بھوپال:29اگست۔ (اردو دنیا نیوز۷۲) مدھیہ پردیش کے مورینا میں ایک 16 سالہ لڑکے کو کورونا کی ویکسین دی گئی ہے۔ ویکسین لگانے کے بعد اس کی صحت اچانک بگڑ گئی۔اور منہ سے جھاگ نکلنے لگا ۔ بعد میں اسے ہسپتال میں داخل کرایا گیا۔ یہ واقعہ منظر عام پر آنے کے بعد انکوائری کا حکم دیا گیا ہے۔
یہ واقعہ ضلع مورینا کی تحصیل امبا کے باغ علاقے میں پیش آیا۔ یہاں کے کملیش کشواہا کے بیٹے پلّو کو کورونا کا ٹیکہ لگایا گیا۔ ویکسین مورینا ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر سے 35 کلومیٹر دور ایک مرکز میں دی گئی۔ خبر رساں ایجنسی کے قریبی ذرائع کے مطابق ، انجکشن کے بعد اس لڑکے نے منہ پر جھاگ نکلنے لگا بعد میں اسے علاج کے لیے گوالیار منتقل کیا گیا۔
روس کی طرف منہ کر کے پیشاب کرنا منع ہے، ناروے میں سائن بورڈ
29/08/2021
لندن ، ۲۹؍اگست: (اردودنیانیوز۷۲)ناروے اور روس کی سرحد پر واقع دریا ژاقوبسیلوا سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہوتا ہے۔ لیکن اب ناروے کے حکام نے دریا کے کنارے ایک بورڈ نصب کیا جس پر سیاحوں کو روس کی جانب پیشاب کرنے سے منع کرنے کی تحریر درج ہے۔انگریزی زبان میں جلی حروف میں درج کی گئی تحریر کی تصویر ایک سیاح نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کر دی جس کے بعد ناروے میں بحث شروع ہو گئی۔
روس اور ناروے کے مابین سرحد دریائے ژاکوبسلیوا ہے۔ اس کے کنارے نصب سائن بورڈ پر لکھا گیا ’’روس کی طرف منہ کر کے پیشاب کرنا منع ہے‘۔ناروے کے بارڈر کمشنر ینس آرنے ہوئیلونڈ نے تصدیق کی کہ سوشل میڈیا پر موضوع بحث بننے والا سائن بورڈ سرکاری طور پر ہی آویزاں کیا گیا ہے۔ انہوں نے نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ ’یہ سائن حکام نے دریا کے کنارے سے گزرنے والے لوگوں کو اس اشتعال انگیز اقدام سے روکنے کے لیے دانستہ طور پر نصب کیا ہے۔
ناروے کے حکام نے نہ صرف سیاحوں اور مقامی افراد کو دریا کے کنارے روس کی طرف منع کر کے پیشاب کرنے کے عمل کو اشتعال انگیز اور ممنوع قرار دیا ہے بلکہ ان احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں پر جرمانہ بھی عائد کیا جا سکتا ہے‘۔خلاف ورزی کرنے پر تین ہزار نارویجین کرونا کا بھاری جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔ یہ رقم 290 یورو یا قریب 340 ڈالر کے مساوی ہے۔ دریائے ژاکوبسلیوا کا ناروے کی طرف کا کنارہ سیاحت کا مرکز ہے۔
یہاں سیاح روس کی حدود دیکھنے کے لیے آتے ہیں جس کی حدود محض چند میٹر چوڑے دریا کے دوسرے کنارے سے شروع ہوتی ہے۔ ناروے کے بارڈر کمشنر نے اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہاکہ پیشاب کرنا ایک فطری عمل ہے اور بالعموم یہ اشتعال انگیزی نہیں ہے لیکن اس کا انحصار نقطہ نظر پر بھی ہوتا ہے، اس معاملے میں اس عمل کو اشتعال انگیز قرار دے کر اس پر پابندی عائد کی گئی ہے
سی این جی پی این جی کی دہلی ۔ این سی آر میں سی قیمتوں میں اضافہ
نئی دہلی ، 29 اگست ۔ پٹرول-ڈیزل اور ایل پی جی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے نبرد آزما لوگوں کو اب سی این جی-پی این جی گیس کے لیے بھی زیادہ قیمت ادا کرنی پڑے گی۔ پبلک سیکٹر گیس کمپنی اندراپرستھا گیس لمیٹڈ (آئی جی ایل) نے کمپریسڈ نیچرل گیس (سی این جی) اور پائپڈ نیچرل گیس (پی این جی) کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے۔ دہلی-این سی آر میں ، سی این جی 90 پیسے فی کلو مہنگا ہو گیا ، جبکہ پی این جی کی قیمت میں تقریبا ایک روپیہ کا اضافہ ہوا ہے۔ اندراپرستھا گیس لمیٹڈ نے ٹویٹ کرکے سی این جی اور پی این جی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے بارے میں معلومات دی ہیں۔ نئی شرحیں اتوار سے نافذ ہو گئی ہیں۔ اس اضافے کے ساتھ ، دہلی میں سی این جی کی قیمت اب 45.20 روپے ہو گئی ہے ، جبکہ غازی آباد ، نوئیڈا اور گریٹر نوئیڈا میں سی این جی 50.90 روپے فی کلو دستیاب ہو گی۔ اسی طرح دہلی میں پی این جی کی قیمت 30.91 روپے فی ایس سی ایم (اسٹینڈرڈ کیوبک میٹر) ہو گئی ہے ، جبکہ غازی آباد ، نوئیڈا اور گریٹر نوئیڈا میں پی این جی 30.86 روپے میں دستیاب ہوگی۔
کویت میں وزارت اوقاف نے بلاک 1 کے علاقے الرحاب میں عبداللہ بن جعفر مسجد کے موذن کومعطل کرکے اس کے خلاف کارروائی شروع کی ہے۔ موذن پر الزام ہے کہ اس نے "شارٹس” (گھٹنوں تک کی پینٹ) پہن کر نماز کے لیے اذان دی جس پر اسے قانونی کارروائی کا سامنا ہے۔
اوقاف "کونسل” کی طرف سے شائع کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مسجد عبداللہ بن جعفر کے موذن کو نا مناسب لباس میں اذان دینے پر معطل کیا گیا ہے۔ اس اذان کی ایک مختصر ویڈیو سوشل میڈیا بھی نشر کی گئی ہے جس میں مؤذن کوشارٹس پہن کر نماز کے لیے اذان دیتے دکھایا گیا ہے۔
مسجد کے علاقے میں رہنے والے متعدد ٹویٹرصارفین نے اس واقعے کی تصدیق کی ہے۔ ایک صارف نے کہا کہ موذن مسجد کی صفائی اور اسٹور روم میں سامان ترتیب دے رہا تھا جس کےلیے اس نے مختصر لباس پہن رکھا تھا۔ پھراس نے اسی حالت میں اذان بھی دے ڈالی۔
ایک اور ٹوئٹر نے تصدیق کی کہ وہ شخص مسجد کے سٹور روم کی صفائی کر رہا تھا اور اذان کے وقت اسی حالت میں مسجد میں داخل ہوا۔ ایک تیسرے نے مزید کہا کہ موذن فجر کی نماز سے پہلے مسجد کی لائبریری اور کچھ کام کے انتظام میں مصروف تھا۔ وقت کم تھا جس کے لیے وہ کپڑے تبدیل ہیں کرسکا جس پر اسے اسی حالت میں اذان دینا پڑی۔ایک ٹویٹ صارف نے کہا کہ جس نے موذن کی ویڈیو بنائی۔ پہلے اس نے اس کی وجہ بیان کی پھر شکایت کی تھی۔
کسی کو آزادانہ طور پر گھومنے پھرنے کے حق سے محروم نہیں کرسکتے:سپریم کورٹ
کسی کو آزادانہ طور پر گھومنے پھرنے کے حق سے محروم نہیں کرسکتے:سپریم کورٹ
(اردو دنیا نیوز۷۲)نئی دہلی
سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ کسی شخص کو ملک میں کہیں بھی آزادانہ طور پر رہنے یا گھومنے پھرنے کے اپنے بنیادی حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ جسٹس اندرا بنرجی اور جسٹس وی راماسوبرامنیم کی بنچ نے ہفتہ کو ایک کیس کی سماعت کے دوران یہ ریمارکس دیے۔
بنچ نے مہاراشٹر کے امراوتی میں ایک صحافی اور سماجی کارکن کے خلاف ضلعی حکام کے جاری کردہ ضلع بدر کے حکم کو بھی کالعدم قرار دیا۔ عدالت نے کہا کہ امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے صرف غیر معمولی معاملات میں نقل و حرکت پر سخت پابندیاں ہونی چاہئیں۔
امراوتی زون -1 کے ڈپٹی کمشنر نے مہاراشٹر پولیس ایکٹ 1951 کی دفعہ 56 (1) (a) (b) کے تحت صحافی رحمت خان کو شہر میں آنے سے روک دیا تھا۔ درحقیقت رحمت نے معلومات کے حق کے تحت ایک درخواست دائر کی تھی جس میں مختلف مدارس کو فنڈز کی تقسیم میں مبینہ بے ضابطگیوں کے بارے میں معلومات مانگی گئی تھیں۔
ان میں ایجوکیشن اینڈ چیریٹیبل ویلفیئر ٹرسٹ کے زیر انتظام الحرام انٹرنیشنل انگلش اسکول اور مدرسہ بابا ایجوکیشن ویلفیئر سوسائٹی کے زیر انتظام پریادرشنی اردو پرائمری اور پری سیکنڈری سکول شامل ہیں۔ رحمت خان نے کہا کہ ان کے خلاف یہ کارروائی اس لیے کی گئی کیونکہ انہوں نے عوامی فنڈز کے مبینہ غلط استعمال کو ختم کرنے کے لیے اقدامات کیے۔
غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا۔ درخواست گزار رحمت نے کہا کہ میں نے 13 اکتوبر 2017 کو اس پیچیدگی اور سرکاری گرانٹس کے مبینہ غلط استعمال کی تحقیقات کی اپیل کی تھی۔ اس کے بعد متاثرہ افراد نے میرے خلاف شکایت درج کرائی۔ امراوتی کے گاڈے نگر ڈویژن کے اسسٹنٹ کمشنر پولیس نے رحمت خان کو 3 اپریل 2018 کو شو کاز نوٹس جاری کیا۔
اس میں مہاراشٹر پولیس ایکٹ 1951 کی دفعہ 56 (1) (a) (b) کے تحت اس کے خلاف کارروائی شروع کرنے کی معلومات دی گئی تھی۔ عدالت نے مشاہدہ کیا کہ مہاراشٹر پولیس ایکٹ کے سیکشن 56 سے 59 کا مقصد انتشار کو روکنا اور معاشرے میں انتشار پھیلانے والے عناصر سے نمٹنا ہے جنہیں عدالتی مقدمے کے بعد تعزیراتی کارروائی کے قائم کردہ طریقوں سے سزا نہیں دی جا سکتی۔
مہاراشٹر پولیس کی کارروائی پر پابندی: سپریم کورٹ نے صحافی کے ضلع بدر کے حکم کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا - کسی کو بھی بغیرسبب کے ملک میں کہیں جانے یا رہنے سے نہیں روکا جانا چاہیے
ہندوستانی ٹیم 99.3 اوورس میں 278 رنز پر ڈھیر، 76 رنز سے شکست کے بعد مقابلہ 1-1 سے برابر
ہیملٹن : چوتھے دن کے کھیل کے آغاز کے فورا بعد ، چوتھے اوور میں دوسری نئی گیند کے ساتھ بولڈ ہوئے ، رابنسن نے پجارا کو ایل بی ڈبلیو کیا ، گویا ہندوستانی بیٹنگ ختم ہوگئی۔ ایک ایک کر کے بیٹسمین رابنسن کی سیم بولنگ کے سامنے اکھڑ گئے۔ اور ہندوستان کی پوری ٹیم 99.3 اوورز میں 278 رنز پر سمٹ گئی اور تیسرے ٹیسٹ میچ میں ایک اننگز اور 76 رنز سے شکست کا تلخ گھونٹ لینے پر مجبور ہوگئی۔ ہندوستان کے کپتان وراٹ کوہلی کا تیسرے ٹیسٹ میں ٹاس جیتنے کے بعد بلے بازی کا فیصلہ غلط ثابت ہوا اور ٹیم انڈیا پہلے دن 41اوورز میں 78 رن پر سمٹ گئی۔ انگلینڈ نے اپنی پہلی اننگز میں 432 رن بنا کر 354 رن کی ریکارڈ برتری حاصل کی۔ ہندوستان نے میچ کے تیسرے دن جدوجہد کرتے ہوئے دو وکٹوں پر 215 رن بنائے اور ایسا محسوس ہورہا تھا کہ وہ چوتھے دن تک اس جدوجہد کو جاری رکھے گا لیکن انگلینڈ نے دوسری نئی گیند کے ساتھ ٹیم انڈیا کے بلے بازوں کو ہار ماننے پر مجبور کردیا اور ہندوستان کی ٹیم کو278 رنز سمیٹ دیا۔ پانچ وکٹیں لینے والی اولی رابنسن کو مین آف دی میچ قرار دیا گیا۔میچ کے تیسرے دن پجارا اور ویرات کی بیٹنگ نے اس ٹیسٹ میں جوش پیدا کیا تھا۔ اور ہندوستانی شائقین کو امید تھی کہ چوتھے دن پجارا اور کوہلی اپنی شراکت داری کو بڑھا کر اپنی شراکت کو مضبوط کریں گے ، لیکن رابنسن نے اس امید کا خاتمہ کردیا۔ تیسرے دن کے اختتام پر پجارا 91 اور کپتان ویرات کوہلی 45 رنز بنا کر کھیل رہے تھے۔ تیسرے دن بھارت نے مقررہ وقت سے کچھ دیر پہلے دن کے کھیل کے اختتام تک اپنی دوسری اننگز میں 2 وکٹوں پر 215 رنز بنائے۔ اس میں روہت شرما نے 59 اور کے ایل راہل نے 8 رنز کا تعاون کیا۔ اس سے قبل انگلینڈ کی پہلی اننگز 432 رنز پر ختم ہوئی اور انگلینڈ نے بڑی برتری حاصل کرلی۔ لیکن پجارا اور ویرات نے اپنے طریقے سے انگلینڈ کی اس برتری کا فائدہ کم کر دیا تھا ، لیکن جب چوتھے دن انہیں اور پجارا کو سب سے زیادہ ضرورت پڑی تو رابنسن اور اینڈرسن نے میاچ کو اپنے کورٹ میں کرلیا اور ہندوستانی کھلاڑیوں کی بولتی بند کردی۔
تعلیم اورسول سروسیزپرمیں : Indian Muslims ہندوستانی مسلمان منوارہے ہیں اپنی صلاحیتوں كالوبا(اردو دنیا نیوز۷۲)
یو پی ایس سی سول سروسز امتحانات کے درخواست دہندگان جانتے ہیں کہ کیا چیز داؤ پر کیا ہے۔ ان کے خاندان اور ان کی کمیونٹی میں بہت سے لوگ ان کی طرف امید کی نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں کیونکہ وہ اکتوبر میں ہونے والے یو پی ایس سی سیول سروسز امتحانات دینے کی تیاری کر رہے ہیں۔ ان نوجوان مسلمانوں کے لیے یہ ایک خاص چیلنج ہے۔
ممبئی میں مرکزی حج کمیٹی آف انڈیا (ایچ سی آئی) کے زیر اہتمام آئی اے ایس اور الائیڈ کوچنگ اینڈ گائیڈنس سیل میں کوچنگ کلاسز میں شرکت کرنے والے 50 سے زیادہ امیدواروں اب بھی بے یقینی کے کیفیت میں ہیں۔ نیوز 18 نے ان میں سے کچھ کے ساتھ فون پر بات چیت کی۔
ممبئی کے سعد شیخ نے ہمیں بتایا کہ وہ تیسری بار سول سروسز کا امتحان دے رہے ہیں۔ انہوں نے 2018 میں انجینئرنگ کی ڈگری مکمل کی اور سول سروس کے امتحان کے ضمن میں کوچنگ کے لیے نئی دہلی چلے گئے۔ اس نے 2019 اور 2020 میں کوالیفائی نہیں کیا۔ ان کے والد ٹیکسی ڈرائیور ہیں۔ ان کی ماں گھریلو خاتون ہیں۔ ان کے بھائی نے حال ہی میں مکینیکل انجینئرنگ مکمل کیا اور اب ممبئی میں سوگی میں کام کر رہے ہیں۔
علامتی تصویر۔(shutterstock)۔
ممبئی سے تعلق رکھنے والے ایک اور امیدوار سلیم حبیب نے بھی تیسری بار یو پی ایس سی کا امتحان دینے کی کوشش کی ۔ سلیم کا تعلق ایک متوسط خاندان سے ہے۔ وہ سول سروسز امتحان کی تیاری بھی کر رہے ہیں۔ نیوز 18 سے بات کرتے ہوئے سلیم حبیب نے کہا کہ ان کے والد ایک مذہبی استاد (عالم) ہیں اور ان کی والدہ ایک گھریلو خاتون ہیں۔ ان کے بھائی نے حال ہی میں بی کام مکمل کیا اورممبئی میں کاروبار شروع کیا ہے۔ سلیم حبیب نے کہا کہ بہت سے مسلم امیدوار سول سروس امتحانات کے لیے سخت تیاری کر رہے ہیں۔ مسلم امیدوار نہ صرف امتحانات میں کوالیفائی کرنے کا ہدف رکھتے ہیں بلکہ ٹاپ رینک بھی حاصل کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ ہندوستان میں سرکاری ملازم بن سکتے ہیں۔ سلیم حبیب نے کہا کہ مسلم امیدوار احساس کمتری پر قابو پاسکتے ہیں۔ وہ یاد دلاتے ہیں کہ 2019 میں جنید احمد جو کہ بجنور سے تعلق رکھتے ہیں، انہوں نے کہاکہ جنید احمد کی کامیابی کو دیکھ کر دوسرے مسلم امیدوار بھی یوپی ایس سی کے امتحانات میں کامیابی کے کوشش کررہے ہیں اور ماضی میں مسلم امیدواروں کی کامیابی کو دیکھ کر اب مسلم امیدوار سول سروسز کامیاب کرنے کا ہدف رکھتے ہیں۔ یونین پبلک سروس کمیشن (یو پی ایس سی) کے زیر اہتمام سول سروسز امتحانات ہندوستان میں سرکاری شعبے میں بھرتی کے لیے ایک بڑا اور باقل قدر امتحان ہے۔ مسلم امیدوار چند سال سے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ یو پی ایس سی کے نتائج کے اعداد و شمار مسلم امیدواروں کے کامیابی کے تناسب میں اضافہ کو ظاہرکررہے ہیں۔ مسلم ماہرین تعلیم کہہ رہے ہیں کہ کمیونٹی کے نقطہ نظر میں بہتری ہے اور وہ ہر سال مسلمانوں کی نمائندگی کو 5 فیصد تک لانے میں کامیاب ہو گئی ہے۔ تاہم کیا یہ ہندوستان میں 15 فیصد آبادی پر مشتمل مسلم آبادی کے لیے بہت حوصلہ افزا نہیں ہے۔ زکوۃٰ فاؤنڈیشن آف انڈیا (Foundation of India) کے سربراہ ڈاکٹر ظفر محمود نے کہا کہ آزادی کے بعد سے 2.5 فیصد کے لگ بھگ تھا، تاہم 2016 کے بعد سے مسلم امیدواراوں کی کامیابی کا تناسب 5 فیصد ہے۔ دانشور ، صحافی اور دہلی اقلیتی کمیشن کے سابق چیئرمین ڈاکٹر ظفر الاسلام خان (Dr Zafarul Islam Khan) نے کہا کہ مسلم امیدواروں کا فیصد زیادہ نہیں ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ آبادی کے حصہ کے مطابق نمائندگی ہوسکتی ہے، وہ جب ہی ممکن ہے جب سول سروسز کے امتحان میں 150 سے زائد مسلم امیدواروں کو منتخب کیا جائے۔ نوجوان آئی پی ایس افسر اور ڈی سی پی زون -1 ناگپور سٹی پولیس نور الحسن (Noorul Hasan) نے کہا کہ یو پی ایس سی کے خواہشمندوں کو اپنے اہداف پر مرکوز ہونا چاہیے۔ فون پر بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ جو امیدوار یو پی ایس سی امتحانات میں کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ انٹرنیٹ پر مفید مواد تلاش کر سکتے ہیں۔ نور الحسن جو اتر پردیش کے ایک چھوٹے سے قصبے پیلی بھیت سے تعلق رکھتے ہیں اور UPSC CSE-2014 میں 625 واں رینک حاصل کیا ہے ، کہتے ہیں کہ کوئی امتیازی سلوک نہیں ہے۔ انہوں نے خواہش کی کہ ناکامیوں سے کبھی مایوس نہ ہوں کیونکہ سول سروس کا امتحان صبر اور خود اعتمادی کا امتحان ہے۔یوں کہا جاسکتا ہے کہ ہندوستانی مسلمان تعلیمی کارواں کے ذریعہ اپنا تعلیمی سفر جاری رکھے ہوئے ہیں اور ابھی منزل بہت دور ہے۔
اسکولی تعلیم میں مسلمان:
ہندوستانی مسلمان اپنی آبادی کے مقابلے میں ملک میں تعلیمی لحاظ سے پسماندہ طبقات سے کافی پیچھے رہے ہیں۔ ہندوستان میں دیگر کمیونٹیوں کے تناسب سے مسلمانوں میں ابتدائی درجے سے ہائر ایجوکیشن تک تعلیمی اداروں میں داخلہ کی شرح سب سے کم ہے۔ این ایس ایس 75 ویں راؤنڈ کی رپورٹ تعلیمی شماریات پر ایک نظر میں 2018 (NSS 75th round report Educational Statistics at a Glance, 2018) ملک کے مختلف سماجی و مذہبی گروہوں کی شرح خواندگی کو ظاہر کرتی ہے۔ مذکورہ رپورٹ کے مطابق ہندوستان کی کل آبادی میں 80.6 فیصد مرد اور68.8 فیصد خواتین خواندہ ہیں۔ اس رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مسلمانوں کی مجموعی حاضری کا تناسب (Gross attendance ratio ) بنیادی سطح پر 100.1 فیصد ہے تاہم ہندو اور عیسائی کمیونٹیز کا بالترتیب 102.2 فیصد اور 104.5 فیصد ہے۔ وہیں ماضی میں سچر کمیٹی (Sachar Committee) کی رپورٹ میں کہا گیا کہ مسلمان معیاری تعلیم حاصل کرنے سے قاصر ہیں اور ان کی تعلیمی پسماندگی درج فہرست ذاتوں (SCs) ، درج فہرست قبائل (STs) اور دیگر پسماندہ طبقات (OBC`s) سے بدتر ہے۔ سچر کمیٹی کی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ سال 2004-2005 کے دوران مسلمانوں میں ریکارڈ شرح خواندگی 60 فیصد سے زیادہ نہیں تھی۔ تاہم مسلمانوں کی صورتحال پرائمری اور ایلیمنٹری لیول میں کچھ بہتری دکھا رہی ہے۔ اس سلسلے میں نیوز 18 نے ممتاز ماہر تعلیم اور مہاراشٹر کاسموپولیٹن ایجوکیشن سوسائٹی (Maharashtra Cosmopolitan Education Society) پونے کے صدر ڈاکٹر پی اے انعام دار سے رابطہ کیا۔ انعام دار کہتے ہیں کہ مسلم کمیونٹی کی تعلیمی پسماندگی میں پچھلے کچھ سال سے بہتری دیکھی گئی ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ کمیونٹی میں 70 فیصد سے زیادہ لڑکیاں اسکولوں اور کالجوں میں پڑھ رہی ہیں۔ تاہم یہ ہندوستان میں دیگر کمیونٹیز کے ساتھ تناسب کے طور پر اب بھی بہت کم ہے۔
علامتی تصویر۔(shutterstock)۔
وزارت تعلیم Ministry of Educations کے ساتھ کام کرنے والے عہدیدار نیوز 18 کو بتاتے ہیں کہ۔۔'' ہمیں ملک کی کئی ریاستوں میں اہل اور تربیت یافتہ اساتذہ کی شدید کمی کا سامنا ہے''۔ ڈاکٹر پی اے انعامدار یہ بھی قبول کرتے ہیں کہ ہمارے اسکولوں میں مزید اساتذہ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر کاسمپولیٹن ایجوکیشن سوسائٹی زیادہ اساتذہ کو فنی اور کمپیوٹر تعلیم کی تربیت دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ۔۔ ''مہاراشٹر کاسمپولیٹن ایجوکیشن سوسائٹی ہم پورے ہندوستان کے 50 اسکولوں کے اساتذہ کو تربیت فراہم کی جائیگی ۔'' ڈاکٹر پی اے انعامدار نے بتایا کہ ہندوستانی مسلمان ملک کی تعمیر میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں اور تعلیم کے ذریعے وہ جو چاہیں حاصل کر سکتے ہیں۔ نیوز 18 سے فون پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسلم طلبا میں کسی بھی طرح احساس کمتری کی ضرورت نہیں ہے۔ پی اے انعامدار بتاتے ہیں کہ ٹیکنالوجی کے ذریعے مسلم کمیونٹیز ، اعلیٰ تعلیم میں اپنی کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
اعلیٰ تعلیم میں سب سے کم نمائندگی:
حالیہ دنوں میں کیے گئے آل انڈیا سروے آن ہائر ایجوکیشن رپورٹس 2019-20 (AISHE-2019-20) کے مطابق ملک میں 38.5 ملین طلبا نے ہائر ایجوکیشن میں داخلہ لیا ہے۔ جن میں 14.7 فیصد شیڈولڈ کاسٹ اور 5.6 فیصد شیڈولڈ ٹرائب کے طلبا شامل ہیں۔ وہیں 37 فیصد طلبا دیگر پسماندہ طبقات سے ہیں۔ مسلم طلبا کا تناسب 5.5 فیصد اور 2.3 فیصد دیگر اقلیتی کمیونٹیز سے تھے۔ سال 2018-19 کے دوران 5.2 فیصد مسلم طلبا نے ہندوستان کی مختلف یونیورسٹیوں اور کالجوں میں اعلیٰ تعلیم کے لیے داخلہ لیا۔ معروف ماہر معاشیات اور ایم سی آر ایچ آر ڈی انسٹی ٹیوٹ آف تلنگانہ (MCRHRD Institute of Telangana) کے پروفیسر عامر اللہ خان کا کہنا ہے کہ مسلم طلبا پرائمری اور اپر پرائمری میں بڑی تعداد میں داخلہ لے رہے ہیں۔ وہیں ڈراپ آؤٹ کا تناسب ثانوی اور اعلیٰ تعلیم میں زیادہ ہے۔ عامر اللہ خان ماضی میں تلنگانہ ریاست میں مسلمانوں کی سماجی و اقتصادی اور تعلیمی حالات پر تحقیقاتی کمیشن کے رکن کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔نیوز 18 کے ساتھ بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ریاست تلنگانہ میں سدھیر کمیشن رپورٹ(Sudheer Commission Report) نے انکشاف کیا ہے کہ پرائمری اور اپر پرائمری ایجوکیشن میں دیگر کمیونٹیز کے مقابلے میں مسلمان تھوڑے بہتر ہیں لیکن ہائر ایجوکیشن میں ان کا برا حال ہے۔ مسلمانوں میں ڈراپ آؤٹ کا تناسب بہت زیادہ ہے اور جب اعلیٰ تعلیم کی بات آتی ہے تو مسلم تناسب انتہائی کم ہوتا ہے۔ تعلیم بند کرنے کی بہت سی وجوہات ہیں۔ سب سے نمایاں وجہ خراب مالی حالت ہے۔ تعلیم میں دیہی اور شہری فرق اور صنفی تفاوت موجود ہیں۔ (ترجمہ: محمد رحمان پاشا)