Powered By Blogger

منگل, اگست 17, 2021

پربھنی داعش معاملہ:ممبئی ہائی کورٹ نے ضمانت آرڈر پر اسٹے دینے سے انکار کیا

  • (اردو اخبار دنیا)

این آئی اے کو منہ کی کھانی پڑی، جمعیۃ نے سپریم کورٹ میں کیویٹ داخل کردیا، گلزار اعظمی
ممبئی 17/ اگست:قومی تفتیشی ایجنسی NIAکو آج اس وقت ممبئی ہائی کورٹ میں منہ کی کھانی پڑی جب جسٹس ایس ایس شندے اور جسٹس جمعدار نے ملزم اقبال احمد کی ضمانت پر رہائی کے حکم پر اسٹے دینے سے انکار کردیا، این آئی اے کی وکیل ارونا پائی نے عدالت سے گذارش کی کہ13 اگست کو پاس کیئے گئے آرڈر پر اسٹے دیا جائے تاکہ این آئی اے سپریم کورٹ میں ممبئی ہائی کورٹ کے حکم کو چیلنج کرسکے۔
عدالت نے کھلے لفظوں میں کہا کہ وہ ملزم کی ضمانت پر رہائی کے فیصلہ پر اسٹے نہیں دیں گے، این آئی اے اگر فیصلہ کو چیلنج کرنا چاہتی ہے تو وہ کرے انہیں قانونی حق ہے لیکن اسٹے مانگنا مناسب نہیں ہے۔ ممبئی ہائی کورٹ کے فیصلہ سے ملزم اقبال احمد کے اہل خانہ نے راحت کی سانس لی جو ملزم کی رہائی کے لیئے کوشاں ہیں۔

اس ضمن میں ملزم اقبال احمد کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے کہا کہ جمعیۃعلماء نے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ گورو اگروال کے ذریعہ سپریم کورٹ میں کیویٹ داخل کردیا ہے تاکہ اگر این آئی اے سپریم کورٹ میں ضمانت کی منسوخی کی عرضداشت داخل کرتی ہے تو ہمیں اس کی خبر مل جائے اور ہم بروقت اس کی مخالفت کرسکیں۔
گلزار اعظمی نے کہا کہ ملزم اقبال احمد کبیر احمد کی جیل سے رہائی کی کوشش شروع کی جاچکی ہے، آج سیشن عدالت میں ضمانت پر رہائی کا پروسیجر ایڈوکیٹ ارشد شیخ اور ایڈوکیٹ قربان حسین نے شروع کیا، سیشن عدالت کے رجسٹرار نے وقت کی تنگی اور کرونا گائڈلائنس کی وجہ سے اگلے دو دنوں میں پروسیس مکمل ہونے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ جمعہ کو پانچ سالوں سے جیل سلاخوں کے پیچھے مہاراشٹر کے پربھنی شہر سے تعلق رکھنے والے اقبال احمد کبیر احمد کو ممبئی ہائی کورٹ نے مشروط ضمانت پر رہا کیئے جانے کا حکم جاری کیا تھا، عدالت نے اپنے فیصلہ میں کہا تھاکہ پانچ سال کا طویل عرصہ گذر چکا ہے اور ابھی تک مقدمہ کی سماعت شروع نہیں ہوسکی اور مقدمہ کی سماعت کب شروع ہوگی اور کب اس کا اختتام ہوگا کسی کو نہیں معلوم لہذاملزم کو ضمانت پر رہا کیا جانا چاہئے کیونکہ ملزم ایک طویل عرصہ جیل میں گذارچکا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلہ میں مزید کہا کہ مقدمہ جلدا ز جلد سماعت ملزم کا حق لیکن مقدمہ کی سماعت تیزی سے نہ ہونے سے اس کی حق تلفی ہورہی ہے لہذا ملزم کو ضمانت پر رہا کیا جانا چاہئے۔

عیاں رہے کہ مہاراشٹر اے ٹی ایس نے ملزمین اقبال احمد، ناصر یافعی، رئیس الدین اور شاہد خان سمیت پر تعزیرات ہند کی دفعات 120(b),471,، یو اے پی اے کی دفعات 13,16,18,18(b), 20, 38, 39 اور دھماکہ خیز مادہ کی قانون کی دفعات 4,5,6 کے تحت مقدمہ قائم کیا ہے اور ان پر یہ الزام عائد کیا ہیکہ وہ آئی ایس آئی ایس کے رکن ہیں اور ہندوستان میں غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث ہیں نیز انہوں داعش کے لیڈر ابوبکر البغدادی کو اپنا خلیفہ تسلیم کیا ہے اور اس تعلق سے عربی میں تحریر ا یک حلف نامہ (بیعت) بھی ضبط کرنے کا پولس نے دعوی کیا ہے حالانکہ ملزمین کے اہل خانہ کا یہ کہنا ہیکہ مہاراشٹر اے ٹی ایس نے جھوٹے مقدمہ میں ان کے لڑکوں کو گرفتار کیا ہے کیو نکہ پولس نے ملزمین کے قبضہ سے ایسا کوئی بھی مواد ضبط نہیں کیا ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ وہ ممنوع تنظیم داعش کے رابطہ میں تھے اور وہ ہندوستان میں کچھ گڑ بڑ کرنا چاہتے تھے بلکہ شوشل میڈیا اور یوٹیوب کی مبینہ سرگرمیوں کو گرفتاری کی وجہ بتایا گیا ہے۔

چکن کھانے کے بعد دو بچوں کی موت ۔ تلنگانہ کے ضلع میدک میں واقعہ

(اردو اخبار دنیا)توپران: ریاست تلنگانہ کے ضلع میدک میں سمیت غذا کے استعمال سے دو بچوں کی موت ہوگئی۔ یہ واقعہ منوہرآباد منڈل میں پیش آیا۔ 13 سالہ منیشا اور10 سالہ کمارکے ماں باپ ایک پولٹری فارم میں کام کیا کرتے ہیں۔ آج انھوں نے چکن کا سالن بنایا اورکھانے کے بعد بچوں کی طبعیت بگڑگئی انھیں علاج کیلئے توپران کے ہاسپٹل لے جایا گیا جہاں بچوں کی موت ہوگئی۔ سمجھا جاتا ہے کہ سمیت غذا کے استعمال سے ان کی موت ہوئی ہے جبکہ ان کی ماں زیرعلاج ہے۔


ٹرین کی زد میں ا ? کر بہار پولیس میں تعینات انسیکٹر کی موت

ٹرین کی زد میں ا ? کر بہار پولیس میں تعینات انسیکٹر کی موت

(اردو اخبار دنیا)

پٹنہ، 17 اگست۔بکسر۔ دانا پور ریلوے سیکشن کے ٹوڑی گنج اسٹیشن پر منگل کے روز تیز رفتار ٹرین کی زد میں ا?کر بہار پولیس میں تعینات ایک داروغہ کی موت ہوگئی۔ متوفی انسپکٹر پٹنہ ضلع پولیس فورس میں تعینات تھے۔ ان کی موت پر پولیس اہلکاروں نے غم کا اظہار کیا ہے۔ واقعہ کے بعد ریل پولیس نے متوفی داروغہ کی لاش کاضلع اسپتال میں پوسٹ مارٹم کرایا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ کرشن برہم تھانہ کے رہیاں گاو?ں کے رہنے والے متوفی انسپکٹر اروند کمار سنگھ دس دنوں سے چھٹی پر اپنے گاو?ں گئے تھے۔ اسی دوران یہ واقعہ پیش ا?یا۔ انسپکٹر کی موت کے بعد ساتھی پولیس والے بہتغمگین ہیں۔ انہوں نے انسپکٹر کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی متوفی کے گھر میں افراتفری پھیل گئی۔


منماڑ روڈ پر تبلیغی جماعت کے ساتھیوں کی کار حادثہ کا شکار،دو ساتھی جاں بحق


ناسک :17. آگست۔( اردو اخبار دنیا)منماڑ روڈ گرو کرپا ہوٹل کے پاس وارانہ میں شاہی مسجد سے تبلیغی جماعت میں جانے والے ساتھیوں کی گاڑی شدید حادثے کا شکار ہوگئی جس میں دوساتھی جاں بحق ہوگئے اور ایک کی حالت تشویشناک ہے۔

اس حادثے کی اطلاع ملتے ہی خالد سکندر؛ مسعود مولانا کمپاؤنڈ فیاض افسر؛ ضیاء الرحمن مسکان لڈو بلڈر شفیق انٹی کرپشن اور ستار بھائی ایمبولینس والے کی مدد کیلئے پہونچ گئے۔یہ حادثہ آج مورخہ 17 اگست 2021 بروز منگل صبح رونما ہوا۔

راج گڑھ : روڈ کنارے مردہ حالت میں ملا بزرگ ، پولیس جانچ میں مصروف

(اردو اخبار دنیا)راج گڑھ، 17اگست ۔ شہر بیاورا تھانہ علاقے میں نگرپالیکا دفتر کے سامنے روڈ کنارے 80 سالہ بزگ مردہ حالت میںملا۔ پولیس نے بروز منگل پوسٹ مارٹم کے بعد لاش اہل خانہ کو تفویض کی اور معاملے میں جانچ شروع کر دی ہے۔
اے ایس ا?ئی یدھشٹھر شرما کے مطابق گزشتہ رات نگرپالیکا دفتر کے سامنے روڈ کنارے ہوشیار سنگھ (80) ولد لکشمی سنگھ سسودیا ساکن جونا بیاورا مردہ حالت میں ملا۔ مہلوک کے نزدیکی رشتہ دار دیویندر سسودیا کی اطلاع پر پولیس نے موقع سے لاش کو قبضے میں لیکر پوسٹ مارٹم کے لئے اسپتال پہنچایا۔ بتایا گیا ہے کہ بزرگ شخص پیروں سے معذور تھا اور وہ بازار میں مانگ کر اپنا پیٹ بھرتا تھا۔ بزرگ کی موت کن حالات میں ہوئی، اس کا خلاصہ نہیں ہوسکا ہے۔ فی الحال پولیس نے مرگ قائم کرکے معاملے کی جانچ شروع کر دی ہے۔

رسول اللہﷺ کے نقشِ قدم پر

  • (اردو اخبار دنیا)

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

تاریخ کا مشہور واقعہ ہے _ ہجرتِ مدینہ کے آٹھویں سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں فاتحانہ داخل ہوئے _ آپ نے پوری کوشش کی کہ قتل و غارت گری بالکل نہ ہو _ ایک فوجی ٹکڑی کے کمانڈر نے جوش میں کہہ دیا : الیَومُ یَومُ المَلحَمَۃ (آج کشت و خون کا دن ہے) آپ کو خبر ملی تو آپ نے انھیں معزول کردیا اور فرمایا : الیَومُ یَومُ المَرحَمَۃ ( آج رحم و کرم کا دن ہے) _ اس موقع پر آپ نے عام معافی کا اعلان کردیا : جو اپنے گھر میں رہے اس کے لیے امن ہے _ جو مسجدِ حرام میں پناہ لے اس کے لیے امن ہے _ جو ہتھیار ڈال دیے اس کے لیے امن ہے _ جو ابو سفیان ( جو اُس وقت تک مسلمانوں کے دشمنوں کے سردار تھے) کے گھر میں پناہ لے اس کے لیے امن ہے _ مکہ میں داخلہ کے وقت کچھ لوگوں نے مزاحمت کی ، صرف ان سے مقابلہ کیا گیا ، باقی تمام لوگوں کو معافی دے دی گئی _ ان میں وہ لوگ بھی تھے جنھوں نے مکی عہد کے 13برس اور ہجرتِ مدینہ کے بعد 8 برس مسلمانوں کو تکلیف پہنچانے اور ستانے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی تھی _ لیکن عام معافی میں ان لوگوں کو بھی شامل کیا گیا _ فتح کے بعد آپ نے اعلانِ عام کردیا :
جَآءَ الۡحَـقُّ وَزَهَقَ الۡبَاطِلُ‌ؕ اِنَّ الۡبَاطِلَ كَانَ زَهُوۡقًا _ ( الإسراء : 81)
” حق آگیا اور باطل مٹ گیا ، باطل تو مٹنے ہی والا ہے ۔ “

یہ اتنا عظیم الشان واقعہ تھا کہ تاریخ میں کوئی نظیر نہیں ملتی _ تمام مؤرخین ، چاہے وہ غیر جانب دار ہوں یا مخالف ، سب نے اس واقعہ کو سراہا ہے اور اس پر آپ کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے _

رسول اللہ ﷺ کے جانشینوں نے پھر اسی کردار کا مظاہرہ کیا ہے _ طالبان نے کابل میں فاتحانہ داخلہ سے پہلے عام معافی کا اعلان کیا ہے _ ان کے ترجمان نے کہا ہے کہ عوام ، افغان حکومت کے عملہ اور کارندوں ، اتحادی افواج کے لیے کام کرنے والوں ، سب کے لیے معافی ہے _ عوام کے مال و جان کی حفاظت ہماری بنیادی ذمے داری ہے _ ان کا یہ پیغام سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر نشر کیا گیا _ انھوں نے کہا کہ مجاہدین خزانہ ، عوامی سہولیات ، سرکاری دفاتر اور آلات ، پارکس ، سڑکوں اور پل وغیرہ پر خاص توجہ دیں گے ۔ یہ عوامی املاک ہیں ، ان کا تحفظ کیا جائے گا اور انہیں برباد کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی ۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلامک اسٹیٹ آف افغانستان ان تمام افراد کے لیے اپنے دروازے کھولتی ہے جنہوں نے ماضی میں حملہ آوروں کے لیے کام کیا اور ان کی مدد کی ، یا جو اب بھی کرپٹ افغان حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں _ ہم ان کے لیے عام معافی کا اعلان کرتے ہیں اور انہیں دعوت دیتے ہیں کہ وہ قوم اور ملک کی خدمت کے لیے آگے آئیں ۔

طالبان کے زوال اور عروج میں ہمارے لیے متعدد اسباق موجود ہیں :

(1) ایمان و یقین کی طاقت سب سے بڑی طاقت ہے _ اس کے سامنے تمام طاقتیں ہیچ ہیں _ امریکہ کی سربراہی میں ناٹو کی افواج نے طالبان کی حکومت اکھاڑ پھینکی ، اس کے بعد 20 برس تک ان پر آگ اور بارود کی بارش کی ، زبردست بم باری کی ، طرح طرح کے بھیانک اسلحہ ان پر آزمائے ، لیکن وہ افغانوں کا بال بیکا نہ کرسکیں ، اس لیے کہ وہ اللہ کا سہارا تھامے ہوئے تھے اور اس سے بڑا اور کسی کا سہارا نہیں _

(2) کام یابی قربانیوں کے بعد حاصل ہوتی ہے _ طالبان نے بہت زیادہ قربانیاں دی ہیں _ وہ حکومت سے محروم کیے گئے _ ان کا بڑے پیمانے پر قتلِ عام کیا گیا _ انہیں قید کرکے دردناک سزائیں دی گئیں _ وہ گھر سے بے گھر اور اپنی املاک سے محروم کیے گئے _ لیکن انھوں نے صبر کیا ، ڈٹے رہے اور قربانیاں پیش کرتے رہے ، بالآخر منزل نے ان کے قدم چومے اور کام یابی نے ان کی دست بوسی کی _

(3) اپنا نصب العین درست رکھنا چاہیے اور منزل پر نگاہیں جمانی چاہییں _ راستے جتنے بھی پُر خطر ہوں ، منزل جتنی بھی دور ہو ، کوئی حرج نہیں _ طالبان کو دوبارہ اقتدار حاصل کرنے میں 20 برس لگ گئے ، لیکن نہ وہ تھکے ، نہ گھبرائے ، نہ انھوں نے سستی اور تن آسانی کا مظاہرہ کیا ، بلکہ دھیرے دھیرے منزل کی طرف بڑھتے رہے ، یہاں تک کہ اسے پالیا _

(4) مشن کی تکمیل کے لیے طاقت کا حصول ضروری ہے _ جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات ہے _ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :
وَاَعِدُّوۡا لَهُمۡ مَّا اسۡتَطَعۡتُمۡ مِّنۡ قُوَّةٍ وَّمِنۡ رِّبَاطِ الۡخَـيۡلِ تُرۡهِبُوۡنَ بِهٖ عَدُوَّ اللّٰهِ وَعَدُوَّكُمۡ وَاٰخَرِيۡنَ مِنۡ دُوۡنِهِمۡ‌ ۚ لَا تَعۡلَمُوۡنَهُمُ‌ ۚ اَللّٰهُ يَعۡلَمُهُمۡ‌ؕ (الانفال :60)
” اور تم لوگ ، جہاں تک تمہارا بس چلے ، زیادہ سے زیادہ طاقت اور تیار بندھے رہنے والے گھوڑے اُن کے مقابلہ کے لیے مہیّا رکھو ، تاکہ اس کے ذریعہ سے اللہ کے اور اپنے دشمنوں کو اور ان دوسرے اعداء کو خوف زدہ کر دو جنہیں تم نہیں جانتے ، مگر اللہ جانتا ہے ۔”
طالبان نے اس اصول کو اپنایا _ انھوں نے ایمانی طاقت کے ساتھ مادّی طاقت بھی حاصل کرنے کی کوشش کی _ اس طرح انھوں نے اپنے دشمنوں پر اپنی دھاک اور ہیبت طاری کردی _

(5) طالبان نے ثابت کردیا کہ امّتِ مسلمہ کو عروج اور غلبہ اسی طریقے سے اور اسی راہ پر چل کر حاصل ہوسکتا ہے جس پر چل کر ابتدائی صدیوں میں حاصل ہوا تھا _ امت کی بھلائی نہ دیگر تہذیبوں کو اختیار کرنے میں ہے نہ دیگر مذہبی گروہوں کے نقشِ قدم پر چلنے میں _ کام یابی ، غلبہ اور عروج آج بھی اللہ کی اطاعت اور خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کے نقشِ قدم کی پیروی کرنے میں ہے _

حکومت کی عوام و کسان مخالف پالیسیوں کے خلاف شدید ہوتے احتجاجی مظاہرے

حکومت کی عوام و کسان مخالف پالیسیوں کے خلاف شدید ہوتے احتجاجی مظاہرے(اردو اخبار دنیا)لکھنئو۔ آسمان چھوتی مہنگائی، بے لگام ہوتے جرائم اور جرائم پیشہ لوگ ، بڑھتی بے روزگاری غریبی اور کسانوں کے ساتھ نا انصافی جیسے موضوعات پر ایک بار پھر سماج وادی پارٹی کے ممبران اسمبلی اور اراکین نے احتجاج کے لے تیز کی۔۔ یہ احتجاج بھی نئے طریقے سے اس وقت شروع ہوا جب اسمبلی سیشن شروع ہونے سے عین قبل سماج وادی پارٹی کے تین ممبران اسمبلی نے گنوں سے لدی بیل گاڑی میں سوار ہوکر اسمبلی میں داخل ہونے کی کوشش کی ۔ جب پولس نے اسمبلی کے گیٹ پر بیل گاڑی کو روکنے کی کوشش کی تو بیل گاڑی میں سوار سماج وادی پارٹی کے تینوں اسمبلی ممبران کی پولس اہلکاروں سے بحث ہوگئ۔ پولس اہلکاروں کے مطابق لکھنئو میں دفعہ ایک سو چوالیس نافذ ہے جس کے تحت چار لوگوں سے زیادہ ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتے جبکہ سماج وادی رہنماؤں کے مطابق وہ تین لوگ ہیں لہٰذا وہ یہاں بھی قانون کی خلاف ورزی نہیں کررہے ہیں۔ بحث گرم ہوئی تو خاموش مظاہرے نے باقاعدہ احتجاج کی شکل اختیار کی اور دیکھتے دیکھتے سیکڑوں لوگ جمع ہوگئے اور حکومت کی ناکامیوں اور بد عنوانیوں کے خلاف نعرے بازی کرنے لگے۔

بیل گاڑی میں سوار ،سنگرام سنگھ، راجیش یادو اور نریندر ورما کے مطابق یوگی قیادت والی موجودہ حکومت۔ ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے ۔ مرکزی اور ریاستی حکومتوں نے ملک کو کھوکھلا کر دیا ہے صرف عام آدمی سے ہی جینے کا حق نہیں چھینا گیا ہے بلکہ دیش کے انداتا کسان کو بھی تباہ و برباد کرنے کے لئے ان پر غیر ضروری قانون تھوپے گئے ہیں۔ راجیش یادو نے کہا کہ غریب آدمی دو وقت کی روٹی نہیں کما پارہاہے لاکھوں لوگ بے روزگار ہوگئے ہیں۔ لاکھوں مزدور اور دستکار در در کی ٹھوکریں کھانے اور رکشہ چلانے کے لئے مجبور ہیں اور سرکار صرف جھوٹے دعوے کئے جارہی ہے ۔۔ سنگرام سنگھ نے اعظم خاں پر تھوپے گئے۔ ناجائز مقدمات ان کے افراد خاندان کا استحصال اور جوہر یونیورسٹی کی تباہی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یوگی حکومت سیاسی انتقام لینے اور سماج کے ایک خاص ورگ کو ستانے اور پریشان کرنے کے لئے آئین و دستور کے خلاف کام کررہی ئے۔

سرکار کو نجی فائدہ پہنچانے والے سارے کام اور ریلیاں کبھی بھی کہیں بھی ہو سکتی ہیں لیکن سماج وادیوں کو مزدوروں اور کسانوں کے حق میں آواز اٹھانے کی بھی اجازت نہیں اس حکومت نے لوگوں سے احتجاج کا حق بھی چھین لیا ہے اگر کوئی دبا کچلا پریشان انسان اپنے حق مانگنے کے لئے آواز اٹھاتا ہے تو اسے پہلے پولس کا اتیاچار ، ظلم جھیلنا پڑتا ہے پھر اسے جھوٹے مقدمے میں پھنسا کر جیل میں ڈال دیا جاتا ہے ۔یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ سماج وادی پارٹی کے اراکین کے ساتھ کانگریس پارٹی کے لیڈروں اور اراکین نے بھی حکومت کے خلاف محاذ آرائی کرتے ہوئے جم کر نعرے بازی کی۔ پیٹرول ڈیزل دال چاول آٹے اور گیس کی بڑھتی قیمتوں پر حکومت کی سخت تنقید کرتے ہوئے موجودہ مرکزی اور اتر پردیش کی حکومت کو ملک کی تاریخ کی بدترین حکومت قرار دیا ۔

اردودنیانیوز۷۲

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا ...