ہفتہ, اگست 21, 2021
امریکی لڑکی نے آندھراپردیش کے لڑکے سے کرلی شادی
https://urduduniyanews72.blogspot.com0
اردو دنیا نیوز۷۲
سرورق بین الاقوامی قومی بین ریاستی خبریں اسپورٹس جرائم و حادثات فلمی دنیا گوشہ خواتین و اطفال مضامین و شاعری دلچسپ خبریں صحت اور سائنس
ڈائریکٹر ایم رحمانی
Director M Rahmani
بانده میں نابالغ لڑکی کے ساتھ اجتماعی آبروریزی ، 3 گرفتار ، 2 ملزمین کی تلاش
https://urduduniyanews72.blogspot.com0
اردو دنیا نیوز۷۲
سرورق بین الاقوامی قومی بین ریاستی خبریں اسپورٹس جرائم و حادثات فلمی دنیا گوشہ خواتین و اطفال مضامین و شاعری دلچسپ خبریں صحت اور سائنس
ڈائریکٹر ایم رحمانی
Director M Rahmani
مولانا محمد قاسم نانوتویؒ جن کو تاریخ کبھی فراموش نہیں کرسکتی!
مولانا محمد قاسم نانوتویؒ جن کو تاریخ کبھی فراموش نہیں کرسکتی!

انگریزوں نے ہندوستان پر قبضہ کرنے کے بعد سب سے پہلا کام یہ کیا کہ ہندوستانی مسلمانوں پر اپنی زمین تنگ کر دی، وہ قوم جس نے ہندوستان کو ایک نئی تہذیب، ایک نئی ثقافت، ایک نئی زبان اور ایک نیا #آئین دیا تھا اور جس نے ہندوستان کی تعمیر وترقی کی بے مثال تاریخ لکھی تھی، اسی قوم کی تہذیب وثقافت اور حقوق کو پامال کرنے کا لامتناہی سلسلہ شروع ہوا۔
ان کی زمین اور جاگیریں سلب کر لی گئیں، ان کی زبان کو غیر سرکاری قرار دیا گیا، ان کے ادارے اور انسٹی ٹیوشنس بند کر دیئے گئے، سرکاری نوکریوں سے انھیں بے دخل کر دیا گیا اور یہی نہیں بلکہ ان کے دین ومذہب پر بھی #انگریزی یلغار شروع ہوئی۔ ایک طرف #مسلمانوں کا وجود خطرہ میں تھا تو دوسری طرف ان کا مذہب اور دین انگریزوں کے بھیانک نشانہ پر تھا۔
ایسے حالات میں شاملی کا مرد مجاہد مولانا محمد قاسم نانوتوی اٹھا اور ہندوستان میں مسلمانوں کے دین ومذہب کی حفاظت کا بیڑہ اپنے سر اٹھا لیا اور مدارس ومکاتب کے قیام کے ذریعہ ایک ایسی تعلیمی تحریک کا آغاز کیا جو ہندوستان کے مسلمانوں کی تاریخ کا سب سے روشن باب بن گیا۔
مولانا محمد قاسم نانوتویؒ نے کئی شہروں میں مدارس کے قیام کی تحریک چلائی۔ چنانچہ دیوبند میں دارالعلوم، مرادآباد میں مدرسہ قاسمیہ شاہی، گولاوٹی میں مدرسہ منبع العلوم اور امروہہ میں مدرسہ جامع مسجد امروہہ قائم کیا، جہاں سے آج بھی علمِ دین کی ضیاپاشی کا سلسلہ جاری ہے۔
مولانا محمد قاسم نانوتویؒ سہارن پور کے قریب ایک گاؤں نانوتہ میں 1833ء میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا اسم گرامی اسد علی صدیقی تھا۔ ابتدائی تعلیم آپ نے اپنے گاؤں میں حاصل کی۔ 1843ء کے آخر میں مولانا مملوک علی نانوتوی آپ کو اپنے ساتھ دلی لے گئے، جہاں آپ نے منطق، فلسفہ اور علم کلام پر متعدد کتابیں مولانا مملوک علی سے پڑھیں۔ تعلیم کی تکمیل کے بعد آپ مطبع احمدی میں ادارت کے فرائض انجام دینے لگے۔ ساتھ ہی درس وتدریس کا سلسلہ بھی جاری رکھا، اسی دوران آپ کا تعلق #مولانا حاجی امداد اللہ مہاجر مکی سے بھی ہوا جو آخری دم تک قائم رہا۔
1860ء میں آپ نے حج کیا اور حج سے واپسی کے بعد #میرٹھ کے مطبع مجتبیٰ میں نوکری کی، جہاں کتابوں کے نسخوں کا تقابل اور نظرثانی کا کام کیا کرتے تھے۔ اس کے بعد دوبارہ #حج پر روانہ ہوئے اور واپسی پر مطبع ہاشمی میں ملازمت اخیار کی۔میرٹھ کے قیام کے دوران ہی آپ نے 1857ء میں شاملی کی جنگ میں حصہ لیا، آپ کی #حراست کا حکم صادر ہوا اور اس دوران آپ نے پوشیدہ زندگی گزاری۔
جب 1858ء کے نومبر میں انگریز حکومت نے عام معافی کی منادی کی تب آپ نے اپنی علمی، دعوتی، تحریکی اور انقلابی سرگرمیوں کا پورے زور وشور کے ساتھ آغاز کیا۔ چنانچہ 1866ء میں جب دارالعلوم دیوبند کا مدرسہ معرض وجود میں آیا تو آپ نے وہیں اقامت اختیار کی اور اپنے آخری سانس تک اس مدرسہ کی تعمیر وترقی میں مصروف رہے۔
مولانا محمد قاسم نانوتویؒ ایک عظیم مجاہد، ایک مخلص مصلح، ایک بہترین مصنف، ایک یگانہ روز گار متکلم، ایک بے باک خطیب، ایک بے مثال استاذ ومربی اور ایک بے لوث خادم دین وملت ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے خلوص وللہیت اور زہد واستغنا کی وجہ سے سلف صالحین کی جیتی جاگتی تصویر تھے جس کی گواہی آپ کے معاصرین نے اپنی تحریر وتقریر میں ہمیشہ دی ہے۔
مولانا محمد #قاسم #نانوتویؒ کے عظیم الشان کارناموں میں سب سے عظیم کارنامہ دارالعلوم دیوبند کا قیام ہے، مصر کے جامع ازہر کے بعد دارالعلوم دیوبند کو دنیا کی سب سے بڑی اسلامک یونیورسٹی کے طور پر مانا جاتا ہے۔ مولانا محمد قاسم نانوتویؒ نے حاجی عابد حسین، مولانا مہتاب علی اور شیخ نہال احمد کے ساتھ مل کر 13؍ مئی 1866ء کو سہارن پور کے ایک چھوٹے سے گاؤں دیوبند میں اس کی بنیاد رکھی۔
اس کا آغاز دیوبند کی چھتیہ مسجد سے ہوا اور ایک درخت کے نیچے ایک استاذ اور ایک طالب علم کے ذریعہ اس کی شروعات ہوئی، مگر مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کی خلوص وللہیت اور بے مثال قربانی وجدوحہد نے اسے بہت ہی مختصر مدت میں ترقی کی بلندیوں تک پہنچا دیا۔ مولانا نے آخری سانس تک اسی بے غیبہ علم وفن کی آبیاری کی اور اس کی تعمیر وترقی میں مشغول رہے۔
دارالعلوم دیوبند ایک مدرسہ نہیں تھا بلکہ ایک مشن تھا، ایک تحریک تھی، جس کا خواب مولانا محمد قاسم نانوتویؒ نے دیکھا تھا اور وہ خواب یقینا پورا ہوا۔ مولانا نے دیوبند کے ایک چھوٹے سے شہر میں جو شمع جلائی تھی اس سے ہندوستان اور ہندوستان کے باہر تقریباً ہر بڑے شہر میں اس طرح کی شمعیں جلتی چلی گئیں کہ پورا برصغیر علم دین کے ان قمقموں سے جگمگا اٹھا۔
آج ہندوستان ہی نہیں بلکہ پاکستان، بنگلہ دیش، #افغانستان، جنوبی آفریقہ، برطانیہ کے ملاد، دنیا کے نہ جانے کتنے ممالک میں اہل دیوبند نے علم دین کا چراغ جلا رکھا ہے جس کی روشنی سے ہزاروں طالبانِ علوم نبوت روزانہ فیضیاب ہو رہے ہیں۔
پاکستان کا دارالعلوم کراچی، جامعہ اشرفیہ لاہور، جامعہ ضیاء القرآن فیصل آباد، ڈربن کا مدرسہ انعامیہ اور یورپ کے بیشتر مساجد ومدارس اسی دیوبند کی ضیاپاشیوں کا پرتوہیں۔ دوسری طرف ہندوستان کی آزادی میں دارالعلوم دیوبند کے فارغین نے جو تاریخ لکھی ہے جس کو اگر ہندوستانی تاریخ فراموش کرنا بھی چاہے تو نہیں کر سکتی۔ مولانا محمود الحسن، مولانا عبد اللہ سندھی، مفتی کفایت اللہ دہلوی، مولانا حسین احمد مدنی، مولانا احمد علی لاہوری اور مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی کے علاوہ ایسے سیکڑوں نام ہیں جنھوں نے ہمارے ملک کی آزادی میں ایک اہم رول ادا کیا۔
جہاں تک علمائے دیوبند کی علمی، تصنیفی اور دینی ودعوتی خدمات کا تعلق ہے تو تبلیغی جماعت کے بانی مولانا الیاس کاندھلوی، پاکستان کے مفتی اعظم مولانا محمد شفیع، سیکڑوں کتابوں کے مصنف مولانا اشرف علی تھانوی، مولانا محمود الحسن، مولانا انور شاہ کشمیری اور مولانا حسین احمد مدنی کے علاوہ ایسے سیکڑوں مفسر، محدث، فقیہ، ادیب، مصنف داعی اور علماء دارالعلوم دیوبند سے فارغ ہوئے جن کی عظیم الشان خدمات ملت اسلامیہ کی تاریخ کا سنہرا باب ہیں۔
مولانا قاسم نانوتوی بلاشبہ علماء کرام کے لیے مشعل راہ ہیں جنھوں نے نہ صرف تلوار سے انگریزوں کے خلاف جنگ کیا، بلکہ تعلیم کے میدان میں ہندوستان کے مسلمانوں کو ایک نئی سمت اور جہت دی۔اللہ تعالی انکے درجات بلند فرمایے۔ آمین۔
https://urduduniyanews72.blogspot.com0
اردو دنیا نیوز۷۲
سرورق بین الاقوامی قومی بین ریاستی خبریں اسپورٹس جرائم و حادثات فلمی دنیا گوشہ خواتین و اطفال مضامین و شاعری دلچسپ خبریں صحت اور سائنس
ڈائریکٹر ایم رحمانی
Director M Rahmani
رکشا بندھن 2021 کے لیے واٹس ایپ: اینڈرائیڈ ، آئی او ایس صارفین ، یہاں ہیپی راکھی اسٹیکرز ڈاؤن لوڈ اور بھیجنے کا طریقہ ہے۔
https://urduduniyanews72.blogspot.com0
اردو دنیا نیوز۷۲
سرورق بین الاقوامی قومی بین ریاستی خبریں اسپورٹس جرائم و حادثات فلمی دنیا گوشہ خواتین و اطفال مضامین و شاعری دلچسپ خبریں صحت اور سائنس
ڈائریکٹر ایم رحمانی
Director M Rahmani
بریکنگ نیوز : ہماچل پردیش میں بس ، 30 سواری تھے بس میں سوار ، کئی زخمی کھائی میں گری
بریکنگ نیوز : ہماچل پردیش میں بس ، 30 سواری تھے بس میں سوار ، کئی زخمی کھائی میں گری
(اردو اخبار دنیا)سولن: ہماچل پردیش کے سولن کے بدی میں پٹہ- بروٹی والا سڑک پر ایک ایچ آر ٹی سی بس حادثے کا شکار ہوگئی ہے۔ بس میں 30-25 لوگ سوار بتائے جا رہے ہیں اور کئی زخمی ہیں۔ یہ بس جوہجڑی صاحب سے نالا گڑھ جا رہی تھی۔ اچانک تواز بگڑنے سے بس کھائی جا گری ہے۔ انتظامیہ کی ٹیم موقع پر پہنچ گئی ہے اور آس پاس کے لوگ بھی زخمیوں کو نکالنے میں مصروف ہوگئے ہیں۔ واضح رہے کہ ہماچل پردیش میں صبح سے بارش جاری ہے۔ زبردست بارش کے سبب بھی حادثہ ہونے کا خدشہ ہے۔
https://urduduniyanews72.blogspot.com0
اردو دنیا نیوز۷۲
سرورق بین الاقوامی قومی بین ریاستی خبریں اسپورٹس جرائم و حادثات فلمی دنیا گوشہ خواتین و اطفال مضامین و شاعری دلچسپ خبریں صحت اور سائنس
ڈائریکٹر ایم رحمانی
Director M Rahmani
آکسیجن کی کمی سے کوئی موت نہیں ہوئی ' ، کھتر حکومت بھی بے شرمی پر آماده
https://urduduniyanews72.blogspot.com0
اردو دنیا نیوز۷۲
سرورق بین الاقوامی قومی بین ریاستی خبریں اسپورٹس جرائم و حادثات فلمی دنیا گوشہ خواتین و اطفال مضامین و شاعری دلچسپ خبریں صحت اور سائنس
ڈائریکٹر ایم رحمانی
Director M Rahmani
تاج محل آج سے رات کو دیکھنے کے لیے کھول دیا جائے گا
https://urduduniyanews72.blogspot.com0
اردو دنیا نیوز۷۲
سرورق بین الاقوامی قومی بین ریاستی خبریں اسپورٹس جرائم و حادثات فلمی دنیا گوشہ خواتین و اطفال مضامین و شاعری دلچسپ خبریں صحت اور سائنس
ڈائریکٹر ایم رحمانی
Director M Rahmani
اردودنیانیوز۷۲
عید الفطر کا پیغام
عید الفطر کا پیغام مضمون نگار : محمد ضیاء العظیم، معلم چک غلام الدین ہائی اسکول، ویشالی، بہار، موبائل نمبر :7909098319 اللہ رب ...
-
قرآن مجید اور حفاظ کی عظمت و رفعت اور ان کے مقام بلند کا کیا کہنا ، اللہ تعالیٰ نے کس قدر واضح اور دو ٹوک انداز اور الفاظ میں یہ اعلان کیا ...
-
*سیاق و سباق سے کٹا بیان، بڑھتا ہوا اشتعال اور ذمہ دار صحافت کی ضرورت* ✍️ شاہدؔ سنگارپوری 8080193804 موجودہ عہد اطلاعات کے ...
-
خون کا آخری قطرہ مہمان کی نذر Urduduniyanews72 کشمیر کے ضلع پہلگام میں واقع بیسرن گھاٹی کا واقعہ نہایت ہی دردناک...
-
وقف ایکٹ پر عدالت عالیہ کا موقف Urduduniyanews72 وقف ترمیمی بل جو دونوں ایوانوں سے پاس ہوتے ہوئے صدر جمہوریہ...
-
عید الاضحٰی کا پیغام مضمون نگار: محمد ضیاء العظیم معلم چک غلام الدین ہائی اسکول ،ویشالی بہار ۔ موبائل نمبر :7909098319 Urdudu...
-
عید الفطر کا پیغام مضمون نگار : محمد ضیاء العظیم، معلم چک غلام الدین ہائی اسکول، ویشالی، بہار، موبائل نمبر :7909098319 اللہ رب ...
-
حسین کی خوشبو Urduduniyanews72 دیا رِ قد سِ و فا میں حسین کی خو شبو رضا ئے حکمِ خد ا میں حسین کی خو شبو قبو لیت کے گلو ...
-
فلسطینی تحریک کے69 حامیوں کو سعودی عرب میں سزائیں اگست 10, 2021 (اردو اخبار دنیا) ریاض: سعودی عرب کی ایک فوج داری عدالت نے ظالم...
-
ٹی راجہ سنگھ کی بکواس ___ مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ اردو دنیا نیوز٧٢ تلنگانہ اسمبلی ...
-
***نعت پاک *** زبانِ خلقِ خد ا پر بس ا یک نا مِ نبی ﷺ جبل کہ دشت وسمندربس ایک نامِ نبی ﷺ وہ ذات با عثِ تخلیقِ ا ر ضِ لا محد و د ہے ک...
