Powered By Blogger

ہفتہ, اکتوبر 09, 2021

انڈیا میں مسلمانوں کے خلاف ’نفرت پر مبنی جرائم‘ کے واقعات: کیا انڈیا میں مسلمان خوف اور بے بسی کے دور سے گزر رہے ہیں؟

شکیل اختر بی بی سی اردو ڈاٹ کام

آج سے ٹھیک ایک ہفتے قبل انڈیا کی ریاست مدھیہ پردیش کے نیمچ ضلع میں ہندوؤں کے ایک ہجوم نے ایک درگاہ کے مجاور اور ایک خاتون سمیت بعض عقیدت مندوں پر رات میں حملہ کر دیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق انھیں رات بھر زد و کوب کیا گیا اور جانے سے پہلے درگاہ کے ایک حصے کو دھماکے سے اڑا دیا۔

اس واقعے سے ڈیڑھ مہینے پہلے اجین ضلع کے سیکلی گاؤں میں کئی نوجوان ہندوؤں نے ایک مسلم کباڑی والے عبدالرشید کو بری طرح پیٹا اور انھیں دھمکی دی کہ یہ ہندوؤں کا گاؤں ہے، وہ یہاں دوبارہ نہ دکھائی دے۔
اس واقعے کے بعد رشید بہت ڈر گئے ہیں اور انھوں نے گاؤں جانا بند کر دیا ہے جس کی وجہ سے ان کا کام کافی متاثر ہوا ہے۔

عبدالرشید نے بی بی سی کو بتایا: ‘میں بیس سال سے یہاں کام کر رہا ہوں۔ ہم سبھی آس پاس کے گاؤں جاتے ہیں۔ آج تک کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی نے روکا ہو۔ مجھے کئی نوجوانوں نے مارا۔ میرا سامان پھینک دیا۔ مجھ سے جے شری رام کا نعرہ لگوایا اور کہا کہ میں دوبارہ یہاں نہ آؤں۔’

اجین ضلع کے ایک بااثر شخص نے بی بی سی کو اپنی شناخت نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس علاقے میں مسلم کباڑیوں پر حملے کافی عرصے سے ہو رہے ہیں لیکن ان کے بارے میں کوئی جانتا نہیں تھا۔

‘عبدالرشید پر حملے کی ویڈیو خود حملہ آوروں نے بنا کر سوشل میڈیا پر پوسٹ کر دی تھی جو وائرل ہو گئی جس سے اس واقعہ کا پتا چلا اور رپورٹ درج کرائی گئی۔ یہاں اب لوگوں کی سوچ بدل رہی ہے۔ پہلے ایسا نہیں تھا۔‘

اس کے علاوہ چھ روز قبل بنگلور میں انجینئرنگ کے ایک مسلمان طالبعلم کے جسم کے ٹکڑے کر کے ریلوے ٹریک پر پھینک دیا گیا تھا۔ اس مسلمام طالبعلم کے ایک ہندو لڑکی سے مبینہ روابط تھے۔

ایک مقامی سخت گیر ہندو تنظیم نے دونوں کے درمیان رشتے ختم کرنے کا ایک باقاعدہ معاہدہ کروایا۔ اس کے باوجود لڑکے کو قتل کر دیا گیا۔ اس واقعے میں ہندو تنظیم کے کئی ارکان کو گرفتار کیا گیا ہے۔

ان تین واقعات کے علاوہ حالیہ دنوں میں مدھیہ پردیش، اتر پردیش، اترا کھنڈ، ہری انھ، کرناٹک اور کئی دیگر ریاستوں میں چھوٹے چھوٹے مسلم کاروباری افراد پر اس طرح کے مذہبی نفرت پر مبنی حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔

بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ اب کئی مسلمان موجودہ ماحول میں نہ صرف غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں بلکہ ملک کا جمہوری نظام بھی رفتہ سخت گیر ہندو سوچ کے زیر اثر آتا جا رہا ہے۔

اس طرح کے نفرت انگیز تشدد کے واقعات کا سلسلہ 2017 میں راجستھان کے الور ضلع کی شاہراہ پر دن دہاڑے ایک مسلمان شخص کے قتل سے شروع ہوا تھا جنھیں گائے کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی ہندوؤں کی ایک تنظیم کے ارکان نے سڑک پر مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

پہلو خان ہری انھ کے نواحی علاقے کے ڈیری فارمر تھے اور واقعے والے روز وہ وہاں کی ایک منڈی سے گائے خرید کر لا رہے تھے۔

پہلو خان کے قتل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ایک مقامی صحافی محمد زبیر خان نے بی بی سی کو بتایا: ‘پہلو خان کے واقعے سے یہاں کے لوگوں کے ذہن میں ایک خوف بیٹھ گیا ہے۔

’ہم الور سے آ رہے ہوں، ریواڑی سے آرہے ہوں، پلول سے آ رہے ہوں، گڑگاؤں یا فریدآباد سے آ رہے ہوں، بس ڈر یہ ہوتا ہے کہ کہیں کوئی پہلو خان جیسا واقعہ نہ پیش آ جائے۔ یہاں زندگی بہت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔’معروف تجزیہ کار عارفہ خانم کہتی ہیں ‘چند حملے منظم طریقے سے منصوبہ بندی کے تحت اور چند انفرادی طور پر، دونوں شکلوں میں ہو رہے ہیں۔ مسلمانوں کے خلاف نفرت کی ایک مہم چل رہی ہے۔ پڑوسی کو پڑوسی کے خلاف کھڑا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ کوشش ہو رہی ہے کہ ملک کا ڈی این اے تبدیل کر دیا جائے۔’

گذشتہ مہینے انتہائی دائیں بازو کی ہندو جماعت آر ایس ایس کی ایک اہم میٹنگ میں یہ اہم موضوع تھا کا اتراکھنڈ میں مسلمانوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

جب عارفہ سے یہ سوال کیا گیا کہ حالیہ دنوں میں ایسے واقعات نظر آئے ہیں کہ سوشل میڈیا پر لوگوں کو ‘بیدار’ کیا جا رہا ہے کہ سبزی فروشوں میں ایک بڑی تعداد مسلمانوں کی ہے اور کیا یہ چھوٹے چھوٹے مسلمانوں کی معیشت کو نقصان پہنچانے کی کوئی کوشش ہے؟

اس بارے میں عارفہ کہتی ہیں ‘مسلمان پہلے ہی غربت اور اقلیت ہونے کے سبب معاشرے کے حاشیے پر ہیں۔ اب انھیں اقتصادی طور پر مزید الگ تھلگ کرنے کی کو شش کی جا رہی ہے۔’

‘موجودہ ماحول میں انڈیا کے مسلمانوں کی اکثریت غیر محفوظ محسوس کر رہی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ اکثریتی برادری کا ایک طبقہ مذہبی انتہا پسندی کی طرف مائل ہے۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ کتنا بڑا طبقہ مذہبی طور پر سخت گیر ہوا ہے لیکن اکثریتی برادری کے رویے میں شدت پسندی کسی بھی ملک میں بہت خطرناک ہوتی ہے۔’تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان واقعات کا مقصد مسلمانوں میں خوف پیدا کرنا ہے اور اس کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ حملہ آوروں کو یقین ہوتا ہے کہ حکومت ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرے گی، جبکہ کئی ایسے واقعات ہیں جہاں حملے کا شکار ہونے والے کے خلاف ہی قانونی کارروائی کی جاتی ہے۔

معروف مبصر رجنی بخشی اخبار انڈین ایکپریس میں شائع اپنے ایک مضمون میں لکھتی ہیں: ‘مسلمانوں کے خلاف اس قسم کے تشدد کو ہندوؤں کے لیے انصاف کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ یہ تاثر عام ہے کہ مسلمانوں کے خلاف تشدد کے معاملے میں انتظامیہ اپنی آنکھیں بند رکھے گی۔’

ان واقعات نے مسلمانوں میں عدم تحفظ کے احساس کو بڑھا دیا ہے۔ دلی کی ایک طالبہ فرحین سیفی کہتی ہیں: ‘جب ہم ان واقعات کو سوشل میڈیا پر دیکھتے ہیں تو دل میں ایک ڈر پیدا ہو جاتا ہے کہ کہیں ایسا ہمارے ساتھ نہ ہو جائے۔’

جھارکھنڈ سے تعلق رکھنے والے ایک طالب علم احمد انصاری کا خیال ہے کہ ‘اس طرح کے عوامی تشدد کے واقعات کے خلاف سخت قوانین بنانے کی ضرورت ہے تاکہ عوام ان سے محفوظ رہ سکیں۔’

دوسری جانب، اتر پردیش سے تعلق رکھنے والی ایک طالبہ نرگس خاتون کو بگڑتی ہوئی صورتحال پر تشویش ضرور ہے لیکن وہ کہتی ہیں انھیں ابھی تک ایسے کسی ناگوار تجربے سے گزرنا نہیں پڑا۔

‘مجھے سفر کر کے آنا ہوتا ہے۔ میں حجاب کا استعمال کرتی ہوں لیکن ابھی تک مجھے کوئی برا تجربہ نہیں ہوا ہے اور نہ ہی کسی تفریق کا سامنا ہوا ہے۔ مجھے لگتا ہے ابھی بھی لوگوں کے دلوں میں مسلمانوں کی عزت ہے۔’

لیکن دلی کی سماجی کارکن ایمن رضوی کے تجربات مختلف ہیں۔ وہ عبایہ پہنتی ہیں اور حجاب بھی کرتی ہیں۔

‘جب یہ لوگ کوئی داڑھی والا کوئی ٹوپی والا، کوئی برقعے والی لڑکی دیکھتے ہیں تو یہ ہمارے مذہب پر طعنے کستے ہیں۔ ہمیں کٹھ ملا تو کبھی ملا کہہ کر بلاتے ہیں۔ مجھے تو ٹنٹ ہاؤس والی کہا جاتا ہے کیونکہ میں اسی طرح عبایہ اور حجاب میں رہتی ہوں۔‘

ان واقعات پر حکومتی رد عمل کیا ہے؟

حکومت نے اس طرح کے واقعات پر کئی بار تشویش کا اظہار کیا ہے لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت نے ان واقعات کی روک تھام کے لیے کوئی موثر قدم نہیں اٹھایا جس کے سبب سخت گیر عناصر کی حوصلہ افزائی ہو رہی ہے۔

البتہ مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور مختار عباس نقوی کہتے ہیں کہ اس طرح کے واقعات حکومت کے لیے تکلیف اور تشویس کا باعث ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ‘ایسے واقعات انسانیت کو شرمسار کرتے ہیں لیکن ان واقعات کو مذہبی رنگ دینے کی کوشش کی جاتی وہ کم خطرناک نہیں ہے۔ ان واقعات کو مذہبی رنگ دینا نہ تو سماج کے مفاد میں ہے اور نہ ہی مسلمانوں کے مفاد میں ہے۔ انتخابات کے آتے ہی ووٹ کی سیاست کرنے والے باہر آ جاتے ہیں اور اسی طرح کا بھرم پیدا کرتے ہیں۔ مسلمان برادری 75 سالوں میں ووٹ کے سوداگروں کے دیے ہوئے 75 زخموں سے گھائل ہے لیکن اب ان کے حربوں کو سمجھ چکی ہے اور وہ ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔’

عباس نقوی کا مزید کہنا ہے کہ ان پرتشدد واقعات کا شکار صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ دوسرے لوگ بھی ہو ہیں۔

‘لنچنگ کو اگر صحیح معنوں میں دیکھنا ہے تو ہمارے پڑوس میں دیکھ لیجیے۔ وہاں پر خواتین کے ساتھ کیا برتاؤ کیا جا رہا ہے، کیا بے حرمتی ان کی کی جا رہی ہے۔ ہندوستان آئین سے چلتا ہے، لیکن جو ممالک شریعت سے چل رہے آپ جا کر دیکھ لیجیے وہاں کی حالت۔’

آنے والے کچھ عرصے میں انڈیا کی کئی اہم ریاستوں میں انتخابات ہونے والے ہیں۔ مبصرین کا خیال ہے کہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات میں مزید اضافہ ہو گا۔

تجزیہ کار عارفہ خانم کہتی ہیں کہ ’ملک کے لیے جمہوری نظام برسوں کی آزادی کی جدوجہد کے بعد حاصل کیا گیا تھا۔ اب ہم اس پوری عمارت کی اینٹ اینٹ کو بکھرتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔ ریزہ، ریزہ ہوتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔ اسے صرف انتخابی طریقے سے اور جمہوری اداروں کو ٹوٹنے سے بچا کر روکا جا سکتا ہے۔’

بریکنگ نیوزمہاراشٹر : لکھنو سے ممبئی جارہی ٹرین میں لڑکی کی اجتماعی آبروریزی ، 4 ملزم گرفتار

بریکنگ نیوزمہاراشٹر : لکھنو سے ممبئی جارہی ٹرین میں لڑکی کی اجتماعی آبروریزی ، 4 ملزم گرفتار

ممبئی، 09 اکتوبر- ممبئی میں چلتی ٹرین میں لڑکی کے ساتھ مبینہ طور پر اجتماعی آبروریزی کا افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے۔ متاثرہ خاتون لکھنو سے ممبئی جانے والی پشپک ایکسپریس ٹرین میں سوار تھی۔ اس معاملے میں اب تک چار ملزمین کو گرفتارکیا گیا ہے۔ باقی کی تلاش جاری ہے۔ ٹرین میں پہلے خاتون کا سامان لوٹنے کی کوشش کی گئی۔ اس کے بعد خاتون کے ساتھ اجتماعی آبروریزی کی گئی۔ اگت پوری اسٹیشن سے تقریباً 8 لوگ ایک سلیپر کوچ میں سوار ہوئے۔ ان سب نے سب سے پہلے 15 سے 20 مسافروں سے لوٹ پاٹ کی۔ اس کے بعد ٹرین میں سفر کر رہی ایک 20 سال کی لڑکی کے ساتھ اجتماعی آبروریزی کی۔ممبئی جی آر پی کے مطابق، کلیان ریلوے پولیس اسٹیشن پر اس سانحہ پر معاملہ درج کیا گیا ہے۔ ریلوے پولیس نے بتایا کہ ملزم لکھنو - ممبئی پشپک ایکسپریس میں اگت پوری سے سلیپر کے کوچ نمبر ڈی-2 میں سوار ہوئے تھے۔ ریلوے پولیس نے اس معاملے میں آئی پی سی کی 395, 397, 376(ڈی ), 354, 354(بی) کے تحت اور انڈین ریلوے ایکٹ 37 اور 153 کے تحت معاملہ درج کیا ہے۔پورے ملک میں آبروریزی کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ دو دن پہلے تلنگانہ کے نظام آباد ضلع میں 30 سال کے ایک شخص کو اپنی دو بچیوں سے مبینہ طور پر آبروریزی کرنے کے معاملے میں گرفتار کیا گیا۔ پولیس کے ایک سینئر پولیس افسر نے درج معاملے کی بنیاد پر بتایا کہ ملزم دو اکتوبر کو گھر کے باہر کھیل رہیں 8 اور 10 سال کی ان لڑکیوں کو چاکلیٹ دلانے کی لالچ دے کر اپنے گھر لے گیا، جہاں اس نے یہ یہ گھناونا کام کیا۔ انہوں نے کہا کہ لڑکیوں نے اپنے گھر والوں کو حادثہ کی جانکاری دی، جس کے بعد انہوں نے شکایت درج کرائی۔ بچوں کے جنسی جرائم تحفظ ایکٹ اور آئی پی سی کے متعلقہ سیکشن کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے اور ملزم کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔


امارت شریعہ کی تمام تیاریاں مکمل ، 8 ویں امیر کا آج پٹنہ میں ہوگا انتخاب

امارت شریعہ کی تمام تیاریاں مکمل ، 8 ویں امیر کا آج پٹنہ میں ہوگا انتخابامارت شریعہ کے 8 ویں امیر شریعت سے متعلق آج پٹنہ میں انتخاب ہوگا۔ امارت شریعہ کے تینوں امیدوار پروگرام میں موجود ہیں۔ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی، مولانا انیس الرحمن قاسمی، مولانا احمد فیصل رحمانی موجود ہیں۔ اگر کسی ایک امیدوار پر اتفاق رائے نہیں بن سکا تو پھر ووٹنگ کی حکمت عملی اپنائی جائے گی۔ مولانا محمد ولی رحمانی کے انتقال کی وجہ سے یہ عہدہ خالی ہے۔ اس تقریب میں میڈیا کو اندر جانے کی اجازت نہیں ہے۔

لکھیم پور کیس : اجے مشرا کے بیٹے آشیش کی خود سپردگی

لکھیم پور کیس : اجے مشرا کے بیٹے آشیش کی خود سپردگی

 اجے مشرا کے بیٹے آشیش کی خود سپردگی
اجے مشرا کے بیٹے آشیش کی خود سپردگی

 

لکھیم پور: لکھیم پور تشدد کے مرکزی ملزم اور مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ اجے مشرا کے بیٹے آشیش آج کرائم برانچ کے سامنے پیش ۔ وہ 11 بجے کے مقررہ وقت سے تقریبا 20 منٹ پہلے پہنچ گئے تھے۔اس کو کرائم برانچ کے پچھلے دروازے سے اندر لے جایا گیا۔ پولیس والے اسے میڈیا سے بچاتے ہوئے دفتر لے گئے۔ اب اس سے پوچھ گچھ کا عمل شروع ہو گیا ہے۔ ڈی آئی جی ، ایس پی وجے کمار دھول خود موقع پر موجود ہیں۔

لکھیم پور پولیس نے آشیش کو ہفتے کے روز یعنی آج 11 بجے دوبارہ وزیر کے گھر پر نوٹس چسپاں کرکے طلب کیا تھا۔ اس سے قبل پولیس نے جمعرات کو ایک نوٹس لگا کر جمعہ کو رات 10 بجے پیش ہونے کا کہا تھا ، لیکن آشیش نہیں پہنچا۔ بعد میں ، آشیش نے ایک خط لکھا تھا کہ وہ بیمار تھا ، اس لیے وہ 9 اکتوبر کو پولیس کے سامنے پیش ہوگا۔

 آشیش سے پوچھ گچھ کے لیے تقریبا 40 سوالات کی ایک طویل فہرست تیار کی گئی ہے۔ اس سے پوچھا جائے گا کہ تشدد کے وقت وہ کہاں تھا؟

 لکھیم پور میں پولیس لائن کے سامنے بہت بڑا ہجوم ہے۔ آشیش کے قانونی مشیر اودھیش کمار نے کہا تھا کہ ہم نوٹس کا احترام کریں گے اور تحقیقات میں تعاون کریں گے۔وزیر اجے مشرا لکھیم پور میں اپنے دفتر میں ہیں۔ دفتر میں بہت ہلچل ہے۔


بریکنگ نیوزبہاراسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ ، پٹنہ اعلان براۓ

بریکنگ نیوزبہاراسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ ، پٹنہ اعلان براۓبہاراسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ ، پٹنہ اعلان براۓ امتحان فارم سال ۔2022 تمام ماحقہ مدارس کے پرنسپل رصدر مدرس مطلبا و طالبات اور گارجین حضرات کو اطلاع دی جاتی ہے کہ در جہ فوقانیہ اور مولوی امتحانات کا امتحان فارم مورخہ 09 اکتوبر 2021 سے 31 اکتوبر 2021 تک آن لائن بھرا جاۓ گا۔فوقانی امتحان فارم بھر نے کیلئے 750 روپے بطور امتحان فیں فی امیدوار اور درجہ مولوی کا امتحان فارم بھر نے کیلئے 850 روپے فی امید وار آن لائن ہی ادا کئے جائیں گے ۔ تمام امیدوار لازمی طور پر اس مدت میں اپنا امتحان فارم بھر لیں تا کہ سال ۔ 2022 میں منعقد ہونے والے امتحانات میں شامل ہوسکیں ۔ بحکم چینرمین اگر آن لائن درخواست دینے میں کسی طرح کی کوئی پریشانی ہوتو ( محمد سعید انصاری ) لی ۔ای۔ایس درج ذیل نمبرات پر رابطہ قائم کر میں : ۔ , 9801234812 8581832260 ۔ سکریٹری بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ ، پٹنہ

اکتوبر میں اب تک پٹرول 2.20 روپے اور ڈیزل 2.60 روپے ہوا مہنگا

اکتوبر میں اب تک پٹرول 2.20 روپے اور ڈیزل 2.60 روپے ہوا مہنگا

نئی دہلی،بین الاقوامی بازار میں خام تیل میں کل رہی تیزی کے درمیان ہفتہ کے روز مسلسل پانچویں دن گھریلو سطح پر پٹرول 30 پیسے فی لیٹر اور ڈیزل 35 پیسے فی لیٹر مہنگا ہوگیا۔ اس اضافے کے بعد دہلی میں پٹرول بھی 103.84 روپے فی لیٹر اور ڈیزل 92.47 روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا۔ ممبئی میں پٹرول کے دام 109.83 روپے اور ڈیزل 100.29 روپے فی لیٹر ہوگئے ہیں۔ مسلسل پانچ دن کے اضافے کے بعد ، اس ہفتے کے پہلے دن پیر کو ان دونوں کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی تھی، لیکن منگل سے ان دونوں کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ دارالحکومت دہلی میں ان کی قیمتیں اب تک کی ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہیں۔ اس اضافے کے بعد دارالحکومت دہلی میں پٹرول 103.84 روپے فی لیٹر اور ڈیزل 92.47 روپے فی لیٹر کی تاریخی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ پچھلے نو دنوں میں پٹرول 2.65 روپے مہنگا ہو چکا ہے۔ ڈیزل کے دام بھی 14 دنوں میں 3.85 روپے فی لیٹربڑھ گئے ہیں۔ اس ماہ اب تک پٹرول 2.20 روپے اور ڈیزل 2.60 روپے مہنگا ہوچکا ہے۔ اوپیک ممالک کی میٹنگ میں تیل کی پیداوار میں چار لاکھ بیرل یومیہ اضافے کا فیصلہ کیا گیا تھا جبکہ کورونا کے بعد عالمی سطح پر اس کی مانگ میں زبردست اضافہ ہو رہا ہے۔ اس فیصلے کے بعد سے بین الاقوامی بازار میں خام تیل میں زبردست اضافہ ہوا ہے اور یہ سات سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ خام تیل میں اضافے کے بعد ، امریکہ نے اپنے اسٹریٹجک ذخائر استعمال کرنے کی بات کی۔ اس کے ساتھ ، اس نے خام تیل کی برآمد روکنے کا بھی اشارہ کیا ، جس کی وجہ سے خام تیل کے دام میں پھر سےتیزی آنے لگی ہے۔کل کاروبار بند ہونے پر برینٹ کروڈ 0.44 ڈالر فی بیرل بڑھ کر 82.39 ڈالر فی بیرل اور امریکی خام تیل 1.05 ڈالر اضافے کے ساتھ 79.35 ڈالر فی بیرل رہا۔


آصف بھوکے لوگوں کے ہیں مسیحا

آصف بھوکے لوگوں کے ہیں مسیحا

آصف بھوکے لوگوں کے ہیں مسیحا
آصف بھوکے لوگوں کے ہیں مسیحا

  •  
  •   

 

محمد اکرم، حیدرآباد

دنیا کا بہترین کام کسی بھوکے انسان کو کھانا کھلانا ہے اور اس کی بھوک مٹانا ہے۔ تمام مذاہب نے اپنے پیروکاروں کو یہی سکھایا ہے، تاہم ہندوستان میں بہت سے لوگوں کو کھانا نہیں مل پاتا اور وہ بھوک سے مر جاتے ہیں۔

گذشتہ سال اکتوبر 2020 کے تیسرے ہفتے میں جاری ہونے والی گلوبل ہنگر انڈیکس رپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق ہندوستان میں 190 ملین افراد روزانہ بھوکے سوتے ہیں، جو کہ انتہائی تشویشناک ہے۔

حیدرآباد کے ایک سماجی کارکن آصف گذشتہ  پانچ سالوں سے  سینکڑوں لوگوں کی بھوک مٹانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ جب آصف نے دنیا میں شعور کی آنکھ  کھولی تو ملک کے کئی حصوں میں بھوک کی اذیت دیکھی۔ اسی وقت سے انہوں نے بھوکے افراد کو کھانا کھلانے کا فیصلہ کیا۔

فی الوقت آصف کی ٹیم میں سو سے زائد نوجوان ہیں جو ہمیشہ خدمت کے جذبے کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ حتی کہ کورونا وائرس کی وبا کے دور میں  ریاستی حکومت کے کچھ افسران نے ان سے کھانا لے کرلوگوں میں تقسیم کیا تھا۔ 

خیال رہے کہ وہ یہ کام کسی ایوارڈ یا شہرت کی لالچ میں نہیں بلکہ انسانیت کے خدمت کے لیے کرتے ہیں۔

ریاست تلنگانہ کے دارالحکومت حیدرآباد کے علاقے ٹولی چوکی کا رہائشی محمد آصف حسین روزانہ دو بجے سے تین بجے کے درمیان اپنے گھر کے قریب بے سہارا لوگوں کو مفت کھانا فراہم کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ یومیہ مزدوری کرنے والوں کو بھی مفت میں کھانا کھلاتےہیں۔

awaz

انہوں نے اپنے گھر کے باہر ایک بورڈ لگا رکھا ہے، جس پر لکھا ہے کہ آپ سے درخواست کی جاتی ہے کہ سال کے بارہ مہینے یعنی روزانہ ہمارے ساتھ دوپہر کا کھانا کھائیں۔

وہیں انہوں نے بورڈ میں یہ بھی لکھ رکھا ہے کہ  یہاں کسی بھی قسم کا کوئی عطیہ قبول نہیں کیا جاتا ہے۔

 محمد آصف حسین نے آواز دی وائس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم یہ کام برسوں سے کر رہے ہیں ، ہم نے دس سال قبل مرحوم والد اور بیٹی کی یاد میں سکینہ فاؤنڈیشن شروع کیا تھا۔ شروع میں ہم نے صرف سو افراد کے لیے کھانا تیار کیا۔ تاہم اب ہم  روزانہ ہزاروں لوگوں کے لیے کھانا تیار کرتے ہیں اور اسے کئی علاقوں میں تقسیم کرتے ہیں۔

خیال رہے کہ آصف کے یہاں کسی کی کوئی قید نہیں ہے، یہاں تمام مذاہب کے افراد کھانا کھانے کے  لیےآتے ہیں اور انہیں دعائیں دے کر جاتے ہیں۔ 

آصف نے بتایا کہ لوگوں میں کھانا کھلانے کا یہ کام نہ صرف حیدرآباد بلکہ تلنگانہ کے کئی اضلاع میں بھی جاری ہےاور آئندہ بھی انشا اللہ جاری رہے گا۔

وہ مزید بتاتے ہیں کہ میں نے ملک کے کئی شہروں میں کام کیا ہے،  جہاں میں نے لوگوں کے درد اور تکلیف کو قریب سے محسوس کیا ہے، لوگوں کو بھوک کی وجہ سے تکلیف میں دیکھا ہے۔

اس کے بعد ان میں انسانیت کا جذبہ بیدار ہوا اور انہوں نے لوگوں کو مفت کھانا فراہم کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ وہ اس سلسلے میں کسی سے کوئی مالی مدد نہیں لیتے ہیں بلکہ اپنے ذاتی خرچ سے یہ سب کام کر رہے ہیں۔

آصف نے کہا کہ لاک ڈاؤن میں انہوں نے تقریباً نو لاکھ لوگوں کو کھانا کھلایا ہے ، لوگوں کو آکسیجن بھی فراہم کی گئی ہے ، سرکاری محکموں کے افسران نے بھی ان سے کھانا لیےاور لوگوں میں تقسیم کرائے۔

آصف کو ان کی سماجی خدمت کے لیے حکومت کی جانب سے متعدد دفعہ ایوارڈ دینے کی بھی کوشش کی گئی مگر انہوں نے اس کو لینے سے انکار کردیا۔

وہ کہتے ہیں کہ میں اپنے آپ کوکسی ایوارڈ کا مستحق نہیں سمجھتا ، یہ میرا ملک ہے اور اس کی خدمت کرنا ہے یہ ہماری ذمہ داری ہے۔

awaz

ان کے ساتھ بہت سے دیگر نوجوان بھی ان کی تنظیم سکینہ فاونڈیشن سے جڑے ہوئے ہیں۔ یہ تمام افراد فی سبیل للہ کام کرتے ہیں۔ سبھی کچھ یہ نوجوان خود کرتے ہیں۔ خود کھانا پکاتے ہیں اور لوگوں میں تقسیم بھی کرنے کے لیے جاتے ہیں۔ روزانہ یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔

آصف نے اپنی گفتگو کےآخر میں کہا کہ بھوک کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، جس کو بھی موقع ملے وہ بھوکے انسان کو ضرور کھانا کھلائے۔یہ کام انسانیت کے لیے کیجئے، اپنے ملک کے لیے کیجئے، کھانا ایک عظیم نعمت ہے، ضرورت مندوں اوربھوکھے  لوگوں کو ضرورکھانا کھلائے۔

اردودنیانیوز۷۲

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا ...