Powered By Blogger

منگل, اگست 03, 2021

دہلی کابینہ نے ایم ایل اے کے تنخواہ ،بھتے میں اضافے کی تجویز کو منظوری دی

دہلی کابینہ نے ایم ایل اے کے تنخواہ ،بھتے میں اضافے کی تجویز کو منظوری دی

Aravind-kejriwal-Delhi-cm
نئی دہلی،03؍اگست:(اردواخباردنیا)دہلی کے اروند #کیجریوال کابینہ نے ایم ایل اے کی تنخواہ اور بھتے بڑھانے کی تجویز کو منظوری دی۔ دہلی کابینہ کی تجویز کے مطابق اب دہلی کے ایم ایل اے کو 54ہزار سے 90ہزار؍ ماہانہ #تنخواہ ملے گی، جبکہ ابھی دہلی کے ایم ایل اے کو 54ہزار تنخواہ کے علاہ 12000 ماہانہ بھتہ بھی دیا جاتا تھا ۔ منگل کو دہلی کابینہ کی طرف سے منظور کی گئی قرارداد میں ایم ایل اے کو تنخواہ اور دیگر الاؤنس سمیت کل 90،000 ؍ ماہانہ ملے گا، جبکہ اس وقت ایم ایل اے کی تنخواہ 54000 ماہانہ ہے۔
ذرائع کے مطابق سال 2015 میں دہلی حکومت نے دہلی اسمبلی سے ایم ایل اے کی تنخواہوں میں اضافے کے لیے ایک قانون پاس کر کے مرکزی حکومت کو بھیجا تھا جسے مرکز نے مسترد کر دیا تھا۔ ذرائع کے مطابق مرکزی حکومت نے ممبران اسمبلی کی #تنخواہ اور #الاؤنس کے حوالے سے کچھ تجاویز بھی دی ہیں۔ مرکزی حکومت کی جانب سے دی گئی تجویز پر #دہلی کابینہ نے نئی تجویز پر مہر ثبت کردی ہے۔
واضح رہے کہ 2011 کے بعد یعنی دس سال تک دہلی کے ایم ایل اے کی تنخواہ میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ہے۔ دہلی #کابینہ کی طرف سے منظور کی گئی نئی تجویز اب مرکزی حکومت کی منظوری کے لیے بھیجی جائے گی اور مرکز کی منظوری کے بعد دہلی حکومت دہلی اسمبلی میں دوبارہ بل لائے گی۔دہلی حکومت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ دہلی اب بھی ان ریاستوں میں سے ایک ہے جو اپنے ایم ایل اے کو سب سے کم تنخواہ اور الاؤنس دیتی ہے۔
بی جے پی، کانگریس اور علاقائی جماعتوں کے زیر اقتدار ریاستیں اپنے ایم ایل اے کو بہت زیادہ تنخواہ فراہم کرتی ہیں۔ جبکہ #دہلی میں رہنے کی قیمت ہندوستان کے بیشتر حصوں کی بہ نسبت بہت زیادہ ہے، بہت سی ریاستیں اپنے ایم ایل اے کو بہت سی دوسری سہولیات اور #الاؤنس مہیا کرتی ہیں، جو دہلی حکومت فراہم نہیں کرتی۔

محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچائیے:آر ایس ایس کے نشانے پر اعظم خان اور ان کی یونیورسٹی

(اردو اخبار دنیا)

 ہے آپ سیاسی طورپر ” اعظم خان ” کے مخالف ہوں، اور آپکو ان میں خامیاں ہی خامیاں نظر آتی ہوں، مجھے خود بھی کئی مسائل میں اعظم خان سے اختلاف رہاہے اور آج بھی ہے، لیکن بحیثیت مسلمان لیڈر وہ ہمارے قومی سیاستدان ہیں جنہوں نے ایک طویل عرصے سے اترپردیش کے مسلمانوں کے لیے تاریخی خدمات انجام دی ہیں، جب اُن پر متشددانہ سوچ رکھنے والے نسل پرست ہندو برہمنوں کا حملہ ہوگا تو ہم ان کی تمام اختلافی پہلوﺅں سے قطع نظر کرتے ہوئے بحیثیت فرد امت بھی اور مسلم لیڈر ہونے کی حیثیت سے ان کا دفاع کرینگے اور غیر مشروط حمایت کرینگے، اگر آپ کا سیاسی اختلاف آپکی دینی حمیت پر غالب نہیں آیا ہو تو یقینًا آپ بھی صف بستہ ہوں گے_

اعظم خان سماج وادی پارٹی کے ان لیڈروں میں سے ایک ہیں جن پر پارٹی کی بنیادیں قائم ہیں
میں نے اپنی تحریکی اور دعوتی زندگی میں اترپردیش کے بیشتر دیہاتوں اور دور دراز کی آبادیوں کا دورہ کیا ہے، مجھے بہت تعجب بھی ہوتا تھا اور خوشی بھی کہ یوپی کی سرحدوں اور سنگھی علاقوں کے عام مسلمان بھی اعظم خان کے نام سے حوصلہ پاتے تھے اور ان کے لیے دعائیں کرتےتھے
اعظم خان کا نام موجودہ بھارت کے ان چند مسلمان ناموں میں سے ایک ہے جو مسلم لیڈرشپ کا بھرم بچائے ہوئے ہیں
اعظم خان کا سب سے عظیم کارنامہ ان کے ذریعے قائم کردہ شاندار، وسیع و عریض ” محمد علی جوہر یونیورسٹی ” ہے
آپ کو یاد رکھنا چاہیے کہ
ہندوستان میں Mainstream کے تعلیمی اداروں میں سے اسلامی نسبت سے مشہور تقریباﹰ بیشتر ادارے، ” جامعہ عثمانیہ ” ” علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ” ” جامعہ ملیہ اسلامیہ ” یہ سب آزادی سے پہلے کے قائم کردہ ہے، آزادی کے بعد اپنے پرشکوہ اسٹرکچر اور معیاری تعلیمی اسٹیٹس کے لحاظ سے ” محمد علی جوہر یونیورسٹی، رامپور ” کا قیام ایک انفرادی اور تاریخی کارنامہ ہے، اعظم خان نے اپنی اس یونیورسٹی کی خصوصیات ذکر کرتے ہوئے دعوٰی کیا تھا کہ: محمد علی جوہر یونیورسٹی کا میڈیکل کالج اس ملک کا تاریخی میڈیکل کالج ہے، اس کے معیار کا آپریشن تھیٹر ہندوستان میں تو نہیں البته نیویارک میں ہوسکتا ہے_

ذرا سوچیں کہ ایک نظریاتی مجاہد آزادی ” محمد علی جوہر ” کی طرف منسوب یہ یونیورسٹی، نسل پرست سنگھیوں کی آنکھوں میں کیسے کھٹکتی ہوگی کہ جس کی عمارتوں کا انداز و آہنگ کسی ترقی یافته یوروپی تعلیمی سینٹر کا منظر پیش کرتا ہو اور اس کی عمارتوں کی ساخت، ” پارلیمنٹ ” اور ” راشٹرپتی بھون ” کا منظر پیش کرتے ہوں_اس یونیورسٹی کا قیام بےحد مشقتوں اور صبر آزما قانونی جدوجہد کے بعد ممکن ہوا ہے، کانگریس حکومت تک نے اس یونیورسٹی کو التواء میں ڈالے رکھا تھا، لیکن اعظم خان کی جہدِ مسلسل نے بالآخر اسے قائم کروا ہی لیا جو لوگ آج سیاسی دشمنی اور اپنے انتقامی جذبے کے تحت اعظم خان کے واسطے سے یونیورسٹی کے خلاف سنگھی کارروائیوں کا چارہ بنے ہوئے ہیں وہ بہت بھیانک قومی جرم کا ارتکاب کررہے ہیں

*ایسے ماحول میں جبکہ، مرکز کی نریندرمودی سرکار، امت شاہ کی وزارت داخلہ اور یوگی آدتیہ ناتھ کی وزارت اعلٰی کی پوری فورس، اعظم خان کے خلاف تندہی سے جٹی ہوئی ہے، ان کے جوان ” ایم ایل اے ” بیٹے عبداللہ خان کو گرفتار کرلیاگیا ہے، یونیورسٹی پر مسلسل چھاپہ ماری ہورہی ہے، یونیورسٹی کے قیمتی اثاثوں اور کتابی ذخیروں کو نقصان پہنچایا جارہا ہے، ایسے نازک حالات میں مسلمانوں کا اولین فریضہ ہےکہ وہ آگے آئیں اور ” اعظم خان ” کے شانہ بشانہ ہوجائیں، یہ ہماری قومی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے قومی اثاثے کو محفوظ کریں، وہ لوگ جن کی متعصب زندگی پتھروں، پاخانوں اور بیت الخلاء سے شروع ہوکر وہیں ختم ہوجاتی ہے ان کی متعصبانہ ذہنیت اس عظیم سرمائے پر بلڈوزر چلانے سے بھی دریغ نہیں کرےگی لیکن آپ آگے آئیں کیونکہ آئندہ مستقبل میں یہ یونیورسٹی پورے قوم کا فخر اور اس کی تعلیمی ضروریات کو پورا کرنے والی ہوگی، ہم مسلمانوں کی تمام سیاسی، ملی اور سماجی لیڈرشپ سے اپیل کرتےہیں کہ خدارا آگے آکر ہندوستان میں قومی وجود پر پڑنے والی اس سنگھی ضرب کا مقابلہ کریں، یہ وقت ہیکہ ہم اپنے وجود کو ثابت کریں_

اسوقت سنگھی فاشسٹ ٹولہ ہندوستان میں اپنے پورے تکبر کے ساتھ دندناتا پھر رہاہے، مسلمانوں کے خلاف دہشتگردانہ سماجی جرائم ہورہےہیں، پارلیمنٹ سے اقلیتی حقوق اور عوامی آزادی کے خلاف قوانین پاس ہورہےہیں، برق رفتاری کے ساتھ ملک کو بے ترتیبی اور جنگل راج کی طرف لے جایا جارہاہے، نسل پرست سنگھیوں کے حوصلے بلند بھی ہیں اور یہ جلدبازی میں بدحواس بھی ہیں، اسی کا نتیجہ ہےکہ مسلمانوں کی ایک عظیم الشان یونیورسٹی پر یلغار کررہےہیں، آپکو ہمت و قوت سے کام لینے کی ضرورت ہے، یقین جانیں،
اگر آپ اسے مزید دس سال پیچھے دھکیلنا چاہتےہیں تو اس کا واحد طریقہ یہ ہیکہ، آگے بڑھکر اقدام کیجیے، ظالموں کے خلاف عالمی سطح پر مؤثر گُہار لگائیے__

یہ مضمون میں نے دو سال پہلے آج ہی کے دن شائع کیا تھا لیکن کوئی نہیں جاگا، ہماری تمام قیادتیں سوتی رہیں، وہ لوگ بھی ایک مسلم دانشگاه بچانے نہیں آئے جو دن رات مسلمانوں کے پاس دانشگاہوں کی کمی کا رونا روتے ہیں، دوسری طرف، یونیورسٹی پر بھی یوگی آدتیہ ناتھ نے شب خون مارا اور اعظم خان کو بھی جیل بھیج دیا اور ان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے، اب ان کی حالت بھی غیریقینی ہوچکی ہے، اللہ ہماری مجموعی بے حسی کو کبھی معاف نہیں کرےگا۔
✍: *سمیع اللّٰہ خان*
جنرل سیکرٹری: کاروانِ امن و انصاف

ڈیلٹا ویرینٹ جینیاتی تبدیلیوں باعث کتنا خطرناک ہوجاتا ہے؟ خوفناک انکشاف

دبئی، 3 اگست (اردو اخبار دنیا) ماہرین نے ڈیلٹا قسم کے ابتدائی معائنے کے بعد دعویٰ کیا ہے کہ کرونا کی ڈیلٹا قسم میں بہت زیادہ جینیاتی تبدیلیاں نہیں آئیں اور یہ بھی ضروری نہیں کہ یہ قسم دیگر اقسام کے مقابلے میں بہت زیادہ جان لیوا ثابت ہو۔فریڈ ہیچسٹن کینسر ریسرچ سینٹر کے بائیولوجسٹ ٹریوور بیڈفورڈ کے مطابق ہندوستان میں کورونا وائرس کی مہلک قسم ڈیلٹا نے شہریوں کو اپنی زد میں لینا شروع کیا تو لوگ شدید خوفزدہ ہوگئے کہ کہیں یہ قسم بہت زیادہ ہلاکتوں کا باعث نہ بنے۔ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ ڈیلٹا قسم میں کرونا کی دیگر اقسام کے مقابلے میں بہت کم جینیاتی و میوٹیشنز کی تبدیلیاں ہوئی ہیں جو اسے دگنی رفتار سے پھیلنے کے قابل بناتی ہیں۔

کورونا وائرس کی جانب سے اسپائیک پروٹین کو انسانی خلیات میں داخلے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور اس میں ہونے والی تبدیلیاں وائرس کو جسم کا دفاع کرنے والی اینٹی باڈیز سے بچنے یا اس پر حملہ آور ہونے میں مدد فراہم کرتی ہیں۔چین میں ایک تحقیق کے دوران دریافت کیا گیا تھا کہ ڈیلٹا قسم سے متاثر مریضوں میں وائرس کی اوریجنل قسم کے مقابلے میں ایک ہزار گنا زیادہ وائرل لوڈ نظام تنفس کی نالی میں ہوتا ہے، جس کی وجہ سے وہ چھینک، کھانسی یا بات کرنے سے زیادہ آسانی سے پھیل جاتا ہے۔درحقیقت یہ نئی میوٹیشن اس وائرس کے لیے لوگوں کو بیمار کرنے کی صلاحیت کو زیادہ مؤثر بنادیتی ہے۔

ڈیلٹا میں ایسی جینیاتی تبدیلیاں بھی موجود ہیں جو دیگر اقسام میں نظر نہیں آئیں۔ان میں سے ایک اسپائیک میوٹیشن ڈی 950 این ہے جو اس لیے منفرد ہے کیونکہ وہ کورونا کی کسی اور قسم میں نظر نہیں آئی۔یہ میوٹیشن ریسیپٹر جکڑنے والے حصے کے باہر واقع ہے اور ماہرین کے مطابق اس میوٹیشن سے وائرس کو مختلف اعضا اور ٹشوز کو متاثر کرنے کی سہولت ملتی ہے جبکہ وائرل لوڈ بھی بڑھتا ہے۔ڈیلٹا میں اسپائیک پروٹین کے ایک حصے این ٹرمینل ڈومین میں بھی میوٹیشنز ہوئی ہیں جو وائرس کو ناکارہ بنانے والی اینٹی باڈیز کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہیں۔ان میوٹیشنز کے باعث ہی مونوکلونل اینٹی باڈیز دیلٹا کے شکار کووڈ مریضوں کے علاج میں ممکنہ طور پر کم مؤثر ثابت ہوتی ہیں اور ڈیلٹا کے لیے ویکسین سے بننے والی اینٹی باڈیز سے بچنے کی صلاحیت کچھ حد تک بڑھ جاتی ہے۔

یہی ممکنہ وجہ ہے جس کے باعث ڈیلٹا سے ویکسینیشن والے متعدد افراد بھی بیمار ہورہے ہیں، تاہم ویکسینز کی وجہ سے بیماری کی شدت عموماً معمولی یا معتدل ہوتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں ڈیلٹا کے حملے شدید ہوں گے یا نہیں، اس بات سے متعلق کوئی بھی دعویٰ یا پیشگوئی کرنا ممکن نہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ڈیلٹا کی وبا 10 سے 12 ہفتوں تک برقرار رہ سکتی ہے، جس کے دوران وائرس کی زد میں موجود آبادیوں میں پھیل سکتا ہے۔ماہرین ک مطابق کرونا وائرس کی جان لیوا اقسام کو ابھرنے سے روکنا ہمارے ہاتھ میں ہی ہے، اگر کیسز کی تعداد بہت زیادہ رہی تو وائرس میں ارتقا جاری رہے گا جس کا نتیجہ زیادہ خطرناک اقسام کی شکل میں نکلے گا۔

لالویادوسے شرد یادو ملے،اہم سمجھی جارہی دونوں رہنماؤں کی ملاقات

(اردو اخبار دنیا)پٹنہ: سپا لیڈر ملائم سنگھ یادو کے بعد اب آر جے ڈی کے صدر لالو پرساد یادو نے سابق مرکزی وزیر شرد یادو سے دہلی کے 7 تغلق روڈ پر ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ اس دوران لالو یادو کے ساتھ ان کی بیٹی میسا بھارتی اور پریم چندرا گپتا بھی موجود تھے۔

لالو یادو نے شرد یادو سے ملاقات کے بعد کہا کہ افسوس ہے کہ شرد یادو اب ا بھی بیمار ہیں ، میں ان کی جلد صحت یابی کی خواہش کرتا ہوں۔ یہ بھی کہا کہ ان کے بغیر پارلیمنٹ ویران ہے۔ ہم تینوں – میں ، شرد بھائی ، اور ملائم سنگھ نے کئی مسائل پر لڑائی لڑی ہے۔

ملائم سنگھ یادو سے میری کل کی ملاقات ایک خوشگوار ملاقات تھی: لالو پرساد یادو ، آر جے ڈیوہیں لالو یادو نے کہا کہ ہم بہار میں حکومت بنانے والے تھے۔ میں جیل میں تھا لیکن میرے بیٹے تیجسوی یادو نے ان کا(ریاست میں حکمران اتحاد) اکیلے مقابلہ کیا۔

انہوں نے دھوکہ دیا اور ہمیں(آر جے ڈی) کو 10-15 ووٹوں سے شکست دی۔ بہار میں چراگ پاسوان-تیجسوی یادو اتحاد کے بارے میں پوچھا گیا تو آر جے ڈی صدر نے کہا کہ جو کچھ بھی ہوا (ایل جے پی میں دراڑ) ، چراگ پاسوان ایل جے پی کے لیڈر بنے ہوئے ہیں۔ جی ہاں ، میں ان کو چاہتا ہوں،آپ کو بتا دیں کہ لالو یادو نے پیر کو دہلی میںلیڈر ملائم سنگھ یادو اور اکھلیش یادو سے بھی ملاقات کی تھی۔

راہول گاندھی سائیکل کے ذریعہ پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے

راہول گاندھی سائیکل کے ذریعہ پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے

Rahul Gandhi leads cycle protest to the Parliament over Fuel Price Hike
نئی دہلی :(اردواخباردنیا.اِن/ایجنسیاں) اپوزیشن جماعتوں کو ایک ساتھ لے کر چلنے کی مہم میں بہت سرگرم نظر آنے والے کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی ، اپوزیشن کے رہنماؤں کے ساتھ چائے ناشتے پر ملاقات کے بعد آج پارلیمنٹ کی کارروائی میں حصہ لینے کے لئے سائیکل سے پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے۔راہول گاندھی نے ہم خیال جماعتوں کے رہنماؤں کو صبح چائے کے ناشتے کے لیے مدعو کیا تھا۔
 جس میں کانگریس کے کئی لیڈر کے ساتھ ڈی ایم کے ، نیشنلسٹ #کانگریس پارٹی ، #شیو سینا ، #راشٹریہ جنتادل ، #سماج وادی پارٹی ، #کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا مارکسی ، کمیونسٹ پارٹی انڈیا ،انڈین یونین مسلم لیگ،آر ایس پی، کے سی ایم، جے ایم اے، نیشنل کانفرنس اور ترنمول کانگریس کے رہنماؤں نے شرکت کی۔
سائیکل سے سفر کی تصویر شیئر کرتے ہوئے مسٹر گاندھی نے ٹویٹ کیا ،

"عوام کی آواز”مہنگائی کم کرو۔غریبوں کو مارنا بند کرو۔پارلیمنٹ میں ان سوالات پر بحث کرو۔ "

میٹنگ کے بعد مسٹر گاندھی دیگر لیڈروں کے ساتھ سائیکل سے پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے۔ دیکھتے ہی دیکھتے پارلیمنٹ ہاؤس کمپلیکس میں کئی سائیکلیں کھڑی ہو گئیں۔ ان سائیکلوں کے آگے ، گیس سلنڈروں کی بڑھی قیمت اور تیل کی اونچی قیمتوں کے بارے میں پلے کارڈز لگائے گئے تھے اور حکومت سے قیمتیں واپس کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
اس سے پہلے اسی سیشن میں  راہول گاندھی ٹریکٹر کے ذریعے پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے تھے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کسانوں کی نہیں سن رہی ہے اور نہ ہی ان کے مسائل حل کر رہی ہے۔

مئی 2020 میں ہندوستانی حکومت نے دنیا بھر کے مختلف ممالک میں پھنسے ہوئے

(اردو اخبار دنیا)مئی 2020 میں ہندوستانی حکومت نے دنیا بھر کے مختلف ممالک میں پھنسے ہوئے ہندوستانیوں کو واپس لانے کے لیے وندے بھارت مشن (Vande Bharat Mission) کے نام سے بڑے پیمانے پر انخلا پروگرام شروع کیا۔ کووڈ۔19 کی وجہ سے انخلاء مہم شروع کی گئی جس نے ہندوستان کو پچھلے سال مارچ میں تمام گھریلو اور بین الاقوامی پروازیں بند کرنے پر مجبور کیا۔ اگرچہ گھریلو پروازوں کو آہستہ آہستہ کیلیبریٹڈ طریقے سے چلانے کی اجازت دی گئی تھی ، لیکن بین الاقوامی پروازوں کے چلنے پر اب بھی پابندی ہے۔

اچانک لاک ڈاؤن کی وجہ سے کہیں اور پھنسے ہوئے ہندوستانیوں کو واپس لانے کے لیے حکمومت نے مشن وندے بھارت کے نام سے ایک انخلا مہم کا منصوبہ بنایا جس کے تحت قومی فضائی کیریئر ایئر انڈیا Air India کو صرف ہندوستانیوں کو واپس لانے کے لیے بیرون ممالک میں پرواز کرنے کی اجازت دی گئی۔

وندے بھارت مشن پروازوں کی مکمل فہرست یہاں چیک کریں۔


آج تک تقریبا چار ملین افراد تقریبا 30 ہزار پروازوں میں سوار ہو چکے ہیں، جو کہ یہ دنیا میں اپنی نوعیت کی سب سے بڑی سرگرمی ہے۔ اس منصوبے میں اصل میں صرف 1,90,000 ہندوستانی شہریوں کو واپس لانے کا تصور کیا گیا تھا۔ شروع میں ایئر انڈیا اور اس کی ذیلی کمپنی ایئر انڈیا ایکسپریس Air India Express نے آپریشن میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اس کے بعد دیگر فضائی کیریئرز کو پروگرام میں حصہ لینے کی اجازت دی گئی۔ایک ٹویٹ ، سول ایوی ایشن کی وزارت MoCA نے ذکر کیا: "وندے بھارت مشن

ارتداد کا عفریت اور اس کا سد باب

(اردو اخبار دنیا)

کچھ مسلم لڑکیوں کے میرج سرٹیفکٹ اور ہندو لڑکوں کے ساتھ ان کی کچھ متعین و مخصوص تصویروں کو گذشتہ تین چار دنوں سے اس قدر پھیلایا جا رہا ہے، جس کی کوئی حد نہیں. میں سمجھتا ہوں ہر پڑھا لکھا موبائل چلانے والا اب اس سے واقف ہوگیا ہے.ایک اور بات قابل غور یہ بھی ہے کہ اس طرح کی تصویروں کے ساتھ جو میسج گردش کر رہا ہے وہ ہندی میں لکھا ہوا ہے.اس کے دو مقصد سمجھ میں آتے ہیں.

۱- پہلا یہ کہ ہندو اس میسج کو پڑھ کر خوش ہوں گے اور موجودہ حکومت سے ساری اپنی شکایتیں ان کی دور ہو جائیں گی.
۲- دوسرا یہ کہ اس سے مسلم طبقہ میں ہراس پھیلے گا اور وہ ملی تنظیموں کے اوپر خواہ مخواہ دباؤ بنائیں گے کہ اس کے ازالے کے لیے کچھ کریں.

اب اگر کوشش ہوتی ہے تو ہندؤں میں میسج جائے گا کہ واقعی ہم کوئی اہم کام کر رہے ہیں، اور اگر کوشش نہیں ہوتی تو مسلم طبقہ اپنے رہنماؤں سے اور بدظن ہوں گے.

{ناقابلِ انکار حقیقت}

اس بات کو تسلیم کر لینا چاہیے کہ یہاں اس طرح کے مسائل صدیوں سے رہے ہیں اور قیامت تک رہیں گے، اس کا سد باب انسانی قوت سے باہر کی چیز ہے، جس طرح مسلم لڑکیاں ہندؤں کے ساتھ گھر بسا رہی ہیں کیا غیر مسلم لڑکیا مسلمان کے ساتھ زندگی نہیں گزار رہیں؟
اس کو ختم کر نے کے بارے میں سوچنا اپنی قوت کوضائع کرنا ہے.

{ ہمارے کرنے کے کام }
۱- اس میسج کو مزید اور نہ پھلائیں، اس طرح کے مسائل میں میسج پھلانے سے سوائے نقصان کے کچھ حاصل نہیں ہوتا.
۲- اصلاح کے دیگر اعمال کی طرح یہ بھی انفرادی عمل ہے، یعنی باپ اپنی بیٹی، بھائی اپنی بہن اور شوہر اپنی بیوی کی نگرانی اور مناسب شرعی تربیت کرے اور خود بھی اس پر عمل کرے، دوسرے لوگوں کا چکر چھوڑ دے کہ وہ اس ارتدادی وبا کا ازالہ کریں گے؛ بلکہ ہر ایک اپنا دائرۂ عمل دیکھے اور اس میں کام کرے.

۳- بہتر اور پائیدار نتائج کے لیے ٹھول منصوبہ بند کوشش ہی کارگر ہو سکتی ہے.

۴- کاؤسلنگ سینٹر کا قیام. اگر ہم یہ خیال پالے بیٹھے ہیں کہ کوئی انقلابی شخصیت پیدا ہوگی اور چشم زدن میں ساری خرابیوں کی اصلاح کر دے گی، تو اس کی توقع بھی فضول ہے.

موجودہ حالات میں خاص اسکول و کالج میں پڑھنے والے لڑکے اور لڑکیوں کی اسلامی ذہن سازی کے لیے ہر جگہ تربیتی سینٹر قائم کیے جائیں، جہاں باپ اپنے بچوں کو لے کر یا بھائی اپنی بہن کو لے کر آئے، لیکن اس کا نام ” کاؤنسلنگ سینٹر ” رکھا جائے.اور ان کی اسلامی ذہن سازی کے لیے مولوی نما لوگوں کے بجائے ایسے لوگ کام کریں جو خود عصری علوم سے آراستہ ہیں اور اسکولی بچوں کے رجحان اور طبعی میلان و مذاق سے خوب واقف ہیں.

۵- ہر کام کے لیے مولویوں کا منھ نہ دیکھا جائے، کہ یہ کام بھی حافظ جی، امام صاحب اور مولوی و مولانا صاحب ہی کریں، ہم تو صرف بچے پیدا کر کے بےمہار چھوڑ دینے کے لیے ہیں.جتنا کام مولوی بےچارے کر دے رہے ہیں وہ ہی کافی ہے، ہند میں مدرسوں کی جتنی عمر ہے اتنی مسلمانوں کے قائم کیے ہوئے عصری اداروں کی بھی ہے، وہاں سے نکلنے والے "لاڈ صاحب” لوگ اپنے لیے بھی کچھ دینی خدمات کی ذمہ داری قبول کریں.اس مسئلہ پر اور غور و فکر کے ذریعے خدمت کی راہیں مزید نکل سکتی ہیں، اللہ تعالی ہر اس شخص کو جو اپنے آپ کو مسلمان کہتا یا سمجھتا ہے، ارتداد کی اس وبا کی روک تھام کے لیے کچھ درد عنایت کرے. وما ذالک علی اللہ بعزیز (بہ شکریہ سوشل میڈیا)

اردودنیانیوز۷۲

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا ...