حیدرآباد ۔ 22 اگسٹ (اردو اخبار دنیا) گذشتہ دو برسوں میں ریاستی ومرکزی حکومتوں کو لاک ڈاؤن اور کورونا وائرس سے جو معاشی نقصانات ہوئے ہیں اب ان کی پابجائی کیلئے اقدامات شروع ہوگئے ہیں ۔ ذرائع کے مطابق مرکزی و ریاستی حکومت نے جی ایس ٹی آمدنی میں اضافہ کیلئے تجارتی مراکز پر دھاوے کرنے شروع کردیئے ہیں ۔ کہا جا رہاہے کہ دھاؤوں میںمزید شدت پیدا کرکے آمدنی میں اضافہ پر توجہ دی جائیگی ۔ حکومت تلنگانہ کے خزانہ کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے محکمہ کمرشیل ٹیکس کی جانب سے450 کروڑ کی آمدنی میں اضافہ کا منصوبہ تیارکیا گیا ہے ۔ دونوں شہر وں حیدرآباد و سکندرآباد کے علاوہ سرحدی اضلاع جہاں مختلف ریاستوں سے کئی اشیاء لائی جاتی ہیں ان پر خصوصی نظر رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔علاوہ ازیں شہر کے شاپنگ مالس اور بڑے اسٹورس میں بھی جی ایس ٹی قوانین کی خلاف ورزی پر کارروائیوں میں شدت پیدا کی جا رہی ہے ۔ جی ایس ٹی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی میں دیگر محکمہ جات سے مدد لی جائے گی۔ بتایاجاتاہے کہ جی ایس ٹی اور محکمہ کمرشیل ٹیکس کے عہدیدار جلد ہی تجارتی اداروں میں جی ایس ٹی قوانین کی خلاف ورزی کا جائزہ لینے بلدیہ سے رجوع ہو کر تجارتی لائسنس کی تفصیلات حاصل کریں گے اور پھر تجارتی اداروں پر دھاوے کرکے جی ایس ٹی قوانین پر عمل آوری کے سلسلہ میں جائزہ لیا جائے گا ۔ جی ایس ٹی ریٹرنس داخل نہ کرنے والوں کے خلاف کاروائی جائے گی۔جی ایس ٹی عہدیداروں کے مطابق شہر ہی نہیں بلکہ ریاست کے دیگر مقامات پر بھی جی ایس ٹی قوانین کی خلاف ورزی کی متعدد شکایات موصول ہورہی ہیں اور ان کو دور کرنے اور ریاستی و مرکزی حکومت کی آمدنی میں اضافہ کیلئے محکمہ کمرشیل ٹیکس کے ساتھ مشترکہ کاروائی کی جائیگی اسکے علاوہ محکمہ اوزان وپیمائش کی بھی مدد حاصل کرکے عوام سے ٹیکس وصول کرکے حکومت کو جمع نہ کروانے والوں کے خلاف کارروائی کی جائیگی۔بتایاجاتا ہیکہ عہدیداروں نے اس سلسلہ میں وسیع منصوبہ کے ساتھ کاروائیوں کا فیصلہ کیا ہے اور جی ایس ٹی عہدیداروں کو بھی ساتھ رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے
ناندیڑ:22اگست۔ (اردو اخبار دنیا) اراضی کے تنازعہ پرچھوٹے بھائی نے اپنے بیٹوں کے ساتھ مل کر بڑے بھائی کو تیزدھا راسلحہ سے قتل کردیا ۔یہ واقعہ آج 22ی¿اگست کو صبح نو بجے ناندیڑ سے قریب تپاپاٹی کے پاس رونما ہوا ۔تروپتی صاحب راوکدم نے پولس اسٹیشن میں شکایت درج کروائی کہ ا سکے والد صاحب راو کدم اور چاچاتاتے راو کدم کے درمیان کھیت کی تقسیم پرکافی دنوں سے تنازعہ چل رہاتھا ۔
آج 22اگست کو صبح نوبجے جب فریادی کے والد تپاپاٹی کے پاس موجود تھے اس وقت تاتے راو کدم 50سال‘ انکابیٹابالاجی اور رشی کیش بھی وہاں پہنچ گئے اورتینوںنے مل کر فریادی کے والد صاحب راو پرتیزدھا راسلحہ سے وار کرکے قتل کردیا ۔دیہی پولس اسٹیشن میں فریادی کی اس شکایت پر مذکورہ تینوں ملزمین کے خلاف قتل کامقدمہ درج کیاگیا ہے ۔اس معاملے کی تفتیش اے پی آئی سنکیت دھگے کررہے ہیں۔




