Powered By Blogger

اتوار, ستمبر 05, 2021

روزانہ رائی دانہ کھانے سے جسم میں کیا تبدیلی آتی ہے؟

سرسوں سے حاصل ہونے والے بیج رائی کہلاتے ہیں، ان بیجوں سے جہاں سرسوں کا تیل حاصل کیا جاتا ہے وہیں اِن کے براہ راست استعمال سے صحت پر بے شمار فوائد بھی حاصل کیے جا سکتے ہیں، رائی کے دانے صحت کے لیے نہایت مفید ہیں۔

غذائی ماہرین کے مطابق رائی دانے میں جُز ’ گلوکوسینولیٹ‘ (glucosinolate) پایا جاتا ہے جو کہ رائی کو منفرد ذائقہ دیتا ہے، رائی دانے میں موجود مرکبات انسانی جسم بالخصوص بڑی آنت میں سرطانی خلیوں سے بچاؤ ممکن بناتے ہیں، رائی کے بیجوں میں فائبر کم اور کاربوہائیڈریٹس زیادہ پائے جاتے ہیں۔

غذائی ماہرین کے مطابق رائی دانے میں صحت کے لیے بنیادی جز سمجھے جانے والے فیٹی ایسڈز بھی پائے جاتے ہیں، اس میں اومیگا3، سیلینیم، مینگنیز، میگنیشیم، وٹامن B1، کیلشیم، پروٹین اور زِنک بھرپور مقدار میں پایا جاتا ہے۔

ماہرین کی جانب سے رائی دانے کو روزانہ کی بنیاد پر خوراک میں شامل کرنا اور اس سے مستفید ہونا تجویز کیا جاتا ہے۔رائی دانے کے روزانہ کی بنیاد پر حاصل ہونے والے بے شمار طبی فوائد اور رونما ہونے والی جسمانی تبدیلیاں مندرجہ ذیل ہیں۔

بہتر نظام ہاضمہ

ہاضمے کی بہتر کارکردگی کے لیے رائی دانہ بہترین سمجھا جاتا ہے، کیونکہ یہ انسانی جسم میں میٹابولزم کے عمل کو مضبوط بناتے ہیں اور ہاضمے کے مسائل کو کم کرتے ہیں، اس کے نتیجے میں انسان کا جسمانی وزن کم ہوتا ہےخصوصاً باہر نکلا پیٹ اندر جانے لگتا ہے۔

جوڑوں کے درد کا علاج

کیلشیم اور میگنیشیم سے بھرپور ہونے کے سبب یہ عمر بڑھنے کے ساتھ خواتین کو ہڈیوں سے متعلق مسائل سے محفوظ رکھتے ہیں، چہرے سے جھریوں کا خاتمہ کرتے ہیں۔کمر کے درد یا پٹھوں کی اکڑن کے مسئلے سے دوچار فراد رائی کے دانے چبا لیں، اس سے درد میں کمی آئے گی اور پٹھوں کی سختی اور سوجن کم ہوگی۔

کینسر سے نجات

رائی دانوں کے اندر ایسے انزائمز enzymes پائے جاتے ہیں جو بڑی آنت کے سرطان کا خاتمہ کرتے ہیں، یہ سرطانی خلیوں کو بڑھنے اور پیدا ہونے سے روکنے کی بھی صلاحیت رکھتے ہیں۔

سوزش اور انفیکشن کا علاج رائی دانوں میں سیلینیم ہوتا ہے، جو دمے کے حملوں اور جوڑوں کے گٹھیا کے درد کی شدت کو کم کر دیتا ہے۔

رائی دانے سوزشوں بالخصوص چنبل کے نتیجے میں ہونے والے زخموں اور انفیکشنز کا مقابلہ کرنے کی بھرپورصلاحیت رکھتے ہیں۔

بلڈ پریشر کے مسائل میں معاون

رائی دانے میں موجود میگنیشیم فشار خون کو کم کرتا ہے اور یہ آدھے سر کے درد کی شدت میں بھی کمی لاتا ہے۔

وائرل انفیکشن، الرجی میں افاقہ

رائی دانوں کی یہ خاصیت ہے کہ یہ نزلے کی شدت کو کم کرتے ہیں اور سانس کی نالی میں تنگی سے نجات حاصل کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

اگر کسی کو مٹی سے الرجی کے سبب سانس لینے میں دشواری پیش آتی ہے تو وہ رائی کے بیج چبالے، افاقہ ہوگا۔

برطانیہ کے پہلے انڈین رکن پارلیمان جن کے لیے قائد اعظم نے بھی مہم چلائی تھی

برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن نے حال میں ایشیائی نسل کے ساجد جاوید کو ملک کا نیا وزیر صحت مقرر کیا ہے۔ وہ برطانوی کابینہ میں ایشیائی نسل کے تیسرے وزیر ہیں۔ یہ برطانیہ کے سیاسی اور انتخابی نظام میں ایشیائی نژاد آبادی کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی علامت ہے۔برطانیہ میں ایک طویل عرصے سے انڈیا، پاکستان اور بنگلہ دیشی نژاد برطانوی شہری انتخابی سیاست میں حصہ لیتے آئے ہیں لیکن کم لوگوں کو اس کا علم ہے کہ برطانوی پارلیمنٹ میں سب سے پہلے منتخب ہونے والے ایشیائی نژاد، ممبئی کے دادا بھائی نوروجی تھے جو سوا سو برس قبل 1892 میں لندن کے ایک اہم حلقے سے منتخب ہو کر پارلیمنٹ پہنچے تھے۔

دادا بھائی نوروجی ممبئی کے ایک نسبتًا غریب پارسی گجراتی خاندان میں 4 ستمبر 1825 میں پیدا ہوئے تھے۔ انھوں نے تعلیم ایلفنسٹن انسٹی ٹیوٹ سکول میں حاصل کی۔ وہ 28 برس کی عمر میں برطانیہ کے زیر انتظام چلنے والے ممبئی کے ایلفنسٹن کالج کے پہلے انڈین پروفیسر مقرر ہوئے جہاں وہ ریاضی اور فزکس پڑھاتے تھے۔انھوں نے بڑودہ کے مہاراجہ کے دیوان کے طور پر بھی کچھ عرصے تک کام کیا تھا۔ وہ ایک ترقی پسند قوم پرست تھے ۔وہ انڈیا کی سب سے پرانی سیاسی جماعت انڈین نیشنل کانگریس کے بانیوں میں تھے ۔انھیں انڈیا کی آزادی کی جد وجہد کے ابتدائی اہم ترین رہنماؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔

1855 میں پہلی بار برطانیہ گئے
مورخ دینیار پٹیل لکھتے ہیں کہ ’برطانیہ میں وہاں کی دولت اور خوشحالی کو دیکھ کر ان کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ اس کے بعد وہ یہ سمجھنے کی کوشش کرتے رہے کہ آخر ان کا ملک اتنا افلاس زدہ کیوں ہے۔‘
’انھوں نے دوعشرے تک ملک کی معیشت کا گہرا مطالعہ کیا اور سامراجی برطانیہ کے اس نظریے کو مسترد کر دیا کہ نوآبادیاتی نظام عوام کے لیے خوشحالی کا ضامن ہے۔‘دادا بھائی نے ’پاورٹی اینڈ ان برٹش رول ان انڈیا‘ کے عنوان سے ایک کتاب لکھی جس میں انھوں نے یہ بتانے کی کوشش کی کہ کس طرح انڈیا کی دولت رفتہ رفتہ برطانیہ منتقل ہورہی ہے ۔ اس میں انھوں نے انڈیا میں ہونے والی پیداوار اور منافع کا مفصل حساب پیش کیا تھا۔


انھوں نے تخمینہ لگایا تھا کہ برطانیہ ہر برس تین سے چار کروڑ پاؤنڈ مالیت کی دولت انڈیا سے اپنے یہاں منتقل کر رہا ہے جس سے انڈیا میں بڑے پیمانے پر غربت پھیل رہی ہے۔انسائکلوپیڈیا برٹینیکا کے مطابق ’اس وقت انڈیا کی 25 کروڑ کی آبادی برطانوی سامراج کی آبادی کا اسی فیصد تھی لیکن برطانوی پارلیمان میں ان کی کوئی نمائندگی نہیں تھی۔ دادا بھائی دوبارہ برطانیہ آئے۔ انھوں نے برطانوی سامراج کے ایک شہری کے طور پر کئی بار انتخاب لڑا اور شکست ہوئی۔ انہیں ان انتخابات میں شدید نسل پرستی کا سامنا کرنا پڑا۔‘
1886 میں وہ کنزرویٹیو پارٹی کے مضبوط گڑھ ہوبرن سے لبرل پارٹی کے امیدوار کے طور پر کھڑے ہوئے اور پھر ہار گئے۔ اس وقت وزیر اعظم لارڈ سیلس بیری نے کہا ’انگریزوں کا حلقہ ایک سیاہ فام شخص کو منتخب کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔‘

دادا بھائی نے ہار نہیں مانی۔ وہ ہاؤس آف کامنز یعنی ایوان نمائندگان کے 1892 کےانتخابات میں دوبارہ کھڑے ہوئے۔ اس بار وہ جیت گئے ۔ ان کی جیت صرف پانچ ووٹوں سے ہوئی تھی۔انجیل پر ہاتھ رکھ کر حلف لینے سے انکار کر دیاcیہ وہ برس تھا جب پاکستان کے مستقبل کے قائد اعظم محمد علی جناح تعلیم حاصل کرنے کے لیے برطانیہ پہنچے تھے۔ ایک نوجوان سٹوڈنٹ کے طور پر انھوں نے انڈین اور انڈیا سے متعلق معاملات میں گہری دلچسپی لینی شروع کی تھی۔
انھوں نے دادا بھائی نوروجی کی سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینا شروع کیا۔ 1892 کے انتخابات میں دادا بھائی جب امیدوار کے طور پر کھڑے ہوئے تو نوجوان طالب علم محمد علی جناح نے اپنے دوسرے طالب علم ساتھیوں کے ساتھ ان کی انتخابی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور ان کی انتخابی کامیابی کے لیے دن رات کام کیا۔
بالآخر اس بار دادا بھائی کو انتخاب میں کامیابی حاصل ہوئی اور وہ برطانیہ کی تاریخ میں سب سے پہلے منتخب ہونے والے ایشیائی رکن پارلیمان بنے۔
برطانیہ کی پارلیمنٹ میں حلف برداری کی تقریب میں انھوں نے عیسائیوں کی مذہبی کتاب انجیل پر ہاتھ رکھ کر حلف لینے سے انکار کر دیا تھا۔ اس کے بعد انھیں ان کے پارسی مذہب کی کتاب خوردہ اویستا پر حلف لینے کی اجازت دی گئی تھی۔
فنس بری کے ٹاؤن ہال میں ایک تختی لگی ہوئی ہے جس میں انھیں ہاؤس آف کامنس میں منتخب ہونے والے پہلے ایشائی کے طور پر یاد کیا گیا ہے۔
ایک نوآبادیاتی شہری کھلے عام برطانوی سامراج پر سنگین الزام لگانے کی جرات کیسے کر سکتا ہے

آپریشن کے بعد لڑکی لڑکا بن گئی

لاہور کے جنرل اسپتال میں کامیاب آپریشن کے بعد گجرات کی رہائشی لڑکی لڑکا بن گئی۔جنرل اسپتال لاہور میں آپریشن کے بعد لڑکی، لڑکا بن گئی، پلاسٹک سرجری کی ٹیم نے گجرات کی عمارہ کے چار طویل آپریشن کیے۔ جس کے بعد وہ عمار بن گئی۔

 

گجرات کی رہائشی میٹرک کی طالبہ عمارہ کی دنیا ہی بدل گئی، جذبات، تاثرات، اسٹائل، دنیا کو دیکھنےکا انداز اور کھیلوں میں دلچسپی سمیت سب کچھ بدل گیا۔شعبہ پلاسٹک سرجری جنرل اسپتال کی سربراہ ڈاکٹر رومانہ اخلاق کی سربراہی میں ٹیم نے عمارہ کا 4 گھنٹے طویل آپریشن کیا۔

 

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ عمارہ کی آواز کے ساتھ ہارمونز میں بھی تبدیلی آرہی تھی۔لڑکی کی والدہ کا کہنا ہے کہ عمارہ میں بچپن سے ہی لڑکوں والی عادات تھیں، اس کے بیٹا بننے پر بہت خوش ہیں۔عمار کہتا ہے کہ وہ لڑکا بننے پر بے حد خوش ہے، اب وہ نئے دوست بھی بنائے گا اور ان کے ساتھ کرکٹ سمیت دیگر کھیل بھی کھیلے گا۔

ناندیڑ: بوگس ڈاکٹر کے خلاف مقدمہ درج

ناندیڑ:4 ستمبر۔ (اردو دنیا نیوز۷۲)میڈیکل پریکٹس کاکوئی بھی سرٹیفکیٹ نہ رہتے ہوئے بھی کھڑکپورہ علاقہ میں شاندار اسپتال تیار کرکے کوویڈ سے متاثرہ افراد کاعلاج کرنے والے بوگس ڈاکٹر کے خلاف میونسپل کارپوریشن نے کاروائی کرتے ہوئے پولس اسٹیشن میں مقدمہ درج کروایا ہے ۔ ماہ مئی میںاس ڈاکٹرنے یک مریض کاعلا ج کیاتھا لیکن بعد میں اسکی حالت تشویشناک ہوگئی۔ اس مریض کی بہن کی شکایت کے بعد بوگس ڈاکٹر کا بھانڈا پھوٹ گیا ہے ۔ میونسپل کارپوریشن نے ایک فرضی مریض کو اس اسپتال میں بھیج کر جال بچھایا جب یہ ڈاکٹرایلوپیتھی ادویات کی چھٹی تحریر کررہاتھااسے رنگے ہاتھوں پکڑ لیاگیا ۔

اسکے بعد وزیر آباد پولس اسٹیشن میںاسکی شکایت درج کروائی گئی ہے۔تفصیلات کے مطابق شہر کے کھڑکپورہ میں سلمان ہوٹل کے سامنے ہی شیخ فیاض نے خود کوڈاکٹربتاتے ہوئے اسپتال شروع کیاتھا۔اسپتال میں دتا بجرنگ وانکھیڑے مریض 16تا20مئی 2021 کے درمیان کوویڈ مرض وائرس ہونے پر علاج کیلئے داخل کیا گیااسکے بعد ڈاکٹرفیاض نے دوا‘گولی و سلائن لگاکرا سکاعلاج کیا لیکن 21مئی کو دتاوانکھیڑے کی حالت مزیدخراب ہوگئی اسلئے دوسرے خانگی اسپتال میں داخل کروایا گیا ۔ جب خانگی اسپتال میں دستاویزات کی جانچ کی گئی اور پہلے جہاں علاج کروایاگیااس ڈاکٹر کے بارے میں پوچھاگیاتو انکشاف ہوا کہ فیاض نامی شخص کے پاس میڈیکل پریکٹس کاکوئی سرکاری سرٹیفکیٹ نہیں ہے ۔

بجرنگ کی بہن کا کہنا ہے کہ شیخ فیاض کو میونسپل کارپوریشن نے کوویڈ کے مریضوںکی تشخٰیص کی کوئی اجازت بھی نہیں دی تھی ۔ اس ضمن میں کارپوریشن کے پاس شکایت دینے کے بعد میڈیکل آفیسر ڈاکٹرونود چوہان و ڈاکٹر امینہ رحمن کے پاس تفتیش کی ذمہ داری سونپی گئی ۔ ان دونوں ڈاکٹرس کی ٹیم نے اپنی رپورٹ 5جولائی 2021ءکو میونسپل کارپوریشن کوسپرد کردی جس میں کہاگیاہے کہ شیخ فیاض کے پاس مہاراشٹرمیڈیکل سروس اندراج سرٹیفکیٹ ایکٹ کے تحت کوئی بھی سرٹیکیفٹ نہیں ہے ۔اس کے بعدکارپوریشن نے ایک لڑکی کو فرضی مریض بناکر شیخ فیاض کے اسپتال میںروانہ کیا۔اس وقت شیخ فیاض نے اپنی دستخط سے ایلوپیتھی دوا لکھ کر دے رہاتھا اسی وقت کارپوریشن کے دستے نے اسے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔اسکے بعد میڈیکل آفیسر کے پاس رپورٹ پیش کردی گئی ۔اس رپورٹ کی بنیاد پر کمشنرو ایڈیشنل کمشنر نے متعلقہ بوگس ڈاکٹر کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی ہدایت دی ۔کارگزارمیڈیکل آفیسر ڈاکٹرسریش سنہہ بیسن نے وزیر آباد پولس اسٹیشن میں شیخ فیاض کے خلاف شکایت درج کروائی ہے ۔ جس کی بناءپر ملزم ڈاکٹر کے خلاف جرم نمبر 309/2021 ‘ تعزیرات ہند کی دفعات420‘336‘ اورمہاراشٹر طبی کمرشیل ایکٹ 1961کی دفعہ 33کے تحت مقدمہ کااندراج کیاگیا ہے۔

کورونا صورتحال ‘آج ناندیڑمیں کلکٹر کی صدارت میں علماءکرام ‘ئمہ مساجدکااجلاس

ناندیڑ:4 ستمبر۔ (اردو دنیا نیوز۷۲)کورونا وائرس سے پیدا شدہ صورتحال اور اس کے بعد حفاظتی اقدامات کے اہم مسئلے پر کل بروز اتوار مورخہ 5 ستمبر 2021 کو صبح 10 بجے ضلع کلکٹر جناب ڈاکٹر ویپین ایٹٹنکر ، میونسپل کمشنرسنیل لہانے اور دیگر اعلیٰ سطحی افسران کی شہر ناندیڑ کے معزز علماءکرام ، حفاظ عظام، ائمہ مساجد اور دیگر سیاسی و سماجی تنظیموں کے ذمہ داران کے ساتھ انتہائی اہم میٹنگ فیمس فنکشن ہال، مال ٹیکڑی روڈ، ناندیڑ میں رکھی گئی ہے۔

اس نشست میں علماءکرام ‘حفاظ’ائمہ مساجد اوسیاسی وسماجی تنظیموں کے ذمہ داران اہم نشست میں تشریف آوری کریں اور اس اہم اور حساس مسئلے پر انتظامیہ کے عزائم سے واقفیت حاصل کرتے ہوئے اپنی رائے یا مذہبی اور فقہی مسئلے کے پیشِ نظر اپنے تحفظات پیش کرسکیں۔اس طرح کی اطلاع سید آصف ندوی‘خادم جمعیت علماء ناندیڑنے دی ہے۔

ہفتہ, ستمبر 04, 2021

اصلاح معاشرہ کمیٹی کی جانب سے آسان اورمسنون نکاح کے سلسلے میں کل ہند مشاورتی اجلاس کاانعقاد

اصلاح معاشرہ کمیٹی کی جانب سے آسان اورمسنون نکاح کے سلسلے میں کل ہند مشاورتی اجلاس کاانعقاد

All_India_Muslim_Personal_Law_Board
آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ

نئی دہلی4ستمبر:(اردودنیانیوز۷۲)آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ All India Muslim Personal Law Board کے قیام کاایک مقصد اصلاح معاشرہ بھی ہے جس کے لیے بورڈ کی اصلاح معاشرہ کمیٹی قائم ہے،اس کمیٹی کے ذریعے ماضی میں اصلاحی خدمات اور سرگرمیاں انجام دی جاتی رہی ہیں اور اب بھی ان کاسلسلہ درازہے،اسی سال مارچ میں اصلاح معاشرہ کمیٹی آل انڈیا مسلم پر سنل لا بورڈ کی جانب سے نکاح کے نظام میں شامل ہو چکی بیجا رسوم و رواج کو ختم کرنے اور نکاح کوشریعت وسنت کے مطابق انجام دینے کے لیے ایک منظم مہم’’آسان اورمسنون نکاح ‘‘ کے عنوان سے شروع کی گئی تھی جس کے مثبت اثرات معاشرے پر مرتب ہوئے اور حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے اور درجنوں نکاح سادگی اورآسانی کے ساتھ انجام پائے۔

یہ مہم حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب نوراللہ مرقدہ‘ (سابق جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ) کی رحلت کی وجہ سے کچھ وقفے کے لیے کمزور ہوگئی تھی، اب دوبارہ اس مہم کا آغاز کیا جارہاہے،اسی سلسلے میں آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ کی اصلاح معاشرہ کمیٹی کی جانب سے ایک کل ہند مشاورتی اجلاس (بذریعہ زوم آن لائن) مورخہ ۷ستمبر ۱۲۰۲ء بروزمنگل صبح دس بجے منعقد کیاجا رہا ہے، جس کی صدارت حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی صاحب دامت برکاتہم (صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ) فرمائیں گے،اس اجلاس میںمختلف مسالک ،جماعتوں اورتنظیموں کیسربراہ اور نمائندہ حضرات اظہار خیال فرمائیںگے، جن میں حضرت مولانا فخرالدین اشرف صاحب (سجادہ نشیں کچھوچھہ شریف و نائب صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ )حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب ( کارگذار جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پر سنل لابورڈ)حضرت مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی صاحب (کل ہند امیرجمیعۃ اہلحدیث)حضرت مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی صاحب ( رکن مجلس عاملہ بورڈ) حضرت مولانا صغیر احمد رشادی صاحب ( امیرشریعت کرناٹک) حضرت مولاناعبیداللہ خان اعظمی صاحب (سابق ممبر آف پارلیمنٹ)حضرت مولانا عبداللہ مغیثی صاحب ( صدر آل انڈیا ملی کونسل)حضرت مولاناسیداطہرعلی اشرفی صاحب ( رکن مجلس عاملہ بورڈ)محترم جناب سیّدسعادت اللہ حسینی صاحب( امیر جماعت اسلامی ہند )حضرت مولانااصغر علی حیدری صاحب (ممتاز شیعہ عالم دین )حضرت مولاناسید مصطفی رفاعی جیلانی (رکن بورڈ) ڈاکٹر عبدالقدیر صاحب ( صدر شاہین ادارہ جات)شامل ہیں۔

اسی طرح بورڈ کے ممتازارکان اورملک کے نامی گرامی علمائے کرام اس اجلاس میں بحیثیت مہمان خصوصی جلوہ افروز ہوں گے۔ان شاء اللہ!۔اس اجلاس کے ذریعے یہ کوشش کی جائے گی کہ شادی بیاہ میں انجام دی جانے والی رسوم و رواج کو ختم کرنے اور جہیز کے جبری لین دین جیسی بری رسم کو مٹانے نیز نکاح کوسادہ اورآسان بنانے کے لییجو بنیادی لائحہ عمل تیار کیاگیاتھا اس لائحہ عمل کوزمینی سطح پر مزید مضبوطی کے ساتھ نافذ کرنے کا نظام بنایا جائے۔

مشاورتی اجلاس کے مدعوئین خصوصی بذریعہ زوم اجلاس میں شرکت فرمائیں گے اور عام لوگوں کے استفادہ کے لیے بورڈکے آفیشیل یوٹیوب چینل پریہ اجلاس لائیو نشر کیاجائے گا ان شاء اللہ! برادران اسلام سے اس اہم اجلاس سے استفاد ے کی گذارش حضرت مولانامحمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب (سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ) نے کی ہے۔

مسلم خاتون کی اجتماعی عصمت ریزی اورگودی میڈیا کا منافقانہ رویہ

مسلم خاتون کی اجتماعی عصمت ریزی اورگودی میڈیا کا منافقانہ رویہ

Maulana Syed Asif Nadvi

اثر خامہ :  مولانا سیدآصف ندوی  (صدر جمعیت علماء ناندیڑ)

 گودی میڈیا جو اکثر مسلم خواتین کی مظلومیت کا رونا روتا رہتا ہے ، اور ہماری موجودہ زعفرانی حکومت بھی جس نے یکم اگست ؍۲۰۱۹ کو پارلیمنٹ میں انسداد طلاق ثلاثہ بل پاس کروایاتھا ، اور ابھی حال ہی میں یکم اگست ؍۲۰۲۱ کو اس تاریخ کو”مسلم خواتین کے حقوق کا دن” کے طور پر بھی منایا ہے ، گویا اس نے اس بل کو پاس کرواکر صدیوں سے ظلم و بربریت کا شکار چلی آرہیں مسلم خواتین کو ابدی نجات دلوادی تھی۔
لیکن حیرت ہے کہ خود ملک کی راجدھانی اور دارالسلطنت دہلی میں دہلی پولس ڈیفینس میں خدمات انجام دے رہی ۲۱ سالہ سب انسپکٹر صبیحہ سیفی کے ساتھ چار انسان نما درندوں نے نہ صرف جنسی زیادتی کی بلکہ اس کی اجتماعی عصمت ریزی کے بعداس کے جسم کے نازک حصوں کو چاقو سے کاٹ ڈالا، اور پھر بڑی درندگی کے ساتھ اس معصوم کو قتل بھی کردیا۔ اس دلخراش سانحے پر نہ میڈیا میں کوئی ہلچل پیدا ہوئی اور نہ ہی یومِ حقوقِ مسلم خواتین منانے والوں کے کانوں پرکوئی جوں رینگی۔
جبکہ دہلی کا لاء اینڈ آرڈر "یوم حقوقِ مسلم خواتین ” منانے والی اور پارلیمنٹ میں طلاقِ ثلاثہ بل پاس کرانے والی اسی حکمران جماعت ہی کے ہاتھ میں ہے۔ سچ بات تو یہ ہے کہ اس زعفرانی حکومت نے دیگر اور اداروں کی طرح میڈیا کو بھی پوری طرح ـ”زعفران زار”بنادیا ہے ۔ 
اتفاق سے اس سانحے کے ایک ہی دو دن بعد ایک معروف ٹی وی ایکٹر کا حرکتِ قلب بند ہوجانے سے انتقال ہوگیا اور وطنِ عزیز بھارت کا پورا میڈیا اس واقعے کے ایک ایک گوشے اور پہلو پر روشنی ڈالنے کے کارِخیر میں لگ گیا۔سب انسپکٹر صبیحہ سیفی کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے سانحے کو جس میں ظلم و زیادتی اور حیوانیت و بربریت کی تمام حدیں پار کردی گئی تھیں، نظر انداز کرکے میڈیا کا کسی شخص کی طبعی موت کو لے کر دن بھر ہنگامہ برپاکرنے کو صحافتی اقدارسے بغاوت اور اخلاقی دیوالیہ پن کے علاوہ کیا کہا جائیگا۔
نہ صرف ہمارے ملک بلکہ پوری دنیا میں روزانہ  لاکھوں لوگ حرکتِ قلب کے بند ہوجانے سے موت کا شکار ہوتے رہتے ہیں ۔ یہ ایک معمول کی بات ہے، لیکن محض اس وجہ سے کہ فوت شدہ شخص کا تعلق شوبز سے ہے ،وہ ایک فلمی ستارہ ہے ، اس کے چاہنے والوں کی ایک بڑی تعداد معاشرے میں موجود ہے ، اس کی خبر کو نشر کرنے سے چینل کی ٹی آر پی بڑھ سکتی ہے ،تمام چینل اس کو نشر کرنے میں لگ گئے۔ پتہ نہیں گودی میڈیا اس منافقت کو کب چھوڑیگا؟
یوں محسوس ہوتا ہے کہ حادثات و واقعات کو مذہبی تعصب کی عینک سے دیکھنا اورانہیں زہرآلود نفرت بھرے انداز میں بیان کرنا گودی میڈیا کے لئے صحافت کی بنیادی شرط بن چکی ہے۔ کورونا کے پہلے مرحلے میں تبلیغی جماعت کو لے کر میڈیا کی زہر افشانی اور دوسرے مرحلے میں کمبھ کے میلے میں لاکھوں لوگوں کی شرکت پر اس کی خاموشی اس بات کا واضح ثبوت ہے ۔
موجودہ دور میں ہمارے سماج اور معاشرے میں کسی بھی اہم واقعے یا سانحے کو اجاگر کرنے یا دبانے میں میڈیا کا کردار بڑا اہم ہوتا ہے ، میڈیا کا رویہ اگر مثبت ہو تو بہت سے مسائل فوری بنیاد پر حل ہوسکتے ہیں لیکن اگر میڈیا کا رویہ منفی ہو یا محض تماشائی کا ہو تو پھر بہت سے معاملات نہ صرف سردخانوں میں چلے جاتے ہیں بلکہ بگاڑ کا شکار بھی ہوجاتے ہیں۔
اس وقت ہمارے وطن عزیز کی میڈیا میں پڑوسی ممالک اور بیرونی اقوام کے سیاسی اتھل پتھل کو لے کر شوروغوغا کرنے اور ڈیبیٹ کرنے کی ہُوڑ لگی ہوئی ہے ، اور اپنے ہی ملک کے بنیادی مسائل ، عوام کی پریشانیوں، مہنگائی کی مار، کسانوں کی بے بسی، پسماندہ طبقات کے استحصال ، جنسی زیادتیوں جیسے انتہائی اہم مسائل سے چشم پوشی و پہلوتہی کرنا عام بات بنی ہوئی ہے ، ان حالات میں ہماری اپنی بے حسی اور خاموشی بھی کسی قیامت سے کم نہیں ، ہم میں سے ہر شخص حالات سے باخبر ہوتا ہے بلکہ حل بھی جانتا ہے لیکن اس کو حل کرنے کے لئے کوئی ایک شخص بھی  قدم آگے نہیں بڑھاتا۔
حالات یہ کہ رہے ہیں کہ یہ وقت عہد کہن کے قصوں اور ماضی کی داستانوں سے لطف اندوز ہونے اور اسلاف کے کارہائے نمایاں پر محض فخر کرنے کی بجائے میدان عمل میں کود پڑنے اوراپنے مسائل کو قانونی و دستوری دائروں میں رہتے ہوئے حل کرنے کا ہے۔ 
ذرا دیکھ اس کو جو کچھ ہورہا ہے ، ہونے والا ہے
دھرا کیا ہے بھلا عہدِ کُہن کی داستانوں میں
یہ خاموشی کہاں تک؟  لذّتِ فریاد پیدا کر 
زمیں پر تو ہو اور تیری صدا ہو آسمانوں میں
نوٹ :-مضمون نگار کی رائے سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

اردودنیانیوز۷۲

عید الفطر کا پیغام

عید الفطر کا پیغام  مضمون نگار : محمد ضیاء العظیم، معلم چک غلام الدین ہائی اسکول، ویشالی، بہار، موبائل نمبر :7909098319 اللہ رب ...