Powered By Blogger

اتوار, ستمبر 12, 2021

بی جے پی کو جھٹکا دینے کے لیے شیوسینا تیار، یو پی میں سبھی سیٹوں پر الیکشن لڑنے کا اعلان

اتر پردیش میں آئندہ سال کے شروع میں ہونے والے اسمبلی انتخاب سے قبل شیوسینا نے بی جے پی کو بڑا جھٹکا دے دیا ہے۔ مہاراشٹر میں برسراقتدار پارٹی شیوسینا نے آئندہ اسمبلی انتخاب میں اتر پردیش کی سبھی 403 اسمبلی سیٹوں پر اپنا امیدوار اتارنے کا اعلان کر دیا ہے۔ شیوسینا کی مقامی مجلس عاملہ کی آج ہوئی میٹنگ میں یہ فیصلہ لیا گیا۔ میٹنگ میں شیوسینا لیڈروں نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی حکومت میں ریاست کا نظام قانون پوری رح سے فیل ہو گیا ہے اور بہن-بیٹیاں بھی محفوظ نہیں ہیں۔

میٹنگ میں ریاستی شیوسینا سربرہ ٹھاکر انل سنگھ نے کہا کہ اتر پردیش کی بی جے پی حکومت برہمنوں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کر رہی ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ریاست میں طبی اور تعلیمی حالت انتہائی خراب ہے، اس کے ساتھ ہی بے روزگاری و مہنگائی سے بھی عوام بری طرح بے حال ہے۔ اس لیے شیوسینا نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ ریاست کی سبھی اسمبلی سیٹوں پر اپنے امیدوار کھڑا کرے گی اور عوام کو ایک بہتر حکومت دینے کے لیے قدم بڑھائے گی۔

واضح رہے کہ اتر پردیش میں 2022 میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں کئی چھوٹی پارٹیوں نے اپنے امیدوار اتارنے کا اعلان کر دیا ہے جس سے بڑی پارٹیوں کے لیے پریشانیاں کھڑی ہو گئی ہیں۔ اے آئی ایم آئی ایم نے بھی 100 اسمبلی سیٹوں پر اپنا امیدوار کھڑا کرنے کی بات کہی ہے، اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مسلم اکثریتی اسمبلی حلقے ان کا ہدف ہوں گے۔

مایا غزل: پہلی شامی پناہ گزین پائلٹ کی کہانی: ‘

مایا غزل ان لاکھوں شامی پناہ گزینوں میں سے ایک ہے جنھوں نے خانہ جنگی شروع ہوتے ہوئے اپنا ملک چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ چھ برس قبل مایا کے خاندان کو برطانیہ میں پناہ مل گئی مگر مایا کو تعلیم حاصل کرنے میں اب بھی کئی رکاوٹوں کا سامنا تھا۔ مایا نے اپنی کہانی بی بی سی کو سنائی کہ کیسے اس نے تمام مشکلات پر قابو پا کر ایک ماہر پائلٹ اور اقوام متحدہ کی پناہ گزینوں سے متعلق ایجنسی کی خیر سگالی کی سفیر بھی بن گئیں۔

ہر بار جب میں جہاز میں داخل ہوتی ہوں تو میں بہت پرجوش ہو جاتی ہوں۔۔ میں اب ایک پائلٹ ہوں۔ یہ سوچنا ہی محال ہے کہ میں نے یہ سفر کیسے طے کر لیا۔ میں تو وہ تھی جسے سکولوں نے داخلہ دینے سے انکار کر دیا تھا۔مایا غزل 16 برس کی عمر میں اپنی ماں اور بہن بھائیوں کے ہمراہ دمشق چھوڑ کر برطانیہ چلی گئیں جہاں پہلے ہی سے ان کے والد شام سے فرار ہو کر وہاں پہنچ چکے تھے۔چھ سال بعد اب مایا پہلی شامی پناہ گزین ہیں جو اب نجی طیارے اڑانے کا لائسنس کی اہل ہیں اور اب وہ کمرشل فلائیٹس چلانے کے لیے تربیت حاصل کر رہی ہیں۔ مگر یہ سب بہت مشکل سفر تھا جو مایا نے طے کیا۔

 

جب وہ برمنگھم آئیں تو اسے یہ امید تھی کہ وہ اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں گی مگر اب اسے داخلہ لینے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔22 برس کی مایا نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے خیال میں مجھے اس وجہ سے بھی داخلے میں مشکلات کا سامنا تھا کہ میں ایک شامی ہوں، سکول والوں کے خیال میں ایک ان پڑھ لڑکی ہوں گی اور برطانیہ میں غیرقانونی طور پر آئی ہوں گی۔۔ مگر ایسا نہیں تھا۔داخلے کی درخواست مسترد ہونے پر دل ٹوٹ جاتا

جب مایا برطانیہ آئیں تو اس وقت کسی تعلیمی ادارے میں داخلہ حاصل کرنا یا 16 سال کی عمر کے بعد تربیت حاصل کرنا لازمی شرط نہیں تھی۔ مایا نے اپنے ملک شام میں ثانوی درجے کی تعلیم مکمل کر لی تھی اور یوں انھیں مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے آگے داخلہ حاصل کرنا کوئی لازمی شرط نہیں تھی۔مایا کا کہنا ہے کہ اس نے چار اداروں میں داخلے کے لیے درخواست دی اور فزکس اور ریاضی میں ٹیسٹ کے لیے بھی پیشکش کی مگر ان کی درخواست ہر بار مسترد کر دی گئی۔

اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں سے متعلق ادارے یو این ایچ سی آر کا کہنا ہے کہ مایا کی داخلے کی درخواست اس وجہ سے مسترد کر دی جاتی تھی کیونکہ شام سے حاصل کردہ تعلیمی اسناد کو برطانیہ میں تسلیم نہیں کیا جاتا تھا۔مایا کا کہنا ہے کوئی بھی میری کہانی سننے کی پرواہ نہیں کرتا تھا اور اس چیز نے مجھے بہت متاثر کیا۔ ہر بار جب مجھے مسترد کیا جاتا تو میری ایسی کیفیت ہوتی تھی جیسے میرا دل ٹوٹ جاتا تھا۔

یو این ایچ سی آر کے مطابق اس وقت دنیا کے کئی ممالک میں 66 لاکھ سے زائد شامی پناہ گزین رہ رہے ہیں۔ تقریباً 20 ہزار کو برطانیہ میں پناہ دی گئی ہے۔چھ برس قبل جب پناہ گزینوں کا بحران پیدا ہوا تو ایسے میں ان پریشان حال پناہ گزینوں کی تصاویر میڈیا میں بھی شائع ہوئیں، جب وہ یورپ میں داخلے کی کوشش کر رہے تھے ۔ ان تصاویر میں نفرت کے پیغامات بھی شامل ہو گئے۔مایا کا کہنا ہے کہ آپ جانتے ہیں کہ میڈیا نے جس طرح کی کچھ لوگوں کی تصویر پیش کی اس سے یہ تاثر ملا کہ یہ پناہ گزین پیسے چوری کرنے آئے ہیں۔’میں اپنے بارے میں ایسا سوچنا بھی نہیں چاہتی کہ میں ان سے ایک ہو سکتی ہوں۔ پناہ گزین کوئی اچھا لفظ نہیں ہے جسے اپنے نام کے ساتھ جوڑ دیا جائے۔‘

بہت تبدیلیاں رونما ہوئیں
بچپن میں مایا کا خواب سفارت کار بننا تھا اور وہ اس مقصد کے لیے سیاسیات کی تعلیم حاصل کرنا چاہتی تھیں تا کہ وہ سفیر بن سکے۔تاہم مایا کی شام میں بچپن کی کئی اچھی یادیں ہیں، جہاں وہ اپنے اپنے رشتہ داروں کے درمیان گھری ہوتی تھی۔دمشق کے مضافات میں مایا کے والد ایک کپڑے کی فیکٹری چلاتے تھے مگر مایا کے مطابق جب اس علاقے کو فوج نے اپنے گھیرے میں لے لیا تو ان کے والد نے سوچا کہ اب اس ملک سے باہر چلے جانے اور کوئی متبادل کام تلاش کرنے سے بہتر حل اور کوئی نہیں ہے۔ جس کے بعد ان کے والد نے برطانیہ میں پناہ حاصل کر لی۔

کمسن مایا نے اپنی تعلیم جاری رکھی اور شام میں اپنی تعلیم مکمل کرنے کے لیے انھیں تین بار سکول تبدیل کرنا پڑا۔ایک نئی شروعات کی امید لیے سنہ 2015 میں مایا کا خاندان برطانیہ چلا گیا مگر وہاں پہنچ کر مایا کو احساس ہوا کہ جیسے اس پر سب دروازے بند ہوں۔مایا کے لیے کامیابی حاصل کرنے کے امکانات بہت مسدود ہو گئے تھے۔ دنیا بھر میں 83 ملین پناہ گزینوں کے لیے تعلیم تک رسائی بہت مشکل امر بن کر رہ گیا ہے۔

یو این ایچ سی آر کا کہنا ہے کہ جب پناہ گزینوں کے بچے بڑے ہو جاتے ہیں تو ان کے لیے تیزی سے مواقع کم ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ عالمی سطح پر 37 فیصد عام آبادی کے مقابلے میں صرف تین فیصد پناہ گزینوں کی تعلیم تک رسائی ممکن ہو پاتی ہے۔مایا کا کہنا ہے کہ بار بار رد کیے جانےاور میری صلاحتیوں کو کمتر سمجھنے جیسے رویوں نے مجھے اور طاقتور بنا دیا۔

ایک نئی سمت کا تعین

بالآخر مایا کو برطانیہ میں انجنئیرنگ میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع مل ہی گیا۔ تعلیمی سلسلے کو آگے بڑھانے کے لیے مایا اپنی ماں کے ساتھ لندن گئیں تاکہ وہ مختلف یونیورسٹیوں میں داخلے کے لیے درخواست دے سکیں۔ مایا ہیتھرو ایئرپورٹ کے قریب ایک ہوٹل میں ٹھہریں۔اس ہوٹل سے مایا جہازوں کی اترنے اور پرواز بھرنے کے مناظر کو بہت شوق سے دیکھتی تھیں۔ اس کے بعد جیسے ایک نیا خواب آنکھوں میں آ بسا ہواور مایا نے پائلٹ بننے کا فیصلہ کر لیا۔

مگر اس کے بعد بھی کئی طرح کے شکوک و شبہات سے واسطہ پڑ گیا۔ کچھ دوستوں اور رشتہ داروں نے یہاں تک بھی کہا کہ آپ ایک خاتون ہیں تو ایسے میں آپ پائلٹ کیوں بننا چاہتی ہیں؟ آپ کو ملازمت کون دے گا۔ایئر لائن پائلٹس ایسوسی ایشن کے اعدادوشمار کے مطابق کمرشل ایوی ایشن کی صنعت میں مرد حضرات کی تعداد نمایاں ہے اور عالمی سطح پر 20 میں سے صرف ایک خاتون پائلٹ ہے۔

اس سب کے باوجود مایا ثابت قدم رہیں اور لندن یونیورسٹی میں ان کا ایوی ایشن انجنیئرنگ میں سنہ 2017 میں داخلہ ہو گیا جہاں انھوں نے پائلٹ سے متعلق تعلم حاصل کی۔ مایا تعلیم کے ساتھ جزو وقتی ملازمت بھی کرتی تھیں۔ وہ تقریبات میں لیکچر دیا، پیسے ادھار لیے اور اپنی خواہشات کو قابو میں رکھ کر بچت کر کے کاک پٹ تک رسائی کو ممکن بنایا۔

مایا کا کہنا ہے کہ ان کا پہلی پرواز کا پہلا گھنٹہ شدید دباؤ والا تھا، جسے وہ بالکل پسند نہیں کرتیں۔ یہ بہت ہی جذبات والا گھنٹہ تھا۔ اور یہ وہ کچھ نہیں تھا جس کا میں نے تصور کر رکھا تھا۔میرے کان جیسے پھٹ رہے ہوں۔ میرے سر میں درد ہونا شروع ہو گیا اور اس کے علاوہ بہت کچھ ہو رہا تھا۔ ہم نے پرواز بھری اور مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ ریڈیو کے ذریعے کیا پیغامات دیے جارہے ہیں۔مگر برطانیہ آنے کے چار برس بعد مایا نے اکیلے ہی پرواز کی۔ جیسے ہی وہ پرواز بھرنے کی تیاری کر رہی تھیں تو ایسے میں ایئرٹریفک کنٹرولر کی طرف سے اس نے ریڈیو پر اپنا نام سنا۔ یہ سن کر مایا کے رونگھنٹے کھڑے ہو گئے۔

مایا کے مطابق میری پہلی پرواز بہت مختصر دورانیے کی تھی۔ میں نے ایئرپورٹ کے گرد ایک چکر کاٹا اور پھر لینڈنگ کر لی۔ یہ بہت ہی خوشی والی پرواز تھی۔ مجھے اپنے اوپر بہت فخر ہو رہا تھا۔

ایک سننے کے قابل کہانی

مایا نے اپنی سند 2:1 کے تناسب سے امتیازی نمبرں سے حاصل کی۔ اب مایا ماسٹرز ڈگری حاصل کر کے کمرشل فلائیٹ کا لائسنس حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ اس مقصد کے لیے مایا کو 150 گھنٹے کا فلائینگ ہاورز کا ہدف حاصل کرنا ہو گا۔ مایا کی ہر گھنٹے کی قیمت 275 ڈالر (تقریباً 46 ہزار پاکستانی روپے) بنتی ہے۔

اپنی تعلیم کے ساتھ ساتھ مایا پناہ گزینوں کے حقوق کے لیے بھی کام کر رہی ہیں۔ اس نے پناہ گزینوں میں نامساعد حالات کے باوجود ہمت سے آگے بڑھنے کے موضوع پر لیکچر بھی دیا اور اس سال یو این ایچ سی آر نے انھیں اپنا خیر سگالی کا سفر بھی مقرر کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں سے متعلق ادارے یو این ایچ سی آر کو یہ امید ہے کہ جب کورونا وائرس سے متعلق پابندیوں میں نرمی کی جائے گی تو مایا کو پناہ گزینوں کے کیمپوں میں لے جایا جائے گا۔ یو این ایچ سی آر 2030 تک پناہ گزینوں کی آبادی میں سے 15 فیصد تک کے لیے اعلی تعلیم کے حصول کو ممکن بنانا چاہتی ہے۔ مایا کا اس بات پر قوی ایمان ہے کہ تعلیم کھانے پینے جتنی ہی اہمیت کی حامل ہے مگر ان کا کہنا ہے کہ وہ سب سے پہلے پناہ گزینوں سے متعلق لوگوں کے تاثر کو بہتر کرنا چاہتی ہیں اور ان کے لیے کمیونٹی کی مزید حمایت حاصل کرنے کی کوشش کریں گی۔ پناہ گزینوں کی مدد ایک بہت سادہ سے طریقے سے ممکن بنائی جا سکتی ہے۔ یہ حمایت صرف ان کی طرف دیکھ کر مسکرانے سے شروع ہو سکتی ہے، انھیں شہر کے بارے میں معلومات دے کر بہتر روزگار کی تلاش میں مدد دی جا سکتی ہے۔ مایا کا کہنا ہے کہ اس کی کامیابی دوسروں کے لیے حوصلے کا باعث بن سکتی ہے کہ وہ تمام مشکلات پر قابو پا کر تعلیم حاصل کریں۔ ان کے مطابق میں لوگوں کو یہ بتانا چاہتی ہوں کہ یہ سب آسانی سے نہیں ہو جاتا۔ میں شام سے آئی ہوں، میں ایک جنگ کے درمیان سے نکل کر یہاں تک پہنچی ہوں اور میں ایک پناہ گزین ہوں۔جب میں پہلی بار برطانیہ آئی تو مجھے ایک بہت اچھی کہانی کی تلاش تھی۔ میں کسی ایسے شخص کی تلاش میں تھی جو ایسے نامساعد حالات سے گزرا ہو اور اپنا ہدف حاصل کرنے میں کامیاب ہوا ہو۔ میرے نکتہ نظر سے ایسا کر کے دکھانا بہت اہم ہے۔ ان لوگوں کو یہ دکھانا کہ ہمت کبھی نہیں ہارنی، اپنے اوپر یقین رکھیں اور اپنے آپ کو سخت محنت پر آمادہ کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب لوگ ان کی کہانی سنتے ہیں تو وہ حیران رہ جاتے ہیں۔ اور میری کہانی پناہ گزینوں سے متعلق منفی تاثر کو تبدیل کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ ’مجھے ایک دقیانوسی سوچ کی حامل کے طور پر دیکھا گیا کیونکہ میں ایک پناہ گزین تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ میرے بارے میں اس وجہ سے کچھ بھی فرض نہ کریں کیونکہ میں ایک پناہ گزین ہوں، ایک مسلمان ہوں، ایک عرب ہوں اور ایک خاتون ہوں۔ کوئی بھی مفروضے پر مبنی سوچ اور عنوان مجھے تبدیل نہ کر سکا۔ میں ایسے ہی اپنی زندگی کو کنٹرول کرنے کے قابل ہوں جیسے میں ایک جہاز کو کنٹرول کرتی ہوں۔‘

امریکی کرکٹر نے تاریخ رقم کردی، ایک اوور میں 6 چھکے لگادیے

ریاست ہائے متحدہ امریکا (یو ایس اے) کے بیٹسمین جسکرن ملہوترا نے تاریخ رقم کرتے ہوئے ون ڈے کرکٹ میں ایک اوور میں 6 چھکے لگادیے۔خیال رہے کہ جنوبی افریقہ کے ہرشیل گبز کے بعد جسکرن ملہوترا دوسرے بلے باز ہیں جنہوں نے ون ڈے کرکٹ میں یہ کارنامہ انجام دیا۔

 

پاپوا نیوگنی کے خلاف میچ کی پہلی اننگز کے آخری اوور کو اپنی زندگی کا یادگار اوور بناتے ہوئے امریکی بیٹسمین جسکرن ملہوترا نے مسلسل چھ مرتبہ گیند کو باؤنڈری لائن پار کروادی۔

اس میچ میں امریکا نے پہلے کھیلتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 271 رنز بنائے۔

جسکرن نے ون ڈے کی تاریخ کی بہترین باریوں میں سے ایک باری کھیلتے ہوئے 124 گیندوں پر 16 چھکوں اور 4 چوکوں کی مدد سے ناقابلِ شکست 173 رنز بنائے۔

ہدف کے تعاقب میں پاپوا نیوگنی کی ٹیم اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرسکی اور پوری ٹیم 137 رنز پر پویلین لوٹ گئی۔

خیال رہے کہ جسکرن ملہوترا سے قبل بین الاقوامی کرکٹ میں جنوبی افریقہ کے ہرشل گبز (ون ڈے)، بھارت کے یوراج سنگھ (ٹی ٹوئنٹی) اور ویسٹ انڈیز کے کیرون پولارڈ (ٹی ٹوئنٹی) میں چھ گیندوں پر چھ چھکے لگا چکے ہیں

ہفتہ, ستمبر 11, 2021

وسیم رضوی کے خلاف غیر ضمانتی وارنٹ جاری

شیعہ وقف بورڈ کے سابق چیئرمین وسیم رضوی کو آج اس وقت زبردست جھٹکا لگا جب ایک معاملہ میں انھیں اور ان کے تین ساتھیوں کے خلاف غیر ضمانت وارنٹ جاری کیا گیا۔ ایڈیشنل چیف جسٹس نے یہ وارنٹ سال 2015 میں درج ایک معاملے کی سماعت کے دوران جاری کیا۔ میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی خبروں کے مطابق یہ معاملہ شاہین خان نامی ایک خاتون نے درج کرایا تھا جس میں وسیم رضوی اور ان کے ساتھیوں پر مار پیٹ کے ساتھ ساتھ بدسلوکی کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

 

شاہین خان کے ذریعہ داخل عرضی میں بتایا گیا ہے کہ وہ 2015 میں رستم نگر واقع درگاہ حضرت عباس کی زیارت کے لیے گئی تھیں، تبھی وسیم رضوی اور ان کے ساتھیوں نے مار پیٹ کی اور بدسلوکی بھی کی تھی۔ واضح رہے کہ وسیم رضوی کئی وجہ سے ایک متنازعہ شخصیت رہے ہیں۔ ان پر ڈرائیور کی بیوی کے ساتھ عصمت دری کرنے کا الزام بھی عائد کیا جا چکا ہے، اور قرآن سے کچھ آیات کو نکالے جانے کا مطالبہ کرنے پر انھیں مسلم طبقہ کی تنقید کا بھی نشانہ بننا پڑا۔ قرآن کے خلاف دیے گئے وسیم رضوی کے بیان کو دیکھتے ہوئے ان کے گھر والوں نے بھی ان کا ساتھ چھوڑ دیا ہے۔

اکل کوا میں دارالقضاء کا افتتاح

اکل کوا میں دارالقضاء کا افتتاح

مولاناخالدسیف اللہ رحمانی
مولاناخالدسیف اللہ رحمانی
  • (اردو دنیا نیوز۷۲) ندوربار

ریاست مہاراشٹر کے ضلع ندوربار کے قصبہ اکل کوا میں واقع ملک کی عظیم دینی درسگاہ جامعہ اسلامیہ اشاعت العلوم میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی زیرنگرانی صوبہ مہاراشٹر کے 26ویں دارالقضاء کا قیام عمل میں آیا۔

افتتاحی اجلاس اور حلف برداری تقریب کی صدارت مولانا غلام محمد وستانوی   نے فرمائی۔

مولانا خالد سیف اللہ رحمانی (کارگزار جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ) نے دورنبوی سے اب تک نظام قضاء کی تاریخ کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر کسی علاقہ میں نظام قضاء نہ ہو اور مسلمان غیرشرعی تصفیہ پر مجبور ہوتے ہوں تو ظن غالب ہے کہ اس خطہ و علاقہ کے علماء و عمائدین عنداللہ ماخوذ ہوں گے۔

 مولانا عتیق احمد بستوی (کنوینر دارالقضاء کمیٹی) نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ کارقضاء ایک اہم ترین دینی فریضہ ہے، مجھے خوشی ہے کہ ملک کی اس عظیم دینی درسگاہ اور اس علاقہ کے لئے دارالقضاء کا قیام عمل میں آیا۔

awaz

مولانا نے فرمایا کہ اس دارالقضاء کے قیام پر صدر بورڈ مولاناسید محمد رابع حسنی ندوی نےاپنی خوشی و مسرت و دعائیہ کلمات ارشاد فرمائے۔

مولانا تبریز عالم (آرگنائزر دارالقضاء کمیٹی) نے نظام قضاء کے قانونی و سماجی پہلو پر گفتگو کرتے ہوئے دارالقضاء کو ملک و سماج کی اہم ترین ضرورت قرار دیا۔

 مولانا حذیفہ وستانوی نے اجلاس کی نظامت فرمائی۔

مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے مولانا مفتی محمد جعفر ملی قاضی شریعت اور مولانا مفتی محمد دانش کو نائب قاضی شریعت کا حلف دلایا۔

مولانا مفتی عبیداللہ اسعدی ،شیخ الحدیث جامعہ عربیہ ہتھورا باندہ کی دعا پر اجلاس اختتام پذیر ہوا۔

بہار:ایک ایساگائوں جہاں ہرخاندان کے پاس ہے نائو

بہار:ایک ایساگائوں جہاں ہرخاندان کے پاس ہے نائو

بہار:ایک ایساگائوں جہاں ہرخاندان کے پاس ہے نائو
بہار:ایک ایساگائوں جہاں ہرخاندان کے پاس ہے نائو

دربھنگہ: دربھنگہ ضلع کے کوشیشورستھان میں ایک گاؤں ہے گورا، جہاں تقریبا ہر خاندان کی اپنی ذاتی کشتی ہے۔ اس گاؤں کو اب ’نائووالا گائوں' بھی کہا جاتا ہے۔ اس کا اصل نام گورا گاؤں ہے ، جو کوشیشور کی اورائی پنچایت کے تحت آتا ہے۔

یہاں رہنے والے لوگ کشتیاں پہلے خریدتے ہیں اور سائیکل و بائیک بعد میں خریدتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ گاؤں نہ صرف چھ سے نو ماہ تک مکمل طور پر ایک جزیرے میں تبدیل رہتا ہے بلکہ سیلاب کا پانی کئی گھروں میں بھی داخل ہو جاتا ہے۔

ایسی حالت میں گائوں کے کسی بھی شخص کے لیے گھر سے باہر نکلنے کے لیے کشتی ہی واحد سہارا ہوتی ہے۔ یہاں رہنے والے لوگ گھر چھوڑ کر کشتی کے ذریعے مرکزی سڑک پر پہنچ جاتے ہیں۔ پھر وہ سڑک کے کنارے پانی میں کام کرنے نکل جاتے ہیں۔

خواتین اور بچے کشتیوں کو جانوروں کے چارے کے ساتھ ساتھ دیگر اہم کاموں کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں ہر کوئی جانتا ہے کہ کشتی کیسے چلانا ہے۔ بوڑھے ہوں یا بچے ، عورتیں ہوں یا مرد سب اپنی اپنی کشتی میں سوار ہو کر آتے اور جاتے ہیں۔

اس گاؤں میں کسی بھی کام کے لیے گھر سے باہر نکلنے میں کشتی ہی واحد سہارا ہے۔ گاؤں کے محمد گلشن عالم نے بتایا کہ یہاں پانی تقریبا نو ماہ تک بھرا رہتا ہے۔ ہر قسم کا کام صرف کشتی کے ذریعے کرنا پڑتا ہے۔ کام پر جانا ہو یا بچوں کو اسکول لے جانا ہو یا بیمار کو ہسپتال لے جانا ہو ، تمام کام کشتی کی مدد سے ہوتے ہیں۔

اس گاؤں کے بارے میں بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ گاؤں کو مرکزی سڑک سے جوڑنے کے لیے نہ تو سڑک ہے اور نہ ہی پل۔ کئی دہائیوں سے لوگ یہاں سڑک کے ساتھ پل بنانے کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن انہیں یقین دہانی کے سوا کچھ نہیں ملا۔

دیہاتیوں کے مطابق ان لوگوں کے لیے ایک سرکاری کشتی بھی دستیاب نہیں ہے۔ ایسی صورت حال میں لوگ پہلے تقریبا بیس ہزار مالیت کی کشتیاں خریدتے ہیں ، بعد میں وہ سائیکل یا موٹر سائیکل خریدنے کا سوچتے ہیں۔

جن کے پاس اپنی کشتی نہیں ہے ، وہ کشتی والوں کی مدد کے محتاج ہیں۔ گورا گاؤں میں تقریبا200 سے 250 گھر ہیں اور آبادی 1000 سے زیادہ ہے ، جو کہ کوشیشور کی اورائی پنچایت کے تحت آتا ہے۔


پین کارڈکوآدھار سے جوڑنے کی آخری تاریخ 30ستمبر

پین کارڈکوآدھار سے جوڑنے کی آخری تاریخ 30ستمبر

PAN-card

نئی دہلی11ستمبر:(اردو دنیا نیوز۷۲)ابھی تک آپ نے اپنے آدھار کارڈ کے ساتھ پین کارڈکولنک نہیں کیا ہے ، تو فوری طور پر یہ کام کریں ، کیونکہ آدھار نمبر کو پین کے ساتھ جوڑنے کی آخری تاریخ 30 ستمبر ہے۔ اس ڈیڈ لائن کو ختم ہونے میں صرف 20 دن باقی ہیں۔ اگر آپ کا پین کارڈآپ کے آدھار سے منسلک نہیں ہے تو اب آپ کو ایک ہزار روپے تک جرمانہ ادا کرنا پڑے گا۔

نیز ایل آئی سی ، میوچل فنڈز جیسی بہت سی چیزوں میں پریشانی ہوسکتی ہے۔ اگر یہ کام 30 ستمبر سے پہلے نہیں کیا گیا تو جرمانہ ادا کرنا پڑے گا۔ اس سے قبل مرکزی حکومت نے کئی بار پین کو آدھار سے جوڑنے کی آخری تاریخ میں توسیع کی ہے ، لیکن اب عدم تعمیل کی صورت میں جرمانہ عائد کرنے کی شق متعارف کرائی گئی ہے۔ ساتھ ہی کارڈ ہولڈر کا پین کارڈبھی غلط قرار دیا جائے گا۔ اس سے آپ کو بینک کھاتوں سے لے کر پنشن تک نئی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انکم ٹیکس ریٹرن فائل کرنا بھی ممکن نہیں ہوگا۔

اردودنیانیوز۷۲

عید الفطر کا پیغام

عید الفطر کا پیغام  مضمون نگار : محمد ضیاء العظیم، معلم چک غلام الدین ہائی اسکول، ویشالی، بہار، موبائل نمبر :7909098319 اللہ رب ...