Powered By Blogger

اتوار, اکتوبر 03, 2021

دارالعلوم دیوبند کی مجلس شوری کا اجلاس گیسٹ ہاؤس میں منعقد ‏

دارالعلوم دیوبند کی مجلس شوری کا اجلاس گیسٹ ہاؤس میں منعقداجلاس کے دوران قاری سید محمد عثمان منصور پوری اور مولانا عبد الخالق سنبھلی کی جگہ نئی نامزدگیاں کئے جانے کی امید
دیوبند، 3؍ اکتوبر (سمیر چودھری؍بی این ایس)
عالمی شہرت یافتہ مذہبی تعلیم کا ادارہ دارالعلوم دیوبند کی مجلس شوری کا اجلاس اتوار کی شام دیر سے دارالعلوم کے گیسٹ ہاؤس میںشروع ہوگا۔اس اجلاس میں جہاں تعلیمی سال 2021-2022کے بجٹ پر غور وفکر کرنے کے بعد پیش کیا جائے گا وہیں دوسری جانب ادارہ کے کارگزار اور نائب مہتمم حضرت مولانا قاری سید محمد عثمان منصور پوری ؒ کے انتقال کے باعث خالی ہوجانے والے عہدے پر نئی نامزدگی سے متعلق باہمی صلح ومشورے کے بعد نئی نامزدگی کئے جانے کی امید ہے ۔موصولہ اطلاع کے مطابق دارالعلوم دیوبند کی مجلس شوری کا اجلاس ادارہ کے گیسٹ ہاؤس میں خبر لکھے جانے کے کچھ وقت کے بعد منعقد کیا جائے گا ۔مجلس شوری کے اجلاس کے پہلے مرحلہ میں ایجنڈہ پیش کیا جائے گا اور سالانہ بجٹ کو حتمی شکل دی جائے گی ۔ایسا قیاس کیا جارہا ہے کہ اس مرتبہ گذشتہ سال کی طرح 31؍کروڑ روپے کا بجٹ پیش کئے جانے کے امکانات ہیں۔اس کے علاوہ اس اجلاس میں سابق کارگزار مہتمم مولانا قاری سید محمد عثمان منصور پوری ؒ اور نائب مہتمم مولانا عبد الخالق سنبھلی کی وفات سے خالی ہوجانے والے عہدوں پر نئی نامزدگیاں کئے جانے کے بھی امکانات ہیں۔واضح ہو کہ کورونا انفیکشن کی وجہ سے جہاں گذشتہ سال کے بجٹ میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہوا تھا وہیں اس مرتبہ بھی بجٹ میں اضافہ نہ کئے جانے کے امکانات سے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کئے جانے کے امکانات بھی معدوم ہیں ۔اس اجلاس میں دارالعلوم کے مہتمم مولانا ابوالقاسم نعمانی،صدر مدرس مولانا ارشد مدنی،مولانا غلام بستانوی،مولان نظام الدین خاموش،مولانا عبد العلیم فاروقی،مولانا عامل سہارنپوری،مولانا عامل شاملی،مفتی شفیق،مولانا حکیم اللہ،مفتی احمدخان پوری،مولانا محمود راجستھانی،مولانا حمید باندوی اور مولانا سید انظر حسین میاں شریک رہیں گے۔

دنیا کے آخری کونے تک مسلک اعلیحضرت کے فروغ اهم کردار ادا کیا تھا سرکار مفتی اعظم ھند نے : میں علامہ مختار بہیڑوی

دنیا کے آخری کونے تک مسلک اعلیحضرت کے فروغ اهم کردار ادا کیا تھا سرکار مفتی اعظم ھند نے : میں علامہ مختار بہیڑوی

ناصر قریشی

بریلی /مورخہ 3 اکتوبر 24 صفر المظفر بروز اتوار کو اسلامیہ گراؤنڈ بریلی میں خانقاہ رضویہ کے سربراہ حضرت علامہ سبحان رضا خاں سبحانی میاں صاحب اور سجادہ نشین حضرت مفتی احسن میاں کی صدارت اور سید آصف میاں اور مفتی سلیم بریلوی کی نگرانی میں عرس قادری رضوی کی تقریبات کا انعقاد نہایت تزک و احتشام کے ساتھ ھوا جس کے تحت سب سے پہلے صبح میں حضرت مفسر اعظم ھند اور حضرت ریحان ملت علامہ ریحان رضا خاں علیہ الرحمہ کے قل شریف کی تقریبات ھوئیں۔بعد نماز فجر قرآن خوانی۔۔حلقہ ذکر ھوا۔پھر میلاد پاک ھوا۔عاصم نوری نے میلاد پاک پڑھا۔قاری یوسف رضا نے نظامت اور مولوی صالح امام آزھری مسجد نے تلاوت کی۔

منظر اسلام کے پرنسپل مولانا عاقل۔مفتی افروز عالم۔مفتی معین الدین خان۔مولانا عبدالرحمان خان۔مولانا اعجاز انجم ۔مولانا سید شاکر سید کفیل ۔مولانا اختر ۔مفتی جمیل ۔سید انوار السادات وغیرہ نے حضرت جیلانی میاں اور حضرت ریحان ملت کی زندگی پر روشنی ڈالی۔9:58 پر ریحان ملت کا قل شریف اور 10:35 پر جیلانی میاں کا قل شریف ھوا۔

رات کو بعد نماز عشاء اسلامیہ گراؤنڈ میں سرکار مفتی اعظم ھند کا قل شریف 1:40 بجے ھوا۔اس سے پہلے قاری علیم رضا برکاتی کی نے تلاوت سے پروگرام کا آغاز کیا۔نعمان رضا نے نعت پڑھی۔ملک و بیرون ملک کے شعراء اور خطباء نے خطابات کئے۔مفتی اعظم کو اپنے وقت کا قطب کامل۔متقی اعظم اور مفتی اعظم بتایا۔قصبہ بہیڑی کے قاضی شرع شیر قادریت علامہ مختار احمد قادری نے اپنے بے مثال اور خصوصی خطاب میں کہا کہ اعلیحضرت کی تعلیمات کو دنیا کے گوشے گوشے تک پہنچانے میں سرکار مفتی اعظم ھند نے کلیدی کردار ادا کیا تھا۔آج ملک و بیرون ملک مسلک اعلیحضرت کی جو بہاریں دکھائی دے رہی ہیں وہ مفتی اعظم۔مفتی اعظم کے خلفا اور ان کے شاگردوں کی دین ھے۔

اس موقع پر تمھیدی گفتگو کرتے ہوئے مفتی محمد سلیم بریلوی صاحب نے فرمایا کہ ھندوستان کے علاوہ نیپال۔بنگلہ دیش پاکستان۔سرینام۔ھالینڈ برطانیہ۔غرض کہ امریکہ سے یوروپ اور یوروپ سے افریقہ تک دنیا کے بیشتر خطوں میں ریحان ملت حضرت علامہ ریحان رضا خاں علیہ الرحمہ نے جاجاکر مسلک اعلیحضرت اور سلسلہ قادریہ برکاتیہ رضویہ کو خوب فروغ بخشا ۔ان تمام خطوں میں ریحان ملت کی کاوشوں کے روشن نقوش آج بھی موجود ہیں۔ان کے جانشین اور مرکز اھلسنت خانقاہ رضویہ درگاہ اعلیحضرت کے سربراہ اور بزرگ شخصیت حضرت علامہ سبحانی میاں صاحب نے بھی مرکز اھلسنت کو خوب فروغ اور استحکام بخشا۔حضرت سبحانی میاں نے ھمیشہ جماعت اھلسنت کی شیرازہ بندی پر زور دیا ھے اور اس کے لئے وہ اب بھی برابر کوششیں کررھے ہیں۔


بنگال ضمنی انتخاب : وزیراعلیٰ ممتا بنرجی کی بھوانی پورسیٹ سے شاندارجیت ، بی جے پی شکست دی امیدوار کو 58832 ووٹوں سے

بنگال ضمنی انتخاب : وزیراعلیٰ ممتا بنرجی کی بھوانی پورسیٹ سے شاندارجیت ، بی جے پی شکست دی امیدوار کو 58832 ووٹوں سےکولکاتا:(نمائندہ)
مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے بھوانی پور سیٹ سے اسمبلی ضمنی انتخابات میں بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ انہوں نے بی جے پی کی امیدوار پرینکا تبریوال کو 58832 ووٹوں کے واضح فرق سے شکست دی۔ یہ جیت 2011 کی جیت سے بھی بڑی ہے۔ بی جے پی امیدوار پرینکا تبریوال کو 20 ہزار سے بھی کم ووٹ ملے ہیں۔ سی پی ایم کے شریجب بھی بہت پیچھے رہ گئے۔ بقیہ دوسری دو نشستوں پر بھی ممتا بنرجی کی پارٹی ترنمول کانگریس کے امیدوار آگےچل رہے ہیں۔
ٹی ایم سی کے ذاکر حسین جنگی پور سیٹ سے آگے ہیں جبکہ بی جے پی کے سوجیت داس دوسرے نمبر پر ہیں جبکہ ٹی ایم سی کے امیر الاسلام شمشیر گنج سیٹ سے آگے ہیں۔ وہاں بھی بی جے پی امیدوار ملن گھوش دوسرے نمبر پر ہیں۔ گذشتہ اسمبلی انتخابات میں تینوں اسمبلی سیٹیں ٹی ایم سی کے پاس تھیں۔ تینوں نشستیں ممتا کے کھاتے میں جاتی نظر آرہی ہیں۔
ترنمول کانگریس نے دعویٰ کیا تھا کہ پارٹی سربراہ 50 ہزار سے زائد ووٹوں کے فرق سے بھوانی پور ضمنی الیکشن جیتیں گی۔ جمعرات کو ہونے والی ووٹنگ میں بھوا نی پور سیٹ پر 57 فیصد سے زیادہ ووٹنگ ریکارڈ کی گئی۔ اس حلقے میں تین لاکھ سے زائد ووٹر تھے۔
وزیراعلیٰ کے عہدے پربرقراررہنے کے لئے ممتابنرجی کے لیے یہ سیٹ جیتنابہت ضروری تھا۔کیوں کہ حکومت سازی کے پہلے چھ ماہ کے اندرریاستی اسمبلی میں داخل ہونے کے لئے انہیں بھوانی پوراسمبلی کی سیٹ کاجیتنابہت ضروری تھا۔
بھوانی پور میں ضمنی انتخاب ممتا بنرجی کی پارٹی کے رہنما شوبان دیب چٹوپادھیائے کے استعفیٰ کے بعد ہوا ہے ، جنہوں نے وزیر اعلیٰ ممتابنرجی کے لئے اپنا استعفیٰ دے دیا تھا۔
وہیں دوسری جانب اڈیشہ کے ضمنی انتخاب میں بیجو جنتا دل کے امیدوار رودر پرتاپ مہاراتھی اوڈیشہ کی پپلی اسمبلی سیٹ سے بی جے پی کے آشرت پٹنائک سے 14332 ووٹوں سے آگے چل رہے ہیں۔

ممتا بنرجی جیت گئیں ۔ بنگال میں جشن

ممتا بنرجی جیت گئیں ۔ بنگال میں جشن کولکتہ: ممتا بنرجی نے مغربی بنگال کے بھوانی پور حلقہ سے ضمنی انتخاب میں اپنی نزدیکی امیدوار کو 58 ہزار ووٹوں سے شکست دے دی ہے۔ ممتا بنرجی اپنی نزدیکی امیدوار بی جے پی کی امیدوارپرینکا تبریوال کو 58 ہزار 832 ووٹوں سے شکست دیتے ہوئےتاریخ ساز کامیابی حاصل کی۔ ممتا بنرجی نے مجموعی طور پر 85 ہزار سے زائد ووٹ حاصل کئے۔بنگال میں ترنمول کانگریس کے حامیوں نے جشن منانا شروع کردیا ہے۔ واضح ہے کہ ممتا بنرجی شروع سے ہی آگے چل رہی تھیں۔

آج پھر سے پٹرول25 پیسے اور ڈیزل 30 پیسے ہوا مہنگا

آج پھر سے پٹرول25 پیسے اور ڈیزل 30 پیسے ہوا مہنگا

پھر بڑھی قیمت
پھر بڑھی قیمت

  •  
  •  
  •  
  •   

 

نئی دہلی: بین الاقوامی بازار میں خام تیل کے 80 ڈالر فی بیرل کے آس پاس برقرار رہنے کے دباؤ میں اتوار کو مسلسل چوتھے دن ڈیزل 30 پیسے اور پٹرول 25 پیسے فی لیٹر مہنگا ہوگیا ۔

اس اضافے کے بعد ، دارالحکومت دہلی میں پٹرول 102.39 روپے فی لیٹر اور ڈیزل 90.77 روپے فی لیٹر کی تاریخی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔

پٹرول گزشتہ چھ دنوں میں سے پانچ میں 1.20 پیسے مہنگا ہو ا ہے۔ ڈیزل کے دام بھی 10 میں سے آٹھ دنوں میں 2.15 روپے فی لیٹر بڑھ گئے۔ پچھلے ہفتے جس طرح پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے ، اس سے مہنگا ئی بڑھنے والی ہے۔ ہفتے کے آخر میں امریکی مارکیٹ میں کاروبار بند ہونے پر ، بریٹ کروڈ 80 ڈالر فی بیرل اور امریکی خام تیل 76 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گیا۔ آئل مارکیٹنگ کمپنی انڈین آئل کارپوریشن کے مطابق دہلی میں پٹرول 102.39 روپے فی لیٹر اور ڈیزل 90.77 روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا۔

اس اضافے کے بعد بھی ، دہلی این سی آر کے نوئیڈا میں پٹرول 99.70 روپے فی لیٹر اور ڈیزل 91.38 روپے فی لیٹر پر ہے۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا روزانہ جائزہ لیا جاتا ہے اور اسی بنیاد پر ہر روز صبح 6 بجے سے نئی قیمتوں کا اطلاق ہوتا ہے۔


لڑکی کی آنکھوں سے آنسو کے بجائے پتھر بہنے لگے

انسان کے جذباتی ہوکر آنسو نکل جانا ایک فطری عمل ہے، لیکن آنسو صرف پانی ہی ہوتے ہیں، لیکن بھارت کے دیہی علاقے میں ایک ایسی لڑکی بھی ہے جس کی آنکھ سے آنسو پانی کی شکل میں نہیں بلکہ پتھر کی شکل میں بہتے ہیں۔جی ہاں آپ نے درست پڑھا! متاثرہ لڑکی کے اہلِ خانہ کے مطابق اس کی آنکھ سے آنسوؤں کی جگہ پتھر پہلی مرتبہ 17 جولائی کو نکلے اور تک سے ابھی تک وہ یومیہ رو کر 10 سے 15 پتھر نکال چکی ہے۔

اہلِ خانہ کے مطابق اب تک مبینہ طور پر انہوں نے لڑکی کی آنکھ سے بہے 70 پتھر بھی جمع کیے ہیں۔اس حوالے سے ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے جس میں لڑکی کی آنکھ سے پھتر بہتے دیکھا بھی جاسکتا ہے۔دوسری جانب ماہر امراض چشم کا کہنا ہے کہ اس کی کوئی سائنسی تحقیق موجود نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ لڑکی اپنی آنکھوں میں پتھر ڈالتی ہے تاکہ انہیں آنسوؤں کی طرح باہر نکال کرک لوگوں کی توجہ حاصل کرسکے۔ڈاکٹر کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایسا بھی ممکن ہے کہ کوئی اس کی آنکھوں میں یہ پتھر ڈالتا ہے۔ایک اور ڈاکٹر نیرج گپتا کا کہنا ہے کہ اس طرح کی چیز میڈیکل میں موجود ہی نہیں ہے یہ ممکنہ طور پر فریبی عمل ہے۔دوسری جانب اس لڑکی کے اہلِ خانہ غربت کی وجہ سے اس کا علاج نہیں کرواسکیں ہیں جس کے وجہ سے یہ معمہ اب تک حل نہ ہوسکا

کوئی بھی مسلمانوں کی حب الوطنی پر سوال نہیں کر سکتا۔راجناتھ سنگھ

کوئی بھی مسلمانوں کی حب الوطنی پر سوال نہیں کر سکتا۔راجناتھ سنگھ

راجناتھ سنگھ کا دورہ
راجناتھ سنگھ کا دورہ

  •  
  •   
  •  
  •   

 :اردو دنیا نیوز۷۲ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ دنیا میں کوئی بھی مسلمان آبادی یا لکشدیپ کے دیگر باشندوں کی حب الوطنی پر سوال کرنے کی جرات نہیں کر سکتاکہ وہ ملک کے خلاف پریشانی پیدا کر رہے ہیں۔

 جو لوگ ایسا کہتے ہیں وہ دراصل ہندوستان مخالف قوتیں ہیں جو لوگوں کو اکسا رہی ہیں۔ راج ناتھ سنگھ یہاں مہاتما گاندھی کی 152 ویں سالگرہ کی تقریبات میں خطاب کر رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ لکشدیپ میں مسلم آبادی کی حب الوطنی پر شک کرنے کی کسی میں ہمت نہیں۔ لکشدیپ کے لوگوں کی حب الوطنی پر کسی نے سوال نہیں اٹھایا۔

 راج ناتھ سنگھ یہاں بابائے قوم مہاتما گاندھی کے مجسمے کی نقاب کشائی کے بعد لوگوں سے خطاب کر رہے تھے۔ پروگرام کے دوران ، راج ناتھ سنگھ نے موسمیاتی تبدیلی اور گلوبل وارمنگ کے مسئلے کے پیش نظر سمندر کی سطح میں اضافے سے لکشدیپ کے وجود کو لاحق خطرے کا بھی ذکر کیا۔

 انہوں نے کہا کہ کاربن کے اخراج کو کم کرنے کی طرف حکومت کی مثبت سمت کے پیش نظر ، اگلے سال یکم جولائی سے ڈسپوزایبل پلاسٹک اور متعلقہ مصنوعات کی تیاری ، استعمال اور استعمال پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

 مرکزی وزیر دفاع نے کہا کہ لکشدیپ میں عسکریت پسندی اور دہشت گردی کو فروغ دینے کی کوششیں کی گئی ہیں لیکن یہ تمام کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔

انہوں نے مرکز کے زیر انتظام علاقے کے لوگوں کو اس کے لیے مبارکباد دی۔انہوں نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی زیرقیادت مرکزی حکومت نے دہشت گردی کے خلاف سخت موقف اختیار کیا ہے ، لیکن جہاں تک انتہا پسندی کا تعلق ہے ، حکومت نے اتنا سخت موقف نہیں لیا۔بلکہ انتہا پسندی کی راہ پر چلنے والوں کو صحیح راستہ دکھایا گیا۔ انہیں قومی دھارے میں واپس لانے کی کوششیں جاری ہیں۔

مرکزی وزیر نے کہا کہ کچھ مفاد پرست موجودہ مرکزی حکومت کو اقلیت مخالف قرار دے رہے ہیں جو کہ ایک جھوٹا اور جھوٹا الزام ہے۔ وزیر دفاع نے کہا کہ جزیرے کے لوگ مہاتما گاندھی کے اصولوں کے سچے پیروکار ہیں۔ ان کے درمیان ذات ، مسلک یا مذہب کی بنیاد پر کوئی نفرت نہیں ہے۔


اردودنیانیوز۷۲

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا ...