Powered By Blogger

ہفتہ, اکتوبر 09, 2021

بریکنگ نیوزاسکول شروع ہونے کے بعد طالب علم کورونا پازیٹیو۔تین ہفتوں کیلئے اسکول بند

پربھنی:9. اکتوبر(اردو دنیا نیوز۷۲) کورونا کے کم معالات کی وجہ سے ا سکول شروع کیے گئے ہیں۔ مندر اور مساجد بھی شروع ہو چکے ہیں۔ دیوالی کے بعد کالج شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ تاہم احتیاط کی اپیل کی گئی ہے کیونکہ کورونا کا خطرہ دوبارہ بڑھ رہا ہے۔ دریں اثنا ، اسکول شروع ہونے کے چند دن بعد ایک طالب علم کورونا پازیٹیو پایا گیا ہے اس وجہ سے اسکول تین ہفتوں کے لیے بند کردیا گیا۔

پربھنی ضلع میں ایک اسکول کورونا کے بڑھتے ہوئے پھیلاؤ کی وجہ سے تین ہفتوں کے لیے بند ہے۔ پورنا تعلقہ کے گور گاؤں کے ایک اسکول کے 69 طلباء اور اساتذہ کا کورونا ٹیسٹ کیاگی۔ جس میں آٹھویں کاایک طالب علم کورونا مثبت پایا گیا۔ جس کے محکمہ تعلیمات نے اس اسکول کو تین ہفتوں کیلئے بند کردیا ہے۔

مٹی سے بننے والے شہر کے لیے 18 کروڑ اینٹوں کی تیاری

سعودی عرب میں الدرعیہ کمپنی فار ڈیولپمنٹ کے سربراہ جوناتھن ٹیمز نے انکشاف کیا ہے کہ دارالحکومت ریاض کے شمال میں ایک فیکٹری تعمیر کی جائے گی جہاں کچی مٹی کے گارے کی 18 کروڑ اینٹیں تیار کی جائیں گی۔

یہ اینٹیں الدرعیہ میں مٹی سے بننے والے دنیا کے سب سے بڑے شہر کی تعمیر کرنے میں استعمال ہوں گی۔ٹیمز نے بتایا کہ ’الدرعیہ گیٹ وے‘ کی تعمیر کا کام جاری ہے جو ہاتھوں سے تیار کردہ مٹی کی اینٹوں سے بنایا جا رہا ہے۔

یہ ویسے ہی بنایا جا رہا ہے جیسے کہ مملکت میں 300 برس قبل بنایا گیا تھا۔ یہ گیٹ وے دنیا میں مٹی کے سب سے بڑے شہر کا مرکزی دروازہ ہو گا۔

العربیہ نیوز چینل کے مطابق ٹیمز نے مزید بتایا کہ الدرعیہ میں کُل 38 ہوٹلز ہوں گے جن میں سے 25 ہوٹلز گیٹ وے کے منصوبے میں شامل ہیں۔ان کی تعمیر کا کام 2024 تک مکمل ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ الدرعیہ میں 6 مرکزی عجائب گھر بھی ہوں گے۔

گیٹ وے کے منصوبے میں ’الدرعیہ اسکوائر‘ پر ریٹیل کاروبار کے لیے ایک مرکزی منصوبہ، ایجوکیشن اکیڈمی، کنگ سلمان یونیورسٹی اور دیگر منصوبے اور ملحقہ تنصیبات بھی کی جائیں گی۔


بریکنگ نیوزجمعہ کی نماز کے دوران ہنگامہ کی کوشش، ہندو تنظیم نے کی ’آرتی‘

ہریانہ کے گروگرام واقع سیکٹر-47 میں انتظامیہ کے ذریعہ طے کردہ عوامی مقام پر آج جب جمعہ کی نماز ادا کی جا رہی تھی، تو کچھ شرپسند عناصر نے ہنگامہ کرنے کی کوشش کی۔ جمعہ کی نماز کے وقت ہندو تنظیم کے لوگ کچھ مقامی باشندوں کو لے کر وہاں پہنچ گئے اور نماز کی مخالفت کرنے لگے۔ ان میں خواتین کی بھی کافی تعداد تھی۔ ہندو تنظیم کے کارکنان اور کچھ دیگر مقامی لوگوں نے نماز کے دوران نعرہ بازی کی۔ اس دوران انھوں نے ’آرتی‘ کا عمل بھی انجام دیا۔ حالانکہ کثیر تعداد میں پولیس کی تعیناتی کے سبب جائے واقعہ پر بغیر کسی رخنہ کے جمعہ کی نماز ادا کی گئی۔

 

بتایا جاتا ہے کہ آج دن میں تقریباً 12.30 بجے ایک ہندو تنظیم کے کچھ اراکین سیکٹر-47 کے کچھ باشندوں کو لے کر انتظایہ کے ذریعہ طے اجتماعی نماز کی جگہ پر پہنچ گئے۔ آس پاس کے علاقوں سے تقریباً 60-50 لوگوں کا ایک گروپ اور ایک ہندو تنظیم کے رکن نماز کے وقت ’سیکورٹی‘ اور ٹریفک سے متعلق فکر کا حوالہ دیتے ہوئے کھلی جگہ میں نماز ادا کرنے کی مخالفت کر رہے تھے۔

 

ایک بڑھئی کی دکان پر کام کرنے والے محمد طاہر نے بتایا کہ وہ دو سال سے زیادہ مدت سے وہاں نماز ادا کرنے جا رہے تھے، لیکن گزشتہ دو تین ہفتوں کے دوران ہی نماز کو لے کر اعتراضات شروع ہوئے۔ طاہر کا کہنا ہے کہ ’’صرف گزشتہ دو تین ہفتوں سے کچھ لوگ یہاں آتے ہیں اور نماز میں رخنہ ڈالتے ہیں اور ہمیں علاقہ خالی کرنے کے لیے کہتے ہیں۔ ہم سبھی ماسک پہن رہے ہیں، کووڈ-19 پروٹوکول پر عمل کر رہے ہیں اور امن کے ساتھ نماز پڑھ رہے ہیں۔‘‘

سیکٹر-47 کے ایک باشندہ نے کہا کہ ’’یہ زمین ریاستی حکومت کے کنٹرول میں آتی ہے۔ یہاں کے باشندے کے طور پر ہم سڑکوں پر اپنے اعتقاد پر عمل کرنے والے اور ٹریفک نظام کو رخنہ انداز کرنے پر اعتراض ظاہر کرتے ہیں۔ یہ سبھی باشندوں کے لیے ایک سیکورٹی خطرہ ہے۔‘‘ کچھ باشندوں نے کہا کہ جو لوگ نماز کی مخالفت کے لیے جمع ہوئے تھے، انھوں نے دعویٰ کیا کہ ضلع انتظامیہ کے ذریعہ مئی 2018 میں طے مقام صرف ایک خاص مدت تک کے لیے تھا۔

دوسری طرف ایک سینئر پولیس افسر نے کہا کہ کچھ باشندے نماز میں رخنہ پیدا کرنے کے لیے پہنچے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ یہاں کھلے میں جمعہ کی نماز کی ادائیگی بند ہو۔ ہم نے انھیں مطلع کر دیا کہ یہ جگہ نماز کے لیے مقررہ مقامات کی فہرست میں شامل ہے۔ انھوں نے ساتھ ہی بتایا کہ جس جگہ پر کھلے میں نماز ادا کی گئی، وہاں حالات پرسکون ہیں۔

بریکنگ نیوزمارکس جہاد: کروڑی مل کالج کے پروفیسر راکیش پانڈے کے خلاف این ایس یو آئی کا مظاہرہ

آر ایس ایس نظریہ کے حامی پروفیسر راکیش پانڈے نے گزشتہ دنوں ایک سوشل میڈیا پوسٹ کیا تھا جس میں کیرالہ کے طلبا کے ذریعہ 100 فیصد نمبر حاصل کیے جانے پر اسے ’مارکس جہاد‘ قرار دیا تھا۔ انھوں نے کیرالہ کے طلبا کے دہلی یونیورسٹی میں زیادہ درخواست دینے پر اسے سازش بتایا تھا۔ ان کے اس پوسٹ پر زبردست ہنگامہ شروع ہو گیا ہے۔ این ایس یو آئی نے بھی آج سڑک پر نکل کر پروفیسر راکیش پانڈے کے بیان کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ این ایس یو آئی نے ریاستی صدر کنال سہراوت کی قیادت میں کروڑی مل کالج کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا اور پرنسپل سے مل کر ان کو عرضداشت پیش کی۔ عرضداشت میں جلد از جلد پروفیسر راکیش پانڈے کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

این ایس یو آئی کارکنان نے پروفیسر راکیش پانڈے کے خلاف ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے ان کی تصویر کو نذرِ آتش بھی کیا۔ اس موقع پر این ایس یو آئی کے قومی سکریٹری اور دہلی انچارج نتیش گوڑ، قومی سکریٹری لوکیش چگ، قومی سکریٹری ونود جھاکر وغیرہ بھی موجود تھے۔ این ایس یو آئی ریاستی صدر کنال سہراوت نے اس موقع پر کہا کہ ’’ہم نے آج احتجاجی مظاہرہ کے ذریعہ دہلی یونیورسٹی انتظامیہ کو سخت تنبیہ دی ہے، اور فوراً آر ایس ایس نظریہ کے حامل پروفیسر کو برخاست کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ساتھ ہی مطالبہ کیا ہے کہ پروفیسر راکیش پانڈے اپنے تبصرہ کے لیے پورے ملک سے معافی مانگیں۔‘‘

کنال سہراوت نے کہا کہ دہلی یونیورسٹی میں اس طرح کی گھٹیا ذہنیت کے پروفیسر برداشت نہیں کیے جائیں گے۔ ایسے لوگوں کو فوراً یونیورسٹی سے باہر نکالنا چاہیے اور ان کو واپس آر ایس ایس کی شاکھا میں بھیج دینا چاہیے۔ اس موقع پر نتیش گوڑ نے کہا کہ ’’کیرالہ کے طلبا دن رات محنت کر کے بورڈ امتحان میں 100 فیصد نمبر لاتے ہیں، اس کے باوجود ڈی یو پروفیسر کے ذریعہ اسے سازش قرار دیا جاتا ہے اور ’مارکس جہاد‘ کا نام دیا جاتا ہے تاکہ ایک ریاست کے طلبا کو نشانہ بنایا جائے۔ ایسے پروفیسر کو فوراً برخاست کرنا چاہیے تاکہ آگے کوئی پروفیسر ایسی حرکت نہ کر سکے۔‘‘

ناندیڑ:کورونا کی دونوں ویکسین لینے والوں کو راشن کااناج دینے میں ترجیح دی جائے گی ‏

ناندیڑ:8 اکتوبر۔ (اردو دنیا نیوز۷۲) ریاست میں کورونا کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ،عوامی زندگی کو بحال کرنے کے لیے اسکولوں ، مندروں اور تمام عبادت گاہوں کو شرائط و ضوابط کے تحت کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس کی وجہ سے ہونے والے ہجوم اور مستقبل قریب میں مختلف تہواروں اور تقریبات اور اس کی وجہ سے انفیکشن کے بڑھتے ہوئے خطرے کو مدنظر رکھتے ہوئے ، ضلع کے تمام راشن کارڈ ہولڈر کوکورونا ویکسین کی شرائط و ضوابط نافذ کےے گیے ہیں۔اور ویکسین لگوانے والوں کوترجیح دی جائے گی ۔

اس طرح کی اطلاع ضلع کلکٹرڈاکٹرویپن اٹنکر نے دی ہے ۔انھوں نے بتایا کہ ضلع کی سستے اناج کی راشن دوکانوں پر اب اُن کارڈ ہولڈرس کو ترجیح دی جائے گی جو کورونا کی دو خوراکیں لی ہیں اورجس نے ایک خوراک لی ہے انھیںاسکے بعد اناج دیاجائے گا۔ یہ احکامات ایک سرکلر میں جاری کیے گئے ہیں تاکہ صحت عامہ کو زیادہ ترجیح دے کر ممکنہ خطرے اور کورونا کی تیسری لہر سے بچا جا سکے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ مستحقین کے ساتھ عوام کو بھی ویکسینیشن کے لیے زیادہ سے زیادہ حصہ لینا چاہیے

جمعہ, اکتوبر 08, 2021

لکھیم پور واقعہ: ملزم آشیش مشرا کو پولیس کا دوسرا سمن،کل حاضر ہونے کا موقع

لکھیم پور کھیری:08اکتوبر(یواین آئی) لکھیم پور واقعہ کے نامزد ملزم مملکتی وزیر کے بیٹے آشیش مشر ا کے کرائم برانچ آفس جمعہ کی صبح 10بجے نہ پہنچنے کے بعد لکھیم پور کھیری پولیس نے آشیش کو دوسرا موقع دیا ہے کہ وہ سنیچر کو پولیس کے سامنے حاضر ہوں۔

پولیس نے جمعہ کو ان کی رہائش گاہ پر دوسرا سمن چسپاں کرتے ہوئے سنیچر کو 11بجے کرائم برانچ کی دفتر پہنچنے کا وقت دیا ہے۔مشرا آج کرائم برانچ آفس نہیں پہنچے جس کے بعد پولیس کو دوسری نوٹس جاری کرنی پڑی ہے۔ اس سے قبل جمعہ کو پولیس کرائم برانچ آفس پر 12بجے تک رہی لیکن آشیش نہیں پہنچے جس کے بعد دوسری نوٹس جاری کی گئی ہے۔

وہیں دوسری جانب ایسی بھی خبریں موصول ہوئی ہیں کہ وہ اتراکھنڈ کے راستے نیپال فرار ہوگیا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ گذشتہ رات آشیش کا آخری موبائل لوکیشن اتراکھنڈ کے گوری فانٹا کا ہے۔ جو کہ نیپال سرحد سے کافی قریب ہے۔پولیس سنیچر تک آشیش کے حاضری کا انتظار کرے گی اس کے بعد ان کی طرف سے کوئی جواب نہ ملنے پر انہیں بھگوڑا قرار دے گی۔گذشتہ کل آشیش کے نام سمن جاری کر کے انہیں جمعہ کو صبح دس بجے کرائم برانچ کی آفس پر حاضر ہونے کو کہا گیا تھا۔سمن کو ان کی رہائش گاہ پر بھی چسپاں کیا گیا تھا۔سمن سی آر پی سی کی سیکشن 160 کے تحت جاری کیا گیا تھا۔ایسا گمان تھا کہ آج پوچھ گچھ کے بعد آشیش کو گرفتار کرلیا جائے گا۔

ایک سینئر پولیس افسر کے مطابق پولیس نے اس معاملے میں ابھی تک دو ملزمین لوکش رانا اور آشیش پانڈے کو گرفتار کیا ہے۔ پولیس کے مطابق گرفتار ملزمین آشیش کے قریبی ہیں اور کلیدی ملزم کی گرفتاری کے لئے مزید دبش دی جارہی ہے۔نصف درجن مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جن سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔مملکتی وزیرکے بیٹے آشیش مشرا کے علاوہ دیگر ایک رسوخ والا ملزم انکت داس بھی ہے۔ جس کی فوٹو ایک ویڈیو میں ہے اور جو مبینہ طور سے اس ایس یو وی میں موجود تھا جو تھار جیپ کے پیچھے چل رہی تھی۔انکت سابق بی ایس پی ایم ایل اے اکھیش داس کا بھتیجا ہے ۔

ذرائع کے مطابق انکت مملکتی وزیر اجے مشرا کا کافی قریبی ہے اور اکثر ان کے بیٹے آشیش مشرا کے ساتھ نظر آتا ہے۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ لکھیم پور تشدد کے بعد اترپردیش کا سیاسی پارہ کافی گرم ہوگیا ہے۔کلیدی ملزم جس کا نام ایف آئی آر میں بھی ہے، آشیش مشرا مملکتی وزیراجے مشر ٹینی کا بیٹا ہے۔پولیس نے آشیش مشرا کے خلاف کئی دفعات میں بشمول قتل،مجرمانہ سازش کے مقدمہ درج کیا ہے۔تاہم وہ ابھی تک گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔یوپی میں اپوزیشن مملکتی وزیر اجئے مشرا کی برخواستگی کا مطالبہ کررہا ہے۔وہیں مملکتی وزیر نے بدھ کو وزیر داخلہ امت شاہ سے دہلی میں ملاقات کی۔اجئے مشرا اول دن سے ہی دعوی کررہے ہیں کہ جس کار نے کسانوں کو کچلا ہے اس میں ان کا بیٹا موجود نہیں تھا ہاں وہ اس بات کو قبل کررہے ہیں کہ کار ان کی ہے۔ان کا مزید دعوی ہے کہ پتھرسے حملے کی وجہ سے ڈرائیور نے اپنا کنٹرول کھو دیا جس کے بعد کچھ مظاہرین کار کے نیچے آگئے۔ اس کے بعد ان کے ڈرائیور کا پیٹ پیٹ کر قتل کردیا گیا اور کار میں آگ لگا دی گئی۔

بریکنگ نیوزبارش تھمنے کے بعد درجہ حرارتمیں اضافہ جاری

بریکنگ نیوزبارش تھمنے کے بعد درجہ حرارتمیں اضافہ جاری

کولکاتا ، 08 اکتوبر۔ مغربی بنگال کے دارالحکومت کولکاتا سمیت آس پاس کے علاقوں میں بارش تھم گئی ہے ، اس لیے درجہ حرارتمیں اضافہ جاری ہے۔ اس بارے میں معلومات جمعہ کو علی پور میں واقع محکمہ موسمیات کے علاقائی ہیڈ کوارٹر نے دی ہے۔
بتایا گیا ہے کہ دارالحکومت کولکاتا میں کم سے کم درجہ حرارت 27 ڈگری سیلسیسہے جو کہ معمول سے دو ڈگری زیادہ ہے۔ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 34.1 ڈگری سیلسیس ہے اور یہ بھی معمول سے دو ڈگری زیادہ ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران دارالحکومت کولکاتا میں بارش نہیں ہوئی۔ اس کی وجہ سے ، ماحول میں نمی 97 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ جس کی وجہ سے لوگ شدید گرمی محسوس کر رہے ہیں۔
محکمہ موسمیات نے کہا کہ جمعہ کو بھی کولکاتا سمیت جنوبی بنگال کے وسیع علاقے میں آسمان ابر آلود ہے اور وقفے وقفے سے بارش ہو سکتی ہے۔


اردودنیانیوز۷۲

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا ...