Powered By Blogger

جمعرات, اگست 19, 2021

جمعیۃ علماء ہند نے مہاراشٹر سیلاب متاثرین کیلئے دو کروڑ روپئے اور ائمہ مساجد و علماء کرام کے لئے 50 لاکھ کا فنڈ دیا

جمعیۃ علماء ہند نے مہاراشٹر سیلاب متاثرین کیلئے دو کروڑ روپئے اور ائمہ مساجد و علماء کرام کے لئے 50 لاکھ کا فنڈ دیانئی دہلی(اردو اخبار دنیا): مہاراشٹر کا ایک بڑا علاقہ سیلاب سے بری طرح متاثر ہے۔ کوکن کے علاقے میں سیلاب کی تباہ کاریاں دوسرے کے علاقوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہیں، جمعیۃ علماء مہاراشٹر جمعیۃ علماء کی مقامی اکائیوں کے تعاون سے ان سیلاب متاثرہ علاقوں میں امداد و راحت رسانی کاکام جنگی پیمانے پر کر رہی ہے، ان علاقوں میں املاک کا زبردست خسارہ ہوا ہے، جس کے پیش نظر صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا سید ارشد مدنی نے ایک بڑا اور خوش آئند فیصلہ لیتے ہوئے بازآباد کاری کے لئے ابتدائی طور پر دو کڑوڑ روپئے کا فنڈ مختص کردیا ہے اور حسب ضرورت اس مد میں مزید رقم بھی جاری کرنے کو کہا ہے۔ ساتھ ہی متاثرہ علاقوں کے مساجد کے ائمہ اور علماء کرام کے لئے الگ سے پچیس لاکھ روپے مختص کئے ہیں، ساتھ ہی مولانا مدنی نے راحت رسانی، بازآبادکاری، طبی خدمات اور دیگر ضروری کاموں میں مصروف جمعیۃ کی ٹیموں کو یہ ہدایت بھی کی ہے کہ جس طرح کیرالا، مغربی بنگال، آسام،کرناٹک وغیرہ میں بازآبادکاری وراحت رسانی کا کام مذہب سے اوپر اٹھ کر ہندو مسلم عیسائی وغیرہ کے درمیان انجام دیا گیا تھا اسی طرح یہاں بھی انجام دیں۔ ساتھ ہی ایسی ٹیم بھی تشکیل دینے کوکہا ہے کہ جو دستاویزات بنوائے اور قانونی مدد کرے تاکہ متاثرین کو سرکاری امداد واسکیم سے فائدہ حاصل کرنے میں سہولت ہو۔

جمعیۃ علماء ہند کی مختلف ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں خیمہ زن ہیں اور سروے کررہی ہیں، اب تک ابتدائی طور پر جو سروے رپورٹ آئی ہے، اس کے مطابق مہاڈ علاقے میں 26 مکانات کی ارسر نو تعمیر اور 36 مکانات کی مرمت کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ازسر نو تعمیر پر ایک کی مکان کی لاگت تقریبا پانچ لاکھ روپئے اور ایک مکان کی مرمت پر 50 ہزار سے لے کر ایک لاکھ روپئے کا تخمینہ کا ہے۔ سیلاب متاثرہ علاقوں میں اور بھی کئی غیر سرکاری تنظیمیں امداد وراحت رسانی کے کام میں لگی ہوئی ہیں، لیکن اب متاثرین کی بازآبادکاری ایک بڑا مسئلہ ہے۔ سیلاب سے مال و اسباب کو ہی نقصان نہیں پہنچا ہے بلکہ بڑی تعداد میں لوگوں کے گھر بھی پوری طرح تباہ ہوچکے ہیں ایسے میں متاثرین کی بازآبادی وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے، ہوتا یہ ہے کہ اس طرح کے قدرتی آفات کے بعد کچھ عرصے تک امداد و راحت رسانی کے کام کا ہنگامہ تو رہتا ہے لیکن پھر وقت گزرنے کے ساتھ لوگ متاثرین فراموش کردیتے ہیں، آسام اور کیرلا میں ایسا ہوچکا ہے،اسی بات کو مد نظر رکھتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند نے اب متاثرین کی بازآبادکاری کا بیڑہ اٹھایا ہے اور اس کے لئے نہ صرف ایک فنڈ الگ سے مخصوص کردیا گیا ہے بلکہ یہ اعلان بھی کیا گیا ہے کہ حسب ضرورت اس فنڈ میں رقم کا اضافہ ہوتا رہے گا۔

مولانا سید ارشد مدنی نے ایک بڑا اور خوش آئند فیصلہ لیتے ہوئے بازآباد کاری کے لئے ابتدائی طور پر دو کڑوڑ روپئے کا فنڈ مختص کردیا ہے اور حسب ضرورت اس مد میں مزید رقم بھی جاری کرنے کو کہا ہے۔

جمعیۃ علماء مہاراشٹر کی مختلف اکائیاں منظم طریقے سے راحت رسانی کے کاموں میں مصروف ہیں، ایک جانب جہاں غذائی اجناس، اشیاء ضروری، طبی امداد وغیرہ بروقت مہیا کروائی ہیں وہیں مکینیکوں کی ٹیم نے موٹر سائیکل، آٹورکشا و دیگر چھوٹی بڑی گاڑیوں کی بڑی تعداد میں مرمت کی اور تقریبا دس ہزار سے زائد موٹر سائیکلوں کی مرمت کیلئے درکار سازوسامان مہیا کرایا اور گاڑیوں کی مرمت بھی اور انہیں قابل استعمال بنایا۔ واضح رہے کہ صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا سیدا رشد مدنی نے کیرلا، مغربی بنگال،آسام اور کرناٹک میں خصوصی دلچسپی لے کر مسلمانوں کے ساتھ ساتھ ہندو اور عیسائی بھائیوں کے اور دیگر مذاہب کے لوگوں کے مکان کی مرمت اور تعمیر کروائی تھی، جس سے خوشگوار ماحوال قائم ہوا تھا۔ جمعیۃ علماء ہند کایہ کام خاص طور پر اس دور میں بہت اہمیت حاصل کرجاتا ہے جب ملک میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز نعرے لگائے جارہے ہیں،عام مسلمانوں کو کاٹنے کی بات کہی جا رہی ہے۔مٹھی بھر فرقہ پرست لوگوں نے پوری ملک کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ان سخت حالات میں بھی جمعیۃ علماء ہند کی یہ مثبت کوششیں لائق تحسین ہیں، اور ہماری گنگا جمنی تہذیب کی نشانی بھی۔

ایل پی جی سلنڈرس کی قیمت میں 25 روپے کا اضافہ .

ایل پی جی سلنڈرس کی قیمت میں 25 روپے کا اضافہ .(اردو اخبار دنیا)حیدرآباد میں 912 روپے قیمت، ملک میں سب سے مہنگا
حیدرآباد ۔ 18 اگست (پریس نوٹ) مرکزی حکومت نے بغیر سبسیڈی والے ایل پی جی سلنڈرس کی قیمت میں 17 اگست سے 25 روپے کا اضافہ کردیا ہے۔ اس طرح 14.2 کیلو گرام کے ایل پی جی سلنڈر کی قیمت 25 روپے اضافے کے بعد حیدرآباد میں 912 روپے ہوگی جو ملک بھر میں سب سے مہنگا ہے۔ ایل پی جی سلنڈرس کی قیمت میں ایسے وقت اضافہ کیا گیا ہے جبکہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بھی بے تحاشہ اضافہ ہوگیا ہے۔ قبل ازیں یکم جولائی کو ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں 25.50 روپے کا اضافہ کیا گیا تھا۔ عام طور پر آئیل مارکٹنگ کمپنیاں ہر ماہ کے آغاز پر پکوان گیس کی قیمتوں میں اضافہ کا اعلان کرتی ہیں لیکن اس مرتبہ وسط اگست میں اضافہ کا اعلان کیا گیا۔ جولائی میں قیمتوں میں اضافہ کے بعد ایل پی جی سلنڈر کی قیمت 861 روپے سے بڑھ کر 887 روپے ہوگئی تھی۔ ریاستی حکومتوں کی جانب سے مقامی ٹیکس عائد کرنے کے بعد ایل پی جی سلنڈرس کی قیمتیں مختلف ریاستوں میں الگ الگ ہوتی ہیں۔

ناندیڑمیں وزیراعظم عمران خان کی تصویر پرجوتے مارے گئے

ناندیڑ:18اگست (اردو اخبار دنیا)پاکستان کے شہر لاہور میں گزشتہ دنوں مہاراجہ رنجیت سنگھ کے مجسمہ کو نقصان پہنچانے پرسکھ سماج میںشدید ناراضگی پائی جاتی ہے ۔ اسی لئے آج ناندیڑمیں پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کے خلاف ضلع کلکٹرآفس کے روبرو احتجاج کیاگیا۔

سکھ سماج سیل راشٹروادی کانگریس پارٹی مہاراشٹر کے چیف سردارجنریل سنگھ بھوجنگ سنگھ گاڑی والے کی قیادت میں آج ناندیڑ میںضلع کلکٹرآفس کے روبرو پاکستان کے وزیراعظم عمران کی تصویر کے ساتھ احتجاجی مظاہرہ کیاگیا اور لاہور میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کے مجسمہ کی توڑ پھوڑ کرنے والوں کے خلاف سخت کاروائی کامطالبہ کیاگیا۔ اس موقع پرپریم جیت سنگھ کور کولہاپورے ‘ ترویندرسنگھ ‘ نیلم کور‘اتم کور کے علاوہ دیگر کارکنان موجود تھے۔اس کے بعدوفد نے وزیراعظم نریندر مودی کے نام تحریرمیمورنڈم کی کاپی ضلع دفتر میں دی۔

اسٹیٹ بینک کے ریٹیل صارفین کے لیے آفرس کی بارش

اسٹیٹ بینک کے ریٹیل صارفین کے لیے آفرس کی بارش

yono sbi app

ممبئی 18اگست:(اردو اخبار دنیا)ایک طرف ملک آزادی کے 75 سال منانے کے لیے حکومت ہند کی پہل کے تحت آزادی کا امرت مہوتسو منا رہا ہے ، دوسری طرف ملک کا سب سے بڑا بینک #اسٹیٹ #بینک آف انڈیا (ایس بی آئی) نے بھی اپنے ریٹیل گاہکوں کے لیے خوردہ قرض اور جمع پر کئی آفرس کی بارش کر دی ہے۔ ہوم لون پر پروسیسنگ فیس معاف کرنے کے اعلان کے بعد، بینک نے تمام چینلوں پر اپنے کار لون صارفین کے لیے پروسیسنگ فیس کی 100 فیصد چھوٹ کا اعلان کیا ہے۔

صارفین اپنے کار لون کے لئے 90 فیصد تک آن روڈ فائنانسنگ کی سہولت کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ایس بی آئی یونو کے ذریعے کار قرضوں کے لیے درخواست دینے والے صارفین کے لیے 25 بی پی ایس کی خصوصی سود رعایت کی پیشکش کی گئی ہے۔ یونو ایس بی آئی کے ایسے #صارفین جو نئی کار گھر لانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں وہ 7.5 فیصد سالانہ کی کم شرح #سود پر قرض حاصل کر سکتے ہیں۔اپنے گولڈ لون صارفین کے لیے بینک شرح سود میں 75 بی پی ایس کی کمی کی پیشکش کر رہا ہے۔ صارفین اب بینک کے تمام چینلز سے 7.5 فیصد سالانہ کی شرح پرگولڈ لون حاصل کرسکتے ہیں۔

بینک نے YONO# کے ذریعے #گولڈ #لون کے لیے درخواست دینے والے تمام صارفین کی پروسیسنگ فیس بھی معاف کر دی ہے۔ اپنے ذاتی اور #پنشن #قرض کے صارفین کے لیے، بینک نے تمام چینلز پر پروسیسنگ #فیس کی 100 فیصد چھوٹ کا اعلان کیاہے۔بینک نے ذاتی #قرضوں کے لیے #درخواست دینے والے کووڈرضاکاروں یعنی فرنٹ لائن ہیلتھ کیئر ورکرز کو 50 بی پی ایس کی خصوصی رعایت دینے کا بھی اعلان کیا ہے ، جو جلد ہی کار اور گولڈ لون کے تحت بھی درخواستوں کے لیے دستیاب ہوگا۔خوردہ جمع کرنے والوں کے لیے ، بینک آزادی کے 75 سال مکمل ہونے پر ‘پلاٹینم فکسڈ ڈپازٹ’ متعارف کروا رہا ہے۔

صارفین اب 15.08.2021 سے 14.09.2021 تک 75 دن ، 75 ہفتوں اور 75 ماہ کی مدت کے لیے فکسڈ ڈپازٹس پر 15 بی پی ایس تک اضافی سودحاصل کر سکتے ہیں۔ ایس بی آئی کے ایم ڈی (ریٹیل اینڈ ڈیجیٹل بینکنگ) ، مسٹر سی ایس سیٹی نے کہاہے کہ ہم تہواروں کے سیزن سے پہلے اپنے تمام ریٹیل صارفین کے لیے متعدد پیشکشوں کا اعلان کرتے ہوئے خوش ہیں۔

ہمیں یقین ہے کہ ان پیشکش سے گاہکوں کو اپنے قرضوں پر زیادہ بچت کرنے میں مدد دے گی اور ساتھ ہی ان کے تہوار کے جذبے کو دوگنا کر دے گی۔ ایس بی آئی میں ہماری مسلسل کوشش ہے کہ اپنے تمام قابل قدر صارفین کو بہترین معیار کے مالی حل فراہم کریں اور ان کی ضروریات کو پورا کرنے میں ان کی مدد کریں۔

سفید اور لال گوشت کے صحت پر اثرات اگست 19, 2021

گوشت ہماری غذا کا ایک بڑا اور اہم حصہ ہے، کم از کم ہفتے میں دو سے تین بار گوشت کا عام استعمال کیا جاتا ہے، ایسے میں جاننا ضروری ہے کہ کونسا اور کس قسم کا گوشت انسانی صحت کے لیے مفید ثابت ہوتا ہے۔غذائی و طبی ماہرین کی جانب سے سبزی پھلوں سمیت گوشت کا استعمال بھی تجویز کیا جاتا ہے کیوں کہ انسانی صحت کا براہ راست تعلق غذا سے ہوتا ہے، ہر غذا صحت کے لیے کچھ نہ کچھ افادیت کی حامل ہے بشرطیکہ اُسے اعتدال میں رہ کر کھایا جائے۔

 

گوشت پروٹین حاصل کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے، گائے، بھینس، بچھیا اور بکرے کا گوشت لال ہوتا ہے اور ان کے گوشت میں کولیسٹرول کی مقدار بھی زیادہ ہوتا ہے جس کے سبب ان کے زیادہ استعمال سے دل کی بیماریوں سمیت دیگر بیماریوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب مچھلی اور مرغی کے گوشت (وائٹ میٹ) سے انسانی جسم کو پروٹین، منرلز اور وٹامنز حاصل ہوتے ہیں اور وائٹ میٹ میں کیلوریز اور چکنائی کی مقدار کم پائی جاتی ہے۔غذائی ماہرین کی جانب سے ’ریڈ میٹ ‘ یعنی کہ چھوٹا گوشت (مٹن، بکرا) اور بڑا گوشت (گائے، بیف ) کو عام روٹین میں ضرورت کے مطابق کھانا تجویز کیا جاتا ہے۔

 

طبی ماہرین کے مطابق گوشت کھانے میں غیر معمولی زیادتی سنگین قسم کے صحت کے مسائل کا سبب بن جاتی ہے، مٹن میں چکنائی کی مقدار، چکن کی نسبت زیادہ ہوتی ہے جبکہ بیف (بڑے گوشت) میں چکنائی کی زیادہ مقدار مرغی، مچھلی اور بکرے کے گوشت سے زیادہ پائی جاتی ہے اور دوسرے غذائی اجزا مثلاً پروٹین، زنک، فاسفورس، آئرن اور وٹامن بی کی مقدار بھی موجود ہوتی ہے۔غذائی ماہرین کے مطابق گائے کے گوشت کی 100 گرام مقدار میں 250 کیلوریز ، 15 گرام فیٹ ، 30 فیصد کولیسٹرول ، 3 فیصد سوڈیم ، 14 فیصد آئرن ، 20 فیصد وٹامن بی 6، 5 فیصد میگنیشیم ، 1 فیصد کیلشیم اور وٹامن ڈی اور 43 فیصد کوبالا من پایا جاتا ہے جبکہ بکرے کے گوشت کے 11 گرام مقدار میں 294 کیلوریز، 32 فیصد فیٹ ، 45 فیصد سیچوریٹڈ فیٹ، 32 فیصد کولیسٹرول ، 3 فیصدسوڈیم ، 8 فیصد پوٹاشیم ، 50 فیصد پروٹین ، 10 فیصد آئرن ، 5 فیصد وٹامن بی 6، 5 فیصد میگنیشیم ، اور 43 فیصد کوبالامین پایا جاتا ہے ۔

 

اسی طرح مرغی کے گوشت کی 100 گرام مقدار میں 239 کیلوریز پائی جاتی ہیں، 14 گرام گیٹ، 3.8 گرام سیچوریٹڈ فیٹ، 29 فیصد کولیسٹرول ، 3 فیصد سوڈیم ، 6 فیصد پوٹاشیم، 27 گرام پروٹین ، 20 فیصد وٹامن بی 6 5 فیصد میگنیشیم اور 7 فیصد آئرن پایا جاتا ہے۔غذائی ماہرین کے مطابق مچھلی کے 100 گرام گوشت میں 206 کیلوریز، 18 فیصد فیٹ، 12 فیصد سیچوریٹڈz فیٹ، 21 فیصد کولیسٹرول ، 2 فیصد سوڈیم ، 10 فیصد پوٹاشیم ، 44 فیصد پروٹین ، 6 فیصد وٹامن سی ، 1 فیصد آئرن ، 30 فیصد وٹامن بی 6، 7 فیصد میگنیشیم ، اور 46 فیصد کوبالا مین پایا جاتا ہے ۔

غذائی ماہرین کے مطابق سفید اور لال گوشت کے اپنے اپنے فوائد اور نقصانات ہیں، اس لیے انہیں اعتدال میں رہ کر استعمال کیا جا سکتا ہے جبکہ لال گوشت خصوصاً گائے کے گوشت سے احتیاط ہی تجویز کی جاتی ہے۔ماہرین کے مطابق گوشت کو اپنی غذا کا حصہ بنانے سے پہلے اس کی مقدار کا تعین ضرور کر لیں، اگر لال گوشت کھا رہے ہیں تو اعتدال کے ساتھ اس کا استعمال کریں اور ساتھ میں سبزی وغیرہ سلاد کی شکل میں ضرور کھائیں، اس بات کو یقینی بنائیں کے لال گوشت کے استعمال کے دوران اس میں موجود چربی اچھی طرح سے صاف کی گئی ہو۔

 

پروٹین حاصل کرنے یا وزن میں کمی کے لیے ماہرین کی جانب سے مچھلی اور مرغی کا گوشت تجویز کیا جاتا ہےجبکہ اس کا استعمال بھی بغیر اضافی تیل کے سبزی کے ساتھ کیا جانا چاہیے۔سفید گوشت خاص طور پر مچھلی، سرخ گوشت سے زیادہ صحت کے لیے مفید ہے کیونکہ ان میں چربی اور کولیسٹرول کم ہوتا ہے اور ہضم کرنے میں بھی آسانی ہوتی ہے۔سرخ گوشت کا ضرورت سے زیادہ استعمال صحت کو نقصان پہنچا سکتا ہے جیسے کہ دل سے منسلک شریانوں اور جگر میں چربی کا جمع ہو جانا، بلند فشار خون۔ماہرین کے مطابق سفید گوشت جیسے کہ مرغی، مچھلی اور دیگر سمندری غذاؤں میں کولیسٹرول کی سطح کم پائی جاتی ہے اور ان کے استعمال سے بیماریاں جنم نہیں لیتی بلکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ مچھلی کا استعمال ہفتے میں دو سے تین بار لازمی کرنا چاہیے۔

گوشت کی سب ہی اقسام میں سب سے زیادہ مچھلی کھانا تجویز کیا جاتا ہے۔غذائی ماہرین کی جانب سے مچھلی کو دماغ کی غذا قرار دیا جاتا ہے، مچھلی میں پروٹین، آیوڈین، سلینیم، زنک، وٹامن D اور وٹامن B12 جیسے مفید اجزا پائے جاتے ہیں، اس کے استعمال سے متعدد بیماریوں سے لڑنے کے خلاف قوت مدافعت مضبوط ہوتی ہے جبکہ جسمانی اور دماغی پٹھے بھی مضبوط ہوتے ہیں۔

ایک تحقیق کے نتائج کے مطابق مچھلی میں پایا جانے والا اومیگا تھری فیٹی ایسڈ خون کو جمنے یا لوتھڑے بننے سے روکتا ہے اور ساتھ ہی یہ دل کی شریانوں میں جمع ہونے والی چربی ٹرائی گلیسرائڈز کو بھی کم کرتا ہے جس کے نتیجے میں ہارٹ اٹیک، کینسر اور فالج جیسی بیماریوں سے بچاؤ ممکن ہو پاتا ہے۔

6 ماہ بعد پہلے کووڈ کیس پر پورے نیوزی لینڈ میں لاک ڈاؤن نافذ

  • (اردو اخبار دنیا)

نیوزی لینڈ میں 6 ماہ بعد پہلا کووڈ 19 کیس سامنے آنے پر پورے ملک میں لاک ڈاؤن کا اعلان کیا گیا ہے۔17 اگست کی شب بارہ بجے سے (نیوزی لینڈ کے وقت کے مطابق) پورے ملک میں کم از کم 3 دن تک لاک ڈاؤن رہے گا جبکہ آک لینڈ اور کورومینڈل کے خطوں میں اس کی مدت 4 سے 7 دن ہوگی۔

نیوزی لینڈ میں اس پہلے کیس کے بعد الرٹ لیول 4 کے تحت لاک ڈاؤن کا نافذ کیا گیا، یہ الرٹ لیول سخت ترین لاک ڈاؤن پابندیوں کی عکاسی کرتا ہے۔اس ملک میں لیول 4 لاک ڈاؤن آخری بار کورونا کی وبا کے آغاز میں لگایا گیا تھا اور موجودہ پابندیوں کی وجہ یہ خیال کرنا ہے کہ نیا کیس مقامی سطح پر کورونا کی قسم ڈیلٹا کا پہلا کیس ہے۔

 

وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن نے لاک ڈاؤن کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ‘ڈیلٹا کو گیم چینجر قرار دیا جارہا ہے اور یہ درست بھی ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں شروع میں ہی اس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سخت ہونا ہوگا، ہم نے دیکھا ہے کہ دیگر ممالک میں ناکامی پر کیا حال ہوا، ہمارے پاس صرف ایک ہی موقع ہے’۔اس نئے لاک ڈاؤن میں نیوزی لینڈ کے شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ گھر میں صرف ان کے گھرانے کے افراد رہیں گے اور وہ اپنے گھر سے صرف خوراک یا ادویات خریدنے کے لیے ہی نکل سکیں گے، اس دوران بھی انہیں سماجی دوری کا خیال رکھنا ہوگا۔

 

جیسنڈا آرڈرن نے کہا کہ ابھی ہم نہیں جانتے کہ یہ نیا کیس ڈیلٹا کا نتیجہ ہے یا نہیں اور اس کے لیے جینوم سیکونسنگ کا انتظار کرنا ہوگا، مگر حکومت ڈیلٹا کو مدنظر رکھتے ہوئے اقدامات کررہی ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں ڈیلٹا بہت تیزی سے پھیل رہا ہے اور ہم دنیا کے ان چند ممالک میں سے ہیں جہاں ابھی برادری کی سطح پر کورونا کی یہ قسم پھیلنا شروع نہیں ہوئی تو ہمارے پاس دیگر سے سیکھنے کے لیے بہت کچھ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے دیگر ممالک میں تاخیر سے کیے گئے اقدامات کے تباہ کن نتائج بھی دیکھیں، ہمارے پڑوس میں بھی ایسا ہوا۔انہوں نے آسٹریلیا کا حوالہ دیا جہاں اس وقت کورونا کی لہر بے قابو میں ہے، نیوزی لینڈ کے حکام اب تک نئے کیس کی وجہ بننے والے ذریعے کا تعین نہیں کرسکے ہیں۔

یہ کیس 58 سالہ شخص میں سامنے آیا جو آک لینڈ کا رہائشی تھا اور اس کی ویکسینیشن نہیں ہوئی۔طبی حکام کے مطابق یہ کیس ایک ‘قومی مسئلہ’ ہے کیونکہ ہم اس کیس کو سرحدوں سے منسلک نہیں رسکتے اور ایسا ممکن ہے کہ آک لینڈ میں مزید کیسز موجود ہوں اور وائرس پھیل جائے۔نیوزی لینڈ کے زیادہ تر شہریوں کی ویکسینیشن اب تک نہیں ہوئی اور اب تک 16 سال سے زائد عمر کی صرف 22 فیصد آبادی کی ویکسینیشن مکمل ہوئی ہے۔نیوزی لینڈ میں شہریوں پر ماسک پہننے کی پابندی بھی نہیں مگر وزیراعظم اور طبی حکام نے لوگوں پر زور دیا ہے کہ گھر سے نکلنے کے بعد ماسک کا استعمال ضرور کریں۔

نئی نویلی بھابھی شادی کے 10 ماہ بعد دیور کے ساتھ گھر سے بھاگ گئی، ڈیڑھ ماہ بعد واپس آکر خوفناک قدم اٹھالیا

  • (اردو اخبار دنیا)

پٹنہ :ریاست بہار کے ضلع نالندہ میں دیور بھابھی کے گھر سے بھاگنے اور خود کشی کا واقعہ سامنے آیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق شبنم کماری کی ایک سال پہلے راکیش کمار سے شادی ہوئی تھی۔

راکیش شادی کے بعد اپنے کام کے سلسلے میں دلی چلا گیا جس کے بعد شبنم کماری اپنے دیور کندن کمار کے قریب آگئی۔

کچھ عرصہ دونوں کا معاشقہ چلا اور شادی کے تقریباً 10 ماہ بعد دونوں گھر سے فرار ہوگئے۔ شبنم اور کندن ڈیڑھ ماہ تک گھر سے غائب رہے جس کے بعد وہ واپس آئے اور گھر جانے کی بجائے ریلوے سٹیشن پر ہی زہر کھالیا۔

زہر خورانی کی وجہ سے کندن کمار کی موقع پر ہی موت ہوگئی جبکہ شبنم کماری کو فوری طور پر ہسپتال پہنچادیا گیا جہاں اس کی حالت انتہائی نازک ہے۔

اردودنیانیوز۷۲

عید الفطر کا پیغام

عید الفطر کا پیغام  مضمون نگار : محمد ضیاء العظیم، معلم چک غلام الدین ہائی اسکول، ویشالی، بہار، موبائل نمبر :7909098319 اللہ رب ...