Powered By Blogger

اتوار, اگست 01, 2021

کشمیر پریمیئر لیگ میں کھیلنے سے روکنے کے لئے بی سی سی آئی ایسی

جنوبی افریقہ کے سابق سلامی بلے باز ہرشل گبس (Herschelle Gibbs) نے ٹوئٹر پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کے ساتھ اپنے سیاسی ایجنڈا اور مجھے کشمیر پریمیئر لیگ میں کھیلنے سے روکنے کے لئے بی سی سی آئی ایسی چیزیں کر رہا ہے، جس کی بالکل بھی ضرورت نہیں ہے۔ ساتھ ہی مجھے ڈراتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ وہ مجھے کرکٹ سے متعلق کسی بھی کام کے لئے ہندوستان نہیں آنے دیں گے۔ یہ کافی غلط ہے۔ ان کے اس ٹوئٹ پر اب سابق پاکستانی کپتان شاہد آفریدی (Shahid Afridi) نے بھی بڑ بولا پن بیان دیا ہے۔
نئی دہلی: جنوبی افریقہ کے سابق کرکٹر ہرشل گبس (Herschelle Gibbs) نے کشمیر پریمیئر لیگ (Kashmir Premier League) سے متعلق بی سی سی آئی (BCCI) پر دباو بنانے کا الزام لگایا تھا۔ اب اس مسئلے میں پاکستانی کرکٹر شاہد آفریدی (Shahid Afridi) بھی کود پڑے ہیں۔ حالانکہ، ان کا ایسا کرنا کرکٹ مداحوں کو راس نہیں آیا۔ کئی مداحوں نے شاہد آفریدی کو سوشل میڈیا پر کھری کھوٹی سنا دی۔ کشمیر پریمیئر لیگ (Kashmir Premier League) میں ہرشل گبس، تلک رتنے دلشان، مونٹی پنیسر جیسے کرکٹر نظر آئیں گے۔



حالانکہ اس بیان کے بعد وہ خود ہی گھر گئے ہیں۔ شاہد آفریدی نے ٹوئٹ کرکے کہا کہ بہت مایوس کن ہے کہ بی سی سی آئی ایک بار پھر کرکٹ اور سیاست کو ملا رہا ہے۔ کشمیر پریمیئر لیگ، پاکستان اور پوری دنیا کے کرکٹ مداحوں کے لئے ہے۔ ہم شاندار انعقاد کریں گے اور اس طرح کے برتاو سے مایوس نہیں ہوں گے۔



حالانکہ اس کے بعد شاہد آفریدی خود ہی کرکٹ مداحوں کے نشانے پر آگئے۔ مداحوں نے ان سے کرکٹ اور سیاست دونوں کو نہ ملانے کی اپیل کی۔ ایک مداح نے کہا کہ انہیں سدھر جانا چاہئے۔ وہیں ایک مداح نے کہا کہ پاکستان سپر لیگ فرنچائزی ناخوش ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ پر فرنچائزیوں کی طرف سے ماڈل بدلنے کا دباو ہے۔ حیرانی اس بات کی ہے کہ نئی لیگ شروع کرنے کی ضرورت کیا تھی۔



کشمیر پریمیئر لیگ کے پہلے سیزن کا انعقاد اس ماہ ہوگا۔ اس لیگ میں ہرشل گبس، تلک رتنے دلشان، مونٹی پنیسر جیسے بڑے کرکٹر بھی نظر آئیں گے۔ لیگ میں اوور سیز واریئرس، مظفر آباد ٹائیگرس، راول کوٹ ہاکس، باگ اسٹالین، میر پور رائلس اور کوٹلی لائنس 6 ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں۔//////

نیا خطرہ! مہاراشٹر میں زیکا وائرس کا پہلا معاملہ، کیرالہ میں بھی دو نئے کیسز ملنے سے کھلبلی

,,

(اردو اخبار دنیا)پونے: مہاراشٹر میں زیکا وائرس کے انفیکشن کا پہلا کیس سامنے آیا ہے۔ ضلع پونے کے پورندر علاقے کی ایک 50 سالہ خاتون زیکا وائرس سے متاثر پائی گئی ہے۔ خاتون کا چکن گونیا ٹیسٹ بھی مثبت آیا ہے۔ ریاستی محکمہ صحت کے مطابق، خاتون اب شفایاب ہو چکی ہے اور اس کے خاندان کے افراد میں فی الحال وائرس کی کوئی علامات نظر نہیں آ رہی ہیں۔ دریں اثنا، کیرالہ میں بھی زیکا وائرس کے دو نئے کیسز پائے گئے ہیں۔ ریاست میں زیکا وائرس سے متاثرہ افراد کی کل تعداد 63 ہو گئی ہے۔

محکمہ صحت کے مطابق جولائی کے آغاز سے ہی تحصیل پورندر کے بیلاسر گاؤں سے بخار کے کئی کیسز رپورٹ ہوئے۔ جس کے بعد پانچ نمونے جانچ کے لیے پونے کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف وائرالوجی (این آئی وی) کو بھیجے گئے۔ ان میں سے 3 نمونوں کی چکن گونیا ٹیسٹ کی رپورٹ مثبت پائی گئی۔

اس کے بعد این آئی وی کی ایک ٹیم نے 27 جولائی اور 29 جولائی کے درمیان بیلاسر اور پارینچے گاؤں کا دورہ کیا اور 41 افراد کے خون کے نمونے جمع کیے۔ ان میں سے 25 میں چکنگنیا، 3 میں ڈینگی اور ایک میں زیکا وائرس کا انفیکشن پایا گیا۔ریاست کی ریپڈ رسپانس ٹیم نے آج اس علاقے کا دورہ کیا اور مقامی باشندوں سے ان احتیاطی تدابیر کے بارے میں بات کی، جن کا انہیں خیال رکھنا ہے۔ محکمہ صحت گاؤں میں گھر گھر سروے بھی کرے گا۔

پونے کی ضلعی انتظامیہ نے لوگوں سے نہیں گھبرانے کی اپیل کی ہے۔ انتظامیہ نے لوگوں کو بھروسہ دلایا کہ انفیکشن کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سخت محنت کی جا رہی ہے۔خیال رہے کہ اس سال کے شروع میں صرف کیرالہ میں زیکا وائرس کے انفیکشن کے کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔ اس وقت کیرالہ میں زیکا وائرس کے 63 کیسز ہیں۔ یہ انفیکشن ایڈز مچھروں سے پھیلتا ہے، جو ڈینگی اور چکنگنیا بھی پھیلا سکتا ہے۔

زیکا وائرس کے انفیکشن کی کچھ علامات بخار، جسم میں درد، پٹھوں اور جوڑوں کا درد، بے چینی یا سردرد ہیں۔ علامات عام طور پر 2-7 دن تک رہتی ہیں اور زیادہ تر متاثرہ افراد میں علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔

مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی 2024 میں مودی سرکار کو زبردست ٹکردینے کے لیے میدان میں اترچکی ہیں۔انھوں نے راجدھانی دہلی

مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی 2024 میں مودی سرکار کو زبردست ٹکردینے کے لیے میدان میں اترچکی ہیں۔انھوں نے راجدھانی دہلی میں اپوزیشن کے اہم لیڈران سے ملاقاتیں کرکے اپنے منصوبے پر تبادلہ خیال کیا ہے ۔ممتا بنرجی اپوزیشن اتحاد کے ایک ایسے خواب کی تعبیر ڈھونڈ رہی ہیں ، جو ہمیشہ سے پریشاں کن رہا ہے۔ان کی کوشش ہے کہ2024کے عام انتخابات میں اپوزیشن میں اتنا تال میل ضرور پیداہوجائے کہ ہرحلقہ انتخاب میں بی جے پی امیدوار کے خلاف اپوزیشن کا ایک ہی امیدوار میدان میں اترے اور سیکولر ووٹ منتشر نہ ہوں ۔ ظاہر ہے یہ خیال اگر حقیقت میں تبدیل ہوا تو واقعی بی جے پی کے پیروں تلے سے زمین نکل جائے گی اوراس کے امیدواروں کے لیے اپنی ضمانتیں بچانا مشکل ہوگا۔لیکن یہاں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اس خواب کو کیسے شرمندہ تعبیر کیا جائے گا۔دراصل اپوزیشن اتحاد کی راہ میں سب سے بڑی اڑچن یہ ہے کہ ہر اپوزیشن لیڈر وزیراعظم بننے کے خواب دیکھتا ہے اور وہ کسی دوسرے کی قیادت قبول نہیں کرنے کو تیار نہیں ہے۔اپوزیشن لیڈروں کی یہی خواہش ان کے اتحاد میں سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہوتی رہی ہے ۔ماضی میں اس کے کئی تلخ تجربات ہوچکے ہیں۔

2004 میں کانگریس نے یوپی اے اتحاد کاکامیاب تجربہ کیا اور منموہن سنگھ کی قیادت میں یوپی اے سرکارنے دس سال پورے کئے ۔اس کے بعد بی جے پی نے جب سے اقتدار پر قبضہ کیا ہے تب سے اپوزیشن کے کسی ایسے اتحاد کی صورت گری نہیں ہوسکی ہے جو بی جے پی کو چیلنج دے سکے ۔یہی وجہ ہے کہ آج بی جے پی خود کو اس ملک کے سیاہ سفید کا تنہا مالک سمجھنے لگی ہے اور وہ اپوزیشن کو خاطر میں ہی نہیں لاتی۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس دوران اپوزیشن کو متحد کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی ۔مغربی بنگال کے انتخابات میں بی جے پی کی شکست فاش کے بعد اپوزیشن میں ایک نئی توانائی دیکھنے کو ملی ہے۔اسی سے تحریک پاکرممتا بنرجی میدان میں اتری ہیں اور انھوں نے اپوزیشن کو متحد کرنے کا کام خود اپنے ہاتھوں میں لیا ہے ۔ وہ پوری سنجیدگی کے ساتھ اپنے مشن پر گامزن ہونا چاہتی ہیں۔حالانکہ 2024 کا ہدف ابھی دور ہے ، لیکن ان کی کوشش یہ ہے کہ وہ آئندہ سال برپا ہونے والے سات صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات میں اس اتحاد کو بروئے کار لائیں اور بی جے پی کوان ریاستوں میں بنگال کی طرح شکست فاش سے دوچار کریں۔

عام خیال یہ ہے کہ ممتا بنرجی یہ ساری تگ ودو وزیراعظم بننے کے لیے کررہی ہیں ، لیکن جب ان سے اس بابت پوچھا گیا تو انھوں نے صاف کہا کہ وہ وزیراعظم بننے کی دوڑ میں شامل نہیں ہیں بلکہ وہ اس مشن میں ایک عام سیاسی کارکن کے طور پر شامل ہورہی ہیں۔ انھوں نے اخبارنویسوں سے گفتگو کے دوران اس بات کو دہرایا کہ وہ خود کو نریندر مودی کے مقابل اپوزیشن کے مشترکہ امیدوار کے طورپر پیش نہیں کررہی ہیں بلکہ وہ ایک عام سیاسی کارکن کے طور پر پورے اپوزیشن کو سرکار کے خلاف لڑائی کے لیے متحد و مستعد کرنا چاہتی ہیں۔ 2024 کے لوک سبھا چناؤمیں لیڈر کے سوال پر انھوں نے واضح کیا کہ اس کا فیصلہ ساری سیاسی پارٹیاں مل کرمناسب وقت پر کریں گی اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ فیصلہ چناؤ کے بعد ہو۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ بی جے پی مخالف سبھی پارٹیوں کے لیڈران سے تو مل رہی ہیں، ساتھ ہی وہ غیر بی جے پی پارٹیوں کے ان لیڈران اور وزرائے اعلیٰ سے بھی ملاقاتیں کریں گی جو غیرجانبدار ہیں اور وقتاً فوقتاً پارلیمنٹ میں بی جے پی کی مدد بھی کرتے رہتے ہیں۔ انھیں نوین پٹنائک ، جگن ریڈی اور چندرشیکھر راؤ جیسے لیڈروں سے ملنے میں بھی کوئی گریز نہیں ہے۔ جب ان سے نتیش کمار کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ جب تک وہ بی جے پی کے ساتھ ہیں تب تک ان سے کوئی بات چیت ممکن نہیں ہے۔

ممتا بنرجی میں اس وقت بلا کی خوداعتمادی ہے۔ انھوں نے جس طرح مغربی بنگال کی سرزمین پر بی جے پی کو شکست سے دوچار کیا ہے ، اس سے قومی سیاست میں ان کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے ۔ مغربی بنگال کے انتخابی نتائج آنے کے بعد ہی سیاسی مبصرین نے کہا تھا کہ 2024 کے عام چناؤ کے لیے اپوزیشن کو ایک چہرہ مل گیا ہے اور وہ آئندہ لوک سبھا چناؤ میں وزیراعظم کے عہدے کے لیے اپوزیشن کی ایک مضبوط امیدوار ہوں گی۔ اس الیکشن کو وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے لیے جس طرح وقار کا مسئلہ بنالیا تھا اور بار بار وہاں جاکر '' دیدی او دیدی '' کی گردان کررہے تھے، اس سے صاف ظاہر تھا کہ یہ چناؤ ممتا اور مودی کے درمیان ہے۔ نتائج نے یہ ثابت کیا کہ وزیراعظم مصنوعی طریقوں سے لاکھ اپنی برانڈنگ کریں لیکن زمینی حقیقت کچھ اور ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی بنگال کے باشعور عوام نے وزیراعظم مودی کے مقابلے میں وزیراعلیٰ ممتا بنرجی کو ترجیح دی۔

سبھی جانتے ہیں کہ بنگال کی سرزمین پر ممتا کو شکست دینے کے لیے بی جے پی نے ہر وہ ہتھکنڈہ اختیار کیا، جو اس کی دسترس میں تھا۔ نوٹوں کی بارش ہوئی ۔ ترنمول کانگریس کے لوگوں کو توڑا گیا اور ممتا بنرجی کی کردار کشی کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی ، لیکن جب نتائج برآمد ہوئے تو سب دھول ہی دھول تھی ۔ ممتا پہلے سے زیادہ طاقتور ہوکر تیسری بار اقتدار میں آئیں اور بی جے پی ہاتھ ملتی رہ گئی۔ ان کی پارٹی کے جن لوگوں کو بی جے پی نے سبز باغ دکھاکر توڑا تھا، ان میں سے بیشتر کی ' گھرواپسی' ہوئی۔ممتا کی کامیابی کے بعد ان کے لوگوں کو خوفزدہ کرنے کے لیے سی بی آئی اور ای ڈی کا بھی سہارا لیا گیا، لیکن ترنمول کانگریس کے لوگ خوفزدہ نہیں ہوئے اور انھوں نے پہلے سے زیادہ مضبوط ہوکر حکومت کی باگ ڈور سنبھالی۔

ممتا بنرجی نے جس انداز میں اپنی ریاست میں بی جے پی کے چیلنج کو قبول کرکے اسے وہاں دھول چٹائی اب وہ اسی طرح کی دھول بی جے پی کو پورے ملک میں چٹانا چاہتی ہیں۔ اسی مقصد کے تحت انھوں نے دہلی میں پانچ دن گزارے۔ حالانکہ انھوں نے اس دوران وزیراعظم نریندر مودی سے بھی ملاقات کی اوربنگال کو زیادہ مقدار میں کورونا ویکسین فراہم کرنے اور پوگاسس معاملے کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں جانچ کا بھی مطالبہ کیا، لیکن ان کا اصل مقصد اپوزیشن رہنماؤں سے مستقبل کے لائحہ عمل پرتبادلہ خیال کرنا تھا۔اس سلسلہ میں انھوں نے کانگریس صدر سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کے علاوہ این سی پی صدر شردپوار، راشٹریہ جنتا دل کے لیڈر لالو پرساد یادواور دہلی کے وزیراعلیٰ اروندکجریوال سے بھی تبادلہ خیال کیا ۔انھوں نے کانگریس لیڈر کمل ناتھ اور آنند شرما سے بھی ملاقات کی اور اس دوران راجدھانی کے سرکردہ اخبارنویسوں کو مدعو کرکے سارے ٹیڑھے ترچھے سوالوں کے اطمینان بخش جوابات بھی دئیے۔مجموعی طور پر ان کا یہ پانچ روزہ دورہ بہت کامیاب رہا۔

اگر آپ ان کی حکمت عملی جاننا چاہیں تو اس کا نچوڑ یہ ہے کہ و ہ وزیراعظم نریندرمودی اور بی جے پی کو بنگال ماڈل سے ٹکر دینا چاہتی ہیں۔ وہ اپوزیشن اتحاد کے ذریعے بی جے پی کو 375 سیٹوں پر سیدھے چنوتی دینے کی تیاری میں ہیں۔ وہ ان میں سے 200سیٹوں پر کانگریس کو واک اوور کی تجویز دے سکتی ہیں۔ممتا کے مشن 2024 کا اصل مقصد بی جے پی کو اقتدار سے بے دخل کرنا ہے۔اس کام کے لیے سونیا ، شردپوار اور ممتا ملک بھر میں بی جے پی کے خلاف اتحاد کا پیغام دیں گے۔ اس کا آغاز اترپردیش سے ہوگا ، جہاں اگلے سال کے شروع میں چناؤ ہونے والے ہیں۔ مقصد صاف ہے کہ2022میں سات صوبوں میں ہونے والے انتخابات میں بی جے پی کو دھول چٹائی جائے۔ملک بھر میں 375 لوک سبھا سیٹیں ایسی ہیں، جہاں بی جے پی مقابلے میں ہے۔ ان میں200 سیٹیں ایسی ہیں جہاں بی جے پی اور کانگریس کی سیدھی ٹکر ہے۔ ان سیٹوں پر اپوزیشن کانگریس کی حمایت کرے۔ وہیں کانگریس ایسے صوبوں میں دخل نہ دے جہاں دوسری پارٹیاں بی جے پی کو سیدھی ٹکر دینے کی پوزیشن میں ہیں۔اس مہم کا سب سے بڑا نعرہ '' بی جے پی کو ووٹ نہیں'' ہوگا۔اس کے تحت بی جے پی کے مضبوط صوبوں میں اس کے امیدواروں کو سیدھی ٹکر دی جائے گی۔جبکہ غیربی جے پی اقتدار والے صوبوں میں غیربی جے پی اتحاد کی پارٹیوں کو حمایت دی جائے گی۔اس مہم کے دوران مذہبی ، جذباتی اور جارحانہ قوم پرستی جیسے موضوعات کا جواب مہنگائی، پوگاسس،کسان تحریک، بے روزگاری، کورونا وباجیسے زمینی موضوعات سے دیا جائے گا۔

سعودی عرب : 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس سے 11 اموات

سعودی عرب : 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس سے 11 اموات

سعودی عرب میں چوکسی
سعودی عرب میں چوکسی

 (اردو اخبار دنیا)

 جدہ:سعودی عرب میں 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس میں مبتلا 11 مریض انتقال کرگئے، جبکہ اس عرصہ میں عالمی وباء کے ایک ہزار 146 نئے کیسز رپوٹ ہوئے ہیں۔

سعودی عرب کی وزارت صحت کے مطابق مملکت میں ایک ہزار 146 نئے کیسز سامنے آنے کے بعد کورونا مریضوں کی مجموعی تعداد 5 لاکھ 25 ہزار 730 ہوگئی ہے۔

ٹورنٹو، کورونا کی جعلی دستاویزات دکھانے پر دو مسافروں پر بھاری جرمانہ وزارت صحت کے مطابق 24 گھنٹوں میں کورونا سے 11 مریض انتقال کرگئے، اس طرح سعودی عرب میں کورونا سے اموات کی تعداد 8 ہزار 237 ہوگئی۔ سعودی عرب میں کورونا کے ایک ہزار 86 مریض صحتیاب ہوئے، یوں مملکت میں اس وبائی مرض سے صحتیاب افراد کی تعداد 5 لاکھ 6 ہزار 89 ہوگئی۔


وزیر اعظم نریندر مودی پیر کو وڈیو کانفرنس کے ذریعے ڈیجیٹل ادائیگی کا حل ای-روپی

(اردو اخبار دنیا)نیشنل ڈیسک: وزیر اعظم نریندر مودی پیر کو وڈیو کانفرنس کے ذریعے ڈیجیٹل ادائیگی کا حل ای-روپی لانچ کریں گے۔ مودی کے ڈیجیٹل اقدامات کی ہمیشہ پروموشن پر روشنی ڈالتے ہوئے ، پی ایم او نے کہا کہ گزشتہ برسوں کے دوران ، کئی پروگرام شروع کیے گئے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ فوائد مطلوبہ مستحقین تک پہنچیں ، تاکہ حکومت اور فائدہ اٹھانے والوں کے درمیان رابطہ کا ایک محدود نقطہ رہیں۔ اس نے کہا کہ الیکٹرانک واؤچر کا تصور گڈ گورننس کے اس وژن کو آگے لے جائے گا۔ پی ایم او نے ایک بیان میں کہا کہ ای-روپی ڈیجیٹل ادائیگیوں کے لیے کیش لیس اور کنٹیکٹ لیس زریعہ ہے۔


کیا ہے ای -روپی؟
ای روپی ایک کیو آر کوڈ یا ایس ایم ایس سٹرنگ پر مبنی ای وا=چر ہے ، جو مستحقین کے موبائل پر پہنچایا جاتا ہے۔ اس یک وقتی ادائیگی کے طریقہ کار کے صارفین سروس فراہم کرنے والوں کے کارڈ ، ڈیجیٹل ادائیگی کی ایپس یا انٹرنیٹ بینکنگ تک رسائی کے بغیر واؤچر ریڈیم کرسکیں گے ، اسے این پی سی آئی نے اپنے یونیفائیڈ ادائیگیوں کے انٹرفیس(یو پی آئی) پلیٹ فارم پر محکمہ مالیاتی خدمات کے ذریعے نافذ کیا ہے۔ ، صحت اور وزارت فیملی ویلفیئر اور نیشنل ہیلتھ اتھارٹی کے اشتراک سے تیار کیا گیا۔


کہاں ہوسکتا ہے استعمال
اس کا آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا ، مختلف فلاحی سکیموں کے تحت خدمات فراہم کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ نجی شعبہ اپنے ملازمین کی فلاح و بہبود اور سی ایس آر پروگراموں میں ان ڈیجیٹل واؤچرز سے بھی فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

مسلمان بھلا کس کس کو ووٹ دیں!اتواریہ؍شکیل رشید

(اردو اخبار دنیا)مسلمان بھلا کس کس کو ووٹ دیں!
اتواریہ؍شکیل رشید
اتر پردیش کا اسمبلی الیکشن جیسے جیسے قریب آ رہا ہے ویسے ویسے ’’ عظیم ترین مسلمان قائدین ‘‘ سرگرم ہوتے نظر آ رہے ہیں ۔ مجلس اتحاد المسلمین ( ایم آئی ایم)کے قائد اسد الدین اویسی کی مثال لے لیں ،وہ سو سیٹوں پر الیکشن لڑنے کا اعلان کر چکے ہیں ،اور انہیں اپنی پارٹی کی جیت کا پختہ یقین بھی ہے ،اللہ انہیں کامیاب کرے ۔لیکن ایک بات یہ سمجھ میں نہیں آ رہی ہے کہ پیس پارٹی اور راشٹریہ علماء کونسل بھی انتخابی میدان میں کودنے کی تیاری میں ہیں ،یہ دونوں پارٹیاں بھی انہیں ہی اپنا ووٹ بینک سمجھتی ہیں جنہیں ایم آئی ایم اپنا ووٹ بینک مانتی ہے ،یعنی مسلمان ،دلت اور پچھڑے ،اور انہیں بھی ان کے ووٹ ملنے کی پوری امید بلکہ یقین ہے ،اب بھلا بیچارے مسلمان کس کس کے امید اور بھروسے پر پورا اتریں گے !یہ مسلمانوں ،دلتوں اور پچھڑوں کا وہ ووٹ بینک ہے جس پر کئی اورسیاسی پارٹیوں کی دعویداری ہے ، بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ وہ ان ووٹوں کو اپنی جیب میں ہی سمجھتے ہیں تو غلط نہیں ہوگا۔سماج وادی پارٹی کا ماننا ہے کہ یہ سارا ووٹ بینک اسی کا ہے، اس کے قائد ملائم سنگھ یادو نے بابری مسجد جو بچائی تھی ! اس کا انعام حالانکہ یہ مسلمانوں سے بار بار لے چکے ہیں مگر ابھی بھی انہیں یہی لگتا ہے کہ مسلمانوں نے انہیں ان کا حق، جیسا دیا جانا تھا ،ویسا نہیں دیا ہے ،لہٰذا وہ ہمیشہ مسلمانوں سے یہی امید ، نہیں لفظ امید درست نہیں ہے ،مسلمانوں سے یہی چاہتے ہیں کہ وہ غلاموں کی طرح آنکھیں بند کیے بس اسی کو ووٹ دیں۔ بہن مایاوتی بھی ایک دعویدار ہیں ۔سب ہی جانتے ہیں کہ وہ بی جے پی کا دامن بھی تھام چکی ہیں اور آئندہ بھی اس کا دامن تھام سکتی ہیں ،مگر خود کو سیکولر کہلانے کا ان کا شوق مرا نہیں ہے ،اور وہ خود کو سارے سیکولر ووٹوں کا حقیقی وارث سمجھتی ہیں ،دلت ان کے ہیں ،پچھڑے بھی تو مسلمان کیوں ان کے نہیں ہو سکتے؟ اس قطار میں کانگریس بھی ہے ،حالانکہ اس نے اس قطار میں رہنے کا اپنا حق تو اسی روز کھو دیا تھا جس روز ایودھیا میں بابری مسجد شہید کی گئی تھی اور اس وقت کے کانگریسی وزیر اعظم نرسمہا راؤ باربری مسجد کی شہادت روکنے کی بجائے اپنی کوٹھی میں خود کو کمرے میں بند کیے پوجا پاٹ کر رہے تھے ۔ وہ دن ہے اور آج کا دن ،یو پی کے مسلمان کانگریس کو سبق سبق پر سبق سکھا تے چلے آرہے ہیں ،مگر بہر حال وہ خود کو سیکولر پارٹی ہی کہتی ہے اس لیے اگر مسلمانوں کے ووٹوں پر اپنا حق سمجھتی ہے تو اسے اس سے روکا تو جا نہیں سکتا۔ خیر سمجھتی رہے۔ اب ایک تازہ معاملہ سامنے آیا ہے ،مرکزی وزیر ،مہاراشٹر کی ریپبلیکن پارٹی کے سربراہ رام داس اٹھاولے نے لکھنٔو جا کر شیعہ عالم دین مولانا کلب جوادنقوی سے ملاقات کی ہے اور ان سے یہ درخواست کی کہ وہ الیکشن میں بی جے پی کا ساتھ دیں کہ یہ وزیراعظم نریندر مودی کی خواہش ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ان کی پارٹی آر پی آئی کو یو پی الیکشن کے لیے مودی جی ٹکٹ دیتے ہیں تو وہ مسلمان امیدوار کھڑے کریں گے ۔ مطلب بہت واضح ہے ،بی جے پی اٹھاولے کا استعمال مسلمانوں کے ووٹوں کو منتشر کرنے کے لیے کرنا چاہتی ہے اور اس کے لیے مسلمان قائدین پر ڈورے ڈالنے کی شروعات کر دی گئی ہے ۔ کچھ ووٹ وہ ضرور مسلمانوں کے ضائع کرا سکتے ہیں۔ اس منظر نامے میں ابھی آزاد اور باغی مسلم امیدواروں کا بھی شامل ہونا ہے ،اب بھلا مسلمان کسے کسے ووٹ دیں گے؟ ایک خبر اور ہے ،ہم سب کے مولانا سید سلمان حسینی ندوی بھی اس گندگی میں کود پڑے ہیں ،۴۲سیکولر کہلانے والی پارٹیوں کا گٹھ جوڑ ہوا ہے وہ اس کے سرپرست ہیں ،دلچپ امریہ ہے کہ اس گٹھ جوڑکی میٹنگ سے ایم آئی ایم ، راشٹریہ علماء کونسل اور پیس پارٹی کے ذمےداران غیر حاضر تھے۔

‎وائس کے مقابلہ مصوری کے نتائج ۱۵اگست کو

آوازدی وائس کے مقابلہ مصوری کے نتائج 15اگست کو

آوازدی وائس کے مقابلہ مصوری کے نتائج ۱۵اگست کو
 وائس کے مقابلہ مصوری کے نتائج ۱۵اگست کو

 

(اردو اخبار دنیا)نئی دہلی

 - دی وائس نے ملک بھر کے آرٹسٹ طلباء کو آوازکیالگائی، ان طلباء نے بھی اسی تیزی سے جواب دیا ہے۔ آوازنےحب الوطنی اورمشترکہ ثقافت کے جذبے کو پروان چڑھانے کے لیے ملک کے سابق صدر اے پی جے عبدالکلام کی برسی پر ان کی یاد میں ایک ’’پینٹنگ مع نعرہ‘‘ پروگرام کا اہتمام کیا اور ملک بھر کے طلباء نے اس میں بڑے جوش و خروش سے شرکت کی۔

اس مقابلے کے لیے سینکڑوں اندراجات آچکی ہیں جن میں سے 300 درست پائی گئی ہیں۔ یہ 300 اندراجات تین حصوں میں ہیں۔ پہلی کلاس کلاس 4 سے 7 کلاس ، دوسری کلاس 8 سے 10 کلاس اور تیسری کلاس سینئر طلباء یعنی XI اور XII کلاس کی ہے۔

اس مقابلے میں ملک بھر سے طلباء نے حصہ لیا ہے۔ جس میں نئی ​​دہلی سے 81 ، جموں و کشمیر سے 15 ، اترپردیش سے زیادہ سے زیادہ 101 ، مہاراشٹر سے 20 ، ہریانہ سے 21 ، حیدرآباد سے 15 ، راجستھان سے 10 ، آسام سے 4 ، پنجاب سے 9 ، رانچی سے 2 ، بہار سے 17 کیرالہ سے 3 ، ہماچل پردیش سے 2 اندراجات ہیں۔

آوازکی مصوری اور نعرے بازی کے مقابلے کی جیوری میں نامور شخصیات شامل ہیں۔

 ان میں 145 اندراجات درست پائے گئے ہیں۔ کلاس 8 سے 10 میں 97 اور 11 ویں اور 12 ویں کلاس میں 58 اندراجات کوشارٹ  لسٹ کیا گیا ہے۔ ان میں سب سے زیادہ جوش وخروش چوتھی سے ساتویں جماعت کے طلبہ نے دکھایا۔

قابل ذکر ہے کہ اس مقابلے کے لیے اندراجات کو مدعو کرنے کے لیے درخواستیں 21 جولائی سے شروع ہوئی تھیں اور اس کی آخری تاریخ 28 جولائی تھی۔ اس مقابلے کے نتائج کا اعلان 15 اگست یعنی یوم آزادی کے دن کیا جائے گا۔

شارٹ لسٹ شدہ درست اندراجات کا فیصلہ تین ممبروں کی جیوری کرتی ہے۔ مقابلہ کی شرائط و ضوابط کے مطابق ، جیوری کا فیصلہ حتمی اور آخری ہوگا اور ان کے فیصلے کو کسی بھی حالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔

جیوری کے ممبران میں ماہر تعلیم ڈاکٹر کویتا شرما ، آرٹ اور فلم نقاد رانا صدیقی اور پینٹر سنکیت ویرامگامی شامل ہیں۔ اس مقابلے میں تینوں کیٹیگریز میں پہلا انعام 10 ہزار روپے نقد ، دوسرا انعام 5 ہزار روپے اور تیسرا انعام 3 ہزار روپے نقد ہے۔ مقابلے میں حصہ لینے والے تمام طلبہ کو ڈیجیٹل سرٹیفکیٹ بھی فراہم کیے جائیں گے۔


اردودنیانیوز۷۲

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا ...