شادی کے بعد بنا ڈائٹنگ وزن کنٹرول کرنے کے ٹوٹکے


https://urduduniyanews72.blogspot.com0
اردو دنیا نیوز۷۲
سرورق بین الاقوامی قومی بین ریاستی خبریں اسپورٹس جرائم و حادثات فلمی دنیا گوشہ خواتین و اطفال مضامین و شاعری دلچسپ خبریں صحت اور سائنس
ڈائریکٹر ایم رحمانی
Director M Rahmani

بیٹے کے سر سہرا دیکھنا ہر ماں باپ کاارمان ہوتا ہے۔ اِدھر بیٹا شادی کے قابل ہوااُدھر اماں اور بہنوں کو اس کی شادی کی فکر شروع ہوجاتی ہے۔ہر طرف خیالات کے گھوڑے دوڑائے جاتے ہیں ۔بیٹا چاہے کیسا ہی مگر بہو پری پیکر، پری جمال،صاحبِ مال اور خانہ داری میں بے مثال ہونی چاہئے۔غرض ہر اعتبار سے بہتر سے بہتر رشتے کی تلاش شروع ہوجاتی ہے۔کئی لڑکیوں کو ریجیکٹ کرنے کے بعد من چاہا رشتہ مل جاتا ہے۔
لڑکی کی تلاش کرنے سے لے کر لڑکی ملنے تک بھلے ہی پیروں میں چھالے پڑگئے ہوں یا چپل گھِس گئی ہو۔مگر اماں اور بہنیں اُف نہیں کرینگی بلکہ ایٹری چوٹی کا زور لگا کر اپنے مقصد میں بلآخر کامیاب ہوکر ہی دم لینگی۔رشتے طے ہوتے وقت ہی یہ بات طے ہوجاتی ہے کہ شادی میں میرے بیٹے کے ارمان پورے کرنا ہے اور ساتھ یہ بھی کہہ دیا جاتا ہے کہ ہمیں کچھ نہیں چاہئے مگر دنیا والے کیا کہنگے اور والدین جو بھی دیتے ہیں وہ اپنی #بیٹی کو ہی دیتے ہیں۔
رہا بیٹے کا سوال تو بیٹے سے اس بارے میں کسی بھی طرح کی کوئی بات چیت یا مشورہ نہیں کیاجاتا ۔البتہ لڑکی کی خوبصورتی کا ذکر کرکے اُسے اُسی خوشی میں خوش رہنے کے لئے چھوڑدیا جاتا ہے اگر وہ کچھ کہنا بھی چاہتا ہے تواُسے یہ کہہ کر خاموش کردیا جاتا ہے کہ #شادی #رسم ورواج اور ارمانوں کے بغیر ہوہی نہیں سکتی اور ہم یہ سب تمہارے لیے ہی تو کررہے ہیں۔
والدین کے ارمان بیٹے کی حیثیت کے مطابق یااُس سے بڑھ کرہوتے ہیں اگر بیٹا ڈاکٹر یا انجینئر ہوں تو اُس کے مطابق مانگ ہوتی ہے جیسے گھوڑے جوڑے کی رقم،کار،سونے کی انگوٹھی لاکٹ،گھڑی وہ بھی بہترین کمپنی کی،عقد کے کھانے کا بہترین انتظام،فرنیچر وغیرہ اس سے کم یعنی #ٹیچر،کلرک وغیرہ توجوڑے کی رقم ،سونے کی انگوٹھی کم ازکم پانچ گرام کی،گھڑی وغیرہ یہ ہوگئے لین دین کی باتیں۔
اس کے علاوہ شادی میں جوفضول رُسومات ہوتی ہے اُس کے لئے الگ سے فرمائش ہوتی ہے۔ہلدی، #مہندی رت جگہ توجیسے ارمان نکالنے کے محکمے ہیں ان کے بغیر توجیسے شادی مکمل ہوہی نہیں سکتی ان فضولیات میں لڑکی والوں کو بے پناہ تکلیفوں اور اذیتوں کاسامنا کرنا پڑتا ہے رسم کی ایک ایک چیز کودیکھاا ور پرکھا جاتا ہے۔ چیزیں اچھی ہوئی تو ٹھیک ورنہ اُس پر فقرے کسے جاتے ہیں۔بہانے بہانے سے اُنھیں جتایاجاتا ہے شرمندہ کیاجاتا ہے ایسے چہرے مہرے بنائے جاتے ہیں کہ سامنے والے کا دیکھ کر آدھا دم نکل جاتا ہے۔ اورآدھے شادی کے اخراجات سے۔
ہلدی ،مہندی اور رت جگہ
ارمانوں کی ہے یہ آمجگاہ
اس کے بغیر شادی ادھوری
جتانا ہے شان وشوکت اور دکھاوا (زیباؔ)
آپ یہ سمجھتے ہونگے کہ صرف گاوں کے یا ان پڑھ لوگ ہی ان رسومات کو پورا کرتے ہونگے یا اس طرح کے رسومات کی مانگ کرتے ہونگے ایسا بالکل نہیں ہے۔بلکہ آپ اپنے اطراف واکناف میں نظر ڈالیں تومعاملات اس سے بھی زیادہ سنگین نظرآئینگے پڑھے لکھے،نامور ،اونچے گھرانے والے،دین دار نمازی گھرانے والے افراد ایسی ایسی اوچھی حرکتیں کرتے ہیں جیسے بیٹے کے نہیں اپنے ارمان پورے کررہے ہو۔
محترم والدین شادی کے پانچ دن کے بے ہنگم #رُسومات،فضول خرچی ہونے کے بعد کیا آپ نے سوچا اس میں آپ کوکیا ملا؟ آپ نے لڑکی کا گھر باردیکھ کر شادی کی تھی وہ تمام تر جہیز،سونا چاندی،کپڑے،فرنیچر وغیرہ سب لڑکی کوملے ،لڑکے کے لئے آپ نے جو گھوڑے جوڑے کی رقم، سونا چاندی ،گھڑی وغیرہ کی مانگ کی تھی وہ تمام تر لڑکے کو ملا،اچھی خاطر داری وہ مہمانوں کے حصے میں چلی گئی۔بتا یئے آپ کے حصے میں کیا آیا؟
اچھا ہوا تو ٹھیک ورنہ سارے لوگ جوآپ کے سامنے تعریف کرتے نہیں تھکتے تھے وہ آپ کو ہی موردِ الزام ٹھہرانگے اور سب سے اہم بات اللہ اور رسول کی خوشنودی کیا آپ کوحاصل ہوئی؟کیااس طرح کی شادی کامیاب ہوگی؟کیا آپ بہو اور اس کے مائیکے والوں کے دل میں جگہ بناسکیں گے؟اس طرح کے معاملات کے بعد اگر گھر میں ناچاقی ہوگی اور اگر یہ چیزیں حد سے بڑھ جانے پر چاروناچار لڑکے کوا لگ ہونا پڑے تو؟بتایئے اس وقت آپ کاحال کیا ہوگا روپیہ روپیہ کچھ کام آئیگا؟
جن لوگوں کے سامنے آپ نے جھوٹی شان وشوکت کامظاہرہ کیا تھا۔کیا وہ اس وقت آپ بیٹے اور بہو کوواپس لانے میں آپ کی مدد کرینگے؟ کیاآپ کے اکیلے پن کو آکر دورکرینگے؟ خدارا اس جھوٹی شان وشوکت اور دکھاوے سے باہرا ٓجائیں دنیا داری کے لئے نہیں صرف اللہ اور اس کے رسول کے بتائے ہوئے راستے پر عمل کرکے شادی کی سچی خوشیوں کو حاصل کرکے اپنے رشتوں کو مضبوط بنایئے یہ شان وشوکت یہ جہیز فرنیچر اور زیورات سب یہیں رہ جائے گے ہمارے ساتھ صرف اعمال ہی جائیں گے۔
ابھی بھی وقت ہے اپنی کارکردگی کوبہتر بنایئے بیٹے کی شادی سادگی سے کیجئے اس سے رشتے مضبوط اور پائیدار ہونگے اورآخرتک آپ کے ساتھ رہینگے کیونکہ آپ کی شخصیت گھر میں اس تناآور درخت کی سی ہیں جس کی شاخ پھل اور پھول اور چھائوں سے سب کو راحت ملتی ہے اور اس کی جڑیں جتنی مضبوط اور گہری ہونگی اتنے ہی رشتے محفوظ ہونگے’’کیونکہ رشتوں کی مضبوطی ساتھ میں رہنے سے نہیں دلی وذہنی ہم آہنگی سے ہوتی ہے‘‘۔لڑکوں کے والدین بڑے خوش نصیب ہوتے ہیں وہ اس لحاظ سے کہ وہ چاہیں توسادگی سے نکاح کرکے دنیا اورآخرت میں اللہ کی رضاحاصل کرسکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہوں کہ وہ ہمیں دنیا وکھاوے سے زیادہ دینی معاملات پر عمل کرنے کی توفیق دے اور ہمارا ہر عمل صرف اُسی کے لئے ہو۔
آمین ثمہ آمین۔
https://urduduniyanews72.blogspot.com0
اردو دنیا نیوز۷۲
سرورق بین الاقوامی قومی بین ریاستی خبریں اسپورٹس جرائم و حادثات فلمی دنیا گوشہ خواتین و اطفال مضامین و شاعری دلچسپ خبریں صحت اور سائنس
ڈائریکٹر ایم رحمانی
Director M Rahmani
کیمپس میں چسپاں کیے گئے پمفلٹ میں کہا گیا ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے اظہار تعزیت اس طرح کے جذبات کو ٹھیس پہنچاتی ہے۔ کیونکہ ماضی میں جو کچھ ہوا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔
یہ علی برادری کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے مترادف ہے۔ یہ پمفلٹ ہندی ، اردو اور انگریزی زبانوں میں ہیں۔ کچھ لوگوں نے ان پرچے کی تصاویر بھی لی ہیں اور انہیں سوشل میڈیا پر ڈال دیا ہے۔
اس حوالے سے یونیورسٹی کے پراکٹر پروفیسر وسیم علی کا کہنا ہے کہ اس وقت یونیورسٹی کیمپس میں کوئی طالب علم نہیں ہے۔ کیمپس خالی ہے۔ اس طرح کے پمفلٹ کچھ شرارتی عناصر نے دو یا تین جگہوں پر چسپاں کیے تھے ، جن کے بارے میں انہیں فوری طور پر ہٹا دیا گیا تھا۔ جہاں تک سوشل میڈیا کا تعلق ہے کوئی بھی تبصرہ کر سکتا ہے۔ اگر وہ قانون کی خلاف ورزی کے دائرے میں آتا ہے تو تحقیقات کی جائے گی۔
اس معاملے میں اقلیتی بہبود کے وزیر مملکت محسن رضا کا بیان بھی آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاملے کی تحقیقات کی جا رہی ہے۔ جو بھی قصور وار ہے اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
ساتھ ہی ، کلیان سنگھ کی موت پر ، ایس پی اور کانگریس کے قائدین کی جانب سے انہیں خراج تحسین پیش نہ کرنے کے بعد بھی سیاست شروع ہوگئی ہے۔ بی جے پی نے دونوں پارٹیوں کو کانگریس اور ایس پی رہنماؤں کو سابق وزیراعلی کلیان سنگھ کو الوداع کہنے کے لیے نہ آنے پر نشانہ بنایا ہے۔ کلیان کو پسماندہ طبقات کے ایک لیڈر کو خراج تحسین پیش نہ کرنے کے مسئلے کے ذریعے ، بی جے پی نے پسماندہ ووٹ بینک کو کاشت کرنے میں بھی مصروف ہے۔
پسماندہ ذاتوں کے بڑے لیڈروں جیسے بی جے پی کے ریاستی صدر سوتنتر دیو سنگھ ، وزیر محنت سوامی پرساد موریہ اور اناؤ کے رکن پارلیمنٹ ساکشی مہاراج نے کانگریس اور ایس پی پر الزام لگایا کہ وہ مسلم ووٹ بینک کے لالچ میں کلیان سنگھ کو خراج تحسین پیش نہیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایس پی اور کانگریس نے پسماندہ طبقے کی توہین کی ہے ، 2022 میں ریاست کے عوام اس کا جواب دیں گے۔
اناؤ کے رکن پارلیمنٹ ساکشی مہاراج نے کہا کہ ملائم سنگھ یادو ، اکھلیش یادو ، سونیا گاندھی ، راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی نے کلیان سنگھ کو خراج تحسین پیش نہیں کیا کیونکہ ایک مخصوص طبقے کے ووٹ بینک اور تسکین کی سیاست ہے۔ کلیان سنگھ حکومت کے دور میں ایودھیا میں متنازعہ ڈھانچہ ٹوٹ گیا تھا ، اس لیے کانگریس اور ایس پی لیڈروں نے انہیں خراج تحسین پیش نہیں کیا۔ یہ او بی سی اور دلت طبقے کی توہین ہے
https://urduduniyanews72.blogspot.com0
اردو دنیا نیوز۷۲
سرورق بین الاقوامی قومی بین ریاستی خبریں اسپورٹس جرائم و حادثات فلمی دنیا گوشہ خواتین و اطفال مضامین و شاعری دلچسپ خبریں صحت اور سائنس
ڈائریکٹر ایم رحمانی
Director M Rahmani
.webp)
نئی دہلی(اردو اخبار دنیا)
سرائے کالے خان سے رنگ روڈ پر آنے والے ڈرائیوروں کو جلد ہی جام سے راحت ملے گی۔ یہاں ڈی این ڈی سرائے کالے خان سے بارہ پولہ تک ایک اضافی دو لین سڑک بنائی جا رہی ہے۔
اس کی تعمیر کے ساتھ ، سن واچ سے بارہ پولہ تک چڑھنے والی ٹریفک کو ایک علیحدہ راستہ مل جائے گا۔ اس وقت سرائے کالے خان سے ڈی این ڈی ، آشرم اور ایمس یا ڈیفنس کالونی جانے والے لوگوں کو ایک ہی راستہ استعمال کرنا پڑتا ہے۔
جس کی وجہ سے ٹریفک جام ہے۔ اس اضافی لین کے بننے سے ، یہاں سے ڈیفنس کالونی ، ایمس اور سی جی او کمپلیکس جانے والے ڈرائیوروں کو ایک علیحدہ لین مل جائے گی اور وہ جام میں پھنسے بغیر سورج گھڑی سے براہ راست باراپولا چڑھ سکیں گے۔
یہ سڑک PWD کی طرف سے تعمیر کی جا رہی ہے۔ اس کا آدھا حصہ مکمل ہو چکا ہے ، جس پر ٹریفک بھی رواں دواں ہے۔ آدھے حصے پر کام جاری ہے۔ توقع ہے کہ یہ کام اگلے ماہ تک مکمل ہو جائے گا۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ مہارانی باغ میں سب وے بننے کی وجہ سے ، یہ سڑک سرائے کالے خان تک جام ہو جاتی ہے جب رکاوٹ بنتی ہے۔ اس کی وجہ سے ان لوگوں کو باراپولا سے ایمس اور ڈیفنس کالونی وغیرہ جانا پڑتا ہے۔
https://urduduniyanews72.blogspot.com0
اردو دنیا نیوز۷۲
سرورق بین الاقوامی قومی بین ریاستی خبریں اسپورٹس جرائم و حادثات فلمی دنیا گوشہ خواتین و اطفال مضامین و شاعری دلچسپ خبریں صحت اور سائنس
ڈائریکٹر ایم رحمانی
Director M Rahmani
اہم خبریں : سارن میں نوجوان کا گلا ریت کر قتلسارن میں نوجوان کا گلا ریت کرقتل
چھپرہ(اردو اخبار دنیا): بہار میں سارن ضلع کے دریا پور تھانہ علاقہ میں ایک نوجوان کا گلا ریت کر قتل کرنے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ پولیس ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق، ضلع کے دریا پور تھانہ علاقہ کے دری ہارا بھوال گاﺅں باشندہ سہدیو سنگھ کا 30 سالہ بیٹا راہل عرف بدھن سنگھ منگل کو کسی کام سے دریہارا رام ساگر بازار جارہا تھا۔ اسی دوران دریہارا بھوال گاﺅں کے ٹھاکر باڑی کے نزدیک قبل سے گھات لگائے دو بدمعاشوں نے اسے روک کر مار پیٹ کرنے کے بعد تیز اسلحہ سے گلا ریت کر اس کا قتل کر دیا۔ ذرائع نے بتایا کہ قتل کی جانکاری ملنے پر اہل خانہ نے معاملے کی اطلاع دریا پور تھانہ پولیس کو دی۔ جس کے بعد پولیس نے لاش پوسٹ مارٹم کرا کر اہل خانہ کو سونپ دی ہے۔ متوفی کے اہل خانہ نے اس معاملے میں اپنے ہی گاﺅں کے رمیشور سہنی اور کرشنا سہنی کے خلاف نامزد ایف آئی آر درج کرائی ہے۔ پولیس ملزمین کی گرفتاری کے لئے چھاپے ماری کر رہی ہے۔
https://urduduniyanews72.blogspot.com0
اردو دنیا نیوز۷۲
سرورق بین الاقوامی قومی بین ریاستی خبریں اسپورٹس جرائم و حادثات فلمی دنیا گوشہ خواتین و اطفال مضامین و شاعری دلچسپ خبریں صحت اور سائنس
ڈائریکٹر ایم رحمانی
Director M Rahmani
https://urduduniyanews72.blogspot.com0
اردو دنیا نیوز۷۲
سرورق بین الاقوامی قومی بین ریاستی خبریں اسپورٹس جرائم و حادثات فلمی دنیا گوشہ خواتین و اطفال مضامین و شاعری دلچسپ خبریں صحت اور سائنس
ڈائریکٹر ایم رحمانی
Director M Rahmani

فیروزآباد:24اگست:(اردو اخبار دنیا)اترپردیش کے ضلع فیروزآباد کے سرسا گنج علاقے میں قتل غیرت کا ایک معاملہ روشنی میں آیا جہاں ایک شخص نے اپنی بیٹی اور اس کے #عاشق کا #قتل کرنے ان کی لاش کو #جمنا میں پھینک دیا تھا۔سرسا گنج علاقے کے ڈیٹی ایس پی کملیش کمار نے آج یہاں بتایا کہ اس واقعہ کے ضمن میں پانچ لوگوں کے خلاف قتل اور ثبوت مٹانے کا معاملہ درج کرایا گیا ہے۔ ملزمین میں #لڑکی کے والد، اس کے #چچا اور #والد کے ساتھی شامل ہیں۔انہوں نے بتایا کہ دیگر ملزمین کی تلاش جاری ہے۔
لاش کی بازیابی کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ اس کے لئے آگرہ سے پی اے سی کے غوطہ خور بلائے گئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ سریا گنج علاقے کے گاؤں جہانگیر پور باشندہ لڑکا۔لڑکی اچانک 31جولائی کو غائب ہوگئے تھے۔ لڑکی کے اہل خانہ نے انہیں کہیں سے کھوج نکالا اور 10اگست کو گھر لے آئے۔ اس کے بعد اسی دن دونوں کا قتل کر لاش کو پاس میں واقع جمنا ندی میں پھینک دیا ۔مسٹر کمار نے اس ضمن میں لڑکے کے اہل خانہ کی جانب سے دی گئی گمشدگی کی تحریر پر شبہ کی بنیاد پر لڑکی کے والد کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔
https://urduduniyanews72.blogspot.com0
اردو دنیا نیوز۷۲
سرورق بین الاقوامی قومی بین ریاستی خبریں اسپورٹس جرائم و حادثات فلمی دنیا گوشہ خواتین و اطفال مضامین و شاعری دلچسپ خبریں صحت اور سائنس
ڈائریکٹر ایم رحمانی
Director M Rahmani
مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا ...