Powered By Blogger

بدھ, اگست 25, 2021

واٹس اپ پر کورونا ٹیکہ سلاٹ بک کرانے کی سہولت

واٹس اپ پر کورونا ٹیکہ سلاٹ بک کرانے کی سہولتٹیکہ اندازی سند بھی حاصل کی جاسکتی ہے ۔ مرکز کا اقدام
حیدرآباد ۔ 24 ۔ اگست : ( سیاست نیوز ) : کورونا وبا کی تیسری لہر کے انتباہ کے بعد مرکزی حکومت نے ملک میں ٹیکہ اندازی مہم میں شدت پیدا کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے واٹس اپ میں بھی کورونا ٹیکہ کے سلاٹ بکنگ کرانے کی سہولت فراہم کی ہے ۔ ملک کے بیشتر شہریوں کے پاس اسمارٹ فونس موجود ہے جس میں واٹس اپ کا استعمال عام بات ہے ۔ مرکزی حکومت نے اب عوام کو واٹس اپ کے ذریعہ ٹیکہ کے لیے سلاٹ بک کرانے کی سہولت فراہم کی ہے ۔ مرکزی وزیر صحت نے ایک ٹوئیٹ کرتے ہوئے یہ بات بتائی ہے ہے ۔ اس سہولت کا بھر پور فائدہ اٹھاتے ہوئے عوام اب سکنڈس میں اپنے لیے کورونا ٹیکہ کا سلاٹ بک کراسکتے ہیں ۔ سلاٹ بک کرانے کے لیے عوام پہلے My Gov India Corona Help Desk کے نمبر 91-9013151515 کو اپنے کنٹاکٹ نمبر میں سیو کرلیں ۔ اس کے بعد واٹس اپ میں اس نمبر پر سلاٹ بک کرنے کے لیے میسیج روانہ کریں ۔ فوری آپ کے فون نمبر کو 6 عدد پر مشتمل او ٹی پی آئے گا وہ او ٹی پی انٹر کرتے ہوئے نمبر کو ویری فائی کرلیا جائے ۔ اس کے بعد تاریخ ، لوکیشن ، پن کوڈ ، ویکسین ٹائیپ کے علاوہ دوسری تفصیلات درج کریں ۔ خانہ پری کی تکمیل کے بعد Confirm کرنے کی صورت میں آپ کا سلاٹ بک ہوجائے گا ۔ اس کے علاوہ مرکزی حکومت نے اپ کو ویکسین سرٹیفیکٹ حاصل کرنے کی بھی واٹس اپ میں سہولت فراہم کی ہے ۔ اس کے لیے آپ کو واٹس اپ پر 9013151515 پر ڈاؤن لوڈ سرٹیفیکٹ میسیج کرنا ہوگا اس کے بعد اگر او ٹی پی اور نام کی تصدیق ہوگئی تو آپ کا ویکسینیشن سرٹیفیکٹ ڈاؤن لوڈ ہوجائے گا ۔۔N

مدھیہ پردیش : جشن اردو صحافت کو لے کر بھوپال دانشوروں کی میٹنگ کا انعقاد میں

مدھیہ پردیش : جشن اردو صحافت کو لے کر بھوپال دانشوروں کی میٹنگ کا انعقاد میںبھوپال : اردو صحافت کے دو سو سالہ جشن کی تیاریاں بھوپال میں بڑے زور وشور سے جاری ہیں ۔ جشن اردو صحافت کے پہلے پروگرام کا انعقاد بھوپال میں جنوری دوہزار بائیس میں ہوگا ۔ دو سو سالہ جشن اردو صحافت کے پروگرام کو لیکر بھوپال میں منعقدہ پروگرام میں مدھیہ پردیش کے ممتاز اردو ادیبوں، شاعروں، صحافیوں اور دانشوروں نے شرکت کی اور دوہزار بائیس میں پورے سال تک کشمیر سے کنیا کماری تک صدی تقریب کے انعقاد کا فیصلہ کیا گیا۔ جشن اردو صحافت کی تیاریوں کے موقع پر بھوپال سے ماہنامہ پرواز کا اجرا بھی عمل میں آیا۔

پروگرام کی صدارت کرتے ہوئے بھوپال کے ممتاز بزرگ صحافی عارف عزیز نے کہا کہ اردو صحافت نے اپنی ابتدا سے عوامی مسائل کی نمائندگی کا جو فریضہ ادا کرنے کا کام شروع کیا تھا ، وہ بحسن و خوبی ابھی بھی جاری ہے ۔ اردو صحافت دوسری زبانوں سے کسی درجے کم نہیں ہے ۔ بلکہ مواد اور خبروں کی معتبریت میں اردو صحافت کو اولیت حاصل ہے ۔

پروگرام کے مہمان خصوصی چھتیس گڑھ کے سابق ڈی جی پی ایم ڈبلیو انصاری نے اردو صحافت کے دو سوسالہ جشن کی تیاریوں پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ پرنٹ میڈیا، الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا میں اردو صحافت کی خوبیوں سے سبھی واقف ہیں ۔ موجودہ میں صحافت کے اداروں میں جو زبان استعمال ہو رہی ہے اس میں اردو کو سبقت حاصل ہے ۔ جشن اردو صحافت کے پہلے پروگرام کا آغاز بھوپال سے ہوگا ۔ پروگرام میں نہ صرف مدھیہ پردیش بلکہ کے نامور اردو صحافیوں کی خدمات حاصل کرنے اور ان کے مقالہ کو لیکر خاکہ تیار کیا جارہا ہے جسے بہت جلد نمایاں کردیا جائے گا ۔ ہمارا مقصد اردو صحافت کی مقصدیت کو منطر عام پر لانا ہے اور دنیا کو یہ بتانا ہے کہ اردو زبان اور اردو صحافت کے فروغ سے نہ صرف ہندوستانی تہذیب کا فروغ ہوگا بلکہ اردو ہی ہندوستان ہے اور ہندوستان ہی اردو ہے ۔


وہیں پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے ممتاز شاعر منطر بھوپالی نے کہا کہ تحریک آزادی میں اردو کے صحافیوں نے ہی برادران وطن میں جوش بھرنے کا کام کیا تھا جس سے ملک گیر سطح پر انقلاب کی فضا پیدا ہوئی تھی ۔ تحریک آزادی کی جب بھی بات ہوگی ، کوئی بھی زبان اردو زبان کے برابر نہیں کھڑی ہوسکتی ہے ۔ مجھے خوشی ہے کہ بھوپال نے اردو صحافت کے دو سو سالہ جشن کو ملک گیر سطح پر منانے کا قدم اٹھایا ہے ۔ اس سے نہ صرف نئی نسل کو اردو صحافت کی تاریخ کو قدم سے جاننے کا موقع ملے گا بلکہ اردو زبان کے لئے جو مشکلات راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں وہ بھی دور ہوں گی۔


پروگرام میں شعری اکادمی کے صدر مقبول واجد نے اردو صحافت کے دو سو سالہ جشن کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ سابقہ میٹنگ میں جشن اردو صحافت کے موقعہ پر بھوپال سے اردو اخبار جاری کرنے کا اعلان کیاگیا تھا مجھے خوشی ہے کہ ماہنامہ پرواز کے نام سے آج سے پہلے شمارے کا اجراکیا گیا ہے ۔ پہلا شمارہ تحریک آزادی کے جیالوں کی روشن تاریخ پر ہے ۔ آگے بھی اردو والوں کے تعاون سے ماہنامہ پرواز کی اشاعت جاری رہے گی ۔ابھی ماہنامہ کی شکل میں جاری ہے اور جلد ہی اسے ہفت روزہ کیا جائے اور اردو والوں نے اپنی محبتوں سے نوازہ تو انشا اللہ دوہزار بائیس جو اردو صحافت کی دو سو سالہ صدی کا سال ہے پرواز کو روزنامہ میں تبدیل کیا جائے گا ۔

حکومت کی پالیسی جاری رہنے تک راشن کارڈ کے بغیر مفت راشن تقسیم کیاجائے : ہائی کورٹ

حکومت کی پالیسی جاری رہنے تک راشن کارڈ کے بغیر مفت راشن تقسیم کیاجائے : ہائی کورٹنئی دہلی، 24 اگست (اردو اخبار دنیا )
دہلی ہائی کورٹ نے منگل کو کہا کہ جب تک پالیسی کے تحت اجازت دی جاتی ہے، سرکاری حکام راشن کارڈ پر اصرار کئے بغیر لوگوں میں مفت راشن تقسیم کریں گے۔جسٹس ریکھا پلی کی سنگل بنچ نے غیر منظم شعبے میں کام کرنے والے سات افراد کی درخواست کی سماعت کے دوران کووڈ19 کے خلاف ویکسینیشن کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ جج نے کہاکہ جب تک ہر ایک کو ویکسین نہیں دی جاتی، مفت راشن نہیں دیا جانا چاہیے، یہ حکم ہونا چاہیے۔ ہر روز وزیر اعظم کہہ رہے ہیں (ویکسین لگوائو)۔ آپ مفت راشن کے لیے عدالت آتے ہیں لیکن ویکسین نہیں لینا چاہتے۔اس درخواست میں راشن کارڈ کی عدم موجودگی میں لاک ڈاؤن کے دوران راشن کی مفت فراہمی کی ہدایت کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔ جسٹس ریکھا پلی نے کہاکہ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ جب تک مفت راشن کی سکیم راشن کارڈ پر اصرار کیے بغیر جاری رہے گی، جواب دہندگان درخواست گزار اور اس طرح کے دیگر افراد کو مفت راشن فراہم کیاجائے۔دہلی حکومت کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ فی الحال اس کی پالیسی کے مطابق درخواست گزاروں کو راشن کارڈ مانگے بغیر راشن فراہم کیا جا رہا ہے۔


اسرائیل میں بڑے پیمانے پر ویکسینیشن کے باوجود کوویڈ کیسسز میں اضافے سے اسرائیلی پریشان

ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیلیوں نے ماسک پہننے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اسرائیل میں ڈیلٹا ویرینٹ کے تیزی سے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ڈیلٹا کے تیزی سے پھیلاؤ نے زیادہ تر ویکسین شدہ اسرائیلیوں کو پھر سے خطرہ میں ڈال دیا

کچھ کا واٹر پارک جانے کا ارادہ تھا ، دوسروں کو میوزیم اور کچھ کو کھانے کے لیے۔ لیکن تین سے 12 سال کی عمر کے بچوں کو ایسا کرنے کے لیے پہلے کورونا وائرس ٹیسٹ کروانے کی ضرورت تھی۔

20 اگست تک ، پارکوں کے علاوہ ریستوران ، عوامی تالاب ، عجائب گھر یا کسی اور عوامی جگہ میں "گرین پاس” داخل ہونا ضروری ہے۔ یہ پاس ان لوگوں کو جاری کیا جاتا ہے جن کو دو ویکسین کی خوراک ملی ہے یا جو کورونا وائرس سے صحت یاب ہو چکے ہیں۔ لیکن ماضی کے برعکس ، جو بچے ویکسین لینے کے اہل نہیں ہیں ان کے پاس بھی پاس ہونا ضروری ہے۔

"یہ مشکل ہے ،” شیرا ایلکن نے کہا ، جو اس وقت خوفزدہ ہو گئی جب اسے اپنے روتے ہوئے چار سالہ بچے کو ڈھونڈنا پڑا تاکہ ڈاکٹر اسکی ناک کے اندر سے سواب کا نمونہ لے سکے۔ ” میں سمجھتا ہوں کہ یہ ضروری ہے اور میں کوشش کرنے کے لیے تیار ہوں۔”

تیز ٹیسٹ کے نتائج 15 منٹ میں آتے ہیں ، لیکن وہ صرف 24 گھنٹوں کے لیے موثر ہوتے ہیں اور کچھ والدین نے اپنے آپ کو ایک گھنٹے سے زیادہ وقت تک لائن میں انتظار کرتے ہوئے پایا ہے

اپنے شوہر اور دو جوان بیٹیوں کے ساتھ انتظار کرنے والی تمر کوہن نے کہا ، "اگر وہ ہمیں روزانہ ایسا کرنے پر مجبور کرتے ہیں تو میں اپنے بال نوچ لوں گا۔” "یہ مضحکہ خیز ہے. ہم ہر روز لائن میں انتظار نہیں کر سکتے۔

اسرائیل اپنی آبادی کی اکثریت کو ویکسین دینے والے پہلے ممالک میں سے ایک تھا اور مارچ تک بیشتر اسرائیلی پہلے ہی COVID-19 کی ویکسین لے چکے تھے

جون تک ماسک کی لازمی شرط کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا اور صرف پابندیاں رکھیں جو ملک سے داخلے اور باہر نکلنے سے متعلق تھیں۔ اب انفیکشن کی شرح بڑھ کر 5.4 فیصد ہو گئی ہے اور وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے کہا ہے کہ وہ شرح کو کم کرنے اور چوتھے لاک ڈاؤن سے بچنے کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گے۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ڈیلٹا کی مختلف اقسام اسرائیل میں اتنی سختی سے پھیلنے کی دو اہم وجوہات ہیں۔ ایک تو ، اسرائیلی ماسک کی ضروریات کی خلاف ورزی کر رہے تھے ، جو جون کے آخر میں دوبارہ نافذ کر دی گئیں۔ اب پولیس ان لوگوں کو جرمانے دے رہی ہے جو چہرہ نہیں ڈھانپتے۔

انفیکشن کی زیادہ شرح کی دوسری وجہ یہ ہے کہ زیادہ تر اسرائیلیوں کو فائزر ویکسین سے ٹیکہ لگایا گیا تھا ، جو کہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ وائرس کے خلاف موڈرنا سے کم موثر ہے۔

بار الان یونیورسٹی کے لائف سائنسز کے نائب ڈین پروفیسر سیرل کوہن اور وزارت صحت کی کورونا وائرس ویکسین ایڈوائزری کے رکن پروفیسر سیرل کوہن نے کہا ، "یہ سچ ہے کہ موڈرنہ نے لوگوں کو انفیکشن سے بہتر طور پر محفوظ کیا ہے ، لیکن دو ویکسینز شدید بیماری کے خلاف تاثیر میں تقریبا equivalent برابر ہیں۔”

بچوں اور کسی کو مکمل طور پر ویکسین نہ کروانے کی ضرورت کے علاوہ ، اسرائیل تمام اساتذہ کو کام کرنے کے لیے گرین پاس کی ضرورت ہوگی۔ اسرائیل نے ملک میں داخلے کے حوالے سے سخت ہدایات بھی عائد کی ہیں۔

غیر ملکیوں کو خصوصی اجازت نامہ حاصل کرنے اور متعدد ٹیسٹ لینے کے بغیر داخل ہونے کی اجازت ہے۔ اسرائیلیوں کو خصوصی کمیٹی کی اجازت کے بغیر اسپین ، برازیل اور میکسیکو جیسے "سرخ ممالک” میں جانے کی اجازت نہیں ہے۔ جو پہلے ہی سرخ ممالک میں ہیں ، نیز اسرائیلیوں کو "نارنجی” ممالک میں ، جیسے امریکہ ، فرانس اور جرمنی ، اسرائیل واپس آنے پر قرنطین میں جانا پڑتا ہے ، چاہے انہیں ویکسین دی گئی ہو۔

مزید برآں ، ملک نے 60 سال اور اس سے زیادہ عمر کے باشندوں کے لیے بوسٹر ویکسین کی پیشکش شروع کی – حکومت کی منظوری سے پہلے ہی۔ تب سے اسرائیل نے 40 اور اس سے زیادہ عمر کے ہر فرد کو بوسٹر دینے کی منظوری دی ہے۔

پروفیسر کوہن نے کہا ، "اگر آپ دو مہینے پہلے مجھ سے پوچھتے کہ جب ہمارے پاس روزانہ صرف 100 کیسز ہوتے تو میں کہتا کہ ہمیں بوسٹر کے ساتھ جانے کی ضرورت نہیں ہے۔”

"لیکن اس دوران ، ہم ایک دن میں 100 کیسز سے ایک دن میں 8،000 کیسز میں منتقل ہوگئے اور اگر میں کچھ دنوں میں 10،000 سے زیادہ دیکھوں تو مجھے حیرت نہیں ہوگی۔ ہمارے پاس بوسٹر شاٹ دینے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ میں مزید ڈیٹا کو ترجیح دیتا ، لیکن میرے خیال میں ہم نے صحیح کال کی۔

9.3 ملین کی آبادی میں سے 1.3 ملین سے زیادہ اسرائیلیوں کو اب تک فائزر کی تین خوراکیں مل چکی ہیں کچھ لوگ تین شاٹس حاصل کرنے کے باوجود کورونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔

تیسرے جاب نے اخلاقی خدشات کو جنم دیا ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ادھانوم گیبریئس نے اسرائیل سمیت امیر ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ خوراک غریب ممالک کو بھیجیں جو اپنے شہریوں کو پہلی ویکسین بھی فراہم نہیں کر سکتے۔

پڑوسی مقبوضہ فلسطین میں ، صرف 9.2 فیصد آبادی کو مکمل طور پر ویکسین دی گئی ہے ، جبکہ اسرائیل میں 60.1 فیصد کو کم از کم دو جابس موصول ہوئی ہیں

’کووی شیلڈ کے لیے 84 دنوں کا انتظار کیوں؟‘ مودی حکومت سے کیرالہ ہائی کورٹ کا سوال

کیرالہ ہائی کورٹ نے منگل کے روز مرکز کی مودی حکومت سے یہ بتانے کو کہا ہے کہ کووی شیلڈ ویکسین کی پہلی خوراک لینے کے بعد آخر دوسری خوراک لینے کے لیے 84 دنوں کا انتظار کیوں کرنا پڑتا ہے۔ عدالت نے یہ بھی پوچھا ہے کہ اگر ٹیکے خود کسی فریق یا پارٹیوں کے ذریعہ درآمد یا حاصل کر لیے جائیں تو کیا وقت کے فرق کو کم کرنا ممکن ہے۔

عدالت نے یہ تبصرہ کائٹیکس گروپ کی کمپنیوں کے ذریعہ داخل ایک عرضی پر سماعت کے دوران کی، جس میں کہا گیا تھا کہ شروع میں کووی شیلڈ کی دوسری خوراک لینے کی مدت کار 45 دن تھی۔ عدالت نے پوچھا کہ کیا وقت کا فرق اس لیے بڑھایا گیا تھا کیونکہ اس کے بہتر اثرات دیکھے گئے تھے، یا پھر یہ وقت پر ٹیکوں کی سورسنگ میں مسائل کے سبب بڑھایا گیا تھا۔ عدالت نے مرکز سے ان ایشوز پر اپنا حلف نامہ دینے کو کہا ہے اور معاملے کو جمعرات کے لیے مقرر کر دیا ہے۔

منگل, اگست 24, 2021

پٹرول اور ڈیزل ایک بار پھر سستا ، قیمت میں 15 پیسے فی لیٹر کمی

پٹرول اور ڈیزل ایک بار پھر سستا ، قیمت میں 15 پیسے فی لیٹر کمینئی دہلی ، 24 اگست۔ پبلک سیکٹرکی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے ایک بار پھر پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کی ہے۔ اس نے پٹرول پر 15 پیسے فی لیٹر کمی کی ہے ، جبکہ ڈیزل بھی 15 پیسے فی لیٹر سستا ہوگیاہے۔ اس کمی کے بعد منگل کو دہلی میں پٹرول 101.49 روپے فی لیٹر اور ڈیزل 88.92 روپے فی لیٹر پر آ گیاہے۔ انڈین آئل کی ویب سائٹ کے مطابق ملک کے بڑے شہروں ممبئی، چنئی اور کولکاتہ میںپٹرول کی قیمت میں کم ہوکربالترتیب 107.52 روپے، 99.20 روپے اور101.82 روپے فی لیٹرہوگئی ہے۔وہیں ڈیزل کی قیمت بھی کم ہوکر بالترتیب 96.48 روپے، 93.52 روپے اور 91.98 روپے فی لیٹرہو گئی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ جہاں پٹرول صرف 35 پیسے فی لیٹر سستا ہو اہے۔وہیںاب تک ڈیزل فی لیٹر 95 پیسے سستا ہو گیا ہے

مہاراشٹر: مرکزی وزیر نارائن رانے گرفتار، ادھو ٹھاکرے کے خلاف متنازعہ بیان دینا پڑا بھاری

ممبئی: مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ ادھو ٹھارے کے خلاف متنازعہ بیان دینے والے مرکزی وزیر نارائن رانے کو منگل کے روز گرفتار کر لیا گیا۔ اس سے قبل پولیس نے نارائن رانے کے خلاف توہین آمیز اور نفرت انگیز بیانوں کی بنا پر آئی پی سی کی کئی دفعات میں مقدمہ درج کرایا گیا تھا۔ نارائن رانے کے بیان سے بی جے پی بھی غیر آرام دہ صورت حال میں آ گئی اور پارٹی لیڈران نے کہا ہے کہ وہ ان کے بیان کی تائید نہیں کرتے۔

خیال رہے کہ مرکزی وزیر نارائن رانے نے رائے گڑھ میں پیر کے روز منعقد کی گئی جن آشیرواد یاترا کے دوران کہا تھا کہ ’’یہ شرمناک ہے کہ وزیر اعلیٰ (ٹھاکرے) کو یہ معلوم نہیں ہے کہ آزادی کو کتنے سال ہو گئے ہیں۔ تقریر کرنے کے دوران وہ پیچھے مڑ کر اس کے بارے میں پوچھتے نظر آتے ہیں۔ اگر میں وہاں ہوتا تو انہیں ایک زوردار تھپڑ رسید کرتا۔‘‘

 

نارائن رانے نے دعوی کیا ہے کہ 15 اگست کو عوام الناس سے خطاب کے دوران ادھو ٹھاکرے یہ بھول گئے تھے کہ آزادی کو کتنے سال ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تقریر کے دوران ہی انہوں نے اپنے معاونین سے دریافت کیا کہ آزادی کو کتنے سال ہوئے ہیں۔

ادھر، بی جے پی نے وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے کے خلاف مرکزی وزیر نارائن رانے کے تھپڑ والے بیان کو خارج کر دیا ہے۔ ساتھ ہی، حزب اختلاف کے لیڈر دیویندر فڑنویس نے کہا کہ پارٹی نارائن رانے کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے اور ادھو ٹھاکرے حکومت بی جے پی لیڈران کو نشانہ بنانے کے لئے پولیس کا غلط استعمال کر رہی ہے۔

نڈا نے رانے کی گرفتاری کی مذمت کی

نئی دہلی، 24 اگست (یو این آئی) بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے صدر جے پی نڈا نے مرکزی وزیر نارائن رانے کی مہاراشٹر میں ہوئی گرفتاری کی مذمت کی ہے۔مسٹر نڈا نے منگل کے روز ٹویٹ کیا،’مہاراشٹر حکومت کی جانب سے مرکزی وزیر مسٹر رانے کی گرفتاری آئینی اقدار کی خلاف ورزی ہے۔ اس طرح کی کاروائی سے نہ تو ہم ڈریں گے، نہ دبیں گے‘۔


انہوں نے کہا،’بی جے پی کو ’جن آشیرواد‘ یاترا میں ملنے والی حمایت سے یہ لوگ پریشان ہیں۔ ہم جمہوری ڈھنگ سے لڑتے رہیں گے، یاترا جاری رہے گی‘۔قابل ذکر ہے کہ مسٹر رانے کے مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ ادھو ٹھاکرے کے خلاف قابل اعتراض بیان کے بعد ان کے خلاف مہاراشٹر میں ایف آئی آر درج کی گئی اور انھیں گرفتار کر لیا گیاہے۔ مسٹر رانے بامبے ہائی کورٹ میں ضمانت کے لیے عرضی دائر کی ہے۔


در اصل مسٹر رانے مہاراشٹر کے مختلف حصوں میں ’جن-آشیرواد یاترا‘نکال رہے ہیں۔ اس دوران صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا،’مسٹر ٹھاکرے کیسے وزیراعلیٰ ہیں ‘ جنھیں یہ تک نہیں معلوم کہ آزادی کو کتنے برس ہوئے۔ میں وہاں ہوتا تو انھیں ایک تھپڑ لگا دیتا‘۔

اردودنیانیوز۷۲

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا ...