Powered By Blogger

ہفتہ, اگست 21, 2021

بیٹے کی آخری رسوم کیلئے 500 روپئے لئے تھے ادھار ، بدلے میں ملزم کرتا تھا انتہائی گھنونا کام ، تنگ آکر کی خودکشی

بیٹے کی آخری رسوم کیلئے 500 روپئے لئے تھے ادھار ، بدلے میں ملزم کرتا تھا انتہائی گھنونا کام ، تنگ آکر کی خودکشی(اردو اخبار دنیا)

مقتول کی بیوی ساوتری پوار کے بیان کی بنیاد پر ملزم رامداس کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 374 کے تحت مقدمہ درج کیا ہے اور مزید تفتیش شروع کردی ہے۔

اس معاملے میں ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں ہوئی ہے۔

مقتول کی بیوی نے پولیس کو بتایا کہ اس کے شوہر کالو پوار نے ملزم سے بیٹے کے کفن کے لئے 500 روپے ادھار لئے تھے کیونکہ اس کے پاس آخری رسومات اداکے لئے پیسے نہیں تھے۔ ملزم کا تعلق اسی گاؤں سے ہے۔

واضح ہو کہ کالو دھرم پوار نے تقریبا آٹھ ماہ قبل 13 جولائی کو اپنے گھر میں پھانسی لگا کر خودکشی کر لی تھی۔

۔ نومبر 2020 میں اس کا بیٹا جو کہ ہشتم جماعت کا طالب علم تھا ، دیوالی سے کچھ دن پہلے گاؤں کے قریب مردہ پایا گیا تھا جس کے بعد متاثرہ کے پاس بیٹے کی آخری رسومات ادا کرنے کے لئے بھی پیسے نہیں تھے۔

اس لئے وہ اپنے ہی گاؤں میں رہنے والے ملزم رامداس کے پاس گیا اور 500 روپے مانگے۔ پیسے دینے کے بعد ملزم نے پوار سے کہا کہ پیسے دینے کے بجائے اسے اس کے ساتھ کام کرنا پڑے گا لیکن اس کی اجرت مقرر نہیں تھی۔ میں کھانا دیتا تھا۔

متاثر جب بھی کام کرنے کے لئے پیسے مانگتا تھا ملزم پوار کو گالیاں دیتا تھا اور اسے دھمکی دی کہ وہ آئندہ کبھی کام کے پیسے نہ مانگے۔

پوار پریشان تھا اور ان سب کے ظلم سے مجبور تھا۔ 13 جولائی کی صبح 7 بجے کالو پوار (عمر 48 سال) اپنے گھر میں پھانسی لگا لی ، پولیس نے ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرکے مزید تفتیش شروع کردی ہے

لے منایا گیا محرم ، بہار اور جھارکھنڈ میں سادگی نہیں ہوا تعزیہ پہلام

لے منایا گیا محرم ، بہار اور جھارکھنڈ میں سادگی نہیں ہوا تعزیہ پہلامرانچی(اردو اخبار دنیا): اسلامی کیلنڈر کے مطابق جمعہ یعنی 10 محرم کو دنیا بھر میں کروڑوں لوگوں نے حضرت محمد ﷺ کے نواے اور امام حضرت علی کے بیٹے امام حسین علیہ السلام کی شہادت کو سادگی کے ساتھ منایا اور خراج عقیدت پیش کی۔ اس موقع پر ، بہار اور جھارکھنڈ کے مختلف امام باڑوں میں سماجی دوری کو اپناتے ہوئے ، لوگوں نے مجلس اور ماتم کرکے امام حسین کو یاد کیا۔

  سوز پڑھتے ہوئےعزادار

بہار کے پٹنہ ، آرہ ، مظفر پور ، چھپرا ، شیخ پورہ ، سیوان اور گوپال گنج میں بھی مسلمانوں نے اپنے گھروں میں امام حسین علیہ السلام کی یاد میں ماتم اور مجلسیں کیں۔ دوسری طرف جھارکھنڈ کے جمشید پور ، رانچی ، جپلا حسین آباد اور حیدر نگر میں کورونا ہدایات پر عمل کرتے ہوئے گھروں میں امام حسین کی یاد میں ماتم اور نوحہ خوانی کی گئی ۔ تاہم ، کورونا کی وبا کے پیش نظر اس سال بھی تعزیہ کا جلوس نہیں نکالا گیا اورکئی جگہوں پر تعزیہ پہلام نہیں ہو سکا ۔ جس کی وجہ سے مسلم طبقوں میں مایوسی تھی۔

  امام باڑے میں ذکرِ حسین کرتا ننھا عزادار

دہلی سے آرہ میں محرم منانے آئے جے این یو کے ریسرچ اسکالر سید سعدین رضا نے لگاتار نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امام حسین نے انسانیت ، حقوق اور دین کو بچانے کے لیے اپنی شہادت دی۔ کربلا کی جنگ اس لیے ہوئی تاکہ دنیا میں امن و سکون قائم ہو۔
لہٰذا ، انسانیت کا خیال رکھتے ہوئے اور کورونا ہدایات پر عمل کرتے ہوئے ، تعزیہ کا جلوس اور پہلام کا اہتمام پچھلے دو سالوں سے نہیں کیا جا رہا ہے۔ کیونکہ کورونا وبا پوری دنیا کے لیے ایک خطرہ بنی ہوئی ہے اور ہم سبھی مل کر اس وباءکو کورونا گائڈلائن پر عمل کرتے ہوئے سمجھداری کے ساتھ شکست دے سکتے ہیں اور اسے دنیا سے ختم کر سکتے ہیں۔

  سوز پڑھتے ہوئےعزادار

اس موقع پر وشوا بھارتی یونیورسٹی ، کولکاتا کے شعبہ تاریخ کے صدر شعبہ ڈاکٹر اعزاز حسین نے بتایا کہ امام حسین (ع) نے 680 عیسوی میں بنی امیہ کے خلیفہ یزید کی ناانصافی اور دین اسلام کے خاتمے کی سازش کے خلاف تحریک چلائی۔ امام حسین (ع) اپنے 72 ساتھیوں کے سات یزید کی ایک بڑی فوج سے ٹکرا گئے ۔ 10 محرم کو عراق کے کربلا میں یزیدی فوج نے امام حسین (ع) اور ان کے ساتھیوں کو تین دن تک بھوکا اور پیاسہ رکھنے کے بعد قتل کردیا۔ اپنی اور اپنے ساتھیوں کی جانیں قربان کر کے امام حسین نے دنیا کو پیغام دیا کہ عزت کی موت ذلت کی زندگی سے بہتر ہے۔ امام حسین کی شہادت کو یاد کرتے ہوئے مسلمان ہر سال محرم مناتے ہیں ،

  MOULANA NASEEM ABBAS

اس کے ساتھ ہی کانپور سے آئے ہوئے مولانا نسیم عباس نے کہا کہ جھوٹ اور ظلم کے مقابلہ میں امام حسین (ع) کی تحریک سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ظالم کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو ، اسکے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہو جائے۔، بالآخر فتح حق کی ہی ہوتی ہے۔ اسی طرح تحریک کربلا سے ہم ہمت ، صبر ، عزم ، وفاداری ، مساوات ، قربانی اور دشمنوں کی معافی کا سبق سیکھتے ہیں اور اسے اپنی زندگی میں اسے عملی بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔

دہلی میں بارش نے توڑا 2009 کا ریکارڈ ، سڑکیں ندی میں تبدیل

دہلی میں بارش نے توڑا 2009 کا ریکارڈ ، سڑکیں ندی میں تبدیل(اردو اخبار دنیا)دہلی میں 2009 کے بعد سے اس سال ایک مہینے میں سب سے زیادہ بارش ہوئی ہے، جس کے سبب قومی راجدھانی میں آبی جماؤ اور ٹریفک جام کا مسئلہ پیدا ہو گیا ہے۔ یہ جانکاری ہندوستانی محکمہ موسمیات سائنس (آئی ایم ڈی) نے ہفتہ کے روز دی۔ آئی ایم ڈی کا کہنا ہے کہ 10 اگست 2010 کو 110 ایم ایم بارش ہوئی تھی جو کہ اب تک کی سب سے زیادہ تیز بارش تھی، لیکن ہفتہ کی صبح 8.30 بجے تک 24 گھنٹوں کے دوران لودھی روڈ آبزرویٹری میں 149.0 ایم ایم بارش درج کی گئی، جب کہ دہلی ریج پر تقریباً 149.2 ایم ایم بارش کا اندراج ہوا۔ ساتھ ہی آئی ایم ڈی نے بتایا کہ صفدر جنگ ہوائی اڈے نے ہفتہ کو اس مانسون سیزن کی ایک دن کی سب سے زیادہ بارش 138.8 ایم ایم درج کی ہے۔

آئی ایم ڈی کے مطابق دہلی-این سی آر کے بیشتر مقامات (بہادر گڑھ، فرید آباد، بلبھ گڑھ، لونی دیہات، ہنڈن اے ایف اسٹیشن غازی آباد، اندرا پورم، نوئیڈا، گریٹر نوئیڈا، کیتھل اور کرنال کے آس پاس) پر ہلکی سے درمیانی رفتار کے ساتھ ہفتہ کی صبح گرج کے ساتھ بارش ہوئی۔ کئی رہائشی علاقوں اور کئی سڑکوں و جنکشنوں پر پانی بھر گیا ہے جس سے ٹریفک جام کا مسئلہ پیدا ہو گیا ہے۔

دہلی ٹریفک پولیس لوگوں کو حالات کے بارے میں ٹوئٹر پر لگاتار جانکاری دے رہی ہے۔ ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ ''ایم بی روڈ، خان پور ٹی پوائنٹ سے ہمدرد نگر ریڈ لائٹ ٹریفک، مہرم نگر انڈر پاس، راجوکری انڈر پاس، راج گھاٹ کے دونوں راستے میں آبی جماؤ کی وجہ سے ٹریفک نظام متاثر ہے۔'' مزید جانکاری دیتے ہوئے یہ بھی بتایا گیا کہ دوارکا انڈر پاس اور بجواسن فلائی اوور، راجدھانی پارک میٹرو اسٹیشن سے منڈکا اور نانگلوئی سے نجف گڑھ روڈ پر پانی کی ٹنکی کے پاس آبی جماؤ کی حالت ہے۔

نابالغ لڑکی کے ساتھ عصمت دری کی ویڈیو وائرل کرنے کی دھمکی دینے والے دو نوجوانوں کے خلاف ایف ا ? ئی ا ? ر درج

نابالغ لڑکی کے ساتھ عصمت دری کی ویڈیو وائرل کرنے کی دھمکی دینے والے دو نوجوانوں کے خلاف ایف ا ? ئی ا ? ر درجبکسر(اردو اخبار دنیا)، 21 اگست۔گھر سے کوچنگ کے لئے نکلی ایک نابالغ لڑکی کے ساتھ دو نوجوانوں کے ذریعہ پہلے عصمت دری کیا گیا۔ اس دوران اس کی ویڈیو بھی بنائی گئی۔واقعہ کو لیکر لواحقین کو بتائے جانے پر جان سے مارنے کی دھمکی دیکر اسے چھوڑ دیا گیا۔ شرم کی وجہ سے لڑکی نے یہ بات اپنے گھر والوں سے چھپائی ، مگر لڑکوں کے ذریعہ جسمانی تعلقات بنانے کے دباو?کو لیکر دوبارہ دباو? بنایا گیا اور ایسا نہ کرنے پر ویڈیو وائرل کرنے کی دھمکی دی گئی ، تو لڑکی نے سبھی باتیں اپنے اہل خانہ کو بتائی۔ واقعہ کی معلومات ہوتے ہی مشتعل اہل خانہ متاثرہ لڑکی کے ساتھ خاتون تھانہ پہنچ کر تھانہ علاقہ کے درہ پور گاو?ں کے دو نوجوانوں کے خلاف ایف ا?ئی ا?ر درج کرائی ہے۔ معاملے کی ایف ا?ئی ا?ر درج کی گئی ہے۔ نوجوانوں کی گرفتاری کی کوشش جاری ہے۔
ایس ایچ او نے بتایا کہ 17 اگست کے روز لڑکی جب گھر سے نکل کر کوچنگ جارہی تھی ، تبھی ان نوجوانوں نے جبراً واقعہ کو انجام دیا اور ویڈیو بنائی۔ ایف ا?ئی ا?ر درج ہونے کے بعد لڑکی کا میڈیکل چیک اپ کروا رہی ہے

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی شان میں گستاخی کرنے والوں کٹہرے میں لانے کا حکم

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی شان میں گستاخی کرنے والوں کٹہرے میں لانے کا حکم

saudi public prosecution
 ریاض ، 21اگست:(اردو اخبار دنیا)سعودی پبلک پراسیکیوشن کے ایک سرکاری ذریعے نے بتایا ہے کہ پراسیکیوٹر جنرل الشیخ #سعود بن عبداللہ المعجب نے #سوشل #میڈیا کے ذریعے ام #المومنین حضر #عائشہ صدیقہ کی شان میں گستاخی کرنے والے عناصر کو فوری طورپر گرفتارکرکے انہیں عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پبلک پراسیکیوشن کے مانیٹرنگ سیل کی نشاندہی پر ایک ویڈیو سامنے لائی گئی ہے جس میں ام المومین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور بالواسطہ طورپر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کا ارتکاب کیا گیا ہے۔پراسیکیوٹر جنرل نے ویڈیو کے ذریعے مقدس ہستیوں کی گستاخی کے مرتکب عناصر کو فوج داری قانون کی دفعہ 15 اور 17 کے تحت گرفتار کرنے اور انہیں عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے، تاکہ ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جاسکے۔
ذرائع نے بتایا کہ #مقدس #مذہبی ہستیوں ، اسلامی اقدار اور عوامی اخلاقیات کی توہین پرمبنی مواد سوشل میڈیا پر شائع کرنا ان بڑے اور ناقابل معافی جرائم میں سے ایک ہے جنہیں اٹارنی جنرل کے فیصلے نمبر 1 مجریہ 1441 کے تحت گرفتارکرکے ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل لانا ہے۔ اس نوعیت کے جرائم پر کم سے کم پانچ سال قید اور 30 لاکھ ریال جرمانہ کی سزا ہے۔

امریکی لڑکی نے آندھراپردیش کے لڑکے سے کرلی شادی

امریکی لڑکی نے آندھراپردیش کے لڑکے سے کرلی شادیحیدرآباد _ امریکی لڑکی اور آندھراپردیش کا لڑکا جو ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے، شادی کے اٹوٹ بندھن میں بندھ گئے۔تفصیلات کے مطابق اے پی کے مشرقی گوداوری ضلع کے کُپلاواری گوڑم گاوں کے رہنے والے این نارائن راواور اوشارمنی کا بیٹا شیوشنکر ملازمت کے سلسلہ میں امریکہ گیا تھا۔وہ ورجنینا میں آٹھ سال سے ملازمت کررہا تھا۔اس کے دوستوں نے اس کا تعارف امریکی لڑکی ملیساسے کروایااور دونوں میں محبت ہوگئی۔شیوشنکر نے اس بات سے اپنے والدین کو واقف کروایااورشادی کی اجازت مانگی۔ابتدا میں اس کے والدین نے اس شادی کے لئے رضامندی ظاہر نہیں کی تاہم اس نے اپنے والدین کو کسی طرح اس شادی کے لئے رضامند کرلیا۔اس طرح ان دونوں کی شادی ہندورسم ورواج کے ساتھ انجام پائی


‎بانده میں نابالغ لڑکی کے ساتھ اجتماعی آبروریزی ، 3 گرفتار ، 2 ملزمین کی تلاش

 بانده میں نابالغ لڑکی کے ساتھ اجتماعی آبروریزی ، 3 گرفتار ، 2 ملزمین کی تلاشباندہ(اردو اخبار دنیا): اترپردیش کے باندہ (Banda) ضلع میں ایک نابالغ لڑکی کے ساتھ آبروریزی (Rape) کے سانحہ کو انجام دیا گیا ہے۔ اہل خانہ نے تین لوگوں کے خلاف تندواری تھانے میں 14 اگست کو شکایت کی، لیکن پولیس نے معاملہ درج نہیں کیا تھا۔ پولیس معاملے میں ٹال مٹول کرتی رہی، جس کے بعد متاثرہ لڑکی کے اہل خانہ نے اعلیٰ افسران سے معاملے کی گہار لگائی۔ اس کے بعد 19 اگست کی رات کو معاملہ درج کرلیا۔ کچھ ہی دیر بعد 3 لڑکوں کو گرفتار بھی کرلیا گیا ہے اور عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا ہے۔

پورا معاملہ تندواری تھانہ علاقے کے ایک گاوں سے سامنے آیا ہے۔ یہاں ایک لڑکی سے تندواری تھانہ کے بیدا گاوں کے رہنے والے 5 لڑکوں نے آبروریزی کی۔ تحریر کے مطابق، لڑکی اپنے گھر سے جنگل کی طرف قضائے حاجت کے لئے گئی تھی۔ وہیں پہلے سے بیٹھے حیوانوں نے آبروریزی کی واردات کو انجام دیا۔ حادثہ کے بعد متاثرہ لڑکی نے آپ بیتی اہل خانہ کو بتائی۔ بے ہوش حالت میں گھر پہنچی لڑکی کو دیکھ کر اہل خانہ کے ہوش اڑ گئے۔

اس کے بعد اہل خانہ نے لڑکی کو لے کر 14 اگست کو تندواری تھانے پہنچے، لیکن پولیس نے معاملہ میں لاپرواہی کرتے ہوئے کوئی بھی کارروائی نہیں کی، جس کے بعد متاثرہ فیملی نے اعلیٰ افسران سے پورے معاملے کی شکایت کی۔ معاملہ بڑھتا ہوا دیکھ کر باندہ ایس پی ابھینندن سنگھ نے 19 اگست کو آبروریزی کا معاملہ درج کراتے ہوئے ملزمین کی گرفتاری کے لئے ٹیم لگائی اور 3 نابالغ ملزمین کو گرفتار کرنے کے بعد ان کو عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا ہے۔

باندہ ایس پی ابھینندن نے بتایا کہ 14 اگست کو ایک لڑکی کے ساتھ آبروریزی کا سانحہ پیش آیا تھا۔ اہل خانہ تھانہ پہنچے تھے اور اطلاع دے کر چلے گئے تھے۔ 19 اگست کو انہوں نے تحریری طور پر شکایت دی، جس کے بعد معاملہ درج کرلیا گیا ہے۔ لڑکی کو میڈیکل جانچ کے لئے بھیج دیا گیا ہے اور تین ملزمین کی گرفتاری بھی کرلی گئی ہے۔ لڑکوں کو عدالتی حراست میں بھیجا گیا ہے اور پورے معاملے کی تفتیش کی جارہی ہے۔ معاملے میں دو دیگر کی تلاش کی جارہی ہے۔

اردودنیانیوز۷۲

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا ...