لکھنؤ: (اردو اخبار دنیا (بہوجن سماج پارٹی(بی ایس پی)سپریمو مایاوتی نے پیر کو کہا کہ دیگر پسماندہ طبقات(اوبی سی) کی شناخت کرنے سے متعلق بل کا ان کی پارٹی حمایت کرتی ہے مگر مرکز کو سرکار نوکریوں میں اس سماج کے لئے خالی اسامیوں کو بھرنے کی سمت میں قدم اٹھانے ہونگے۔
محترمہ مایاوتی نے پیر کو اپنے ایک ٹوئٹ میں لکھا' او بی سی سماج بہوجن سماج کا جزء لاینفک ہے جس کے مفاد و فلاح کے لئے بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر نے آئین کی دفعہ 340 کا انتظام کیا اور اس پر صحیح سے عمل نہ ہونے پر حکومت کے پہلے وزیر قانون نے استعفی بھی دے دیا تھا۔ بی ایس پی بھی ویسے ہی ان سماج کے لئے جی جان سے یکسو ہے۔
انہوں نے کہا' اسی سوچ کے تحت ریاستی حکومتوں کے ذریعہ او بی سی کی شناخت کرنے و ان کی فہرست بنانے سے متعلق پارلیمنٹ میں آج ترمیمی بلکا بی ایس پی حمایت کرتی ہے۔ مگر مرکزی حکومت صرف خانہ پری نہ کرے بلکہ حکومتی نوکریوں میں او بی سی کے سالوں سے خالی عہدوں کو پُر کرنے کی سمت میں پختہ اقدام کرے۔
قابل ذکر ہے کہ لوک سبھا میں اپوزیشن کی سخت مخالفت و ہنگامے کے دوران آئین ترمیم(ای ٹی)بحکم(ترمیم)بل 2021 سمیت تین بلوں کو منظور دی گئی ہے۔
نئی دہلی(اردو اخبار دنیا):اپوزیشن پارٹیوں نے پیر کے روز او بی سی بل میں آئینی ترمیم کی حمایت کرنے کا فیصلہ کیا، جسے لوک سبھا میں پیش کیا جانا ہے۔ پندرہ اپوزیشن پارٹیوں نے راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر ملکارجن کھڑگے کے دفتر میں میٹنگ کی جہاں یہ فیصلہ لیا گیا۔
میٹنگ کے بعد کھڑگے نے کہا کہ ’’اپوزیشن پارٹیوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ آج پارلیمنٹ میں پیش کیے جا رہے آئین (127ویں ترمیم) ترمیمی بل 2021 کی حمایت کریں گے۔‘‘ قابل ذکر ہے کہ مرکزی سماجی انصاف اور حقوق کے وزیر ڈاکٹر ویریندر کمار پیر کو لوک سبھا میں آئینی بل 2021 پیش کریں گے۔
یہ بل 102ویں آئینی ترمیمی بل میں کچھ سہولتوں کو واضح کرنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ پسماندہ طبقات کی شناخت کرنے کے لیے ریاستوں کی طاقت کو بحال کیا جا سکے۔ اس کا مطالبہ کئی علاقائی پارٹیوں اور یہاں تک کہ برسراقتدار پارٹی کے او بی سی لیڈروں نے بھی کیا تھا۔



