پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی آگ بھڑکنے کا سلسلہ جاری ، ڈیزل کے داموں میں 25 پیسے کا اضافہ
نئی دہلی: ہندوستان کے عوام پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی مار لگاتار جاری ہے۔ اتوار کو گھریلو مارکیٹ میں ڈیزل کی قیمتوں میں ایک دن بعد 25 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا جبکہ پٹرول کی قیمتیں 21 ویں دن بھی مستحکم رہیں۔ اس اضافے کے بعد دارالحکومت دہلی میں ڈیزل 89.07 روپے فی لیٹر ہوگیا ہے۔ ڈیزل کی قیمت میں جمعہ کے روز 20 پیسے فی لیٹر اضافہ ہوا تھا۔گزشتہ پانچ ستمبر کو پٹرول کی قیمتوں میں 15 پیسے فی لیٹر کی کمی کی گئی تھی ۔ دہلی میں آج انڈین آئل کے پمپ پر پٹرول 101.19 روپے فی لیٹر پر مستحکم رہا جبکہ ڈیزل بڑھ کر 89.07 روپے فی لیٹر ہو گیا ۔ آئل مارکیٹنگ کمپنی انڈین آئل کارپوریشن کے مطابق دہلی میں پٹرول 101.19 روپے فی لیٹر اور ڈیزل 89.07 روپے فی لیٹر رہا۔
امریکی تیل کے ذخائر تین سال کی کم ترین سطح پر آ نے اور قدرتی گیس کی پیداوارمیں کمی کی وجہ سے پچھلے ہفتے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تیزی رہی۔ اس کے بعد ہفتے کے آخر میں برینٹ کروڈ 78.099 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا ۔ امریکی کروڈ بڑھ کر 73.98 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔
فی الحال بین الاقوامی بازار میں خام تیل کے داموں میں اضافہ ہو رہا ہے تاہم حکومت نے پٹرول اور ڈیزل پر جو ایکسائز ڈیوٹی عائد کی ہے اس میں کوئی کمی نہیں کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ جب خام تیل کی قیمتوں میں کمی واقع ہوتی ہے تب بھی گھریلوں بازار میں تیل کی قیمتوں میں کوئی خاص کمی نہیں کی جاتی۔ وہیں، عوام کی طرف سے لگاتار پٹرولیم مصنوعات کو جی ایس ٹی کے دائرے میں لانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، حکومت اس پر بھی کوئی توجہ نہیں دے رہی۔
شہر ----- پٹرول ----- ڈیزل
دہلی ----- 101.19 ----- 89.07
ممبئی ----- 107.26 ----- 96.68
چنئی ----- 98.96 ----- 93.69
کولکاتا ----- 101.62 ----- 92.17





شالینی ، دلہن جو بے گھر سینٹر میں رہتی ہے ، دونوں فریقوں کی جانب سے شادی پر رضامندی کے بعد محبت کرنے والوں نے سات پھیرے لینے کا فیصلہ کیا اور دونوں شادی کے بندھن میں بندھ گئے۔ معلومات کے مطابق میرج کے بے گھر سینڑمیں رہنے والی 66 سالہ دلہن شالینی کے شوہر اور بچے کی بے وقت موت کے بعد وہ اپنی زندگی بے گھر سینٹر میں تنہا گزار رہی تھی۔
دریں اثنا 79 سالہ ریٹائرڈ ٹیچر دادا صاحب سالونکھے کی اہلیہ کا بھی انتقال ہوچکا ہے۔ دادا صاحب سالونکھے کے بچوں کی شادی کے بعد وہ اپنی اپنی دنیا میں مست ہیں۔ جس کے بعد دادا صاحب سالونکھے کی زندگی تنہا گزر رہی تھی۔ تاہم بچوں نے اپنے والد کی دوسری شادی کے لئے رضامندی دے دی تھی۔ بزرگ دلہن اور دلہن شالینی پاشن ، اور دلہا داس صاحب سالونکھے کی شادی سے پہلے مشورہ کیا گیا، جو آستھا بے گھر سینٹرمیں رہتے ہیں۔
ایک دوسرے کو سمجھا اور ایک روشن مستقبل کے سفر کو گزارنے کا فیصلہ کیا۔ تمام قانونی کارروائیوں کو مکمل کرنے کے بعد سماجی اصلاح پسندوں ساوتری بائی اور مہاتما پھولے کی تصاویر کو پھول پیش کئے اور پرانی روایت کو بر قرار رکھتے ہوئے شادی کی.شادی کے دوران مدعو مہمان اور پورے گاؤں نے دلہا اور دلہن کو خوشگوار ازدواجی زندگی کے لئے دعائیں دیں۔