Powered By Blogger

بدھ, جون 22, 2022

مولانا مقصود عالم قاسمی ؒؒ___

مولانا مقصود عالم قاسمی ؒؒ____
مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ وجھارکھنڈ
 پورے ایک سال بیت گیے، ۲؍ مئی ۲۰۲۱ء بروز اتوار مطابق ۱۹؍ رمضان ۱۴۴۲ھ شام کے ساڑھے پانچ بجے حاجی پور کے معروف عالم دین ، سماجی کاموں کی جان، نون گولہ مسجد کے امام مولانا مقصود عالم قاسمی نے اس دنیا کو الوداع کہا تھا، ظاہری سبب برین ہیمریج تھا، پٹنہ کے میداز ہوسپیٹل میں بھرتی کرایا گیا تھا، لیکن جاں بر نہیں ہو سکے، جنازہ کی نماز ۳؍ مئی بروز سوموار دن کے دو بجے ان کے بھتیجہ حافظ محمد ارشاد نے کربلا واقع جڑھوا، حاجی پور کے میدان میں پڑھائی اور کربلاہی کے قبرستان میں تدفین عمل میں آئی، مولانا لا ولد تھے، پس ماندگان میں اہلیہ اور سات بھائیوں اور ان کی اولاد واحفاد کو چھوڑا۔
 مولانا مقصود عالم بن حاجی امام بخش انصاری (م ۲۰۱۶ئ) بن عبد الحکیم (م ۱۹۹۱ئ) کی ولادت ۸؍ اپریل ۱۹۶۳ء کو حاجی پور کے محلہ چھپی ٹولہ ، چوہٹہ نزد آر این کالج حاجی پور میں ہوئی، ابتدائی تعلیم ، فیض العلوم گول مری (ساکچی) جمشید پور میں حاصل کیا، ۱۹۸۰ء تک یہیں قیام پذیر رہے، ۱۹۸۱ء میں انہوں نے جامع العلوم مظفر پور میں داخلہ لیا، حفظ کی تکمیل کے بعد عربی کی ابتدائی تعلیم یہیں سے حاصل کی، ۱۹۸۸ء تک یہاں قیام رہا، پھر سال کے اخیر میں اعلیٰ تعلیم کے لیے دار العلوم دیو بند تشریف لے گیے، اور ۱۹۹۳ء میں فراغت حاصل کی، تدریسی زندگی کا آغاز انہوں نے ۱۹۹۴ء میں حاجی پور واقع مدرسہ انجمن اسلامیہ فلاح المسلمین سے کیا، اور ۱۹۹۷ء تک اسے تعلیمی اور تعمیری اعتبار سے ترقی سے ہم کنار کرنے میں مصروف رہے، لیکن جلد ہی وہ حاجی پور کی سیاست کے شکار ہو گیے اور انہوں نے اس ادارہ سے قطع تعلق کر لیا، امامت کے فرائض نون گولہ مسجد میں ادا کرتے رہے اور تقریبا تیس سال بلکہ آخری دم تک پوری دل جمعی اور مستعدی کے ساتھ کیا، شہر کی سماجی ، تعلیمی اور مذہبی پروگراموں میں شرکت بھی کرتے اور خود بھی انعقاد کراتے، بعض موقعوں پر مجھے بھی یاد کرتے اور میری تقریر کرواتے۔ علاقہ کے مدارس خصوصا مدرسہ فردوس العلوم لعل گنج کے بڑے معاون تھے، حاجی پور میں انہوں نے اس کے معاونوں کا مضبوط حلقہ تیار کر دیا تھا، وہ متمول خاندان کے چشم وچراغ تھے، شہر میں ان کی کپڑے کی دوکان آج بھی مشہور ہے، بھائیوں میں اتحاد واتفاق مثالی تھا، اس لیے مشترکہ خاندان کے ساتھ ہی انہوں نے زندگی گذاردی، ان کے تعلقات سسرال اور نانی ہال دونوں جگہ مضبوط تھے، ان کی نانی ہال نون گولہ حاجی پور ہی میں تھی ، نانا کا نام محمد ہاشم تھا، سسرال شیتل پور سارن میں تھا، سسرکا نام محمد نظام (م ۲۰۱۸ئ) تھا، شادی ۱۹۸۸ء میں ہوئی تھی۔ 
ویشالی ضلع میں عازمین حج کا تربیتی پروگرام وہ بہت پابندی سے کرتے تھے، ان کی سہولتوں کا پورا خیال رکھتے، مضبوط ضیافت کرتے، ہم لوگ بھی مدعو ہوتے، تربیتی گفتگو کا موقع مجھے بھی دیتے اور سراہتے۔
واقعہ یہ ہے کہ ویشالی ضلع میں ہر سال عازمین کے لیے دو تربیتی کیمپ لگا کرتا تھا، ایک کا انتظام مولانا مقصود عالم مرحوم کیا کرتے تھے، یہ حاجی پور میں لگتا تھا، مولانا مقصود عالم حج ٹرینرکی حیثیت سے اپنی ذمہ داری نبھایا کرتے تھے، دوسرا معیاری اور مثالی تربیتی کیمپ حاجی محمد اسماعیل اور برادران کے ذریعہ چھپرہ خرد ، سہان ویشالی میں منعقد ہوتا تھا، جس کے ٹرینر حاجی محمود عالم صاحب مصنف رہنمائے حج وزیارت ہوا کرتے تھے اور عازمین کو قیمتی تحائف دیا کرتے تھے، پھر کورونا آگیا تین سال حج کا سفر بند رہا، جن کے لیے تربیتی کیمپ لگاکرتا تھا اس کی ضرورت ہی باقی نہیں رہی، اس بار اللہ اللہ کرکے یہ سلسلہ شروع ہوا ہے، لیکن مولانا مقصود صاحب رہے ہی نہیں، اس لیے ان کی جانب سے لگایا جانے والا کیمپ بند ہو گیا، بعض وجوہات سے حاجی اسماعیل برادران کے ذریعہ لگایا جانے والا کیمپ بھی نہ لگ سکا ، ویشالی میں عازمین کی تربیت کے حوالہ سے سناٹا ہی پَسرا ہوا تھا، ایسے میں اللہ رب العزت نے مولانا نظر الہدیٰ قاسمی کو جو حج کمیٹی بہار کی جانب سے ٹرینر بھی ہیں، کھڑا کیا اور انہوں نے معہد العلوم الاسلامیہ چک چمیلی سرائے ویشالی میں ۶؍ جون ۲۰۲۲ء کو عازمین کے لیے تربیتی کیمپ کا انعقاد کیا ہے، اس طرح مولانا مقصود عالم مرحوم نے جو سلسلہ شروع کیا تھا، اس کو تسلسل عطا کرنے کا کام مولانا محمد نظر الہدیٰ قاسمی کے ذریعہ کیا جا رہا ہے، اللہ کرے یہ سلسلہ جاری رہے۔
 اللہ تعالیٰ نے مولانا مرحوم کو ۲۰۰۶ء اور ۲۰۱۲ء میں حج کی سعادت نصیب فرمائی، حج کی تربیت کے معاملہ میں بھی سیاست نے ان کا پیچھا نہیں چھوڑا ایک دوسرے صاحب کھڑے ہوگیے ،پہلے تو انہوں نے جڑھوا اقلیتی ہاسٹل میں اس کام کو شروع کر دیا، اس طرح مولانا کاپروگرام ہلکا پڑنے لگا، وجہ یہ ہوئی کہ وہ دوسرے صاحب ٹیکہ کا انتظام اپنے کیمپ میں کر دیتے تو عازمین ایک پینتھ دو کاج کے جذبہ سے وہاں شریک ہوجاتے، بعد میں وہ صاحب  سنگی مسجد حاجی پور میں پروگرام کرانے لگے، حاجی پور میں مساجد بہت ہیں اور امام بھی ہر مسجد میں مقرر ہیں، لیکن چند اماموں کو اللہ نے خصوصی مقبولیت دے رکھی ہے، اور وہ زمانہ دراز سے اس فرض منصبی کو ادا کر رہے ہیں، ان میں مولانا مقصود عالم صاحب مرحوم، مولانا محمد اظہار الحق قاسمی ، چوک مسجد حاجی پور، ان کے بھائی صوفی مختار الحق للہی پوکھرا مسجد حاجی پور، حافظ عبد الحق صاحب امام مسجد باغ ملی حاجی پورکے نام خاص طور سے لیے جا سکتے ہیں، بقیہ مساجد کے امام ادلتے بدلتے رہتے ہیں۔اس لیے ان کا فیض دیر پا نہیں ہوتا۔
 مولانا واقعتا بافیض تھے، بدن بھاری اور چہرہ وجیہ تھا، دین کے سلسلہ میں حساس تھے، وہ مدرسہ اسلامیہ انوار العلوم پہاڑی چک دودھیلا میں صدر مدرس کے عہدے پر بھی فائز تھے۔ اس مدرسہ کے ذریعہ بھی انہوں نے علاقہ کی خدمت کی، مولانا کے اندر خاکساری تھی، تواضع اور انکساری تھی، لباس  وپوشاک سے بھی ان کی نفاست جھلکتی تھی، خوش خوراک بھی تھے، قلب کے مریض ہونے کے بعد خورد ونوش پر پابندیاں تھیں، اس کے باوجود جسم وجثہ کے طول وعرض پر بڑا فرق نہیں پڑا، اللہ نے اپنے پاس بلا لیا ، تو بظاہر ایک خلا پیدا ہو گیا ہے، اس خلا کو پر کرنے والی ذات اللہ کی ہے اور وہ ضرور اس کی تلافی کرے گا۔

یوپی کے مدارس میں منایا گیایوگا ، طلباء اور اساتذہ نے حصہ لیا

یوپی کے مدارس میں منایا گیایوگا ، طلباء اور اساتذہ نے حصہ لیالکھنو کے مدارس میں پڑھنے والے طلباءنے بھی یوگا کیا۔ عالمی یوم یوگا کے موقع پر مدرسہ کے طلبہ کو یوگا کرانے والے اساتذہ نے جوش و خروش سے حصہ لیا اور طلبہ کو یوگا کرنے کی ترغیب دی۔لکھنوکے دارالعلوم مدرسہ میں طلباءنے اجتماعی طور پر یوگا کیا۔ طلباءکو یوگا کے بارے میں بتایا گیا جو صحت کےلئے مفید ہے۔ یوگا کرنا اور کرانا دونوں کو زندگی بچانے والا بتاتے ہوئے استاد نے کہا کہ زندگی میں یوگا کو اپنانا ضروری ہے۔شہر کے دیگر مدارس میں بھی طلباءنے یوگا کیا۔ جسم کو تندرست رکھنا ضروری ہے۔ مدرسہ کے استاد فیضی نے کہا کہ ملک اور ریاست میں یوگا ڈے منانے کےلئے سبھی آگے آئے ہیں تو پیچھے کیسے رہیں۔ یوگا ڈے پر طلباءکے ساتھ انہوں نے بھی یوگا کیا۔انہوں نے کہا کہ لکھنو کے علاوہ ریاست کے دیگر اضلاع میں مدارس کے اساتذہ نے بھی اپنا فرض ادا کیا اور بین الاقوامی یوگا ڈے میں حصہ لیا۔ یوگا ڈے کے موقع پر طلبہ کو یوگا کی مشق کرانے کے بعد بعض مقامات پر مٹھائیاں بھی تقسیم کی گئیں۔

منگل, جون 21, 2022

سعودی عرب میں دس لاکھ عازمین حج کی آمد کے لیے انتظامات

سعودی عرب میں دس لاکھ عازمین حج کی آمد کے لیے انتظاماتریاض،21جون - سعودی عرب کے متعلقہ حکام نے اس سال 1443ھ کے حج سیزن کے لیے اندرون و بیرون ملک سے تقریباً 10 لاکھ عازمین حج کی آمد کے لیے اپنے تمام حفاظتی ، سروسز، حجاج کے گروپوں کو کنٹرول کرنے اور ان کی نقل و حمل کے منصوبے مکمل کر لیے ہیں۔مکہ مکرمہ ریجن کے نائب گورنراورمرکزی حج کمیٹی کے نائب چیئرمین شہزادہ بدر بن سلطان نے اللہ کے مہمانوں کیاستقبال کے لیے کیے گئے اقدامات کا جائزہ لینے کے لییشاہ عبدالعزیز ہوائی اڈے اور مقدس مقامات پر سہولیات کی تیاری کا جائزہ لیا۔ شہزادہ بدر بن سلطان اپنا زیادہ وقت مشاعر مقدسہ میں گذارتے ہیں تاکہ عازمین حج کے استقبال کے لیے جاری منصوبوں کو مکمل کیا جاسکے۔ گذشتہ روز شاہ عبدالعزیز بین الاقوائی ہوائی اڈے کے دورے کے موقعے پر شہزادہ بدر بن سلطان کے ہمراہ وزیر ٹرانسپورٹ انجینیر صالح الجاسر، وزیر حج وعمرہ ڈاکٹر توفیق الربیعہ، ڈائریکٹر پبلک سیکیورٹی لیفٹیننٹ جنرل محمد البسامی، سول ایوی ایشن اتھارٹی کے صدر عبدالعزیز الدعیلج اور متعلقہ حکام کے حکام بھی موجود ہے۔مکہ مکرمہ ریجن کے ڈپٹی گورنر نے شاہ عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حج و عمرہ ہالز کمپلیکس کا بھی معائنہ کیا اور انہیں کام کی پیشرفت اور اس سال حج کی ادائیگی کے لیے آنے والے عازمین کی استقبال کے لیے آپریشنل پلان کے بارے میں بتایا گیا۔مکہ معظمہ کے ڈپٹی گورنر شہزادہ بدر بن سلطان کے حج انتظامات کے جائزے کے دورے کے دوران حج و عمرہ ہال کمپلیکس کی طرف جانے والی سڑک کا جائزہ بھی شامل ہے۔ جہاں انہوں نے سڑک پر بصری آلودگی سینمٹنے اور داخلی دروازے 14-17 اور بس اسٹاپ کا معائنہ کیا گیا۔انہوں نے جنرل سنڈیکیٹ کے پوزیشنز پراجیکٹ اور بینالی اسلامی دو سالہ منصوبے پربریفنگ سنی۔ ساتھ ہوائی اڈے پر حج و عمرہ ہال کمپلیکس کی تیاری اور حاجیوں کے سفر کو مزید آرام دہ بنانے کے لیے فراہم کی جانے والی سہولیات کے بارے میں یقین دلایا۔شہزادہ بدر کو پلازہ کے علاقے میں ہونے والے بہتری کے کاموں کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی، جس کے دوران 20 ایئر کنڈیشنڈ بیت الخلاء تعمیر کیے گئے تاکہ انتظار گاہ کو زائرین کیلیے آرام دہ بنایا جا سکے۔ اس بس ٹرمینل کے لیے 1200 مربع میٹر کی جگہ مختص کی گئی ہے اور ایک ٹرمینل پر تین سو مسافروں کی گنجائش موجود ہے۔ قابل ذکر ہے کہ اس دورے میں سرکاری اداروں کے مراکز کا دورہ بھی شامل تھا جو عازمین حج کو وصول کرنے اور کمپلیکس میں ان کے لیے ضروری خدمات فراہم کرنے کا کام کرتے ہیں۔ اس کے بعد وہ ٹرمینل نمبر 1 میں بسوں کی چھانٹی والی جگہ گئے اور وہاں حکام سے بریفنگ لی۔حج و عمرہ ہالز کا کمپلیکس کا بھی جائزہ لیا، اس کا کل رقبہ5 لاکھ 10 ہزار مربع میٹر ہے، جس میں کمپلیکس میں ٹریول ہالز اور پبلک ایریا (پلازہ) بھی شامل ہے، جہاں عازمین کے استقبال کے لیے 14 ٹریول ہال تیار کیے گئے ہیں۔ سفری طریقہ کار کو حتمی شکل دینے کے لیے وہاں 288 پلیٹ فارم اور 210 پاسپورٹ پلیٹ فارم ، 18 ایک ٹریول گیٹ اور 1180 میٹر کی لمبائی کے ساتھ بیگیج بیلٹس،ایک فرسٹ کلاس لاؤنج اور116 بس اسٹاپ ہیں۔ اس کمپلیکس میں مرکزی نماز ہال کے علاوہ پلازہ کے علاقے میں نماز کے لیے 40 کمرے مختص ہیں، جس میں 5,000 نمازیوں کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔ کمپلیکس میں ایک مکمل آلات سے لیس ڈسپنسری ہے اور سعودی ہلال احمر کی تین ایمبولینس ٹیمیں چوبیس گھنٹے کام کر رہی ہیں،۔ آمد کے مرحلے میں کمپلیکس کی یومیہ گنجائش 45,000 مسافروں تک پہنچ جاتی ہے اور روانگی کے مرحلے میں بھی یہ 42,000 مسافروں تک پہنچ جاتی ہے۔ .اس کے بعد انہوں نے شاہ عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے الحرمین ٹرین سٹیشن کا دورہ کیا اورجدہ سے مکہ مکرمہ کے لیے فلائٹ لی۔ اس دوران انہیں ہوائی اڈے کی طرف سے حرمین ٹرین سٹیشن کے ساتھ رابطے کے ذریعے پیش کردہ امکانات کے بارے میں بتایا گیا۔ یہ منصوبہ عازمین حج کو بہترین خدمات فراہم کرنے اور مقدس مقامات تک ان کی رسائی آسان بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔شہزادہ بدر بن سلطان مقدس مقامات کے دورے کے دوران جبل الرحمہ سے ملحقہ علاقوں کی ترقی اور بہتری کے منصوبے کا دورہ کیا، جس کا مقصد جبل الرحمہ سے ملحقہ علاقوں کو ترقی دینا اور بہتر بنانا ہے۔

گیان واپی مسجد معاملہ کی سماعت کرنے والے جج کا تبادلہ

گیان واپی مسجد معاملہ کی سماعت کرنے والے جج کا تبادلہنئی دہلی: الہ آباد ہائی کورٹ کی سالانہ ٹرانسفر لسٹ میں روی کمار دیواکر کا نام بھی شامل ہے جنہوں نے گیان واپی مسجد معاملہ کی سماعت کی تھی۔ سینئر ڈویژن سیول جج روی کما دیواکر کا تبادلہ وارانسی سے بریلی کردیا گیا ہے۔ تمام ٹرانسفر ہونے والے ججوں کو 4 جولائی کی سہ پہر تک اپنی ذمہ داریاں سنبھالنی ہوں گی۔الہ آباد ہائی کورٹ کے رجسٹرار جنرل آشیش گرگ نے ٹرانسفر لسٹ جاری کی ہے ۔روی کمار دیواکر گیانواپی مسجد تنازعہ کی سماعت کر رہے تھے اور مسجد احاطے کے سروے کا حکم انہوں نے ہی دیا تھا۔ سپریم کورٹ کے حکم پر سماعت اب ڈسٹرکٹ جج کو منتقل کر دی گئی ہے۔ سروے کے آخری دن شیولنگ ملنے کے دعوے پر گیانواپی مسجد کے وضو خانہ کو سیل کرنے کے احکامات بھی دیے گئے تھے۔

واضح رہے کہ اس سے پہلے روی کمار دیواکر کو دھمکی آمیز خط بھی موصول ہوا تھا۔

Hifiz Quran From Mumbai Madrassa مدرسہ کے بائیس طلباء ایس : Clear SSC Exam ایس سی امتحانات میں کامیاب

Hifiz Quran From Mumbai Madrassa مدرسہ کے بائیس طلباء ایس : Clear SSC Exam ایس سی امتحانات میں کامیاب

ممبئی مضافات میں واقع جامعہ تجوید القرآن کے طلباء دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم بھی حاصل کررہے ہیں۔ اس مدرسہ کے 22 طلباء نے ایس ایس سی امتحانات میں کامیابی حاصل کی ہے۔

ریاست مہاراشٹر کے ممبئی مضافات میں واقع جامعہ تجوید القرآن ان دنوں موضوع بحث ہے کیونکہ یہاں حفظ کی تعلیم حاصل کرنے والے 22 طلباء نے ایس اس سی امتحانات میں کامیابی حاصل کی ہے یہ بچے دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم بھی حاصل کر رہے ہیں۔ ابو طلحہ نے ایس ایس سی میں 83 فیصد مارکس حاصل کیے۔ابو طلحہ نے بتایا کہ اسکول بند تھے آن لائن کلاس کی وجہ سے تیاری مشکل تھی ۔ حفظ کی تعلیم بھی ضروری تھی اس کے باوجود ہم نے دینی اور عصری تعلیم دونوں جاری رکھتے ہوئے کامیابی حاصل کی۔مدرسہ کے 22 طلباء ایس ایس سی امتحانات میں کامیاب

مدرسہ کے طالب علم حذیفہ کو 80 فیصد مارکس ملے اور حالات سب کے ایک جیسے ہی تھے ۔اب یہ سارے بچے اعلیٰ تعلیم کے خواہشمند ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ سائنس کی تعلیم حاصل کر کے انجینیر بنیں اور ملک و ملت کا نام روشن کریں ۔اسی مدرسے میں ایک نور محل نامی اسکول ہے اس اسکول کی پرنسپل شازیہ ساجد خان نے کہا کہ لوگ دنیاوی تعلیم کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں عصری تعلیم کو وہ اہمیت نہیں دے پاتے لیکن یہاں دونوں تعلیم کو اہمیت دی جاتی ہے یہاں حفظ کے ساتھ ہی طلباء عصری تعلیم بھی حاصل کر رہے ہیں ۔ اور کامیاب ہو رہے ہیں۔ اس مرتبہ 22 بچے حفظ کے ساتھ ساتھ ایس ایس سی میں کامیاب ہوئے ہیں۔ یہاں کے زمیداروں کا یہ خواب تھا کہ بچے حفظ کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم بھی حاصل کریں ۔جس کو لیکر ہم ہمہ وقت تیار ہیں ۔

آج سے بہار میں چلے گی لمبی دوری کی ٹرینیں 243 ٹرینیں منسوخ

آج سے بہار میں چلے گی لمبی دوری کی ٹرینیں 243 ٹرینیں منسوخپٹنہ ، 21 جون (اردو دنیا نیوز۷۲)۔ اگنی پتھ اسکیم کے خلاف بہار میں طلباء کے احتجاج کا شکار ہونے والی ریلوے نے آج سے لمبی دوری کی ٹرینیں چلانے کا فیصلہ کیا ہے جس سے مسافروں کو بھی راحت ملی ہے۔طلباء کے احتجاج کے دوران ایسٹ سنٹرل ریلوے کو پہنچنے والے بڑے نقصان کی وجہ سے ریلوے نے بورڈ سے فی الحال 60 فیصد ٹرینیں چلانے کی اجازت مانگی ہے۔ بورڈ نے ان میں سے زیادہ تر ٹرینوں کو چلانے کو گرین سگنل دے دیا ہے۔ اجازت کے بعد تیجس راجدھانی اور سمپرن کرانتی ایکسپریس پیر کے روز راجندر نگر ٹرمینل سے ایک گھنٹے کی تاخیر سے دہلی کے لیے روانہ ہوئیں۔ راجدھانی اور سمپرن کرانتی کے علاوہ، ساؤتھ بہار ایکسپریس ، ہواڑہ ایکسپریس ، کامکھیا ایکسپریس ، ایل ٹی ٹی ممبئی ایکسپریس ، راجندر نگر-بانکا ٹرین ، داناپور-بنگلورو ایکسپریس اور داناپور-پونے ایکسپریس ٹرینیں بھی پیر کےروز شروع ہوئیں۔

افرادی قوت اور ریک کی کمی کی وجہ سے منگل کے روز بھی بہار سے چلنے والی 243 ٹرینوں کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔ ان ٹرینوںکی آمدورفت بھی جلد شروع ہو جائے گی۔

قابل ذکر ہے کہ ریلوے ہیڈ کوارٹر حاجی پور نے پیر کے روز ٹرین آمدورفت کے انتظامات کے لیے برین سٹارمنگ کی تھی اور تمام ریلوے ڈویزنوں کو زون کی طرف سے ٹرینوں کے ریک دستیاب کرنے کی ہدایت کی تھی۔ داناپور ریلوے ڈویزن کے مختلف محکموں کے ملازمین کو الرٹ رہنے کو کہا گیا ہے۔ اس کے بعد تیجس راجدھانی اور سمپرن کرانتی ایکسپریس کل دہلی کے لیے روانہ ہوئی۔

حج: سفر محبت وعبادت__

حج: سفر محبت وعبادت__
مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ وجھارکھنڈ(9431003131)
    اسلام کی بنیاد پانچ  چیزوں پرہے،ایمان لانا،اورایمان کے بعدنمازپڑھنا،روزہ رکھنا،بعض شرائط وقیودکے ساتھ سب پرفرض ہے،مردہویاعورت،جوان ہویابوڑھا،فقیرہویامالدار،سب ایک صف میں ہیں،چونکہ یہ کام سب کرسکتے ہیں،بعض مخصوص حالات میں جولوگ نہیں اداکرسکتے ہیں ان کوچھوٹ دی گئی ہے یااعذارختم ہونے کے بعدادائیگی کاحکم دیاگیاہے،زکوٰۃ اورحج سب پرفرض نہیں کیاگیاہے،کیونکہ ان کاتعلق مال سے ہے،اورسب مال والے نہیں ہیں،پھرجن کے پاس مال ہے،اس کے اوپرزکوٰۃفرض کرنے کے لیے نصاب کی شرط لگائی گئی اورحج فرض کرنے کے لیے مالداری کے ساتھ استطاعت کی قیدلگائی گئی،اس لیے کہ حج میں سفرکرنابھی ہوتاہے اورمال بھی خرچ کرنا،اب اگرآدمی بیمارہے،تندرست نہیں ہے توخودسفرنہیں کرسکتاقیدمیں ہے توسفرکی اجازت ہی نہیں۔تندرست وتوانااورآزادہے لیکن راستہ پرامن نہیں ہے۔راجح قول کے مطابق عورت کے ساتھ کوئی محرم جانے والانہیں ہے یاعورت عدت میں ہے،توبھی سفرممکن نہیں؛اس لیے اس پرحج فرض نہیں،سب کچھ موجودہے، سفرخرچ اورواپسی تک بال بچوں کے نفقہ کی صورت نہیں بنی توبھی حج کرناممکن نہیں اوراللہ رب العزت اپنے فضل سے بندوں پر اسی قدرفرض کرتاہے جس کی ادائیگی پروہ قدرت رکھتاہو،اب قدرت وطاقت ،صحت ،مال ودولت اورہرقسم کی مطلوبہ استطاعت ہوتواللہ اپنے گھرکی طرف بلاتاہے،سب کچھ اللہ ہی کادیاہواہے،ایسے میں وہ یوںہی بلالے کچھ نہ دے اورکوئی وعدہ نہ کرے تب بھی سرکے بل جاناچاہیے،دوڑناچاہیے،لیکن یہ اللہ رب العزت کاکتنابڑافضل اورکرم ہے کہ سب کچھ دے کرکہتاہے کہ آؤمیرے گھر،احرام باندھو،طواف کرو،سعی کرو،حجراسودکااستلام کرو،رکن یمانی کوچھوؤ،زمزم پیو،صفاومروہ کی سعی کرو،عرفہ،مزدلفہ میں وقوف کرو،منیٰ میں رات گذارو،شیطان کوکنکری مارو،قربانی کرو،ہم اس کے بدلے تمہیں جنت دیںگے،وہ جنت جس کے لیے تم پوری زندگی ہماری عبادت کرتے رہتے ہو،اس پوری زندگی کامطلوب صرف ایک حج مقبول میں تمہیں دیںگے،تم نے اس سفرمیں کوئی غلط کام نہیں کیا،جھگڑانہیں کیا،شہوانی خواہشات سے مغلوب نہیں ہوئے توایسے پاک صاف ہوکرگھرلوٹوگے جیسے آج ہی تم ماں کے پیٹ سے معصوم پیداہوئے ہو،اس کے علاوہ اوربھی انعامات تمہیں ملیں گے،تمہارے اندردنیاسے بے توجہی پیداہوجائے گی،آخرت کی فکراوررغبت تمہاری زندگی کاحصہ بن جائے گی،تم نے جومال خرچ کردیا،وہ تمہارے لیے فقروفاقہ کاباعث نہیں بنے گا؛بلکہ اللہ تعالی اپنے فضل سے تمہیں اوردے گا،غنی بنادے گا،اتنادے گاکہ بے نیازہوجاؤگے،تمہیں ہرقسم کی عصبیت اورامتیازکی بیماری سے پاک کردے گا،ریا،نمودونمائش کاجذبہ ختم ہوجائے گا،اللہ تعالی کے اس اعلان فضل ونعمت کے بعدبھی دوسرے ارکان کی ادائیگی کی طرح حج میں جانے میں کوئی کوتاہی کرتاہے تویہ بڑی محرومی اوربدبختی کی بات ہے،یقیناًحج زندگی میں ایک بارفرض ہے،لیکن فرض ہونے کے بعدساقط نہیں ہوتاہے اورکیامعلوم اگلی زندگی کیسی ہوگی،ابھی اللہ کے انعام کی قدرنہیں کیااوربعدمیں مال ہی جاتارہا یاصحت ہی باقی نہ رہی تویہ فرض رہ جائے گا،اس لیے انتظارکرناکہ ملازمت سے سبکدوش ہوجائیں تب اللہ کے بلاوے پرلبیک کہیں گے اورسب گناہ سے رک جائیںگے،یہ شیطان کابہلاواہے کہیں اس کے پہلے ہی بلاواآگیااورکون جانتاہے کہ کب بلاواآئے گا،مرنے کی کوئی عمرنہیں ہوتی اورکوئی نہیں جانتا کہ کب اورکس وقت ملک الموت اپناکام کرجائیںگے  اس لیے جوزندگی دی گئی ہے اورجومال ودولت ،صحت وعافیت فراہم ہے،اس کی قدرکرنی چاہئے اوربلاتاخیراللہ کے اس بلاوے پردوڑجاناچاہیے،ہمارے بعض بھائی اس اہم رکن کی ادائیگی کواس لیے ٹالتے ہیںکہ بچی کی شادی کرنی ہے حج الگ فرض ہے اوربچی کی شادی الگ ذمہ داری ہے؛ خصوصاًاس شکل میں جب کہ لڑکی ابھی سیانی؛ نہیں ہوئی ہے، ذمہ داری ہی اُس کام کی نہیں آئی،ایسے میں کہا کی عقل مندی ہے کہ ایک فرض کوآئندہ والی ذمہ داری کے نام پرٹالاجائے۔یہی حال مکان کی تعمیر،زمین کی خریدگی،اوردوسرے گھریلومعاملات کاہے،جن کے نام پرشیطان بہکاتارہتاہے،اورحج مؤخرہوتارہتاہے،اورپھروہ وقت بھی آجاتاہے کہ ادائیگی کی شکل باقی نہیں رہتی۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایاکہ جس شخص کے پاس کوئی عذرنہ ہو،استطاعت بھی ہو،سخت حاجت بھی درپیش نہ ہو،ظالم بادشاہ اورمرض نے بھی نہ روکاہواوروہ حج کے بغیر مرگیاتویہودی ہوکرمرے یانصرانی ہوکرمرے ،مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں۔اللہ کی پناہ کس قدرسخت وعیدہے۔اللہ ہم سب کی حفاظت فرمائے۔
حج کے سفرکی تیاری کازمانہ آگیاہے اللہ کے اس بلاوے پردوڑنے کے لیے تیارہوجائیے،نیت کوخالص کیجئے،گناہوں ںسے توبہ کیجئے،اگروالدین آپ کی خدمت کے محتاج ہوں توان سے بھی اجازت لیجئے،امانت ووصیت سے فارغ ہولیجئے،حقوق کی ادائیگی پرتوجہ دیجئے،اچھے رفیق سفرکاانتخاب کیجئے،حج کے مسائل سیکھئے،حج کمیٹی والے تربیتی کیمپ لگواتے ہیں،اس کی حاضری کویقینی بنائیے کہ یہ بھی حج کے مسائل سیکھنے کااچھاذریعہ ہے،جلدی کیجئے،صحت ودولت کوغنیمت جانیئے ،دوڑیئے،تیزی دکھائیے،اپنے ساتھ اپنے دوستوں کو بھی تیارکیجئے،آپ کی رفیق حیات دکھ سکھ میں آپ کے ساتھ رہتی ہیں،اللہ نے ان پربھی حج فرض کیاہے اورنہ بھی کیاہواوراستطاعت ہوتوضرورلے جایئے،اس لیے کہ وہ اپنے سفرمیں محرم رفیق سفرکی محتاج ہوتی ہیں اور خدا معلوم آئندہ انہیں کوئی محرم ملے یانہ ملے،اس لیے حق رفاقت کاتقاضہ ہے کہ اللہ کی بندیوں کوبھی اس سفرمیں ساتھ لیجئے،تاکہ وہ بھی اللہ تعالی کے انعامات واکرام سے فائدہ اٹھاسکیں،ان خیالات کی تشہیربھی کیجئے،لکھنے کی صلاحیت ہوتومضمون کے ذریعہ ،بولنے کی صلاحیت ہوتوتقریرکے ذریعہ،مجلسی گفتگومیں ممتازہوں تواسے موضوع گفتگوبنائیے،ائمہ حضرات مساجدکے منبرومحراب سے بھی اسلام کے اس اہم رکن کی ادائیگی کے لیے ترغیب دیں،تاکہ مسلمانوں میں جو سستی پائی جاتی ہے وہ دورہو۔آقاصلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایاکہ بھلائی کی طرف رہنمائی کرنے والابھی اس خیرکے کرنے والے کی طرح ہے یعنی وہ بھی ثواب میںبرابرکاشریک ہوگا۔اس لیے اس پیغام کوہرسطح پرعام کیجئے اوراجرکے مستحق ہوجائیے،نسخہ آسان بھی ہے اورقابل عمل بھی ہے۔
اس سفر محبت وعبادت سے آپ لوٹ کر آئیں گے تو اپنے ساتھ جنت کا تحفہ اور گناہوں سے پاک ہونے کا مژدہ لے کرلوٹیں گے، حج کے اس سفر محبت وعبادت میں آپ نے کعبہ کی تجلیات کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے، مکہ کی بابرکت سرزمین منی، عرفہ، مزدلفہ، کے وقوف اور جمرات کی رمی نے آپ کے نفس امارہ کو مار ڈالا ہوگا، حب رسول سے سرشار، مسجد نبوی میں ادا کی گئی کم وبیش چالیس وقت کی نمازوں اور مواجہہ شریف کے در ود وسلام نے آپ کے اندر جو روحانیت پیدا کی ہے، اس کو پوری زندگی باقی رکھیے، حج کو بدنام نہ کیجئے، کھجور اور زمزم کے ساتھ وہ تحفہ بھی بانٹیے گا؛ جس میں آپ کو کچھ خرچ کرنا نہیں پڑا ہے، یہ و ہ منافع ہیں جن کو آپ نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے، ان میں سے ایک اللہ پر توکل اور اعتماد کا ہے، آپ کا یہ سفر اللہ کے بھروسے ہی پورا ہے، چلنے کی سکت نہیں تھی، لیکن آپ نے طواف وسعی اللہ بھروسے کر لیا ہے، آپ نے وہاں ساری دنیا سے آئے الگ الگ مسلک اور مشرب کے لوگوں کو دیکھا ، سب اپنے اپنے طریقے پر عبادت کرتے ہیں، کوئی کسی کو بُرا بھلا نہیں کہتا، فروعی مسائل میں اختلاف کے با وجود اتحاد امت کا یہ بڑا سبق حاجی اپنے ساتھ لے کر آتاہے، ہندوستان کے پس منظر میں خصوصیت سے اس کا تذکرہ کرنا چاہیے، اس کے علاوہ تحمل اور بر داشت جن کا مظاہرہ قدم قدم پر آپ نے کیا اور دوسروں کو کرتے دیکھا ، اسے بھی لوگوں میں بانٹیے، تعصب سے پاک سماج اور خالص اللہ کی عبادت کا پیغام بھی حج کا خاص تحفہ ہے، جو اللہ کی میزبانی میں آپ کو عطا ہوا ہے، حج کے اس سفر کا بڑا فائدہ انسان کے اندر سے امتیاز کی بیماری کو ختم کرنا ہے، سلے ہوئے کپڑے کے ڈیزائن سے امتیاز پیدا ہوتا ہے، احرام کے دوبغیر سلے ہوئے کپڑے، کفن کی طرح پہن کر تمام عازمین میں یکسانیت پیدا کردی گئی،لبیک کا ترانہ عربی میں پڑھ کر زبان کا امتیاز ، منی عرفہ کے خیموں میں ٹھہر کر مکان کا امتیازختم کرایا گیا اور مزدلفہ میں کھلے آسمان کے نیچے رات گذار کر ایسے غریبوں کی پریشانیوں کا احساس جن کے سر پر چھت نہیں ہے، آپ نے کیا ہے، اس احساس  کی قدر کیجئے، خود بھی عمل کیجئے اور دوسروں تک بھی پہونچائیے۔

اردودنیانیوز۷۲

عید الفطر کا پیغام

عید الفطر کا پیغام  مضمون نگار : محمد ضیاء العظیم، معلم چک غلام الدین ہائی اسکول، ویشالی، بہار، موبائل نمبر :7909098319 اللہ رب ...