Powered By Blogger

بدھ, مئی 25, 2022

وسیم رضوی عرف تیاگی اب لیں گے سنیاس گے

وسیم رضوی عرف تیاگی اب لیں گے سنیاس گے

سوامی آنند سوروپ کا کہنا ہے کہ وسیم رضوی عرف جتیندر نارائن سنگھ تیاگی نے ان کے سامنے سنیاس لینے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ وسیم رضوی کی جانب سے سنیاس کی خواہش ظاہر کرنے کے بعد سوامی آنند سوارپ نے ان کی خواہش پوری کرنے کے لیےتیاریاں شروع کر دی ہیں۔

شیعہ وقف بورڈ کے سابق چیئرمین وسیم رضوی عرف جتیندر نارائن سنگھ تیاگی جو پریس کلب میں اپنی متنازع کتاب کی ریلیز اور دھرمن نگری کے شمالی ہریدوار میں منعقدہ تین روزہ پارلیمنٹ آف ریلیجنز میں غیر مہذب تقاریر کے بعد تنازع کا شکار ہو گیے تھے۔ ہندو مذہب اختیار کرنے کے بعد سنیاس کے معاملے میں، شمبھوی پیتھادھیشور سوامی آنند سوروپ اکھاڑہ پریشد اور اکھل بھارتیہ ودیا پریشد کے عہدیداروں سے بات کریں گے۔

منگل, مئی 24, 2022

قطب مینار میں کسی کو بھی عبادت کی اجازت نہیں دی جا سکتی : آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کا عدالت کو جواب

قطب مینار میں کسی کو بھی عبادت کی اجازت نہیں دی جا سکتی : آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کا عدالت کو جواب

نئی دہلی _ 24 مئی ( اردودنیا نیوز ۷۲) آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا ( اے ایس آئی) نے قطب مینار میں ہندووں کو عبادت کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔ اور واضح کیا کہ قطب مینار عبادت کی جگہ نہیں ہے اور موجودہ ڈھانچے میں ردوبدل کی اجازت نہیں ہے اور یہاں کسی کو بھی عبادت کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

اے ایس آئی نے منگل کو دہلی کی ساکت عدالت میں ایک درخواست کی سماعت کے دوران بتایا کہ اس یادگار میں دیوتاؤں کی تصویریں ہیں جس کی بنیاد پر درخواست گزار نے دیوتاؤں کی پوجا کرنے کی اجازت مانگی گئی تھی لیکن اے ایس آئی کے قوانین کے مطابق اس میں عبادت کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

اے ایس آئی نے کہا کہ عبادت کے احیاء کی اجازت نہیں ہے۔ اس نے مزید کہا کہ قطب مینار یا اس کے کسی حصے میں کسی کمیونٹی نے عبادت نہیں کی ہے جب سے یہ ایک محفوظ یادگار رہا ہے کمپلیکس کے اندر متعدد ڈھانچے موجود ہیں۔

اے ایس آئی نے عدالت کو بتایا کہ قطب مینار کا تحفظ کیا گیا ہے حفظ کا بنیادی اصول یہ ہے کہ کسی یادگار کے طور پر اعلان شدہ اور مطلع شدہ یادگار میں کوئی نیا عمل شروع کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔

یہ درخواست جین دیوتا تیرتھنکر رشبھ دیو اور ہندو دیوتا وشنو کے بھکت ہری شنکر جین اور رنجنا اگنی ہوتری نے دائر کی تھی۔ درخواست میں اے ایس آئی کی جانب سے مبینہ طور پر دکھائی جانے والی ایک مختصر تاریخ کا حوالہ دیا گیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ کس طرح محمد غوری کی فوج کے ایک جنرل، قطب الدین ایبک نے 27 مندروں کو مسمار کیا تھا، اور اس کے ملبے کو دوبارہ استعمال کرکے قوۃ الاسلام مسجد کی تعمیر کی گئی تھی

شیریں ابو عاقلہ کا قتل ___مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ

شیریں ابو عاقلہ کا قتل ___
مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ
الجزیرہ نشریاتی ادارہ کے عربی زبان کے چینل کے لیے کام کرنے والی شیریں ابو عاقلہ ہمارے درمیان نہیں رہیں، اسرائیلی فوج نے فلسطین پر ہو رہے ظلم وتشدد کی رپورٹنگ کرتے ہوئے ۱۱؍ مئی ۲۰۲۲ء کو مقبوضہ مغربی کنارے پر اسے گولی مار دی ، یہ گولی ان کے سر میں لگی او ر وہ وہیں پر جاں بحق ہو گئیں،رملہ کے کنسلٹنٹ ہسپتال میں پوسٹ مارٹم اور تجہیز وتکفین کے بعد فلسطینی پرچم میں لپیٹ کر انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا، اور پھر ان کا جسد خالی سرکردہ شخصیات کے قافلہ کے ساتھ بیت المقدس منتقل کیا گیا، جہاں فلسطینی ہلال احمر کے ذمہ داروں نے اسے وصول کیا، ان کی تدفین باب الخلیل کے رومن کیتھولک چرچ کے صہیونی قبرستان میں عمل میں آئی، اس واقعہ میںیروشلم میں مقیم القدس اخبار کے لیے کام کرنے والے ایک صحافی کے زخمی ہونے کی بھی خبر ہے ۔
 اسرائیل کے اس حرکت کی عالمی پیمانے پر مذمت ہو رہی ہے ، جنگی قانون میں جن چند طبقات پرحملہ نہ کرنے کا ذکر ہے ان میں ایک صحافی بھی ہیں، شیریں ابو عاقلہ کا شمار جرأت مند صحافیوں میں ہوتا تھا، انہوں نے حقائق سامنے لانے کے لیے کبھی اپنی جان کی پرواہ نہیں کی ، وہ مسلسل فلسطینیوں پر مظالم کے خلا ف آواز اٹھاتی رہی تھیں ، اس آواز کو خاموش کرنے کے لیے اسرائیلی افواج نے یہ مذموم حرکت کی، جس وقت ان کو گولی ماری گئی اس وقت انہوں نے پریس کا بیچ لگا رکھا تھا، اس کا مطلب ہے کہ اسرائیلیوں نے اسے جان بوجھ کر گولی ماری، اس حادثہ کے بعد پہلے تو اسرائیلی یہ کہتے رہے کہ اسے فلسطینیوں نے ہی گولی ماری، پھر جب حقائق سامنے آنے لگے تو اسرائیلی حکومت نے اس واقعہ کی مشترکہ جانچ کا حکم دے دیا ہے، جس میں فلسطین اور اسرائیل کے نمائندے شریک ہوں، لیکن فلسطین کے صدر محمود عباس نے اس تجویز کو رد کر دیا ہے اور کہا کہ یہ ایک سنگین نوعیت کا جرم ہے، ہم اس معاملہ کو عالمی فوجداری عدالت میں لے جائیں گے تاکہ اس واقعہ سے مجرموں کو سزا دلائی جا سکے،مشترکہ جانچ ہو یا عالمی فوجداری عدالت میں مقدمہ یہ لوگوں کی آوازکو خاموش کرنے کا ایک طریقہ ہے، ورنہ سبھی جانتے ہیں کہ اس قسم کے واقعات میں جانچ کے ذریعہ مجرمین کو کلین چٹ دینا یا پھر لیپا پوتی کرکے بات کو ختم کرنا ہوتا ہے، اس لیے اسرائیل کے ذریعہ اس جانچ کے بعد بھی شیریں ابو عاقلہ کو انصاف ملتا نظر نہیں آتا کم از کم اتنا ہی ہوجائے کہ آئندہ صحافیوں پر حملے نہ ہوں تو بھی ہم کہہ سکیں گے کہ شیریں ابو عاقلہ کی موت نے دوسروں کو تحفظ فراہم کرنے کا کام کیا ہے۔
 اسرائیلیوں کو یہ بات جان لینی چاہیے کہ ایک شیریں ابو عاقلہ کے قتل سے وہ حق کی آواز کو دبا نہیں سکتے، جس کا تجربہ وہ برسوں سے کرتے آ رہے ہیں، یہ قوم ابھی بانجھ نہیں ہوئی ہے، ایک مرتا ہے تو دوسرے کئی اس کی جگہ لے لیتے ہیں، شیریں ابو عاقلہ کے معاملہ میں بھی ایسا ہی ہوگا، شیریں کے کاز کے لیے بہت سے صحافی کھڑے ہوں گے اور اسرائیلی بربریت کی تصویر پہلے سے کہیں زیادہ نمایاں ہو کر عالمی برادری کے سامنے آئے گی۔

اسی سیاہ سمندر سے نور نکلے گاکامران غنی صبا

اسی سیاہ سمندر سے نور نکلے گا
کامران غنی صبا
............. 
مایوسی اور ناامیدی قوتِ فکر و عمل کو ختم کر دیتی ہے۔ ہم میں سے بیشتر لوگوں کی ناکامیوں اور محرومیوں کی وجہ مایوسی اور ناامیدی ہے۔ ہم جب کوئی کام اندیشوں کے سائے میں شروع کرتے ہیں تو ہمارا جذبۂ عمل کمزور پڑنے لگتا ہے۔ نتیجہ، کامیابی ہم سے دور چلی جاتی ہے۔ مایوس اور ناامید افراد کے درمیان رہنے والے لوگ بھی کبھی پر اعتماد اور کامیاب زندگی نہیں گزار پاتے۔ مایوس اور ناامید افراد کی زبان پر گلے اور شکوے ہوتے ہیں، رنجشیں ہوتی ہیں۔ اس کے برعکس پرامید افراد کی زبان پر شکر ہوتا ہے، محسنین کی تعریف ہوتی ہے۔ چیلنجز سے مقابلہ کرنے کا عزم ہوتا ہے۔
آج ہم میں سے بیشتر لوگ مایوس ہیں۔ مایوسی اور ناامیدی کی نوعیتیں مختلف ہیں۔ والدین بچوں سے مایوس اور ناامید ہیں۔ بچے مایوس ہیں کہ والدین ان کی خواہشات اور مطالبات کا تعاقب نہیں کرتے ہیں۔قوم قیادت سے مایوس ہے اور قیادت قوم سے۔ اساتذہ طلبہ سے مایوسی کا اظہار کرتے ہیں اور طلبہ اساتذہ کا گلہ کرتے ہیں۔ایک گھر کے افراد ایک دوسرے سے مطمئن نہیں ہیں ۔جس رشتے میں جنم جنم ساتھ رہنے کی قسم کھائی جاتی ہے، وہ رشتہ بھی مایوسی اور ناامیدی کی ڈور سے بندھا ہوا محسوس ہوتا ہے کہ نہ جانے کب ٹوٹ جائے۔زیادہ تر زوجین ایک دوسرے سے مطمئن نہیں ہیں۔
  عدم اطمینان کی وجہ مایوسی اور ناامیدی ہی ہے۔ یعنی ہم افراد سے، حالات سےبلکہ اپنے آپ سے مایوس اور ناامیدہوتے جا رہے ہیں۔مایوسی اور ناامیدی یہی ہے کہ مسائل کے سامنے شکست تسلیم کر لی جائے۔ یہ مان لیا جائے کہ آپ جیسا چاہتے ہیں ویسا نہیں ہوگا یا آپ جیسا نتیجہ چاہتے تھے ویسا نتیجہ نظر آتا ہوا محسوس نہیں ہو رہا ہے، لہٰذا کوشش ترک کر دینی چاہیے۔یہی احساس شکست، شکستِ ذات اور شکستِ کائنات کا سبب بنتا ہے۔
بندئہ مومن اگر حالات سے مایوس نہ ہو تو اسے سربلندی کی بشارت سنائی گئی ہے۔ یہ بشارت بادشاہ کون و مکاں کی ہے، جس کے غلط ہونے کا تصور بھی کفر ہے۔ یعنی ایسا ہو کر رہے گا کہ ہم امید اور یقین کے ساتھ کوئی کام کریں تو ہمیں کامیابی ملنی ہی ہے۔ پھر وہ بادشاہ یہ بھی کہتا ہے کہ ہم بندے کے گمان کے مطابق ہوتے ہیں، یعنی غلام جیسا گمان رکھے گا، بادشاہ اس کے لیے ویسا ہی ہو جائے گا۔ یعنی مسئلہ ہمارے گمان کا ہے۔ ہم نے پہلے سے فیصلہ کر رکھا ہے کہ بچے باغی ہو رہے ہیں، قوم مردہ ہو چکی ہے، قیادت مفلوج ہو چکی ہے، طلبہ کے اندر جذبۂ علم ختم ہو چکا ہے، اساتذہ اپنا فرض منصبی بھول چکے ہیں، رشتے اور ناطے صرف کہنے کے لیے رہ گئے ہیں۔ نتیجہ یہی ہے کہ ہمیں ہمارے گمان کے مطابق باغی اولادیں عطا کی جا رہی ہیں، مفلوج قیادت دی جا رہی ہے۔ اساتذہ کو اچھے طلبہ نہیں ملتے ہیں اور طلبہ گزرے ہوئے اساتذہ کا ذکر کرتے ہوئے نوحہ کناں ہیں کہ "اب انہیں ڈھونڈ چراغِ رخِ زیبا لے کر"۔ ہم رشتہ داروں کا گلہ کرتے رہتے ہیں اور رشتہ دار ہمارا۔ یہ سلسلہ ایک دوسرے سے اتنا مربوط ہے کہ ہماری زیادہ تر گفتگو کا مرکز و محورگلہ اور شکوہ ہوتا ہے، مایوسی اور ناامیدی ہوتی ہے۔حالات کا نوحہ ہوتا ہے۔
مایوسی اور ناامیدی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ہم دنیا میں جنت جیسا نظام چاہتے ہیں۔ہم چاہتے ہیں کہ سب کچھ ہماری خواہشات کے مطابق ہو۔ والدین چاہتے ہیں کہ بچے فرماں بردار ہوں، اولاد چاہتی ہے کہ والدین ان کی ہر خواہش پوری کریں۔ اسی طرح سب کو سب سے توقعات ہیں اور جب توقعات ٹوٹتی ہیں تو انسان مایوس ہونے لگتا ہے۔ اگر توقعات اور خواہشات فرد سے ہے تو انسان فرد سے مایوس ہوتا ہے، جماعت سے ہے تو جماعت سے اس کا اعتماد ٹوٹ جاتا ہے۔ یہ بڑا صبر آزما مرحلہ ہے۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ خواہشات پر اختیار کل صرف ذاتِ واحد کوحاصل ہے۔ وہ مالکِ کُن ہے۔ جو چاہے ، جب چاہے کرے۔ ہمارا کام کوشش کرنا ہے۔ نتیجے کے مالک ہم نہیں ہیں۔ کوشش کے نتیجے میں کامیابی ملتی ہے یا ناکامی۔ کوئی تیسری صورت نہیں ہے۔ کامیابی ملنے کی صورت میں بندہ شکر ادا کرتا ہے۔ شکر ادا کرنے والوں کے لیے وعدہ ہے کہ بادشاہِ کون و مکاں شکر کرنے والوں کو مزید دیتا ہے۔ ناکامی ملنے کی صورت میں بندہ صبر کرتا ہے۔ صبر والوں کے لیے بھی وعدہ ہے کہ بادشاہ صبر والوں کے ساتھ ہے۔ اب جسے بادشاہ کا ساتھ مل جائے اسے اور کون سی نعمت چاہیے۔ یعنی مومن بندے کے لیے ہر حال میں خوش خبری ہے۔ کامیابی میں بھی اسی کا فائدہ ہے اور بظاہر ناکام ہو کر بھی وہی سرخرو ہے۔ کربلا میں امام عالی مقامؑ کی بظاہر شکست ہو گئی لیکن صبر کے نتیجے میں تاقیامت سرخروئی ان کے حصے میں آئی۔ فاتح مردود اور ذلیل ہوا۔ مفتوح کے لیے تاقیامت شاہ است اور بادشاہ است کے نعرے گونجتے رہیں گے. 
کیا اتنی واضح مثالیں آپ کے سامنے ہوں، پھر بھی آپ مایوس ہوں گے؟ حالات خواہ جیسے بھی ہوں آپ اپنے حصہ کی شمع تو اٹھائیں اس میں روشنی دینے کی ذمہ داری جس نے لے رکھی ہے وہ آ پ کو مایوس کبھی نہیں کرے گا   ؎
مرے جنوں کا نتیجہ ضرور نکلے گا
اسی سیاہ سمندر سے نور نکلے گا
(امیر قزلباش)

پیر, مئی 23, 2022

حسرت جہاں کو انٹر نیشنل عربی خطاطی میں ملا نمایاں مقامچھپرا، بہار، 23 مئی،

حسرت جہاں کو انٹر نیشنل عربی خطاطی میں ملا نمایاں مقام
چھپرا، بہار، 23 مئی،
 
تیزی سے ابھرتی ہوئیں ہندوستان کے صوبہ بہار کے ضلع چھپرا کی رہنے والی کیلیگرافر اور آرٹسٹ محترمہ حسرت جہاں صاحبہ نے انٹرنیشنل عربی خطاطی کی نمائش میں ممتاز مقام حاصل کرکے بہار اور انڈیا کا نام روشن کیا۔
مراکش میں قائم کردہ کردستان کیلیگرافرز فاؤنڈیشن، انڈین کلچرل سینٹر، مصری جمعہ گیلری فاؤنڈیشن اور یونیسکو اٹلس کلب کی جانب سے اس نمائش کا انعقاد کیا گیا تھا اور اس میں سینکڑوں خطاطوں نے اپنا کام پیش کیا تھا۔ حسرت جہاں صاحبہ کو ان کے کام کی وجہ سے ممتاز ہونے کی اور عربی خطاطی کے فروغ میں کردار ادا کرنے سند تفویض کی گئی ہے۔ اس سے پہلے بھی کئی عالمی نمائش میں حسرت جہاں صاحبہ اپنا کام پیش کرکے سند قبولیت حاصل کر چکی ہیں
 آرٹسٹ حسرت جہاں نے نہ صرف کیلیگرافی بلکہ آرٹ ورک سے بھی کام لیا ہے، اور کیلیگرافی کے ساتھ ساتھ پینٹنگ کا بھی جلوہ برقرار رکھا ہے۔ پینٹنگ کے استعمال سے خطاطی کے حسن میں چار چاند لگا دیتی ہیں۔
 انڈیا میں  عربی کیلیگرافی کرنے والے لوگ بہت کم  رہ گئے ہیں اور حسرت جہاں ان میں ایک ممتاز مقام رکھتی ہیں، اور ساتھ ہی ساتھ وہ اس کام کو فروغ دینے کی کوشش بھی کر رہی ہیں۔

اتوار, مئی 22, 2022

بہار کے کئی اضلاع میں بارش ، آندھی ، اولے گرے ،

بہار کے کئی اضلاع میں بارش ، آندھی ، اولے گرے ،

پٹنہ ،22مئی (اردو دنیا نیوز۷۲)۔ دارالحکومت پٹنہ سمیت بہار کے بیشتر اضلاع میں اتوار کے روز پری مانسون بارش ہوئی ہے۔ اس دوران تیز آندھی چلنے کے ساتھ اولے بھی گرے ہیں۔ کئی مقامات پر آسمانی بجلی بھی گرے ہیں۔ اس دوران کہیں درخت تو کہیں بجلی کے پول اکھڑ گئے۔ سیتامڑھی اور بتیا میں صبح سے تیز آندھی کے ساتھ بارش ہوئی ۔ اورنگ آباد کے کئی علاقوں میں بارش کے ساتھ اولے گرے ہیں۔ بہار میں دو تین دن کے لئے آندھی ۔ بارش کا الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ ہوا کی رفتار 30 سے 40 کیلو میٹر فی گھنٹے رہنے کا امکان ہے۔

ہفتہ کے روز 24 گھنٹوں کے دوران شمال مشرقی حصوں میں کئی مقامات پر اور شمال مغربی شمالی وسطی جنوب مشرقی حصے میں ایک یا دو مقامات پر ہلکی سے درمیانی بارش ہوئی ہے۔ پٹنہ میں بھی رات بھر گرج چمک کے ساتھ ہلکی بارش ہوئی۔ پٹنہ کے موسمیاتی مرکز کے سنجے کمار کا کہنا ہے کہ راجستھان سے آسام کی طرف ایک گرت گزر رہی ہے۔ اس لیے ریاست کے شمالی حصے میں موسلادھار بارش کا امکان ہے۔ بالخصوص سرحدی اضلاع میں مزید بارشیں ہوں گی۔ بہار میں اس وقت ہونے والی بارش پری مانسون ہے۔ مانسون کے اب بہار پہنچنے میں دو سے تین ہفتے کا انتظار ہو سکتا ہے۔

میری سحر کا مسئلہ اب بھی زیر غور ہےمفتی محمد ثناء الہدی قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ

میری سحر کا مسئلہ اب بھی زیر غور ہے
مفتی محمد ثناء الہدی قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ
=====================================
اس وقت ہندوستان میں سماجی ، سیاسی اورملی خدمت کرنے والوںکے لئے مرکز تحقیق مسلمان ہیں، دشمنان اسلام مسلمانوں کو تہذیبی اعتبار سے ختم کرنے کے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں، وہ اندلس اور اسپین کی تاریخ پر غور کر رہے ہیں کہ وہاں مسلمان سینکڑوں سال کی حکومت کے بعد کس طرح نیست ونابود کئے گیے، کئی لوگ ، کئی ادارے اور تنظیمیں مسلمانوں کے مسلمہ عقائد اور پرسنل لا پر اعتراضات کرکے مسلمانوں کا درجۂ حرارت ناپنے کے لیے سر گرم ہیں، اس کے لیے انہوں نے مختلف محاذ کھول رکھے ہیں، کوئی ناموس رسالت پر حملہ کرکے مسلمانوںکو ہراساں کرنے میںلگا ہو اہے، کوئی سفر کے دوران بس وٹرین میں مسلمانوں کا مذاق اڑانے اور اسے زد وکوب کرکے اس کے صبر کا امتحان لے رہا ہے، سیاسی حضرات کے یہاں بھی مسلمان ہی مرکز توجہ ہیں، کبھی ووٹ بینک کے طوران کا استعمال کرنے اور کبھی مختلف کمیشن کے ذریعہ ان کے احوال جاننے، ان کی پس ماندگی کو سمجھنے اور مگر مچھ کے آنسو بہا کر ان کا اعتماد حاصل کرنے کیلئے تگ ودو کی جارہی ہے۔ 
آپ کو یاد ہوگا کہ مرکزی حکومت نے ۲۹؍ اکتوبر ۲۰۰۴ء کو سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس رنگا ناتھ مشرا کی قیادت میں ’’قومی کمیشن برائے مذہبی اور لسانی اقلیتں‘‘ قائم کیا تھا، تاکہ سماجی ، اقتصادی ، اور لسانی اقلیتوں کی نشان دہی کرکے  ان کے لئے رزرویشن کی تجویز پیش کی جا سکے ، اس کمیٹی نے اپنی رپورٹ ۲۱؍ مئی ۲۰۰۷ء کو حکومت کو پیش کر دیا ، جس میں واضح طور پر لکھا ہے کہ ۱۹۵۰ء کے شیڈ ولڈ کاسٹ آرڈر سے مذہب کی قید ہٹالی جائے تاکہ اس ، سی (SC) زمرے میں ہندو، بدھ اور سکھوں کے ساتھ مسلمانوں کی بھی شمولیت ہو سکے، اس کمیشن نے مسلم اقلیتوں کے لیے دس فی صد اور دیگر اقلیتوں کے لیے پانچ فی صد کی سفارش کی تھی ، کمیشن نے رزرویشن میں رخنہ پیدا ہونے کی صورت میں متبادل راستہ اختیار کرنے پر زور دیا تھا، اس کا کہنا تھا کہ او بی سی (OBC)کے لیے منڈل کمیشن نے 27فی صد رزرویشن کی بات کہی ہے، اس رزرویشن میں اقلتیں 27 فیصد کا 8.4فی صد ہیں ، اس لیے OBCکے تحت دیے جانے والے رزرویشن میںسے 8.4فیصدان کے لیے مختص کرنا چاہیے ، اس رپورٹ کے نفاذ کے لیے حکومت مجبور نہیں تھی،ا س لیے کہ اس نے اس کمیشن کو کمیشن آف انکوائری ایکٹ کے تحت نہیں بنا یا تھا، اس کمیشن نے  انکشاف کیا تھا کہ سرکاری ملازمتوں میں اقلیتوں خاص طور پر مسلمانوں کی نمائندگی بہت کم ہے، بلکہ بہت سارے محکمے مسلمانوں سے خالی ہیںاوران میں مسلمانوں کی نمائندگی صفر ہے، اس رپورٹ کو صرف مغربی بنگال نے ریاستی طور پر نافذ کرنے کا اعلان کیا، لیکن کمیونسٹ حکومت کے تیس سالہ دور اقتدار میں مسلمانوں کے ساتھ کی گئی نا انصافی کے ازالے کی کوئی شکل نہیں بن سکی۔
۹؍ مارچ ۲۰۰۵ء کو یوپی اے کی سرکار نے ایک نوٹی فیکیشن کے ذریعہ مسلمانوں کی سماجی اقتصادی اور تعلیمی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے جسٹس راجندر سنگھ سچر کی قیادت میں کمیٹی تشکیل دی ، یہ من موہن سنگھ کا دور وزارت تھا ، کمیٹی نے اپنی رپورٹ ۱۷؍ نومبر ۲۰۰۶ء کو وزیر اعظم کی خدمت میں پیش کیا اور انہوں نے ۳۰؍ نومبر کو پارلیامنٹ کے سامنے رکھا، اس رپورٹ کا بڑا چرچا رہا ، کمیٹی نے مسلمانوں کے حالات کا جائزہ لیکر اس سمت میں جس اقدام کی ضرورت پر زور دیا ، ان میں محروم طبقات خصوصا اقلیتوں کے لئے ’’یکساں مواقع کے حصول کا کمیشن‘‘ EQUAL OPRORTUNITY COMMISSIONکے قیام کی تجویز رکھی تھی ، کمیٹی کا خیال تھا عوامی اداروں میں اقلیتوں کی حصہ داری بڑھانے کے لیے نامزدگی کا طریقہ اختیار کرنا چاہیے،اس نے اپنی رپورٹ میںاس بات پر بھی زور دیا تھا کہ ایک ایسا حد بندی کمیشن قائم کرنا چاہیے جو اس بات پر نگاہ رکھے کہ بڑی آبادی والے حلقوں کو (S.C)کے لئے رزرو نہ کیا جائے، کمیٹی کی رپورٹ میں اس بات کی وضاحت کی گئی تھی کہ مدارس کے نظام کو ہائر سکنڈری کی تعلیم سے مربوط کیا جائے ، اور مدارس کی اسناد کو دفاع ، سول اور بینکنگ اداروں کے امتحانات کیلئے تسلیم کیا جائے۔
 اس کمیٹی نے مسلمانوں کی تعلیمی صورت حال کا جائزہ لے کر بتایا کہ پورے ملک میں خواندگی کی شرح 64.8فی صد ہے، جس میں ہندوؤں میں 65.1،مسلمانوں میں 59.1اس سی اس ٹی میں 52.8اور دیگر 70.8فی صد ہیں۔ مختلف سرکاری محکموں کی ملازمتوں کا جائزہ لے کر اس کمیٹی نے بتایا کہ مسلمان آئی اے اس میں 3.0، پولس دفاعی اور حفاظتی عملوں میں 4.0محکمہ تعلیم (ریاستی )میں 6.5پولس کانسٹیبل میں 6.4محکمۂ ٹرانسپورٹ میں 6.5آئی اف ای میں 1.8انڈین ریلویزمیں 4.5محکمہ داخلہ (ریاستی)میں7.3محکہ صحت میں 4.5 عدلیہ میں 7.8فیصدہیں، یعنی 8فیصد بھی نہیں ہیں۔ جبکہ مطالبہ دس فیصد کا ہوتا رہا ہے۔
سچر کمیٹی کی سفارشات پر جزوی عمل در آمد کے بعد پروفیسر امیتابھ کنڈو کی قیادت میں اگست ۲۰۱۳ء میں حکومت نے ایک نئی کمیٹی بنائی تاکہ مسلمانوں کی آبادی ، بے روزگاری، طرز زندگی ،معیار زندگی ، پس ماندگی ، اوقاف کی جائیداوں ، عام تعلیمی پالیسی اور صحت کی صورت حال کا جائزہ لیا جا سکے، کمیٹی نے ۲۰؍ ستمبر ۲۰۱۴ء کو اپنی رپوٹ سرکار کو سونپ دی ، جس میں سچر کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں جو اقدامات کیے گیے، اسے ناکافی قرار دیتے ہوئے مزید اقدام کی ضرورت پر زور دیاگیا ،کمیٹی نے اپنی سفارشات میں لکھا ہے کہ جو اقدام مسلمانوں کے لیے کیے گیے وہ بھی ان تک براہ راست اور مؤثر انداز میں نہیں پہونچ سکے، ٹرینڈ افراد کی بحالی پر بھی توجہ نہیں دی گئی ، جن امور کی انجام دہی کے لیے سرکار مستعد تھی، اس کے لیے مسلمانوں کی طرف سے مطالبات کم آئے، اس لیے مقامی سطح پر اس ضمن میں کامیابی کا گراف بہت نیچے رہا، اس سلسلے میں مسلمانوں کو خود بھی جس طرح کی مستعدی دکھانی چاہیے تھی وہ دیکھنے میںنہیں آئی ۔ 
 ا س سلسلے میں مہاراشٹر کے لیے قائم محمود الرحمن کمیٹی کا ذکر بھی مناسب معلوم ہوتا ہے،جس میں مسلمانوں کو ہاؤسنگ پروجیکٹ ، تعلیمی اداروں اور سرکاری محکموں میں 8فیصد رزرویشن دینے، مسلمانوں کے کمزور طبقات کو OBCمیں مسلمان دلتوں کو شیڈولڈ کاسٹ کے زمرے میں شامل کرنے ،اقلیتی ترقیاتی محکموں کو مضبوط کرنے، ریاستی اقلیتی کمیشن کو بااختیار بنانے، وقف املاک کو ناجائز قبضوں سے آزاد کرانے،مسلمان طلبہ کے لیے پری میٹرک اور پوسٹ میٹرک وظائف کی شرطوں کو نرم کرنے، مسلم اکثریت والے علاقوں میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کے قائم کرنے اور اس سی ، اس ٹی کے طرز پر مسلمانوں کے تحفظ کے لئے قانون بنانے کی سفارش کی تھی،قانون توبنا نہیں مسلمانوں کی جان ومال عزت وآبروسے کھلواڑ کرنے کی روایت چل پڑی، آج صورت حال یہ ہے کہ مسلمانوں کو ہراساں وخوف زدہ کیا جا رہا ہے، ان کے مکانوں پر بلڈوزر چلایا جا رہا ہے ، مساجد بھی محفوظ نہیں ہیں، انہیں دوسرے درجہ کے شہری بنانے کے منصوبے پر تیزی سے کام ہو رہا ہے ، تاریخ کو مسخ کرکے مسلم عہد حکومت کی تاریخی عمارتوں اور شہروں کے نام بدلنے کی ایک مہم چل رہی ہے ، تباہی وبربادی کی داستان طویل ہوتی جا رہی ہے ، ہمارے وزیر اعظم ان موضوعات پر زبان نہیں کھولتے، جس سے فرقہ پرستوں کے حوصلے بلند ہیں، انہیں ’’من کی بات‘‘ سننے کی فرصت نہیں ہے ، وہ صرف ’’من کی بات‘‘ کہنا جانتے ہیں، جس طرح آمریت میں ایک ڈکٹیٹر ہوتا ہے، اسی طرح ہمارے یہاں کی جمہوریت دو آدمی کے گرد گھوم رہی ہے ، نہ کسی وزیر کی چلتی ہے اور نہ کسی اور کی، سب اپنی کرسی کو بچائے رکھنے کے لیے مودی مودی کے نعرے بلند کرنے میں لگے ہیں، ظاہر ہے، ان حالات میں صرف مسلمان ہی نہیں ملک کا مستقبل خطرے میں ہے، جمہوریت کی ساری بنیادیں منہدم ہو گئی ہیں، پندرہ سو قوانین میں ترمیم کی جا چکی ہے ، یکساں سول کو ڈ اور ملک کو ہندو راشٹر بنانے کی تیاری زوروں پر چل رہی ہیں، مسلمانوں کے حوالے سے ساری کمیٹیوں کی رپورٹیں سرد خانے میں چلی گئی ہیں، ہو سکتا ہے کمیٹیوں کی تشکیل آئندہ بھی ہو ۔کمیٹیاںبنتی رہیں گی ، کمیشن کے ذریعہ مرض کی تشخیص کرائی جائے گی ، لیکن اپنی حالت کے سدھارنے کا احساس جب تک خود مسلمانوں میں نہیں ہوگا۔ حقوق کی بازیافت کی جد وجہد کا حوصلہ نہیں ہوگا، صورت حال نہیں بدلے گی اور بقول شاعر یہ مسئلہ زیر غور ہی رہے گا۔ 
سارے جہاں کی شام غم صبح بہار اں بن گئی 
میری سحر کا مسئلہ اب بھی زیر غور ہے

اردودنیانیوز۷۲

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا ...