Powered By Blogger

ہفتہ, نومبر 06, 2021

کھگڑیا میں زمین تنازع میں مارپیٹ ، 4 زخمی : زمین پر رکھی اینٹ ہٹانے گئے لوگوں پر پڑوسیوں نے کیا حملہ

کھگڑیا میں زمین تنازع میں مارپیٹ ، 4 زخمی : زمین پر رکھی اینٹ ہٹانے گئے لوگوں پر پڑوسیوں نے کیا حملہ

کھگڑیا، 6 نومبر۔کھگڑیا کے چترگپت نگر تھانہ علاقہ کے رابڑی نگر میں ہفتہ کی صبح دوفریقوں کے درمیان جم کر لاٹھی۔ ڈنڈے چلے۔ واقعے میں ایک گروپ کے چار افراد شدید طور سے زخمی ہو گئے۔ جن کا علاج صدر اسپتال کھگڑیا میں کیا جا رہا ہے۔ زخمیوں میںرابڑی نگر رہائشی چندر شیکھر داس کے بیٹے سدھاکر کمار (17)، پورن داس کے بیٹے سنتوش کمار (30) ، ا?نجہانی رگھونندن داس کے بیٹے راہل کمار (25)اور ا?نجہانی اوپندرداس کے بیٹے کشور داس (40) شامل ہیں۔

اینٹ ہٹانے کو لیکر ہوا تنازعہ واقعہ کے سلسلے میں زخمی سدھاکر کمار نے بتایا کہ ہفتہ کی صبح سات بجے وہ اپنی زمین پر رکھی اینٹ کو ہٹانے گئے تھے۔ اس کے بعد ان کے پڑوسی یوگیندر داس ، وکیل داس اور ان کے دیگر ساتھیوں نے ان سب پر لاٹھی اور ڈنڈے سے حملہ کر دیا۔ جس سے ان لوگوں کے سر پھٹ گئے۔

زخمی سدھاکر کا الزام ہے کہ ان کا پڑوسی یوگیندر داس سدھاکر کے گھر کے سامنے والی زمین پر ا پنا دعویٰ کرتا ہے۔ اس معاملے پر اکثر جھگڑے ہوتے رہتے تھے۔ وہیں سدھاکر کا کہنا ہے کہ جب وہ ہفتہ کی صبح اپنی زمین سے اینٹ لانے گیا تو ان لوگوں نے حملہ کر دیا۔

ادھر معاملے میں چترگپت نگر تھانہ انچارج سنجیو کمار نے کہا کہ واقعہ کی اطلاع ملی ہے۔ متاثرہ کی درخواست پر کارروائی کی جائے گی۔


اتحادِ امت- مذہبی فریضہ اور سماجی ضرورتمفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹہ

اتحادِ امت- مذہبی فریضہ اور سماجی ضرورت
مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹہ

عبد الرحیم دربھنگہویاتحاد امت، شرعی اور سماجی ضرورت ہے جب کہ اختلاف رائے کا وجود فطری ہے ، اس لیے ہم شرعی ضرورت کے پیش نظر اتحاد امت کے پابند ہیں اور فکر ونظر کے اختلاف کے باوجود اتحاد امت اور وحدت امت کو اپنی ایمانی اور اسلامی زندگی کا نصب العین سمجھتے ہیں، اختلاف کلمۂ واحدہ کے ماننے والوں کے درمیان عقائد کا ہویا فروعی مسائل کا ،ادارے تنظیموں، جماعتوں یا جمیعتوں کا ہویا افراد کے مابین، ان کو عملی زندگی میں برتنے کے کچھ شرعی اصول وحدود ہیں، حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی نور اللہ مرقدہ فرمایا کرتے تھے کہ اختلاف کی سر حدوں کو پہچاننا چاہیے ، احکام ومسائل کے بیان کرنے میں احتیاط سے کام لینا چاہیے۔
یہاں اس بات کو خوب اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ اتحاد امت کا مطلب تمام مذاہب ومسالک کا ادغام یا تمام مذاہب ومسالک سے مشترکہ چیزوں کو لے کر نیا مذہب بنانا نہیں ہے ؛ بلکہ اتحاد امت کا مطلب اپنے مسلک ومذہب پر عامل رہتے ہوئے دوسرے مسلک ومذہب والوں کا احترام اور فروعی مسائل کو نزاعی بنانے سے اجتناب ہے ؛ اسی طرح اختلاف رائے سے مراد وہ اختلاف وافتراق ہے جو امت اجابت کے درمیان ہے ،امت دعوت یعنی غیر مسلموں سے اتحاد مراد نہیں ہے ۔
اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ مسلمان ایک امت ہیں، ان کے اتحاد کی بنیاد کلمہ ، قبلہ، کتاب اور رسول کا ایک ہونا ہے ،ان کے علاوہ عقیدۂ آخرت ،دخول جنت وجہنم، نماز ، روزہ، حج وزکوٰۃ کی فرضیت ، جہاد اور امر بالمعروف ونہی عن المنکر کی مشروعیت میں سبھی متحد ومتفق ہیں؛ اس لیے مسلمان ایک امت ہیں؛ بلکہ اللہ تعالیٰ نے تو دو آسمانی مذاہب کے ماننے والے یہودی اور نصرانی تک کو بعض امور مشترکہ کی وجہ سے ایک امت کہہ کر ان کے خلجان اور خدشات کو دور کیا ،جس کا حاصل یہ ہے کہ جو دین اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا گیا اور انبیاء سابقین جس دین کے حامل رہے ، وہ ایک ہی دین، دین توحید ہے اور جس ملت کے داعی رہے وہ ملت اسلام ہے ، لوگوں نے پھوٹ ڈال کر اصل دین کو پارہ پارہ کر دیا اور الگ الگ راہیں نکال لیں، نفسانی خواہشات اور اتباع ہویٰ کی وجہ سے لوگ فرقوں اور ٹکڑوں میں بنٹ گیے اور ہر فرقہ اپنے کو اچھا اور دوسرے کو گھٹیا اور ذلیل سمجھنے لگا ، رسولوں کی واضح ہدایات کو پس وپشت ڈال کر دین کو بازیچۂ اطفال بنادیاگیا اورآج اپنے عقائد وخیالات کو اصل دین کی جگہ دے کرہر گروہ مسرور وشادماں اور اپنی غفلت ، ضلالت اور جہالت کے نشے میں سرشار ہے ۔واقعہ یہ ہے کہ اس امت میں جو اختلاف وانتشار وتفرقہ بازی ہے وہ بڑی حد تک یہود ونصاریٰ کے باہمی تفرقہ واختلاف کی طرح ہے اور جس سے اللہ رب العزت نے سختی سے منع کیا ہے ۔
ہم اس سے باز نہیں آئے تو جتنی مصیبتیں آئیں، تھوڑی ہیں، آلام ومصائب ، قتل وغارت گری سب ہمارے اس افتراق وانتشار کا شاخسانہ ہے ، اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں ان حالات کے سلسلے میں متنبہ کیا تھا ، لیکن ہم نے اس پر غورنہیں کیا ، اللہ رب العزت کا ارشاد ہے ؛آپ کہیے کہ اس پر بھی وہی قادر ہے کہ تم پر کوئی عذاب تمہارے اوپر سے بھیج دے یا تمہارے پاؤں تلے سے یاکہ تم کو گروہ گروہ کرکے سب کو بھڑا دے اور تمہارے ایک کو دوسرے کی لڑائی چکھادے ، آپ دیکھیے تو سہی، ہم کس طرح دلائل مختلف پہلوؤں سے بیان کرتے ہیں، شاید وہ سمجھ جائیں‘‘۔
لیکن ہم سمجھ نہیں سکے ، ہم الجھے او ر الجھتے چلے گیے ، معتزلہ اور خوارج کے جھگڑے تو اب قصۂ پارینہ بن چکے ہیں؛ لیکن شیعہ، سنی ،سلفی ، غیر سلفی ،دیو بندی ، بریلی، مذہبی اور غیر مذہبی ، اسلام پسند اور لبرل طبقوں کے اختلافات نے ہمارا جینا دو بھر کر دیا ہے ،یہ عذاب کی اندرونی اور داخلی قسم ہے ، جو پارٹی بندی ، باہمی جنگ وجدال اور آپس کی خوں ریزی کی شکل میں امت مسلمہ پر مسلط ہے ، پورے عالم اسلام اور خود ہندوستان میں اس اختلافات کی وجہ سے جنگ وجدال ہی نہیں، قتل وغارت گری تک کی نوبت آگئی ہے ، مسجدوں میں بندوقیں چل رہی ہیں،پڑوسی ملک میں ہزاروں لوگ مارے جا چکے ہیں ، شام ، عراق یمن وغیرہ میں کئی لاکھ لوگ اپنے ملک اور علاقہ کو چھوڑ کر پناہ گزیں کیمپوں میں ہیں اور خانہ بدوشی کی زندگی گذار رہے ہیں ، ان کی بنیادی انسانی ضرورتیں بھی پوری نہیں ہو پا رہی ہیں، بہت سارے ملک ان کو پناہ بھی دینے کو تیار نہیں ہیں، ماضی میں کئی ملکوں کی سرحدوں سے انہیں کھدیڑا گیا اور کئی کشتیاں غرق آب ہو گئیں اور اس پر سوار پناہ گزیں سمندر کی کوکھ میں سما گیے ،بعض بچے کوپانی نے ساحل سمندر پر ڈال دیا اور بعض کی لاشوں کا پتہ نہیں چل سکا اور ہمیں اب بھی ہوش نہیں آ رہا ہے ۔
 اصلاً دین ایک ہے اور امت مسلمہ بھی ایک ہے ، نسلی ، لسانی،مسلکی اختلافات اور ملکوں کی سرحدوں کا کلمہ ٔ واحدہ اور دین کی بنیاد پر متحد ہونا امر مستبعد نہیں ہے ، اللہ نے دین کی رسی کو مضبوطی سے پکڑنے کا حکم دیا ہے جس قدر اس میں مضبوطی آئے گی ، اختلاف وانتشار دور ہوں گے ۔
واقعہ یہ ہے کہ اعتصام بحبل اللہ اور افتراق سے اجتناب؛ یہ اتحاد امت کی دو قرانی بنیادیں ہیں، ان بنیادوں سے گریز، ان اختلافات کوجنم دیتا ہے جو مذموم ہیں، اور جن کی وجہ سے ملت میں انتشار پیدا ہو گیا ہے ،’’ حبل اللہ‘‘ سے مراد بعضوں نے دین اور بعضوں نے قرآن کریم لیا ہے ، مقصود ایک ہی ہے ، آج مسلمانوں کے درمیان جو افتراق وانتشار ہے ، وہ قرآن کریم احادیث رسول اور شریعت مطہرہ سے دوری کا نتیجہ ہے ، اگر قرآن کریم ہماری زندگی میں آجائے اور وہ ہمارے سارے اعمال کا محور بن جائے تو اس امت کو ایک امت بننے سے نہیں روکا جا سکتا اور فروعی اختلافات اتحاد کے راستے میں رکاوٹ نہیں بنیں گے ۔
اختلافات قرونِ اولیٰ میں بھی تھے ، لیکن یہ آپسی مخالفت ، بغض وعناد ،کینہ کدورت اور جدال وقتال کی بنیاد نہیں بنتے تھے ، خود صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے جزوی اور فروعی مسائل میں اختلافات منقول ہیں، حضرت عائشہؓ غسل میں عورتوں کے جوڑا کھولنے کی قائل نہیں تھی اور اوپر سے پانی بہانا وہ بھی تین چلو کافی سمجھتی تھیں، بعض صحابہ سماع موتیٰ کے قائل تھے ، بعض مُردوں پر نوحہ کرنے سے مُردے پر عذاب کی بات کہا کرتے تھے ، جبکہ بعض دوسروں کا استدلال وَلَا تَزِرُ وَازِرَۃً وِزْرَ اُخْرَیٰ(النجم : ۸۳) یعنی کسی دوسرے کابوجھ کوئی اٹھانے والا نہیں اٹھاتا،سے تھا کہ دوسرے کے گناہ کا بوجھ مُردے پر نہیں ڈالا جا سکتا ؛ کیونکہ ہر ایک کو اپنی اپنی جواب دہی خود کرنی ہوگی؛ ان اختلافات کے باوجود ایک دوسرے پر اعتماد اور ایک دوسرے کے احترام میں کبھی کوئی فرق نہیں آیا؛ بلکہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیکم اجمعین کے درمیان ہونے والے اختلافات باعث رحمت سمجھے جاتے تھے ، اس لیے کہ اس کی وجہ سے عمل کے دائرہ میں وسعت پیدا ہوتی تھی ۔
یہیں سے یہ بات بھی ثابت ہو گئی کہ شیعہ سنی کے بعض اختلافات اور تنازعات بنیادی اور اساسی ہونے کے باوجود اور شیعوں کے بعض فرقوں خارج ازاسلام اور بعض کے گمراہ قرار دینے کے باوجود کسی فریق کی طرف سے بے دریغ قتل وغارت گری، بد ترین جنگ وخوں ریزی کی اجازت شریعت اسلامیہ نہیں دیتی، ایک دوسروں کی مساجد، ادارے اور اہم مذہبی شخصیات کی توہین وقتل اسلامی مزاج سے میل نہیں کھاتا، اس لیے عالم اسلام کے مختلف ملکوں میں شیعہ سنی آویزش کو ختم کرنے اور بقاء باہم کے اصول کی روشنی میں میثاق مدینہ کو سامنے رکھ کر صلح وآشتی کا معاہدہ کرنا چاہیے ، اس معاملہ میں اصحاب فکر ودانش اور عام مسلمانوں کی اپنے حلقہ ٔ اثر میں کام کی استطاعت کے اعتبار سے الگ الگ ذمہ داری ہے ، علماء امن وآشتی کی راہ ہموار کرنے میں کلیدی رول ادا کریں اور عوام اپنے جذبۂ سمع وطاعت سے اس مہم کو کامیابی سے ہم کنار کریں۔
جیسا کہ اوپر عرض کیا جا چکا ہے ، جن ملکوں میں سنی اور شیعہ کی مشترک آبادیاں ہیں، وہ اپنے اپنے مسلک ومذہب پر عمل کریں اور بقاء باہم کے اصول پر کوئی معاہدہ کرلیں، شریعت نے پڑوسیوں ، ضعفاء اور انسانوں کو جو حقوق بحیثیت انسان عطا کیا ہے ، اس کا پاس ولحاظ رکھیں تو باہمی منافرت اور جنگ وجدال کو روکا جا سکتا ہے ؛چونکہ مختلف ملکوں کے احوال الگ الگ ہیں،اس لیے وہاں کے احوال کے واقفین علماء ومذہبی پیشواؤں کو اصول وآداب بنانے چاہیے ، در اصل علماء کے اختلاف کا ہی یہ سب شاخسانہ ہے ، عوام پہلے بھی علماء کی مانتی تھی اور اب بھی ماننے کو تیار ہے ۔
 حضرت امیر شریعت سادس مولانا سید نظام الدین صاحبؒ فرمایا کرتے تھے کہ امت کا اتحاد علماء کے اتحاد پر موقوف ہے ، علماء اور مذہبی پیشوا جب تک کسی بات پر اور کسی معاہدہ پر متفق نہیں ہوں گے ، یہ سلسلہ دراز ہوتاہی رہے گا، یہ سارے معاملات اور چپقلش کی وجہ یہ ہے کہ اب لوگوں نے ’’بقاء باہم‘‘ کے بجائے ’’تنازع للبقائ‘‘ کو محور ومرکز مان لیا ہے ، اسی لیے ہر بڑی مچھلی چھوٹی مچھلی کو نگل جانا چاہتی ہے اور اپنے خلاف قوتوں سے مزاحم ہو کر اپنے وجود کو مستحکم رکھنے کے لیے کوشاں رہتی ہے ، اس لیے علماء کو عوام کے ذہن سے یہ بات نکال کر ’’بقاء باہم‘‘ کی اہمیت اجاگر کرنی ہوگی اور بتانا ہوگا کہ جنگ تو خود ایک مسئلہ ہے ، یہ مسئلہ کا حل کیا نکالے گی، خون کسی کا بہے ، نسل انسانی کا خون ہے آخر، سب کو سمجھانا ہوگا تبھی مختلف مذاہب اور مسلک کے لوگ پر امن زندگی گذار سکیں گے ؛ ورنہ برتری او رقبضہ کی جنگ میں سب کچھ خاکستر ہوتا چلا جائے گا، اس کا مطلب حق کے لیے جہاد سے انکار نہیں ہے ، جہاد کے جو شرائط شریعت میں مذکور ہیں اس کی ان دیکھی کرکے لڑی جانے والی جنگ کو جہاد قرار دینا شرعی طور پر صحیح نہیں ہے ، اس لیے اختلاف رائے کے باوجودہم سب کو ایک امت بن کر رہنا ہے ۔
 فروعی مسائل میں الجھنے اور ایک دوسرے کو بڑا بھلا کہنے اور قتل کرنے کے بجائے وحدتِ امت کے اسلامی تصور کو عام کیا جائے اور مختلف طبقات سے گذارش کی جائے کہ وہ اس حقیقت کو مان کر چلیں کہ مسلک عمل کے لئے ہے اور دین اسلام دعوت وتبلیغ کے لئے ۔

ایمیزون سے پاسپورٹ کور کا آرڈر کرنے پر کمپنی نے کور کے ساتھ کسی اور کا پاسپورٹ بھیج دیا

ایمیزون سے پاسپورٹ کور کا آرڈر کرنے پر کمپنی نے کور کے ساتھ کسی اور کا پاسپورٹ بھیج دیا

نئی دہلی _ کیرالہ کے وایناڈ ضلع میں ایک کامرس کمپنی کی جانب سے سنگین لاپرواہی کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ یہاں پر ای کامرس کمپنی ایمیزون نے ایک شخص کو پاسپورٹ کور کا آرڈر کرنے پر اسے پاسپورٹ کور کے ساتھ کسی اور کا اصلی پاسپورٹ بھی بھیج دیا۔

پہلے تو اس شخص نے اسے ڈمی پاسپورٹ سمجھا لیکن بعد میں جب اس نے غور سے دیکھا تو اس شخص کے ہوش اڑ گئے۔کیونکہ یہ ایک اصلی پاسپورٹ تھا تفصیلات کے مطابق ضلع وایناڈ کے کنیامبیٹا گاؤں کے رہنے والے متھن بابو نے 30 اکتوبر کو ای کامرس کمپنی ایمیزون سے پاسپورٹ کور کا آرڈر کیا تھا۔ دو دن بعد پاسپورٹ کور کی ہوم ڈیلیوری کمپنی کی جانب سے ان کے گھر پر کی گئی لیکن کور کے ساتھ اصلی پاسپورٹ بھی موجود تھا۔ متھن بابو نے پہلے تو اسے ڈمی پاسپورٹ سمجھا، لیکن جب اس نے اسے غور سے دیکھا تو یہ پڑوسی ضلع تھرسور کے محمد صالح نامی شخص کا تھا۔

متھن بابو نے کے مطابق محمد صالح نے پہلے ایمیزون سے پاسپورٹ کور کا آرڈر دیا تھا لیکن اس کے بعد شاید صالح نے کور میں پاسپورٹ رکھ کر دیکھا اور اسے کور پسند نہیں آیا۔جس پر اس نے اسے واپس کر دیا۔ اس دوران وہ اپنا پاسپورٹ نکالنا بھول گیا۔اور کمپنی نے یہ آرڈر متھن بابو کو بھیج دیا۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے متھن بابو نے بتایا کہ جب انہوں نے یہ اطلاع کمپنی کے کسٹمر کیئر کو دی تو جواب آیا کہ وہ آئندہ اس کا خیال رکھیں گے۔ اس کے بعد اس نے دستاویز پر دیے گئے پتے کی بنیاد پر پاسپورٹ کے مالک محمد صالح سے رابطہ کیا اور پاسپورٹ ان کے حوالے کر دیا۔


جمعہ, نومبر 05, 2021

تریپوره فساد : شرپسند وں کے خلاف کسی کارروائی کا نہ ہونا انتہائی افسوسناک ، نفرت کی سیاست ملک کو تباہ کردے گی : مولانا ارشدمدنی

تریپوره فساد : شرپسند وں کے خلاف کسی کارروائی کا نہ ہونا انتہائی افسوسناک ، نفرت کی سیاست ملک کو تباہ کردے گی : مولانا ارشدمدنی
نئی دہلی
:تریپورہ میں ہونے والے فساد کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے جمعیت علما ہند کے صدرمولانا ارشدمدنی نے کہا کہ شرپسندوں کے خلاف اب تک کسی ٹھوس کارروائی کانہ ہونا انتہائی افسوسناک ہے یہ ردعمل انہوں نے جمعیت علما ہند کے تری پورہ فسادزدہ علاقوں کا تین روزہ دورہ مکمل کرنے کے بعدپیش تفصیلی رپورٹ پر ظاہر کرتے ہوئے کہی مولاناسید ارشد مدنی کی ہدایت پر ناظم عمومی جمعیت علما ہند مفتی سید معصوم ثاقب اور سکریٹری جمعیت علما اترپردیش مولانا اظہر مدنی پر مشتمل ایک نمائندہ وفدنے تریپورہ فساد زدہ علاقہ کا دورہ کرکے اپنی تفصیلی اور تفتیشی رپورٹ مولانا مدنی کو پیش کی ہے
مولانا مدنی نے کہاکہ تریپورہ کی سرحدیں بنگلہ دیش سے ملتی ہیں لیکن اس کے باوجود یہ ایک پرامن ریاست رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ البتہ ادھرجب سے ایک مخصوص نظریہ کو ماننے والی پارٹی اقتدارمیں آئی ہے فرقہ پرست عناصراور ان کی تنظیموں کو ایک طرح سے کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے، فسادبرپاکرنے کی سازشیں توپہلے سے ہوتی رہی ہیں لیکن پچھلے دنوں بنگلہ دیش میں ہوئے واقعات کو بہانہ بناکر بعض فرقہ پرست تنظیموں نے وہاں حیوانیت اور بربریت کا جو مظاہرہ کیا وہ یہ بتاتاہے کہ فرقہ واریت کازہر کس طرح لوگوں کے دلوں میں اندرتک سرایت کرگیا ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس رپورٹ کے مطابق12مسجدوں پر حملے ہوئے، جلوس کے دوران کی گئی آتشزنی سے مذہبی عبادت گاہوں اور مسلمانوں کی دوکانوں ودیگر املاک کو زبردست نقصان پہنچاہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ تریپورہ میں جو کچھ ہواہے اس سے پوری دنیا میں ملک کی شبیہ مجروح ہوئی ہے۔ ایک ایسے جمہوری ملک میں کہ جہاں آئین کی بالادستی مسلم ہوجس میں ملک کے تمام شہریوں کو مساوی حقوق دیئے گئے ہوں ایک منتخب شدہ حکومت کے ہوتے ہوئے کسی ریاست میں اگر اس طرح کے افسوسناک واقعات رونماہوں اور مرکزوریاست دونوں حکومتیں کچھ نہ کریں تو اس سے آئین وقانون کے بالادستی کے ساتھ ساتھ انصاف کے نظام پر بھی سوالیہ نشان لگ جاتاہے۔
مولانا مدنی نے دعوی کیا کہ جلوس کے دوران شرپسندوں کی بھیڑمسلم اکثریتی علاقوں سے انتہائی دلآزارنعرہ لگاتی اور مسجدوں اور دوکانوں کو جلاتی ہوئی گزری اور پولس اور انتظامیہ کے ذمہ داران خاموش تماشائی بنے رہے یہ کتنے شرم اور افسوس کی بات ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ باورکرایا جارہاہے کہ بنگلہ دیش میں اقلیتوں کے ساتھ جوکچھ ہوا یہ اس کا ردعمل تھا سوال یہ ہے کہ اگر کسی غیر ملک میں کچھ ہوتاہے تو اس کا انتقام اپنے ملک کے شہریوں سے لیاجانا کہا کا انصاف ہے؟ سوال یہ بھی ہے کہ بنگلہ دیش کی حکومت نے شرپسندعناصرکے خلاف جس طرح کی کارروائی کی ویسی کارروائی ہماری حکومت نے شرپسند عناصرکے خلاف کیوں نہیں کی؟ ہم نے بنگلہ دیش میں ہوئے تشددکی سخت مذمت کی تھی، کسی بھی مہذب سماج میں ایسانہیں ہونا چاہئے۔
تریپورہ میں فرقہ پرست طاقتوں نے مسلم اقلیت کے خلاف جو کچھ کیا ہم اس کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے تریپورہ کی سرکارسے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ریاست میں مسلمانوں کے جان ومال کے تحفظ کو نہ صرف یقینی بنائے بلکہ خاطیوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی بھی کرے، اگر ایسے لوگوں کو کھلاچھوڑدیا گیا یا انہیں سیاسی تحفظ فراہم کیا گیاتو ان کے حوصلہ مزید بڑھ سکتے ہیں اور وہ مستقبل میں بھی اس طرح کی مذموم کارروائیاں انجام دیکر امن وقانون کے لئے خطرہ بنتے رہیں گے۔
مولانا مدنی نے اس امرپر بھی سخت افسوس کا اظہارکیا کہ تریپورہ کئی دنوں تک شرپسند عناصر کے نشانہ پر رہا اور آئین کی پاسداری کا حلف لینے والے ہمارے رہنماتماش بین بنے رہے۔ ملک کے آئین اور سیکولرروایت کے لئے یہ کوئی اچھی علامت نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک بڑی اہم پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ تری پورہ ہائی کورٹ نے ازخودان واقعات کا نوٹس لیتے ہوئے ریاستی حکومت سے جواب طلب کیا ہے یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاستی سرکاراپنا فرض ایمانداری سے پوراکرنے میں ناکام رہی ہے۔
مولانا مدنی نے کہا کہ میڈیا نے ایک بارپھر اپنا دوہراچہرہ دکھادیا، بنگلہ دیش کے پرتشددواقعات کو تو اس نے خوب نمک مرچ لگاکر پیش کیا لیکن جب تریپورہ میں حیوانیت کا کھیل ہواتو اس کی کوئی خبر نہیں دکھائی گئی۔ انہوں نے کہاکہ جمعیت علما ہند شرپسندوں کے ہاتھوں جلائی ومسمارکی گئی مسجدوں کی تعمیر نوکرائے گی اور متاثرین کی بازآبادکاری بھی کریگی لیکن تریپورہ کے مسلمانوں کے دلوں میں ان واقعات کے بعد جو ڈراور خوف بیٹھ گیا ہے وہ اتنے بھرسے دورنہ ہوگا بلکہ اس کی واحد صورت یہ ہے کہ پورے معاملہ کی غیر جانبدارانہ تفتیش ہواور اس کی بنیادپر شرپسندعناصر کے خلاف قانونی کارروائی بھی ہوتاکہ انہیں ملک کے قانون کے مطابق قرارواقعی سزامل سکے۔انہوں نے کہاکہ جولوگ امتیازاور تعصب کا رویہ اختیارکرکے ایک خاص کمیونٹی کو قومی دھارے سے الگ کرنے کی کوششیں کررہے ہیں درحقیقت وہ ملک کوتباہی کے راستہ پر ڈال رہے ہیں۔جمہوری نظام سے ہی ملک کی ترقی ممکن ہے، ملک کی بڑی آبادی کا خود کو غیر محفوظ تصورکرنا انتہائی خطرناک اورتشویشناک ہے۔،حکومتیں ڈراورخوف سے نہیں بلکہ عدل وانصاف سے چلتی ہیں

ماں نے لیا تھا قرض ، ریکوری ایجنٹ بیٹی کولے کر فرار ، جانیں سارا معاملہ

ماں نے لیا تھا قرض ، ریکوری ایجنٹ بیٹی کولے کر فرار ، جانیں سارا معاملہ

بہار کی راجدھانی پٹنہ میں ایک عجیب محبت کی کہانی سامنے آئی ہے۔ ماں سے قرض کی وصولی کے لیے یہاں آنے والا ریکوری ایجنٹ بیٹی کو لے کر فرار ہوگیا۔ اب پولیس ان دونوں کو اپنی تحویل میں لے کر پوچھ تاچھ کر رہی ہے۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق یہ لڑکا اور لڑکی جھارکھنڈ کے ہزاری باغ سے فرار ہونے کے بعد پٹنہ کے پھلواری شریف علاقے میں کرائے کے مکان میں رہ رہے تھے۔ پولیس نے دونوں کو حراست میں لے کر پوچھ تاچھ کی تو ان کی محبت کی کہانی کھل کر سامنے آئی۔ لڑکے نے پولیس کو بتایا کہ وہ ایک فنانس کمپنی میں ریکوری ایجنٹ ہے۔ اس نے لڑکی کی ماں کو اپنی کمپنی سے قرض دیا تھا۔ قرض کی وصولی کے لیے وہ اکثر اس کے گھر جاتا تھا جہاں وہ لڑکی سے آمنے سامنے آیا کرتا تھا۔ کچھ دنوں کے بعد لڑکی اور اس کی دوستی ہو گئی۔ پھر دونوں ایک دوسرے کو پیار کرنے لگے۔

پھر ایک دن دونوں گھر سے بھاگ گئے۔ ہزاری باغ سے آنے کے بعد وہ یہاں پٹنہ میں رہنے لگے۔ یہاں پڑوسیوں کو ان دونوں پر شک ہوا۔ اس نے پولیس کو اطلاع دی تو پولیس نے دونوں کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی۔ تفتیش کے دوران ساری کہانی سامنے آگئی۔ معلوم ہوا کہ گھر والے کافی دنوں سے دونوں کی تلاش کر رہے تھے۔ لڑکے اور لڑکی نے بتایا کہ ان کے گھر والے ان کی شادی کے خلاف ہیں۔ اس وجہ سے مجھے گھر سے بھاگنا پڑا۔ فی الحال پولیس نے دونوں کے اہل خانہ کو اطلاع کر دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں کے اہل خانہ آئیں گے تو سب کو بٹھا کر بات کی جائے گی۔ دوسری جانب لڑکے اور لڑکی کا کہنا ہے کہ دونوں بالغ ہیں، ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں۔ ان کی شادی میں کوئی رکاوٹ نہ ڈالیں

باجی گیند تو دے دو ۔۔ میچ کے دوران لڑکی نے گراؤنڈ میں آکر گیند ہی چھپا دی، پھر کیا ہوا دیکھیے


باجی گیند تو دے دو ۔۔ میچ کے دوران لڑکی نے گراؤنڈ میں آکر گیند ہی چھپا دی، پھر کیا ہوا دیکھیے



بیٹی بچاؤ_______مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ

بیٹی بچاؤ_______
مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ
عبد الرحیم دربھنگہوی
بیٹی کے قتل کرنے کا رجحان ماضی قریب میں تیزی سے بڑھاہے او راعدادوشمار بتاتے ہیںکہ اس رجحان نے ملک میںقدرتی اور فطری جنسی نیز صنفی توازن کو تہہ وبالا کرکے رکھ دیا ہے ، کئی صوبوں میںمسئلہ یہ پیدا ہوگیا ہے کہ لڑکوں کو دلہن بنانے اور بیاہ لانے کے لئے لڑکیاں دستیاب نہیں ہیں ، اور انہیں دوسرے صوبوں کی طرف دیکھنا پڑ رہا ہے۔
صنفی توازن کواپنے طور پر غیر متوازن کرنے کی کئی وجوہات ہیں ، پہلی وجہ تو یہ ہے کہ لڑکی کی شادی کے لئے مختلف مذاہب کے ماننے والوں میںگھوڑے ، جوڑے ، سلامی اورجہیز کی جو بیماری بڑھتی رہی ہے ، اس نے اس رحجان کو فروغ دیا کہ لڑکیوںکودنیا میں آنے نہ دیا جائے، الٹراسائونڈ اور جانچ کی دوسری سہولتوں کی وجہ سے یہ ممکن ہوگیا ہے کہ حالت حمل میں ہی جنین کا پتہ چلالیا جائے ایسے میں شادی کے بکھیروں اورکمائی کا بڑا حصہ تلک وجہیز کے نام پر لڑکے والوں کو دینے سے بہتر معلوم ہوتا ہے کہ اسے دنیا ہی نہ دیکھنے د ی جائے ۔سرکار کو اس مسئلے کی سنگینی کا احساس ہے، اس لیے اس نے الٹراساؤنڈ کے ذریعہ حالت حمل میں جنس کا پتہ چلانے کو غیر قانونی قرار دیا ہے، اور الٹرا ساؤنڈ سے متعلق دکانوں پر اس مضمون کا بورڈ آویزاں بھی رہتا ہے، لیکن اس کی پرواہ کو ن کرتا ہے ، دوسرے بہت سارے غیر قانونی کاموں کی طرح یہ کام بھی معقول رقم پکڑانے پر ہو جاتا ہے اور اگر بچی ثابت ہوئی تو ماں کے پیٹ کو ہی اس کی قبر بنا دی جاتی ہے، قیامت میں اس کے بارے میں بھی سوال ہوگا کہ کس جرم کی پاداش میں قتل کی گئیں۔
اسلا م میں معاملہ اس کا الٹا ہے ، یہاںبیٹی اللہ کی رحمت ہے ، جنت میں لے جانے کا سبب ہے ، بیٹی بیوی بن جائے تو شریک حیات بن کر گھرکوپرسکون بنانے کا ذریعہ ہے ، اور جب وہ ماں بن جائے تو اس کے قدموں تلے جنت ہے ، بہن ہے تو اپنے بھائیوں اور خاندان کے لئے مونس وغم خوار ہے اور یہ عورت ہی ہے جو بڑی مصیبت اٹھا کر ہمیں دنیا میں لانے کا ذریعہ بنی ۔یہاںشادیوں میںلڑکی والے پر کوئی مالی بوجھ نہیں ہے ،نان ونفقہ ، رہائش کے  لئے مکان وغیرہ کی فراہمی لڑکے کے ہی ذمہ ہے ، خوشی میں بھوج دینا بھی جسے ولیمہ کہا جاتا ہے،اسی کی ذمہ داری، ان سارے اخراجات کے ساتھ مہر کی ادائیگی بھی نکاح کے بنیادی لوازمات میںسے ہے ، اس لئے مسلمانوں کے یہاں دختر کشی کا یہ عمل نسبتا ً کم ہے ،یہ اور بھی کم ہوسکتا ہے اگر ہم شریعت کے احکام کا پاس و لحاظ کرتے ہوئے سلامی اور جہیز کے ذریعہ معیار زندگی بڑھانے کا خیال دل سے نکال دیں ، بدقسمتی سے یہ بیماری بہت سارے علاقوں میں مسلم سماج میںبھی داخل ہوگئی ہے ، جس کی وجہ سے بڑی عمر تک لڑکیوں کے ہاتھ پیلے نہیں ہو پارہے ہیں، حیدر آباد ، بھوپال وغیرہ میں بڑی تعدادمیںلڑکیاں کنواری بیٹھی ہوئی ہیں ، اس صورت حال میں دخل کفو کے نام پر غیر ضروری میچنگMaching دیکھنے کا بھی ہے ، دین داری اصل ہے ، اس میںبرابر ی کا تصور کم ہوتا جارہا ہے اور اس کی جگہ دوسری مختلف چیزوں کو ناک کا مسئلہ بنالیا گیا ہے ، شریعت کا مطالبہ صرف یہ ہے کہ ایسا رشتہ جس کے دین واخلاق سے اطمینان ہو ، اس کو قبول کرلینا چاہئے ، اگر ایسا نہیں کیا گیا تو زمین میں بگاڑ پیدا ہونے کا خطر ہ ہے ۔واقعہ یہ ہے کہ ہماری بدعقلی ، بے شعوری اور شرعی احکام کی ان دیکھی کی وجہ سے بگاڑ پیدا ہوچکاہے ، اور مختلف مذاہب کے مابین غیر شرعی شادی کا مزاج بڑھتا جارہاہے اور ہماری لڑکیاں محفو ظ نہیں ہیں ۔
ان دنوں لڑکیاں ایمان وعقیدہ کے اعتبار سے بھی غیر محفوظ ہو رہی ہیں، آئے دن غیر مسلموں کے ساتھ ان کے رشتے کی خبر آ رہی ہے ، فرقہ پرست طاقتور کی طرف سے اسے مہم کی شکل دی گئی ہے، پہلے وہ لوگ بھولی بھالی مسلم لڑکیوں کو پیار محبت کے جھانسے میں پھنساتے ہیں، پھر انہیں شادی کی پیش کش کرتے ہیں، اور جب وہ شادی کے لیے تیار ہوجاتی ہیں تو ان کا مذہب تبدیل کراکر ہندو رسم ورواج کے مطابق ان سے ساتھ پھیرے لگوائے جاتے ہیں، کچھ دنوں کے بعد جب جی بھر جاتا ہے تو ان لڑکیوں کا قتل کرادیا جاتا ہے اور لاش کسی ریل کی پٹری پر مل جاتی ہے، حکومتی سطح پر اسے خود کشی قرار دے کر فائل بند کر دی جاتی ہے ، بیٹیوں کی حفاظت کے لیے ہمیں ان اسباب وعوامل پر بھی غور کرنا چاہیے، جس کی وجہ سے اس قسم کے واقعات پیش آتے ہیں، مخلوط تعلیمی اداروں میں جوان لڑکے لڑکیوں کا ایک ساتھ پڑھنا، موبائل کا استعمال ، شادی میں تاخیر وغیرہ اس ارتداد کے بنیادی اسباب ہیں، گارجین اور والدین کی تعلیم وتربیت میں کمی اور نگرانی کے ختم ہوتے رجحانات بھی اس کلچر کو فروغ دینے میں بڑی حصہ داری نبھاتی ہے، اس لیے بیٹیوں کے ایما ن وعقیدہ، عزت وآبرو کی حفاظت کے لیے انتہائی مستعدی کی ضرورت ہے اور ظاہر ہے جو اسباب وعوامل ہیں اس کو دور کیے بغیر ہم بیٹیوں کی حفاظت نہیں کر سکتے۔

اردودنیانیوز۷۲

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا ...