پیر, نومبر 08, 2021
دارالعلوم دیوبند نےاٹھایا اہم قدم ، اسمبلی الیکشن تک کیمپس میں سیاستدانوں کے داخلے پرپابندی
https://urduduniyanews72.blogspot.com0
اردو دنیا نیوز۷۲
سرورق بین الاقوامی قومی بین ریاستی خبریں اسپورٹس جرائم و حادثات فلمی دنیا گوشہ خواتین و اطفال مضامین و شاعری دلچسپ خبریں صحت اور سائنس
ڈائریکٹر ایم رحمانی
Director M Rahmani
کیا اپنی پالیسی پر عمل کرنا جرم ہے ؟ مہتمم ابوالقاسم نعمانی کے وضاحتی بیان آجانے کے بعد کوئی فتین اور شرانگیز ہی غلط تبصرہ کرسکتاہے ! انوار الحق قاسمی ناظم نشر و اشاعت جمعیة علماء ضلع روتہٹ نیپال
کیا اپنی پالیسی پر عمل کرنا جرم ہے ؟ مہتمم ابوالقاسم نعمانی کے وضاحتی بیان آجانے کے بعد کوئی فتین اور شرانگیز ہی غلط تبصرہ کرسکتاہے ! انوار الحق قاسمی ناظم نشر و اشاعت جمعیة علماء ضلع روتہٹ نیپال
چوں کہ یہ دور' اتر پردیش الیکشن' کی تیاری کا چل رہا ہے۔اس موقع سے تمام سیاسی جماعتوں کے لیڈران سیاسی دورے پر ہیں۔ہرایک کا کہیں نہ کہیں اتر پردیش کے عوام کے مابین خطاب ہورہاہے اور ہر ایک اپنی جیت کے لیے لوگوں کو اپنی طرف مائل کررہے ہیں۔
چند دنوں قبل ایم آئی ایم کے صدر ،ایم پی اسدالدین اویسی بھی اتر پردیش انتخاب کے پیش نظر سہارنپور،مظفر نگر کے سیاسی دورے پر تھے اور ان کا بھی دونوں جگہ عوام کے مابین سیاسی خطاب ہوا۔چوں کہ ضلع "سہارنپور'ہی میں 'دیوبند' واقع ہے اور یہیں ایشیا کا عظیم علمی ادارہ 'دارالعلوم'بھی ہے؛اس لیے مجلس اتحاد المسلمین کے قومی صدر اسد الدین اویسی کی خواہش ہوئی کہ دارالعلوم دیوبند کے قرب و جوار میں پہنچ کر،دارالعلوم کی زیارت نہ کرنا،میرے لیے باعثِ حرماں نصیبی ہے؛اس لیے انہوں نے پانچ افراد پر مشتمل ایک وفد دارالعلوم بھیجا،جس میں اسدالدین کے ایک نمائندہ "مہتاب چوہان صدر مغربی یوپی مجلس اتحاد المسلمین'بھی تھے۔
یہ وفد دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مفتی ابو القاسم نعمانی کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا،اور مجلس اتحاد المسلمین کے قومی صدر،بیرسٹر اسدالدین اویسی کی دارالعلوم آمد کے سلسلے میں گفتگو کیا اور اویسی کو دارالعلوم بلائے جانے کی درخواست کی؛مگر دارالعلوم دیوبند کے مہتمم وشیخ الحدیث مفتی ابو القاسم نعمانی نے کہا: کہ ابھی اتر پردیش الیکشن کو لے کر سیاسی سرگرمیاں زور وشور پر ہے،ہر پارٹی کے لیڈران ان دنوں اپنے پرچار اور تشہیر میں مصروف ہیں،اور دارالعلوم کا یہ ضابطہ اور دستور ہے کہ یہاں انتخابی موسم میں سیاسی لیڈروں کو آنے کی اجازت نہیں دی جاتی ہے اور نہ ہی یہاں کے ذمہ داران ان سے ملتے ہیں؛اس لیے اس ضابطے کی روشنی میں،میں ابھی انہیں دارالعلوم آنے کی اجازت نہیں دیتا ہوں۔
بس اتنی سی بات پر سوشل میڈیا پر اس قدر ہنگامہ کہ دارالعلوم کے مہتمم مفتی ابو القاسم نعمانی نے مجلس اتحاد المسلمین کے قومی صدر اسد الدین اویسی کو دارالعلوم آنے کی اجازت نہیں دی،اور بعض ناہنجاروں نے تو اپنی بات کو دارالعلوم کے مہتمم کی طرف منسوب کرتے ہوئے لکھا:کہ مفتی صاحب نے کہا :کہ ہم اویسی سے ملنا بھی گوارہ نہیں کرتے ہیں،یہ ایک محض جھوٹی بات ہے،جسے ان بد بختوں نے مہتمم صاحب کی جانب منسوب کیاہے، اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی کتاب میں فرماچکے ہیں:کہ کاذبین پر اللہ کی لعنت ہے،جھوٹوں کے لیے اس سے بڑی وعید اور کیا ہوسکتی ہے؟
بعض قلم کاروں نے لکھا کہ عوام میں اب یہ بات بھی ہونے لگی ہے کہ مہتمم صاحب نے اسد الدین اویسی کو دارالعلوم آنے کی اجازت صرف اس لیے نہیں دی ہے،کہ اسدالدین اویسی کا تعلق بریلوی مکتب فکر سے ہے،اگر ان کا تعلق بریلوی مکتب فکر کے بجائے،دیوبندی مکتبہ فکر سے ہوتا،تو پھر مہتمم صاحب انہیں دارالعلوم دیوبند آنے کی اجازت ضرور دیتے؛بل کہ انہیں شوق سے دارالعلوم بلاتے۔
یہ بات مجھے اب تک سمجھ میں نہیں آرہی کہ اکثر لوگ ظاہری باتوں کے مقابلے میں ذہن میں مخفی اور پوشیدہ باتوں اور خیالوں کی طرف کیوں زیادہ دیکھتے ہیں؟مفتی صاحب نے تو بس اتنا ہی کہا ہے:کہ دارالعلوم دیوبند کا دستور ہے کہ دارالعلوم کے ذمہ داران انتخابی زمانے میں سیاسی لیڈروں کو یہاں آنے کی اجازت نہیں دیتے ہیں،اس لیے میں انہیں فی الحال دارالعلوم آنے کی اجازت نہیں دیتاہوں۔
یہ مفتی صاحب کی ظاہری بات ہے،جس کی طرف دیکھتے ہوئے لوگوں کو یہ بات کہنی چاہئے تھی کہ مہتمم صاحب نے دارالعلوم کی پالیسی کے تحت فی الحال مجلس اتحاد المسلمین کے قومی صدر اسد الدین اویسی کو دارالعلوم آنے کی اجازت نہیں دی ہے؛پھر جب انتخابی زمانہ ختم ہو جائے گا،اور اسدالدین اویسی کو دارالعلوم آنے کی خواہش ہوگی،تو مہتمم صاحب انہیں ضرور بلائیں گے اور ان کا پرزور استقبال بھی کریں گے۔
ان باتوں کے بجائے ان باتوں کی طرف ذہن منتقل کرنا( کہ مہتمم صاحب نے اسدالدین اویسی کو دارالعلوم آنے کی اجازت صرف اس لیے نہیں دی ہے کہ وہ بریلوی مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہیں،اور اس لیے بھی کہ مہتمم صاحب کو اسد الدین اویسی پسند نہیں ہیں)جن کی طرف مفتی مہتمم صاحب کا (جہاں تک میرا خیال ہے)خیال بھی نہیں گیاہوگا،کا قائل ہونا،اور انہیں چرچے میں لانا انتہائی غلط بات ہے۔
"الحکم یدار علی الظاہر'لوگوں کو چاہیے کہ ظاہری باتوں کی طرف دیکھیں !اور ظاہری باتوں ہی کے پیش نظر اپنی رائے قائم کریں اور ہرگز ذہنی اور خیالی باتوں کی طرف اپنا ذہن منتقل نہ کریں ؛کیوں کہ کیا ضروری ہے کہ جن چیزوں کی طرف آپ کا ذہن گیاہے،ان کی طرف متکلم کا بھی ذہن گیاہو؟ہوسکتاہے کہ ان کی طرف متکلم کا معمولی بھی ذہن نہ گیا ہواور وہ چیزیں متکلم کے حاشیہ خیال میں بھی نہ آئی ہوں؛اس لیے ان سب چیزوں سے لوگوں کو بہت بچنے کی ضرورت ہے۔
اور کیاکسی ادارہ کے ذمہ داران کا اپنی پالیسی کے تحت آنے کی اجازت نہ دیناجرم ہے؟ اپنی پالیسی پر عمل کرنااور اس کے مطابق کسی کو آنے کی اجازت نہ دینا قطعی جرم نہیں ہے؛اس لیے لوگوں کو چاہئے کہ مہتمم صاحب کے حوالے سے بدگمان نہ ہوں،حسن ظن رکھیں!اسی میں بھلائی ہے۔
مہتمم صاحب نے تو اپنا وضاحتی بیان بھی دے دیا ہےکہ ہم نے اپنی پالیسی کے مطابق مجلس اتحاد المسلمین کے قومی صدر اسد الدین اویسی کو دارالعلوم آنے کی اجازت نہیں دی ہے اور یہی بات ہم نے ان کے نمائندوں سے بھی کہا ہے،اس کے علاوہ اور کوئی دوسری بات نہیں ہوئی ہے۔اب اگر کوئی اپنی طرف سے کچھ کہہ رہا ہے،تو یہ ان کا ذاتی فعل ہے،اس میں میرا کیا قصور ہے؟
میرا خیال ہے کہ حضرت مہتمم صاحب کی طرف سے وضاحتی بیان آجانے کے بعد اب سوائے فتین اور شرانگیز کے کوئی بھی غلط تبصرہ نہیں کرسکتا ہے۔
یہ بات بھی کسی سے مخفی نہیں ہے کہ مجلس اتحاد المسلمین کے قومی صدر اسد الدین اویسی مسلمانوں کے ایک اچھے قائد ہیں،اور وہ مسلمانوں کی صحیح ترجمانی بھی کرتے ہیں،ان کی عزت اور حوصلہ افزائی ہر ایک مسلمان کو کرنی چاہئے۔میرا خیال ہے کہ یہ نوجوان قائد ،مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسد الدین اویسی اکثر مسلمانوں کے قلوب میں نمایاں خدمات کی وجہ سے اپنی جگہ بناچکے ہیں۔
ایسی بات نہیں ہے کہ مہتمم صاحب کو اسد الدین اویسی سے کوئی عناد اور دشمنی ہے،جس کی بنا مہتمم صاحب نے انہیں دارالعلوم آنے کی اجازت نہیں دی،بل کہ مہتمم صاحب کو بھی ان سے محبت ہےاور ان کی عظمت ان کے دل میں بھی ہے،مہتمم صاحب نے انہیں صرف اپنی پالیسی کی بنا منع کیا ہے۔
مہتمم صاحب اگر پالیسی کے خلاف عمل کرتے ہوئے اسد الدین اویسی کو دارالعلوم دیوبند آنے کی اجازت دیتے ،تو پھر آئندہ کےلیے یہ پالیسی کی مخالفت کا عمل مہتمم صاحب کے لیے باعث مصیبت ہوتا۔
کیوں کہ آئندہ جوں ہی دیگر سیاسی لیڈران کے سامنے پالیسی کی بات آتی،تو وہ فوراً کہہ دیتے کہ آپ کی پالیسی کیسی ہے ،جو صرف ہم لوگوں کے لیے ہے،یعنی غیر مسلم لیڈروں کےلیے،ابھی اسد الدین اویسی دارالعلوم آئے،تو کیوں آئے؟کیاان کے لیے یہ پالیسی نہیں تھی؟الغرض ہندو، مسلم کی بحث جاری ہوجاتی۔اس لیے مفتی صاحب نے جو کیا ہے،بہت ہی اچھا کیا ہے،پالیسی پر عمل کرنا یہ اچھی بات ہے۔
https://urduduniyanews72.blogspot.com0
اردو دنیا نیوز۷۲
سرورق بین الاقوامی قومی بین ریاستی خبریں اسپورٹس جرائم و حادثات فلمی دنیا گوشہ خواتین و اطفال مضامین و شاعری دلچسپ خبریں صحت اور سائنس
ڈائریکٹر ایم رحمانی
Director M Rahmani
نوٹ بندی کا فیصلہ ، جس کے فائدے عوام کو آج تک سمجھ میں نہیں آئے ... سید خرم رضا
نوٹ بندی کا فیصلہ ، جس کے فائدے عوام کو آج تک سمجھ میں نہیں آئے ... سید خرم رضا
اس کے ساتھ ایک بہت ہی عجیب فیصلہ سامنے آیا کہ حکومت دو ہزار روپے کا نوٹ لا رہی ہے، یہ بات اس لئے عجیب لگی کہ پانچ سو اور ہزار کے نوٹ کو ختم کرتے ہوئے یہ دلیل دی گئی تھی کہ اس سے بدعنوانی رک جائے گی لیکن ان کو ختم کر کے بڑی کرنسی کو شروع کرنے کا مطلب یہ ہے کہ بدعنوان افراد کے لئے اب کم جگہ میں زیادہ پیسہ رکھنے اور دینے کی سہولت مل گئی، ابھی تک ہم یہ سنتے رہے ہیں کہ بڑی کرنسی سے بدعنوانی کو فروغ ملتا ہے۔ لیکن اس تعلق سے ابھی تک کوئی تسلی بخش جواب نہیں ملا۔
کہا یہ گیا کہ دہشت گردی کی کمر ٹوٹ جائے گی جوکہ آج تک ٹوٹی نظر نہیں آئی۔ کیونکہ دہشت گرد ہمارے فوجیوں اور پولیس والوں کو اب بھی شہید کردیتے ہیں اور ان ظالموں کے ظلم میں کوئی کمی نظر نہیں آئی۔ زمین جائداد کی خریداری میں لوگ آج بھی نقد کا استعمال کر رہے ہیں اور ان کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ اس میں سفید کرنسی صرف اتنی ہی ہو جتنی سرکاری طور پر لازمی ہے۔
کہا یہ جا رہا ہے کہ کیش لیس یعنی کارڈ وغیرہ سے خریداری میں اضافہ ہوا ہے جس سے شفافیت آ ئی ہے۔ کارڈ اور ڈیجیٹل طریقوں سے لین دین میں اضافہ ہوا ہے لیکن اس میں نوٹ بندی کا کوئی کردار نہیں ہے۔ اس میں اگر کوئی کردار ہے تو سماج کی ترقی، ٹیکنالوجی کی ترقی اور کورونا وبا۔ کورونا وبا کے دوران لوگوں نے جو گھر بیٹھ کر سامان منگوایا اور ان کو جن لوگوں نے رقم ٹرانسفر کی ہے اس سے ضرور ڈیجیٹل پیمنٹ کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے۔
نوٹ بندی کا کوئی فائدہ نظر نہیں آتا لیکن اس کے نقصانات بہت ہوئے ہیں۔ گھروں سے پیسہ غائب ہو گیا، چھوٹے کاروبار تباہ ہو گئے، قومی معیشت کو زبردست نقصان ہوا جو کہ جلد ابھرتی نظر نہیں آ رہی۔ یہ وہ فیصلہ تھا جس کے فائدہ عوام کو آج تک سمجھ میں نہیں آئے۔
https://urduduniyanews72.blogspot.com0
اردو دنیا نیوز۷۲
سرورق بین الاقوامی قومی بین ریاستی خبریں اسپورٹس جرائم و حادثات فلمی دنیا گوشہ خواتین و اطفال مضامین و شاعری دلچسپ خبریں صحت اور سائنس
ڈائریکٹر ایم رحمانی
Director M Rahmani
شیر میسورحضرت ٹیپو سلطان شہیڈ اولین مجاہد آزادی اور مذہبی رواداری کے علمبردار تھے
بنگلور (پریس ریلیز) شیر میسور حضرت ٹیپو سلطان شہید رحمۃ اللہ علیہ برصغیر کے وہ اولین مجاہد آزادی اور شہید آزادی ہیں، جنہوں نے آزادی کی پہلی شمع جلائی اور حریت فکر، آزادی وطن اور دین اسلام کی فوقیت و فضیلت کے لیے اپنی جان نچھاور کردی تھی۔ حضرت ٹیپو سلطان شہید ؒنے حق و باطل کے درمیان واضح فرق و امتیاز قائم کیا اور پرچم آزادی کو ہمیشہ کے لیے بلند کیا تھا اور اسی پرچم کو بلند کرتے کرتے جام شہادت نوش فرمالی۔ مذکورہ خیالات کا اظہار مرکز تحفظ اسلام ہند کے بانی و ڈائریکٹر محمد فرقان نے کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ حضرت ٹیپو سلطان شہیدؒ ایک نرم دل، عدل پرور، مساوات، مذہبی رواداری کے علمبردار اور مذہبی تعصب سے پاک بادشاہ تھے۔ وہ ایک ایماندار اور روشن خیال حکمراں تھے، جنہوں نے اپنے دورِ حکومت میں نہ صرف بین المذاہب رواداری کو باقی رکھا بلکہ اس کی جڑوں کو مستحکم کرتے ہوئے ہندوؤں کو اپنی فوج اور انتظامیہ میں اعلیٰ عہدوں پر فائز بھی کیا۔ اسکے علاوہ حضرت ٹیپو سلطان شہیدؒ نے اپنے دور حکومت میں جہاں مختلف مسجدیں بھی تعمیر کیں وہیں اپنے ہندو رعایا کو مندر قائم کرنے کیلئے اجازت دیں اور سہولیات فراہم کیں۔ محمد فرقان نے فرمایا کہ لیکن افسوس کہ ادھر چند سالوں سے کچھ فرقہ پرست عناصر حضرت کی شخصیت کو مجروح کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ان پر بے بنیاد الزامات عائد کرتے ہیں۔ جس سے عموماً اہل وطن بالخصوص نوجوان نسل میں شک و شبہات پیدا ہونے کا خطرہ لاحق ہوتا جارہا ہے۔ اسی کو پیش نظر رکھتے ہوئے حضرت ٹیپو سلطان شہیدؒ کی اصل سیرت کو عام کرنے اور فرقہ پرست طاقتوں کو منھ توڑ جواب دینے کیلئے مرکز تحفظ اسلام ہند کی جانب سے'سلطان ٹیپوؒ'کے نام سے ٹیوٹر مہم چلائی جارہی ہے۔ ٹرینڈ کیلئے 10 / نومبر 2021ء بروز بدھ شام 6:00 بجے کا وقت طے کیا گیا ہے۔وقت سے پہلے ان شاء اللہ مرکز تحفظ اسلام ہند کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے ہیش ٹیگ کا اعلان کیا جائے گا اور مرکز کے آفیشل ٹیوٹر ہینڈل سے ٹیوٹ بھی کیا جائے گا۔ مرکز کے ڈائریکٹر محمد فرقان نے تمام اہل وطن بالخصوص برادران اسلام سے اپیل کی کہ وہ اس 'سلطان ٹیپوؒ ٹیوٹر ٹرینڈ' میں بھرپور حصہ لیں اور حضرت کی سیرت کو عام کریں۔ مندرجہ ذیل لنک کے ذریعے مرکز کے آفیشیل ٹیوٹر ہینڈل کو فالوو کرسکتے
https://urduduniyanews72.blogspot.com0
اردو دنیا نیوز۷۲
سرورق بین الاقوامی قومی بین ریاستی خبریں اسپورٹس جرائم و حادثات فلمی دنیا گوشہ خواتین و اطفال مضامین و شاعری دلچسپ خبریں صحت اور سائنس
ڈائریکٹر ایم رحمانی
Director M Rahmani
یوپی الیکشن 2022 : بی جے پی کو 400 سیٹوں پرشکست کاسامناکرناپڑےگا ، اکھلیش یادوکادعویٰ
https://urduduniyanews72.blogspot.com0
اردو دنیا نیوز۷۲
سرورق بین الاقوامی قومی بین ریاستی خبریں اسپورٹس جرائم و حادثات فلمی دنیا گوشہ خواتین و اطفال مضامین و شاعری دلچسپ خبریں صحت اور سائنس
ڈائریکٹر ایم رحمانی
Director M Rahmani
اتوار, نومبر 07, 2021
ابو ظفر سراج الدین محمد شاہ ظفر کی 159 ویں یوم وفات کے موقع پر بہادر شاہ غازی ... بہادر
ابو ظفر سراج الدین محمد شاہ ظفر کی 159 ویں یوم وفات کے موقع پر بہادر شاہ غازی ... بہادر
بہادر شاہ ظفر ایک نرم دل، غریب پرور، شاعرا نہ اور صوفیانہ مزاج کے پیکر تھے، جنہوں نے مروجہ علوم کے علاوہ فنون حرب گھوڑ سواری، تلوار بازی، تیر اندازی اور آتشیں اسلحہ پر مکمل دسترس حاصل کی، خصوصاً وہ ایک بہترین نشانہ باز اور اعلیٰ گھوڑ سوار تھے، جن کا شمار اس عہد میں ہندوستان کے ڈھائی گھوڑ سواروں میں ہوتا تھا، ان کے بعد دوسرا نمبر مرزا جہانگیر بخت (بھائی) جبکہ آدھا نمبر پر مہاراشٹر کا گھوڑ سوار کا تھا۔
ہرعروجے را زوال است کے مماثل مغلیہ سلطنت بھی وقت کے پہیہ کے ساتھ آہستہ آہستہ اپنے زوال کی طرف گامزن تھی اسی اثنا میں یکایک میرٹھ سے قبل از وقت پہلی ملک گیر جنگ آزادی 10؍مئی1857ء کے شعلے بھڑ ک اٹھے۔ بغاوت کے علم بلند کرنے والے دیسی سپاہیوں نے درگاہ شاہ پیر صاحب پر روزہ افطار کرکے 11؍مئی کی صج جب دہلی کی دہلیز پر قدم رکھا، تب شہنشاہ ہند سراج الدین محمد بہاد رشاہ ظفر اس جھرونکھے میں تشریف فرما تھے جہاں کبھی مغل شہنشاہ شاہجہاں بیٹھ کر عوام سے روبرو ہوتے تھے۔ اچانک ان کی نظریں آسمان میں اٹھتے گرد وغبار کی طرف اٹھی تو انہوں نے رسالہ دار کو سوار بھیج کر ماجرہ جاننے کی کوشش کی، تو معلوم ہوا کہ میرٹھ کے باغی سپاہیوں کا لاؤ ولشکر ہے جو کمپنی بہادر سے بغاوت کرکے عالم پناہ کے حضور میں پیش ہونے کے لیے متمنی ہے۔
بہرکیف تقربیاً شام چار بجے سپاہیوں نے حضورِمعلی سے مل کر التجا کی کہ وہ ان کے سروں پر ہاتھ رکھیں اور انقلابی تحریک کی عنان سنبھالیں،جو اس پیرانہ سالی میں سانپ کے بل میں ہاتھ ڈالنے کے مترادف تھا مگر 82 ؍سالہ ضعیف العمر تاجدار ہند کچھ لیت ولعل کے بعد رضامند ہوگئے اور پھر پلٹ کر نہیں دیکھا۔ ان کی حکمت عملیوں نے باغی فوجیوں کے حوصلوں میں ایک نئی جان پھونک دی، چنانچہ دلّی میں جوق درجوق انقلابیوں کے آنے کا سلسلہ شروع ہوگیا، جن میں سب سے اہم نام عظیم انقلابی بخت خاں کا ہے، موقع ومحل کے مدنظر بادشا ہ سلامت نے انگریزوں کے خلاف راجپوتانہ سمیت تمام ریاستوں کو تعاون کے لیے خطوط روانہ کیے، مگر ان کے خون اتنے سفید ہوچکے تھے کہ انہوں نے ان کا جواب دینا بھی گوارا نہ کیا۔
گنگا-جمی تہذیب کے علمبردار عالم پناہ کے حکم سے بخت خاں نے 9؍جولائی کو ڈھنڈورا پٹوایا کہ جو گائے ذبح کرے گا وہ توپ کے منھ سے اڑایا جائے گا۔ 19؍جولائی 1857ء کو بخت خان اور اس کے فوجیوں نے انگریزوں کے چھکے چھڑاتے ہوئے مغربی چوکیوں پر قبضہ کر لیا، مگر انگریز ہار کہاں ماننے والے تھے، انہوں نے اپنے نمک خواروں کے ذریعہ 7؍اگست کو انقلابیوں کے اسلحہ خانہ میں آگ لگ لگوادی جس میں کافی جانی نقصان ہوا، آخرکار جیون لعل، رجب علی، مرزا الہٰی بخش کی ٹولیوں اور غدار ہندوستانی ریاستوں کے فرماں رواؤں کی بدولت ایسٹ انڈیا کمپنی نے دلّی کی اینٹ سے اینٹ بجادی، دل برداشتہ بہادر شاہ ظفر نے قلعہ چھوڑ کر ہمایوں کے مقبرے میں جانے کا فیصلہ کیا، بخت خاں اپنے مورچہ پے ڈٹا ہوا تھا جیسے ہی اس نے سنا وہ ویسے ہی بادشاہ کی خدمت میں حاضر ہوا، جہاں پناہ کو زمینی حقائق سے روبرو کرا کر اپنے ساتھ چلنے کی گزارش کی تو بادشاہ سلامت نے جواب دیا کہ ہم ہمایوں کے مقبرے جاتے ہیں، تم کل صبح وہاں آؤ۔
قابل ذکر امر ہے کہ قلعہ سے نکل کر بہادر شاہ ظفر سیدھے درگاہ حضرت نظام الدین اولیاء پہنچے اور وہاں خواجہ شاہ غلام حسن سے ملاقات کی۔ پریشان حال شہنشاہ نے مختصر گفتگو کرنے کے بعد بتایا کہ جب تیمور نے قسطنطنیہ پر یلغار کی تھی تو اس نے وہاں کے سلطان با یزید یلدرم سے پیغمبر اکرم ﷺ کے خط کے بال حاصل کیے تھے، جو اب تک مغل بادشاہوں کے پاس محفوظ تھے لیکن اب میرے لیے آسمان کے نیچے یا زمین کے اوپر کوئی جگہ نہیں بچی، اس لیے میں یہ امانت آپ کے حوالے کر رہا ہوں تاکہ یہ محفوظ رہے۔
خواجہ شاہ غلام حسن نے وہ بال ان سے لے کر درگاہ کی تجوری میں رکھ دیئے، بھوک سے بے حال بادشاہ سلامت نے روکھی سوکھی روٹی کے چند لقمے نوش فرماکر ہمایوں کے مقبرے کی جانب رخ کیا۔ اگلے روز 21؍ستمبر 1857ء کو وعدے کے مطابق جنرل بخت خاں، ڈاکٹر وزیر خاں اور مولانا فیض احمد بدایونی بہادر شاہ ظفر سے ملے، مگر بادشاہ سلامت اپنے فریبی سمدھی مرزا الٰہی بخش کے ہاتھوں کا کھلونا بن چکے تھے، دلّی کو چھوڑنے کو راضی نہ ہوئے، اس طرح انہوں نے خود انگریزوں کو دنیا کی تیسری بڑی طاقت مغلیہ سلطنت کے آخری حکمراں کی باقی ماندہ عظمت واحترام کو پیروں تلے روندنے کا موقع فراہم کر دیا۔ مایوس بخت خاں بادشاہ کو ان کے حال پہ چھوڑ کر اپنی فوج کے ساتھ مشرقی دروازے سے دریا کی طرف اتر گیا، مرزا الٰہی بخش نے فوراً اس کی خبر برٹش خیمہ کو پہنچائی تو ہڈسن آخری تاجدار ہند کو گرفتار کرنے کے لیے پہنچ گیا۔
بہادر شاہ ظفر، ز ینت محل اور شہزادے جواں بخت نے جان بخشی کے وعدے پرخود کو ہڈسن کے حوالے کر دیا، حراست کے دوران بہادر شاہ ظفر کو ہر لمحہ ذلت کے گھونٹ پینے کے علاوہ مختلف روحانی اور جسمانی اذیتیں جھیلنی پڑیں، مگر جب بے رحم ہڈسن نے مرزا مغل، مرزا خضرسلطان اور مرزا ابوبکر کو گولی مار کر ان کا سرتن سے جد ا کرکے بادشاہ کو بطور نذرانہ پیش کیا، تو ایک عمر رسیدہ مقید بادشاہ کی زبان سے برجستہ نکلا کہ ''تیموری نسل کے غیور شہزادے اپنے بڑوں کے سامنے اسی طرح سرخرو ہوتے ہیں۔'' اس طرح ایک لاچار و بے بس بادشاہ جیت گیا اور ہڈسن ہار گیا۔
27؍جنوری 1858ء کو صج 11؍بجے بہا در شاہ ظفر کے نمائشی مقدمہ کی سماعت ایک خود ساختہ ملٹری کمیشن نے شروع کی۔ پنجاب کمشنر لارنس کے حکم پر عدالت نے 2؍اپریل 1858ء کو جلاوطنی کی سزا سنائی۔ مورخہ 7؍کتوبر 1858ء بادشاہ سلامت، اہلیہ زینت محل، دو بیٹے مرزا جواں بخت اور مرزا شاہ عباس سمیت 35 ؍شاہی افراد کو بذریعہ بیل گاڑیوں دلّی سے کلکتہ روانہ کیا، مگر خوفزدہ فرنگیوں نے حفاظتی نقطہ نظر کے مدنظر انہیں اثنائے راہ ملک کی مختلف چھاؤنیوں میرٹھ و الٰہ آباد وغیرہ میں ٹھہرایا، میرٹھ کینٹ میں واقع ایک مسجد ان کے قیام کی گواہ تھی، 83 سالہ ناتواں بادشاہ سفر کی صعوبتوں کو برداشت کرتے ہوئے کلکتہ پہنچے۔ جنہیں 4؍دسمبر کو ہگلی کی ڈائمند بندر گاہ سے رنگون بھیجا گیا، چھ دن کی مسافت طے کرنے بعد ان کا مگویرا (Magoera) جہاز10 ؍دسمبر کو لنگر انداز ہوا، کیپٹن نیلسن ڈیوس رنگون کا منتظم تھا، اس نے بندرگاہ پر شہنشاہ اور ان کے خاندانی افراد کو اپنی تحویل میں لیا، جنہیں اس نے مختلف خیموں نیز ایک گیراج میں رکھنے کے بعد ساگون کی ایک عمارت میں منتقل کر دیا۔
ہندوستان کے آخری مغل حاکم بہادر شاہ ظفر کی صحت قید وبند کی زندگی سے مزید خراب ہوگئی۔ ان کا گلا فالج کا شکار ہوگیا، جہاں پناہ کو 6 ؍نومبر 1862ء کو فالج کا تیسرا دورہ پڑا اور 7 ؍نومبر کی صبح 5؍بجے 87 ؍سال کی عمر میں انہوں نے داعیٔ اجل کو لبیک کہا، شہزادہ جوان بخت اور حافظ محمد ابراہیم دہلوی نے غسل دیا، سرکاری بنگلے کے پیچھے قبر کھودی گئی، ڈیوس کے مطابق ان کے جنازے میں تقریباً 100 ؍لوگ شامل تھے۔ شام 4 ؍بجے جسد خاکی کو سپرد خاک کر دیا گیا، تدفین کے بعد گور ہموار کردی گئی، جس کا علم 132 سال تک کسی کو نہیں ہوا۔ 1991ء میں ایک یادگاری ہال کا سنگ بنیاد رکھنے کی کھدائی کے دوران ایک زیر زمین قبر نکلی، نشانیوں اور باقیات سے تصدیق ہوئی کہ یہ سراج الدین بہادر شاہ ظفر کی آخری آرام گاہ ہے۔ 1994ء میں ان کے مقبرے کی تزئین وآرائش کی گئی۔ جس کی ہر اینٹ بہادر شاہ ظفر کی عظیم قربانی کو یاد کرتے ہوئے کہہ رہی ہے کہ
کتنا بدنصیب ہے ظفر دفن کے لیے
دوگز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں
https://urduduniyanews72.blogspot.com0
اردو دنیا نیوز۷۲
سرورق بین الاقوامی قومی بین ریاستی خبریں اسپورٹس جرائم و حادثات فلمی دنیا گوشہ خواتین و اطفال مضامین و شاعری دلچسپ خبریں صحت اور سائنس
ڈائریکٹر ایم رحمانی
Director M Rahmani
ساتویں مرحلے کی پولنگ کے لیے ای وی ایم لگانے کا کام شروع
https://urduduniyanews72.blogspot.com0
اردو دنیا نیوز۷۲
سرورق بین الاقوامی قومی بین ریاستی خبریں اسپورٹس جرائم و حادثات فلمی دنیا گوشہ خواتین و اطفال مضامین و شاعری دلچسپ خبریں صحت اور سائنس
ڈائریکٹر ایم رحمانی
Director M Rahmani
اردودنیانیوز۷۲
مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا
مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا ...
-
قرآن مجید اور حفاظ کی عظمت و رفعت اور ان کے مقام بلند کا کیا کہنا ، اللہ تعالیٰ نے کس قدر واضح اور دو ٹوک انداز اور الفاظ میں یہ اعلان کیا ...
-
*سیاق و سباق سے کٹا بیان، بڑھتا ہوا اشتعال اور ذمہ دار صحافت کی ضرورت* ✍️ شاہدؔ سنگارپوری 8080193804 موجودہ عہد اطلاعات کے ...
-
عید الفطر کا پیغام مضمون نگار : محمد ضیاء العظیم، معلم چک غلام الدین ہائی اسکول، ویشالی، بہار، موبائل نمبر :7909098319 اللہ رب ...
-
مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا ...
-
***نعت پاک *** زبانِ خلقِ خد ا پر بس ا یک نا مِ نبی ﷺ جبل کہ دشت وسمندربس ایک نامِ نبی ﷺ وہ ذات با عثِ تخلیقِ ا ر ضِ لا محد و د ہے ک...
-
حسین کی خوشبو Urduduniyanews72 دیا رِ قد سِ و فا میں حسین کی خو شبو رضا ئے حکمِ خد ا میں حسین کی خو شبو قبو لیت کے گلو ...
-
فلسطینی تحریک کے69 حامیوں کو سعودی عرب میں سزائیں اگست 10, 2021 (اردو اخبار دنیا) ریاض: سعودی عرب کی ایک فوج داری عدالت نے ظالم...
-
کوویڈ 19 کا فرضی نیگیٹو آر ٹی پی سی آر سرٹیفکیٹ دینے کا پردہ فاش اگست 26, 2021 ممبئی اگست26(اردو دنیا نیوز۷۲) کرائم برانچ یون...
-
ریلوے نے مسافروں کو دی بڑی راحت ، اب لوگ جنرل ٹکٹ کے ساتھ ٹرینوں میں کر سکیں گے سفر ملک میں کورونا کے حوالے سے صورتحال بہتر ہونے...
-
والدین کے ’کورونا ویکسین‘ لگوانے پر طلبا کو پرائیویٹ اسکول دے رہے 4 اضافی نمبر! اگست 6, 2021 (اردو اخبار دنیا) بنگلور:ہندوستان ...
