جمعہ, نومبر 12, 2021
اچانک ٹرین پر گرنے لگے پتھر ، 2348 مسافروں کی اٹک گئی جان
https://urduduniyanews72.blogspot.com0
اردو دنیا نیوز۷۲
سرورق بین الاقوامی قومی بین ریاستی خبریں اسپورٹس جرائم و حادثات فلمی دنیا گوشہ خواتین و اطفال مضامین و شاعری دلچسپ خبریں صحت اور سائنس
ڈائریکٹر ایم رحمانی
Director M Rahmani
اسکولی طلباء نے آف لائن امتحان کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا
اسکولی طلباء نے آف لائن امتحان کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا
طلباء نے کورونا کی وبا کے بڑھنے کے امکان کا حوالہ دیتے ہوئے متبادل انتظام کے طور پر امتحان آن لائن میڈیم سے کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ سی بی ایس ای 16 نومبر سے اور آئی سی ایس ای 22 نومبر سے امتحانات منعقد کرنے جا رہی ہے۔
ابھیودیہ چکما سمیت چھ طلباء کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ آف لائن امتحانات کرانے سے کورونا وبا کی زد میں آنے کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ ایسی صورتحال میں صرف آف لائن ذرائع سے امتحانات کا انعقاد ان کے صحت کے حق کی خلاف ورزی ہے۔
درخواست گزاروں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ حکومت کو امتحان کے حوالے سے جاری کردہ جانکاریاں کو منسوخ کرنے اور اس کی جگہ پر نظر ثانی شدہ نوٹیفکیشن جاری کرنے کا حکم دیا جائے
https://urduduniyanews72.blogspot.com0
اردو دنیا نیوز۷۲
سرورق بین الاقوامی قومی بین ریاستی خبریں اسپورٹس جرائم و حادثات فلمی دنیا گوشہ خواتین و اطفال مضامین و شاعری دلچسپ خبریں صحت اور سائنس
ڈائریکٹر ایم رحمانی
Director M Rahmani
لاؤڈ اسپیکروں پر اذان ، جرمنی میں مزید کئی مساجد کی درخواستیں
لاؤڈ اسپیکروں پر اذان ، جرمنی میں مزید کئی مساجد کی درخواستیں
یہ اجازت جس مسجد میں لاؤڈ اسپیکروں پر باقاعدہ اذان کے لیے دی گئی تھی، اس کا انتظام جرمنی میں کئی ملین ترک نژاد مسلمانوں کی مساجد کی نمائندہ مرکزی تنظیم دیتیب (Ditib) چلاتی ہے۔
دس دیگر مسلم برادریوں کی طرف سے بھی درخواستیں
کولون شہر کی انتظامیہ کی ایک ترجمان نے اس بارے میں جمعرات گیارہ نومبر کے روز نیوز ایجنسی کے این اے کو بتایا کہ تقریباﹰ چھ ہفتے قبل اس ماڈل پروجیکٹ کے شروع ہونے کے بعد سے اب تک مزید دس مقامی مسلم تنظیموں کی طرف سے بھی یہ درخواست دی جا چکی ہے کہ انہیں بھی مساجد میں جمعے کے روز لاؤڈ اسپیکروں پر نماز جمعہ کی اذان دینے کی باقاعدہ اجازت دی جائے۔
قبل ازیں کولون سے شائع ہونے والے اخبار 'کُلنر شٹڈ اَنسائگر' نے بھی اپنی آج کی اشاعت میں کولون شہر کی انتظامیہ کی طرف سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق ایسی اولین درخواستوں کی تصدیق کر دی تھی۔
اخبار کے مطابق ترک نژاد جرمن مسلمانوں کی مساجد کی مرکزی تنظیم دیتیب نے کہا ہے کہ وہ کولون کے ایہرن فَیلڈ نامی علاقے میں قائم مرکزی مسجد کے علاوہ شہر میں پانچ اور مقامی مساجد کا انتظام بھی چلاتی ہے۔ تاہم جن دس دیگر مساجد نے اب مؤذن کی طرف سے جمعہ کی سہ پہر لاؤڈ اسپیکر پر باقاعدہ اذان کی اجازت کی درخواستیں دی ہیں، وہ دیتیب کی مساجد نہیں ہیں۔
لاؤڈ اسپیکر پر اذان کی شرائط
جرمنی میں مسلمان اپنی مساجد میں عام طور پر لاؤڈ اسپیکروں پر اس طرح اذان نہیں دے سکتے کہ وہ دور دور تک سنائی دیتی ہو۔ ایسا صرف ان چھوٹے لاؤڈ اسپیکروں کی مدد سے ہی کیا جا سکتا ہے، جن کی آواز مساجد کے اندر اور ان سے ملحقہ کمیونٹی مراکز تک میں سنی جا سکتی ہو۔
کولون کی بلدیاتی انتظامیہ نے جس ماڈل پروجیکٹ کی منظوری یکم اکتوبر سے دی تھی، اس کے تحت شہر کی چند مساجد میں جمعے کی نماز سے پہلے لاؤڈ اسپیکروں پر اذان دیے جانے کی چند لازمی شرائط بھی ہیں۔ ان شرائط میں یہ بھی شامل ہیں کہ مؤذن کی طرف سے اذان کا دورانیہ پانچ منٹ سے زیادہ نہ ہو، لاؤڈ اسپیکروں کی آواز انتہائی اونچی نہ ہو اور اذان دینے سے پہلے ہمسایوں کو اطلاع بھی کی جائے۔
خاتون مئیر کی اجازت کے حق میں دلیل
کولون کی مئیر ریکر نے جب ستمبر میں یہ اعلان کیا تھا کہ اس ماڈل پروجیکٹ پر عمل درآمد کا آغاز اکتوبر کے اوائل سے ہو جائے گا، تو شہر کی اکثریتی آبادی سے تعلق رکھنے والے کئی شہری اور سماجی حلقوں نے اس فیصلے کی مخالفت کی تھی، جس کی وجہ سے یہ منصوبہ کچھ متنازعہ بھی ہو گیا تھا۔
مئیر ریکر کا تاہم کہنا یہ تھا کہ اس منصوبے کا مقصد شہر کی آبادی میں مختلف مذہبی برادریوں کی طرف سے ایک دوسرے کو کھلے دل سے قبول کرنے کی سوچ کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ ساتھ ہی میئر نے یہ بھی کہا تھا کہ اس فیصلے کی وجہ عوام کا یہ حق ہے کہ ہر کسی کو اپنے عقیدے پر عمل درآمد کی کھلی اجازت ہونا چاہیے۔
گرجے کی گھنٹیوں کی بھی تو اجازت ہے
کولون کی میئر ہینریئٹے ریکر کی اس بظاہر متنازعہ قرار دیے جانے والے منصوبے کے حق میں سب سے بڑی دلیل یہ تھی، ''یہ کہ ہم اپنے شہر میں گرجے کی گھنٹیوں کی آوازوں کے ساتھ ساتھ مؤذن کی آواز بھی سن سکیں، یہ امر ثابت کرتا ہے کہ کولون شہر میں تنوع کو بہت اہم سمجھا جاتا ہے اور وہ مقامی باشندوں کی زندگیوں میں نظر بھی آتا ہے۔''
اس کے برعکس جن ناقدین نے مقامی مساجد میں لاؤڈ اسپیکروں پر اذان کی اجازت دینے کی مخالفت کی تھی، ان کا دعویٰ تھا کہ اس اجازت کے ساتھ شہر کی خاتون میئر ایک مقامی مذہبی اقلیت کو 'ناجائز ترجیح' دینے کی مرتکب ہوئی ہیں۔
https://urduduniyanews72.blogspot.com0
اردو دنیا نیوز۷۲
سرورق بین الاقوامی قومی بین ریاستی خبریں اسپورٹس جرائم و حادثات فلمی دنیا گوشہ خواتین و اطفال مضامین و شاعری دلچسپ خبریں صحت اور سائنس
ڈائریکٹر ایم رحمانی
Director M Rahmani
کاس گنج میں الطاف کی حراستی موت کی اعلیٰ سطحی انکوائری کرائی جائے : مولانا محمود مدنی
https://urduduniyanews72.blogspot.com0
اردو دنیا نیوز۷۲
سرورق بین الاقوامی قومی بین ریاستی خبریں اسپورٹس جرائم و حادثات فلمی دنیا گوشہ خواتین و اطفال مضامین و شاعری دلچسپ خبریں صحت اور سائنس
ڈائریکٹر ایم رحمانی
Director M Rahmani
جمعرات, نومبر 11, 2021
اسد الدین اویسی نے کاس گنج میں پولیس تحویل الطاف کی موت پر دیا بڑا بیان ، کہی یہ بات میں
https://urduduniyanews72.blogspot.com0
اردو دنیا نیوز۷۲
سرورق بین الاقوامی قومی بین ریاستی خبریں اسپورٹس جرائم و حادثات فلمی دنیا گوشہ خواتین و اطفال مضامین و شاعری دلچسپ خبریں صحت اور سائنس
ڈائریکٹر ایم رحمانی
Director M Rahmani
مولانا آزاد نمونے کے انسان تھے : مفتی محمد امداداللہ قاسمی
مولانا آزاد نمونے کے انسان تھے : مفتی محمد امداداللہ قاسمی
مدہوبنی /بی این ایسحکومتِ ہند نے آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد کی تعلیمی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ان کے یوم پیدائش 11 /نومبر کو یوم تعلیم کے طور پر منانے کا اعلان کیا جو 2008ء سے ملک کے تمام تعلیمی و رفاہی سرکاری و غیر سرکاری اداروں میں یوم تعلیم کے نام سے منایا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے مؤقر چئیر مین کی ہدایت پر مدرسہ اصلاح المومنین راگھونگر بھوارہ مدھوبنی میں مدرسہ ہٰذا کے پرنسپل مولانا جلال الدین صاحب مفتاحی کی صدارت میں تقریب یوم تعلیم کا اہتمام کیا گیا جس میں اساتذہ اور طلباء و طالبات مدرسہ ہٰذا نے شرکت کی، مولانا ابوالکلام آزاد رحمہ اللہ کی حیات و خدمات کا تعارف کراتے ہوئے مفتی محمد امداداللّٰہ قاسمی قاضی شریعت دارالقضاء امارت شرعیہ مدھوبنی و ناظم تعلیمات مدرسہ ہٰذا نے کہا کہ مولانا آزاد ؒ کی ولادت مرکز اسلام مکہ معظمہ میں11 نومبر 1888ء مطابق ذی الحجہ1305 کو ہوئی ۔والد ِ ماجد مولانا خیر الدین احمد، غدر 1857ء کو ہندوستان مین برطانوی جبر وتشدد سے تنگ آکر مکہ معظمہ تشریف لے گئے ،اور مدینہ منورہ کے مفتی اکبر شیخ محمد طاہر کی بھانجی سے ان کی شادی ہوئی ،انہی سے مولانا آزاد ؒ دنیا ئے رنگ وبو میں تشریف لائے ۔آپ کا ذاتی نام'' محی الدین احمد'' اور تاریخی نام''فیروز بخت'' رکھا گیا،لیکن آپ کی کنیت'' ابو الکلام ''اور آپ کا لقب ''آزاد'' نے آپ کے اصلی نام پر کچھ ایسا پردہ ڈالا کہ معدودے چند لوگوں کے کسی کو اس کا علم نہیں۔ مولانا آزاد بہت کم عمری میں دینی علوم سے آراستہ ہوگئے، اللہ تعالی نے زبردست حافظہ اور قوت یاد داشت عطا کیا تھا، اسی وجہ سے آپ نے دیگر علوم کو بھی حاصل کیا اور ہر ایک میں کمال حاصل کیا، ابتدائی عمر سے کتابوں کے شوقین اور مطالعہ کے رسیا تھے، مولانا آزاد نظم اوقات کے اس قدر پابند تھے کہ:'ایک مرتبہ دن میں پانچ بجے شام گاندھی جی آگئے، مولانا کو خبر کی تو ٹس سے مس نہ ہوئے ،فرمایا: اس وقت ملنے سے معذور ہوں کل صبح نو بجے تشریف لائیں ،گاندھی جی ہشاش بشاش لوٹ گئے اور اگلے دن صبح نو بجے تشریف لائے'۔مولانا ابوالکلام آزاد ؒ کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ، آپ ہندوستانی تاریخ کی ناقابلِ فراموش ہستی ہیں، جن کی پوری زندگی جہدِ مسلسل اور عملِ پیہم کا نمونہ تھی، جو ہند میں سرمایہ ملت کے نگہبان تھے۔ مولانا آزاد مختلف کمالات کا منبع تھے، ان کی شخصیت علوم وفنون کا مصدر اور مرکز تھی۔ علم و فضل، دین و مذہب، فلسفہ و حکمت، تصنیف و تالیف، خطابت و صحافت سیاست و تدبر، غرض کون سا ایسا علم و ہنر کا میدان تھا جو ان سے اچھوتا رہا ہو۔ سیاسی بصیرت ایسی کہ مہاتما گاندھی اور پنڈت نہرو جیسے رہنما آپ سے مشورہ کرتے۔ وہ ایک ماہر تعلیم بھی تھے۔
ملک میں تعلیم کے فروغ کے لیے انھوں نے وہ تعلیمی نظام ترتیب دیا جو اپنی مثال آپ ہے۔
مولانا آزاد نے ۱۵ /جنوری 1947/ کو وزیر تعلیم کا عہدہ سنبھالا اور 2/فروری 1958/تک اسی عہدے پر فائز رہے۔
انھوں نے تقریباً گیارہ برس تک ملک کے لئے تعلیمی خدمات انجام دیں۔وزیر تعلیم کا عہدہ سنبھالتے ہی انھوں نے یہ عزم کیا کہ وہ ہندوستان میں ایک اتنے مضبوط تعلیمی نظام کی بنیاد ڈالیں کہ آنے والی نسلیں اس پر عالی شان محل تعمیر کر سکے، مولانا ابو الکلام آزاد اس سچائی پر یقین رکھتے تھے کہ تعلیم کے بغیر ہندوستان ترقی نہیں کر سکتا۔ تعلیم کے ذریعے ہی اس ملک کو ترقی یافتہ اور مہذب ملکوں کی فہرست میں لایا جا سکتا ہے۔ان کی نگاہ میں قومی نظام تعلیم ملک کے نظام کا ناگذیر حصہ ہے۔ انھوں نے وزیر تعلیم کے عہدے پر فائز رہتے ہوئے تعلیم کے فروغ میں جو کارہائے نمایاں انجام دئے ، وہ ناقابل فراموش ہیں۔
اس تقریب میں مولانا جلال الدین صاحب مفتاحی، مولانا ابوالخیر قاسمی، مولانا حیدر قاسمی، مولانا ثناء اللہ، مولانا نظام الدین، حافظ سلیم، حافظ شفیع الرحمن، قاری نظام الدین، ماسٹر گلریز، ماسٹر عبداللہ کے علاوہ مدرسہ کے تمام کارکنان نے شرکت کی، اخیر میں قاضی شریعت کی دعا پر مجلس کا اختتام ہوا
https://urduduniyanews72.blogspot.com0
اردو دنیا نیوز۷۲
سرورق بین الاقوامی قومی بین ریاستی خبریں اسپورٹس جرائم و حادثات فلمی دنیا گوشہ خواتین و اطفال مضامین و شاعری دلچسپ خبریں صحت اور سائنس
ڈائریکٹر ایم رحمانی
Director M Rahmani
اب الطاف کے والد کا نیا بیان میں ہوں ان پڑھ ، سمجھوتہ پولیس نے لکھوایا '
اب الطاف کے والد کا نیا بیان میں ہوں ان پڑھ ، سمجھوتہ پولیس نے لکھوایا '
کاس گنج: کاس گنج کی صدر کوتوالی میں بیت الخلا کی 2 فٹ کی ٹنکی سے ساڑھے پانچ فٹ کے 21 سال کے نوجوان الطاف کی پھانسی لگاکر خود کشی کرنے کی بات پہلے کسی کے گلے نہیں اتر رہی تھی۔ اب الطاف کے والد کا خودکشی کے اعتراف والا خط سوالات کے دائرے میں آ گیا ہے۔ الطاف کے والد کا اب کہنا ہے کہ وہ بیٹے کی موت کے بعد تناؤ میں ہیں اور اس کی دماغی حالت ٹھیک نہیں ہے۔ وہ ایک ناخواندہ انسان ہے اور اس سے ایک کاغذ پر انگوٹھا لگوا لیا گیا تھا، وہ خوف کے سایہ میں زندگی گزار رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان کے بیٹے کو انصاف ملے۔
متاثرہ کنبہ کے ساتھ عبد الحفیظ گاندھی / تصویر آس محمد کیفالطاف کے والد چاہت میاں نے یہ بات آج کانگریس وفد کے سامنے بھی کہی ہے۔ آج یہ وفد الطاف کے گھر پہنچا ہے۔ اس وفد میں اوم ویر یادو، توقیر عمر اور ضیاء الرحمن شامل ہیں۔ ضیاء الرحمن نے نمائندہ کو بتایا کہ الطاف کی موت کے بعد کنبہ اب تک صدمہ میں ہے اور خوفزدہ ہے۔ پورا کنبہ ناخواندہ اور غریب ہے۔ الطاف کے والد چاند میاں کو لکھنا پڑھنا بالکل بھی نہیں آتا۔ پولیس نے معاوضہ کی بات کہہ کر اسے سمجھا لیا تھا مگر اسے تاحال کوئی معاوضہ حاصل نہیں ہوا ہے۔ الطاف کے والد چاند میاں کا کہنا ہے کہ جو کچھ بھی کاغذ پر موجود ہے وہ پولیس نے لکھا ہے اور اس سے تو صرف انگوٹھا لگوایا گیا ہے۔
اس معاملے میں ایک اور سنسنی خیز انکشاف ہوا ہے۔ الطاف پر جس لڑکی کو لالچ دے کر لے جانے کا الزام ہے، وہ اکثریتی برادری سے تعلق رکھتی ہے۔ پہلے کہا جا رہا تھا کہ الطاف لڑکی کے گھر ٹائلیں لگانے گیا تھا۔ اسی بنیاد پر لڑکی کے گھر سے الطف کے چلے جانے کے بعد اس کے گھر والوں کو شک ہوا کہ ان کی لڑکی اس کے ساتھ گئی ہے اور اس کی اطلاع پولیس کو دی گئی۔ انسپکٹر کاس گنج اجے سروہی کی طرف سے دی گئی معلومات کے مطابق کوتوالی میں الطاف اور ایک نامعلوم شخص کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 363، 366 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ اس حوالے سے الطاف کی پھوپھی نے بتایا کہ الطاف کا لڑکی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ وہ یہاں گھر پر ہی موجود تھا اور یہاں سے کہیں نہیں گیا تھا۔ یہ الزام سراسر غلط ہے اور اسی کی وجہ سے اس کی جان چلی گئی۔ پولیس ابھی تک لڑکی کا سراغ نہیں لگا سکی ہے۔ دریں اثنا، خاندان کے ایک فرد آزاد حکیم نے الزام لگایا ہے کہ انہیں لگتا ہے کہ الطاف کی پٹائی تعصب کی بنا پر کی گئی ہے۔
سماجوادی پارٹی کے ترجمان عبدالحفیظ گاندھی بھی اہل خانہ سے ملے۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس کی کہانی میں جھول ہی جھول ہیں۔ ایک طرف جہاں الطاف کی خودکشی کی بات منطقی نظر نہیں آتی، وہیں ان کے والد کی طرف سے پولیس کو دی گئی کلین چٹ بھی کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔ مثلاً الطاف کے والد ناخواندہ ہیں اور خودکشی کے اعتراف کے حوالہ سے سامنے آنے والے خط کی زبان کسی ماہر کی معلوم ہوتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس خط کی تحریر کسی وکیل یا پولیس اہلکار نے تیار کی ہو۔ پھر انگوٹھا لگوایا گیا ہے۔ پولیس نے معاملے کو دبانے کی کوشش کی ہے۔ اس کے علاوہ چاند میاں کو ملنے والے معاوضے کے بارے میں ابھی تک صورت حال واضح نہیں ہے۔ عام طور پر معاوضہ چیک کے ذریعے وصول کیا جاتا ہے اور وہ حاصل نہیں ہوا ہے۔ یہ معاملہ بہت سنگین ہے، اس میں کمزوروں اور غریبوں کو انصاف ملنے کی امید کو کچل دیا گیا ہے۔
کاس گنج کی سابق رکن اسمبلی زینت خان نے بھی پولیس کی نیت پر سوال اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اہل خانہ سے ملاقات کر کے آ رہی ہیں اور یہ واضح ہے کہ پولیس کا خاندان پر بہت دباؤ ہے اور وہ خوفزدہ ہیں۔ خاندان کی خواتین میں کافی غم و غصہ ہے اور وہ انصاف کی امید کھو چکی ہیں۔ لیکن ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ چاند میاں کے گھر پر تمام اپوزیشن جماعتوں کے رہنما پہنچ رہے ہیں۔
متوفی الطاف کے ماموں آزاد حکیم نے نمائندہ کو بتایا کہ وہ پولیس کی کارروائی سے مطمئن نہیں ہیں۔ الطاف پر تشدد کیا گیا۔ یہ بات ان کی بہن اور الطاف کی والدہ نے بتائی ہے۔ الطاف کی پھوپھی مومنہ نے اپنے سر کی چوٹ بتائی۔ پولیس نے الطاف کو کسی سے ملنے نہیں دیا۔ میرے بہنوئی کو فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا حوالہ دے کر خاموش کر دیا گیا۔ لڑکی کا بھائی مسلسل گھر آنے کی دھمکیاں دے رہا تھا۔ پورا خاندان صدمے میں ہے۔ ہماری پولیس سے انصاف کی امید دم توڑ چکی ہے۔ ہم اس پورے معاملے کی سی بی آئی انکوائری چاہتے ہیں۔
https://urduduniyanews72.blogspot.com0
اردو دنیا نیوز۷۲
سرورق بین الاقوامی قومی بین ریاستی خبریں اسپورٹس جرائم و حادثات فلمی دنیا گوشہ خواتین و اطفال مضامین و شاعری دلچسپ خبریں صحت اور سائنس
ڈائریکٹر ایم رحمانی
Director M Rahmani
اردودنیانیوز۷۲
عید الفطر کا پیغام
عید الفطر کا پیغام مضمون نگار : محمد ضیاء العظیم، معلم چک غلام الدین ہائی اسکول، ویشالی، بہار، موبائل نمبر :7909098319 اللہ رب ...
-
قرآن مجید اور حفاظ کی عظمت و رفعت اور ان کے مقام بلند کا کیا کہنا ، اللہ تعالیٰ نے کس قدر واضح اور دو ٹوک انداز اور الفاظ میں یہ اعلان کیا ...
-
*سیاق و سباق سے کٹا بیان، بڑھتا ہوا اشتعال اور ذمہ دار صحافت کی ضرورت* ✍️ شاہدؔ سنگارپوری 8080193804 موجودہ عہد اطلاعات کے ...
-
خون کا آخری قطرہ مہمان کی نذر Urduduniyanews72 کشمیر کے ضلع پہلگام میں واقع بیسرن گھاٹی کا واقعہ نہایت ہی دردناک...
-
وقف ایکٹ پر عدالت عالیہ کا موقف Urduduniyanews72 وقف ترمیمی بل جو دونوں ایوانوں سے پاس ہوتے ہوئے صدر جمہوریہ...
-
عید الاضحٰی کا پیغام مضمون نگار: محمد ضیاء العظیم معلم چک غلام الدین ہائی اسکول ،ویشالی بہار ۔ موبائل نمبر :7909098319 Urdudu...
-
عید الفطر کا پیغام مضمون نگار : محمد ضیاء العظیم، معلم چک غلام الدین ہائی اسکول، ویشالی، بہار، موبائل نمبر :7909098319 اللہ رب ...
-
حسین کی خوشبو Urduduniyanews72 دیا رِ قد سِ و فا میں حسین کی خو شبو رضا ئے حکمِ خد ا میں حسین کی خو شبو قبو لیت کے گلو ...
-
***نعت پاک *** زبانِ خلقِ خد ا پر بس ا یک نا مِ نبی ﷺ جبل کہ دشت وسمندربس ایک نامِ نبی ﷺ وہ ذات با عثِ تخلیقِ ا ر ضِ لا محد و د ہے ک...
-
فلسطینی تحریک کے69 حامیوں کو سعودی عرب میں سزائیں اگست 10, 2021 (اردو اخبار دنیا) ریاض: سعودی عرب کی ایک فوج داری عدالت نے ظالم...
-
ٹی راجہ سنگھ کی بکواس ___ مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ اردو دنیا نیوز٧٢ تلنگانہ اسمبلی ...
