Powered By Blogger

بدھ, اگست 10, 2022

جنگ آزادی میں اردوصحافیوں کی لازوال قربانیاں

جنگ آزادی میں اردوصحافیوں کی لازوال قربانیاں


(اردودنیانیو۷۲)

معصوم مرادآبادی

آج جب ہم اپنی آزادی کی طلائی سالگرہ منارہے ہیں تو ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اپنے ان سورماؤں کو بھی یاد کریں جنھوں نے بے مثال قربانیاں دے کر اس ملک کو انگریزوں کے پنجوں سے آزاد کرایا۔ یوں تو ہر برس یوم آزادی کے موقع پر ہم ان مجاہدین آزادی کو یاد کرتے ہیں، لیکن ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ آزادی کی جدوجہد میں اردو صحافیوں کی لازوال قربانیوں کو بھی یاد کیا جائے۔اس برس ہم چونکہ آزادی کی 75/ویں سالگرہ کا جشن منانے کے ساتھ ساتھ ہندوستان میں اردو صحافت کے دوسوسال مکمل ہونے کا جشن بھی منارہے ہیں، اس لیے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ہم اردو کے ان جیالے صحافیوں قربانیوں کو بھی یاد کریں جنھوں نے اپنے قلم سے تلوار کاکام لیا۔انگریزوں نے ان میں سے کئی صحافیوں کو حق گوئی اور جرات مندی کی پاداش میں سزائے موت بھی دی، لیکن انھوں نے سرنگوں نہیں کیا۔

آزادی کی پہلی لڑائی 1857سے لے کر آزادی کے حصول تک اردو اخبارات ہی اس کام میں پیش پیش رہے۔بزرگ صحافی رئیس الدین فریدی کے لفظوں میں 1857 سے لے کر 35۔1930 تک ملک گیر پیمانے پر آزادی اور قومی اتحاد کے لیے جنگ کرنے کا سہرا زیادہ تراردو اخبارات کے سررہا، کیونکہ ہندی کے اخباراس زمانے میں برائے نام ہی تھے۔ انگریزی کے اکثر اخبار انگریزوں کے ہم نوا تھے اور علاقائی زبانوں کے اخباروں کا حلقہ اثر محدود تھا۔"(بحوالہ ماہنامہ 'آجکل'نومبر، دسمبر 1983)

اس اقتباس سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ اردو اخبارات نے آزادی کی جنگ میں ہراول دستے کا کام کیا، لیکن بدقسمتی سے ہمارے مورخین نے ان صحافیوں اور اخبارات کو وہ اہمیت نہیں دی، جو دیگر مجاہدین آزادی کو دی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ بیشتر لوگ ان کی لازوال قربانیوں سے ناواقف ہیں۔

ہم یہاں آپ کو کچھ ایسے جیالے صحافیوں سے روبرو کریں گے جنھوں نے وطن کی آزادی کے لیے قید وبند کی صعوبتیں ہی برداشت نہیں کیں بلکہ خوشی سے تختہ دار کو بوسہ بھی دیا۔ان میں سب سے اہم نام 'دہلی اردو اخبار'کے ایڈیٹر مولوی محمدباقر کا ہے جنھیں 74 سال کی عمر میں انگریزوں نے توپ کے دہانے پر رکھ کر اڑادیا تھا۔

قصور یہ تھا کہ انھوں نے اپنے اخبار میں 1857کی جنگ آزادی کے دوران باغی سپاہیوں کا ساتھ دیا تھا۔وہ آخری مغل شہنشاہ اور پہلی جنگ آزادی کے قائد بہادرشاہ ظفر کے قریب تھے اور انھیں ان کا اعتماد حاصل تھا۔

انگریزوں کے مظالم کی کہانی


یہی حال انگریزوں نے اخبار'پیام آزادی' کے مدیر مرزابیدار بخت کا بھی کیا، جو بہادر شاہ ظفر کے پوتے تھے اور ان ہی کے حکم پر انھوں نے یہ اخبار جاری کیا تھا۔ انگریزوں نے پہلی جنگ آزادی کے بعد جب دوبارہ دہلی پر قبضہ کیا تو جن اولین لوگوں کو سزائے موت دی گئی، ان میں مولوی محمدباقر کے علاوہ مرزا بیدار بخت بھی شامل تھے۔اس دور کا ایک اور اخبار 'صادق الاخبار' بھی تھا جو بہادرشاہ ظفر کے مقدمہ میں زیربحث آیا۔اردواخبارات کے جرات مندانہ کردار کی وجہ سے ہی وکیل استغاثہ نے اردو صحافت پر قلعہ معلی سے سازش کا الزام عائد کیا۔

پہلی جنگ آزادی میں اردو اخبارات نے نہایت بے باکی کے ساتھ مجاہدین کا ساتھ دیا اور قلم کو انگریز سامراج کے خاتمہ کے لیے ایک دھاردار ہتھیار کے طورپر استعمال کیا۔ایک طرف جہاں 'دہلی اردو اخبار'،'صادق الاخبار'اور 'فتح الاخبار' وغیرہ نے مجاہدانہ کردار ادا کیا تو وہیں 'کوہ نور' اور 'نورالابصار' وغیرہ سرکار پرست اخبار تھے، لیکن مجموعی طورپر اردو صحافت کا کردار قوم پرستانہ تھا۔پہلی جنگ آزادی کی ناکامی نے اردو صحافت کے مستقبل پر بھی سوالیہ نشان لگادیا۔

اردو صحافت کے اہم مراکزدہلی،لکھنؤ، میرٹھ اور کانپور جیسے شہر جو انقلاب کے بھی مراکز تھے، ان شہروں سے اردو صحافت کا صفایا ہوگیا۔اس طرح پہلی جنگ آزادی سے اردو صحافت کو زبردست صدمہ پہنچا۔1857کی جنگ چھڑتے ہی شمالی مغربی صوبہ جات کے بیشتر اردو اخبارات بند ہوگئے۔

اردو اخبارات کی اشاعت اور توسیع کو پہنچنے والے نقصان کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا کہ1853میں اردواخبارات کی تعداد 35تھی جو گھٹ کر صرف12رہ گئی۔1857 کی بغاوت کے بعد غیرملکی حکومت نے دیسی اخبارات پر نت نئی پابندیاں لگائیں۔ قانون زباں بندی (گیگنگ ایکٹ)کے تحت زیادہ تر کارروائی فارسی اور اردو اخبارات کے خلاف ہوئی۔ دیگر دیسی زبانوں میں کوئی اخبار زیرعتاب نہیں آیا کیونکہ انقلاب کو کامیاب بنانے میں قلعہ معلی اور اردو صحافت کے درمیان غیرمعمولی ہم آہنگی قایم تھی۔

دراصل سنہ 1857کی ناکامی کے بعد انیسویں صدی میں کسی اہم اخبار کا کوئی سراغ نہیں ملتا تاہم بیسویں صدی کے آغازمیں شائع ہونے والے شانتی نارائن بھٹناگر کے اخبار 'سوراجیہ' کا ذکر ضروری معلوم ہوتا ہے، جو1907 میں الہ آباد سے نکلا تھا۔ یہ ایک ہفتہ واری اخبار تھا اور اس نے قربانیوں کی ایک نئی تاریخ رقم کی۔اس اخبار نے انگریز سامراج کے خلاف پوری جرات کے ساتھ آواز بلند کی اور یکے بعد دیگرے اس کے مدیروں کو پابند سلاسل کیا گیا۔

ڈھائی سال کے عرصہ میں اس کے آٹھ مدیر مقرر کئے گئے اور سبھی کو قیدوبند کی صعوبتوں سے گزرنا پڑا۔اس اخبار کے مدیران نے اپنے اداریوں سے ہندوستانی عوام کے دلوں میں آزادی کے جذبہ کو بیدار کیا۔جس کی وجہ سے 'سوراجیہ' اخبار کے مدیران کو حکومت نے کالاپانی کی سزا سنائی۔انگریز حکومت اس اخبار سے اس حد تک خائف تھی کہ 'سوراجیہ' اخبار کے سات مدیران کومجموعی طور پر 94 سال سے زیادہ کی سزا سنائی گئی اور انھیں کالا پانی بھیجا گیا لیکن اخبار نے اپنی پالیسی تبدیل نہیں کی۔

اس اخبار کے بانی شانتی نرائن بھٹناگر نے اپنی تمام زمین و جائدادفروخت کرکے 'سوراجیہ' کی اشاعت شروع کی تھی۔اجراء کے کچھ عرصہ بعدہی انھیں بغاوت کے جرم میں گرفتار کر لیا گیا اور دوسال کی سزا اور پانچ سو روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔جرمانہ ادا نہ کرنے کی وجہ سے شانتی نرائن بھٹناگر کی قید مزید 9 ماہ بڑھا دی گئی۔

اس کے بعد موتی لال ورما اس اخبار کے مدیر بنائے گئے، جنھیں دس سال کی سزا ہوئی۔ بعدازاں بابو ہری رام 'سوراجیہ' اخبار کے مدیر مقرر ہوئے۔ انھوں نے اس کے گیارہ شمارے نکالے۔ انگریزی حکومت نے انھیں 21 سال کی سزا سنائی۔بعدازاں رام سیوک اس اخبار کے مدیر مقرر کئے گئے، لیکن جوں ہی وہ کلکٹر کو اپنا تقرری نامہ دینے گئے تو انھیں وہیں قید کر لیا گیا۔ اس کے بعد نند گوپال چوپڑا اس انقلابی اخبار کے مدیر بنائے گئے اور انھوں نے 12 شمارے بحسن و خوبی شائع کئے لیکن انگریزوں نے انھیں بھی قید کر لیا اور تیس سال کی سزا سنائی۔

اس کے بعد لدھا رام کپور نے مدیرکی ذمہ داریاں سنبھالیں اور 'سوراجیہ' کے تین شماروں میں تین اداریے تحریر کیے۔ ہر اداریئے کے عوض انھیں دس سال کی سزا ہوئی یعنی مجموعی طور پر لالہ لدھا رام کو 30سال کی سزا سنائی گئی۔ اس اخبار کی ایک اہم بات یہ تھی کہ مدیر کے جیل جانے کے بعد ایک'مدیر کی ضرورت' کا اشتہار اخبار میں مسلسل شائع ہوتا تھاجس کی شرطیں یہ تھیں:

"ایک جو کی روٹی اور ایک پیالہ پانی۔ یہ شرح تنخواہ ہے جس پر سوراجیہ الہ آباد کے واسطے ایک ایڈیٹرمطلوب ہے۔ یہ وہ اخبار ہے جس کے دو اڈیٹر بغاوت آمیز مضامین کی جھپٹ میں گرفتار ہو چکے ہیں۔اب.. ایسا ایڈیٹر درکار ہے جو اپنے عیش و آرام پر جیل میں رہ کر جو کی روٹی اور ایک پیالہ پانی کو ترجیح دے۔"

(بحوالہ 'ذوالقرنین'، بدایوں،فروری 1909)

بیسویں صدی کے دوسرے دہے میں چار بڑے اخبارات شائع ہوئے، جنھوں نے آزادی کی تحریک پر انمٹ نقوش چھوڑے۔ کلکتہ سے 'الہلال'(مولانا ابوالکلام آزاد)، 'لاہور سے 'زمیندار'(مولانا ظفرعلی خاں)، دہلی سے 'ہمدرد'(مولانا محمدعلی جوہر)اور بجنور سے 'مدینہ'(مولوی مجید حسن)۔ان چاروں ہی اخباروں نے جنگ آزادی میں ہراول دستہ کا کام کیا۔ 

مولانا ابوالکلام آزادنے 'الہلال' جولائی 1912میں جاری کیا تھا، جس نے قومی جذبات اور انقلابی سوچ کو پروان چڑھایا۔یہ اخبار مولانا آزاد کی گہری سوچ وفکر کا نتیجہ تھا۔کچھ ہی عرصے میں اس کی اشاعت پچیس ہزار تک پہنچ گئی، جو اس زمانے میں غیرمعمولی سرکولیشن تھا۔اس کی مقبولیت سے انگریزحکومت پریشان تھی،لہٰذا16/نومبر 1914کو حکومت نے 'الہلال پریس کی دوہزارروپے کی پہلی ضمانت ضبط کرلی اور 14و21/اکتوبر کا مشترکہ شمارہ بھی ضبط کرلیا۔

قلم سے جدوجہد


مجموعی طورپر 17/بار 'الہلال'کی ضمانت ضبط ہوئی۔ بعدازاں 8/نومبر کو 'الہلال' کا آخری شمارہ شائع ہوا۔ اس سے دس ہزار کی ضمانت طلب کئی گئی اور جمع نہ کرانے کی صورت میں اخبار بند ہوگیا۔اخبار 1927میں دوبارہ شائع ہوا لیکن مولانا آزاد کی سیاسی مصروفیات اس میں مانع آئیں اور یہ چھ ماہ بعد اس کی اشاعت بند ہوگئی۔اردو کی سرفروشانہ صحافت میں 'الہلال' کا جو کردار ہے، وہ آج تک کسی اور کو حاصل نہیں ہوسکا۔ یہ اپنے معیار کے اعتبار سے بھی ایک منفرد اخبار تھا۔

'الہلال' کے اجراء کے سات ماہ بعد فروری 1913میں مولانا محمدعلی جوہر نے دہلی سے 'نقیب ہمدرد'کے نام سے ایک روزنامہ جاری کیا۔ 13/جون کو اس کا نام 'ہمدرد' کردیا گیا۔ ان دنوں جنگ بلقان شباب پر تھی۔ مولانا محمدعلی نے اس موقع پر 'ہمدرد' میں مغربی سامراجی طاقتوں کی سازشوں کو بے نقاب کیا اور ہندوستان پر فرنگی استبداد کی زوردار مخالفت کی۔

اخبار کے معیار اور جرات مندی کے سبب اس کی شاعت دس ہزار تک جاپہنچی۔ حکومت کو یہ بے باکی گوارا نہیں ہوئی۔ اس کے بعد 16/مئی 1915کو مولانا محمدعلی اور ان کے بھائی مولانا شوکت علی نظربند کردیا گیا اور اس کے ایک ماہ بعد 'ہمدرد' پر سنسر شپ نافذکردی گئی۔9/نومبر1924کو اس کی اشاعت دوبارہ شروع ہوئی لیکن مولانا محمدعلی کی بڑھتی ہوئی سیاسی مصروفیات، صحت کی خرابی اور سرمائے کی قلت کے سبب اخبار جاری نہیں رہ سکا۔ اس اخبار نے آزادی کے حصول کے لیے زبردست مجاہدانہ کردار ادا کیا۔

'زمیندار' کے بانی ایڈیٹر میاں سراج الدین احمد تھے۔ 1909میں ان کے انتقال کے بعد اس کی کمان ان کے نوجوان بیٹے مولانا ظفرعلی خاں نے سنبھالی۔ مولانا زبردست جوش وخروش کے آدمی تھے۔ تحریروتقریر دونوں کے دھنی تھے اور شاعری میں بھی طاق تھے۔انھوں نے سیاسی نظموں اور معرکہ خیزخبروں سے دھوم مچادی۔اخبار کی مانگ میں زبردست اضافہ ہوا۔

جنگ طرابلس شروع ہونے کے قریب 'زمیندار'ہفتہ وار سے روزنامہ ہوگیا۔دیکھتے ہی دیکھتے یہ اخبار شعلہ جوالہ بن گیا۔حکومت اس کی تاب نہ لاسکی اور پہ درپہ اس سے ضمانتیں طلب کی گئیں۔شروع میں 'زمیندار' کو 22/ہزار روپے بطور ضمانت جمع کرانے پڑے۔پہلی جنگ عظیم کے دوران مولانا ظفرعلی خاں کو نظربند کردیا گیا اور اس طرح اس کی اشاعت بند ہوگئی۔

بجنور کا قوم پرست اخبار'مدینہ' بھی اپنی بے باکی اور جرات مندی کے لیے مشہور تھا۔ اس کے مدیروں میں اپنے عہد کے بڑے نامی گرامی لوگ شامل تھے۔ یہ اخبار برطانوی حکومت کی پھوٹ ڈالو او ر راج کرو کی پالیسی کا سخت مخالف تھا۔ اس نے دیسی ریاستوں کے مصنوعی نظام کے بارے میں جو پیشین گوئیاں کی تھیں، وہ حرف بہ حرف درست ثابت ہوئیں۔

ان تفصیلات سے یہ ضرور ثابت ہوتا ہے کہ اردو صحافت نے آزادی کی پوری تحریک کے دوران ہراول دستہ کا کام کیا اور وطن کی خاطر جو قربانیاں پیش کیں، انہیں کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔

منگل, اگست 09, 2022

پھر نتیش کمارہوں گے وزیراعلیٰ اور تیجسوی نائب

پھر نتیش کمارہوں گے وزیراعلیٰ اور تیجسوی نائب


اردودنیانیوز۷۲پٹنہ

ریاست بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ اب وہ عبوری وزیراعلیٰ بن گئے ہیں۔ ان کا بی جے پی کے ساتھ اتحاد ختم ہوگیا۔ اب وہ آر جے ڈی کے ساتھ مل کر نئی حکومت بنانے کے لیے تیارہوگئے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ نئی حکومت میںنتیش کمار وزیر اعلیٰ ہوں گے اور تیجسوی یادو ان کے نائب ہوں گے۔ تمام وزارتوں کی تفویض نتیش کمار کے اختیار میں ہوگی۔ اسپیکر کا انتخاب تیجسوی یادو کی پارٹی، راشٹریہ جنتا دل یا آر جے ڈی سے کیا جائے گا۔ اس کا زیادہ تر انحصار گورنر کے اقدامات پر ہے جب وہ آج شام نتیش کمار سے ملاقات کریں گے۔

آج صبح نتیش کمار نے اپنے قانون سازوں کی میٹنگ میں وزیر اعظم نریندر مودی کی پارٹی پر جنتا دل یونائیٹڈ کو تقسیم کرنے کا الزام لگایا۔ وہیں تیجسوی یادو نے نتیش کمار کے ساتھ دوبارہ اتحاد پر باضابطہ طور پر اتفاق کرنے کے لیے اپنے ایم ایل اے سے ملاقات کی۔

خیال رہے کہ سنہ 2015 میں، نتیش کمار نے تیجسوی یادو کی پارٹی اور کانگریس کے ساتھ حکومت بنانے کے لیے بی جے پی کے ساتھ ایک طویل اتحاد ختم کیا۔ 2017 میں، اس نے تیجسوی یادو پر بدعنوان وزیر ہونے کا الزام لگانے کے بعد بی جے پی کے ساتھ اتحاد کیا۔

نتیش کمار کی ٹیم نے آر سی پی سنگھ پر بدعنوانی کا الزام لگانے کے بعد بحران "ختم ہو گیا" کے مرحلے پر پہنچ گیا۔ کسی زمانے میں آر سی پی سنگھ نتیش کمار کی پارٹی کے صدر تھے۔ انہیں 2019 میں وزیر اعظم کی کابینہ میں واحد وزیر کے طور پر کام کرنے کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔ اس وقت، نتیش کمار کو صرف ایک وزارت دیے جانے پر غصہ تھا، لیکن انہوں نے ہچکچاتے ہوئے اسے قبول کر لیا۔ اب ان کی پارٹی کا کہنا ہے کہ آر سی پی سنگھ نے دعویٰ کیا کہ وہ اکیلے بی جے پی کے سرکردہ لیڈر امت شاہ کے لیے قابل قبول ہیں۔

ٹیم نتیش نے اس کا ثبوت کے طور پر حوالہ دیا کہ امیت شاہ نے مہاراشٹرا میں جو کچھ ہوا اسے دہرانے کے لیے وزیر اعلیٰ کے خلاف سازش کرنے کے لیے آر سی پی سنگھ کا استعمال کیا- بی جے پی نے شیو سینا کے ایکناتھ شندے کا ساتھ دیا تاکہ پارٹی کو اتنی کامیابی سے تقسیم کیا جائے کہ ادھو ٹھاکرے کو استعفیٰ دینا پڑا۔ وہ اب اپنے والد کی قائم کردہ پارٹی پر کنٹرول کھونے کے خطرے میں ہے۔

نتیش کمار کے معاونین کا کہنا ہے کہ مہاراشٹر نے ثابت کر دیا کہ یہ کوئی سازشی تھیوری نہیں ہے۔ وہ بی جے پی کے صدر جے پی نڈا کے ایک حالیہ ریمارک کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں:دوسری پارٹیاں ایسا نہیں کریں گی، صرف بی جے پی موجود رہے گی۔

بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار عہدے سے مستعفی، این ڈی اے سے اتحاد توڑنے کا اعلان

بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار عہدے سے مستعفی، این ڈی اے سے اتحاد توڑنے کا اعلان
(اُردو دنیانیوز۷۲)
بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے آج گورنر پھاگو سنگھ سے راج بھون میں ملاقات کی اور انہیں اپنا استعفیٰ سونپ دیا۔ استعفی دینے کے بعد انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی کے تمام ارکان پارلیمنٹ اور ارکان اسمبلی نے متفقہ طور پر فیصلہ لیا ہے کہ ہمیں این ڈی اے کا ساتھ چھوڑ دینا چاہئے۔ قبل ازیں میڈیا رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ پارٹی کے اجلاس کے دوران نتیش کمار نے کہا تھا کہ بی جے پی ان کی پارٹی کو توڑنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ کوئی ان کی پارٹی کو کسی بھی طرح سے توڑے یہ مناسب نہیں ہے۔ نتیش کمار اب مہا گٹھ بندھن کے ساتھ مل کر حکومت سازی کر سکتے ہیں۔


بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار عہدے سے مستعفی، این ڈی اے سے اتحاد توڑنے کا اعلان

بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے آج گورنر پھاگو سنگھ سے راج بھون میں ملاقات کی اور انہیں اپنا استعفیٰ سونپ دیا۔ استعفی دینے کے بعد انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی کے تمام ارکان پارلیمنٹ اور ارکان اسمبلی نے متفقہ طور پر فیصلہ لیا ہے کہ ہمیں این ڈی اے کا ساتھ چھوڑ دینا چاہئے۔ قبل ازیں میڈیا رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ پارٹی کے اجلاس کے دوران نتیش کمار نے کہا تھا کہ بی جے پی ان کی پارٹی کو توڑنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ کوئی ان کی پارٹی کو کسی بھی طرح سے توڑے یہ مناسب نہیں ہے۔ نتیش کمار اب مہا گٹھ بندھن کے ساتھ مل کر حکومت سازی کر سکتے ہیں۔


آج حضرت امام حسینؑ کی قربانیوں کو یاد کرنے کا دن، وزیر اعظم مودی

وزیر اعظم نریندر مودی نے یوم عاشورہ کے موقع پر حضرت امام حسینؑ کی قربانی، سچائی سے وابستگی اور ناانصافی کے خلاف جدوجہد کو یاد کیا۔ انہوں نے ٹوئٹ کیا ''آج کا دن حضرت امام حسین کی قربانیوں کو یاد کرنے کا دن ہے۔ انہیں سچائی کے ساتھ ان کی غیر متزلزل وابستگی اور ناانصافی کے خلاف جدوجہد کے لیے یاد کیا جاتا ہے۔ وہ مساوات اور بھائی چارے کو بھی بہت اہمیت دیتے تھے۔''


بہار میں سیاسی بحران کے درمیان گورنر پھاگو چوہان نے نتیش کو شام 4 بجے ملاقات کا وقت دیا

بہار میں چل رہے سیاسی گھمسان کے درمیان گورنر پھاگو چوہان نے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو ملاقات کے لئے شام 4 بجے کا وقت دیا ہے۔ دریں اثنا، وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ کے باہر بڑی تعداد میں پولیس اہلکاروں کی تعیناتی کی گئی ہے۔


مہاراشٹر کی شندے-فڈنویس کابینہ کی توسیع، گونر نے دلایا 18 وزرا کو حلف

کئی دنوں کی کشمکش کے بعد آج مہاراشٹر کی ایکناتھ شندے اور دیویندر فڈنویس کی مخلوط حکومت کی کابینہ کی توسیع عمل میں آئی۔ مہاراشٹر کے گورنر نے بی جے پی اور شیو سینا کے شندے دھڑے سے 9-9 وزرا کو حل دلایا۔

وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے گورنر بہار پھاگو چوہان سے ملاقات کا وقت مانگا

بہار میں چل رہی سیاسی ہلچل کے دوران وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے گورنر پھاگو سنگھ چوہان سے ملاقات کا وقت مانگا ہے۔ کئی دنوں سے یہ قیاس آرائیاں چل رہی ہیں کہ بہار کی بی جے پی - جے ڈی یو کی مخلوط حکومت گرنے جا رہی ہے۔ ادھر، آر جے ڈی، بی جے پی، اور جے ڈی یو تمام سیاسی جماعتوں کے اجلاس جاری ہیں۔ نتیش کمار آج دوپہر 12 بجے سے ایک بجے کے درمیان گورنر سے ملاقات کا وقت مانگا ہے۔


خاتون سے بدسلوکی کا ملزم شری کانت تیاگی نوئیڈا کے قریب سے گرفتار! 

خبر رساں ایجنسی اے این آئی نے پولیس ذرائع کے حوالہ سے اطلاع دی ہے کہ بی جے پی کے لیڈر شری کانت تیاگی کو نوئیڈا کے قریب سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ تیاگی پر نوئیڈا کی گرینڈ اومیکس سوسائٹی میں خاتون سے بدسلوکی کرنے کا الزام ہے۔ کچھ روز قبل اس کی خاتون کو نازیبا الفاظ کہنے والی ویڈیو وائرل ہو گئی تھی۔ جس کے بعد شری کانت کے خلاف کئی ایف آئی آر درج کی گئیں اور وہ تبھی سے فرار چل رہا تھا۔


مہاراشٹر حکومت کابینہ کی توسیع، 18 وزرا حلف برداری، عبدالستار بھی بنے وزیر

مہاراشٹر کی بی جے پی اور ایکناتھ شندے دھڑے کی مخلوط حکومت کی کابینہ کی آج توسیع ہو رہی ہے۔ پارٹی کی جانب فہرست جاری کر کے بتایا گیا ہے کہ 18 وزرا حلف لینے جا رہے ہیں۔ اس فہرست میں شیو سینا کے لیڈر عبدالستار کا نام بھی شامل ہے۔ سیلوڈ، اورنگ آباد سے رکن اسمبلی ادھو ٹھاکرے حکومت میں بھی وزیر تھے۔


بہار میں سیاسی ہلچل کے درمیان آر جے ڈی ارکان اسمبلی اجلاس کے لئے لالو یادو کی رہائش پر جمع

بہار میں نتیش کمار کی قیاد والی این ڈی اے حکومت پر خطرے کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ دریں اثنا، آر جے ڈی کے تمام ارکان اسمبلی اور لیڈران لالو پرساد یادو کی رہائش گاہ پر پہنچ گئے ہیں۔ یہاں 11 بجے اہم اجلاس منعقد ہونے جا رہا ہے۔ آر جے ڈی کے ساتھ لیفٹ فرنٹ کے ارکان اسمبلی بھی لالو کی رہائش پر نظر آ رہے ہیں۔ ادھر، جے ڈی یو نے بھی اپنے ارکان اسمبلی کا اجلاس طلب کیا ہے۔

کیا لالو سے پھر ہاتھ ملانے جا رہے ہیں نتیش ؟ جے ڈی یو اور آر جی ڈی کے اجلاس طلب ، بی جے پی حیران و ششدر

کیا لالو سے پھر ہاتھ ملانے جا رہے ہیں نتیش ؟ جے ڈی یو اور آر جی ڈی کے اجلاس طلب ، بی جے پی حیران و ششدر
(اردودنیانیوز۷۲)
پٹنہ: بہار کی سیاست اس وقت بحران سے دو چار نظر آ رہی ہے اور کئی طرح کی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔ میڈیا رپورٹ میں تو یہاں تک کہا جا رہا ہے کہ جے ڈی یو اور بی جے پی کی مخلوط حکومت گرنے جا رہی ہے۔ دریں اثنا، یہ سوال بھی پوچھا جانے لگا ہے کہ اگر بہار کی این ڈی اے حکومت گر جاتی ہے تو کیا نتیش کمار ایک مرتبہ پھر لالو پرساد یادو کی آر جے ڈی سے اتحاد کر کے حکومت سازی کریں گے؟ بہار کی اسی سیاسی ہلچل کے درمیان جے ڈی یو اور آر جے ڈی نے الگ الگ اجلاس طلب کئے ہیں۔
جے ڈی یو کے تمام ارکان اسمبلی اور قانون ساز کونسل کے ارکان کا اجلاس صبح 11 بجے طلب کیا گیا ہے اور پارٹی نے اپنے تمام 21 ارکان پارلیمنٹ کو پٹنہ پہنچنے کی ہدایت دی ہے۔ وہیں، آر جے ڈی کے تمام ارکان اسمبلی صبح کے وقت رابڑی دیوی کی رہائش گاہ پر اجلاس میں شریک ہو رہے ہیں۔ بہار کانگریس نے بھی تمام ارکان اسمبلی کو آج پٹنہ میں ہی رہنے کا فرمان جاری کیا ہے۔ پٹنہ میں اس ہلچل کو دیکھ کر کہا جا رہا ہے کہ آج کچھ بڑا ہونے جا رہا ہے۔

جے ڈی یو کے اجلاس کے دوران کسی اہم فیصلہ پر مہر ثبت کی جا سکتی ہے۔ اگر جے ڈی یو، آر جے ڈی اور کانگریس کے عظیم اتحاد (مہاگٹھ بندھن) میں شامل ہوتی ہے تو ان کے تمام ارکان اسمبلی کی تعداد دو تہائی ہو جائے گی۔ عظیم اتحاد میں آر جے ڈی کے 79، کانگریس کے 19، بایاں محاذ کے 16 یعنی کل 114 ارکان ہیں۔ وہیں، جے ڈی یو کے ارکان اسمبلی کی تعداد 49 ہے، اس طرح تمام ارکان اسمبلی کی تعداد 163 ہو جائے گی۔

ادھر، بی جے پی لیڈران اس پیشرفت سے حیران و ششدر نظر آ رہے ہیں۔ گزشتہ رات مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ، دھرمیندر پردھان اور جے پی نڈا کی قیادت میں بی جے پی کے تمام سرکردہ لیڈر نتیش کمار کے رابطہ میں تھے تاکہ اس صورت حال کو سنبھالا جا سکے اور اتحاد کو بچایا جا سکے۔ بی جے پی کے صدر جے پی نڈا نے کہا تھا کہ تمام علاقائی پارٹیوں کا خاتمہ ہونے جا رہا ہے، اس سے نتیش کمار بری طرح ناراض ہیں۔ اس کی جھلک ریاستی یونٹ کے سربراہ امیش کشواہ کے بیان سے بھی ظاہر ہوتی ہے۔ وہیں صدر وجے کمار سنہا بھی نتیش کمار پر ایوان کے اندر اور باہر تبصرہ کرتے رہتے ہیں۔

جے ڈی یو چھوڑنے کے بعد آر سی پی سنگھ کا نتیش کمار کو چیلنج


جے ڈی یو چھوڑنے کے بعد آر سی پی سنگھ کا نتیش کمار کو چیلنج
(اُردودنیانیوز۷۲)
بہار کے سی ایم نتیش کمار کے ناراض ہونے کے بعد جے ڈی یو چھوڑنے کے ایک دن بعد، آر سی پی سنگھ نے ان پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ وہ انتقام سے بھرا ہوا ہے۔ جے ڈی (یو) کے سابق قومی صدر اور نتیش کمار کے قریبی آر سی پی سنگھ نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ وہ اتنا نیچے جھک گئے اور میری بیٹیوں کو نشانہ بنایا۔ اطلاعات کے مطابق آر سی پی سنگھ نے پارٹی سربراہ کی رضامندی کے بغیر مرکزی کابینہ کی کرسی قبول کر لی تھی۔ تاہم اس پر آر سی پی سنگھ نے کہا کہ بی جے پی صرف مجھے وزیر بنانا چاہتی ہے۔ جب میں نے نتیش کمار کو اس بارے میں بتایا تو انہوں نے خود کہا کہ دہلی جا کر حلف لیں، پارٹی کی بنیادی رکنیت سے استعفیٰ دیتے ہوئے سنگھ نے کہا تھا کہ ان کے خلاف سازش کی جا رہی ہے کیونکہ وہ مرکزی وزیر بن چکے ہیں۔ نتیش کمار کو نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حسد کا کوئی علاج نہیں ہے۔

پیر, اگست 08, 2022

گھاگھرا خطرے کے نشان سے اوپر،نشیبی مکینوں خوف و ہراس میں



گھاگھرا خطرے کے نشان سے اوپر،نشیبی مکینوں
 خوف و ہراس میں
(گونڈہ:اردودنیانیوز۷۲:08اگست):
 پہاڑی علاقوں میں گذشتہ دنوں ہوئی بارش اور تمام بیراجوں سے پانی چھوڑے جانے کی وجہ سے اترپردیش کے ضلع گونڈہ کے کرنل نج تحصیل میں گھاگھرا ندی پیر کو خطرے کے نشان کو عبور کرگئی۔ضلع انتظامیہ کی جانب سے فراہم کی گئی جانکاری کے مطابق گھاگھرا کے آبی سطح میں تیزی سے اضافہ ہونے کے بعد ایلگن برجن پر ندی کی آبی سطح خطرے کے نشان کو عبور کر گئی۔ ندی اس وقت خطر کے نشان سے 17سینٹی میٹر اوپر بہہ رہی ہے۔ اس سے آس پاس کے علاقوں میں خاص کر دیہی علاقوں کے لوگوں میں خوف کا ماحول ہے۔ضلع کے نواب گنج تحصیل علاقے میں طغیانی زدہ سریوندی بھی خطرے کے نشان سے محض 03سینٹی میٹر نیچے بہہ رہی ہے۔ سریو کی دھارا ماجھا علاقے کے درجنوں ساحلی گاؤں تک پھیلنے لگی ہے۔ ڈیزاسٹر منجمنٹ ذرائع کے مطابق دونوں ندیوں کی تیز دھار سے متاثر ہورہے گاؤں میں نکہرا، پرتاپ پور، گھر کنڈلی گھرکنوئیا، کاشی پور، دت نگر، ساکی پور، تلسی پور، گوکل پور، اندر پور، جیت پور، ماجھا راٹھ، درگا گنج، مہیش پور سمیت تقریبا 30ساحلی گاؤں سیلاب کے پانی سے گھرتے جارہے ہیں۔ جبکہ دونوں ندیوں کے آبی سطح میں اضافے کی وجہ سے آس پاس کے مکینوں کو محفوظ مقام پر پہنچایا جارہا ہے۔

يوم عاشورہ کی فضیلت

يوم عاشورہ کی فضیلت


(اردو دنیا نیوز ۷۲)

'حضرت ابوقتادہؓ سے (ایک طویل روایت میں) ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اللہ تعالیٰ سے امید رکھتا ہوں کہ عاشوراء کے دن کا روزہ گذشتہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ ہوجائے۔'' (رواہ مسلم)

محرم کی دسویں تاریخ کانام'' یوم عاشوراء '' اسلام سے پہلے ہی چلا آرہا ہے۔ لغت کی کتابوں میں یہ نام چار انداز سے ملتا ہے۔ عشوریٰ، عاشور، عاشوراء ، عاشوریٰ، لیکن اردو میں لکھی گئی کتب میں اکثر جگہ '' عاشورہ'' لکھا گیا ہے۔ اس دن کا نام '' یوم عاشوراء '' اس لئے رکھا گیا کہ اس تاریخ کو بہت سے اہم واقعات پیش آئے تو کئی دسویں تاریخیں جمع ہونے کی بناء پر اس کا نام '' یوم عاشورہ'' ہوگیا۔

شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا رحمۃ اللہ علیہ '' خصائل نبوی شرح شمائل ترمذی'' ص۰۸۱میں لکھتے ہیں کہ '' عاشوراء کو آدم علیہ السلام کی توبہ قبول ہوئی تھی' نوح ؑ کی کشتی جودی پہاڑ کے کنارے پر ٹھہری تھی' موسی علیہ السلام کو فرعون سے نجات ملی تھی' اور فرعون غرق ہوا تھا' عیسیٰ ؑ کی ولادت ہوئی' اور اسی دن آسمان پر اٹھائے گئے ،اسی دن یونس ؑ کو مچھلی کے پیٹ سے نجات ملی اور اسی دن ان کی امت کا قصور معاف ہوا' یوسف علیہ السلام کنعان کے کنویں سے نکالے گئے' اور حضرت یعقوب ؑ کو مشہور مرض سے صحت ہوئی' ادریس ؑ آسمان پر اٹھائے گئے' ابراہیم ؑ کی ولادت ہوئی' سلیمان ؑکو ملک عطا ء ہوا۔حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے' تو یہودیوں کو عاشوراء کے دن روزہ رکھتے دیکھا، آپؐ نے ان سے پوچھا تم اس دن کیساروزہ رکھتے ہو۔ یہودیوں نے کہا یہ بڑی عظمت والا دن ہے' اس روز خدا نے موسیٰ اور ان کی قوم کو نجات دی' فرعون اور اس کی قوم کو غرق کیا' موسیٰ ؑنے شکر کے طور پر اس دن روزہ رکھا اس لیے ہم بھی رکھتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم تم سے زیادہ موسیٰ ؑ کے حقدار ہیں پس آپ ؐ نے خود بھی روزہ رکھا اور دوسرے لوگوںکو بھی روزہ رکھنے کا حکم فرمایا۔(رواہ البخاری ومسلم،مشکوٰۃ صفحہ۰۸۱)

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم عاشوراکا روزہ رکھا اور دوسروں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم فرمایا تو عرض کیا گیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس دن تو یہود ونصاریٰ تعظیم کرتے ہیں۔ تو آپؐ نے فرمایا'' اگر میں آئندہ سال زندہ رہا تو نویں تاریخ کا بھی روزہ رکھوں گا۔''(رواہ مسلم مشکوٰۃ صفحہ۹۷۱)

لیکن اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم اگلا محرم آنے سے سے پہلے وصال فرماگئے۔ '' جمع الفوائد'' میں ارشاد نبوی منقول ہے تم عاشورا کا روزہ رکھو اور اس بارے میں یہود کی مخالفت اس طرح کرو کہ ایک دن پہلے یا ایک دن بعد کا روزہ بھی رکھ لو'' جمع الفوائد'' ہی میں ایک روایت منقول ہے کہ رمضان کے روزوں کی فرضیت سے پہلے عاشورہ کا روزہ فرض تھا لیکن جب رمضان کے روزے فرض ہوگئے تو پھر جس کا جی چاہتا عاشوراء کا روزہ رکھتا اور جس کا جی چاہتا نہ رکھتا۔''(یعنی مستحب ہوگیا)حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایایعنی جس شخص نے عاشوراء کے دن اپنے اہل وعیال پرخرچ میں فراخی کی تو اللہ تعالیٰ تمام سال اس کے رزق میں فراخی فرمادے گا۔''ان تمام ارشادات نبویہ سے معلوم ہوا کہ دسویں محرم کا تعلق اسلامی تعلیمات سے بہت گہرا ہے اور یہ دن ہر مسلمان کے لیے ارشادات نبویہ کے مطابق قابل احترام ہے۔خلاصہ یہ کہ اس دن مسلمانوں کے لیے دو کام مستحب ہیں(۱) عاشوراء کے دن کا روزہ رکھنا اور اس کے ساتھ ایک روزہ نو یا گیارہ محرم کا شامل کرلینا۔(۲) گھر میں ہر روز کے مقابلہ میں کھانے کے اندر اپنی حیثیت کے مطابق کشادگی اور فراخی کرنا۔ اور اس سلسلہ میں مذکورہ حدیث ضرور پیش نظرر ہے۔اللہ رب العزت ہم سب کو یوم عاشوراء کی برکتیں عطا فرمائے۔

اردودنیانیوز۷۲

عید الفطر کا پیغام

عید الفطر کا پیغام  مضمون نگار : محمد ضیاء العظیم، معلم چک غلام الدین ہائی اسکول، ویشالی، بہار، موبائل نمبر :7909098319 اللہ رب ...