Powered By Blogger

جمعرات, اکتوبر 14, 2021

کلکتہ : درگا پوجا میں ’جماعت اسلامی‘ نے لگائے اسلامی کتابوں کے اسٹال

کلکتہ : درگا پوجا میں ’جماعت اسلامی‘ نے لگائے اسلامی کتابوں کے اسٹال

کولکتہ : درگا پوجا میں ’جماعت اسلامی‘ نے لگائے اسلامی کتابوں کے اسٹال
کولکتہ : درگا پوجا میں ’جماعت اسلامی‘ نے لگائے اسلامی کتابوں کے اسٹال

 

محمد صفی شمسی۔ کولکتہ

ہندوستانی مسلمانوں کے ایک حصے کی نمائندگی کرنے والی سماجی و مذہبی تنظیم جماعت اسلامی ہند نے اس تہوار کے موسم میں مغربی بنگال میں درگا پوجا پنڈالوں کے قریب 60 سےزیادہ سمپریتی اسٹال لگائے ہیں۔ جماعت اسلامی کی ریاستی قیادت کا خیال ہے کہ اس طرح کی کوشش دو برادریوں کے درمیان فاصلے کو ختم کرتی ہے اور برادریوں اور عقائد سے متعلق غلط فہمیوں کو دور کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔اسلام کے بارے میں دیگر  مذاہب کے لوگوں کو بنیادی معلومات فراہم کرانے کا مقصد  بہت سی غلط فہمیوں کو دور کرنا ہے۔ جس سے آپس کی دور کم ہوگی اور مذہب کے بارے میں منفی تاثر کو دور کیا جاسکے گا۔ یہ سلسلہ پچھلے پانچ سال سے جاری ہے۔اس مرتبہ بھی اس کوشش کو سراہا جارہا ہے۔ 

جماعت کے ریاستی سیکرٹری شاداب معصوم نے کہاکہ تمام اسٹال ایک مشترکہ بینر استعمال کرتے ہیں جس میں جماعت اسلامی کا ذکر ہے۔درگا پوجا مغربی بنگال کا سب سے بڑا تہوار ہے۔ ہمارے بھائی بہن پنڈالوں کا دورہ کرتے ہیں۔ ہم ان کی خدمت کرتے ہیں۔ اسٹال پینے کا پانی ، سینیٹائزر ، ماسک اور ابتدائی طبی امداد فراہم کرتے ہیں ۔

شاداب معصوم کا کہنا ہے کہ اسٹالوں پر اسلامو فوبیا سے متعلق سوالات کے حل کا موقع بھی فراہم کرتے ہیں۔ یہ ایک مثبت نقطہ نظر ہے۔ ہمارے پاس وہ کتابیں ہیں جو ہم خواہشمندوں کو پیش کرتے ہیں جو اسلام کے بارے میں تفصیل سے جاننے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ہزاروں لوگ ہمارے ا سٹال پر تشریف لاتے ہیں۔ شانتیر پاتھ ، اسلام کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات ۔ ’فیر ایشو آپن پربھور ڈائیک ‘ اور قرآن پاک - اسٹالوں پر لٹریچر مسلمانوں اور ان کے عقائد کے بارے میں مزید جاننے میں دلچسپی رکھنے والوں کی مدد کرتا ہے۔

درگا پوجا کے دوران کولکتہ میں مختلف قسم کی تنظیمیں اسٹال لگاتی ہیں۔ فیسٹیول کے دوران سوشلسٹ اور مارکسی ادب کو فروغ دینے والی بائیں بازو کی تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کے اسٹال برسوں سے سالانہ خصوصیت رہے ہیں۔ دوسری سیاسی جماعتوں نے بھی ایسا کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس کے علاوہ ایسی سماجی تنظیمیں ہیں جو ہزاروں لوگوں کے لیے خدمات پیش کرتی ہیں جو پنڈالوں میں پوجا کے لیے گھومتے ہیں ۔ 

awaz

سمپریتی اسٹال کا خیال سب سے پہلے 2015 میں حتمی شکل اختیار کر گیا تھا ، پہلا جماعتی اسٹال وسطی کولکتہ میں پوجا کے لیے مشہور مقام محمد علی پارک میں لگایا گیا تھا۔ 2018 کے بعد سے ، جماعت اسلامی کے یونٹس پروگرام کو اضلاع تک لے گئے۔ جنوبی بنگال کے مدنی پور سے لے کر ریاست کے شمال میں کوچ بہار تک ، اس سال 60 سے زیادہ اسٹال ہیں۔

 کولکتہ میں ، محمد علی پارک کے علاوہ ، میٹابورز ،توپسیا اور دیگر علاقوں میں اسٹال نظر آئے ہیں ۔10 دن طویل جشن کے دوران جماعت اسلامی کے رضاکار دوپہر 3 بجے کے قریب اسٹالوں پر پہنچ جاتے ہیں۔ اضلاع میں اسٹال 4 بجے کے بعد کھلتے ہیں۔ پوجا میں گھومنے کے لیے آنے والوں کے ساتھ بات چیت رات گئے تک جاری رہتی ہے۔

 شاداب معصوم کہتے ہیں ، "لوگ گلے مل رہے ہیں ، اچھی نظر دیکھ رہے ہیں۔ ملحقہ پوجا پنڈال کے زائرین ان اسٹالوں پر جستجو سے رک جاتے ہیں۔ان کتابوں میں مختلف موضوعات ہیں ۔خاص طور پر اسلام میں عورت کے حقوق سے متعلق بھی مواد دستیاب ہے مقصد ہے کہ اسلام کے مختلف نظریات پر جو غلط فہمیاں ہیں انہیں دور کیا جائے۔

 شاداب معرصوم کہتے ہیں کہ ’ہم پوجا کمیٹیوں سے بات کرتے ہیں۔ ہم تعاون کرتے ہیں اور انہیں بتاتے ہیں کہ ہم اس قسم کا کام کیوں کر رہے ہیں۔ اکثر لوگ راضی ہو جاتے ہیں ،اکثر منتظمین ہماری تجویز سے اتفاق کرتے ہیں۔ جب بھی ہم لوگوں سے رجوع کرتے تو انہیں بھی خوشی ہوتی ہے۔وہ اس پہل کا خیر مقدم کرتے ہیں۔شاداب معصوم نے کہا کہ بانکرا میں جو کولکتہ کے ملحقہ ضلع ہاوڑہ میں ہے، مقامی پوجا کمیٹی نے خود آگے آکر اسٹال لگانے کے لیے تمام انتظامات کیے۔

 ایک سوال جو لوگوں کو پریشان کرتا ہے وہ یہ ہے کہ جماعت جیسی تنظیم ، جس کو زیادہ سے زیادہ کمیونٹی کی مذہبی نمائندگی سمجھا جاتا ہے ، اس نے اس طرح کا منصوبہ کیوں بنایا؟ معصوم کا کہنا ہے کہ یہ تنظیم کے پالیسی پروگرام کے مطابق ہے جس کا مقصد بین المذاہب رابطے کو آسان بنانا ہے۔ عید کے اجتماعات ، غیر مسلموں کے لیے مساجد کے دوروں کا اہتمام ، اسی طرح کی کوششیں ہیں تاکہ لوگوں کو یہ سمجھایا جائے کہ بنیاد پرستی کو پوری کمیونٹی کے ساتھ ٹیگ نہیں کیا جا سکتا۔

بنگال میں ، مختلف عقائد کے لوگ ایک ساتھ پرامن زندگی گزار رہے ہیں ۔ عید کی صبح ، کچھ جگہوں پر ہندو مسلمانوں کو عیدگاہ کی طرف جانے والے پینے کا پانی پیش کرنے کے لیے آگے آتے ہیں جو کہ دوسری برادری کے افراد کے لیے پیار اور خلوص کی علامت ہے۔

 سمپریتی اسٹالوں پر پچھلے سال تقریبا ایک لاکھ لوگوں سے بات چیت کی گئی ۔ ریاست بھر میں جماعت اسلامی کے 700 کے قریب رضاکار ہیں ، جن میں 35 فیصد خواتین بھی شامل ہیں۔ جو اس سال کولکتہ میں بنگالی ، ہندی ، اردو اور انگریزی میں پنڈال دیکھنے والوں کے ساتھ بات چیت کر رہی ہیں۔شاداب معصوم کا ماننا ہے کہ جب عقائد کی بات کی جائے تو معاشرے کے درمیان نظریاتی اختلافات کم ہو سکتے ہیں ، پھر بھی لوگ ایک دوسرے کے احترام کے ساتھ امن سے رہ سکتے ہیں۔


منگل, اکتوبر 12, 2021

خانقاہ مجیبیہ کے حضور زیب سجادہ سے امارت شرعیہ کے امیر شریعت کی ملاقات ٭اللہ کی نصرت آپ کے شامل حال ہو : زیب سجادہ آپسی مشوروں سے امارت کے کام کو آگے بڑھایا جائے گا : امیر شریعت ثامن

خانقاہ مجیبیہ کے حضور زیب سجادہ سے امارت شرعیہ کے امیر شریعت کی ملاقات ٭اللہ کی نصرت آپ کے شامل حال ہو : زیب سجادہ آپسی مشوروں سے امارت کے کام کو آگے بڑھایا جائے گا : امیر شریعت ثامن

پٹنہ 11اکتوبر 2021 (پریس ریلیز)

امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ کے امیر شریعت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی کے آج خانقاہ مجیبیہ پہنچنے پر مولانا سید شاہ منہاج الدین قادری ودیگر کارکنان کے ذریعہ پرتپاک خیر مقدم کیا گیا۔ خانقاہ مجیبیہ کے زیب سجادہ حضرت شاہ آیت اللہ قادری مدظلہ العالی نے اپنے حجرہ مبارک میں امیر شریعت کا استقبال کرتے ہوئے اپنے دست مبارک سے حضرت امیر شریعت ثامن کے سر پر شماغ (رومال)رکھا اور عطر پیش فرمایا۔ اپنے پاس بٹھا کر حضور زیب سجادہ نے فرمایا کہ یہ رشتہ دل کا ہے۔ حضرت قطب عالم مولانا محمد مونگیریؒ بھی خانقاہ مجیبیہ آیا کرتے تھے اور قیام بھی فرماتے تھے، امیر شریعت رابع مولانا منت اللہ رحمانی علیہ الرحمہ کا بھی یہاں اکثر آنا ہوتا تھا۔ حضور زیب سجادہ نے فرمایا کہ والد صاحب علیہ الرحمہ سے امارت شرعیہ کے سابق امرائ بالخصوص حضرت امیر شریعت رابع اور امیر شریعت سابع مولانا محمد ولی رحمانی علیہ الرحمہ سے گہرے مراسم تھے۔ آپ کے امارتِ شرعیہ کے آٹھویں امیر منتخب ہونے سے مجھے بے پناہ قلبی مسرت ہوئی ہے، دل کی گہرائیوں سے دعا دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اس امانت کو بہتر طریقے سے ادا کرنے کی آپ کو توفیق عطا فرمائے اور اللہ کی نصرت شامل حال ہو، آپ سے ملاقات کرکے خانقاہ مجیبیہ، امارت شرعیہ اور خانقاہ رحمانی کے دیرینہ روایت کی یاد بھی تازہ ہوگئی میں آپ کو بہتر مستقبل کی دعا بھی دے رہا ہوں۔ اس موقع سے امیر شریعت ثامن حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی سجادہ نشین خانقاہ رحمانی مونگیر نے بھی خانقاہ مجیبیہ امارت شرعیہ اور خانقاہ رحمانی کے درمیان دیرینہ تعلقات کا اور بہتر خانقاہی روابط کا ذکر فرمایا، امیر شریعت ثامن نے فرمایا کہ ان شائ اللہ خانقاہ مجیبیہ، میں میری حاضری بار بار ہوگی۔ ملی کاموں کے انجام دہی میں حضرت زیب سجادہ کے مشورے سے بھی استفادہ کیا جائے گا، امارت شرعیہ کے استحکام میں آپ کی دعاؤں اور مشوروں کی ضرورت آج بھی ہے اور کل بھی رہے گی۔ اس کے علاوہ خلوت میں بھی حضرت زیب سجادہ خانقاہ مجیبیہ اور امیر شریعت ثامن کے درمیان گفتگو ہوئی۔ حضرت امیر شریعت ثامن حضور زیب سجادہ خانقاہ مجیبیہ کے اخلاق سے کافی متأثر نظر آئے۔

واضح رہے کہ حضرت زیبِ سجادہ سے ملاقات سے قبل حضرت امیر شریعت ثامن نے مولانا سید شاہ منہاج الدین قادری کی معیت میں سجادگان خانقاہ مجیبیہ کے مزارات پر حاضر ہوکر فاتحہ خوانی کی، بالخصوص تاج العارفین حضرت سید شاہ مجیب اللہ قادری نور اللہ مرقدہ کے قبر مبارک پر حاضر ہوکر فاتحہ خوانی کی، اُس کے بعد خانقاہ مجیبیہ کے سابق سجادگان اور امارت شرعیہ کے امیر شریعت اول بدر الکاملین حضرت مولانا سید شاہ بدر الدین قادری نور اللہ مرقدہ، امیر شریعت ثانی محی الملۃ والدین حضرت سید شاہ محی الدین قادری نور اللہ مرقدہ اور امیر شریعت ثالث حضرت سید شاہ قمر الدین قادری ودیگر سجادگان وبزرگان کے مزار پر بھی فاتحہ خوانی کا شرف حاصل کیا۔ مزید برآں بانی امارت شرعیہ حضرت مولانا ابو المحاسن محمد سجاد صاحب نور اللہ مرقدہ کے قبر مبارک پر بھی فاتحہ پڑھنے کا شرف حاصل کیا۔ جو کہ وہیں باغ مجیبی قبرستان میں آسودۂ خواب ہیں۔

حضرت امیر شریعت ثامن نے اس ملاقات کو ایک خوشگوار اور یادگار لمحہ قرار دیا۔ اور اِس بات کا عندیہ دیا کہ ان شاء اللہ یہ حاضری مستقبل میں بار بار ہوگی اور امارت کے امور کو ان شائ اللہ حضرت زیب سجادہ خانقاہ مجیبیہ کے مشورہ سے اور بہتر کیا جائے گا۔ امیر شریعت ثامن کے ساتھ اِس موقع پر نائب امیر شریعت حضرت مولانا محمد شمشاد رحمانی قاسمی، قائم مقام ناظم مولانا شبلی القاسمی اور حضرت امیر شریعت سابع مفکر اسلام مولانا محمد ولی صاحب رحمانی کے چھوٹے صاحبزادے جناب فہد رحمانی ودیگر حضرات نے بھی حاضری کا شرف حاصل کیا

پیر, اکتوبر 11, 2021

اپنے بچوں کو مذہبی اور اخلاقی تعلیم دیں: بھاگوت

اپنے بچوں کو مذہبی اور اخلاقی تعلیم دیں: بھاگوت

اپنے بچوں کو مذہبی اور اخلاقی تعلیم دیں: بھاگوت
اپنے بچوں کو مذہبی اور اخلاقی تعلیم دیں: بھاگوت

 

اردو دنیا نیوز۷۲، نئی دہلی

 راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سربراہ ڈاکٹر موہن بھاگوت نے اپنے ایک بیان میں بچوں کی مذہبی اور اخلاقی تعلیم پر زور دیا ہے۔

ریاست اتراکھنڈ کے ہلدوانی کے ایک پروگرام میں خطاب کرتے ہوئے بھاگوت نے کہا کہ اپنی روایت کی پوجا کیوں چھوڑیں؟ تبدیلی کیسے ہوتی ہے؟ یہ الگ بات ہے کہ کون تبدیل کر رہا ہے ، لیکن ہم اپنے بچوں کو تیار نہیں کرتے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں اپنے گھر میں اس کی تعلیم دینی ہوگی۔ ہمیں اپنے اپنے گھروں میں بچوں کویہ سب چیزیں سکھانی ہوگی۔انہوں نے کہا کہ اگر بچے کوئی سوال کریں تو ان کے جوابات دینے ہوں گے۔ہمیں اپنے بچوں کو اتنا تیار کرنا چاہیے۔ اس کے لیے ہمیں خود سیکھنا ہوگا۔

موہن بھاگوت نے کہا ہے کہ جو ہندو شادی کرنے کے لیے اپنا مذہب تبدیل کر رہے ہیں وہ بہت بڑی غلطی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب چھوٹے ذاتی مفادات کے لیے ہو رہا ہے۔ ہندو خاندان بھی اپنے بچوں کو اپنے مذہب اور روایات پر فخر کرنا نہیں سکھا رہے ہیں۔

موہن بھاگوت اتراکھنڈ کے ہلدوانی میں آر ایس ایس کارکنوں اور ان کے خاندانوں سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ "مذہب تبدیل کیسے ہوتا ہے؟ ہمارے ملک کے لڑکے اور لڑکیاں دوسرے مذاہب میں کیسے جاتے ہیں؟ چھوٹے مفادات کی وجہ سے۔ شادی کرنے کے لیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں گھر میں اس کی تربیت دینا ہے۔ اپنے نفس پر فخر ، اپنے مذہب کے لیے فخر۔ ہماری عبادت کا احترام کریں۔ اگر اس کے لیے سوالات آئیں تو اس کا جواب دیں۔ الجھن میں نہ پڑیں۔

بھاگوت کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب بی جے پی کی حکمرانی والی کئی ریاستوں میں مبینہ محبت جہاد یا شادی کے لیے مذہب تبدیل کرنے کے خلاف قوانین سامنے آئے ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ قوانین آر ایس ایس کے دباؤ کی وجہ سے نافذ کیے گئے ہیں۔

اس موقع پر بھاگوت نے ہندوستانی خاندانی اقدار اور ان کو محفوظ رکھنے کے طریقے کے بارے میں تفصیل سے بات کی۔ انہوں نے یہ مسئلہ بھی اٹھایا کہ آر ایس ایس کے بیشتر ایونٹس میں صرف مرد کیسے نظر آتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس کا مقصد ہندو سماج کو متحد کرنا ہے ، لیکن جب ہم پروگرام منعقد کرتے ہیں تو ہمیں صرف مرد نظر آتے ہیں۔ اگر ہمیں پورے معاشرے کو منظم کرنا ہے تو کم از کم نصف خواتین کو ان پروگراموں میں حصہ لینا ہوگا۔ بھاگوت نے یہ بھی کہا کہ ہندوستانیوں نے ہمیشہ اپنی دولت دوسروں کے ساتھ بانٹی ہے۔ مغلوں کی آمد سے پہلے ہندوستان میں بہت دولت تھی۔


بریکنگ نیوزرانچی پولیس نے ٹریفک کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے ہیلپ لائن نمبر کیا جاری

بریکنگ نیوزرانچی پولیس نے ٹریفک کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے ہیلپ لائن نمبر کیا جاری

رانچی پولیس نے ٹریفک کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے ہیلپ لائن نمبر کیا جاریرانچی: رانچی پولیس نے ٹریفک کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے دو ہیلپ لائن نمبر جاری کیے ہیں۔ ٹریفک سے متعلق کسی بھی قسم کی پریشانی کے لیے آپ اس ہیلپ لائن نمبر 89877 90772 اور 89877 90782 پر کال کر سکتے ہیں۔ یہ دونوں ہیلپ لائن نمبر صبح 8:00 بجے سے رات 8:00 بجے تک کام کریں گے۔ انچارج ٹریفک ایس پی ریشما ریمسان نے کہا کہ یہ اقدامات کیے گئے ہیں تاکہ لوگوں کو رش میں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ یہ دونوں ہیلپ لائن نمبر مستقل ہیں۔ اس نمبر پر آنے والی شکایت کا فوری ازالہ کیا جائے گا۔

نوراتری کے دوران ٹریفک کے نظام کو سہل بنانے کے لیے ، ٹریفک پولیس نے ڈرائیوروں کے ساتھ ساتھ عام لوگوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ پارکنگ کے نشانات کے علاوہ دوسری جگہوں پر گاڑیاں نہ کھڑی کریں۔ غلط پارکنگ ٹریفک جام کا باعث بن سکتی ہے۔ کہیں نہ کہیں عام لوگ اس سے پریشان ہوں گے۔ ٹریفک پولیس کی طرف سے عبادت کے دوران جاری کردہ ہدایات پر عمل کرنا ضروری ہے۔

اےایم یو : طالب علم حمزہ حسن کا امپیریل کالج لندن میں داخلہ

اےایم یو : طالب علم حمزہ حسن کا امپیریل کالج لندن میں داخلہ

اے ایم یو : طالب علم حمزہ حسن کا امپیریل کالج لندن میں داخلہ
اے ایم یو : طالب علم حمزہ حسن کا امپیریل کالج لندن میں داخلہ

علی گڑھ،: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے انڈسٹریل کیمسٹری کے طالب علم حمزہ حسن کو برطانیہ کے مشہور امپیریل کالج لندن (آئی سی ایل) میں ایم ایس سی انوائرمینٹل انجینئرنگ میں داخلہ کی پیش کش کی گئی ہے، جس کی تکمیل کے ساتھ پی ایچ ڈی بھی ہوسکے گی۔ حمزہ حسن نے اپنی تعلیم کے لئے کنگز کالج لندن (کے سی ایل) اور برطانیہ کی پانچ دیگر اعلیٰ یونیورسٹیوں میں سے آئی سی ایل کا انتخاب کیا ہے۔

حمزہ نے کہا ”اے ایم یو میں اساتذہ نے میری بہتر رہنمائی کی جو میری ترجیحات و امنگوں کو سمجھتے تھے۔ ان کی سرپرستی اور رہنمائی کی وجہ سے میں آئی سی ایل میں داخلہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوا“۔

انہوں نے کہا کہ میرے اساتذہ اور اہل خانہ نے مجھے آئی سی ایل میں داخلہ لینے کا مشورہ دیا کیونکہ یہ حال ہی میں کیو ایس ورلڈ یونیورسٹی رینکنگ میں دنیا میں ساتویں نمبر پر ہے۔ اس کالج کو کیو ایس نے لندن میں اوّل اور برطانیہ و یورپ میں سوم رینک عطا کی ہے۔ حمزہ نے مزید کہا ”ماحولیاتی سائنس کے ماہر کی حیثیت سے میں اپنی مخصوص ٹریننگ کو استعمال کرکے روزمرہ کے مسائل کو حل کرنے کا عزم رکھتا ہوں اور بہتر ماحولیات کے لئے مناسب حل کی تلاش کے محاذ پر خدمات انجام دینا چاہتا ہوں“۔


انجینئر کی چھٹی کے لئے عجیب و غریب چٹھی، ’اویسی بچپن کے دوست ہیں اور موہن بھاگوت ماما!‘

بھوپال: مدھیہ پردیش کے ضلع مالوا میں اتوار کے روز چھٹی پانے کے لئے ایک انجینئر نے عجیب و غریب خط لکھا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ انہیں اپنے گزشتہ جنم کا احساس ہوا ہے، جس میں اسد الدین اویسی ان کے بال سکھا (بچپن کے دوست) تھے، جبکہ آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت ان کے ’شکونی ماما‘ تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ افسر نے بھی انجینئر کی چٹھی کا انہی کی زبان میں جواب دیتے ہوئے انہیں ہر اتوار ڈیوٹی پر حاضر رہنے کا حکم دیا ہے۔

دراصل، سونسیر ضلع کے انجینئر راج کمار یادو نے اپنے خط میں لکھا کہ اتوار کے روز وہ ضلع کے کسی کام کے لئے حاضر نہیں ہو پائیں گے کیوں کہ انہیں یہ احساس ہوا ہے کہ آتما امر ہوتی ہے۔ نیز گزشتہ جنم میں اسد الدین اویسی ان کے بچپن کے دوست تھے اور موہن بھاگوت ان کے شکونی ماما، لہذا اپنی زندگی کو جاننے کے لئے گیتا کا ورد کرنا چاہتا ہوں۔ ساتھ ہی اپنے اندر کے تکبر کو مٹانے کے لئے بھیک مانگوں گا۔ چونکہ ان کی آتما کا سوال ہے اس لئے انہیں چھٹی دے دی جائے۔

ضلع پنچایت سونسیر کے آفیشیل گروپ پر خط ڈالنے کے بعد ضلع پنچایت کے سی ای او پراگ پنتھی نے بھی انجینئر کو انہی کی زبان میں جواب لکھ دیا۔ انہوں نے لکھا، ’’پیارے انجینئر، آپ اپنا تکبر مٹانا چاہتے ہیں تو خوشی کی بات ہے۔ ہر شخص اکثر اتوار کا دن اپنی مرضی سے گزارنا چاہتا ہے۔ اس تکبر کو ختم کرنا آپ کی ترقی کے لئے ناگزیر ہے۔ لہذا آپ کی روحانی ترقی کی خواہش کے پیش نظر آپ کو حکم دیا جاتا ہے کہ ہر اتوار کو دفتر میں حاضر رہ کر کام کریں تاکہ آپ کے تکبر کا خاتمہ ہو سکے۔‘‘

اٹلی میں کورونا ویکسی نیشن لازمی کرنے کیخلاف ہزاروں افراد کا مظاہرہ

اٹلی کے دارالحکومت روم میں گرین پاس اور کورونا ویکسی نیشن لازمی کرنے کے خلاف ہزاروں افراد نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔

مظاہرین نے حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور سیکیورٹی فورسز پر پلاسٹک کی بوتلیں اور دیگر اشیا پھینکیں۔

پولیس نے مظاہرین کو پانی کی گن(واٹر کینن) اور آنسو گیس شیلنگ سے منتشر کیا، جبکہ پولیس نے بارہ مظاہرین کو گرفتار بھی کیا۔


اردودنیانیوز۷۲

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا ...