Powered By Blogger

اتوار, اگست 01, 2021

عادل آباد سے ایک 35 سالہ نوجوان 31 جولائی 2021 بروز ہفتہ سے لاپتہ ہے

(اردو اخبار دنیا)عادل آباد _ عادل آباد سے ایک 35 سالہ نوجوان 31 جولائی 2021 بروز ہفتہ سے لاپتہ ہے۔افراد خاندان کی اطلاعات کے مطابق شہر مستقر عادل آباد کے محلہ پنجہ شاہ سے تعلق رکھنے والا 35 سالہ سہیل خان نامی نوجوان 31 جولائی 2021 ہفتہ کی صبح سے لاپتہ بتایا گیا ہے۔ہفتہ کی صبح اہلیہ کو کسی کام سے باہر جانے کی اطلاع دیکر روانہ ہوا تھا۔تاہم ہفتہ اور اتوار دو دن کا عرصہ گزرنے کے بعد بھی گھر واپس نہیں لوٹا۔پیشہ سے ہیرو ہونڈا شوروم میں اکاؤنٹنٹ کی حیثیت سے خدمات انجام دیتا ہے۔فون بھی بند بتایا جارہا ہے۔اچانک شادی شدہ نوجوانوں کے لاپتہ ہونے سے افراد خاندان صدمے میں ہے۔اور گمشدہ نوجوان کو تلاش کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔افراد خاندان نے عوام سے گمشدہ شخص نظر آنے پر درج ذیل فون نمبرات پر اطلاع دینے کی اپیل کی ہے۔7036764286/9985663432

نئی دہلی:جیساکہ بھارت اگست کے مہینے کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل

(اردو اخبار دنیا)نئی دہلی:جیساکہ بھارت اگست کے مہینے کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) کی صدارت سنبھال رہاہے ، وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے اتوار کوکہاہے کہ بھارت ہمیشہ تحمل کی آواز رہا ہے ، مذاکرات کا حامی اور بین الاقوامی قانون کا حامی رہے گا۔وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باغچی نے اسے ایک اہم دن قرار دیا اور دنیا کے بارے میں بھارت کے نقطہ نظر کو بیان کرنے کے لیے 'دنیا ایک خاندان ہے' کا حوالہ دیا۔ جے شنکر نے ٹویٹ کیا ہے کہ ہم اگست کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت سنبھالتے ہوئے دوسرے ممبروں کے ساتھ نتیجہ خیزکام کرنے کے منتظرہیں۔بھارت ہمیشہ تحمل کی آواز،مذاکرات کا حامی اور بین الاقوامی قانون کا حامی رہے گا۔

لکھنو: سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے صدر و سابق وزیر اعلی اکھلیش یادو نے کہا کہ بی جے پی حکومت میں آئینی اداروں کی معتبریت کو ختم کیا جا رہا ہے۔


(اردو اخبار دنیا)لکھنو: سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے صدر و سابق وزیر اعلی اکھلیش یادو نے کہا کہ بی جے پی حکومت میں آئینی اداروں کی معتبریت کو ختم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے اقتدار کی طاقت پر سرکاری مشنری کو اپنا انتخابی ایجنڈا بنا لیا ہے۔ عوامی منڈیٹ کا غلط استعمال کر کے اس نے جمہوریت کی شفافیت کو مشتبہ کردیا ہے۔ سال 2022 کا یو پی اسمبلی انتخاب ملک کو بچانے کا ہے۔ آئینی اداروں پر ہو رہے حملوں سے گہری ناامید پھیل رہی ہے۔ ان حالات میں عوام کا اعتماد سماج وادی پارٹی پر بڑھ رہا ہے۔

کسانوں سے پنگا کہیں مہنگا نہ پڑ جائے یوگی جی!...سہیل انجم

اکھلیش یادو نے کہا کہ حکومت پبلک شیم اور بھروسے سے چلتی ہے۔ منتخب حکومتوں کو جواب دہ ہونا چاہئے۔ لیکن بی جے پی حکومت اس ذمہ داری سے بچنے کی کوشش کرتی ہے۔ حکومت کی ذمہ داری کے تئیں اس کی مایوسی جگ ظاہر ہے۔ اچھے دن کے نام پر عوام کو گمراہ کرنا ہی بی جے پی کی پالیسی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سرکاری ایجنسیوں کا غلط استعمال کر کے اپوزیشن لیڈروں کو رسوا کرنے کی سازش بی جے پی حکومت کے اشارے پر لگاتار کی جا رہی ہے۔ حال ہی میں ختم ہوئے پنچایت انتخابات میں پولیس۔ انتظامیہ کے ذریعہ جس طرح کی ہراسانی ہوئی ہے وہ جمہوریت کے لئے خطرہ ہے۔ انتخابی عمل میں الیکشن کمیشن کا کردار حکومت کی ہاں میں ہاں ملانے تک محدود ہوتا جا رہا ہے جو کہ غیر مناسب ہے۔

جمعیۃ بلاتفریق مذہب و ملت مہاراشٹر سیلاب متاثرین کے ساتھ ہے: مولانا ارشد مدنی

ایس پی سربراہ نے کہا کہ سیاست کی پاکیزگی کو بی جے پی نے متاثر کیا ہے۔ سماج وادی پارٹی تحریک نے ہمیشہ ناانصافی کے خلاف ڈٹ کر مورچہ لیا ہے۔ سماج کے آخری میدان میں کھڑے شخص کی نمائندگی اور حقوق دلانے میں سماج وادی سب سے آگے ہے۔ ملک اور ریاست میں آمر شاہی طاقتوں کو کمزور کرنے کے لئے سماج وادی پالیسیاں ہی کارگر ہیں۔ ایسے میں ان کی پارٹی کو مضبوط کر کے ہی ریاست میں خوشحالی اور ترقی لائی جاسکتی ہے

امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ پر یہ پہلی کتاب ہے جو بحمد اللہ مکمل ہوئی

(اردو اخبار دنیا)
امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ پر یہ پہلی کتاب ہے جو بحمد اللہ مکمل ہوئی۔ شاہ جی کے افکار، کردار اور ان کی سحرانگیز شخصیت نے جتنا متاثر کیا کم ہی کسی نے کیا ہوگا۔شاہ جی کی شخصیت میں عجیب طرح کی سحرانگیزی ہے، نظریات میں تحریک،کردار و گفتار،فکر و عمل میں حساسیت،معنویت اور جذبات میں بلا کا تلاطم ہے، احساسات میں خلوص و صداقت ہے، فقر و درویشی میں وہ بے نیازی ہے جو بڑے بڑے اساطین و سلاطین کو بھی کم نصیب ہوتی ہے۔

بظاہر ایسا لگتا ہے کہ 'شاہ جی کا اصل میدان خطابت ہے'۔ان کی خطابت جوش و جذبہ،صداقت سے معمور لہجہ،سرمایہ ملت کی نگہبانی کا ولولہ انگیز عزم،ملت اسلامیہ کے شاندار ماضی سے موازنے کی صورت، حال کی رائگانی کا غم،اور اس کے ساتھ ملت اسلامیہ کے مستقبل کی تعمیر کی فکر،کے بنیادی اوصاف علاوہ دیگر ایسے انوکھے عناصر سے معمور ہے جن کی بنا پر انہیں برصغیر کے خطابت کے ائمہ اربعہ میں ایک شمار کیا گیا ہے،شاہ جی کی خطیبانہ شان کی انفرادیت پر قدرے تفصیلی بحث اس کتاب میں شامل ہے۔لیکن حق یہ ہیکہ شاہ جی کی زمینی سطح پر کی جانے والی جد و جہد،اور عملی سرگرمیاں جو ان کی پوری عمر کے دوتہائی حصے پر محیط ہیں،اس امر کی نفی کرتی ہیں کہ شاہ جی نے خطابت کو اصل میدان بنایا تھا۔

شاہ جی سراپا تحریکی شخصیت کے مالک تھے، اس لئے انگریزی حکومت کی نگاہوں میں کھٹکتے رہے۔ "مجلسِ احرار اسلام" کا قیام اور اہل مجلس کی دینی،سماجی،اورسیاسی خدمات ایک ایسا مستقل عنوان ہے جس پر تفصیل سے باقاعدگی کے ساتھ مطالعہ ناگزیر ہے۔ شاہ جی کے ان گنت کارنامے ہیں۔ ان کے کارناموں میں بڑا کارنامہ"فتنہ مرزائیت" کی سرکوبی کو قرار دیا جاسکتا ہے،جس میں یقیناً ان کی تحریک کا حصہ بہت نمایاں ہے۔ ایسا فتنہ جو ملت اسلامیہ کی بچی کھچی "روح" پر موت کے مہیب سایے کی طرح منڈلا رہا تھا،اور قریب تھا کہ بہت سے علاقے خصوصاً کشمیر پر سایہ فگن ہوکر وہاں کی ایمانی فضا کو الحاد و انکار نبوت کی گھٹا ٹوپ تاریکیوں میں ڈبو لیتا، مگر شاہ جی کی بروقت کاروائیوں نے مرزائی دسیسہ کاریوں کا پردہ چاک کیا۔ کتاب میں اس پر تفصیلی بحث موجود ہے،قادیانیت کے سلسلے میں شاہ جی کی مساعی کو مصنف نے اس قدر تفصیل کے ساتھ لکھا ہے کہ دوران قراءت بسا اوقات اس کتاب پر رد قادیانیت کے طویل لٹریچر کا گمان ہونے لگتا ہے،اور اندیشہ ہوتا ہے کہ قاری کہیں کتاب کے مطالعے سے اکتا جائے، یا اس بحث کو چھوڑ کر گزر جائے۔

شاہ جی کے دیگر بہت سے کارناموں میں ایک نمایاں کارنامہ یہ تھا کہ وہ انگریزی حکومت کے بے باک کھلے دشمن تھے،اسی کا نتیجہ تھا کہ کلکتہ سے پنجاب تک اس حکومت کی بدنیتی، اہل ملک کے تئیں اس حکومت کے ناپاک عزائم،اور ملت اسلامیہ پر اس کے تباہ کن اثرات و نتائج، کو ایسے ولولہ انگیز پیرائے میں بیان کرتے رہے کہ کیا ہندو کیا مسلمان، ہندوستان کا بچہ بچہ انگریزوں سے نفرت کرنے لگا، ان کے خطابات نے انگریزی حکومت کو ظالم سفاک اور غاصب باور کرانے، ان کے خلاف ملک بھر میں احتجاج، مزاحمت اور نفرت کی آگ لگانے میں بہت اہم کردار ادا کیا،انہی سرگرمیوں کا نتیجہ تھا کہ شاہ جی متعدد بار ملک کے مختلف زندانوں میں نظر بند کیے گئے،عمر کا ایک معتد بہ حصہ انہوں نے جیلوں میں سزا کاٹتے ہوئے گزارا۔شاہ جی کے زنداں میں کاٹے ہوئے شب و روز کے احوال بھی بڑی دل چسپی کے حامل ہیں، کتاب میں یہ روئیداد بھی مختصراً شامل ہے۔

شاہ جی کی سیاسی زندگی کے بھی مختلف ادوار اور متنوع پس منظر ہیں،خلافت تحریک میں انکی حصّہ داری،کانگریس سے ان کے تعلق کی ابتدا،کانگریس سے اختلاف کی بنیاد،مسلم لیگ اور شاہ جی کے درمیان نسبت،لیگ کی مخالفت کے اسباب،مجلس احرار کا قیام ،شاہ جی کے احباب کی مجلس سے علیحدگی کے اسباب، مجلس کی سیاسی سرگرمیاں،نیز ان عوامل کا تجزیہ جن کے پیش نظر مجلس اپنا سیاسی وقار و حیثیت کھو بیٹھی،مجلس کے تئیں اپنوں کے ناعاقبت اندیشانہ رویے اور غیروں کی بداندیشیاں،ان سب چیزوں پر مصنف نے بہت عالمانہ تبصرہ فرمایاہے،جس سے ایک طرف شاہ جی کی "مجلسِ احرار" کی ایک واضح حیثیت متعین ہوتی ہے،اور اس کی متوازن تصویر ابھر کر سامنے آتی ہے،وہیں تحریک اور شاہ جی کے تئیں بے جا مبالغہ آمیز تعریفوں کی قلعی کھلتی ہے،ساتھ ہی مجلسِ احرار اور شاہ جی پر لگے الزامات کی تردید بھی ہوتی ہے،مصنف نے محققانہ بالغ نظری اورمجتہدانہ بصیرت سے معاملات کو دیکھنے کی کوشش کی ہے،وہ کسی دوسرے کی رائے نقل کرنے یا مستعار زاویہ نگاہ سے واقعات کو دیکھنے کے بجائے اپنے منفرد زاویے سے اس طرح دیکھتے اور تجزیہ کرتے ہیں کہ قاری کا ذہن اصل حقائق تک بآسانی پہنچ جاتا ہے۔

غرض شاہ جی کی شخصیت کے بے شمار گوشے ہیں اور خوبی یہ کہ ہر گوشہ ایسا متاثر کن ہے کہ ایک دنیا اس پر مرمٹنے کو تیار ہے،اس پر مستزادشورش کاشمیری کے قلم نے کہانی کا لطف دوبالا کردیا ہے،شورشں کاشمیری کی یہ قلمی کاوش اس لئے بھی اہم ہے انہوں نے شاہ جی کی مصاحبت میں جو قیمتی وقت گزار کر ان کی شخصیت کے مختلف گوشوں کو جس طرح دیکھا، انہیں بے کم و کاست بیان کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ گویا شورش کاشمیری،کی حیثیت لب دریا کھڑے ہوکر ساحل کا نظارہ کرنے والے مصور کی نہیں،جو اندرون دریا برپا ہونے والی قیامت خیز طغیانی و تلاطم کی تصویر کشی کرنے کی ناکام کوشش کرتا ہے،بلکہ ان کا مقام خود اس کاروان عزیمت کے راہ روؤں میں نمایاں کردار کے حامل ایک کفن بردوش راہی کا ہے،جو پیش آمدہ احوال و وقائع کا چشم دید ہوتا ہے، ان کی یہ قلمی کاوش اس لئے بھی بہت معتبر ہے کہ اس کا تعلق ایسی شخصیت سے ہے جس سے برصغیر کی عظیم تاریخ وابستہ ہے۔

اہم ترین نوٹ: بڑی ناسپاسی ہوگی اگر سرحد پار کے باصلاحیت و محترک رفیق، نوراللہ فارانی کا تذکرہ نہ کیا جائے جو شاہ جی پر لکھنے پڑھنے والے "ماہرین" میں اولین صف میں شامل ہیں،انہوں نے شاہ جی کی شخصیت کے مختلف گوشوں پر لکھا ہے اور حق ادا کردیا ہے،اس کے لیے وہ بجا طور پر خراج تحسین کے مستحق ہیں ۔ مجھے اس کتاب کے مطالعے کی تحریک انہی سے ہوئی۔فجزاہ اللہ خیر الجزاء۔

ٹوکیو ، یکم اگست ۔ ہندوستانی مکے باز ستیش کمار مردوں کے سپر ہیوی ویٹ (91 کلوگرام) زمرے

(اردو اخبار دنیا)ٹوکیو ، یکم اگست ۔ ہندوستانی مکے باز ستیش کمار مردوں کے سپر ہیوی ویٹ (91 کلوگرام) زمرے کے کوارٹر فائنل میں ازبکستان کے بخودیر جلولوف سے ہارنے کے بعد ٹوکیو اولمپکس سے باہر ہو گئے۔ٹاپ سیڈ بخودیر جلولوف نے تینوں راؤنڈ پراپنا غلبہ بنائے رکھا اور 5-0 سے کامیابی حاصل کی۔جلولوف نے پہلے راؤنڈ میں ستیش کو اپنے تیز پیروں اور جیب سے ہی ٹیگ کرنا جاری رکھا جبکہ بھارتی باکسر نے فرنٹ فٹ تک پہنچنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے۔ جلولوف نے دوسرے دور میں دوبارہ اپنی کلاس دکھائی اور ستیش کو دور رکھا۔ تیسرے راؤنڈ میں بھی ، جلولوف ستیش پر بھاری پڑے اور جیت درج کرکے ستیش کو اولمپکس سے باہر کرنے میں کامیابی حاصل کی۔واضح ہو کہ ستیش اس میچ سے پہلے زخمی ہوگئے تھے۔ ان کے کوارٹر فائنل میچ میں کھیلنے کے بارے میں بھی پس وپیش تھا۔ جمیکا کے ریکارڈو براؤن کے خلاف میچ میں ستیش کو ٹھوڑی اور دائیں آنکھ پر چوٹیں آئی تھیں جس کے بعد انہیں7 ٹانکے لگانے پڑے ہیں۔ ستیش نے اس مقابلے میں 4-1 سے جیت درج کی تھی۔ 7 ٹانکے لگنے کے بعد بھی وہ میدان میں اترے۔

ممبئی، ،۱؍اگست- بھارتی گلوکار، میوزک ڈائریکٹر اور اداکار سونو نگم جو کہ 'انڈین

(اردو اخبار دنیا)ممبئی، ،۱؍اگست- بھارتی گلوکار، میوزک ڈائریکٹر اور اداکار سونو نگم جو کہ 'انڈین آئیڈل' اور 'سارے گا ما پا' میں بطور جج فرائض انجام دیتے رہے ہیں۔انھوں نے میوزک رئیلٹی شوز میں اپنی عدم شرکت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی مجھے میرے رویے اور برتاؤ کے بارے میں بتا نہیں سکتا کہ مجھے کیا کرنا چاہئے۔انھوں نے کہا کہ اگر ان سے کسی بھی شو میں بطور جج کام کرنے کو کہا جائے گا تو وہ کام کریں گے۔ تاہم انھوں نے مزید کہا کہ اگر وہ کوئی کام نہ کرنا چاہیں تو وہ اس سے لطف اندوز کیسے ہوسکتے ہیں؟ یاد رہے کچھ عرصے قبل انڈین آئیڈل اس وقت ایک تنازع کا شکار ہوگیا تھا جب گلوکار امیت کمار نے دعویٰ کیا تھا کہ ایک شو کے دوران جب وہ بطور خصوصی جج شریک ہوئے تو ان سے کہا گیا کہ وہ انڈین آئیڈل 12 کے مقابلے میں شریک افراد کی تعریف کریں۔ سونو نگم نے اس پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر رئیلٹی شوز کے مقابلہ کے شرکا کی ہمیشہ تعریف کی جائے تو پھر یہ نقصان دہ ہوتا ہے۔ ایک میڈیا ادارے کے ساتھ انٹرویو میں معروف گلوکار کا کہنا تھا کہ اب وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی جبلت ہی انھیں ایسے شوز میں شرکت کی اجازت نہیں دیتی۔انکا کہنا تھا کہ وہ اس حوالے سے بڑے واضح انسان ہیں، کوئی بھی مجھے یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں کیسا رویہ اپناؤں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم موسیقی اور زندگی کے بالکل خالص اسکول سے تعلق رکھتے ہیں، جب میں کسی کام کے کرنے سے لطف اندوز ہی نہیں ہورہا تو پھر میں وہ کیسے کرسکتا ہوں؟ دریںاثنا بندروں کی شرارتوں اور چالاکیوں سے بے شک ہر شخص واقف ہے اور یہ انسانوں کی توجہ سمیٹنے میں ذرا لگاتے۔مدھیا پردیش سے نٹ کھٹ بندر کی ایک ویڈیو وائرل ہورہی ہے جس نے دیکھنے والوں کے چہروں پر خوب مسکراہٹ بکھیری۔ ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ بندر ایک اسکول میں داخل ہوکر پرنسپل کے کمرے تک رسائی حاصل کرلیتا ہے جس کے بعد پرنسپل کی کرسی پر براجمان ہوکر کبھی کرسی کے پلاسٹک سے چھیڑ خانی کرتا ہے تو کبھی اس کے اندر چھپنے کی کوشش کررہا ہے۔دوسری جانب اساتذہ مسلسل اسے وہاں سے ہٹانے کی کوششوں میں مصروف ہیں جس کے بعد ایک خاتون ٹیچر اسے کمرے سے بھگانے میں کامیاب ہوئیں۔سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے مذکورہ ویڈیو پر پسندیدگی کا اظہار کیا جارہا ہے۔

میری بہنوں آپ اس سازش کو کیوں نہیں سمجھ رہی ہیں، یہ مسلم لڑکیوں کی زندگی برباد کرنے کی منصوبہ بند سازش ہے

. (اردو اخبار دنیا)
میری بہنوں آپ اس سازش کو کیوں نہیں سمجھ رہی ہیں، یہ مسلم لڑکیوں کی زندگی برباد کرنے کی منصوبہ بند سازش ہے
شادی سے پہلے تو وہ خود مسلمان ہونے کی بات کرتے ہیں قسمیں کھاتے ہیں یا مسلمانوں کے ہی بھیس میں آتے ہیں لیکن جب شادی ہوجاتی ہے اور وہ آپ کی عزتوں سے کھلواڑ کرچکے ہوتے ہیں تب آپ کو مجبور کرتے ہیں کہ آپ اپنا مذہب تبدیل کرلیں اور نہ کرنے پر موت کی گھاٹ اتار دیتے ہیں یا زندہ لاش بنادیتے ہیں، ہر دن ایسے ہزاروں واقعات پیش آتے ہیں
میری بہنوں آپ بہت قیمتی ہو، آپ ہماری عزت اور اسلام کی شہزادی ہو اور ایک شہزادی کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ ایک نجس کافر کے لیے اپنی زندگی کو برباد کرے، 
یاد رکھو!!! ماں باپ سے زیادہ دینا میں کوئی محبت نہیں کرسکتاہے جس ماں نے آپ نو ماہ پیٹ میں رکھا اور ڈھائی سال اپنے خون کا دودھ پلایا جس نے کھانا آپ کی مرضی کے مطابق کھایا، سخت سردی میں آپ کو سوکھے بستر پر سلایا اور خود گیلے بستر پر سوئی، جوب باپ نے اپنی جوانی آپ کی خوشی کے لئے تج دیتا ہے، آپ کو خوش دیکھنے کے لئے در در کی ٹھوکریں کھاتا ہے، عید پر آپ کے کپڑے بناتاہے اور خود پرانے کپڑوں میں عید کرتا ہے، ایک بھائی جس کی آپ غیرت ہو وہ آپ کے لئے بچپن سے پریشان رہتا ہے۔۔۔ ان سب کی بے لوث محبت کو آپ ایک اجنبی شخص کے لیے کیسے بھلا سکتی ہو،
میری بہنو!!!! اپنی فکر کرو، اپنے والدین کی عزت کی فکر کرو، مجھے اغیار سے نہیں آپ سے شکایت ہے کیونکہ آپ میری عزت ہو، وہ ہر طرح سے آپ کو ورغلانے کی کوشش کریں گے، ستارے توڑ لانے کی باتیں کریں گے، قتل کی دھمکیاں دیں گے،لیکن انجام یہی ہوگا جو اس بہن کا ہوا ہے، آپ کو اندازہ نہیں ہے کہ یہ سب دیکھ کر کتنی تکلیف ہوتی،
خدا ہماری بہنوں کی عفت و عصمت کی حفاظت فرمائے،
🖋️ م۔ج۔ن
https://www.facebook.com/mjavedhh
The future of Durjauliya. 
ارتداد کے بعد گھر واپسی پر میرے پاس ہزاروں واقعات ہیں جن میں ایک واقعہ آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں مجھے امید ہے اس میدان میں کام کرنے والوں کو اس واقعے سے مرتد ہوئی لڑکیوں کی گھر واپسی کے تعلق سے تھوڑی سی رہنمائی ملے گی

ایک مسلم لڑکی ایک غیر مسلم کے پیار میں پڑتی ہے اور گھر چھوڑ کر اس کے ساتھ بھاگ جاتی ہے والدین اس لڑکی سے تمام رشتے ناطے ختم کر لیتے ہیں تقریباً دو سال کا عرصہ گزر جاتا ہے اس عرصے میں لڑکی تمام ہندوانہ پوجا پاٹ کرتی ہے لیکن والدین سے ملنے کے لیے بے چین رہتی ہے تاہم والدین اس سے کوئی رابطہ نہیں رکھتے

یہ سارا معاملہ قریب کے ہی ایک مسلم لڑکے کو معلوم ہوتا ہے وہ فوراً مرتدہ لڑکی کے بھائی سے جاکر ملتا ہے اور ہاتھ جوڑ کر اس سے درخواست کرتا ہے کہ وہ کیسے نا کیسے کرکے اپنی بہن سے جا کر ملے، بھائی پہلے تو بہن سے ملاقات پر راضی نہیں ہوتا لیکن جب وہ لڑکا اسے امید دلاتا ہے اور کہتا ہے کہ بہن کے گھر مجھے بھی ساتھ لے کر چلیں تو بھائی راضی ہو جاتا ہے لڑکا بھائی سے کہتا ہے کہ وہاں جاکر غصے کا اظہار مت کرنا بلکہ اپنی بہن سمجھ کر ہی اس سے ملنا 

قصہ مختصر یہ دونوں اس لڑکی کے گھر جاتے ہیں وہ لڑکی جیسے ہی اپنے بھائی کو دیکھتی ہے اس کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہتا دونوں ہی میاں بیوی خاطر تواضع کرتے ہیں لڑکی کو معلوم ہوتا ہے کہ میرا بھائی خود نہیں آیا ہے بلکہ لایا گیا ہے اور لانے والا یہی لڑکا ہے جو ساتھ آیا ہے وہ لڑکی اس لڑکے کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہے لیکن سب کے سامنے نہیں کر سکتی تھی اسی لیے اس لڑکے کا نمبر لے لیتی ہے

بھائی اور اس کے ساتھ کا لڑکا گھر واپس آجاتے ہیں کچھ دنوں بعد اس مسلم لڑکے کے پاس اس لڑکی کا فون آتا ہے لڑکی کہتی ہے کہ آج سے میں نے آپ کو بھی بھائی مان لیا ہے پچھلے دو سالوں سے والدین اور بھائی سے دوری کی بنا پر تڑپ رہی ہوں ان سے ملنا چاہتی تھی لیکن وہ نہیں ملتے تھے آج مجھے اپنے بھائی سے ملنے کی خوشی آپ کی وجہ سے حاصل ہوئی ہے

لڑکا کہتا ہے کہ اگر واقعی آپ نے مجھے اپنا بھائی مان لیا ہے تو میں بحیثیت بھائی یہ پوچھ سکتا ہوں کہ آپ نے ایک غیر مسلم کے ساتھ پوری لائف بتانے جیسا قدم کیوں اٹھایا

لڑکی کہتی ہے کہ میں اس لڑکے سے محبت کرتی ہوں
وہ مسلم لڑکا کہتا ہے کہ اللہ بھی تو آپ سے محبت کرتا ہے پھر آپ نے اپنی محبت کے لیے اللہ کی محبت کی بَلی کیوں چڑھائی

لڑکی کو بات سمجھ میں آتی ہے وہ لڑکے سے کہتی ہے کہ میں نے غلطی کی ہے اب بتاییے کہ اس غلطی کا تدارک کیسے ممکن ہو

لڑکا اس سے جو کہتا ہے وہ پورے واقعے کا نچوڑ ہے کہ آپ پھر سے گھر واپس آجائیں
لڑکی کہتی ہے کہ میں اپنے غیر مسلم شوہر کو بھی نہیں چھوڑ سکتی کیونکہ میں اس سے محبت کرتی ہوں

لڑکا کہتا ہے کہ آپ سے یہ کس نے کہا کہ آپ شوہر کو چھوڑ دیں لیکن اگر آپ نے محبت کی ہے تو بتائیے کہ کیا محبت کا تقاضا یہ ہے کہ آپ جہنم میں جانے والے راستے پر اپنی محبت کو لے کر چلیں یا محبت یہ ہے کہ آپ خود بھی جنت جانے والے راستے پر چلیں اور اپنے محبوب کو بھی کیسے نہ کیسے کرکے اسی راستے پر لے کر آئیں....

لڑکی کے بات سمجھ میں آ جاتی ہے اور اب الحمد للہ دونوں ہی مسلمان ہیں

اسی لیے ارتداد کے کسی بھی کیس کو نہایت سمجھداری اور پیار و محبت سے ہینڈل کرنے کی کوشش کریں تاکہ مسلم لڑکیوں کے ایمان کو بچایا جا سکے
Abdul ahad shamsi

اردودنیانیوز۷۲

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا ...