


اس حادثے کی اطلاع ملتے ہی خالد سکندر؛ مسعود مولانا کمپاؤنڈ فیاض افسر؛ ضیاء الرحمن مسکان لڈو بلڈر شفیق انٹی کرپشن اور ستار بھائی ایمبولینس والے کی مدد کیلئے پہونچ گئے۔یہ حادثہ آج مورخہ 17 اگست 2021 بروز منگل صبح رونما ہوا۔



اس حادثے کی اطلاع ملتے ہی خالد سکندر؛ مسعود مولانا کمپاؤنڈ فیاض افسر؛ ضیاء الرحمن مسکان لڈو بلڈر شفیق انٹی کرپشن اور ستار بھائی ایمبولینس والے کی مدد کیلئے پہونچ گئے۔یہ حادثہ آج مورخہ 17 اگست 2021 بروز منگل صبح رونما ہوا۔
https://urduduniyanews72.blogspot.com0
اردو دنیا نیوز۷۲
سرورق بین الاقوامی قومی بین ریاستی خبریں اسپورٹس جرائم و حادثات فلمی دنیا گوشہ خواتین و اطفال مضامین و شاعری دلچسپ خبریں صحت اور سائنس
ڈائریکٹر ایم رحمانی
Director M Rahmani
https://urduduniyanews72.blogspot.com0
اردو دنیا نیوز۷۲
سرورق بین الاقوامی قومی بین ریاستی خبریں اسپورٹس جرائم و حادثات فلمی دنیا گوشہ خواتین و اطفال مضامین و شاعری دلچسپ خبریں صحت اور سائنس
ڈائریکٹر ایم رحمانی
Director M Rahmani

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی
تاریخ کا مشہور واقعہ ہے _ ہجرتِ مدینہ کے آٹھویں سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں فاتحانہ داخل ہوئے _ آپ نے پوری کوشش کی کہ قتل و غارت گری بالکل نہ ہو _ ایک فوجی ٹکڑی کے کمانڈر نے جوش میں کہہ دیا : الیَومُ یَومُ المَلحَمَۃ (آج کشت و خون کا دن ہے) آپ کو خبر ملی تو آپ نے انھیں معزول کردیا اور فرمایا : الیَومُ یَومُ المَرحَمَۃ ( آج رحم و کرم کا دن ہے) _ اس موقع پر آپ نے عام معافی کا اعلان کردیا : جو اپنے گھر میں رہے اس کے لیے امن ہے _ جو مسجدِ حرام میں پناہ لے اس کے لیے امن ہے _ جو ہتھیار ڈال دیے اس کے لیے امن ہے _ جو ابو سفیان ( جو اُس وقت تک مسلمانوں کے دشمنوں کے سردار تھے) کے گھر میں پناہ لے اس کے لیے امن ہے _ مکہ میں داخلہ کے وقت کچھ لوگوں نے مزاحمت کی ، صرف ان سے مقابلہ کیا گیا ، باقی تمام لوگوں کو معافی دے دی گئی _ ان میں وہ لوگ بھی تھے جنھوں نے مکی عہد کے 13برس اور ہجرتِ مدینہ کے بعد 8 برس مسلمانوں کو تکلیف پہنچانے اور ستانے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی تھی _ لیکن عام معافی میں ان لوگوں کو بھی شامل کیا گیا _ فتح کے بعد آپ نے اعلانِ عام کردیا :
جَآءَ الۡحَـقُّ وَزَهَقَ الۡبَاطِلُؕ اِنَّ الۡبَاطِلَ كَانَ زَهُوۡقًا _ ( الإسراء : 81)
” حق آگیا اور باطل مٹ گیا ، باطل تو مٹنے ہی والا ہے ۔ “
یہ اتنا عظیم الشان واقعہ تھا کہ تاریخ میں کوئی نظیر نہیں ملتی _ تمام مؤرخین ، چاہے وہ غیر جانب دار ہوں یا مخالف ، سب نے اس واقعہ کو سراہا ہے اور اس پر آپ کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے _
رسول اللہ ﷺ کے جانشینوں نے پھر اسی کردار کا مظاہرہ کیا ہے _ طالبان نے کابل میں فاتحانہ داخلہ سے پہلے عام معافی کا اعلان کیا ہے _ ان کے ترجمان نے کہا ہے کہ عوام ، افغان حکومت کے عملہ اور کارندوں ، اتحادی افواج کے لیے کام کرنے والوں ، سب کے لیے معافی ہے _ عوام کے مال و جان کی حفاظت ہماری بنیادی ذمے داری ہے _ ان کا یہ پیغام سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر نشر کیا گیا _ انھوں نے کہا کہ مجاہدین خزانہ ، عوامی سہولیات ، سرکاری دفاتر اور آلات ، پارکس ، سڑکوں اور پل وغیرہ پر خاص توجہ دیں گے ۔ یہ عوامی املاک ہیں ، ان کا تحفظ کیا جائے گا اور انہیں برباد کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی ۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلامک اسٹیٹ آف افغانستان ان تمام افراد کے لیے اپنے دروازے کھولتی ہے جنہوں نے ماضی میں حملہ آوروں کے لیے کام کیا اور ان کی مدد کی ، یا جو اب بھی کرپٹ افغان حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں _ ہم ان کے لیے عام معافی کا اعلان کرتے ہیں اور انہیں دعوت دیتے ہیں کہ وہ قوم اور ملک کی خدمت کے لیے آگے آئیں ۔
طالبان کے زوال اور عروج میں ہمارے لیے متعدد اسباق موجود ہیں :
(1) ایمان و یقین کی طاقت سب سے بڑی طاقت ہے _ اس کے سامنے تمام طاقتیں ہیچ ہیں _ امریکہ کی سربراہی میں ناٹو کی افواج نے طالبان کی حکومت اکھاڑ پھینکی ، اس کے بعد 20 برس تک ان پر آگ اور بارود کی بارش کی ، زبردست بم باری کی ، طرح طرح کے بھیانک اسلحہ ان پر آزمائے ، لیکن وہ افغانوں کا بال بیکا نہ کرسکیں ، اس لیے کہ وہ اللہ کا سہارا تھامے ہوئے تھے اور اس سے بڑا اور کسی کا سہارا نہیں _
(2) کام یابی قربانیوں کے بعد حاصل ہوتی ہے _ طالبان نے بہت زیادہ قربانیاں دی ہیں _ وہ حکومت سے محروم کیے گئے _ ان کا بڑے پیمانے پر قتلِ عام کیا گیا _ انہیں قید کرکے دردناک سزائیں دی گئیں _ وہ گھر سے بے گھر اور اپنی املاک سے محروم کیے گئے _ لیکن انھوں نے صبر کیا ، ڈٹے رہے اور قربانیاں پیش کرتے رہے ، بالآخر منزل نے ان کے قدم چومے اور کام یابی نے ان کی دست بوسی کی _
(3) اپنا نصب العین درست رکھنا چاہیے اور منزل پر نگاہیں جمانی چاہییں _ راستے جتنے بھی پُر خطر ہوں ، منزل جتنی بھی دور ہو ، کوئی حرج نہیں _ طالبان کو دوبارہ اقتدار حاصل کرنے میں 20 برس لگ گئے ، لیکن نہ وہ تھکے ، نہ گھبرائے ، نہ انھوں نے سستی اور تن آسانی کا مظاہرہ کیا ، بلکہ دھیرے دھیرے منزل کی طرف بڑھتے رہے ، یہاں تک کہ اسے پالیا _
(4) مشن کی تکمیل کے لیے طاقت کا حصول ضروری ہے _ جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات ہے _ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :
وَاَعِدُّوۡا لَهُمۡ مَّا اسۡتَطَعۡتُمۡ مِّنۡ قُوَّةٍ وَّمِنۡ رِّبَاطِ الۡخَـيۡلِ تُرۡهِبُوۡنَ بِهٖ عَدُوَّ اللّٰهِ وَعَدُوَّكُمۡ وَاٰخَرِيۡنَ مِنۡ دُوۡنِهِمۡ ۚ لَا تَعۡلَمُوۡنَهُمُ ۚ اَللّٰهُ يَعۡلَمُهُمۡؕ (الانفال :60)
” اور تم لوگ ، جہاں تک تمہارا بس چلے ، زیادہ سے زیادہ طاقت اور تیار بندھے رہنے والے گھوڑے اُن کے مقابلہ کے لیے مہیّا رکھو ، تاکہ اس کے ذریعہ سے اللہ کے اور اپنے دشمنوں کو اور ان دوسرے اعداء کو خوف زدہ کر دو جنہیں تم نہیں جانتے ، مگر اللہ جانتا ہے ۔”
طالبان نے اس اصول کو اپنایا _ انھوں نے ایمانی طاقت کے ساتھ مادّی طاقت بھی حاصل کرنے کی کوشش کی _ اس طرح انھوں نے اپنے دشمنوں پر اپنی دھاک اور ہیبت طاری کردی _
(5) طالبان نے ثابت کردیا کہ امّتِ مسلمہ کو عروج اور غلبہ اسی طریقے سے اور اسی راہ پر چل کر حاصل ہوسکتا ہے جس پر چل کر ابتدائی صدیوں میں حاصل ہوا تھا _ امت کی بھلائی نہ دیگر تہذیبوں کو اختیار کرنے میں ہے نہ دیگر مذہبی گروہوں کے نقشِ قدم پر چلنے میں _ کام یابی ، غلبہ اور عروج آج بھی اللہ کی اطاعت اور خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کے نقشِ قدم کی پیروی کرنے میں ہے _
https://urduduniyanews72.blogspot.com0
اردو دنیا نیوز۷۲
سرورق بین الاقوامی قومی بین ریاستی خبریں اسپورٹس جرائم و حادثات فلمی دنیا گوشہ خواتین و اطفال مضامین و شاعری دلچسپ خبریں صحت اور سائنس
ڈائریکٹر ایم رحمانی
Director M Rahmani
بیل گاڑی میں سوار ،سنگرام سنگھ، راجیش یادو اور نریندر ورما کے مطابق یوگی قیادت والی موجودہ حکومت۔ ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے ۔ مرکزی اور ریاستی حکومتوں نے ملک کو کھوکھلا کر دیا ہے صرف عام آدمی سے ہی جینے کا حق نہیں چھینا گیا ہے بلکہ دیش کے انداتا کسان کو بھی تباہ و برباد کرنے کے لئے ان پر غیر ضروری قانون تھوپے گئے ہیں۔ راجیش یادو نے کہا کہ غریب آدمی دو وقت کی روٹی نہیں کما پارہاہے لاکھوں لوگ بے روزگار ہوگئے ہیں۔ لاکھوں مزدور اور دستکار در در کی ٹھوکریں کھانے اور رکشہ چلانے کے لئے مجبور ہیں اور سرکار صرف جھوٹے دعوے کئے جارہی ہے ۔۔ سنگرام سنگھ نے اعظم خاں پر تھوپے گئے۔ ناجائز مقدمات ان کے افراد خاندان کا استحصال اور جوہر یونیورسٹی کی تباہی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یوگی حکومت سیاسی انتقام لینے اور سماج کے ایک خاص ورگ کو ستانے اور پریشان کرنے کے لئے آئین و دستور کے خلاف کام کررہی ئے۔
سرکار کو نجی فائدہ پہنچانے والے سارے کام اور ریلیاں کبھی بھی کہیں بھی ہو سکتی ہیں لیکن سماج وادیوں کو مزدوروں اور کسانوں کے حق میں آواز اٹھانے کی بھی اجازت نہیں اس حکومت نے لوگوں سے احتجاج کا حق بھی چھین لیا ہے اگر کوئی دبا کچلا پریشان انسان اپنے حق مانگنے کے لئے آواز اٹھاتا ہے تو اسے پہلے پولس کا اتیاچار ، ظلم جھیلنا پڑتا ہے پھر اسے جھوٹے مقدمے میں پھنسا کر جیل میں ڈال دیا جاتا ہے ۔یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ سماج وادی پارٹی کے اراکین کے ساتھ کانگریس پارٹی کے لیڈروں اور اراکین نے بھی حکومت کے خلاف محاذ آرائی کرتے ہوئے جم کر نعرے بازی کی۔ پیٹرول ڈیزل دال چاول آٹے اور گیس کی بڑھتی قیمتوں پر حکومت کی سخت تنقید کرتے ہوئے موجودہ مرکزی اور اتر پردیش کی حکومت کو ملک کی تاریخ کی بدترین حکومت قرار دیا ۔
https://urduduniyanews72.blogspot.com0
اردو دنیا نیوز۷۲
سرورق بین الاقوامی قومی بین ریاستی خبریں اسپورٹس جرائم و حادثات فلمی دنیا گوشہ خواتین و اطفال مضامین و شاعری دلچسپ خبریں صحت اور سائنس
ڈائریکٹر ایم رحمانی
Director M Rahmani
ICC T20 world cup 2021 schedule :
ہندوستان کا پہلا مقابلہ پاکستان سے ہوگا ، جانئے مکمل پروگرام(اردو اخبار دنیا)نئی دہلی: آئی سی سی نے اس سال ہونے والے ٹی-20 عالمی کپ کے شیڈول کا اعلان منگل کے روز کر دیا ہے۔ کورونا وائرس کے سبب ہندوستان میں ہونے والے اس ٹورنامنٹ کا انعقاد اب عمان اور دبئی میں کیا جارہا ہے۔ ٹی-20 عالمی کپ کا آغاز 17 اکتوبر کو ہوگا۔ خطابی مقابلہ 14 نومبر کو کھیلا جائے گا۔ ہندوستان 24 اکتوبر کو اپنی مہم کا آغاز کرے گا۔ اس کا پہلا مقابلہ پاکستان سے ہوگا۔ سپر 12 کے مقابلے 23 اکتوبر سے شروع ہوں گے۔ اس سے پہلے 17 اکتوبر سے پہلے راونڈ کے مقابلے کھیلے جائیں گے۔پہلا سیمی فائنل ابو ظہبی میں 10 نومبر کو کھیلا جائے گا۔ جبکہ دوسرا سیمی فائنل 11 نومبر کو دبئی میں کھیلا جائے گا۔ دونوں سیمی فائنل پر ریزرو ڈے ہے، خطابی مقابلہ 14 نومبر اتوار کو دبئی میں کھیلا جائے گا۔ 15 نومبر پیر کو ریزرو ڈے کے طور پر رکھا گیا ہے۔ ہندوستان شارجہ میں ایک بھی مقابلہ نہیں کھیلے گا۔ ہندوستان کے سبھی مقابلے ہندوستانی وقت کے مطابق، شام 7:30 بجے کھیلا جائے گا۔


https://urduduniyanews72.blogspot.com0
اردو دنیا نیوز۷۲
سرورق بین الاقوامی قومی بین ریاستی خبریں اسپورٹس جرائم و حادثات فلمی دنیا گوشہ خواتین و اطفال مضامین و شاعری دلچسپ خبریں صحت اور سائنس
ڈائریکٹر ایم رحمانی
Director M Rahmani

علی گڑھ: یوگی حکومت مختلف شہروں کے نام تبدیل کرنے کے لئے مشہور ہے اور الہ آباد سمیت متعدد شہروں کے نام تبدیل کئے جا چکے ہیں۔ اب علی گڑھ کا نام بھی تبدیل کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے اور علی گڑھ کی ضلع پنچایت نے اس معاملہ پر ایک قرارداد بھی منظور کر لی ہے۔ وہیں مین پوری کا نام بھی تبدیل کرنے کی قرارداد ضلع پنچایت سے منظور کی گئی ہے۔
ضلع پنچایت کے اجلاس کے دوران علی گڑھ کا نام ہری گڑھ کرنے کی قرارداد پیش کی گئی۔ اس قراردفاد کو کیہری سنگھ اور امیش یادو نے پیش کیا گیا۔ جسے متفقہ طور پر تمام ارکان نے منظور کر لیا گیا۔
ادھر مین پوری کا نام بھی تبدیل کر کے ماین ریشی کے نام پر رکھنے کی قراردا پیش کی گئی۔ مین پوری کا نام تبدیل کرنے کی کئی ارکان نے مخالفت بھی کی۔ تاہم ضلع پنچایت ارکان کی اکثریت کی جانب سے قرارداد کو حمایت دینے کے بعد ضلع پنچایت صدر ارچنا بھدوریا نے مین پوری کا نام تبدیل کر کے ماین نگر کرنے کی قرارداد کو منظور کر لیا۔
ضلع پنچایتوں میں منظور کی گئی قراردادوں کو اب یوگی حکومت کے پاس بھیجا جائے گا، جہاں یہ فیصلہ لیا جائے گا کہ ان شہروں کے ناموں کو تبدیل کرنا ہے یا نہیں۔
علی گرھ میں اس وقت یوپی کے سابق وزیر اعلیٰ کلیان سنگھ کے بیٹے راجویر سنگھ راجو کی سمدھن وجے سنگھ ضلع پنچایت صدر ہیں۔ وہیں مین پوری کی ضلع پنچایت صدارت کی کرسی پہلی پرتبہ بی جے پی کے ہاتھ لگی ہے۔ ابھی تک یہاں سماجوادی پارٹی کی جیت حاصل کرتی آ رہی تھی۔
https://urduduniyanews72.blogspot.com0
اردو دنیا نیوز۷۲
سرورق بین الاقوامی قومی بین ریاستی خبریں اسپورٹس جرائم و حادثات فلمی دنیا گوشہ خواتین و اطفال مضامین و شاعری دلچسپ خبریں صحت اور سائنس
ڈائریکٹر ایم رحمانی
Director M Rahmani

نئی دہلی.(اردو اخبار دنیا)
قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے کابل کے ایک گردوارے میں ہوئےدھماکے کی جانچ کے لئے کابل کا سفرملتوی کردیا ہے۔دھماکے کے سلسلے میں ایک مقدمہ درج کرنے کے تقریبا ایک سال بعدبھی اس کیس جس میں پیش رفت نہیں ہوئی ہے جس میں ایک بھارتی سکھ سمیت 27 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
اس حملے کی ذمہ داری ابھی تک کسی بھی گروپ نے قبول نہیں ہے۔ اب طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد این آئی اے کی جانچ کوبھی غیر معینہ مدت' کے لیے ملتوی کر دیا گیا ہے۔ این آئی اے نے 25 مارچ 2020 کے دہشت گردانہ حملے کے سلسلے میں اپریل 2020 میں ایک کیس درج کیا تھا۔ این آئی اے نے ترمیم شدہ این آئی اے ایکٹ کے مطابق بھارت سے باہر کیے گئے دہشت گردانہ حملے کا مقدمہ درج کرنے کی یہ پہلی مثال تھی۔
آئینی ترمیم میں مرکزی ایجنسی کو اختیار دیا گیاہے کہ وہ ہندوستان سے باہر کیے گئے ان دہشت گردانہ حملوں کی تحقیقات کرسکتی ہے جن میں کوئی بھارتی شہری متاثر کیا ہوا ہو یا ہندوستان کے مفاد کو نقصان پہنچاہو۔ یہ مقدمہ تعزیرات ہند اور انسداد دہشت گردی قوانین کی مختلف دفعات کے تحت درج کیا گیا تھا۔
حملے کے وقت گوردوارے میں تقریبا 150 افراد موجود تھے اور بھارتی شہری تیان سنگھ بھی مارا گیا تھا۔ این آئی اے کے ایک عہدیدار نے کہا ، "این آئی اے کی ایک ٹیم تحقیقات کے لیے کابل کا دورہ کرنے والی تھی۔
افغانستان کی موجودہ صورت حال کو دیکھتے ہوئے ، جہاں طالبان نے اقتدار پر قبضہ کر لیا ہے ، این آئی اے کا دورہ غیر معینہ مدت تک تاخیر کا شکار ہو جائے گا۔ "این آئی اے کے مطابق ، کیرالہ کے ضلع کاسر گوڈ کے 29 سالہ محمد محسن حملہ آوروں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔
https://urduduniyanews72.blogspot.com0
اردو دنیا نیوز۷۲
سرورق بین الاقوامی قومی بین ریاستی خبریں اسپورٹس جرائم و حادثات فلمی دنیا گوشہ خواتین و اطفال مضامین و شاعری دلچسپ خبریں صحت اور سائنس
ڈائریکٹر ایم رحمانی
Director M Rahmani
مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا ...