Powered By Blogger

ہفتہ, اگست 14, 2021

کانپور میں سرعام مسلمان رکشے ڈرائیور کی پٹائی کی وائرل ویڈیو، تین ملزمان گرفتاری کے بعد ضمانت پر رہا

  • (اردو اخبار دنیا)

انڈیا کی ریاست اترپردیش کے شہر کانپور میں ایک مسلمان رکشہ ڈرائیور کی پٹائی اور اس سے زبردستی ’جے شری رام‘ کا نعرہ لگوانے کے مقدمے میں گرفتار تین افراد کو ضمانت پر رہائی مل گئی ہے۔دو روز قبل سوشل میڈیا پر اس واقعہ کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں چند افراد ایک رکشہ چلانے والے کی پٹائی کر رہے ہیں اور اس کی تقریباً سات سالہ بیٹی پریشان نظر آرہی ہے۔ اس دوران بعض افراد اسرار احمد نامی مسلمان رکشہ ڈرائیور سے ’جے شری رام‘ کا نعرہ لگانے کے لیے بھی کہہ رہے ہیں۔کانپور پولیس نے جمعرات کی شام کو تینوں ملزمان کو گرفتار کیا تھا۔ تینوں ملزمان کی گرفتاری کے خلاف ہندو پسند تنظیم نے جمعرات کی شب ڈپٹی کمشنر پولیس کے دفتر کے سامنے احتجاج کیا تھا۔

کانپور کے پولیس کمشنر اسیم اروڑا نے میڈیا کو بتایا، ’کانپور نگر کے تھانہ بررا میں مسلمان رکشہ ڈرائیور اسرار احمد کو مار پیٹ کا نشانہ بنایا گیا۔ اس مقدمے میں تین افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ ديگر ملزمان کی تلاش جاری ہے۔ یہاں حالات نارمل ہیں۔‘

یہ معاملہ کیا ہے؟

وائرل ویڈیو میں اسرار احمد کی سات سالہ بیٹی اپنے والد کو چھوڑنے کی التجا کرتی نظر آرہی ہے۔ ویڈیو میں یہ بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ مار پیٹ کیے جانے کے بعد چند پولیس اہلکار اسرار احمد کو اپنی جیپ میں لے جارہے ہیں۔ تاہم ویڈیو میں یہ صاف ہے کہ جب ہجوم اسرار احمد کو پیٹ رہا تھا تو بعض پولیس اہلکار بھی وہاں موجود تھے۔اس واقعے کا ایک دوسرے واقعے سے تعلق جوڑا جار رہا ہے جس میں تقریباً ایک ماہ قبل بررا علاقے میں رہنے والے ایک دلت خاندان کی نابالغ لڑکی کے ساتھ مبینہ طور پر چند نوجوانوں نے چھیڑ چھاڑ کی تھی۔

 

اس واقعے کے بعد الزام یہ ہے کہ لڑکی کے خاندان والوں کی مخالفت اور اعتراض کے بعد ملزمان نے لڑکی کے خاندان پر تبدیلی مذہب کا دباؤ ڈالنا شروع کر دیا تھا۔ اس واقعے میں شامل ملزمان میں دو لڑکے مسلمان ہیں اور ایک ہندو اور جس لڑکی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی وہ دلت برادری سے تعلق رکھتی ہے۔اطلاعات کے مطابق پولیس نے پہلے تو اس معاملے میں رپورٹ درج کرنے سے انکار کر دیا لیکن بعد میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے مقامی ایم ایل اے مہیش ترویدی کی مداخلت کے بعد اور بچی کی والدہ کی تحریری درخواست پر دو سگے بھائیوں صدام، سلمان اور ان کے دوست مکل کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔

 

یہ تینوں لڑکے اور دلت لڑکی ایک دوسرے کے پڑوسی ہیں۔ محمد اسرار صدام اور سلمان کے پڑوسی اور دور کے رشتہ دار بھی ہیں۔لڑکی کی والدہ نے بتایا کہ ’میری 14 برس کی لڑکی کو یہ تینوں ملزمان روزانہ چھیڑتے تھے۔ جب ہم لوگ شکایت کرتے تھے تو یہ مار پیٹ کی دھمکی دیتے اور مذہب تبدیل کرنے کا دباؤ ڈالتے تھے۔ ہم نے اپنی شکایت میں زبردستی تبدیلی مذہب کی بات کہی تھی لیکن پولیس نے ایف آئی آر میں چھیڑ چھاڑ کی دفعات کے تحت ہی مقدمہ درج کیا۔‘حالانکہ پولیس کا کہنا ہے کہ 12 جولائی کو ہی دونوں فریقین نے ایک دوسرے کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی تھی۔کانپور( ساؤتھ) کی ڈپٹی پولیس کمشنر روینا تیاگی نے بتایا کہ ’12 جولائی کو لڑکی کی ماں، رانی نے ایف آئی آر درج کرائی تھی اس میں مار پیٹ کی شکایت کی گئی تھی۔ جن لوگوں کے خلاف رانی نے ایف آئی آر درج کرائی ان میں صدام، مکل اور سلمان کے خلاف لڑکی کو تنگ کرنے اور مذہب تبدیل کرنے کا دباؤ ڈالنے کی بات کہی گئی تھی۔‘

 

سخت گیر ہندو نظریاتی تنظیم بجرنگ دل کے کارکنان کا الزام ہے کہ تبدیلی مذہب کی شکایت درج کرانے کے باوجود پولیس نے کارروائی نہیں کی۔اس کے بعد کچھ روز پہلے بجرنگ دل کے بعض کارکنان صدام اور سلمان کے گھر پہنچے اور جب اسرار احمد اور ديگر پڑوسیوں نے مداخلت کرنے کی کوشش کی تو انھوں نے اسرار احمد کو گھر سے باہر گھسیٹا اور سر عام پٹائی کرنی شروع کر دی۔بعض افراد کا کہنا ہے کہ اس دوران وہاں پولیس موجود تھی اور وہ خاموش تماشائی بنی رہی۔

فرقہ وارانہ کشیدگی

اسرار احمد کی پٹائی کرنے والوں میں مبینہ طور پر بجرنگ دل کے کارکنان کے علاوہ بی جے پی کے ایم ایل اے مہیش تریودی کے بیٹے بھی شامل تھے۔ شروع میں پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی تھی لیکن واقعے کی ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر پولیس اور انتظامیہ پر زبردست تنقید ہوئی جس کے بعد پولیس نے تین ملزمان کے نام ایف آئی آر میں شامل کیے اور جمعرات کی شام کو ان کو گرفتار بھی کر لیا۔

اس بارے میں مہیش تریویدی کے بیٹے شبھم تریودی کہتے ہیں کہ وہ جائے وقوع پر موجود ضرور تھے لیکن مار پیٹ میں شامل نہیں تھے۔

’میں علاقے کے دورے پر تھا جب مجھے اس واقعہ کی اطلاع ملی۔ میں نے پولیس کو اطلاع کی اور ان سے جائے وقوع پر پہنچنے کے لیے کہا۔ میں بھی صحیح وقت پر وہاں پہنچ گیا۔ میں نے وہاں موجود ایس ایچ او سے کہا کہ معاملے کی غیر جانب دارانہ طریقے سے تفتیش ہونی چاہیے اور جو بھی قصوروار ہو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔‘

اس دوران علاقے میں فرقہ وارانہ کشیدگی کے بڑھنے کے خدشے کے تحت اضافی پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گيا ہے۔

بجرنگ دل کے مقامی رہنما دلیپ سنگھ بجرنگی نے پولیس پر یکطرفہ کارروائی کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ ’اگر پولیس انصاف نہیں کرتی ہے تو ہم اپنی بہنوں اور بیٹیوں پر اس طرح سے ظلم ہوتے نہیں دیکھ سکتے ہیں۔‘

پولیس کی جانب سے مار پیٹ کرنے کے الزام میں تین افراد کی گرفتاری کے بعد بجرنگ دل کے کارکنان نے مقامی پولیس کمشنر کے دفتر کے باہر احتجاج کیا تھا۔

اب کیا کریں؟ڈیلٹا وائرس کا مقابلہ کرنے کے لئے ویکسن کی تیسری، چوتھی اور پانچویں ڈوز بھی لینی پڑسکتی ہے

ریاض، 13 اگست (اردو اخبار دنیا) سعودی عرب میں متعدی امراض کے ماہر ڈاکٹر علی الشہری نے کہا ہے کہ وبا کی بدلتی صورت حال کے پیش نظر ممکن ہے ویکسین کی تیسری، چوتھی اور پھر پانچویں خوراک بھی لگوانا پڑے۔طبی ماہر نے کہا کہ مملکت میں کورونا ویکسین کی تیسری خوراک ناگزیر ہوچکی ہے، دنیا کے کئی ممالک نے تیسری ڈوز لگانا شروع کردی ہے، کورونا وائرس کی نئی قسم ڈیلٹا کے کئی کیسز ریکارڈ پر آئے ہیں، اس قسم نے متعدد ملکوں کو اپنے نشانے پر لیا اور سعودی عرب بھی انہیں میں سے ایک ہے۔

ڈاکٹر علی الشہری کا ماننا ہے کہ مستقبل میں کورونا قسموں کی تعداد بڑھ سکتی ہے، اس کا بھی امکان ہے کہ ہمیں چوتھی اور پانچویں خوراک بھی لگوانی پڑ جائے۔متعدی امراض کے ماہر کا کہنا تھا کہ طبی جائزوں سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ معمر افراد، خطرناک بیماریوں میں مبتلا افراد اور کینسر کے مریضوں کو تیسری خوراک لگوانا ہوگی۔

دریں اثنا ایک اور سعودی طبی ماہر ڈاکٹر طاہر الازرقی نے بتایا کہ مشاہدے میں آرہا ہے کہ ویکسین لگوانے کے چھے ماہ بعد مدافعتی نظام اور اینٹی باڈیز انسانی جسم میں کمزور پڑنے لگتی ہیں، ایسی صورت میں وائرس حملہ آور ہوسکتا ہے، اسی سبب عوام کو ویکسین کی تیسری، چوتھی اور پانچویں خوراک لینا پڑے گی۔دوسری جانب سعودی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ کورونا کی بدلتی ہوئی قسمیں زیادہ خطرناک ہیں جو تیزی سے پھیل رہی ہے، سعودی شہری اور مقیم غیر ملکی پہلی فرصت میں کورونا ویکسین کی دونوں خوراکیں لگوا لیں۔

اب ناندیڑ – تروپتی براہ راست ہوائی سروس شروع

ناندیڑ: 13اگست (اردو اخبار دنیا) آندھرا پردیش میں شری تروپتی بالاجی دیوستھان کی ایک منفرد عالمی اہمیت ہے۔ ضلع ناندیڑ اور مراٹھواڑہ سے ہزاروں عقیدت مند وہاں جاتے ہیں۔ عقیدت مندوں نے مطالبہ کیا تھاکہ ناندیڑ سے تروپتی کے لیے ہوائی سروس ہونی چاہیے۔ ضلع کے سرپرست وزیر اشوک راو¿ چوہان اس کے لیے سخت کوشاں تھے ۔اور ان کی کوششیں کامیاب رہی ہیں اور اب ناندیڑ-تروپتی براہ حیدرآبادہوائی سروس چلے گی ۔شری گروگووند سنگھ جی ہوائی اڈہ 2008 میں ناندیڑ میں گرو تا گدی دور میں بنایا گیا تھا۔

اس ہوائی اڈے پر نائٹ لینڈنگ دستیاب ہے۔ فی الحال ناندیڑ ممبئی ، دہلی ، حیدرآباد ، امرتسر اور کولہا پور سے ہوائی راستے سے منسلک ہے۔ تروپتی نے اب اس میں اضافہ کر دیا ہے۔ ناندیڑ سے تروپتی جانے والے عقیدت مند کئی دنوں سے براہ راست پرواز کا مطالبہ کر رہے تھے۔

اس کے لیے سرپرست وزیر اشوک راو¿ چوہان نے ٹروجیٹ ایئر لائنز کے ساتھ بات چیت کی۔اس کے نتیجے میں ، موجودہ ایئر لائن کو تروپتی تک بڑھا دیا گیا ہے۔ فلائٹ منگل ، بدھ اور جمعرات کو تروپتی-حیدرآباد-ناندیڑ-ممبئی-کولہاپور سے روانہ ہوگی اور اسی دن تروپتی واپس آئے گی۔فلائٹ ناندیڑ سے شام 6:10 بجے روانہ ہو گی اور رات 9:10 پر تروپتی پہنچے گی۔ فلائٹ اسی دن صبح 7:05 بجے تروپتی سے روانہ ہوگی اور صبح 10:25 پر ناندیڑ پہنچے گی۔ اس کے بعد ممبئی کولہاپور کے لیے روانہ ہوجائے گی ۔اس طیارے کا کم سے کم کرایہ 3ہزار999 روپے رکھاگیا ہے۔ سرپرست وزیر اشوک راو¿ چوہان کی کوششوں کے نتیجے میں عقیدت مند اطمینان کا اظہار کر رہے ہیں۔

ناندیڑ:نذیرالدین (مدنی) تین دن سے لاپتہ

  • (اردو اخبار دنیا)

ناندیڑ: 13اگست(راست)بڑی درگاہ ‘گاڑی پورہ کے ساکن نذیرالدین مدنی ولداحمدیوسف الدین عمر 38 سال گزشتہ 10اگست 2021ءسے لاپتہ ہے ۔اس طرح کی خبر نذیرالدین کے بھائی ناظم الدین نے اتوارہ پولس اسٹیشن میں درج کروائی ہے۔انھوں نے بتایاکہ ان کابھائی 10 اگست کو دوپہر دو بجے گھر سے یہ کہہ کر نکلا کہ وہ اپنے پلاٹنگ کے کاروبار کے سلسلے میں قندہار جارہا ہے ۔

لیکن وہ آج تک قندہار سے واپس لوٹا نہیں ۔اس کے موبائل فون نمبر 7020849624- 9273203789 پربار بار کال کرنے پربھی اس سےے رابطہ نہیں ہورہا ہے۔ اس لاپتہ شخص کارنگ گورا ‘ جسم دُبلا ہے اور اونچائی پانچ فٹ 4 انچ ہے۔

اتوارہ پولس اسٹیشن کے پولس سب انسپکٹرجوندھڑے نے عوام الناس سے اپیل کی ہے کہ یہ شخص اگر کسی کو دیکھائی دے تو وہ موبائیل نمبر 9822437598 اور پولس اسٹیشن کے فون نمبر 02462- 23510 پراطلاع دیں۔

جمعہ, اگست 13, 2021

اوٹکور میں اتوار کو جلسہ بعنوان ماه محرم اور شرکیہ عقائد

(اردو اخبار دنیا)اوٹکور۔اوٹکور مستقر کی سرزمین پر بروز اتوار مطابق 15 اگست 2021 کو بمقام مسجد اہلحدیث محمدی،محلہ سلفی نگر بوقت بعد نماز مغرب تا عشا ایک عظیم الشان جلسہ عام بعنوان ماہ محرم اور شرکیہ عقاٸد منعقد کیا جارہا ہے۔جس میں اسلامک چینل آٸی پلس ٹی وی کے مشہور و معروف عالم دین مقرر فضیلتہ الشیخ ثنااللہ مدنی حفظہ اللہ تعالی کا خطاب عام ہوگا۔جلسہ کی صدارت محمد اسماعیل بڑے پیر امیر مقامی جمعیت اہلحدیث اوٹکور کریں گے۔جلسہ کا آغاز حافظ عبدالقیوم امام و خطیب مسجد محمدی سلفی، کے قرات کلام پاک سے ہوگا۔اس موقع پر سیف اللہ خان ناٸب امیر مقامی جمعیت اہلحدیث اوٹکور نے ایک صحافتی بیان میں تمام عامتہ المسلمین سے درخواست کی کہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں شرکت فرماکر اس جلسہ کو کامیاب و کامران بنانے کی اپیل کی۔اور انہوں نے کہا کہ جلسہ میں شرکت کرنے والے احباب کیلٸے طعام کا انتظام کیاجاٸے گا اس کے علاوہ خواتین حضرات کیلٸے بھی مسجد میں پردے کا معقول نظم رہے گا۔

28 سالہ کرکٹر انمکت چندنے ہندستانی کرکٹ کو الوداع کہا

نئی دہلی(اردو اخبار دنیا) ،13؍اگست - 2012 انڈر 19 ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم کے کپتان انمکت چند نے ہندوستانی کرکٹ کو الوداع کہہ دیا ہے۔
اب رپورٹ کے مطابق وہ ہندوستان میں نہیں بلکہ امریکہ میں اپنی بیٹنگ کی مہارت دکھاتے نظر آئیں گے۔ انمکت چند نے انڈیا انڈر 23 ٹیم کی نمائندگی بھی کی اور انہیں ایک انتہائی باصلاحیت بلے باز کے طور پر پہچانا گیا، لیکن انہیں اپنی اچھی پرفارمنس کی وجہ سے کبھی بھی ہندوستانی ٹیم میں کھیلنے کا موقع نہیں ملا۔ انہوں نے کئی میچوں میں انڈیا اے کی نمائندگی بھی کی۔انمکت چند نے اپنے ٹوئٹر پر ایک خصوصی خط شیئر کیا ہے، جس میں ہندوستان کے لیے کھیلنے کا موقع دینے پر کرکٹ بورڈ آف انڈیا آسٹریلیا کے خلاف ناقابل شکست 111 رنز بنائے اور ٹیم کو فاتح بنایا۔کا شکریہ ادا کیا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے دہلی کرکٹ بورڈ کا بھی شکریہ ادا کیا جہاں سے انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔دہلی کے بلے باز انمکت چند نے ہوم میچوں میں دہلی کی نمائندگی کی تھی، لیکن بعد میں اپنی ٹیم کو تبدیل کیا کیونکہ وہ یہاں زیادہ کامیاب نہیں تھے۔ انمکت چند نے سب سے پہلے سب کی نظر اس وقت ان پرہوئی جب انڈین انڈر 19 ٹیم نے ان کی کپتانی میں سال 2012 میں ورلڈ کپ ٹائٹل جیتا۔
اس سال کے انڈر 19 ورلڈ کپ کے فائنل میچ میں انہوں نے آسٹریلیا کے خلاف ناقابل شکست 111 رنز بنائے اور ٹیم کو فاتح بنایا۔
انہوں نے صرف 18 سال 15 دن کی عمر میں آئی پی ایل میں قدم رکھا اور کئی ٹیموں کی نمائندگی کی جیسے دہلی ڈیئر ڈیولز ، ممبئی انڈینس اور راجستھان رائلز۔ دائیں ہاتھ کے اس اوپنر بلے باز نے 67 فرسٹ کلاس میچوں میں 8 سنچریوں کی مدد سے 3379 رنز بنائے جبکہ 120 لسٹ اے میچوں میں انہوں نے 7 سنچریوں کی مدد سے 4505 رنز بنائے۔ انہوں نے 77 ٹی 20 میچوں میں 1565 رنز بنائے اور تین سنچریاں بھی بنائیں۔ ٹی 20 میچوں میں ان کا بہترین اسکور 125 رنز، فرسٹ کلاس میچوں میں 151 اور لسٹ اے میچز میں 127 رنز تھا۔

یوگی حکومت نے ڈاکٹر کفیل کو راحت دینے سے کیا انکار ، دوسرے معاملے میں معطلی جاری رکھنے کا فیصلہ

(اردو اخبار دنیا)اتر پردیش کی یوگی آدتیہ ناتھ حکومت نے 2017 کے بی آر ڈی میڈیکل کالج میں آکسیجن بحران معاملہ میں مبینہ لاپروائی کے لیے چار سال سے معطل ڈاکٹر کفیل خان کو راحت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ ریاستی حکومت نے الٰہ آباد ہائی کورٹ کو مطلع کیا ہے کہ معطل چائلڈ اسپیشلسٹ ڈاکٹر کفیل خان کی معطلی جاری رکھی جائے گی، کیونکہ ان کے خلاف ایک الگ ڈسپلنری کارروائی شروع کی گئی ہے۔

یوپی: 75ویں یومِ آزادی پر یوگی حکومت کی قلعی کھولے گی کانگریس، بنایا خاص منصوبہ

حکومت نے جمعرات کو عدالت کو بتایا کہ ان کے خلاف معطلی کا ایک الگ حکم پاس کیا گیا ہے۔ ایڈیشنل سالیسیٹر جنرل منیش گویل نے عدالت میں کہا کہ یہ کارروائی ابھی ختم ہونی ہے اور اس میں معطلی کا حکم جاری ہے۔ گورکھپور کے بی آر ڈی میڈیکل کالج میں آکسیجن کی کمی سے 60 سے زائد بچوں کی موت کے معاملے میں آکسیجن کی کمی میں مبینہ کردار کے لیے ڈاکٹر کفیل کو اگست 2017 میں معطل کیے جانے کے بعد ڈائریکٹر، میڈیکل ایجوکیشن کے دفتر سے منسلک ہونے کی مدت کے لیے یہ کارروائی کی گئی ہے۔

مودی حکومت نے ہوائی سفر کرنے والوں کو بھی دیا جھٹکا، کرایہ بڑھانے کا اعلان

جسٹس یشونت ورما نے اب ریاستی حکومت کو ایک حلف نامہ کے ذریعہ سے دو ہفتے کےاندر، بعد کی معطلی حکم کے ساتھ ساتھ 22 اگست 2017 کی معطلی کے ابتدائی حکم سے متعلق دیگر ضروری باتوں کو ریکارڈ پر رکھنے کی ہدایت دی ہے، جس کے ذریعہ ڈاکٹر کفیل کو معطل کیا گیا تھا۔ عدالت نے معاملے کی سماعت کی اگلی تاریخ 31 اگست طے کی ہے۔

ٹوئٹر کے خطرناک کھیل سے راہل گاندھی نے اٹھایا پردہ، دیکھیے یہ ویڈیو

واضح رہے کہ الٰہ آباد ہائی کورٹ ڈاکٹر کفیل کی اس عرضی پر سماعت کر رہا ہے جس میں انھوں نے 22 اگست 2017 کو سروس سے اپنی معطلی کو چیلنج دیا ہے۔ اس معاملے میں 6 اگست 2021 کو ریاستی حکومت نے 24 فروری 2020 کو دوبارہ جانچ شروع کرنے کے حکم کو واپس لینے کی جانکاری دی تھی۔ اس سے قبل معاملے کی پہلی اعلیٰ سطحی جانچ میں ڈاکٹر کفیل کو پوری طرح سے بے قصور بتایا گیا تھا۔

اردودنیانیوز۷۲

عید الفطر کا پیغام

عید الفطر کا پیغام  مضمون نگار : محمد ضیاء العظیم، معلم چک غلام الدین ہائی اسکول، ویشالی، بہار، موبائل نمبر :7909098319 اللہ رب ...