Powered By Blogger

جمعہ, اگست 27, 2021

ریلوے مسافروں کیلئے اہم اطلاع

ناندیڑ:26اگست۔ (اردو دنیا نیوز۷۲ ) چنئی میں ریلوے ریزرویشن سسٹؑم (پی آر ایس) میںکچھ تکنیکی خرابی آئی ہے جس کے باعث ساوتھ سنٹرل ریلوے میں بتاریخ 28اگست کی شب 23.45 بجے سے 29 اگست02.00 بجے تک یعنی 2 گھنٹے 15 منٹ اور29 اگست سے 23.45 بجے تا30اگست کوشب 02.00تک یعنی 2 گھنٹے 15 منٹ تک ریلوے ریزرویشن کی سہولت دستیاب نہیں رہے گی ۔

جس کے مطابق ریزرویشن انکوائری ، ریفنڈ ، ریزرویشن کی سہولت ریلوے اسٹیشن کی ٹکٹ ونڈو پر دستیاب نہیں ہوگی۔اور آن لائن ریزرویشن کی سہولت آئی آر سی ٹی سی کی ویب سائٹ کے ساتھ ساتھ ساو¿تھ سنٹرل ریلوے ، سدرن ریلوے اور ساو¿تھ ویسٹرن ریلوے اسٹیشنوں سے نکلنے والی ٹرینوں کے لیے انٹرنیٹ پر دستیاب نہیں ہوگی

تین طلاق متاثرہ کی وکیل رہی بی جے پی لیڈر نازیہ خان ٹھگی کے الزام میں گرفتار

کلکتہ ،٢٦اگست(اردو دنیا نیوز۷۲)گریش پار ک پولس اسٹیشن نے وکالت کی جعلی سرٹیفکٹ اور دھوکہ دہی کے الزام میں بی جے پی کی خاتون لیڈر نازیہ الہی کو گرفتار کیا ہے ۔نازیہ بی جے پی اقلیتی سیل کی لیڈ ر ہیں ۔پولس نے بتایا کہ ابھی تک ایسے کوئی ثبوت نہیں ملے ہیں جس سے یہ ثابت ہوکہ نازیہ وکیل ہیں۔

نازیہ الٰہی خان کے خلاف الزام ہے کہ اس نے کیس حل کرنے کے نام پر ایک سے زاید افراد سے روپے لئے ہیں ۔ باگوئیٹی پولیس اسٹیشن میں بھی اس کے خلاف متعدد شکایات درج کرائی گئی ہیں۔
سنجیو اگروال نامی شخص نے شکایت درج کراتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے طلاق کا معاملہ حل کرنے کے نام پر 6 لاکھ روپے لیے تھے۔ لیکن مسئلہ حل نہیں ہوا۔ اس شخص نے 2020 میں گریش پارک پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کروائی تھی۔

پولیس نے بار کونسل اور بار ایسوسی ایشن کو خط بھیج کر معلومات حاصل کی تھی کہ نازیہ الہی خان کی وکالت کی سرٹیفیکٹ صحیح ہے یا نہیں۔دونوں ایسو ایشی ایشن نے کہا کہ ان کی وکالت کی سرٹیفکٹ درست نہیں ہے۔پولیس میں شکایت درج ہونے کی وجہ سے نازیہ الٰہی خان دہلی سمیت مختلف مقامات پر بھاگ رہی تھی۔ تاہم ، وہ جمعرات کی صبح پکڑی گیی۔ گریش پارک پولیس نے اسے گرفتار کر لیا۔نازیہ الہی خان تین طلاق معاملے میں کیس کی سماعت کے دوران ایک فریق بن کر شہرت حاصل کی تھی اور اس کے ذریعہ وہ بی جے پی میں بلندی بھی حاصل کی تھی۔ترنمول کانگریس سے بھی ان کا تعلق رپا ہے مگر بعد میں وہ بی جے پی میں شامل ہوگئی تھیں۔

جمعرات, اگست 26, 2021

اروند کیجریوال کی محنت و جدوجہد لائی رنگ ، تیسری آنکھ نگرانی میں دہلی پوری دنیا میں اول سے

مرکزی حکومت اور ایل جی کی مسلسل رکاوٹوں کے باوجود دہلی نے یہ تاریخی مقام وزیر اعلی اروند کیجریوال کی محنت اور جدوجہد کی وجہ سے حاصل کیا ہے۔ خواتین سمیت ہر طبقہ کی حفاظت کو مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ کیجریوال حکومت نے اب تک 2.75 لاکھ سی سی ٹی وی نصب کیے ہیں اور اگلے چند مہینوں میں مزید 1.4 لاکھ سی سی ٹی وی نصب کیے جائیں گے۔

نئی دہلی: وزیراعلیٰ اروند کیجریوال کی محنت اور جدوجہد کی وجہ سے دہلی نے دنیا میں ایک نیا مقام حاصل کیا ہے۔ دہلی آج دنیا کا پہلا شہر بن گیا ہے جس نے فی مربع میل سب سے زیادہ سی سی ٹی وی نصب کیے ہیں۔ دہلی میں فی مربع میل 1826 سی سی ٹی وی نصب ہیں جو کہ چنئی سے 3 گنا زیادہ اور ممبئی سے 11 گنا زیادہ ہیں۔ مسلسل جدوجہد، دور اندیشی اور وزیر اعلی اروند کیجریوال کی محنت کی وجہ سے، مرکزی حکومت اور ایل جی کی مسلسل رکاوٹوں کے باوجود ، دہلی میں سی سی ٹی وی نصب کیے جا سکے اور آج دہلی نے یہ تاریخی مقام حاصل کیا ہے۔ اس سے دہلی کے لوگوں کے لیے ایک محفوظ ماحول فراہم کرنے کے کیجریوال حکومت کا ایک بڑا وعدہ بھی پورا ہوا۔

اس کامیابی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے کہا کہ فی مربع میل نصب سی سی ٹی وی کے لحاظ سے دنیا کے 150 شہروں میں دہلی پہلے نمبر پر ہے اور اس نے شنگھائی ، نیو یارک اور لندن جیسے شہروں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ خواتین کی حفاظت کو مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ، دہلی حکومت نے اب تک 2.75 لاکھ سی سی ٹی وی نصب کیے ہیں اور اگلے چند مہینوں میں 1.4 لاکھ مزید سی سی ٹی وی نصب کیے جائیں گے۔ وزیر اعلی اروند کیجریوال نے ٹویٹ کیا ، "ہمیں یہ کہتے ہوئے فخر ہے کہ دہلی نے شنگھائی ، نیو یارک اور لندن جیسے شہروں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے جہاں زیادہ سے زیادہ سی سی ٹی وی کیمرے فی مربع میل لگائے گئے ہیں۔ دہلی میں 1826 کیمرے فی مربع میل جبکہ لندن میں 1138 کیمرے فی مربع میل ہیں۔ مشن موڈ میں کام کرنے والے ہمارے افسران اور انجینئرز کو مبارکباد ، جس کی وجہ سے ہم نے یہ کارنامہ بہت کم وقت میں حاصل کیا ہے۔

دہلی میں اب تک 2.75 لاکھ سی سی ٹی وی نصب کیے گئے ہیں ، حکومت خواتین سمیت ہر طبقہ کی حفاظت کو مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے اور اس مقصد کے لیے دہلی کی سڑکوں پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے جا رہے ہیں۔ یہ دہلی کی تاریخ کا سب سے بڑا اقدام ہے۔ اب تک دہلی میں 2.75 لاکھ سی سی ٹی وی نصب کئے جاچکے ہیں اور 1.4 لاکھ مزید سی سی ٹی وی نصب ہونا باقی ہیں، جو ٹینڈرنگ کے عمل کے تحت ہیں۔ یہ کیمرے اگلے سات ماہ کے اندر بھی لگائے جائیں گے۔ سی سی ٹی وی پروجیکٹ سوراج کی ایک مثال ہے۔ RWAs ان جگہوں کے سروے میں شامل تھے جہاں سی سی ٹی وی نصب کیے گئے ہیں۔ سی سی ٹی وی نہ صرف کالونیوں کو بلکہ دہلی کے تمام حصوں کو ڈھونڈ رہا ہے۔ دہلی حکومت کے سی سی ٹی وی کی تنصیب کا یہ ماڈل عالمی سطح پر منفرد ہے ، کیونکہ یہ نظام وکندریقرت ہے اور پولیس ، PWD اور RWAs اور مارکیٹ ایسوسی ایشنز کے ذریعے محفوظ کنکشن کے ذریعے ریموٹ مانیٹرنگ کی اجازت دیتا ہے۔ کیجریوال حکومت نے سی سی ٹی وی لگانے کا اپنا وعدہ پورا کیا کیجریوال حکومت نے دہلی بھر میں سی سی ٹی وی کوریج فراہم کرنے کا اپنا وعدہ پورا کیا ہے۔ دہلی کے لوگوں کی جانب سے 2012 سے شہر کے عوامی علاقوں میں سی سی ٹی وی کوریج فراہم کرنے کا بار بار مطالبہ کیا گیا۔ دہلی والوں کی مانگ کو پورا کرتے ہوئے دہلی حکومت کے پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ نے یہ سی سی ٹی وی لگانے کا عمل شروع کیا۔ دہلی ملک کا واحد شہر ہے جہاں عوامی مقامات کو سی سی ٹی وی کے ذریعے بہترین نگرانی فراہم کی جا رہی ہے۔ نیز ، دہلی عالمی سطح پر واحد شہر بن گیا ہے ، جو سی سی ٹی وی کے ذریعے اپنے عوام کی حفاظت میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

دہلی کے محمد پور گاؤں کا نام بدل کر مادھو پورم کرنے کی تجویز کودی گئی پیشگی منظوری

دہلی کے محمد پور گاؤں کا نام بدل کر مادھو پورم کرنے کی تجویز کودی گئی پیشگی منظوری

Delhi News Proposal to change the name of Mohammadpur village in Delhi to Madhavpuram has been approved in advance

نئی دہلی، 26 اگست:(اردودنیانیوز۷۲)ملک بھر میں کئی جگہوں کے نام وقتاقتا تبدیل ہوتے رہے ہیں۔ اب قومی دارالحکومت دہلی کے منیرکا میں واقع ایک گاؤں #محمد پور کا نام بدل کر مادھو پورم کرنے کی تجویز کو پیشگی منظوری دے دی گئی ہے۔ جنوبی #دہلی #میونسپل #کارپوریشن کے میئر مکیش سوریان نے یہ معلومات دی۔

ایک بیان جاری کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ معلوم ہوا ہے کہ #مغلیہ دور میں دہلی کے کئی دیہات کے نام زبردستی بدلے گئے تھے، جس میں منیرکا کے وارڈ نمبر 66 کا محمد پور گاؤں بھی ہے۔ یہ جنوبی دہلی #میونسپل کارپوریشن کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔اس میں مزید کہا گیا کہ لوگوں کا دیرینہ مطالبہ ہے کہ محمد پور گاؤں کا نام بدل کر مادھو پورم کیا جائے۔ اس مطالبہ اور جذبات کو مدنظر رکھتے ہوئے اور کارپوریٹر بھگت سنگھ ٹوکاس کی درخواست پر عوام کے مفاد میں وارڈ نمبر 66 منیرکا کے محمد پور گاؤں کو مادھو پورم میں تبدیل کرنے کی تجویز کو پیشگی منظوری دی گئی ہے۔

شادی شدہ بیوی کے ساتھ اس کی مرضی کے خلاف جسمانی تعلق بنانا عصمت دری نہیں :ہائی کورٹ

شادی شدہ بیوی کے ساتھ اس کی مرضی کے خلاف جسمانی تعلق بنانا عصمت دری نہیں :ہائی کورٹ

judgment

بلاسپور26اگست:(اردودنیانیوز۷۲)چھتیس گڑھ ہائی کورٹ نے شادی شدہ بیوی کے ساتھ اس کی مرضی کے خلاف #جسمانی تعلق کو #ریپ نہیں ماناہے۔ ایڈووکیٹ وائی سی شرما نے کہا کہ جسٹس این کے چندرونشی کی سنگل بنچ نے قانونی طور پر شادی شدہ #بیوی کی مرضی کے خلاف #زبردستی یا طاقت کے بل بوتے جسمانی تعلق #عصمت دری نہیں ماناہے۔شرما نے بتایا کہ ریاست کے ضلع بیمتارا کے ایک کیس میں شکایت کنندہ بیوی نے اپنے شوہر پر عصمت دری اور غیر فطری #جنسی تعلقات کا الزام لگایا تھا، جسے اس کے شوہر نے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

وکیل نے کہا کہ ہائی کورٹ نے کہا کہ ازدواجی عصمت دری کے علاوہ دیگر الزامات کے معاملے میں کیس جاری رہے گا۔ شرما نے بتایا کہ ضلع بیمتارا میں شادی کے بعد شوہر اور بیوی کے درمیان علیحدگی ہوگئی تھی۔ بیوی نے تھانے میں شکایت درج کرائی تھی کہ ان کی شادی جون 2017 میں ہوئی تھی۔ شادی کے کچھ دنوں کے بعد اس کے شوہر اور سسرال والوں نے اسے ہراساں کرنا شروع کیا، #جہیز کے طور پر پیسوں کا مطالبہ کیا۔

اس کا شوہر بھی اسے گالیاں دیتا اور مارتا پیٹتا تھا۔ بیوی نے یہ بھی الزام لگایا کہ اس کے شوہر نے اس کی مرضی اور غیر فطری #جنسی تعلقات کے خلاف کئی بار اس کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کئے۔وکیل نے بتایا کہ تفتیش کے بعد شوہر اور دیگر کے خلاف تھانہ میں دفعہ 498-اے اور 377، 376 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا اور چالان مقامی عدالت میں پیش کیا گیا۔ نچلی عدالت نے دفعات کے تحت الزامات مرتب کئے تھے۔شرما نے بتایا کہ خاتون کے شوہر نے ریپ کیس میں ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

درخواست گزار شوہر کی جانب سے عدالت میں یہ دلیل دی گئی کہ قانونی طور پر شادی شدہ بیوی کے ساتھ شوہر کی جانب سے جنسی یا کوئی بھی جنسی عمل عصمت دری نہیں ہے، چاہے وہ طاقت سے کیا جائے یا بیوی کی مرضی کے خلاف۔ اس معاملے میں گجرات ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کی عدالتی نظیر بھی پیش کی گئی۔

کسانوں نے 25 ستمبر کو بھارت بند کااعلان کیا26/08/2021

کسانوں نے 25 ستمبر کو بھارت بند کااعلان کیا

farmers-protest-bharat-bandh
نئی دہلی26اگست:(اردودنیانیوز۷۲)مرکزی #زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کے احتجاج کونو ماہ مکمل ہو چکے ہیں۔ اس موقع پر کسان تنظیمیں دہلی کی سنگھو بارڈرپردو روزہ قومی کانفرنس منعقد کر رہی ہیں۔ملک کی ہر ریاست سے کسانوں کے نمائندے کسانوں کے قومی کنونشن میں پہنچے ہیں۔اس کانفرنس میں متحدہ کسان مورچہ نے اگلے ماہ 25 ستمبر کو ملک گیر بھارت بند کا اعلان کیا ہے۔
کسان تنظیموں نے 5 ستمبر کو مشن #یوپی اور اتراکھنڈ شروع کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ یہ مشن مغربی یوپی کے مظفر نگر سے شروع کیا جائے گا۔ اس دن کسان مظفر نگر میں ایک مہا پنچایت کا اہتمام کریں گے۔کسان رہنمادرشن پال نے بتایاہے کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ 25 ستمبر کو ہم ملک بھر میں زرعی قوانین کے خلاف بھارت بند کریں گے۔ 5 ستمبر کوہم #کسان مہا پنچایت کے ذریعے دہلی اور لکھنؤ دونوں کو اشارہ دیں گے۔ اس دن لاکھوں کسان #ملک بھرسے مظفر نگرپہنچیں گے۔

دہلی کے فیروز شاہ کوٹلہ میں نماز پر پابندی، مسلم طبقہ میں غم و غصہ کی لہر

نئی دہلی: راجدھانی دہلی کے آئی ٹی او پر واقع تاریخی اہمیت کا حامل فیروز شاہ کوٹلہ ایک مرتبہ پھر سرخیوں میں آگیا ہے۔ عالمی وبا کورونا وائرس کے پیش نظر تمام تاریخی عمارتوں، سیاحتی اور سیر و تفریح کے مقامات پر انتظامیہ کی جانب سے داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ لیکن کورونا کی دوسر ی لہر کے بعد حالات ٹھیک ہونے پر دہلی کی بیشتر تاریخی عمارتوں اور درگاہوں کو عقیدت مندوں کے لیے دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔

تصویر بذریعہ محمد تسلیم

فیروز شاہ کوٹلہ تاریخی اور عقیدت دونوں ہی اعتبار سے اہمیت کا حامل ہے۔ یہاں جمعرات اور جمعہ کے دن عقیدت مندوں کی کثیر تعداد منت مانگنے اور نماز ادا کرنے آتی ہے۔ گزشتہ کئی دنوں سے سوشل میڈیا پر لوگ ویڈیو کے ذریعہ شکایت کر رہے تھے کہ یہاں نماز ادا کرنے نہیں دی جارہی ہے۔
جمعرات کے دن عقیدت مندوں کے چہرے اس وقت مایوس ہو گئے جب فیروز شاہ کوٹلہ میں داخلہ پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی اور نماز کے لیے بھی روک دیا گیا۔ ’قومی آواز‘ کے نمائندہ سے بات کرتے ہوئے عقیدت مندوں نے کہا کہ آج سے پہلے یہاں کبھی بھی ایسا موقع نہیں آیا کہ داخلہ اور نماز پر پابندی لگا دی گئی ہو۔ انہوں نے کہا کہ اس جگہ سے لوگوں کو قلبی سکون ملتا ہے اور لوگوں کی مرادیں بھی پوری ہوتی ہیں۔

تصویر بذریعہ محمد تسلیم

یوتھ کانگریس کے سابق جنرل سکریٹری کنور شہزاد نے نماز پر عائد پابندی پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس تاریخی مسجد میں برسوں سے نماز ادا کی جارہی ہے لیکن گزشتہ ماہ سے یہاں عقیدت مندوں کو روکا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیروز شاہ کوٹلہ برسوں سے آثارِ قدیمہ کے زیر انتظام آتا ہے، یہاں کی مسجد میں دہلی وقف بورڈ کے امام اور موذن نماز پڑھاتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حیرت کی بات ہے کہ اگر فیروز شاہ کوٹلہ میں کسی شخص کو نماز ادا کرنی ہو تو اس کو بیس روپے کا ٹکٹ لینا پڑتا ہے۔

تصویر بذریعہ محمد تسلیم
کنور شہزاد کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز جب سوشل میڈیا پر لوگوں نے نماز پر عائد پابندی پر ویڈیو وائرل کرنا شروع کیں، تو دہلی وقف بورڈ کے چیئرمین امانت اللہ خان نیند سے بیدار ہوئے اور عصر کی نماز فیروز شاہ کوٹلہ میں ادا کی اور بڑے فخر سے عوم الناس سے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اب یہاں کسی بھی نمازی کو نماز پڑھنے سے روکا نہیں جا سکتا، اور نہ ہی نماز پڑھنے والوں سے ٹکٹ لیا جائے گا۔ تاہم آج، یعنی جمعرات کے روز میں نے ایک بار پھر فیروز شاہ کوٹلہ کا دورہ کیا اور دیکھا کہ یہاں داخلہ پر پابندی ہے، یہاں آئے عقیدت مند مایوس لوٹ رہے ہیں۔
تصویر بذریعہ محمد تسلیم

کنور شہزاد کے مطابق انھوں نے گارڈ سے پوچھا کہ آخر داخلہ پر پابندی کیوں ہے، تو اس نے جواب دیا کہ دو دن کے لیے فیروز شاہ کوٹلہ بند ہے۔ کنور شہزاد نے مسلم قیادت پرسوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ دہلی میں پانچ مسلم ایم ایل اے ہیں، دہلی اقلیتی کمیشن ہے، لیکن کسی نے بھی ابھی تک آثارِ قدیمہ کو لیٹر نہیں سونپا کہ یہاں نماز کی اجازت دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ برسراقتدار عآپ حکومت کو ایک خاص طبقہ نے اپنا قیمتی ووٹ دے کر اس لئے کامیاب بنایا تھا کہ وہ مسلمانوں کی آواز بنے گی اور ان کے مسائل کو حل کر کرے گی، اس لئے نہیں کہ عہدیداران صرف آفس میں بیٹھ کر تماشائی بنے رہیں۔

تصویر بذریعہ محمد تسلیم
کنور شہزاد کا کہنا ہے کہ جب ہمارے ساتھیوں نے اس بابت دہلی وقف بورڈ کے چیرمین امانت اللہ خان سے فون پر بات کی تو انہوں نے صاف طور پر کہہ دیا کہ خود ہی اس مسئلہ کا حل نکال لو۔ تاہم اس بات سے پتہ چلتا ہے کہ ان لوگوں نے صرف لوگوں کا ووٹ لے کر استعمال کیا ہے۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ ہم نے آج آثار قدیمہ کو لیٹر سونپا ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ فیروز شاہ کوٹلہ میں نماز کی اجازت دی جائے اور جو ٹکٹ کی شکل میں رقم وصول کی جاتی ہے وہ نماز کے وقت نہ لی جائے۔ ساتھ ہی جمعرات اور جمعہ کے دن عقیدت مندوں کے لیے مفت داخلہ کا انتظام کیے جانے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔ کنور شہزاد نے کہا کہ ہماری کوششوں کے بعد اب عام آدمی پارٹی کے لیڈران خواب خرگوش سے بیدار ہوئے ہیں لیکن دہلی کے عوام کے سامنے ان کا چہرہ بے نقاب ہو چکا ہے۔

فیروز شاہ کوٹلہ کے دروزے بند ہونے سے پھول، اگر بتی، چراغ چادر فروخت کرنے والوں کا روزگار متاثر

فیروز شاہ کوٹلہ کے نزدیک ہر جمعرات اور جمعہ کو اگر بتی، چراغ، چادر فروخت کرنے والے عبدالنبی نے نمائندہ کو بتایا کہ میں یہاں گزشتہ 38 برس سے گلاب کے پھول و دیگر سامان فروخت کر رہا ہوں، لیکن عالمی وبا کورونا وائرس کے سبب دو سال سے روزگار نہیں ہے۔ اب زندگی کو دوبارہ پٹری پر لانے کے لیے ان لاک کا عمل شروع ہوگیا ہے، لیکن فیروز شاہ کوٹلہ پر اس طرح پابندی لگنے سے ہمارا کاروبار متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں پر عقیدت مند کثیر تعداد میں آتے ہیں اور ان کے ذریعہ سے سینکڑوں لوگوں کو روزی روٹی ملتی ہے۔
پھول فروخت کرنے والی ایک خاتون نے بتایا کہ یہاں لوگوں کی منتیں پوری ہوتی ہیں اور جمعرات کے روز لوگوں کا ایک ہجوم نظر آتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر لوگوں کو اندر نہیں جانے دیا جائے گا تو ہماری روزی روٹی کیسے چلے گی۔

اردودنیانیوز۷۲

عید الفطر کا پیغام

عید الفطر کا پیغام  مضمون نگار : محمد ضیاء العظیم، معلم چک غلام الدین ہائی اسکول، ویشالی، بہار، موبائل نمبر :7909098319 اللہ رب ...