Powered By Blogger

اتوار, اگست 08, 2021

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے گزٹ میں سرسید سے زیادہ وزیر اعظم مودی کی تصاویر! طلبا کو اعتراض اگست 8, 2021

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے گزٹ میں سرسید سے زیادہ وزیر اعظم مودی کی تصاویر! طلبا کو اعتراض
 اگست 8, 2021

(اردو اخبار دنیا)علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلباء نے صد سالہ پر جاری ہونے والے یونیورسٹی کے گزٹ میں وزیر اعظم نریندر مودی کی تصاویر ڈالنے پر اعتراضات کئے ہیں۔ یونیورسٹی کے طلباء تقریباً ایک ہفتہ سے اس کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ طلبا کا کہنا ہے کہ گزٹ میں نریندر مودی کی تصویر شائع کر کے یونیورسٹی کے بانی سرسید احمد خان کی توہین کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ طلباء نے گزٹ میں اردو سیکشن کو نظر انداز کرنے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔ اس معاملے میں طلباء نے یونیورسٹی انتظامیہ کو خط لکھ کر احتجاج درج کرایا ہے۔


 
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے سال 2020 میں اپنے 100 سال مکمل کیے ہیں اور اس سال کو صد سالہ کے طور پر منایا گیا تھا۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے صد سالہ تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کیا تھا۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے علاوہ اس وقت کے وزیر تعلیم رمیش پوکھریال نشنک نے بھی اس تقریب سے خطاب کیا تھا۔ نریندر مودی دوسرے وزیراعظم ہیں جنہوں نے اے ایم یو کی کسی تقریب سے خطاب کیا۔ اس سے قبل 1964 میں وزیر اعظم لال بہادر شاستری نے خطاب کیا تھا۔

 


 
جس گزٹ پر تنازعہ کھڑا ہو رہا ہے اس میں وزیر اعظم مودی کی 7 اور سابق وزیر تعلیم رمیش پوکھریال نشنک کی 3 تصاویر موجود ہیں۔ جبکہ یونیورسٹی کے بانی سر سید احمد خان کی صرف 3 تصاویر لگائی گئی ہیں۔ طلباء نے اعتراض کیا ہے کہ یونیورسٹی کے بانی سر سید احمد خان کی صرف 3 تصاویر اور وزیر اعظم نریندر مودی کی 7 تصاویر کیوں لگائی گئیں؟ یونیورسٹی کے طلباء کا الزام ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ اپنے ذاتی مفادات کی تکمیل کے لیے ایسا کام کر رہی ہے۔ طلبہ نے اس گزٹ کو تعلیمی کی بجائے اشتہاری قرار دیا ہے۔

وہیں، یونیورسٹی انتظامیہ نے الزامات کی تردید کی ہے۔ یونیورسٹی کے پی آر او پروفیسر شفیع قدوائی کا کہنا ہے کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی صد سالہ تقریبات پر جو خصوصی گزٹ جاری کیا گیا ہے اس میں پی ایم مودی کی تصاویر اس لئے ہیں کیونکہ انہوں نے صد سالہ تقریب میں آن لائن طریقہ سے شرکت کی تھی۔ گزٹ میں دیگر مہمانوں کی یادگار تصاویر کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ پروفیسر شفیع قدوائی نے کہا ہے کہ خصوصی گزٹ میں ملک اور دنیا کے دانشوروں کے مضامین کے ساتھ ان کی تصاویر بھی موجود ہیں۔

 

اس معاملے میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سابق نائب صدر حمزہ سفیان کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی کی جانب سے جاری کردہ گزٹ انہیں یونیورسٹی کا کم اور سرکاری گزٹ زیادہ لگ رہا ہے۔ طلبہ یونین کے سابق نائب صدر حمزہ سفیان نے کہا کہ یونیورسٹی نے تعمیری کام میں تعاون کرنے والوں کو گزٹ میں نظر انداز کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ گزٹ میں سرسید احمد خان سے زیادہ وزیراعظم کی تصویر نہیں لگنی چاہیے تھیں۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر یہ سب کر کے حکومت کے تلوے چاٹ رہے ہیں!
وہیں، طلبہ یونین کے سکریٹری رہ چکے حذیفہ نے کہا ہے کہ انہیں امید تھی کہ گزٹ میں یونیورسٹی کی کامیابیوں کے بارے میں بتایا جائے گا اور ان لوگوں کے بارے میں بھی بتایا جائے گا جنہوں نے اس کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالا لیکن بہت ہی شرم کی بات ہے کہ یونیورسٹی کے صد سالہ جشن کے گزٹ کو بی جے پی کا ترجمان بنا دیا گیا ہے۔

سعودی عرب نے ویکسین لگوانے والے زائرین کوعمرہ کی اجازت دیدی-بیرون ملک سے معتمرین کی درخواستوں کی وصولی کا آغاز

سعودی عرب نے ویکسین لگوانے والے زائرین کوعمرہ کی اجازت دیدی-بیرون ملک سے معتمرین کی درخواستوں کی وصولی کا آغاز

ministry of hajj and umrah

ریاض،8اگست:(اردو اخبار دنیا)سعودی عرب نے ویکسین لگوانے والے ڈیڑھ سال سے عمرہ کے منتظر زائرین کیلئے اپنی سرحدیں کھولنے کااعلان کردیا ہے۔اتوار کواعلان سے پہلے سعودی عرب میں مقیم اور کورونا سے بچاو کی #ویکسین لگوانے والے زائرین عمرہ کے اہل تھے۔ سعودی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق #سعودی حکام دنیا کے مختلف ممالک سے غیر ملکی #زائرین کی #عمرہ کی درخواستیں بتدریج وصول کرنا شروع کریں گے۔

سعودی نائب وزیر عبدالفتاح بن سلیمان کا حوالہ دیتے ہوئے میڈیا کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی غیر ملکی شہری کو عمرہ کیلئے سعودی تسلیم شدہ ویکسین اور قرنطینہ سے گزرنا ہوگا۔وزارت #حج و عمرہ کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ ملکی اور بیرون ملک مقیم زائرین کو اپنی عمرہ کی درخواست کے ساتھ مجاز کورونا ویکسی نیشن سرٹیفکیٹ شامل کرنا ہو گا۔اس سے قبل سعودیہ کے نائب وزیر حج و عمرہ کاکہنا تھا کہ خلیجی ممالک سے آنے والوں کو کورونا ویکسین کا کورس مکمل کرنا لازمی ہوگا۔ وزارت حج کا کہنا ہے کہ معتمرین #مکہ مکرمہ میں قائم انتہائی نگہداشت کے مرکز میں عمرہ کی ادائیگی سے کم از کم 6 گھنٹے قبل رجوع کرنے کے پابند ہوں گے۔

نگہداشت کے مرکز میں ان کی میڈیکل ہسٹری دیکھنے کے بعد ’محفوظ‘ کیٹگری کی تصدیق کی جائے گی۔ سعودی وزارت حج و عمرہ کے مطابق محفوظ کیٹگری کی تحقیق ہونے کے بعد عمرہ کے لیے آنے والوں کو مخصوص کمپیوٹرائزڈ ’ڈیجیٹل کڑا‘ دیا جائے گا۔

بیرون ملک سے معتمرین کی درخواستوں کی وصولی کا آغاز

سعودی عرب میں وزارت حج و عمرہ نے اعلان کیا ہے کہ مقامی شہریوں اور مقیم افراد کے علاوہ پیر 9 اگست 2021ء سے دنیا کے مختلف ممالک سے بتدریج #عمرے کی درخواستوں کی وصولی کا عمل شروع ہو جائے گا۔ اس سلسلے میں 60 ہزار #معتمرین کی گنجائش رکھی جائے گی اور یہ 8 عملی دورانیے میں تقسیم ہوں گے۔ اس طرح یہ گنجائش ہر ماہ 20 لاکھ افراد کے عمرہ ادا کرنے تک پہنچائی جائے گی۔

وزارت حج و عمرہ کے مطابق عمرے کے پرمٹ ’اعتمرنا‘ اور’توکلنا‘ ایپلی کیشنز کے ذریعے جاری کیے جائیں گے۔دوسر جانب نائب وزیر حج و عمرہ عبدالفتاح بن سلیمان مشاط نے واضح کیا ہے کہ عمرہ سیزن کے دوران کسی بھی بس کے اندر گنجائش کے 50فیصدسے زیادہ افراد سوار نہیں ہوں گے۔ اس دوران میں سماجی دوری کا پورا خیال رکھا جائے گا۔

مشاط نے مزید بتایا کہ دنیا کے مختلف ممالک سے آنے والے معتمرین کے لیے عمرہ کمپنیوں، ہوٹلوں اور ٹرانسپورٹ کمپنیوں کی منظوری دی جا چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ معتمرین کے لیے کرونا ویکسی نیشن لازمی شرط ہو گی۔ اس سلسلے میں مملکت آنے والوں کو اپنے ملک کے متعلقہ ادارے کی جانب سے ویکسی نیشن کی تصدیق کا سرٹیفکیٹ دکھانا ہو گا۔ یہ امر ضروری ہے کہ سرٹیفکیٹ مملکت سعودی عرب کی جانب سے منظورہ کردہ ویکسین کا ہو۔

بہار میں اسکول اساتذہ کی بحالی اور اردو- پروفیسر مشتاق احمد

بہار میں اسکول اساتذہ کی بحالی اور اردو- پروفیسر مشتاق احمد(اردو اخبار دنیا)ان دنوں بہار میں پرائمری ،مڈل اور ثانوی اسکولوں کے اساتذہ کی بحالی کا چھٹا مرحلہ چل رہا ہے ۔پنچایت ،میونسپل کارپوریشن اور ضلعی اسکولوں میں جتنی جگہ خا لی ہیں حکومت بہار کا یہ فیصلہ ہے کہ ان تمام خالی جگہوں کو پر کیا جائے۔اس لیے اساتذہ بحالی کی خصوصی مہم چلائی جا رہی ہے ۔لیکن سب سے بڑا مسئلہ درپیش یہ ہے کہ بیشتر مضامین میں جتنی جگہ خالی ہیں اتنے اساتذہ نہیں مل رہے ہیں ۔اور اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ ان مضامین میں اسٹیٹس یا سی . ٹیٹ پاس اساتذہ کی کمی ہے ۔ساتھ ہی ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ دورافتادہ علاقے کے اسکولوں میں آس پاس کے امیدوار ہی رہنا چاہتے ہیں مگر وہ بی ایڈ ہونے کے باوجود اسٹیٹ یا سی ۔ٹیٹ پاس نہیں ہیں۔بیشتر امیدوار شہری یا میونسپل علاقے کے اسکولوں میں رہنا چاہتے ہیں۔نتیجہ ہے کہ پنچایتی سطح کے اسکولوں میں جتنی جگہ ہیں وہ پر نہیں ہو رہی ہیں ۔ جہاں تک اردو کا سوال ہےتو بیشتر جگہوں پر اردو کے سی ٹیٹ اسٹیٹ پاس امیدوار نہیں مل پا رہے ہیں ۔محکمہ تعلیم حکومت بہار کی جانب سے اس خصوصی مہم کو کامیاب بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے ۔اجتماعی کونسلنگ کا اہتمام کیا جا رہا ہے اور سب سے اچھی بات یہ ہے کہ کونسلنگ کے دن ہی منتخب امیدواروں کو تقرری نامہ بھی دیا جا رہا ہے ۔اخباروں میں اس کی کی تفصیل بھی دی جا رہی ہے۔ جہاں کہیں بھی اردو کی سیٹیں خالی رہ رہی ہیں وہاں اردو آبادی میں ایک طرح کی پریشانی دیکھی جا رہی ہے کہ برسوں کے بعد اساتذہ کی بحالی ہو رہی ہے اور اس میں بھی اردو کے اساتذہ کی جگہ پر نہیں ہو پا رہی ہیں ۔در حقیقت جتنی اردو زبان کے اساتذہ کی سیٹیں ہیں اتنے امیدوار ریاستی اساتذہ اہلیتی مقابلہ جاتی امتحان یا قومی سطح کے سی ٹیٹ مقابلہ جاتی امتحانات میں پا شدہ نہیں ہیں ۔ظاہر ہے کہ جب اساتذہ بحالی کے لیے بی ایڈ کے ساتھ ساتھ مذکورہ دونوں مقابلہ جاتی امتحانات میں سے کسی ایک میں پاس ہونا لازمی ہے تو ایسی صورت میں اردو آبادی کو چاہیے کہ بی ایڈ پاس اردو کے امیدواروں کو سی ٹیٹ یا ایس ٹیٹ مقابلہ جاتی امتحانات میں شامل ہونے کے لیے راغب کریں کیونکہ اس کے بغیر پرائمری سطح سے ثانوی درجہ تک کے اسکولوں میں بحالی کے لئے یہ شرط رکھی گئی ہے کہ اب امیدوار جب تک مقابلہ جاتی امتحانات کے ذریعے ایس ٹیٹ یا سی ٹیٹ پاس نہیں کریں گے اس وقت تک ان کی بحالی ہی نہیں ہوگی ۔اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ اردو کے لیے کام کرنے والی انجمن یا ادارے اردو آبادی کے درمیان یہ بھی مہم چلایں کہ جو امیدوار اردو کے اساتذہ کہ عہد ے پر بحال ہونا چاہتے ہیں وہ اردو کے ساتھ اسٹیٹس یا سی سیٹ کے امتحان میں شامل ہوں ۔ واضح ہو کہ سال میں دو بار ماہ جون اور دسمبر میں قومی سطح کا سی ۔ ٹیٹ امتحان ہوتا ہے جبکہ ریاستی سطح پر بھی ایس ٹیٹ امتحان لیا جاتا ہے ۔مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ اس مقابلہ جاتی امتحانات میں اردو کے امیدوار کی کامیابی کا فیصد بہت کم ہوتا ہے ۔میرا ذاتی تجربہ یہ ہے کہ اردو آبادی میں اس امتحان کے تئیں دلچسپی بہت کم ہے ۔جب کہ بہار میں محکمہ اقلیتی فلاح و بہبود حکومت بہارکی جانب سے اس طرح کے مقابلہ امتحانات کے لیے مفت کوچنگ کا بھی اہتمام کیا گیا ہے ۔مگر اس کی جانب ہمارے ایسے امیدوار جو اساتذہ بننے کی خواہش رکھتے ہیں وه بہت سنجیدگی سے اس امتحان کی تیاری نہیں کرتے ہیں ۔اور اب جب اس خصوصی اساتذہ کی بحالی کیلئے کونسلنگ ہو رہی ہے اور اردو کی سیٹیں خالی رہ گئی ہیں تو ہاے توبہ مچا ہے ۔کچھ لوگ سیاسی بیان بھی دے رہی ہیں کہ اردو کے ساتھ انصاف نہیں ہو رہا ہے ۔اس وقت اس طرح کی بیان بازی سے کوئی فائدہ نہیں ہے کہ اساتذہ کی بحالی کیلئے ایس ٹیٹ یا سی ۔ٹیٹ امتحان پاس ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے ۔اس لئے ہماری کوشش تو یہ ہونی چاہئے کہ اس امتحان کی تیاری سنجیدگی سے کریں اور زیادہ سے زیادہ امیدوار کامیاب ہوں تا کہ اردو کے لئے مخصوص نشستیں خالی نہ رہ پاۓ۔ویسے دیکھنے میں یہ بھی آ رہا ہے کہ دیہی علاقوں میں اردو کی سیٹیں زیادہ خالی رہ جا رہی ہیں کہ وہاں امیدوار جانا نہیں چاہتے ۔میرے خیال میں اردو زبان سے محبت کرنے والے افراد کو چاہے کہ وہ اس خصوصی مہم میں جہاں کہیں بھی اردو کی سیٹیں ہیں وہاں بحال ہو جایں بعد میں ان کے مسائل کا حل نکل سکتا ہے لیکن شہری علاقوں کے اسکولوں کے انتظار اور دیگر سہولت کیلئے اس موقع کو نہیں جانے دیں کہ اگر شہری علاقوں میں بحالی کیلئے جگہ کم ہو گی تو ملازمت سے بھی محروم ہو جاینگے اور دوسری طرف دیہی علاقوں میں اردو کی جگہ خالی رہ جاۓگی جس سے اردو زبان کی تعلیم حاصل کرنے والے طلبا کا نقصان ہوگا ۔کیوں کہ نہ جانے کب پھر اس طرح کی خصوصی مہم شروع ہو گی کہنا مشکل ہے ۔اس لئے اردو زبان کے فروغ کیلئے ہم سبھوں کو اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے ۔ مجھے لگتا ہے کہ اگر اس وقت اردو زبان کے فروغ کیلئے کام کرنے والے افراد اور اداروں کو بھی اس مسلہ پر توجہ دینی چاہئے کہ ہمارے اردو کے امیدوار دیہی علاقے کے اسکولوں میں بھی کونسلنگ میں شامل ہوں ۔ انھیں ممکن تعاون بھی دی جائے تا کہ اس وقت وه جگہ پر ہو جاۓ ۔اس میں میں کوئی شک نہیں کہ بعد میں صرف اردو زبان کے اساتذہ کی بحالی کیلئے کوئی خصوصی مہم شروع نہیں ہوگی کہ اردو کے تیں ہمارے سرکاری افسران کئی طرح کے ذہنی تعصبات و تحفظات کے شکار ہوتے ہیں اردو کے نام پر طرح طرح کی سیاست بھی ہوتی رہتی ہیں ۔اس لئے اردو آبادی کے لیے یہ سنہری موقع ہے کہ وہ اس خصوصی مہم سے استفادہ کریں اور اردو کے لئے راستہ ہموار کریں ۔ہمارے ویسے امیدوار جو دیہی علاقے میں جانا نہیں چاہتے ہیں ان تک ہماری طرف سے کوشش ہونی چاہیے کہ ہم ان تک پہنچ کر اردو کے لیے دور دراز کے علاقوں میں بھی جانے کو تیار کریں۔کیونکہ ہماری ملاقات کئی ایسے اردو کے امیدواروں سے ہوئی ہے جو ا شہری علاقے یا کارپوریشن ایریا کے اسکولوں میں ہی رہنا چاہتے ہیں جب کہ اردو کی زیادہ سیٹیں بلاک اور پنچایت کے اسکولوں میں ہیں ۔خواتین امیدواروں کے لیے تو مشکل ہو سکتی ہے لیکن مرد امیدواروں کو چاہیے کہ وہ اپنی بے روزگاری دور کرنے کے لیے دیہی علاقوں کے پنچایتی سطح کے اسکولوں میں بھی جائیں تا کہ اردو اساتذہ کی سیٹیں پر ہو سکے اور اردو طلبہ کو اردو کی تعلیم کا موقع نصیب ہوسکے ۔کیونکہ اگر اس وقت اردو اساتذہ کی جگہ خالی رہ جاتی ہیں تو شاید برسوں وه جگہ پر نہیں ہوگی اور اس علاقے کے بچوں کو نقصان ہوگا ۔ اور ہم اس کے لئے حکومت کوقصور وار بھی نہیں ٹھہرا سکتے ہیں کہ اس وقت حکومت نے سبھوں کے لیے خصوصی مہم چلائی ہے ۔ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ ایک طرف اردو امیدوار سی ٹیٹ یا اسٹیٹ پاس کم ہیں اور دوسری طرف جو پاس ہیں وہ دور دراز کے علاقوں میں جانا نہیں چاہتے ۔یہ ایک لمحہ فکریہ ہے اور اس پر غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے کہ وقت نکل جانے کے بعد ہمارے حصے میں افسوس کے علاوہ کچھ بھی نہیں رہ جائے گا ۔

بھارت میں آبادی کا مسئلہ : حقیقت یا سیاست ؟ . ڈاکٹر مظفر حسین غزالی

بھارت میں آبادی کا مسئلہ : حقیقت یا سیاست ؟ . ڈاکٹر مظفر حسین غزالی

بھارت میں آبادی کا مسئلہ : حقیقت یا سیاست ؟ . ڈاکٹر مظفر حسین غزالی(اردو اخبار دنیا)آسام کے راستے پر چلتے ہوئے اترپردیش نے بھی دو بچوں والے بل کی قواعد شروع کر دی ہے ۔ اس مجوزہ بل سے سیاسی ہنگامہ کھڑا ہو گیا ہے ۔ بل کے بارے میں یوگی حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس سے آبادی پر قابو پانے اور ریاست کی آبادی کو مستحکم بنانے میں مدد ملے گی ۔ ریاستی حکومت اس پر عملدرآمد کیلئے سخت اقدامات کر رہی ہے ۔ ایک طرف انعامات کے ذریعہ آبادی کنٹرول کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے ۔ تو دوسری جانب کنٹرول نہ کرنے والوں کے لئے سزاؤں کا تعین کیا گیا ہے ۔ مثلاً دو سے زائد بچے والوں کو سرکاری ملازمت نہیں ملے گی ۔ وہ سرکاری نوکری کے لئے اپلائی بھی نہیں کر سکیں گے ۔ جو ملازمت کر رہے ہیں انہیں پرموشن نہیں ملے گا ۔ وہ حکومت کی 77 فلاحی اسکیموں کے فائدوں سے محروم رہیں گے ۔ انہیں پنچایت الیکشن لڑنے کی اجازت نہیں ہوگی اور راشن کارڈ پر چار لوگوں کا ہی نام درج ہوگا وغیرہ ۔ آبادی (کنٹرول،استحکا اور بہبود) بل 2021 ایسے وقت لایا گیا ہے جب الیکشن میں محض چھ سات ماہ بچے ہیں ۔ اس کے پیچھے جو دلیل دی گئی ہے وہ بھی غلط ہے کہ ملک میں سارے مسائل کی جڑ بڑھتی آبادی ہے ۔ دراصل بی جے پی خاندانی منصوبہ بندی کے نام پر فرقہ وارانہ ایجنڈہ کے ذریعہ سیاسی فائدہ اٹھانا چاہتی ہے ۔ اس شک کو بل کے اگلے سال نافذ کرنے کے فیصلے سے مضبوطی ملتی ہے ۔ اسی لئے حزب اختلاف اسے اسمبلی انتخابات سے جوڑ کر دیکھ رہا ہے ۔

آبادی بل اس پارٹی کی حکومت لائی ہے جس کی اپنی سابق شکل جن سنگھ خاندانی منصوبہ بندی کی مخالف تھی ۔ اور اس کے لئے سیاسی زمین تیار کرنے والی وشوہندوپریشد سختی سے اس کی مخالفت کر رہی ہے ۔ اتنا ہی نہیں اس وقت اترپردیش میں برسراقتدار بی جے پی کے اپنے پچاس فیصد ارکان اسمبلی کے دو سے زائد بچے ہیں۔ اس کے 304 میں سے 152 کے تین یا اس سے زائد بچے ہیں ۔ اسی طرح ایک ایم ایل اے کے آٹھ، ایک کے سات اور آٹھ کے چھ چھ اور 15 کے پانچ پانچ بچے ہیں۔ جبکہ 44 ارکان اسمبلی کے چار چار اور 83 ارکان کے تین تین بچے ہیں ۔ اگر مذکورہ قانون اسمبلی میں نافذ ہو جائے تو یہ تمام ارکان نااہل قرار دے دیے جائیں گے۔ کم و بیش یہی صورت حال پارلیمنٹ میں بھی ہے ۔ گورکھپور سے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ روی کشن پارلیمنٹ میں آبادی کنٹرول پرائیوٹ ممبر بل پیش کرنے والے ہیں اور ان کے خود چار بچے ہیں ۔ لوک سبھا کی ویب سائٹ کے مطابق 168 موجودہ ارکان پارلیمنٹ کے تین یا اس سے زائد بچے ہیں۔ ان میں بی جے پی کے ارکان کی تعداد 105 ہے ۔ یہ کتنی عجیب بات ہے کہ دو سے زائد بچوں والا شخص ممبر اسمبلی یا پارلیمنٹ بن سکتا ہے لیکن پنچایتی انتخاب نہیں لڑ سکتا ۔ یہ امتیازی سلوک آئین کی رو کے بھی خلاف ہے ۔

جہاں تک آبادی پر قابو پانے کا سوال ہے بھارت ان چند ممالک میں سر فہرست ہے جنہوں نے سب سے پہلے خاندانی منصوبہ بندی کو متعارف کرایا ۔ ملک نے 50-1952 میں ہی خاندانی بہبود کی پالیسی کو اپنایا لیا تھا ۔ لیکن غریبی اور ناخواندگی کی وجہ سے شروع میں اس پر عمل کرنے میں دشواریاں آئیں ۔ 75 -1977 ایمرجنسی میں کی گئی زور زبردستی نے خاندانی منصوبہ بندی کے پروگرام کو اتنا بدنام کر دیا کہ لوگوں نے اس پر بات تک کرنی چھوڑ دی ۔ مگر ملک میں فیملی پلاننگ کا عمل جاری رہا ۔ ان اقدامات کے نتائج شرح تولید میں کمی کی شکل میں ظاہر ہوئے ۔ 50-1955 میں جو شرح پیدائش 5.9 فیصد تھی وہ تیزی سے کم ہو کر 2.3 فیصد پر آ گئی ۔ نیشنل فیملی ہیلتھ سروے کی تازہ رپورٹ بتاتی ہے کہ ملک کی آبادی جلد ہی استحکام کے قریب پہنچنے والی ہے ۔ یعنی 2.3 فیصد کی شرح میں بھی کمی آ رہی ہے ۔ ملک میں آبادی کی شرح 2.1 (ہم دو ہمارے دو) ہونی چاہئے ۔ جو ماہرین کے مطابق آنے والے کچھ برسوں میں خود بخود آنے والی ہے ۔ کئی ریاستوں میں تو شرح پیدائش قومی شرح سے بھی کم ہے ۔ مگر شدت پسند ہندو تنظیمیں اور دھرما چاریہ جھوٹے پروپیگنڈے، من گھڑت اعداد وشمار کے ذریعہ ہندو آبادی کو یہ بتاتے رہے ہیں کہ مسلمان اور عیسائی اپنی آبادی بڑھا کر جلد ہی اکثریت میں آجائیں گے اور ہندو اقلیت بن کر رہ جائیں گے ۔ یہ پروپیگنڈہ بدنیتی پر مبنی ہے کیونکہ یہی لوگ ایک طرف ہندوؤں سے زیادہ بچے پیدا کرنے کی اپیل کرتے ہیں اور دوسری طرف آبادی کو کنٹرول کرنے کے لئے قانون بنانے کی مانگ کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں ۔

آبادی میں اضافہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اکثر کہا جاتا ہے کہ 2025 تک ملک کی آبادی چین سے زیادہ ہو جائے گی ۔ جبکہ وزیراعظم نریندرمودی اپنی پہلی میقات میں ملک کی بڑی آبادی کے فائدے گناتے نہیں تھکتے تھے ۔ دراصل نریندرمودی کو بڑی تعداد میں غیرملکی کمپنیوں کے بھارت آنے اور بیرونی سرمایہ کاری کی وجہ سے معیشت کے تیز رفتار سے بڑھنے کی امید تھی ۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ ملک میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور بڑی تعداد میں نوجوان کامگاروں کی ضرورت ہوگی ۔ بھارت میں 54 فیصد آبادی پچیس سال سے کم عمر کے لوگوں پر مشتمل ہے ۔ 62 فیصد افراد ورکنگ ایج گروپ سے تعلق رکھتے ہیں ۔ ان کی عمر 15 سے 59 سال کے درمیان ہے ۔ اس لحاظ سے بھارت دنیا میں سب سے زیادہ نوجوان آبادی والا ملک ہے ۔ اسی لئے وزیراعظم اپنی آبادی کو ڈیموگرافک ڈویڈنڈ بتا رہے تھے ۔ مگر متوقع غیرملکی سرمایہ کاری نہ ہونے سے پچھلی بار امیدوں پر پانی پھر گیا ۔ اس بار تو ایسا کچھ ہونے کا دور دور تک امکان نظر نہیں آ رہا ۔ کورونا وبا سے معیشت کی رفتار اتنی سست ہو گئی کہ برسر روزگار تھے وہ بھی بے روزگار ہو گئے ۔ بے روزگار نوجوانوں کی فوج حکومت کو بوجھ محسوس ہو رہی ہے ۔ اسی لئے آبادی کو ڈیموگرافک ڈجاسٹر بتایا جا رہا ہے ۔

اعداد وشمار چیخ چیخ کر بتا رہے ہیں کہ ملک کی آبادی جلد ہی استحکام کے قریب پہنچنے والی ہے ۔ کئی ریاستوں میں تو یہ شرح قومی شرح سے بھی نیچے ہے ۔ رکن پارلیمنٹ جے رام رمیش نے نامہ نگاروں سے کہا کہ 2019 میں مودی حکومت نے پارلیمنٹ میں پیش اپنے اپنے سروے میں آبادی بڑھانے کی ضرورت کو سامنے رکھا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ریاستوں، ہماچل پردیش، پنجاب، مغربی بنگال اور مہاراشٹر میں زرخیزی کی شرح 1.2 تک گر گئی ہے ۔ کچھ ریاستیں 2030 تک بزرگ آبادی کی طرف بڑھ رہی ہیں ۔ آنے والے بیس سال میں بھارت کے لئے اپنی بزرگ آبادی کو سنبھالنا ایک بڑا چیلنج ہوگا ۔ چین جس کی ہمارے یہاں اکثر مثال دی جاتی ہے اس نے بزرگ ہوتی آبادی کے مسئلہ سے نبٹنے کیلئے 2016 میں ون چائلڈ پالیسی کو ٹو چائلڈ کر دیا تھا اور اب تھری چائلڈ پالیسی کر دیا ہے ۔

جن ریاستوں میں زرخیزی کی شرح قومی شرح سے زیادہ ہے ان میں بہار، اترپردیش، جھارکھنڈ، راجستھان اور مدھیہ پردیش قابل ذکر ہیں لیکن ان کی شرح نمو میں بھی لگاتار کمی آرہی ہے ۔ ایک پی آئی ایل کے جواب میں مرکزی حکومت سپریم کورٹ میں کہہ چکی ہے کہ وہ ملک میں خاندانی منصوبہ بندی کے تحت دو بچوں کی تعداد تک محدود رکھنے کے حق میں نہیں ہے ۔ کیوں کہ اس سے آبادی کا تناسب بگڑ جائے گا ۔ مرکز کی رائے کے خلاف اترپردیش حکومت آبادی بل لا رہی ہے جبکہ سی این این کی رپورٹ کے مطابق اترپردیش میں زرخیزی کی شرح 1999 میں 4.06 تھی جو 2017 میں گھٹ کر 3.0 ہو گئی ۔ اس وقت یہ 2.7 فیصد ہے، جو اگلے چند برسوں میں قومی شرح کے برابر آ جائے گی ۔ اس معاملہ میں یوپی سے بھی خراب صورتحال بہار، مدھیہ پردیش اور راجستھان کی ہے ۔

طبقات کی بنیاد پر اگر زرخیزی کا جائزہ لیں تو 1.2 بچے فی میریڈ کپل کے حساب سے سب سے کم شرح زرخیزی جین طبقہ میں ہے ۔ اس کے بعد سکھوں میں 1.6، بودھوں میں 1.7 اور عیسائیوں میں 2.0 فیصد ہے ۔ مذہبی طبقوں (ہندو اور مسلم) کو چھوڑ کر باقی طبقات میں بچوں کی تعداد تیزی سے کم ہو رہی ہے ۔ مسلمانوں کی آبادی کو لے کر اکثر بات کی جاتی ہے ۔ نیشنل فیملی ہیلتھ سروے (5) کی تازہ رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ 96 فیصد مسلم آبادی والے لکش دیپ، 68 فیصد مسلم آبادی والے جموں وکشمیرمیں آبادی کی شرح نمو 1.4 فیصد ہے ۔ 34 فیصد مسلم آبادی والے آسام میں یہ شرح ایک 1.7 فیصد،27 فیصد مسلم آبادی والے مغربی بنگال میں 1.6 فیصد، 26 فیصد مسلم آبادی والے کیرالہ میں 1.8 فیصد اور 20 فیصد مسلم آبادی والے صوبے اترپردیش میں 2.4 فیصد ہے ۔ جبکہ ریاست کی اوسط شرح نمو 2.7 فیصد ہے ۔

اس مختصر جائزہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ زیادہ بچوں کا تعلق مذہب سے نہیں ہے ۔ انتخابی کمیشن کے چیف کمشنر ایس وائی قریشی اور ماہرین آبادی کے مطابق غریب، ناخواندہ اور جن کی صحت کی سہولیات تک رسائی نہیں ہوتی ان کے بچے زیادہ ہوتے ہیں ۔ غریبوں کے بچے کم عمری میں کام کرنے لگتے ہیں ۔ اس سے خاندان کو مالی مدد ملتی ہے ۔ غریبوں کے مقابلے تعلیم یافتہ برسر روزگار لوگوں کے بچے کم ہوتے ہیں ۔ دوسرے لفظوں میں زرخیزی کی شرح ملک اور ریاست کی ترقی کا آئینہ ہے ۔ اس لحاظ سے برسراقتدار جماعت یا اس کے ساتھیوں کا آبادی کنٹرول کرنے کی دھن بجانا بے مطلب ہے ۔ یہ روزگار، مہنگائی، صحت اور معیشت کے مورچہ پر حکومت کی ناکامی کی طرف سے محض دھیان ہٹانے کیلئے ہے ۔ ممبر پارلیمنٹ ششی تھرور کا کہنا ہے کہ لکس دیپ، آسام اور اترپردیش میں آبادی کم کرنے کی بات اتفاق نہیں اس کا مقصد غریبی، ترقی کے سوالات کو صرف نظر کر سیاست اور فرقہ واریت ہے ۔ اگر حکومت میں تعلیم، صحت، روزگار اور بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ آبادی کو ملک کی ترقی میں استعمال کرنے کی صلاحیت ہو تو آبادی ملک کے لئے طاقت یا نعمت ثابت ہو سکتی ہے ۔ اس وقت بنیادی سہولیات، وسائل اور روزگار مہیا کرانا حکومت کے لئے چیلنج ثابت ہو رہا ہے ۔ اس لئے وہ عوام کو کسی نہ کسی بہانے آپس میں الجھا کر رکھنا چاہتی ہے ۔

آدھار کارڈ میں : ‏Aadhaar Card Update ‎ایڈریس پروف بغیرکے کیسے اپ ڈیڈیٹ کریں ایناپتہ ؟

آدھار کارڈ میں : Aadhaar Card Update ایڈریس پروف بغیرکے کیسے اپ ڈیڈیٹ کریں ایناپتہ ؟

(اردو اخبار دنیا)آدھار کارڈ اپ ڈیٹ: صارفین کی سہولت کے لیے یو آئی ڈی اے آئی نے حال ہی میں کسی ثبوت کی عدم موجودگی میں ایڈریس کو اپ ڈیٹ کرنے کی سہولت دی ہے۔ عمل بہت آسان اور سادہ ہے۔ آدھار کارڈ ہولڈر ایڈریس ویریفائر کی رضامندی اور تصدیق کے ساتھ کر سکتے ہیں۔ ایڈریس کی تصدیق کرنے والا خاندان کا رکن ، رشتہ دار ، دوست یا مالک مکان ہوسکتا ہے، جو آدھار کارڈ ہولڈر کو اپنا پتہ بطور ثبوت استعمال کرنے دینے پر راضی ہے۔اس کے علاوہ ارکان پارلیمنٹ، ارکان اسمبلی اورگزیڈیٹ آفیسرز سے سفارشی مکتوب حاصل کرکے میں آپ اپنے آرھار پر ایڈریس تبدیل کرسکتے ہیں۔

تاہم آدھار کارڈ ہولڈرز کو نوٹ کرنا چاہیے کہ رہائشی اور ایڈریس ویریفائر دونوں کو اپنا موبائل رجسٹرڈ یا آدھار کارڈ میں اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ اور دونوں کو مطابقت پذیر اور معاہدے میں ہونا ضروری ہے جبکہ ایڈریس کی توثیق کے لیٹر کی درخواست ابھی عمل میں ہے۔ اگر ایڈریس ویریفائر مقررہ وقت میں رضامندی دینے سے محروم رہتا ہے تو ، ایڈریس میں تبدیلی کی درخواست غلط ہوگی اور صارف کو دوبارہ عمل شروع کرنا پڑے گا۔عام معلومات کے لیے آدھار ایک قابل شناخت 12 ہندسوں کا شناختی نمبر ہے جو UIDAI کی طرف سے ہندوستان کے رہائشی کو بلا معاوضہ جاری کیا گیا ہے۔ اس ڈیجیٹل دور میں آدھار کارڈ آپ کے شناختی ثبوت کے اہم دستاویزات میں سے ایک ہونے کے علاوہ کئی سرکاری اسکیموں کو حاصل کرنے کے لیے ایک اہم دستاویز ہے۔ اسے کرنے کا طریقہ یہاں چیک کریں:


درخواست شروع کریں۔


آدھار کے ساتھ لاگ ان کریں۔


تصدیق کنندہ آدھار درج کریں۔


ایڈریس ویریفائر کی رضامندی ضروری ہے۔ ایڈریس ویریفائر اپنے موبائل میں


رضامندی کے لیے لنک وصول کرتا ہے۔


ایڈریس ویریفائر لنک پر کلک کرتا ہے۔


آدھار کے ساتھ لاگ ان کریں۔


رضامندی دیتا ہے۔


اب آپ کو درخواست جمع کرانی ہوگی۔


آپ کو موبائل پر تصدیق کنسینٹ کی تصدیق موصول ہوگی۔


اب SRN کے ساتھ لاگ ان کریں۔


ایڈریس کا پیش نظارہ۔


مقامی زبان میں ترمیم کریں (اگر ضرورت ہو)


گزارش جمع کیجیے


مکمل کرنے کے لیے خفیہ کوڈ استعمال کریں۔


آپ کو خط کے ذریعے خط اور خفیہ کوڈ موصول ہوگا۔


آن لائن ایڈریس اپ ڈیٹ پورٹل میں لاگ ان کریں۔


خفیہ کوڈ کے ذریعے ایڈریس اپ ڈیٹ کریں۔


نئے پتے کا جائزہ لیں اور حتمی درخواست جمع کروائیں۔


مستقبل میں سٹیٹس چیک کرنے کے لیے یو آر این موصول ہوا۔



پربھنی کی مسلم لڑکی ہندو لڑکے کیساتھ رہنے پر بضد۔ ماں باپ، بھائی اور باشعور لوگوں کو مایوس ہوکر لوٹنا پڑا

  • (اردو اخبار دنیا)

پربھنی (سید یوسف) پربھنی شہر کی ایک مسلم دوشیزہ نے چکھلی کے رہائش پذیر ایک غیر قوم کے نوجوان کے ہمراہ بیاہ رچانے کے لیے علاقہ ودربھ کے چکھلی ضلع بلڈانہ میں گزشتہ دنوں میریج رجسٹریشن کیا -اس بات کی اطلاع جوں ہی پربھنی شہر کے متحرک اور سرگرم غیور مسلم نوجوانوں کو ملی – تب انہوں نے اس لڑکی کی شہر میں تلاشی شروع کی –

تب اس لڑکی کا پتہ شہر کے قدیم پاور ہاؤس کے عقبی حصہ، بلدیہ کالونی روڈ پر پایا گیا – اس موقع پر جب شہر کے متحرک اور سرگرم غیور مسلم نوجوان وہاں پہنچے تب تک وہ دوشیزہ غیر قوم کے لڑکے کے ساتھ بدھ کی صبح سات بجے کے بعد فرار ہو چکی تھی – بعد ازاں اس دوشیزہ کے ماں باپ، بھائی اور دیگر ذمہ داران نے اس دوشیزہ کو تلاش کرنا شروع کیا – تاہم اس کا پتہ نہیں چل سکا – بعد ازاں جمعرات کے روز وہ دوشیزہ چکھلی، بلڈانہ میں غیر قوم کے نوجوان کے ساتھ صبح دس بجے رائے پور، چکھلی کے قریب ایک کار میں سوار ہو کر جاتے ہوئے پائ گئی –

چکھلی ضلع بلڈانہ کے سرگرم اور متحرک نوجوانوں کو وہ دوشیزہ کار میں سوار دکھائ دی – تب اس اثنا وہاں موجود غیور نوجوانوں نے چھان بین اور تحقیقات کرتے ہوئے اس دوشیزہ کو سمجھانے کی بھرپور کوشش کی اور کوئی کسر نہیں چھوڑی – اس بات کی اطلاع جب چکھلی کے رائے پور پولیس اسٹیشن کو ملی – تب وہ بھی وہاں پہنچ گئے – اس موقع پر پولیس نے اس لڑکی اور غیر قوم کے نوجوان کو پولیس اسٹیشن لایا اور ان کی رضامندی معلوم کی –
اس موقع پر اس دوشیزہ نے اپنے راضی خوشی سے اس لڑکے کے ساتھ رہنے کی بات کہی – بلڈانہ اور چکھلی کے غیور مسلمانوں نے بھی اسے خوب سمجھانے کی کوشش کی – تاہم وہ دوشیزہ اپنے موقف پر ڈٹی رہی – بعدازاں شام سات بجے کے قریب دوشیزہ کے ماں باپ، بھائی اور پربھنی شہر کے متحرک اور سرگرم نوجوانوں کی ٹیم نے پولیس اسٹیشن کا رخ کیا – تب پولیس کے سامنے اس لڑکی نے مجھے اسی غیر قوم کے لڑکے کے ساتھ زندگی بسر کرنے کی بات کہہ کر سبھی لوگوں کے امیدوں پر پانی پھیر ڈالی –
اور اسی غیر قوم کے نوجوان کے ساتھ رہنے کی بات کہہ ڈالی – جس پر سبھی لوگوں کو حیرت ہوئی اور سب ششدر میں پڑ گئے – سبھی کو یہ اطمنان اور امید تھی کہ اس دوشیزہ کے والدین آنے کے بعد وہ اپنے ماں باپ کی بات کو کم از کم قبول کر ڈالیگی – تاہم اس نے سبھی کو مایوس کر ڈالا – جس کے سبب پربھنی شہر سے گئے اس کے رشتہ داران اور دیگر ذمہ داران کو مایوس ہو کر لوٹنا پڑا – بتایا جاتا ہے کہ جمعہ کے روز صبح آٹھ بجے وہ دوشیزہ اپنے منگیتر کے ہمراہ مرتد ہونے کے ارادے سے ارٹیگا کار میں سوار ہوئ –
بعدازاں وہ دوسری کار تبدیل کرتے ہوئے پونا کے لیے نکل پڑی ہے – بتایا جاتا ہے اس دوشیزہ کو فرقہ پرست طاقتوں کی بھرپور حمایت حاصل ہے –

کشمیر میں جماعت اسلامی سے وابستہ افراد کے گھروں پر این آئی اے کے چھاپے

سری نگر:(اردو اخبار دنیا) قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے اتوار کو جموں و کشمیر کے کم از کم ایک درجن اضلاع میں زائد از تین درجن مقامات پر چھاپے مارے۔ یہ چھاپے کالعدم تنظیم جماعت اسلامی جموں و کشمیر سے وابستہ افراد کے گھروں پر مارے گئے ہیں۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق این آئی اے کی ٹیموں نے اتوار کی صبح جموں و کشمیر پولیس اور سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کے ہمراہ مختلف اضلاع میں جماعت اسلامی سے وابستہ افراد کے گھروں پر چھاپے مارے۔

چھاپہ مار کارروائیاں جن اضلاع میں انجام دی گئی ہیں ان میں سری نگر، بڈگام، گاندربل، بارہمولہ، بانڈی پورہ، کپوارہ، اننت ناگ، پلوامہ، شوپیاں، کولگام، ڈوڈہ، رام بن، کشتواڑ اور راجوری اضلاع شامل ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق چھاپہ مار کارروائیوں کی انجام دہی کے لئے این آئی اے کی ایک ٹیم ڈی آئی جی رینک کے ایک افسر کی قیادت میں پہلے ہی سری نگر بھیجی گئی تھی۔

بتا دیں کہ مرکزی حکومت نے 2019 میں جماعت اسلامی جموں و کشمیر پر پانچ سالہ پابندی لگا دی۔ اس پر ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام لگایا تھا۔ جماعت اسلامی پر پابندی لگانے کے اقدام کی وادی کشمیر کی تقریباً تمام سیاسی، مذہبی و سماجی جماعتوں نے مذمت کی تھی۔ جماعت نے پانچ سالہ پابندی کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔

اردودنیانیوز۷۲

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا ...