Powered By Blogger

پیر, اگست 23, 2021

مرکزنظام الدین : دہلی ہائی کورٹ نے پولیس کو رہائشی حصے کی چابیاں سونپنے کی ہدایت دی

مرکزنظام الدین : دہلی ہائی کورٹ نے پولیس کو رہائشی حصے کی چابیاں سونپنے کی ہدایت دی

Nizamuddin-markaz-masjid

نئی دہلی23اگست:(اردو اخبار دنیا)دہلی ہائی کورٹ نے پیر کو سٹی #پولیس کو #نظام الدین مرکز کے رہائشی حصے کی چابیاں وہاں کے مکینوں کے حوالے کرنے کی ہدایت دی۔ پچھلے سال اسے حکام نے #تبلیغی #جماعت سے متعلق ایف آئی آر کے تناظر میں بند کر دیا تھا۔جسٹس یوگیش کھنہ نے جماعت کے رہنما مولانا سعد کی والدہ کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے ہدایت کی کہ چابیاں دو دن کے اندر ان کے حوالے کر دی جائیں اور واضح کیاہے کہ ابھی تک وہاں کے مکین کسی بھی غیر رہائشی حصے میں داخل نہیں ہوسکتے۔

عدالت نے یہ نوٹس ایک عرضی پر جاری کیا جس میں ٹرائل کورٹ کے حکم کو چیلنج کیا گیا تھا کہ درخواست گزار ، ایک بزرگ شہری کو اس کی رہائش تک رسائی سے انکار کر دیاگیاہے۔ نیز رہائشی احاطے کو بند کرنے کے کسی بھی حکم کی موجودگی پر پولیس سے اسٹیٹس رپورٹ طلب کی گئی۔ جج نے کہا ہے کہ دریں اثنا ، آج سے دو دن کے اندر رہائشی احاطے کی چابیاں فراہم کریں۔

درخواست گزار کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اگلے احکامات تک مرکز #کمپلیکس کے کسی دوسرے حصے میں داخل نہ ہو۔عدالت نے کہاہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ احاطے کو سیل کرنے کا کوئی حکم نہیں ہے اور رہائشی احاطے کو یکم اپریل 2020 سے لاک کردیا گیا ہے۔

مغربی بنگال اہلیتی ٹسٹ (سیٹ)میں عربی کا مضمون بھی شامل

کلکتہ23اگست (اردو اخبار دنیا) مغربی بنگال کالج سروس کمیشن نے ریاستی اہلیتی ٹسٹ کے امتحان میں عربی کے مضمون کو شامل کرنے کا اعلان کیا ہے۔اس کے ساتھ ہی ماحولیاتی سائنس اور ایم بی اے کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ریاستی اہلیتی ٹسٹ میں عربی کوشامل کرنے کیلئے حالیہ دنوں میں بنگال کے مختلف کالجوں اور یونیورسٹیوں کے عربی شعبہ میں پڑھنے والے طلبا نے مہم چلا ئی تھی اور کالج سروس کمیشن کو میمورنڈم بھی دیا گیا تھا۔خیال رہے کہ مغربی بنگال کالج اور یونیورسٹیوں میں اساتذہ کی تقرری کے لئے نیٹ، جی آر ایف یا پھر ریاستی اہلتی ٹسٹ میں کامیابی حاصل کرنا ضروری ہے۔دوسری جانب سیٹ کے امتحانات کے سوالات بنگالی زبان میں لیا جائے گا۔مغربی بنگال سروس کمیشن گزشتہ 27سالوں ریاستی اہلیتی ٹسٹ کے امتحان کا انعقاد کررہا ہے۔کالج سروس کمیشن نے 1994 سے اب تک 22 امتحانات لیے ہیں۔ اتنے عرصے سے سیٹ کے سوالیہ پرچے انگریزی میں لئے جاتے تھے۔ لیکن طلباایک عرصے سے مطالبہ کررہے تھے بنگالی زبان میں سوالیہ پرچہ بنایا جائے۔

کالج سروس کمیشن نے ریاستی اہلیت ٹسٹ یا سیٹ لینے کا نوٹیفکیشن پہلے ہی جاری کر دیا ہے۔ کالج سروس کمیشن اگلے سال 9 جنوری کو سیٹ لے گا۔ کالج سروس کمیشن نے درخواستیں جمع کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ کمیشن ذرائع کے مطابق اس سال نیوز سیٹ کے تحت مزید تین مضامیان شامل کیے گئے ہیں۔ اس سال سیٹ کے تحت ماحولیاتی سائنس، ایم بی اے، عربی مضامین نئے شامل کیے گئے ہیں۔ ؎

کمیشن کے انتظامیہ کے مطابق سیٹ کے امتحان میں عربی کو شامل کرنے کیلئے ایک عرصے سے مطالبہ کیا جارہا ہے۔اس سال مجموعی طور پر تین مضامین کو شامل کیا گیا ہے۔کالج سروس کمیشن کے مطابق، تاریخ، فلسفہ، تعلیم جیسے مضامین کے سوالات بنگالی میں ہونگے۔دوسری جانب اسسٹنٹ پروفیسرز کی تقرری کے لیے تقریبا 32 ہزار درخواستیں کالج سروس کمیشن میں جمع ہوئی ہے۔ کمیشن ذرائع کے حالات نارمل ہونے کے بعد ہی انٹرویو کا عمل شروع کیا جائے گا۔کمیشن نے درخواستوں کی جانچ شروع کردی ہے۔
اس و قت لوکل ٹرینیں نہیں چل رہی ہے اسی وجہ سے کالج سروس کمیشن نے انٹرو یو نہیں لینے کا فیصلہ کیا ہے۔گزشتہ سال ریاستی اہلیت ٹسٹ یا سیٹ کے لیے تقریبا75,000درخواستیں جمع کی گئی تھی۔امید ہے کہ اس سال مزید درخواستیں جمع کی جائیں گی۔نوٹی فیکشن کے مطابق 15ستمبر تک جمع کرائی جائے گی۔

ناندیڑ:جواں سال کامران شہزاد کا دل کادورہ پڑنے سے انتقال

ناندیڑ:23اگست۔ (اردو اخبار دنیا) انتہائی افسوس کے ساتھ اطلاع دی جاتی ہے کہ ڈاکٹرامین الدین صدیقی ساکن وساوا نگرناندیڑ کے جواںسال فرزند کامران شہزاد کاشف احمد کاآج علی الصبح دل کادورہ پڑنے سے اچانک انتقال ہوگیا ۔

22 سالہ مرحوم انجینئرئنگ ڈگری کورس کے سال آخر کے طالب علم تھے ۔وہ معروف ماہر تعلیم جناب کمال الدین صدیقی کے حقیقی بھتیجے تھے۔ادارہ ورق تازہ پروردگارعالم رب العزت سے دعا گو ہےکہ وہ مرحوم کی مغفرت کرے انھیں جنت الفردوس میں جگہ دے ۔ لواحقین کوصبروتحمل عطا ءکرے

مولانا عبدالرحمن کی ضمانت عرضداشت سپریم کورٹ میں میں سماعت کے لیئے منظور

عدالت نے حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے چار ہفتوں میں جواب داخل کرنے کاحکم دیا، گلزار اعظمی
ممبئی23/ اگست:ممنوع دہشت گرد تنظیم القاعدہ سے تعلق رکھنے کے مبینہ الزامات کے تحت گرفتار دارالعلوم دیوبند کے فارغ مولانا عبدالرحمن (کٹکی) کی ضمانت پر رہائی کی عرضداشت کو گذشتہ جمعرات کو سپریم کورٹ آف انڈیا نے سماعت کے لیئے قبول کرتے ہوئے حکومت کو نوٹس جاری کیا اور چار ہفتوں کے اندر جواب داخل کرنے کا حکم دیا۔ یہ اطلاع آج یہاں ممبئی میں ملزم کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمینے دی۔ انہو نے مزید بتایا کہ ایڈوکیٹ صارم نوید نے جسٹس سنجے کشن کول اور جسٹس رائے کو بتایا کہ ملزم پانچ سال اور آٹھ مہینہ سے جیل میں قید ہے اور اس درمیان استغاثہ نے 82 میں سے صرف 14 گواہوں کو ہی عدالت میں پیش کیا جبکہ دفاعی وکیل نے عدالت میں یہ بیان بھی دیا تھا کہ وہ ملزم کی غیر موجودگی میں بھی ٹرائل چلانے کے لیئے تیار ہے لیکن اس کے باجود ٹرائل التواء کا شکار ہے۔

ایڈوکیٹ صارم نوید نے عدالت کو مزید بتایا کہ ملزم پر الزام ہیکہ اس نے غیر قانونی طریقے سے دوبئی سے پاکستان کا سفر کیا تھا اور اس نے پاکستان سے دہشت گردانہ ٹریننگ حاصل کی تھی لیکن استغاثہ یہ نہیں بتا سکا کہ ملزم دبئی سے پاکستان گیا کیسے کیونکہ پاسپورٹ پر کوئی اندراج نہیں ہے۔

ایڈوکیٹ صارم نوید نے عدالت کو مزید بتایا کہ ملزم کو 17/ دسمبر 2015 کو گرفتار کیا گیا تھا جب سے وہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے مقید ہے اور اس درمیان خصوصی این آئی اے عدالت اور دہلی ہائی کورٹ نے اس کی ضمانت عرضداشت مسترد کردی ہے لیکن حال ہی میں سپریم کورٹ نے اپنے ایک حکم نامہ میں کہا کہ جن ملزمین کے مقدمات پانچ سال سے زائد عرصہ گذر جانے کے باجود ختم نہیں ہو ئے ہیں انہیں ضمانت پر رہا کیا جاسکتا ہے لہذا ملزم کو بھی ضمانت پر رہا کیا جانا چاہئے۔دفاعی وکیل کے دلائل سماعت کرنے کے بعد دو رکنی بینچ نے ضمانت عرضداشت کو سماعت کے لیئے قبول کرتے ہوئے استغاثہ کو نوٹس جاری کیا۔

واضح رہے کہ ملزم عبدالرحمن کو قومی تفتیشی ایجنسی نے اڑیسہ کے مشہور شہر کٹک کے قریب واقع ایک چھوٹے سے گاؤں سے گرفتار کیا تھا اور اسے بذریعہ طیارہ دہلی لایا گیا تھا۔ ملزم پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ ہ وہ ہندوستان میں القاعدہ کے لیئے لڑکوں کو باہر دہشت گردانہ ٹریننگ حاصل کرنے کے لیئے بھیجنے کا کام کر رہا تھا۔

اسی معاملے میں دہلی پولس کے اسپیشل سیل نے بنگلور کے مشہور عالم دین مولانا انظر شاہ قاسمی کو بھی گرفتا ر کیا تھا لیکن بعد میں خصوصی عدالت نے نا کافی ثبوت و شواہد کی بنیاد پر مقدمہ سے ڈسچارج کردیا گیا، ایڈوکیٹ ایم ایس خان نے جمعیۃ علماء کی جانب سے ڈسچارج عرضداشت پر بحث کی تھی جس کے بعد دہلی کی خصوصی عدالت نے مولانا انظر شاہ کو مقدمہ سے ڈسچارج کرتے ہوئے دیگر ملزمین کے خلاف مقدمہ شروع کیئے جانے کا حکم دیا تھا۔

میں بریکنگ نیوز _ تلنگانہ یکم ستمبر سے تمام تعلیمی اداروں کو کھولنے کا فیصلہ

میں بریکنگ نیوز _ تلنگانہ یکم ستمبر سے تمام تعلیمی اداروں کو کھولنے کا فیصلہحیدرآباد(اردو اخبار دنیا) _ تلنگانہ حکومت نے یکم ستمبر سے تمام تعلیمی اداروں کو کھول دینے کا فیصلہ کیا ہے چیف منسٹر چندرشیکھرراو کی صدارت میں آج منعقدہ اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا۔چیف منسٹر نے ریاست میں کورونا وائرس کے کیسوں میں بتدریج کمی کے پیش آنگن واڑی اسکول سے لے کر تمام خانگی اور سرکاری اسکولوں، کالجوں کو یکم ستمبر سے کھول دینے اور طلبہ کو کلاس روم میں تعلیم دینے کی عہدیداروں کو ہدایت دی۔اس سلسلہ میں 30 اگست تک تمام اسکولوں اور کالجوں کو سینیٹائز کرنے کی ہدایت دی

‎نرسنگ اسکیل ڈویلپمنٹ پروگرام کا کلاسیں 23 اگست 2021 سے عراقی اردو گرلز انٹر اسکول انصار نگر کے احاطے میں شروع ہوا،

 نرسنگ اسکیل ڈویلپمنٹ پروگرام کا کلاسیں 23 اگست 2021 سے عراقی اردو گرلز انٹر اسکول انصار نگر کے احاطے میں شروع ہوا،


نواده محمد سلطان اختر(اردو اخبار دنیا)



 بہار عراقی ملت کمیٹی انصار نگر نوادہ کا کامیاب اقدام 23 اگست 2021 نرسنگ اسکیل ڈیولپمنٹ پروگرام سے شروع ہوا، پہلے بیچ میں تقریبا 45 طالبہ و طالبات نے رجسٹریشن کرایا اور کلاس میں شرکت کی۔
 کلاس کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے جناب انس ​​الحق صاحب جنرل سیکرٹری بہار عراقی ملت کمیٹی نے کیا۔
 ناگہانی اور طبی ایمرجنسی کی صورت میں نرسنگ کی مہارت حاصل شدہ طلبہ و طالبات کو تیار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ معاشرے کو فائدہ پہنچے۔یہ کامیابی کے لئے پہلا قدم رکھا ہے،

اِس كار خیر میں قدم سے قدم ملانے والے سماجی خدمت خدمتِ گزار ڈاکٹر جاوید اشرفی بائیو سائنس ، محمد واحد حسین یونیسیف ، محمد صلاح الدین (بی ایس سی ، ایم/بی ایم ایل ٹی) 
 انصار الاسلام (بی ایس سی ، ایم/بی ایم ایل ٹی) اور دیگر ساتھی پورا کا پورا تعاون کر رہے ہیں، سبھوں نے پروگرام کو سراہا ہے اور اپنا بھرپور تعاون بھی دیا ہے۔ واضح ہو کہ ہر ایک نے اپنا وقت نرسنگ ٹرینینگ کی تربیت میں صرف کیا اور آگے بھی طلباء و طالبات کے کلاس میں اپنا قیمتی وقت دیتے رہیں گے۔

 کلاس شروع ہونے سے پہلے بہار عراقی ملت کمیٹی کے صدر ڈاکٹر حمید حسین نے گیا سے ایک ویڈیو پیغام بھی بھیجا اور تمام طلباء و طالبات سے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور کمیٹی کو مبارکباد دی۔ اجلاس میں بہار عراقی ملت کمیٹی کے جنرل سیکرٹری انس الحق صاحب ، محمد یونس جان صاحب ، توقیر شہنشاہ صاحب ، عراقی اردو انٹر اسکول کے صدر محمد ممتازصاحب ، سیکریٹری محمد ضیاء الدین صاحب ، محمد جمشید مہندی صاحب ، ماسٹر قمرالدین صاحب اور نرسنگ اسکیل ڈویلپمنٹ پروگرام کے صدر مشتاق صاحب اور سیکرٹری محمد وسیم اکرم موجود تھے اور ان سب نے اپنے چند کلمات سے طلباءو طالبات کے حوصلے بلند کیئےاور پروگرام کی خصوصیات بتاتے ہوئے پڑھائی اور جانفشانی سے سیکھنے پر زور دیا۔
 کلاس کے پہلا دن کی شروعات ڈاکٹر جاوید اشرفی نے تھیوری اور پریٹکل کے ساتھ کی، اور ساتھ ہی اساتذہ وحید حسین اور محمد صلاح الدین نے بھی کلاسیں لیں۔
 پریکٹیکل کلاس کے لئے سامان میں 2 بلڈ پریشر مشینیں 2 اسٹیتھواسکوپ 2 تھرمامیٹر ، آکسیمیٹر 2 گلوکومیٹر کچھ انجکشن اور روئی وغیرہ وغیرہ سامان کمیٹی کے ذریعے فراہم کئے گئے۔
 پروگرام کے اختتام پر ضیاء الدین صاحب نے کہا کہ اس اقدام سے نوجوانوں کو طبی میدان میں ایک نئی سمت ملے گی اور طلباء و طالبات کے حوصلے بھی بڑھیں گے اور وہ اس میدان میں اپنے مستقبل کا انتخاب کرکے اپنااور اپنے گھر والوں کا نام روشن کر سکتے ہیں۔ بہار عراقی ملت کمیٹی نے اسے کامیاب بنانے کے لئے ہر ممکن کوشش کرتی رہے گی۔

درگاہ اعلحضرت بریلی

درگاہ اعلحضرت بریلیہندی و نیپالی پسماندہ مسلم طبقات کی مذھبی،مسلکی،تعلیمی، سماجی اور معاشی زبوں حالی کو دور کرنے اور غریب طبقات کی تعمیر و ترقی میں کلیدی کردار ادا کیا تھا مفتی اعظم ھند نے:مفتی سلیم بریلوی۔

مرکز اھلسنت خانقاہ رضویہ درگاہ اعلیحضرت بریلی شریف کی اھم شخصیت اور مجدددین و ملت اعلیحضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی قدس سرہ کے شہزادے سیدی سرکار مفتی اعظم ھند علامہ مصطفٰی رضا خاں نوری بریلوی قدس سرہ کا ایک روزہ اکتالیسواں عرس قادری نوری مرکز اھلسنت خانقاہ قادریہ رضویہ دربار اعلیحضرت بریلی شریف میں کووڈ ۱۹/ گائڈ لائن کے ضابطوں کی پابندی کے ساتھ محدود افراد کی موجودگی میں مرکز اھلسنت کے سربراہ حضرت سبحانی میاں صاحب کی سرپرستی اور سجادہ نشین حضرت مفتی احسن میاں صاحب کی صدارت و نگرانی میں نہایت سادگی سے انعقاد پذیر ہوا۔شب میں ایک بج کر چالیس منٹ پر خانقاہی اور صوفیانہ رسم و رواج کے ساتھ قل شریف کی رسم ادا کی گئی۔بعد نماز فجر قرآن خوانی و حلقہ ذکر سے تقریبات عرس کا آغاز ہوا۔قاری رضوان نے تلاوت کی۔حاجی غلام سبحانی اور عاصم نوری نے میلاد پاک کی محفل سجائی۔تحریک تحفظ سنیت نے تقریبات کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔فاروق مدنا پوری اور محشر پدارتھ پوری نے نعت و مناقب کے گلدستے پیش کئے۔

صحافتی ترجمان ناصر قریشی نے بتایا کہ منظر اسلام کے مفکر و دانشور اور نباض زمانہ استاذ مفتی محمد سلیم بریلوی صاحب نے اپنے خطاب میں مفتی اعظم کی حیات و خدمات کے ایک اھم، منفرداور اچھوتے گوشے پر روشنی ڈال کر محققین رضویات کو ایک اھم عنوان دیا۔مفتی سلیم صاحب نے بتایا کہ دنیا آج اور اب پسماندہ طبقات کے عروج و ترقی کی باتیں کررھی ہے۔۔حکومتیں اب پسماندہ کمیشن تشکیل دےرھی ہیں۔زمانہ اب پسماندہ اور پست و زوال پذیر طبقات کی ترقی کی تحریکیں چلا رھا ھے مگر سرکار مفتی اعظم ھند نے تو آج سے ایک صدی قبل ہی مسلم پسماندہ سماج کی مذھبی، مسلکی، تعلیمی، سماجی، اور معاشی زبوں حالی و پسماندگی کو دور کرنے کی نہایت خلوص و خاموشی کے ساتھ مھم چلائی تھی۔اس کے لئے آپ نے ھندوستان و نیپال کے بے شمار پسماندہ و زبوں حال خطوں کے دورے کرکے وھاں کی مذھبی ،تعلیمی و سماجی زبوں حالی دور کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔مفتی سلیم نوری نے مزید کہا ک کسی بھی قوم کی سب سے بڑی پسماندگی آس کی مذھبی و تعلیمی،معاشرتی و ذھنی زبوں حالی اور احساس کمتری ہے۔مفتی اعظم ھند نے ھند و نیپال کے ان دبے کچلے غریب و نادار لوگوں کو اپنے دامن کرم میں جگہ دی۔انھیں گلے لگایا، اپنے پاس امیروں کے برابر میں بیٹھایا۔مرید کیا۔اسلام و سنیت کی سچی اور حق تعلیم دی۔اجازت و خلافت سے سرفراز فرمایا۔ان پسماندہ طبقات کی تعلیم و تربیت کرکے اسلام کے اھم و مقدس منصب منصب امامت پر فائز کیا۔ان کے دلوں سے احساس کمتری ختم کرکے احساس برتری پیدا کیا۔اس طرح آپ نے اس دبے کچلے سماج کو امیر و کبیر سماج کی قطار میں صف اول پر لاکھڑا کیا۔آپ کے ھند و نیپال۔بنگلہ دیش و پاکستان اور افریقی ممالک وغیرہ میں لاکھوں مرید و خلفاء ہیں جن میں پسماندہ طبقات کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ہمیں مفتی اعظم ھند کے نقش قدم پر چل کر سماجی پسماندگی کو دور کرنے کی تحریک چلانا ہوگی۔رنگ و نسل اور ذات و برادری کے نام پر پنپنے والی نفرت کا خاتمہ کرنا ہوگا۔بحیثیت مسلمان اخوت دینی کے جذبات پیدا کرنے ہوں گے۔

مفتی ایوب خاں نوری نے مفتی اعظم کو حق و صداقت کی عظیم نشانی بتایا۔علامہ مختار بہیڑوی نے مفتی اعظم کو جرآت و بہادری اور اخلاق و کردار کا سچا علم بردار قرار دیا۔مفتی عاقل رضوی نے کہا کہ مفتی اعظم تقوی و پرہیزگاری میں بے مثال تھے۔ان کے علم و فن کا عرب عجم کے علماء نے بھی اعتراف کیا۔قاری عبد الرحمن خان قادری نے کہا کہ مفتی اعظم مادرزاد ولی تھے۔سرکار نوری میاں مارہروی علیہ الرحمہ نے ان کی ولادت کی بشارت سنائی۔چھ ماہ چند دن کی عمر میں روحانیت کے خزانے آپ کے سینے میں انڈیل کر اجازت و خلافت آور بیعت سے سرفراز فرمایا۔

ایک بجکر چالیس منٹ پر قل شریف مفتی افروز مفتی معین۔مفتی جمیل۔مولانا اختر سید شاکر نے پڑھا۔مولانا مختار بہیڑوی نے شجرہ پڑھا۔مفتی احسن میاں صاحب نے قوم و ملت۔مریدین و متوسلین اور ملک و بیرون ملک کے محبین مسلک اعلیحضرت کے لئے دعا کی۔لنگر تقسیم ہوا۔حاجی جاوید خاں۔پرویز خاں نوری۔اورنگ زیب خاں نوری۔شاھد خاں نوری۔اجمل نوری، طاہر علوی ۔کامران خاں۔ظہیر احمد۔،طارق سعید،منظور خاں ساجد۔شان۔مجاھد بیگ۔سید ماجد۔سید اعجاز۔کاشف۔عشرت۔ذھیب وغیرہ نے انتظامات سنبھالے۔

ناصر قریشی

صحافتی ترجمان

اردودنیانیوز۷۲

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا ...