منگل, اگست 24, 2021
عثمانیہ یونیورسٹی میں احتجاج اور جلسوں کے انعقاد پر پابندی
حیدرآباد 23 اگسٹ (اردو اخبار دنیا) عثمانیہ یونیورسٹی جو تلنگانہ تحریک کے دوران احتجاج کا مرکز رہی، آج اُسی یونیورسٹی میں طلبہ پر پابندیاں عائد کی جارہی ہیں۔ تلنگانہ کی تشکیل کے بعد عثمانیہ یونیورسٹی اور کاکتیہ یونیورسٹی طلبہ تنظیموں نے مخالف حکومت موقف اختیار کیا جس کے نتیجہ میں حکومت نے سیاسی سرگرمیوں پر روک لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ عثمانیہ یونیورسٹی آرٹس کالج جو ہمیشہ احتجاج، جلسوں اور دیگر تقاریب کا مرکز رہا ہے وہاں اب کوئی احتجاج اور تقاریب نہیں ہوپائیں گی۔ یونیورسٹی حکام نے غیرمتوقع طور پر یہ سخت گیر فیصلہ کیا جس پر طلبہ میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ یونیورسٹی حکام کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی کے وقار کو بچانے کے لئے یہ فیصلہ کیا گیا کیوں کہ گزشتہ چند برسوں میں یونیورسٹی کے احاطہ میں سیاسی سرگرمیوں سے تعلیم متاثر ہوئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ آرٹس کالج کی شناخت تعلیم سے زیادہ احتجاج کے لئے بن چکی تھی۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈی رویندر نے کہاکہ ایکزیکٹیو کونسل نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا تاکہ طلبہ کو احتجاج سے زیادہ تعلیم میں مشغول کیا جاسکے۔ اُنھوں نے کہاکہ احکامات پر عمل آوری سے قبل طلبہ تنظیموں کو اُن کی ذمہ داریوں کے بارے میں آگاہ کیا جائے گا۔ اُنھوں نے کہاکہ طلبہ کے تعاون سے احکامات پر عمل آوری کی جائے گی۔ پروفیسر رویندر نے کہاکہ یونیورسٹی جانتی ہے کہ طلبہ اور فیکلٹی کے حقوق کیا ہیں تاہم یونیورسٹی کو تعلیم کے ماحول سے علیحدہ نہیں کیا جاسکتا۔ طلبہ کے احتجاج کے لئے یونیورسٹی نے آرٹس کالج کے بجائے دیگر دو مقامات کی نشاندہی کی ہے تاہم طلبہ تنظیمیں اِس فیصلے سے خوش نہیں ہیں۔ تنظیموں کا کہنا ہے کہ حکومت نے طلبہ کی آواز کو دبانے کے لئے یہ فیصلہ کیا ہے۔ تلنگانہ تحریک کے دوران جب ٹی آر ایس اپوزیشن میں تھی اُس وقت آرٹس کالج احتجاج کا مرکز رہا۔ اب جبکہ ٹی آر ایس برسر اقتدار ہے وہ طلبہ کے مسائل کی سماعت کیلئے تیار نہیں ہے۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈی رویندر نے طلبہ اور تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ خود کو غیر تدریسی سرگرمیوں سے دور رکھیں تاکہ یونیورسٹی کا امیج متاثر نہ ہو۔
https://urduduniyanews72.blogspot.com0
اردو دنیا نیوز۷۲
سرورق بین الاقوامی قومی بین ریاستی خبریں اسپورٹس جرائم و حادثات فلمی دنیا گوشہ خواتین و اطفال مضامین و شاعری دلچسپ خبریں صحت اور سائنس
ڈائریکٹر ایم رحمانی
Director M Rahmani
عمر نے دہلی فسادات کے الزامات کو من گھڑت قرار دیا
ایڈیشنل سیشن جج امیتابھ راوت کی عدالت میں ضمانت پر سماعت کے دوران ایڈوکیٹ تری دیپ پیس نے دلیل دیتے ہوئے کہ پولیس کے پاس ایڈٹ کرکے سوشل میڈیا پر ڈالی گئی خالد کی تقریر کے نامکمل ویڈیو کلپ کے علاوہ کوئی ثبوت نہیں ہے۔
دہلی پولیس نے خالد کو شمال مشرقی دہلی میں گزشتہ سال فروری میں ہوئے فسادات پر اکسانے کے معاملے میں یو اے پی اے یعنی غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام ایکٹ کی دفعات کے تحت ستمبر 2020 میں گرفتار کیا تھا۔
وکیل نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پولیس کے پاس ٹی وی چینلز کی جانب سے سوشل میڈیا سے لی گئی غیر مستند ویڈیو کلپس کے علاوہ کوئی ٹھوس شواہد نہیں ہیں ، جو اس پر لگائے گئے الزامات کی صداقت کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہوں۔
مسٹر تری دیپ نے کہا کہ جب پولیس نے ٹی وی چینل کی کمپنیوں سے خالد کی تقریروں کی نشریاتی ویڈیو کی اصل کاپی مانگی تو انہیں جواب دیا گیا کہ انہیں بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک رکن نے ٹویٹ کیا اور چینل نے اسے سوشل میڈیا سے لیا تھا۔
اپنی دلیل کی تائید میں خالد کے خلاف مہاراشٹر کے امراوتی میں دی گئی تقریر کی ویڈیو چلواکر عدالت کے سامنے بے گناہی ثابت کرنے کی کوشش کی۔ ویڈیو چلانے کے بعد وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ تقریر کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں کرتی ، بلکہ کہا گیا ہے کہ لوگوں کو جمہوری حقوق کے دائرے میں متحد کیا جائے اور اس میں تشدد کو ہوا دینے کی کوئی بات نہیں ہے۔ عدالت نے آئندہ سماعت کے لیے 3 ستمبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔
https://urduduniyanews72.blogspot.com0
اردو دنیا نیوز۷۲
سرورق بین الاقوامی قومی بین ریاستی خبریں اسپورٹس جرائم و حادثات فلمی دنیا گوشہ خواتین و اطفال مضامین و شاعری دلچسپ خبریں صحت اور سائنس
ڈائریکٹر ایم رحمانی
Director M Rahmani
ایل پی جی سلنڈر کی قیمت ، پرینکا کا حکومت پر حملہ
https://urduduniyanews72.blogspot.com0
اردو دنیا نیوز۷۲
سرورق بین الاقوامی قومی بین ریاستی خبریں اسپورٹس جرائم و حادثات فلمی دنیا گوشہ خواتین و اطفال مضامین و شاعری دلچسپ خبریں صحت اور سائنس
ڈائریکٹر ایم رحمانی
Director M Rahmani
ریل ، روڈ ، برقی ، ایئرپورٹس ، ٹیلی کام پرائیویٹ سیکٹر کیلئے دستیاب
نئی دہلی(اردو اخبار دنیا) : مودی حکومت نے قوم کے کلیدی شعبوں کو پرائیویٹ سیکٹر کے حوالے کرنے کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے آج ایک بڑی اسکیم کا منصوبہ ظاہر کیا جسے نیشنل مونیٹائزیشن پائپ لائن (این ایم پی) کا نام دیا گیا ہے جسے عملاً ''رہن'' اسکیم کہیں تو بیجا نہ ہوگا۔ مرکزی وزیر فینانس نرملا سیتارامن کو مودی حکومت نے متعدد اہم شعبوں میں خانگی کمپنیوں کی مداخلت کے منصوبے کا اعلان کرنے کی ذمہ داری سونپی۔ انہوں نے بتایا کہ این ایم پی کے تحت روڈاور ریلوے اثاثوں سے لے کر ایئرپورٹس، پاور ٹرانسمیشن لائنس اور گیس پائپ لائنس جیسے وسیع تر شعبوں کا احاطہ کیا جائے گا۔ بتایا گیا کہ خانگی شعبے کے ادارے ایک مقررہ مدت کے بعد حکومت کو اثاثے واپس کردیں گے۔ نرملا نے 6 لاکھ کروڑ روپے مالیت کی نیشنل مونیٹائزیشن پائپ لائن کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ حکومت صرف وہی اثاثوں کی مالی قدر حاصل کرے گی جو ممکنہ گنجائش سے کمتر استعمال ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان اثاثوں کی ملکیت بدستور مرکز کے پاس رہے گی۔ این ایم پی ایسے اثاثوں سے متعلق منصوبہ ہے جہاں سرمایہ پہلے سے ہی لگایا جارہا ہے لیکن یہ اثاثے یا تو لیت و لعل کا شکار ہیں یا ان سے پوری طرح استفادہ نہیں کیا گیا یا پھر استفادہ میں کمی رہ گئی۔ نرملا نے کہا کہ ایسے اثاثے جنہیں 'براؤن فیلڈ' اثاثے کہا جاتا ہے، ان میں خانگی شراکت داری کی گنجائش نکالتے ہوئے ان سے بہتر رقمی استفادہ کیا جائے گا۔ وزیر فینانس نے کہا کہ پرائیویٹ کمپنیوں کو پہلے سے طے شدہ مدت کے بعد متعلقہ اثاثے حکومت کے حوالے کردینا ہوگا۔ اس طرح کے عمل کے ذریعہ حاصل شدہ رقم انفرااسٹراکچر کو فروغ دینے کے لئے استعمال کی جائے گی۔ اس معاملہ میں سوال یہ ہے کہ موجودہ حکومت اپنی میعاد کے بعد اگر برقرار نہ رہے تو نئی حکومت کے ساتھ خانگی شعبہ کا تال میل کیسا رہے گا؟ کیا اس معاملہ میں فرق پیدا ہونے پر منصوبہ کے مطابق فوائد کے حصول میں رکاوٹ پیدا ہو جائے گی۔ وزیر فینانس نے نشاندہی کی کہ اس سارے عمل سے عظیم تر رقمی قدر پیدا ہوگی اور معیشت کے لئے وسائل ابھر آئیں گے۔ نیتی آیوگ سی ای او امیتابھ کانت نے کہا کہ انفراسٹرکچر کے 6 لاکھ کروڑ روپے مالیتکے اثاثے 4 سال کی مدت میں ریل، روڈ اور پاور سیکٹرس میں ممونیٹائز کئے جائیں گے اور اس ضمن میں اثاثوں کی نشاندہی کرلی گئی ہے۔ حکومت روڈس سیکٹر سے 1.6 لاکھ کروڑ روپے مالیت کے اثاثوں کو خانگی شعبہ کے حوالے کرتے ہوئے رقمی وسائل اکٹھا کرے گا۔ اسی طرح ریلوے سیکٹر سے 1.5 لاکھ کروڑ اور پاور سیکٹر سے 79,000 کروڑ روپے حاصل کئے جائیں گے۔ امیتابھ کانت نے بتایا کہ مرکزی حکومت ایئرپورٹس سے 20,800 کروڑ روپے کی رقومات اکٹھا کرے گی، بندرگاہوں سے 13,000 کروڑ، ٹیلی کام یا مواصلات سے 35,000 کروڑ، اسٹیڈیمس سے 11,500 کروڑ اور پاور ٹرانسمیشن سیکٹر سے 45,200 کروڑ روپے جٹائے گی۔ اثاثوں کا زیادہ تر مونیٹائزیشن InvIT طریقے یا پبلک ۔ پرائیویٹ پارٹنرشپس کے ذریعہ عمل میں لایا جائے گا۔ نیتی آیوگ وائس چیرمین راجیو کمار نے کہا کہ حکومت قومی بنیادی ڈھانچے کو فروغ دینے کے لئے خانگی شعبہ اور خانگی سرمایہ مشغول کرانے کی پابند عہد ہے۔ انہوں نے کہا کہ انفراسٹرکچر میں زبردست گنجائش ہوتی ہے اور مونیٹائزیشن پائپ لائن اگلا قدم ہے جس کے ذریعہ بنیادی ڈھانچے کے فروغ کے لئے خانگی سرمایہ مشغول کیا جائے گا۔ وزارت فینانس نے وضاحت کی کہ روڈس، ٹرانسپورٹ اور ہائی ویز، ریلوے، برقی، پائپ لائن و قدرتی گیس، شہری ہوابازی، جہازرانی، بندرگاہیں اور آبی گذر گاہیں، مواصلات، فوڈ اور پبلک ڈسٹریبیوشن، کانکنی، کوئلہ، ہاوزنگ اور شہری امور کی وزارتیں اس نیشنل مونیٹائزیشن پائپ لائن کا حصہ ہوں گی۔ نرملا سیتارامن نے این ایم پی کے تعلق سے مرکزی بجٹ 2021 میں بات کی تھی اور ادعا کیا تھا کہ حکومت مالیات اکٹھا کرنے کے اختراعی طریقے کھوج رہی ہے۔ اثاثوں سے رقمی قدر حاصل کرنے کا عمل وہ طریقہ ہے جس کے ذریعہ نئے وسائل اور مالیات اکٹھا کئے جاتے ہیں تاکہ بنیادی ڈھانچے کے فروغ میں مدد مل سکے۔ محکمہ سرمایہ کاری اور پبلک اسیٹ مینجمنٹ کی ویب سائٹ کے مطابق کمتر استعمال شدہ یا لیت و لعل کے شکار کے شکار اثاثوں کو قوم کے لئے بہتر طور پر استعمال کرنے کے اختراعی طریقہ کو اسیٹ مونیٹائزیشن کہتے ہیں۔ مودی حکومت اب تک کی میعاد میں لائف انشورنس کارپوریشن (ایل آئی سی) سمیت کئی شعبوں کے حصص فروخت کرچکی ہے۔
https://urduduniyanews72.blogspot.com0
اردو دنیا نیوز۷۲
سرورق بین الاقوامی قومی بین ریاستی خبریں اسپورٹس جرائم و حادثات فلمی دنیا گوشہ خواتین و اطفال مضامین و شاعری دلچسپ خبریں صحت اور سائنس
ڈائریکٹر ایم رحمانی
Director M Rahmani
پیر, اگست 23, 2021
آسام میں زلزلہ آیا ہے
پیرکوآسام میں ریکٹراسکیل پر چارکی شدت کا زلزلہ آیا۔ یہ اطلاع ایک سرکاری بلیٹن میں دی گئی ہے۔اس میں کہا گیا ہے کہ زلزلہ کے قومی مرکز کے مطابق ، زلزلہ دوپہر 1:13 بجے آیا ، اس کا مرکز مغربی آسام کے کوکراہار میں 10 کلومیٹرکی گہرائی میں واقع ہے۔ مقام میگھالیہ میں تورا سے 90 کلومیٹر شمال میں واقع تھا۔مغربی آسام اور شمالی مغربی بنگال کے اضلاع میں لوگ خوف کے مارے گھروں سے باہرنکل آئے۔ حکام نے بتایاہے کہ زلزلے کے باعث کسی جانی یا مالی نقصان کی فوری اطلاع نہیں ہے۔شمال مشرق ایک بلند زلزلہ زدہ علاقے میں ہے ، جس کی وجہ سے اس علاقے میں اکثر زلزلے آتے رہتے ہیں۔
https://urduduniyanews72.blogspot.com0
اردو دنیا نیوز۷۲
سرورق بین الاقوامی قومی بین ریاستی خبریں اسپورٹس جرائم و حادثات فلمی دنیا گوشہ خواتین و اطفال مضامین و شاعری دلچسپ خبریں صحت اور سائنس
ڈائریکٹر ایم رحمانی
Director M Rahmani
حکومت کی ہدایت کے بعد شروع ہوا تعلیمی نظام
دیوبند،23؍(اردو اخبار دنیا) اگست(سمیر چودھری؍بی این ایس)
اترپردیش میں حکومت کے احکامات کے مطابق پرائمری درجات کے اسکولوں میں یکم ستمبر سے آف لائن کاسیں شروع ہونگی،حکومت کی جانب سے اس سلسلہ میں گائڈ لائن جاری کردی گئی ہے۔واضح ہو کہ تعلیمی اداروں کو مرحلہ وار کھولے جانے کے تحت 16؍اگست سے سے درجہ 9؍سے درجہ 12؍تک کی کلاسز کا آغاز کیا گیا، بعد ازاں 23؍اگست سے جونیر کلاسز درجہ6؍ سے درجہ 8؍ تک کے تعلیمی اداروں کو کھولنے کی اجازت دی گئی اور اب آخری مرحلہ کے تحت یکم ستمبر سے درجہ ایک تا درجہ پنجم یعنی پرائمری درجات کے تعلیمی ادارے کھولے جائیں گے۔اس سلسلہ میں حکومت وانتظامیہ کی جانب سے گائڈ لائن بھی جاری کردی گئی ہے۔کورونا انفیکشن کے معاملات میں واضح کمی آنے کے بعد ریاستی حکومت نے فیصلہ کیا تھا کہ یوپی بورڈ کے سیکنڈری،جونیر اور پرائمری تعلیمی اداروں کو مرحلہ وار کھولا جائے گا تاکہ تدریسی امور بہتر طریقہ سے انجام دیئے جاسکیں۔ٹیم9کی میٹنگ میں شرکت کرنے کے بعد ریاستی وزیر اعلی نے رکشا بندھن کے تہوار کے بعد تعلیمی اداروں میں درس وتدریس کے نظام کو یقینی بنائے جانے کے احکامات اور اس سے متعلق ہدایات دی تھیں۔اس سلسلہ میں ریاستی سطح کے ہیلتھ اسپیشلسٹ مشورہ کار کمیٹی کی صلاح اور مشورہ کے مطابق سینئر سیکنڈری،جونیئر اور پرائمری درجات کے تعلیمی سلسلہ کے آغاز کے ساتھ تکنیکی اور پروفیشنل تعلیمی اداروں کو بھی 50؍فیصد طلبہ کی تعداد کے ساتھ تعلیم شروع کرنے کی اجازت دیدی گئی ہے۔دیوبند اور اس کے قرب وجوار میں سیکنڈری،سینئیر سیکنڈری اور جونیر سطح کے تعلیمی اداروں کے ذمہ داران کا کہنا ہے کہ انہوں نے حکومت کی جانب سے جاری کردہ گائڈ لائن پر عمل کرتے ہوئے اپنے اپنے اداروں میں تدریسی امور شروع کرادیئے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اسکولوں کی عمارتوں،کلاسز اور فرنیچر کو سینیٹائز کیا جارہا ہے۔طلبہ وطالبات کو تھرمل اسکیننگ،فیس ماسک اور ہاتھوں پر سینیٹائزیشن کے بعد ہی کلاسز میں سوشل ڈسٹینسنگ پر عمل کراتے ہوئے بیٹھنے کی اجازت دی جارہی ہے۔
https://urduduniyanews72.blogspot.com0
اردو دنیا نیوز۷۲
سرورق بین الاقوامی قومی بین ریاستی خبریں اسپورٹس جرائم و حادثات فلمی دنیا گوشہ خواتین و اطفال مضامین و شاعری دلچسپ خبریں صحت اور سائنس
ڈائریکٹر ایم رحمانی
Director M Rahmani
تحفظ شریعت کی جانب سے دس روزہ اصلاحی پروگرام اختتام پذیر
https://urduduniyanews72.blogspot.com0
اردو دنیا نیوز۷۲
سرورق بین الاقوامی قومی بین ریاستی خبریں اسپورٹس جرائم و حادثات فلمی دنیا گوشہ خواتین و اطفال مضامین و شاعری دلچسپ خبریں صحت اور سائنس
ڈائریکٹر ایم رحمانی
Director M Rahmani
اردودنیانیوز۷۲
مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا
مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا ...
-
قرآن مجید اور حفاظ کی عظمت و رفعت اور ان کے مقام بلند کا کیا کہنا ، اللہ تعالیٰ نے کس قدر واضح اور دو ٹوک انداز اور الفاظ میں یہ اعلان کیا ...
-
*سیاق و سباق سے کٹا بیان، بڑھتا ہوا اشتعال اور ذمہ دار صحافت کی ضرورت* ✍️ شاہدؔ سنگارپوری 8080193804 موجودہ عہد اطلاعات کے ...
-
عید الفطر کا پیغام مضمون نگار : محمد ضیاء العظیم، معلم چک غلام الدین ہائی اسکول، ویشالی، بہار، موبائل نمبر :7909098319 اللہ رب ...
-
***نعت پاک *** زبانِ خلقِ خد ا پر بس ا یک نا مِ نبی ﷺ جبل کہ دشت وسمندربس ایک نامِ نبی ﷺ وہ ذات با عثِ تخلیقِ ا ر ضِ لا محد و د ہے ک...
-
مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا ...
-
حسین کی خوشبو Urduduniyanews72 دیا رِ قد سِ و فا میں حسین کی خو شبو رضا ئے حکمِ خد ا میں حسین کی خو شبو قبو لیت کے گلو ...
-
فلسطینی تحریک کے69 حامیوں کو سعودی عرب میں سزائیں اگست 10, 2021 (اردو اخبار دنیا) ریاض: سعودی عرب کی ایک فوج داری عدالت نے ظالم...
-
کوویڈ 19 کا فرضی نیگیٹو آر ٹی پی سی آر سرٹیفکیٹ دینے کا پردہ فاش اگست 26, 2021 ممبئی اگست26(اردو دنیا نیوز۷۲) کرائم برانچ یون...
-
ریلوے نے مسافروں کو دی بڑی راحت ، اب لوگ جنرل ٹکٹ کے ساتھ ٹرینوں میں کر سکیں گے سفر ملک میں کورونا کے حوالے سے صورتحال بہتر ہونے...
-
سید عادل گڈو بھائی گلستان محلہ پھلواری شریف پٹنہ کی بھانجی ارم وارثی کو گولڈ میڈل ملنے پر جامعہ عربیہ دارالعلوم محمدیہ کی جانب سے مبارکبادی ...
