Powered By Blogger

جمعرات, اگست 26, 2021

نوجوانوں کو کلاس اور کھیل پر یکساں وقت دینا چاہئے : نائب صدر

نوجوانوں کو کلاس اور کھیل پر یکساں وقت دینا چاہئے : نائب صدرنائب صدر ایم وینکیا نائیڈو نے بدھ کے روز کہا کہ نوجوانوں کو کلاس روم اور کھیل کے میدان میں یکساں وقت دینا چاہیے کیونکہ اس سے طرز زندگی کی بیماریوں کے بڑھتے ہوئے واقعات سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔نائب صدر جمہوریہ نے نوجوانوں سے کہا کہ وہ اولمپک کھلاڑیوں سے تحریک لیں جنہوں نے اپنی کامیابیوں سے نہ صرف ملک کا سر فخر سے بلند کیا بلکہ مختلف کھیلوں میں بھی دلچسپی پیدا کی۔نائیڈو نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اپنے مقاصد کے حصول کیلئے سخت محنت کریں اور کہا کہ محنت رائیگاں نہیں جاتی اور یہ ہمیشہ مثبت نتائج دیتی ہے۔نائب صدر جمہوریہ ایم وینکیا نائیڈو نے آج ڈیجیٹل میڈیم کے ذریعے دہلی یونیورسٹی کے شیواجی کالج کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ تو ہمت نہ ہاریں اور اپنے خوابوں کے لیے لڑیں اور دنیا میں تبدیلی لائیں۔وینکیا نائیڈو نے کہا کہ طلبہ کو کلاس اور کھیلوں میں یکساں وقت دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کھیلوں میں حصہ لینے سے ٹیم سپرٹ، خود اعتمادی اور جسمانی فٹنس میں اضافہ ہوتا ہے۔وینکیا نائیڈو نے کہا کہ طرز زندگی کی بیماریوں کے بڑھتے ہوئے معاملات سے نمٹنے کے لیے یہ اہم ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ محسوس کرتے ہیں کہ کھیلوں کو نصاب کا حصہ ہونا چاہیے اور طلبہ کو کھیلوں اور دیگر جسمانی سرگرمیوں کو یکساں اہمیت دینے کی ترغیب دی جانی چاہیے۔نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ تعلیمی اداروں اور اساتذہ کا تعلیم اور قوم کی خدمت میں اہم کردار ہے۔


بھارت : انسانی فضلہ ہاتھوں سے صاف کرنے کی روایت برقرار

بھارت : انسانی فضلہ ہاتھوں سے صاف کرنے کی روایت برقراربھارت سرکار نے جولائی میں دعوٰی کیا تھا کہ ہاتھوں سے انسانی فضلہ کو صاف کرنے کی وجہ سے ملک میں کوئی موت نہیں ہوئی۔ لیکن حکومت کو اس بیان پر سماجی کارکنوں کی سخت نکتہ چینی کا سامنا کرنا پڑا۔ سرکاری حکام نے بعد میں اعتراف کیا کہ نالوں اور سیپٹک ٹینکوں کی صفائی کے دوران ملک بھر میں 941 صفائی مزدور ہلاک ہوگئے۔

ہاتھوں سے غلاظتوں کی صفائی کے رواج کو ختم کرنے کے لیے سرگرم تنظیم صفائی کرمچاری آندولن کے رہنما بیجواڑہ ولسن کہتے ہیں کہ صرف گزشتہ چار برسوں کے دوران ہی 472 صفائی مزدوروں کی موت ہوگئی جبکہ ہاتھوں سے فضلہ صاف کرنے کی وجہ سے رواں سال اب تک 26 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔

ہاتھوں کے ذریعہ غلاظتوں کی صفائی کے دوران انسانوں کے فضلہ کو نالوں، سیوریج یا سیپٹک ٹینکوں سے نکالا جاتا ہے۔ یہ کام بالعموم ہندو فرقے میں سب سے نچلی ذات کے سمجھے جانے والے دلت کرتے ہیں۔ بڑی تعداد میں دلت خواتین سے بھی بالخصوص دیہی علاقوں میں یہ کام کروایا جاتا ہے۔

غیر انسانی فعل

بھارت سرکار ہاتھوں سے فضلہ کی صفائی کرنے اور سیوریج اور سیپٹک ٹینکوں کی صفائی کے کام کو الگ الگ زمروں میں تقسیم کرتی ہے۔ لیکن مزدوروں کے حقوق کے لیے سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ محض گمراہ کرنے کی کوشش ہے۔ دونوں میں عملاً کوئی فرق نہیں ہے۔ صفائی مزدوروں کو انسانی غلاظت کو دوسری جگہ لے جانے اور انہیں ٹھکانے لگانے کے لیے مجبور کیا جاتا ہے۔

بھارت نے سن 2013 میں ایک قانون بنا کر ہاتھوں کے ذریعہ فضلہ کی صفائی کرنے پر پابندی عائد کردی تھی۔ اس قانون میں ہاتھوں سے فضلہ کی صفائی کو "غیر انسانی فعل" قرار دیا گیا ہے اور " ہاتھوں سے غلاظت صاف کرنے والوں کے ساتھ ہونے والی تاریخی ناانصافی اور ان کے وقار کو پہنچنے والے نقصانات کے ازالے" پر زور دیا گیا ہے۔

تاہم یہ قانون اب تک عملاً نافذ نہیں ہوسکا ہے اور بھارت کے مختلف حصوں میں اب بھی ہاتھوں سے انسانی فضلہ کی صفائی کا کام جاری ہے۔ عالمی ادارہ صحت(ڈبلیو ایچ او) کی سن 2019 کی ایک رپورٹ بتاتی ہے کہ قانون کے نفاذ کے فقدان اور کمزور قانونی تحفظ نیز صفائی مزدوروں کی خراب مالی حالت کی وجہ سے ہاتھوں سے غلاظت کی صفائی کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

ورلڈ بینک، ڈبلیو ایچ او، انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن(آئی ایل او) اور واٹر ایڈ کی طرف سے مشترکہ طورپر کرائی گئی ایک تحقیق کے مطابق صفائی کرنے والے ان مزدوروں کو بہت معمولی اجرت ملتی ہے اور وہ بھی مستقل نہیں۔ تحقیقات میں پایا گیا کہ کئی مرتبہ تو ان مزدوروں کو پیسے بھی نہیں دیے گئے اور اس کے بدلے میں انہیں بچا کھچا کھانا یا دیگر خوردنی اشیاء لینے پر مجبور کیا گیا۔

اترپردیش میں ایک صفائی مزدور نے ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا،" کوئی بھی اپنی مرضی سے یہ کام کرنا پسند نہیں کرتا ہے۔ ہم اس پیشے میں پھنس گئے ہیں لیکن ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے بہتر زندگی گزاریں۔ اس سماجی لعنت کی وجہ سے ہمیں اور ہمارے خاندان کو بہت نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔"

حقوق انسانی کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کی ایک رپورٹ کے مطابق جولوگ غلاظت اٹھانے کا کام کرنے سے منع کرتے ہیں انہیں اعلٰی ذات کے لوگوں کی طرف سے دھمکی اور زیادتی کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔

بھارت سرکار نے گزشتہ برس سووچھ بھارت ابھیان (صفائی مہم) کے تحت متعدد اقدامات کا اعلان کیا تھا۔ ان میں ہاتھوں سے فضلہ اٹھانے کے خطرناک کام کو اگست 2021 تک ختم کردینے اور صفائی مزدوروں کے ساتھ تفریق آمیز سلوک کا خاتمہ شامل ہے۔ تاہم یہ ہدف ابھی بہت دور ہے۔ سماجی انصاف کے نائب وزیر رام داس اٹھاولے نے گزشتہ ماہ پارلیمان کو بتایا کہ ملک بھر میں ہاتھوں سے فضلہ اٹھانے والے66 ہزار 692 افراد کی نشاندہی کی گئی ہے۔

زندگی کو لاحق خطرات

ہاتھوں سے فضلہ کی صفائی کرنے والوں کوزہریلی گیسوں کی وجہ سے دم گھٹ کر ہلاک ہوجانے کا خطرہ رہتا ہے۔ وہ اکثر ہیضہ، یرقان، ورم جگر، میننجائٹس، جلدی بیماریوں اور امراض قلب میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ انہیں کام کے دوران عام طورپر ضروری اور مناسب حفاظتی آلات اور سامان فراہم نہیں کیے جاتے۔

غیر حکومتی تنظیم سلبھ انٹرنیشنل کے بانی بندیشور پاٹھک کہتے ہیں،" بیشتر اموات سیپٹک ٹینکوں اور نالوں کی صفائی کے دوران ہوتی ہیں۔ حفاظتی اقدامات کی بہت قلت ہے۔ مثلاً نالوں میں میتھین گیس بھرا ہوتا ہے اور وہاں لیمپ لے کرجانا خطرے کو دعوت دینا ہوتا ہے۔"

دہلی سمیت بعض ریاستوں میں نالوں کی صفائی کے لیے اب مشینوں کا استعمال ہونے لگا ہے۔ تاہم ملک کے بیشتر حصوں میں اب بھی ایسی مشینیں دستیاب نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ پتلی گلیوں کی وجہ سے یہ بڑی مشینیں وہاں تک نہیں پہنچ پاتی ہیں اور سیپٹک ٹینکوں کا ڈیزائن بھی اتنا خراب ہے کہ یہ مشینیں ان میں کام نہیں کرپاتی ہیں۔

وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت پورے ملک میں ہر گھر کو ٹوائلٹ فراہم کرنے کی مہم چلارہی ہے تاکہ کھلے میدان میں رفع حاجت کا رجحان کم ہوسکے۔ بہت سی غیر سرکاری تنظیمیں بھی صفائی مزدوروں کو دیگر پیشے اپنانے کے لیے تعلیم و تربیت دے رہی ہیں تاکہ انہیں ہاتھوں سے غلاظت کی صفائی کا کام کرنے پرمجبور نہ ہونا پڑے۔

بندیشور پاٹھک کہتے ہیں،" اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے تنظیموں اور حکومت کو مل کر پوری لگن اور سنجیدگی سے کام کرنا ہوگا۔"

یو پی : پولیس ٹیم پر حملہ کے الزام میں 15 افراد گرفتار

یو پی : پولیس ٹیم پر حملہ کے الزام میں 15 افراد گرفتاراترپردیش کے ضلع اعظم گڑھ میں آزاد سماج پارٹی کے ریاستی ترجمان سمیت 15لوگوں کو پولیس پر حملہ اور بدسلوکی وغیرہ کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔

اس تعلق سے ایس پی سدھیر کمار سنگھ نے بتایا کہ گمبھیرپور علاقے کے رانی پور رجمو گاؤں میں دھرنا دے رہے آزاد سماج پارٹی کے ریاستی ترجمان احسان خان سمیت 15افراد کو 24اگست کی رات گرفتار کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آزاد سماج پارٹی کے ترجمان کی قیادت میں کچھ افراد گمبھیرپور علاقے کے رجنی گاؤں میں ایک متازع زمین پر امبیڈکر مورتی قائم کرنے کے سلسلے میں دھرنا مظاہرہ کررہے تھے۔

نقض امن و امان کے شبہ میں پولیس موقع پر پہنچی تو ان لوگوں نے پولیس پر حملہ کردیا، اتنا ہی نہیں اس دھرنے کو ختم کرنے کے عوض میں الزام ہے کہ احسان خان ایک موٹی رقم کی سودے بازی کررہے تھے جس کا آڈیو بھی وائرل ہوا ہے۔

اس ضمن میں پولیس نے احسان خان سمیت 15افراد کو 24اگست کی رات کو گرفتار کیا ہے۔ان پر الزام ہے کہ موقع پر پہنچی پولیس کے ساتھ ان لوگوں نے بدسلوکی کی اور ایک پولیس اہلکار کے گلے میں گمچھا ڈال کر اس کا گلا گھونٹنے کی کوشش کی اور سرکاری کام میں روکاوٹ ڈالا ہے۔ خاتون تھانہ انچارج کے خلاف نسلی تعصب پر مبنی کلمات کہنے کے بھی الزام ہیں۔

شادی کے رجسٹریشن کیلئے متعلقہ افسر کے سامنے ذاتی طور پر پیش ہونا لازمی : دہلی حکومت

شادی کے رجسٹریشن کیلئے متعلقہ افسر کے سامنے ذاتی طور پر پیش ہونا لازمی : دہلی حکومتنئی دہلی، 25 اگست (اردو دنیا نیوز۷۲ )
دہلی حکومت نے بدھ کے روز دہلی ہائی کورٹ کو بتایا کہ شادی رجسٹر کرنے کے خواہشمند جوڑے کے لیے لازمی ہے کہ وہ متعلقہ اتھارٹی کے سامنے حاضر ہوں اور یہ عمل ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے نہیں کیا جا سکتا۔دہلی حکومت کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ نہ تو شادی کے رجسٹریشن سے متعلق قوانین اور نہ ہی اس مقصد کے لیے استعمال ہونے والا سافٹ وئیر متعلقہ فریقوں کو موجود نہ ہونے کی اجازت دیتا ہے۔وکیل نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ شادی کے رجسٹریشن کے عمل کے ایک حصے کے طور پرجوڑے کا ایس ڈی ایم آفس میں فوٹو کھینچنا پڑتا ہے۔اس پر جسٹس ریکھا پلی نے کہاکہ آپ سب کچھ رجسٹر کر رہے ہیں، وہ آپ کے سامنے شادی تھوڑی کر رہے ہیں۔ سافٹ ویئر جو (ڈیجیٹل موجودگی)کی اجازت نہیں دیتا ہے وہ آپ کا مسئلہ ہے۔دہلی ہائی کورٹ ویڈیو کانفرنس کے ذریعے اپنی شادی کو رجسٹرڈ کرواناچاہ رہے ایک جوڑے کی درخواست پر سماعت کر رہاتھا۔چونکہ دہلی حکومت نے ابھی تک اس معاملے میں اپنا حلف نامہ نہیں دیا ہے، اس لیے عدالت نے اسے تین دن کا وقت دیا ہے۔جوڑے کی طرف سے پیش ہونے والے وکیل نے عدالت سے اپیل کی کہ سماعت کی اگلی تاریخ پر کوئی دوسری تاریخ نہ دی جائے۔جسٹس پلی نے کہا کہ میں کہہ رہا ہوں کہ یہ (جوابی حلف نامہ داخل کرنے کا)آخری موقع ہے۔ جوڑے کی طرف سے پیش ہونے والے وکیل نے کہا کہ تمام متعلقہ دستاویزات پہلے ہی دائر کی جاچکی ہیں اور گواہ بھی متعلقہ افسر کے سامنے پیش ہونے کے لیے تیار ہیں۔جوڑے نے دعویٰ کیا کہ دونوں نے 2012 میں شادی کی اور وہ فی الحال امریکہ میں مقیم ہیں۔ جوڑے نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ دہلی حکومت کو ہدایت دی جائے کہ وہ دہلی ( لازمی شادی رجسٹریشن) آرڈر 2014 کے تحت کئے گئے رجسٹریشن کے لیے آن لائن درخواست قبول کرے اور انہیں متعلقہ افسر کو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے اس مقصد کے لیے بھیجنے کی اجازت دے۔ کیس کی اگلی سماعت 6 ستمبر کو ہوگی۔

کے ٹی آر نے غریب طالبہ کی تعلیم کی ذمہ داری قبول کی

کے ٹی آر نے غریب طالبہ کی تعلیم کی ذمہ داری قبول کیوزیر کی انسانی ہمدردی پر ارکان خاندان اشکبار ، اظہار تشکر
حیدرآباد ۔ 25 اگسٹ ۔(اردو دنیا نیوز۷۲ ) ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی آر نے ایک غریب طالبہ کو آئی آئی ٹی کی تعلیم حاصل کرنے کیلئے اپنے طورپر مالی امداد پیش کی ۔ دو سال قبل ضلع ورنگل کے حسن پرتی سے تعلق رکھنے والی طالبہ ایم انجلی کو آئی آئی ٹی میں نشست حاصل ہوئی تھی تاہم اس لڑکی کا غریب خاندان سے تعلق تھا ۔ غربت اور معاشی مسائل کے باعث اس طالبہ کا تعلیم حاصل کرنا مشکل تھا اس لڑکی نے اپنے خاندان کی غربت اور مسائل سے ریاستی وزیر کے ٹی آر کو واقف کراتے ہوئے تعلم حاصل کرنے میں تعاون کرنے کی اپیل کی تھی ۔ کے ٹی آر نے اس طالبہ کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے بعد اپنے جیب خاص سے آئی آئی ٹی کی تعلیم حاصل کرنے کے معاملے میں طالبہ انجلی کی مدد کرنے کا تیقن دیا ۔ گزشتہ 2 سال سے کے ٹی آر ہر سال مکمل تعلیمی فیس ادا کررہے ہیں ۔ وعدے کے مطابق ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی آر نے آج آئندہ تعلیم سال کی مکمل فیس انجلی کے ارکان خاندان کو پیش کی اور طالبہ انجلی سے مستقبل کے منصوبہ بندی کے بارے میں معلومات حاصل کی اور اعلیٰ تعلیم حاصل کرتے ہوئے مزید ترقی کرنے کیلئے طالبہ انجلی سے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ انجلی کے ارکان خاندان نے ان کی دختر کی آئی آئی ٹی تعلیم کے تمام اخراجات ادا کرنے پر جذبات سے مغلوب ہوگئے اور کے ٹی آر سے اظہارتشکر کیا۔ N

بیجو جنتا دل کے ایم ایل اے 10 ویں کے امتحان میں کامیاب

بیجو جنتا دل کے ایم ایل اے 10 ویں کے امتحان میں کامیاببھونیشور25اگست(اردو دنیا نیوز۷۲ )
حکمراں بیجوجنتا دل کے ایم ایل اے پورنچندرا سوین ان طلباء میں سے ایک ہیں جنہوں نے اوڈیشہ بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن کی طرف سے دسویں جماعت کے امتحانات کو نارمل(آف لائن سینٹر پرجسمانی موجودگی) موڈمیں پاس کیا ہے۔ اس امتحان میں 5223 طلباء نے کامیابی حاصل کی جبکہ 141 ناکام ہوئے۔ تقریباََ80.83 فیصد امیدواروں نے امتحان پاس کیا۔ آن لائن اعلان کردہ نتائج کو مسترد کرنے کے بعد یہ امیدوار آف لائن (نارمل) امتحان کے لیے حاضر ہوئے تھے۔ ضلع گنجم کے سوردہ سے بی جے ڈی ایم ایل اے ، سوین کو یہ کامیابی 49 سال کی عمر میں ملی۔ انھوں نے 500 نمبروں کے ٹیسٹ میں 340 نمبر حاصل کیے۔

انڈیا پوسٹ کی جانب : ‏Post Office Schemes ‎سے یقین دہانی کے ساتھ شرح سود کی واپسی سے متعلق کئی اسکیمیں پیش

انڈیا پوسٹ کی جانب : Post Office Schemes سے یقین دہانی کے ساتھ شرح سود کی واپسی سے متعلق کئی اسکیمیں پیش(اردو دنیا نیوز۷۲)پوسٹ آفس کئی اسکیمیں پیش کر رہا ہے۔ پوسٹ آفس کی یہ اسکیمیں مستحکم شرح سود اور یقینی منافع فراہم کرتی ہیں۔ پی پی ایف، سکنیا سمردھی، پوسٹ آفس کی بچت اور کسان وکاس پترا (KVP) وغیرہ پوسٹ آفس کی طرف سے پیش کی جانے والی کچھ مشہور بچت سکیمیں ہیں۔

پوسٹ آفس سیونگ اکاؤنٹ (SB) : پوسٹ آفس سیونگ اسکیم سالانہ 4 فیصد سود کی شرح پیش کرتی ہے۔ پوسٹ آفس سیونگ اکاؤنٹ 500 روپے سے کھولا جا سکتا ہے۔

انکم ٹیکس ایکٹ کے 80 ٹی ٹی اے کے سیکشن کے تحت تمام بچت بینک اکاؤنٹس سے مالی سال میں کمائے گئے 10 ہزار روپے تک کے سود کو قابل ٹیکس آمدنی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔

پبلک پروویڈنٹ فنڈ اکاؤنٹ (PPF) : پبلک پروویڈنٹ فنڈ (پی پی ایف) 7.1 فیصد سود کی شرح پیش کرتا ہے۔ پی پی ایف ڈپازٹس انکم ٹیکس ایکٹ کے سیکشن 80 سی کے تحت کٹوتی کے اہل ہیں۔ انکم ٹیکس ایکٹ کے تحت حاصل کردہ سود ٹیکس سے پاک ہے۔ سکنیا سمردھی اکاؤنٹ (SSA): سکنیا سمردھی 7.6 فیصد سالانہ شرح سود کی پیشکش کرتا ہے۔ آپ ایک مالی سال میں کم از کم 250 اور زیادہ سے زیادہ 1.5 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔ ڈپازٹس انکم ٹیکس ایکٹ کے سیکشن 80 سی کے تحت کٹوتی کے اہل ہیں۔ انکم ٹیکس ایکٹ کے تحت حاصل کردہ سود ٹیکس سے پاک ہے۔ قومی بچت سرٹیفکیٹ: قومی بچت سرٹیفکیٹ (NSC) 6.8 فیصد پیش کرتا ہے۔ ڈپازٹس انکم ٹیکس ایکٹ کے سیکشن 80 سی کے تحت کٹوتی کے اہل ہیں۔ کسان وکاس پتر (KVP): کسان وکاس پترا سالانہ 6.9 فیصد کمپاؤنڈ پیش کرتا ہے۔ کسان وکاس پترا 124 ماہ میں پختہ ہو جائے گا۔ سینئر سٹیزن سیونگ اسکیم 7.4 فیصد (10 ہزار روپے ڈپازٹ پر 185 روپے کا سہ ماہی سود) پیش کرتی ہے۔ پوسٹ آفس ماہانہ انکم اکاؤنٹ 6.6 فیصد پیش کرتا ہے۔

اردودنیانیوز۷۲

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا ...