Powered By Blogger

بدھ, اگست 17, 2022

’’سر نیم‘‘ تبدیل کرنے کا حق ___مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ

’’سر نیم‘‘ تبدیل کرنے کا حق ___
مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ 
اردو دنیا نیوز٧٢
سپریم کورٹ نے اپنے ایک فیصلے میں ’’سر نیم‘‘ (خاندانی وقبائلی سابقہ ولاحقہ) تبدیل کرنے کا حق باپ کی وفات کے بعد ماں کو دے دیا ہے، ماں اپنے بچے کو دوسرے شوہر کو گود لینے کا حق بھی دے سکتی ہے، اس طرح بچے کا سر نیم نہیں نسب بھی گود لینے والے مرد سے جڑ جائے گا، عدالت کی نظر میں ’’سرنیم‘‘ صرف نسب کا اشاریہ نہیں ہے، بلکہ وہ پوری خاندانی روایت، ثقافت اور تہذیب کا اعلانیہ ہے، ’’سر نیم‘‘ سے بچہ کی شناخت بنتی ہے۔ اب اگرماں کے مطابق ’’سرنیم‘‘ رکھنے کا اختیار نہ دیاجائے تو بچہ کے ذہن میں ہمیشہ یہ بات رہے گی کہ وہ اس خاندان کا نہیں دوسرے خاندان کا فرد ہے۔ اس طرح بچہ دوسرے خاندان سے مربوط نہیں ہو سکے گا، عدالت کا کہنا ہے کہ اس نقطۂ نظر سے ہمیں کچھ غلط نہیں لگتا۔
 سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے آندھرا پردیش ہائی کورٹ کا فیصلہ منسوخ ہوگیا ہے، سپریم کورٹ میں یہ مقدمہ اکیلا للتا نے دائر کیا تھا، للتا کی شادی ۲۰۰۳ء میں کونڈا بالا جی سے ہوئی تھی، لیکن صرف تین سال بعد ۲۰۰۶ء میں وہ چل بسا، اور ایک لرکا لہا د کو چھوڑ گیا، اس وقت لڑکے کی عمر ڈھائی ماہ تھی، ایک سال بعد اکیلا للتا نے دوسری شادی اکیلا روی نرسمہا سے کر لیا اور اپنے بچہ کا’’ سر نیم‘‘ اکیلا کر دیا، یہ بات پہلے شوہر کے والدین کو پسند نہیں آئی، انہوں نے ۲۰۰۸ء میں پوتے کا سر پرست بنانے کی عرضی گذاری،یہ مقدمہ گارجین اینڈ وارڈس ایکٹ ۱۸۹۰ء کے دفعہ ۱۰؍ کے تحت دائر ہوا اور ہائی کورٹ نے اہلاد کے دادا، دادی کی اس درخواست کو مان لیا، سرپرست للتا کو باقی رکھتے ہوئے للتا کو حکم دیا گیا کہ وہ بچے کا ’’سر نیم‘‘ کونڈا کر دے، معاملہ سپریم کورٹ پہونچا، اس نے ہائی کورٹ کی ہدایت کو ظالمانہ اور غیر معقول  قرار دے کر للتا کو سر نیم بدلنے ، بلکہ شوہر کو گود لینے اور اس کے باپ کے طور پر دوسرے شوہر کے نام درج کرنے تک کی اجازت دیدی، تاکہ بچہ اس دوسرے خاندان سے اپنے کو الگ نہ سمجھے۔
سماجی طور پر یہ فیصلہ جس قدر بھی قابل قبول ہو ، لیکن بچے کے نسب بدل دینے کی بات تو ہم جیسوں کی سمجھ میں نہیں آتی، ہمارے یہاں کسی بچے کو باپ کے علاوہ دوسرے کسی مرد کو باپ کہا جاتا ہے تو اسے بڑی گالی سمجھی جاتی ہے، اس لیے اسلام نے منہہ بولے بیٹے کو اپنا نام دینے سے منع کیا ہے اور شفقت ومحبت کے با وجود اس گود لیے ہوئے بچے کو ترکہ میں بطور وراثت حصہ دینے کا کوئی تصور نہیں رکھا، البتہ وارثوں کے علاوہ دوسرے کسی کے بارے میں بھی تہائی مال کے بقدر وصیت نافذ العمل ہے، اسی طرحہ وہ اس منہہ بولے بیٹے کے لیے بھی وصیت کر سکتا ہے، پردہ وغیرہ کے احکام اس منہہ بولے بیٹے سے اجنبی مرد کی طرح ہی باقی رہے گا۔
سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ مسلم پرسنل لا پر عمل کے بنیادی حق تسلیم کیے جانے کی وجہ سے مسلمانوں پر نافذ العمل نہیں ہے ، لیکن کب کوئی سرپھرا اس کو نظیر بنا کرواویلا شروع کردے، کہنا مشکل ہے، اس مسئلے پر پہلے بھی کافی بحث ہو چکی ہے، اور مسلم پرسنل لا بورڈ کا قیام متنبی بل کی وجہ سے ہی عمل میں آیا تھا، جب حمید دلوائی نے متبنی بل کو یکساں سول کوڈ کی طرف بڑھتا قدم قرار دیا تھا۔

تحفظ شریعت و ویلفیئر سوسائٹی جوکی ہاٹ ارریہ کی طرف سے بہار سرکار کے نومنتخب

تحفظ شریعت و ویلفیئر سوسائٹی جوکی ہاٹ ارریہ کی طرف سے بہار سرکار کے نومنتخب
(اردو دنیا نیوز٧٢)
تحفظ شریعت و ویلفیئر سوسائٹی جوکی ہاٹ ارریہ کی طرف سے بہار سرکار کے نومنتخب ہردالعزیز وزیر اعلیٰ جناب نتیش کمار اور نائب وزیر اعلیٰ جناب تیجسوی یادو کے ساتھ جملہ نو منتخب منتریوں بالخصوص پانچوں مسلم منتری اور ان میں ہمارے اسمبلی حلقہ جوکی ہاٹ ارریہ سے ودھایک جناب شاہنواز عالم اور قصبہ پورنیہ سے ودھایک جناب آفاق عالم صاحبان کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتاہوں۔
عبدالوارث مظاہری سکریٹری تحفظ شریعت عبدالقدوس راہی آفسیٹ پریس قاری محمد منظور اور تنظیم کے سبھی ممبران

منگل, اگست 16, 2022

عالمی غذائی بحران____مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ

عالمی غذائی بحران____
مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ
===================================
اردو دنیا نیوز٧٢
غذا انسان کی بنیادی ضرورتوں میں سے ایک ہے،اس کی وجہ سے جسم وجان کا رشتہ بر قرار رہتا ہے، غذا نہ ملے تو انسان موت کی نیند سوجاتا ہے۔ اقوام متحدہ نے سات سال قبل اپنے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ ۲۰۳۰ء تک دنیا سے غذائی بحران کو دور کرکے انسانی آبادی کو بھوکے رہنے سے بچالیا جائے گا، لیکن دیگر ممالک کے تعاون کے باوجود یہ عزم یوں ہی رہا، زمینی سطح پر غذائی بحران دور کرنے کی کوئی شکل نکل نہیں پائی، آج صورت حال یہ ہے کہ اقوام متحدہ ہی کی ذیلی تنظیم ورلڈ فورڈ کے اعداد وشمار کے مطابق غذائی قلت کی وجہ سے براسی (۸۲) کروڑ، اسی (۸۰) لاکھ لوگ بھوکے پیٹ سونے پر مجبور ہیں۔ ۲۰۱۹ء میں یہ تعداد صرف تیرہ (۱۳) کروڑ پچاس لاکھ تھی، ورلڈ فورڈ رپورٹ کے مطابق پینتالیس (۴۵) ملکوں کے پانچ کروڑ لوگ غذائی قلت کی وجہ سے بھوک مری کے دہانے تک پہونچ گیے ہیں اور بھوکے رہنے اور سونے والے افراد کی تعداد میں پچپن (۵۵) فی صد کا اضافہ ہوا ہے، اس صورت حال کے پیدا کرنے میں روس اور یوکرین کی طویل ہو رہی جنگ کا بھی بڑا عمل دخل رہا ہے، کیوںکہ روس اور یوکرین پوری دنیا میں گیہوں کی فراہمی کا بڑا مرکز رہا ہے، ایک اندازے کے مطابق پوری دنیا میں استعمال ہونے والے گیہوں کی مقدار کا ایک تہائی یہی دونوں ملک فراہم کراتے تھے، ترکی کی ثالثی میں گیہوں کی بر آمدگی کو دورجاری کرنے کے ایک معاہدہ کے باوجود عملا یہ ممکن نہیں ہو رہا ہے، اس لیے غذائی بحران دور ہونے کی فی الحال کوئی شکل نہیں بن رہی ہے، ایتھوپیا، صومالیہ، یمن ، جنوبی سوڈان، افغانستان اور سری لنکا غذائی قلت کا زیادہ سامنا کر رہے ہیں، ان ملکوں کی عوام میں بے چینی ہے اور اس بے چینی کے نتیجے میں سیاسی اتھل پتھل جاری ہے، امیر ممالک مثلا امریکہ اور چین اس معاملہ میں سرد مہری برت رہے ہیں، جی ۔۷ سے متعلق ممالک نے صرف ۵-۴؍ ارب ڈالر دینے کی بات کہی تھی، اس سے اتنی بڑی دنیا کا کیا بھلا ہو سکتا ہے۔
 بچوں کی فلاح وبہبود سے متعلق ایک ادارہ یونیسیف ہے، ۲۳؍ جون ۲۰۲۲ء کو جو رپورٹ اس نے جاری کی ہے اس کے مطابق اسی (۸۰) لاکھ بچے غذائی قلت کی وجہ سے موت کی سرحد پر دستک دے رہے ہیں۔ جو مر گیے ان میں پینتالیں (۴۵) فی صد غذائیت کی کمی سے گیے۔
ہندوستان کی حالت بھی کوئی اچھی نہیں ہے، ایک اندازے کے مطابق پوری دنیا میں ۳۰۷ ؍ کروڑ کی آبادی بھر پور غذائیت سے محروم ہے، ان میں تقریبا ایک تہائی سنتانوے کروڑ سے زیادہ لوگ ہمارے ملک ہندوستان میں بستے ہیں، نیپال اور پاکستان کی حالت اور بھی خراب ہے، کیوں کہ پاکستان میں ۵ء ۱۳ ؍ فی صد اور نیپال میں چوراسی (۸۴) فی صد لوگ ایسی غذا کے حصول سے محروم ہیں جو انہیں بھر پور غذائیت فراہم کر سکے۔
 مکمل غذائیت کے حصول کے لیے آمدنی ضروری ہے، فوڈ اینڈ ایگریکلچر آگنائزیشن جو اقوام متحدہ کی ہی ذیلی تنظیم ہے اس کے مطابق ہندوستان میں ۷ئ۲؍ ڈالر، ایشیا کے لیے ۷۱۵ئ۳؍ ڈالر اور عالمی سطح پر ۵۳۷ئ۳؍ ڈالر میں غذائیت سے بھرپور خوراک کی فراہمی ممکن ہے، ہندوستان میں اوسط آمدنی مقررہ اعداد وشمارسے کم ہے، اس لیے ہندوستانی شہریوں کے لئے خوراک کا حصول ہی دشوار ہوتا ہے ، چہ جائے کہ بھر پور غذائیت کا خواب دیکھا جائے، غذائی قلت کی وجہ سے انسانی جسم کمزور ہوتا ہے اور اس کے کام کرنے کی صلاحیت کمزور ہوتی چلی جاتی ہے، جو مضبوط اعصاب کے نہیں ہوتے وہ غلط راہوں پر چلے جاتے ہیں، لوٹ مار، تشدد کا بازار گرم ہوتا ہے اور اس کی وجہ سے سماج کو نت نئے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
 ہندوستان زراعت پر منحصر آبادی والا ملک ہے، ہمارے کسان ہی کھیتوں میں محنت کرکے ہمارے لیے غذائی اجناس اگاتے ہیں، اگر ہم ہم کسانوں کی حوصلہ افزائی کر سکیں انہیں آبپاشی، بیج اور کھاد کی فراہمی میں سہولت دے سکیں ، ان کی فصلوں کی معقول قیمت مار کیٹ میں ملے ، اونے پونے فصل خرید کر ان کا استحصال نہ کیا جائے تو یہ ملک غذائی اجناس کی قلت سے بچ جائے گا اور فاقہ کشی کے اعداد وشمار میں کمی آئے گی، ظاہر ہے یہ کام حکومت کا ہے ملک کو غذا کے اعتبار سے خود کفیل بنانے کے  سمت میں حکومت اپنی کوششیں تیز کرنی چاہیے، تاکہ یہاں کے حالات دگر گوں نہ ہوں۔

پیر, اگست 15, 2022

نعتیہ مشاعرہبمقام وزیر صاحب کے دروازے پر مچھڑگاواں بازار ضلع بتیا

نعتیہ مشاعرہ
بمقام وزیر صاحب کے دروازے پر مچھڑگاواں بازار ضلع بتیا 

(اردو دنیا نیوز٧٢)
جس زیر نظامت حضرت مولانا مفتی مجاہد الاسلام مجیبی القاسمی بھاگلپوری
زیر صدارت حضرت مولانا مفتی حفظ الرحمن صاحب قاسمی دربھنگہ
زیر سرپرستی حضرت مولانا شفیع اللہ صاحب مصری 
زیر عنایت حضرت مولانا خوش محمد صاحب حکیم داراشفأ مچھڑگاواں بازار
تلاوت قرآن حضرت مولانا وحافظ وقاری جرار صاحب پورنیہ
شاعر اسلام اعجاز ضیاء صاحب سیتامڑھی
بلبل ترنم جناب محمد جرار صاحب 
گلشن طیبہ عزیزم شاہد سلمہ
مہمان خصوصی حضرت مولانا حافظ وقاری ثناءاللہ صاحب جامعی تڑھا پٹی ضلع بتیا سے تشریف لائے
آخر میں آپ بھائی ایم رحمانی صاحب نے بھی شرکت کی
جس بہت سارے علماء تشریف فرماۓ

تحفظ شریعت و ویلفیئر سوسائٹی جوکی ہاٹ کے دفتر راہی آفسیٹ پریس بھیبھرا چوک میں

تحفظ شریعت و ویلفیئر سوسائٹی جوکی ہاٹ کے دفتر راہی آفسیٹ پریس بھیبھرا چوک ارریہ
اردو دنیا نیوز٧٢
تحفظ شریعت و ویلفیئر سوسائٹی جوکی ہاٹ کے دفتر راہی آفسیٹ پریس بھیبھرا چوک میں جشن یوم آزادی کے موقع پر پرچم کشائی کرتے ہوئے تنظیم کے کارکنان سکریٹری تحفظ شریعت مولانا عبدالوارث مظاہری، عبدالقدوس راہی آفسیٹ پریس بھیبھرا چوک، مولانا عبداللہ سالم قمر صاحب قاسمی چترویدی، مولانا عبدالسلام عادل ندوی صاحب، شاعر اسلام مولانا محمد فیاض راہی صاحب، شاعر نبگال قاری شمش الزماں کشنگنج، محمد شوکت علی کاشی باڑی، مفتی محمد اطہر حسین قاسمی، حافظ عبدالقدوس ، وغیرہ موجود رہے،
تمام اہل وطن کو یوم آزادی کی پرخلوص مبارکباد

مدرسہ اسلامیہ بیت العلوم مچھڑگاواں ضلع بتیا جشن یوم آزادی مبارکباد پیش کرتے ہوئے

مدرسہ اسلامیہ بیت العلوم مچھڑگاواں ضلع بتیا جشن یوم آزادی مبارکباد پیش کرتے ہوئے 
اردو دنیا نیوز٧٢
 مدرسہ اسلامیہ بیت العلوم مچھڑگاواں ضلع بتیا جشن یوم آزادی مبارکباد پیش کرتے ہوئے 
طلبہ وطالبات نے اپنا اپنا پروگرام پش کیا ہے جس کی صدارت حضرت مولانا محمد مجاہد الاسلام مجیبی القاسمی صاحب نے کی نظامت حضرت مولانا خوش محمد صاحب مظاھری وحضرت قاری صلاح الدین صاحب ایوبی و حضرت مولانا شفیع اللہ صاحب مصری جس میں بچوں کو انعامات سے بھی نوازا ہے جس میں باہر علمائے کرام تشریف لائے  اور گاؤں کے پردھان بھی بچوں کو انعامات سے نوازا گیا تھا مدرسہ کے صدر صاحب نے بھی بچوں کے پروگرام سے بہت خوش ہوئے ہیں

اتوار, اگست 14, 2022

ثناءاللہ ثنا دوگھروی کی کتاب ستاروں سے آگے،:تعارف و تبصرہ

ثناءاللہ ثنا دوگھروی کی کتاب ستاروں سے آگے،:تعارف و تبصرہ 
ڈاکٹر نورالسلام ندوی، پٹنہ
اردو دنیا نیوز٧٢ 
ستاروں سے آگے ثناءاللہ ثنا دوگھروی کی نظموں کا مجموعہ ہے، جسے انہوں نے بچوں کے لیے تخلیق کیا ہے، اس میں حمد و نعت کے علاوہ آٹھ نظمیں اور ایک غزل شامل ہے، کتاب کا آغاز حمد باری تعالیٰ سے ہوتا ہے، جس میں شاعر نے خدائے وحدہ لاشریک کی حمد و ثنا بیان کی ہے،معبود وہی ہے، اسی کی ذات قابل تعریف و توصیف ہے، اس نے بندوں کو سب کچھ بے مانگے عطا کر دیا، ضروریات کی ساری چیزیں دیں، بے ستون کے آسمان بنایا، ابر سے پانی کا برسنا، صبح و شام کا آنا جانا، چاند سورج کا اپنے وقت پر نکلنا اور ڈوبنا سب اسی کے حکم سے ہوتا ہے، اس کی حکمت ذرہ ذرہ میں پوشیدہ ہے، ہر کام کرتے وقت اللہ کا نام لینا چاہیے، حمد کا آغاز اس شعر سے ہوتا ہے، 
ہےخدا کا نام بابرکت بڑا
اس سے ہر اک کام کی ہو ابتدا
 حمد کے بعد ایک نعت شریف ہے، جس میں پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف حمیدہ اور اخلاق محمودہ کا تذکرہ ہے، جس کے پڑھنے سے بچوں کے دلوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت و محبت پیدا ہوتی ہے اور آپ کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے کا جذبہ بیدار ہوتا ہے، پہلی نظم کا عنوان ہے پیارا دین اسلام اس نظم میں بچوں کو دین اسلام کی بنیادی باتیں بتلائی گئی ہیں، اسلام کی بنیاد توحید، نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج پر ہے، اسلام ہمیں اچھی باتوں کا حکم دیتا ہے، انہوں نے اس نظم کے ذریعے بچوں کو اسلام کے اخلاق و کردار کو اپنانے کا پیغام دیا ہے، ایک نظم کا عنوان ہے آؤ پیڑ لگائیں، یہ نظم بھی عمدہ اوربچوں کی طبیعت کے موافق ہے،عموماً بچے پیڑ پودے سے مانوس ہوتے ہیں، پیڑ پودے خدا کی نعمت ہے، اس سے قسم قسم کے پھل اور پھول آگتے ہیں، جو غذا اور دوا دونوں کے کام آتے ہیں، پیڑ پودے سےہریالی ہوتی ہے، جو ہماری زندگی کے لیے ضروری ہے، ان باتوں کو شاعر نے خوبی کے ساتھ شعری قالب عطا کیا ہے،انہوں نےبچوں کو پیڑ پودے لگانے کی بھی ترغیب دی ہے، موجودہ حالات میں اس نظم کی اہمیت مزید دو چند ہو جاتی ہے، چونکہ ماحولیات کے تحفظ کے لئے حکومتی سطح پر پیڑ پودے لگانے کی مہم جاری ہے،نظم کےچند اشعار دیکھئے:
خوب کھاتے ہو جو مزے سے پھل
 لال پیلے یہ  رنگ  برنگے پھل
 میٹھے میٹھے سے یہ رسیلے پھل
تندرستی تمہیں یہ دیتے پھل
پیڑ پودے اگر نہیں ہوتے
یہ سماں کیسے دل نشیں ہوتے
 نظم پھول سی تتلی میں خوبصورت اور سہل انداز سے بچوں کی دلچسپی کے مدنظر تتلی اور اور اس کی دلکش اداؤں، بچوں کا اس کے لئے دیوانہ وار دوڑ نا بھاگنا، اس کو دیکھ کر خوش ہونا، جیسی پیاری اور بھولی بھالی اداؤں کو بیان کیا گیا ہے، اس کے شروع کے تین اشعار دیکھئے:
تتلی آئ تتلی آئ 
دیکھو، دیکھو تتلی آئ 
ننھی منی بھولی بھالی
پیاری پیاری پنکھوں والی
قدرت نے کیا حسن دیا
کتنا دلکش رنگ دیا
میں بھی روزہ رکھوں گا، اس نظم کا کردار ایک ننھا سا بچہ ہے، جس پر روزہ فرض نہیں ہوا ہے، لیکن سب کو روزہ رکھتے دیکھ کر اس کا بھی جی روزہ رکھنے کا کرتا ہے، وہ اپنی امی سے بولتا ہے، امی جان مجھے بھی سحری میں جگا دینا، گھر میں سب روزہ رکھتے ہیں، میں بھی روزہ رکھوں گا، بھوک پیاس کی شدت کو جانوں گا، اپنے رب کو راضی کروں گا، روز قیامت حشر میرا بھی روزہ داروں کے ساتھ ہوگا،اس نظم میں بچوں کے احساسات ونفسیات کی بھرپور رعایت کی گئی ہے، اسی طرح پھر سے بہاریں لوٹ آئیں گی کورونا کے عہد کی یاد تازہ کرتی ہے، اس نظم میں یہ دکھایا گیا ہے کہ کس طرح کورونا نے معمولات زندگی کو یکسر بدل دیا، اسکول کالج بند ہو گئے، بچے گھروں میں قید ہو گئے، بچے اپنے اسکول کے پرانے دنوں کو یاد کرتے ہوئے کہتا ہے، بس اب تو ایک ہی سپنا ہے، اسکول پھر سے کھل جاتے، پرانی بہاریں لوٹ آتیں، لیکن بچہ امید کا دامن نہیں چھوڑتا ہے، اور کہتا ہے ایک دن تاریکی چھٹ جائے گی،ایک نیا سویرا شروع ہوگا، دنیا معمول پر لوٹ آئے گی، اور اسکول پھر سے شروع ہوں گے، اس نظم کے ذریعے بچوں کے شوق علم کو ابھاراگیا ہے، وہ دولت کون سی دولت ہے، میں بھی علم کی اہمیت و افادیت بتلائ گئ ہے، ایک طویل نظم بچہ اور ستارہ ہے، یہ مکالماتی نظم ہے، بچہ اور ستارہ کے درمیان مکالمہ کافی دلچسپ اور سبق آموز ہے، بچہ ستارہ کو محو حیرت سے تکتا ہے، اس کی روشنی اور چمک سے لطف اندوز ہوتا ہے،بچہ ستارہ تک پہنچنے کی چاہ رکھتا ہے، ستارہ بچہ کی باتیں سن کر خوش ہوتا ہے اور جواب دیتا ہے، 
تمہاری ہیں باتیں بڑی بھولی بھالی
بڑی ہی انوکھی بڑی ہی نرالی
بڑی پیاری، پیارے تری آرزو ہے
بڑوں سے بھی تیری بڑی جستجو ہے
ترے دل میں کتنے بھرے ولولے ہیں 
بڑے اونچے پیارے ترے حوصلے ہیں 
درخشاں ہیں ہم آسماں پر جو پیارے 
تو تم بھی زمیں کے ہو روشن ستارے
نظم کورونا بھی مکالمہ کے طرز پر ہے، بچہ ماں سے کورونا کے بارے میں سوال کرتا ہے، ماں اس کو کورونا اور اس سے بچنے کی تدبیر بتا تی ہے،پانی خدائے تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے، ہر جاندار کا وجود پانی سے ہے، نظم پانی کی اہمیت میں پانی کتنی ضروری اور قیمتی شئ ہے اس پر روشنی ڈالی گئی ہے، اس کے بے جا اصراف سے بچنے اور اس کی حفاظت کی تعلیم بھی دی گئی ہے، اخیر میں بچوں کی ایک خوبصورت غزل شامل ہے، 
ثناءاللہ ثنا دوگھروی نے نے چند صفحات میں اپنی بات کہی ہے،اپنی بات کتاب کا بھرپور اور خوبصورت تعارف ہے، اس میں پوری کتاب کا خلاصہ آگیا ہے، یہ اقتباس ملاحظہ کیجیے :
اس کتاب کو بچوں کے لئے حتی المقدور مفید بنانے کی کوشش کی گئی ہے، جس میں تعلیم اور تربیت کے کئی پہلو روشن ہیں، کتاب میں کئی اہم موضوعات پر آسان الفاظ میں سادگی کے ساتھ کہی گئی نظمیں شامل کی گئی ہیں، تاکہ بچوں پر گراں نہ گزرے اور اشعار کی تفہیم میں دشواری پیش نہ آئے، میرا مقصد یہ ہے کہ اس کتاب سے جہاں بچوں کی تفریح طبع ہو وہیں بچے نظموں سے بھی سبق حاصل کر سکیں، 
زیر نظر کتاب کے ذریعے بچوں کی تربیت و رہنمائی کا فریضہ انجام دینے کی اچھی کوشش کی گئی ہے، ان کے موضوعات بچوں کے مزاج سے مطابقت رکھتے ہیں، نظموں کی زبان سادہ سلیس اور دلچسپ ہے، ان نظموں کی قرآت سے محسوس ہوتا ہے کہ شاعر نےنظموں کی تخلیق میں بچوں کی نفسیات اور ذوق و مزاج کی خاص رعایت برتی ہے، زبان سادہ اور آسان استعمال کی گئی ہے،جو بچوں کی فہم اور اس کے معیار کے مطابق ہے، ان نظموں میں مضامین کے لحاظ سے عمدہ تشبیہیں اور تراکیب استعمال میں لائی گئی ہیں،
شاعر  نے اپنی بات کے تحت ایک جگہ تحریر کیا ہے کہ شاعر اور ادیب کو بچوں کا ادب تخلیق کرنے کے لئے اپنے آپ کو بچوں کی سطح پر لے جا کر سوچنا اور غور و فکر کرنا ہوتا ہے، یہ حقیقت ہے، اس کے بغیر بچوں کا بہترین ادب تخلیق کرنا مشکل ہے، انہوں نے جو نظمیں تخلیق کی ہیں وہ بچوں کی سطح پر جاکر تخلیق کی ہیں، بچوں کا ادب تخلیق کرنا قدرے مشکل اور نازک فن ہے، اور اس نازک فن پر وہی مکمل اتر سکتا ہے جو بچوں کی نفسیات، اس کے مزاج، مذاق اور پسند و ناپسند سے واقف ہو، اور اس سطح پر سوچنے اور فکر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو، عصر حاضر میں بچوں کے تخلیقی ادب پر کم دھیان دیا جا رہا ہے، اس پس منظر میں ہے ثنا دوگھروی کی یہ کاوش حوصلہ مندانہ اور قابل ستائش ہے، 
مصنف بچوں کے بھی شاعر ہیں اور بڑوں کے بھی،شعری وادبی دنیا میں معروف و مشہور ہیں، اس سے قبل ان کی غزلوں کا ایک مجموعہ اڑان سے آگے شائع ہو کر داد تحسین وصول کرچکا ہے، صحافت و ادب سے یکساں دلچسپی رکھنے والے بچوں کے ادیب ثناء اللہ ثنا دوگھروی کی تازہ تصنیف ستاروں سے آگے ادب اطفال میں ایک بیش قیمت اضافہ ہے، کتاب کا سرورق خوبصورت اور کاغذ عمدہ ہے، 32صفحے کی مختصر کتاب کی قیمت پچاس روپے ہے، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، نئی دہلی سے شائع اس کتاب کو بک امپوریم، سبزی باغ ،پٹنہ اور ناولٹی بک ہاؤس، قلعہ گھاٹ، دربھنگہ وغیرہ سے حاصل کیا جا سکتا ہے،
Dr Noorus Salam Nadvi
Vill +Post Jamalpur
Via Biraul, District Darbhanga
Bihar, Pin Code 847203
E-mail : nsnadvi@gmail.com

اردودنیانیوز۷۲

عید الفطر کا پیغام

عید الفطر کا پیغام  مضمون نگار : محمد ضیاء العظیم، معلم چک غلام الدین ہائی اسکول، ویشالی، بہار، موبائل نمبر :7909098319 اللہ رب ...