بلڈوز چلایا جارہا ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ "اس طرح کے قانونی اقدامات کو اپنانا ملک کےانصاف کے اصولوں کی واضح خلاف ورزی ہے، خاص طور پر جب یہ معزز عدالت موجودہ معاملے کی سماعت کر رہی ہے۔ عرضی میں سپریم کورٹ پر زور دیا گیا کہ وہ اتر پردیش کی حکومت کو ہدایت دے کہ "ضلع کانپور میں کسی بھی مجرم کی رہائشی یا تجارتی املاک کے خلاف کسی بھی مجرمانہ کارروائی میں اضافی قانونی تعزیری اقدام کے طور پر کوئی فوری کارروائی نہ کی جائے -کسی بھی نوعیت کی مشق قابل اطلاق قوانین کے مطابق سختی سے کی جانی چاہیے، اور متاثرہ افراد میں سے ہر ایک کو مناسب نوٹس اور سماعت کا موقع فراہم کرنے کے بعد ہو-

عرضداشت میں مزید تحریر کیا گیا ہیکہ اترپردیش حکومت نے قوانین کو بالائے طاق رکھ کر غیر قانونی طور پر انہدامی کارروائی شروع کردی ہے جس سے مسلمانوں میں خوف وہراس کا ماحول ہے لہذا عدالت اتر پردیش حکومت کو حکم جاری کرے کہ انہدامی کارروائی کو فوراً روکے اور اگر انہیں غیر قانونی عمارتو ں کو منہدم ہی کرنا ہے تو قانون کے مطابق کرے اور قانون کا تقاضہ ہیکہ پہلے نوٹس دی جائے اور اس کے بعد اپنی بات رکھنے کا موقع دیا جائے ۔

عرضداشت میں مزید تحریر کیا گیا ہیکہ کئی جگہوں پر ایک رات قبل نوٹس چسپاں کرکے دوسرے ہی دن سخت پولس بندوبست میں انہدامی کارروائی انجام دی گئی جس کی وجہ سے متاثرین عدالت سے رجوع بھی نہیں ہوسکے نیز ڈر و خوف کے اس ماحول میں متاثرین براہ راست عدالت سے رجوع ہونے سے قاصر رہے -

فی الحال سپریم کورٹ میں گرمیوں کی تعطیلات چل رہی ہیں ، جمعیۃ کے وکلاء صارم نوید اور کامران جاوید نے سپریم کورٹ رجسٹری سے درخواست کی ہیکہ معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند کی پٹیشن تعطیلاتی بینچ کے روبرو جلد ازجلد سماعت کے لیئے پیش کی جا ئے۔

فضل الرحمٰن قاسمی پریس سیکریٹری جمعیہ علماء ہند

پیر, جون 13, 2022

اترپردیش میں مسلمانوں کی املاک پر چلنے والے غیر قانونی بلڈوزر کے خلاف جمعیۃ علماء ہند سپریم کورٹ سے رجوع

اترپردیش میں مسلمانوں کی املاک پر چلنے والے غیر قانونی بلڈوزر کے خلاف جمعیۃ علماء ہند سپریم کورٹ سے رجوع

نئی دہلی 13؍ جون ( اردو دنیا نیوز۷۲) ریاست اترپردیش میں گذشتہ تین دنوں سے جاری غیر قانونی انہدامی کاروائی کے خلاف جمعیۃ علماء ہند نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔نوپور شرما اور نوین جندال کی جانب سے توہین رسول ﷺ کیئے جانے بعد کانپور شہر میں احتجاج کیا گیا تھا جس کے دوران فساد پھوٹ پڑا تھا۔

ایک جانب جہاں فساد میں مسلمانوں کی یک طرفہ گرفتاریاں ہوئیں وہیں دوسری جانب گذشتہ تین دنوں سے کانپور، پریاگ راج( الہ آباد) اور سہارنپور شہروں میں انتظامیہ نے مسلمانوں کی املاک کو نقصان پہونچانا شروع کیا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے متعدد مکانات کو بلڈوزر کی مدد سے زمین دوز کردیا گیا۔

داخل پٹیشن میں جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی مدعی بنے ہیں۔اس ضمن میں آج جمعیۃ علماء ہند نے سپریم کورٹ آف انڈیا میں دو عبوری درخواستیں (انٹریم اپلیکشن ) داخل کی ہیں ، یہ درخواستیں جہانگیر پوری، کھرگون معاملے میں سپریم کورٹ میں زیر سماعت پٹیشن میں داخل کی گئی ہیں، اس پٹیشن پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے 21؍ اپریل 2022 کو ریاست اترپردیش سمیت مدھیہ پردیش، اتراکھنڈ ، گجرات اور دہلی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے بلڈوزر کے ذریعہ کی جانے والی انہدامی کارروائی پر جواب طلب کیا تھا۔

جمعیۃ علما ء ہند کی جانب سے داخل عبوری درخواست میں یہ تحریر کیا گیا ہیکہ سپریم کورٹ کی جانب سے ماضی میں انہدامی کارروائی پر نوٹس جاری کیئے جانے کے بعد بھی غیر قانونی طریقے سے انہدامی کارروائی کی جارہی ہے جس پر روک لگانا ضروری ہے۔ نیز ان افسران کے خلاف کارروائی کی جائے جنہوں نے قانون کی دھجیاں اڑاکر مسلمانوں کی املاک کو نقصان پہنچایا ہے۔

عبوری عرضداشت میں تحریر کیا گیا ہیکہ قانون کے مطابق کسی بھی طرح کی انہدامی کارروائی شروع کیئے جانے سے قبل پندرہ دن کی نوٹس دینا ضروری ہے نیز اتر پردیش بلڈنگ ریگولیشن ایکٹ1958 ؍کی دفعہ 10؍ کے مطابق انہدامی کارروائی سے قبل فریق کو اپنی صفائی پیش کرنے کا مناسب موقع دینا چاہئے اسی طرح اتر پردیش اربن پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ ایکٹ 1973 کی دفعہ 27 کے تحت کسی بھی طرح کی انہدامی کارروائی سے قبل 15؍ دن کی نوٹس دینا ضروری ہے اسی کے ساتھ ساتھ اتھارٹی کے فیصلہ کے خلاف اپیل کا بھی حق ہے اس کے باوجود بلڈوز چلایا جارہا ہے۔

عرضداشت میں مزید تحریر کیا گیا ہیکہ اترپردیش حکومت نے قوانین کو بالائے طاق رکھ کر غیر قانونی طور پر انہدامی کارروائی شروع کردی ہے جس سے مسلمانوں میں خوف وہراس کا ماحول ہے لہذا عدالت اتر پردیش حکومت کو حکم جاری کرے کہ انہدامی کارروائی کو فوراً روکے اور اگر انہیں غیر قانونی عمارتو ں کو منہدم ہی کرنا ہے تو قانون کے مطابق کرے اور قانون کا تقاضہ ہیکہ پہلے نوٹس دی جائے اور اس کے بعد اپنی بات رکھنے کا موقع دیا جائے ۔عرضداشت میں مزید تحریر کیا گیا ہیکہ کئی جگہوں پر ایک رات قبل نوٹس چسپاں کرکے دوسرے ہی دن سخت پولس بندوبست میں انہدامی کارروائی انجام دی گئی جس کی وجہ سے متاثرین عدالت سے رجوع بھی نہیں ہوسکے نیز ڈر و خوف کے اس ماحول میں متاثرین براہ راست عدالت سے رجوع ہونے سے قاصر ہیں۔

فی الحال سپریم کورٹ میں گرمیوں کی تعطیلات چل رہی ہیں ، جمعیۃ کے وکلاء صارم نوید اور کامران جاوید نے سپریم کورٹ رجسٹری سے درخواست کی ہیکہ معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند کی پٹیشن تعطیلاتی بینچ کے روبرو جلد ازجلد سماعت کے لیئے پیش کی جا ئے۔

لکھنؤ ، احمد آباد ، دہرادون ، پنجی ، ناگپور ، جئے پور ، پٹنہ ہر جگہ ای ڈی دفتر پر مظاہرہ

لکھنؤ ، احمد آباد ، دہرادون ، پنجی ، ناگپور ، جئے پور ، پٹنہ ہر جگہ ای ڈی دفتر پر مظاہرہ

کانگریس لیڈر راہل گاندھی آج 'نیشنل ہیرالڈ' معاملے میں اپنا بیان درج کرانے ای ڈی دفتر پہنچے۔ لیکن راہل گاندھی کو ای ڈی کے ذریعہ طلب کیے جانے پر پورے ملک میں کانگریس کارکنان میں غم و غصے کی لہر دیکھنے کو مل رہی ہے۔ کانگریس کارکنان کا ہجوم مختلف ریاستوں میں موجود ای ڈی دفاتر پر پہنچ کر اپنا احتجاج درج کر رہا ہے۔ راجدھانی دہلی سے لے کر پٹنہ، لکھنؤ، گوا، احمد آباد، دہرہ دون، حیدر آباد تک تقریباً ہر جگہ کثیر تعداد میں کانگریس کارکنان راہل گاندھی کی حمایت میں دھرنا و مظاہرہ کر رہے ہیں۔

لکھنؤ میں کانگریس کارکنان کا مظاہرہ

یوپی کی راجدھانی لکھنؤ میں پارٹی کارکنان مرکز کے خلاف شدید ناراضگی کا اظہار کرتے نظر آئے۔ لکھنؤ میں کانگریس دفتر میں کثیر تعداد میں پولیس فورس کی تعیناتی بھی کر دی گئی تھی۔ اس دوران ای ڈی دفتر جا رہے کانگریس کارکنان کو پولیس نے درمیان میں ہی روک دیا۔ کارکنان کے احتجاج پر پولیس نے انھیں حراست میں لے لیا۔ کچھ کانگریس کارکنان نے پولیس کی گاڑی پر چڑھتے ہوئے سونیا گاندھی اور راہل گاندھی زندہ باد کے نعرے بھی لگائے۔ پارٹی کارکنان نے کانگریس ریاستی ہیڈکوارٹر اور ای ڈی دفتر کے سامنے سڑک پر لیٹ کر اپنا احتجاج درج کیا۔ کانگریس ترجمان مکیش چوہان، ریاستی نائب صد وشو وجئے سنگھ، انشو اوستھی سمیت کئی سینئر لیڈروں کو پولیس نے حراست میں لیا ہے۔

احمد آباد میں کانگریس لیڈروں، کارکنوں کا دھرنا

کانگریس پارٹی کے سینکڑوں کارکنان اور لیڈران پیر کو راہل گاندھی کے ساتھ اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے احمد آباد پہنچے اور برسراقتدار پارٹی کو سخت پیغام دیا کہ ان کی ہاتھ گھمانے کی پالیسی پارٹی کارکنان کی حوصلہ شکنی نہیں کرے گی۔ خواتین کے ایک چھوٹے سے گروپ نے راہل گاندھی کے حق میں نعرے بازی بھی کی۔ سابق اپوزیشن لیڈر پریش دھنانی اس موقع پر کہا کہ یہ پارٹی کارکنان کا حوصلہ ہے جو برسراقتدار طبقہ کی گندی سازش کو ناکام بنانے کی طاقت رکھتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ''آج سینکڑوں کارکنان جمع ہوئے ہیں۔ ضرورت پڑی تو مزید کارکنان آگے آنے سے نہیں جھجکیں گے۔ اقتدار کے غلط استعمال کے خلاف سڑکوں پر اترتے رہیں گے۔''

دہرادون میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے باہر کانگریس کارکنان نے دیا دھرنا

کانگریس نے دہرادون واقع انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے باہر دھرنا دیا۔ کانگریس کے ریاستی صدر کرن ماہرا اور چکراتا رکن اسمبلی پریتم سنگھ کی قیادت میں کانگریس لیڈروں نے مودی حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔ دھرنا مظاہرہ کر رہے کانگریس کارکنان کو پولیس کے ذریعہ گرفتار کر پولیس لائن لے جایا گیا۔ اس دوران ریاستی صدر کرن ماہرا نے مرکز کی مودی حکومت پر حملہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ مودی حکومت مہنگائی سے عام لوگوں کا دھیان بھٹکانے کے لیے اپوزیشن کو نشانے پر لے رہی ہے۔ سرکاری ایجنسی کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے، جسے کانگریس برداشت نہیں کرے گی۔ اس موقع پر کانگریس کے رکن اسمبلی و لیڈر انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے باہر دھرنا دے رہے ہیں۔ اس موقع پر سابق ریاستی صدر و چکراتا سے رکن اسمبلی پریتم سنگھ، سابق رکن اسمبلی راج کمار، مہانگر کانگریس صدر لال چند شرما، سندیپ چمولی، راجندر شاہ وغیرہ موجود رہے۔

گوا کانگریس کا پنجی میں احتجاجی مظاہرہ

کانگریس گوا یونٹ نے اس معاملے کو بی جے پی کی 'بدلہ لینے والی سیاست' قرار دیا اور پنجی میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔ اپوزیشن کے لیڈر مائیکل لوبو نے ریاست کی راجدھانی میں ای ڈی دفتر کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ ''بی جے پی حکومت نیشنل ہیرالڈ معاملے میں راہل گاندھی کو طلب کر کانگریس کے خلاف بدلے کی سیاست کر رہی ہے۔ یہ ہندوستان کے لوگوں کی آواز کو دبانے کی کوشش ہے۔ ہم دنیا کو دکھانا چاہتے ہیں کہ وہ ہمیں کیسے نشانہ بنا رہے ہیں۔''

مہاراشٹر کانگریس نے ممبئی اور ناگپور واقع ای ڈی دفتر کے سامنے کیا احتجاجی مظاہرہ

مرکزی ایجنسی ای ڈی پر کانگریس صدر سونیا گاندھی اور پارٹی لیڈر راہل گاندھی کو مبینہ جھوٹے معاملوں میں پھنساے کا الزام لگاتے ہوئے مہاراشٹر کانگریس کے سینکڑوں لیڈروں اور کارکنان نے پیر کو ممبئی اور ناگپور واقع ای ڈی دفتر کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مہاراشٹر کی راجدھانی ممبئی اور دوسری راجدھانی ناگپور میں ای ڈی دفاتر کے پاس بڑی تعداد میں کانگریس کے لیڈر اور کارکنان جمع ہوئے اور بی جے پی، ای ڈی کے خلاف نعرے بازی کی۔ تحریک کی قیادت کرتے ہوئے ریاستی پارٹی صدر نانا پٹولے نے کہا کہ بی جے پی حکومت مرکزی جانچ ایجنسیوں کا غلط استعمال کر کے سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کے خلاف سیاسی بدلہ لینے کی سازش تیار کر رہی ہے۔ اپوزیشن پارٹیوں کو خاموش کرانے کی کوشش کر رہی ہے۔

جئے پور میں بھی کانگریس کارکنان کا مظاہرہ:

راجستھان پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر گووند سنگھ ڈوٹاسرا کی قیادت میں پارٹی لیڈروں اور کارکنوں نے ریاستی صدر دفتر سے لے کر امبیڈکر سرکل واقع ای ڈی دفتر تک پیدل مارچ نکالا۔ کارکنان نے پیر کو جئے پور میں ای ڈی دفتر کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ پیدل مارچ میں شامل گووند سنگھ ڈوٹاسرا نے کہا کہ مرکز کی نریندر مودی حکومت بے روزگاری اور مہنگائی جیسے حقیقی ایشوز سے توجہ ہٹانے کے لیے یہ کارروائی کروا رہی ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ''پورے ملک کے لوگوں میں غصہ ہے اور مودی حکومت کی الٹی گنتی شروع ہو گئی ہے۔''

پٹنہ میں کانگریس لیڈروں نے ای ڈی دفتر احاطہ میں دیا دھرنا

پٹنہ میں بھی ای ڈی دفتر احاطہ میں کانگریس کے لیڈروں و کارکنوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ کانگریس کے ریاستی صدر مدن موہن جھا، ایم ایل سی سمیر سنگھ سمیت کئی لیڈر پیر کو ای ڈی دفتر پہنچے اور دھرنے پر بیٹھ گئے۔ کانگریس لیڈروں کا الزام ہے کہ راہل گاندھی کو قصداً پھنسانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

پروفیسر آفتاب عالم قاسمی کی کتاب مناسک حج و عمرہ کا اجراء

پروفیسر آفتاب عالم قاسمی کی کتاب مناسک حج و عمرہ کا اجراء 
پٹنہ ۱۳/جون (پریس ریلیز) امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ کے مرکزی دفتر پھلواری شریف، پٹنہ میں پرفیسر آفتاب عالم قاسمی کی کتاب مناسک حج و عمرہ مع چہل حدیث کا اجراء امیر شریعت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی دامت برکاتہم کے ہاتھوں عمل میں آیا، حضرت نے کتاب کی ستائش کی مؤلف سے مبارکبادی کے الفاظ کہے۔تقریب میں مولانا ابوالکلام قاسمی شمسی سابق پرنسپل مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ پٹنہ مہمان خصوصی کی حیثیت سے شریک ہوئے۔امارت شرعیہ کے قائم مقام ناظم مولانا محمد شبلی القاسمی، نایب ناظم مفتی محمد ثناءالہدیٰ قاسمی مدیر ہفت روزہ نقیب مولانا فاروق رحمانی مونگیری، اور مولانا شمیم اکرم رحمانی نے بھی تقریب میں شرکت کی، مولانا ابوالکلام قاسمی شمسی نے فرمایا کہ مؤلف نے اس کتاب کی تالیف میں محنت اور عرق ریزی سے کام لیا ہے، نیز قرآن حکیم اور احادیث سے بھرپور استفادہ کیا ہے، کتاب کی زبان آسان اور سہل ہے اور یہ عوام و خواص سب کے لیے یکساں مفید ہے، امارت شرعیہ کے نائب ناظم مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نے فرمایا کہ یہ کتاب عازمین کی ضرورت پوری کرے گی، یہ نہ بہت طویل ہے اور نہ بہت ہی مختصر، مطالعہ آسان اور اس پر عمل آسان تر ہے، انہوں نے کہا کہ اس کتاب میں حج سے متعلق آیات و احادیث کو جس طرح جمع کیا گیا ہے ایک نئی چیز ہے،  اس ترتیب سے آیات اور موضوع سے متعلق چہل احادیث کا مجموعہ میری نظر سے نہیں گذرا، مفتی محمد ثناءالہدیٰ قاسمی نے عازم سفر ہونے پر مولانا کو مبارکباد دیا اور اپنے لیے دعا کی درخواست کی ۔مولانا محمد سراج الہدیٰ ندوی ازہری استاد حدیث سبیل السلام حیدر آباد نے پروفیسر آفتاب عالم قاسمی کی باضابطہ اس پہلی تالیف کو اپنے موضوع پر مرتب دلنشین اور معلومات افزا قرار دیا ہے

اردودنیانیوز۷۲

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا ...