نئی دہلی (اردو اخبار دنیا): سپریم کورٹ نے ای کامرس شعبے کی معروف کمپنیوں ایمیزون اور فلپ کارٹ کو بڑا دھچکہ دیتے ہوئے ان کے خلاف کمپٹیشن کمیشن آف انڈیا (سی سی آئی) کی جانچ میں مداخلت سے انکار کردیا۔ مسابقتی قانون کی خلاف ورزی کے لئے دونوں کمپنیو ں کے خلاف سی سی آئی کی جانچ چل رہی ہے۔
چیف جسٹس این وی رمن ، جسٹس ونیت سرن اور جسٹس سوریہ کانت کی ڈویژن بنچ نے اس معاملے میں کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے میں مداخلت کرنے سے انکار کر دیا۔ تاہم عدالت دونوں کمپنیوں کو جانچ میں شامل ہونے کے لیے چار ہفتے کا وقت دیا ہے۔
دونوں کمپنیوں نے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ہائی کورٹ نے غیر مسابقتی کاروبار کے لیے دونوں کمپنیوں کے خلاف سی سی آئی کی جانب سے شروع کی گئی ابتدائی تفتیش(پی ای) میں مداخلت سے انکار کر دیا۔
جسٹس رمن نے سماعت کے دوران کہا ، "ہمیں (ہائی کورٹ کے) حکم میں مداخلت کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔ اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے کہ (جانچ میں شامل ہونے کا) وقت آج (9 اگست) ختم ہو رہا ہے ، ہم چار ہفتوں کی توسیع کررہے ہیں۔ ہم توقع کرتے ہیں کہ ایمیزون اور فلپ کارٹ جیسی بڑی کمپنیاں رضاکارانہ طور پرجانچ میں شامل ہوں گی۔
سینئر ایڈوکیٹ گوپال سبرامنیم نے ایمیزون کی جانب سے دلائل پیش کیں جبکہ سینئر ایڈوکیٹ ابھیشیک منو سنگھوی فلپ کارٹ کی جانب سے پیش ہوئے۔ سی سی آئی کی جانب سے سالیسٹر جنرل تشار مہتا پیش ہوئے۔
نئی دہلی:(اردو اخبار دنیا)کورونا ویکسین کے کلینیکل ٹرائل اور پوسٹ ویکسنیشن ڈاٹا کو منظر عام پر لانے کا مطالبہ کرنے والی عرضی پر سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے مرکز سے اس نوٹس کے ذریعہ جواب مانگا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ عدالت نے مرکزی وزارت صحت کے ساتھ ساتھ انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ اور ویکسین مینوفیکچر کرنے والی کمپنیوں کو بھی نوٹس جاری کیا ہے اور سبھی سے چار ہفتے میں جواب داخل کرنے کو کہا ہے۔ چائلڈ اسپیشلسٹ ڈاکٹر جیکب پولیل نے عدالت میں یہ عرضی داخل کی ہے۔
سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ وہ عرضی پر نوٹس جاری کر رہا ہے، لیکن ٹیکہ کاری کو لے کر لوگوں کے ذہن میں کوئی غلط فہمی نہیں پیدا کرنا چاہتا۔ جسٹس ایل ناگیشور راؤ اور جسٹس رسیکیش رائے کی بنچ نے کہا کہ ’’کیونکہ ویکسین پر اندیشہ سے پہلے ہی مسئلہ پیدا ہو رہا ہے، ملک ویکسین کی کمی سے لڑ رہا ہے، ٹیکہ کاری جاری رہے اور ہم اسے روکنا نہیں چاہتے ہیں۔‘‘
عرضی دہندہ کی طرف سے سینئر وکیل پرشانت بھوشن نے عدالت میں کہا کہ آئی سی ایم آر سمیت سبھی بین الاقوامی ریگولیٹری کا اصول ہے کہ ویکسین ڈاٹا دیا جانا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ عوامی طور پر ڈاٹا جاری کیے جانے پر ماہرین اس پر غور کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہم یہ نہیں کہہ رہے ہیں کہ ٹیکہ کاری کے عمل کو روک دیا جائے، لیکن ٹرائل کے ڈاٹا کو عوام کے سامنے لایا جانا چاہیے۔‘‘
وکیل پرشانت بھوشن نے اپنی بات رکھتے ہوئے کہا کہ زیادہ تعلیم یافتہ اشخاص میں خوف ہے، کیونکہ خود مختار ماہرین نے ویکسین یا ٹیسٹنگ کے ڈاٹا نہیں دیکھے ہیں۔ بھوشن نے عدالت میں یہ بھی دعویٰ کیا کہ گزشتہ ایک مہینے میں کووڈ ٹیکوں کی وجہ سے 3 ہزار لوگوں کی موت ہونے کی خبر ملی ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ کووڈ-19 کے بعد جسم میں پیدا ہونے والی اینٹی باڈی، ویکسین سے بننے والی اینٹی باڈی کے مقابلے بہت بہتر ہوتی اور مختلف تجربہ کرنے والے اداروں نے یہ واضح کیا ہے۔
بہر حال، عرضی میں کہا گیا ہے کہ لوگوں کو ضروری خدمات تک پہنچنے کے لیے شرط کی شکل میں کووڈ ویکسین لگانے کے لیے مجبور کرنا غیر آئینی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ’’ویکسین کے معاملے میں حکومت نے لازمیت نہیں رکھی ہے، اور ویکسین لگانے والے کو خود فیصلہ لینا ہے۔ ایسے میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ نجی اداروں کی جانب سے ملازمین کو مجبور کیوں کیا جا رہا ہے



