مسلمان اپنا لیڈر کب منتخب کریں گے، مسلمانوں کے اتحاد سے یوپی کا نقشہ کیسا ہوگا، اویسی کا خطاب

پریاگ راج: (ایجنسی) آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے قومی صدر اور حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اویسی نے اپنے ہر تقریر میں بی جے پی کو اقتدار سے بے دخل کرنے کی اپیل کررہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ عام لوگ خاص کر مسلمانوں کا اتحاد موجودہ اسمبلی الیکشن میں اپنا رنگ دکھائے گا اور حکمراں جماعت بی جے پی کی اقتدار سے بے دخلی کا اہم سبب بنے گا۔ پریاگ راج کے مجیدیہ اسلامیہ انٹرکالج میں منعقد ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسد الدین اویسی نے کہا کہ مرکز اور ریاست کی بی جے پی حکومت نے عوام کے ساتھ دھوکہ کیا ہے اور پسماندہ طبقات کی اعتماد شکنی کی ہے۔
حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ عتیق احمد کے کئی مکانوں کو منہدم کردیا گیا۔ ان کی تصویر بھی چسپاں کرا دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی یوگی کو بی جے پی کے ان لوگوں کی تصویر بھی لگانی چاہئے جن کے حکومت نے تمام مجرمانہ کیس واپس لے لئے ہیں ۔ مظفر نگر فسادات میں جن لوگوں پر مقدمے درج کئے گئے تھے ان کی بھی تصویر لگوانی چاہئے تھی ۔ لیکن تصویر اگر چسپاں کی جاتی ہے تو ہماری کی جاتی ہے اور ہمارے بارے میں لوگوں کو گمراہ کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستانی سیاست میں یہ ایک حقیقت ہے کہ جس سماج کے پاس اس کا لیڈر ہوگا اس کے مسائل کا تصفیہ ہوگا۔ جس سماج کے پاس لیڈر نہیں ہوگا اس سماج کو نہ تو حصہ ملے گا اور نہ ہی اس کی آواز کو سنا اور اس کے درد کو سمجھا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ اب کی بار ہمیں اپنا مقام حاصل کرنا ہے ، ہمیں ہمارا حق اسی وقت ملے گا جب ہم اپنا لیڈر اسی طرح منتخب کریں گے جس طرح یادو سماج نے اکھلیش اور دلت سماج نے مایاوتی کو اپنا لیڈر مانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اترپردیش میں ٹھاکر سماج نے یوگی کو اپنا لیڈر مانا ہے۔ کرمی برادری کے لوگوں نے انوپریا پٹیل کو اور برہمن سماج نے نریندر مودی کو اپنا لیڈر منتخب کیا ہے۔ اب ضرورت ہے کہ مسلمان بھی انتخاب میں اپنا ووٹ بے کار نہ جانے دیں اور متحدہ ووٹ کر کے اپنے مسائل کے تصفیہ کا حل نکالیں۔ انھوں نے کہا کہ جب تک مسلمان اپنا لیڈر نہیں چنتے ہیں اس وقت تک وہ ادھر ادھر بھٹکتے رہیں گے اور ان کا کوئی پرسان نہیں ملے گا۔انھوں نے یوپی الیکشن میں بی جے پی کو سبق سکھانے کے لیے مسلمانوں کا اتحاد ضروری ہے۔ واضح رہے کہ اسد الدین اویسی ان دنوں میں یوپی میں بہت محنت کررہے ہیں اور اب تک کسی سے ہاتھ ملانے کا عندیہ ظاہر نہیں کیا ہے۔ اویسی کے یوپی آنے کی وجہ سے یہاں کی سیاست میں ایک طرح کی ہلچل دیکھی جارہی ہے




شالینی ، دلہن جو بے گھر سینٹر میں رہتی ہے ، دونوں فریقوں کی جانب سے شادی پر رضامندی کے بعد محبت کرنے والوں نے سات پھیرے لینے کا فیصلہ کیا اور دونوں شادی کے بندھن میں بندھ گئے۔ معلومات کے مطابق میرج کے بے گھر سینڑمیں رہنے والی 66 سالہ دلہن شالینی کے شوہر اور بچے کی بے وقت موت کے بعد وہ اپنی زندگی بے گھر سینٹر میں تنہا گزار رہی تھی۔
دریں اثنا 79 سالہ ریٹائرڈ ٹیچر دادا صاحب سالونکھے کی اہلیہ کا بھی انتقال ہوچکا ہے۔ دادا صاحب سالونکھے کے بچوں کی شادی کے بعد وہ اپنی اپنی دنیا میں مست ہیں۔ جس کے بعد دادا صاحب سالونکھے کی زندگی تنہا گزر رہی تھی۔ تاہم بچوں نے اپنے والد کی دوسری شادی کے لئے رضامندی دے دی تھی۔ بزرگ دلہن اور دلہن شالینی پاشن ، اور دلہا داس صاحب سالونکھے کی شادی سے پہلے مشورہ کیا گیا، جو آستھا بے گھر سینٹرمیں رہتے ہیں۔
ایک دوسرے کو سمجھا اور ایک روشن مستقبل کے سفر کو گزارنے کا فیصلہ کیا۔ تمام قانونی کارروائیوں کو مکمل کرنے کے بعد سماجی اصلاح پسندوں ساوتری بائی اور مہاتما پھولے کی تصاویر کو پھول پیش کئے اور پرانی روایت کو بر قرار رکھتے ہوئے شادی کی.شادی کے دوران مدعو مہمان اور پورے گاؤں نے دلہا اور دلہن کو خوشگوار ازدواجی زندگی کے لئے دعائیں دیں۔
