Powered By Blogger

جمعرات, اگست 12, 2021

ناندیڑ:شرابی شوہر نے بیوی کاکلہاڑی سے قتل کیا

ناندیڑ:11اگست (اردو اخبار دنیا)مدکھیڑتعلقہ کے موضع ترکس واڑی میں ایک شرابی شوہر نے محو خواب بیوی پرگھر میں کلہاڑی سے وار کرکے قتل کردیا ۔اس دردناک واقعہ کی اطلاع ملنے پربارڈ پولس جائے واردات پر پہنچ گئی اور ملزم کی تلاش شروع کردی ہے ۔ترکسواڑی کے ساکن گیانیشور ماروتی شندے نے9 اگست کو محو خواب بیوی تائی بائی عمر29سال کے سراور ہاتھ پر کلہاڑی سے زبردست وارکردیا۔

اس واقعہ کے بعد مقامی افراد نے تائی بائی کو بارڈ کے دیہی اسپتال میں منتقل کیا لیکن خون زیادہ بہنے کی وجہہ سے ناندیڑ کے وشنوپوری سرکاری اسپتال میںداخل کروایاگیا جہاں پردوران علاج اسکی موت ہوگئی ۔ تائی کے بھائی سوناجی ارجن ڈھگے نے پولس اسٹیشن میں شکایت درج کروائی کہ تائی بائی کواسکاشوہر ہمیشہ گھریلو باتوں پرجھگڑتاتھا۔اس فریاد پر ملزم کے خلاف قتل کامقدمہ درج کیاگیا ہے ۔

بدھ, اگست 11, 2021

بین الاقوامی شہرت یافتہ یوٹیوبر مبشر صدیق کی مداحوں سے التجا

  • (اردو اخبار دنیا)

’میں پبلک پراپرٹی ہوں لیکن میرا خاندان پبلک پراپرٹی نہیں ہے‘

سیالکوٹ: کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے جب مٹی کے برتنوں میں کھانا پکاتے اور کچے صحن میں مختلف پکوان پکاتے اور دیکھنے والے کو ان کی ترکیبیں سکھاتے مبشر صدیق اپنے مداحوں کی توجہ اور محبت کا شکریہ ادا کرتے نظر آتے تھے۔ لیکن اب اپنے یوٹیوب چینل پر تیس سیکنڈ کے مختصر سے کلپ میں وہ لوگوں سے التجا کرتے نظر آئے کے ’خدا کا واسطہ ہے مجھ سے ملنے مت آئیں۔‘ضلع سیالکوٹ کے چھوٹے سے گاؤں کنگڑا سے تعلق رکھنے والے ولاگر مبشر صدیق نے یوٹیوب پر ’ولیج فوڈ سیکریٹس‘ کے نام سے ایک چینل شروع کیا جس پر وہ دیہاتی پکوانوں کی تراکیب بتاتے تھے۔ سادہ سے کچے صحن اور کچن میں یا کھیتوں میں کھانے بناتے مبشر کے فالوور دیکھتے دیکھتے بڑھنے لگے۔ کچھ ہی عرصے میں وہ اتنے مقبول ہو گئے کہ اس سے چینل سے انھیں ماہانہ اچھی آمدنی بھی ہونے لگی۔مبشر کی مقبولیت کے بعد ان کے بارے میں بی بی سی اردو سمیت کئی خبر رساں اداروں میں چرچے بھی ہوئے۔ لیکن اب وہ اپنی مداحوں سے ہاتھ جوڑ کر ان سے نہ ملنے کی اپیل کر رہے ہیں۔

مبشر صدیق ہیں کون؟
مبشر کے گاؤں کی جانب جانے والی سڑک بھی چھوٹی ہے اور گاؤں میں انٹرنیٹ بھی باقاعدگی سے دستیاب نہیں تھا اور انھیں اپنی ویڈیو گاؤں سے ایک اور جگہ جا کر آپ لوڈ کرنی پڑتی تھیں۔بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا ’میری تعلیم میٹرک ہے، اور وہ بھی میں نے تھرڈ ڈویژن میں کی ہوئی ہے۔ اور میں ڈسٹرکٹ سیالکوٹ کے بالکل ایک چھوٹے سے گاؤں کا رہنے والا ہوں۔ ‘مبشر اُس وقت تک اپنی شہرت اور کامیابی سے لطف اندوز ہوتے رہے جب تک ان کے مداح ان کے گاؤں کو دیکھنے اور ان سے ملنے ان کے گاؤں تک نہیں پہنچ گئے۔پہلی بار مبشر نومبر 2019 میں اپنے مداحوں سے درخواست کرتے نظر آئے کہ ان کے گاؤں میں آ کر ویڈیو نہ بنائیں۔ ان کا موقف تھا کہ لوگ ان کے گاؤں میں آ کر خواتین کی ویڈیوز بنا کر اپ لوڈ کرتے ہیں اور چونکہ لوگ خود کو مبشر کا مہمان قرار دیتے ہیں اس لیے انہیں پورے گاؤں سے معافی مانگنی پڑی۔

اس وقت پانچ منٹ سے زیادہ طویل ویڈیو میں انھوں نے گاؤں والوں کی جانب سے تنبیہ کی تھی اگر کسی کو ویڈیو بناتے دیکھا گیا تو اسے پولیس کے حوالے کیا جائے گا۔لیکن اب پھر سے ایسا کیا ہو گیا کہ انھیں لوگ کو واشگاف الفاظ میں کہنا پڑا کہ ’جو لوگ ہمارے گاؤں ہم سے ملنے آتے ہیں میں ہاتھ جوڑ کر ان سے معافی مانگتا ہوں اور کہتا ہوں کہ اللہ کے واسطے ہم سے ملنے نہ آئیں۔ اور اگر یہ بات آپ کو بری لگی ہے تو پھر بھی اللہ کے واسطے ہمیں معاف کر دیں۔‘وہ اس تیس سیکنڈ کی ویڈیو میں یہی جملے دہراتے نظر آئے۔تو آخر ایسا کیا ہوا کہ انھیں یہ التجا کرنی پڑے؟

خاندان کی خواتین کی خفیہ ویڈیوز بنانے کا الزام:مبشر صدیق کا کہنا ہے کہ کچھ خواتین یو ٹیوبر ان سے ملنے ان کے گھر گئیں جب وہ گھر پر نہیں تھے، تو وہ ان کے گھر کی خواتین کی ویڈیو خفیہ کیمروں سے بنا کر لے گئیں اور انہیں عام کر دیا۔بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا ’میں کسی کا نام نہیں لینا چاہتا۔ اگرچہ ان خاتون یو ٹیوبروں نے یہ ویڈیو میری درخواست پر اب ہٹا دی ہیں لیکن مستقبل میں ایسے حادثات سے بچنے کے لیے میں نے یہ معذرت کی تھی۔‘مبشر صدیق کا کہنا تھا کہ ان ویڈیوز میں ان کی والدہ، بہن اور بھانجی کی بلا اجازت عکس بندی کی گئی تھی۔

ان کا کہنا تھا ’میں نے ان کو ای میل لکھی تھی کیونکہ ان کا نمبر میرے پاس نہیں تھا۔ میں نے ان سے ویڈیو ڈیلیٹ کرنے کو کہا۔ اگرچہ انھوں نے ڈیلیٹ تو کر دی لیکن پریشانی اس وقت ہوتی ہے جب دوسرے لوگ یہ ویڈیو ڈاؤن لوڈ کر لیتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ یہ مبشر کی فیملی ہے، پھر انٹرنیٹ سے کوئی چیز ہٹانا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔‘ان کا مزید کہنا تھا کہ ’چونکہ یہ ویڈیو ابھی ایک ہی چینل پر تھی اور زیادہ ویو بھی نہیں تھے اس لیے وقت پر ہی ڈیلیٹ کروا دی۔‘’نجی زندگی پر بات کریں ویڈیو نہ بنائیں‘:مبشر صدیق کے بعد اب ان کے بھائی بھی یوٹیوب چینل پر اپنی زندگی کی کامیابیاں اور واقعات شیئر کرتے نظر آتے ہیں۔ حال ہی میں مبشر کے نئے گھر کی سیر کروائی گئی اور ان کی بیٹی کی پیدائش پر اس سے ملاقات بھی کروائی گئی۔جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ خود بھی اپنی ذاتی زندگی لوگوں سے شیئر کرتے ہیں تو اس میں اعتراض کس بات پر ہے؟مبشر صدیقی کا کہنا تھا ’آپ کبھی بھی ہماری کسی ویڈیو میں خاندان کے افراد کو نہیں دیکھیں گے۔ میری ذاتی زندگی کے بارے میں اگر کوئی مجھ سے بات کرتا ہے تو وہ مسئلہ نہیں ہے لیکن اگر میرے خاندان کو آن کیمرہ لائیں گے تو وہ مسئلہ ہے۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’ان سے ملنے مرد اور خواتین دونوں آتے ہیں تاہم خواتین آتی ہیں تو انہیں گھر میں لے جایا جاتا ہے لیکن خفیہ طور پر ویڈیو بنانا اخلاقی طور پر بھی مناسب نہیں۔ میری جگہ کوئی بھی ہو گا وہ اس کی اجازت نہیں گا۔‘ان کا کہنا تھا اگرچہ ان کے گھر کی خواتین سے گفتگو معمول کی ہی تھی لیکن انھیں بلا اجازت کیمرے پر لانا ٹھیک نہیں تھا۔مبشر صدیق کا کہنا تھا کہ ’ہمیں بالکل اندازہ نہیں تھا کہ مشھور ہونے کے بعد کی زندگی کیسی ہوتی ہے۔‘

تاہم ان کا کہنا تھا ’میں تسلیم کرتا ہوں کے میں پبلک پراپرٹی ہوں لیکن میرا خاندان پبلک پراپرٹی نہیں ہے۔‘
’سوشل میڈیا پر اپنی معلومات سوچ سمجھ کر ڈالیں‘:سوشل میڈیا کی ترقی اور پھیلاؤ سے جہاں سیلیبریٹی اور مداحوں میں فاصلے کم ہوئے ہیں وہیں یہی کم فاصلے مسائل کی وجہ بھی بن رہے ہیں جیسے کہ مبشر صدیق کے معاملے میں دیکھنے کو ملا۔انٹرٹینمنٹ کی خبروں سے وابستہ صحافی آمنہ حیدر کا کہنا ہے کہ ’سوشل میڈیا کی آمد کے بعد یہ سیلیبریٹی ٹی وی، فلم کے علاوہ ہر جگہ ہیں اور اب ان کے لیے مداحوں کو کنٹرول کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ ‘’کچھ لوگ اپنی ذاتی زندگی کو عام نہیں کرتے، لیکن کچھ سیبریٹی خاص کر یوٹیوبروں کے لیے یہ تو شہرت کے مضمرات میں سے ہے۔ ان میں اور اداکاروں میں صرف پلیٹ فارم کا فرق ہے۔ شاید دس بارہ سال کے تجربے کے بعد وہ سمجھ جائیں کہ کیسے ذاتی زندگی کو شہرت سے الگ رکھنا ہے لیکن ایک یوٹیوبر کی شہرت کی عمر شاید دس سال تک نہ ہو۔ ‘آمنہ حیدر کا کہنا تھا کہ شائقین کا بھی یہی عالم ہے ’لوگوں کو اپنی حدود کا نہیں پتا، کیا زبان استعمال کرنی ہے اور یہ احساس نہیں کہ ان کی بات کا کسی پر کیا اثر پڑے گا۔‘’میرا تو مشورہ ہے کہ سوشل میڈیا پر اپنی معلومات سوچ سمجھ کر ڈالیں، اگرچہ سائبر کرائم قانون ہیں، انھیں تحفظ بھی ملنا چاہیے لیکن اگر کوئی گھر کا پتا اور ساری معلومات آن لائن کر دیں گے تو اس کے اثرات تو ہوں گے۔‘

ان کا کہنا تھا ’پوری دنیا میں مداحوں کو کنٹرول نہیں کیا جا سکتا البتہ آپ خود کو کنٹرول کر سکتے ہیں۔‘
سوشل میڈیا رد عمل:مبشر کی اس مختصر ویڈیو پر جس میں انھوں نے لوگوں سے ملنے نہ آنے کی درخواست کی، بیشتر لوگ ان کی تائید کرتے نظر آئے اور ان کا کہنا تھا کہ کسی کی بھی نجی زندگی کا احترام کیا جانا چاہیے۔ایک صارف محمد فاضلی عزیز کا کہنا تھا ’ان کی مشکلات میں سمجھ سکتا ہو کیونکہ میرا تعلق بھی ایک پسماندہ گاؤں سے جہاں پر طرح طرح کے لوگ رہتے ہے اور باتیں بناتے ہیں۔‘فہد شنواری کا کہنا تھا ’بالکل صحیح. وہ صرف ’وہ ایک یو ٹیوبر ہیں اور آپ کو ان کے مواد کو دیکھنا اور اس سے لطف اندوز ہونا چاہیے۔ ان کے خاندان کو پریشان کرنا برا ہے جیسے ان کے دروازے پر دستک دے کر بن بلائے مہمان بن جانا۔‘کچھ لوگوں کو اعتراض تھا کہ مبشر کی جانب سے اپنے مداحوں کو دعوت دینا مسئلہ کی وجہ بنا۔ ایک صارف عمران آفریدی کا اعتراض تھا کہ ’آپ کو پہلے ہی ہر کسی کو اپنے گاؤں آنے کے لیے نہیں کہنا چاہیے تھا، اور یہ کہ آپ گیسٹ روم ٹائپ سیٹ اپ بنا رہے تھے۔ اس کے علاوہ آپ ، آپ کے بھائی زین اور مدثر ہر ذاتی تفصیلات، بچے اور گھر کے کونے وغیرہ پوری دنیا کو دکھاتے ہیں۔‘تاہم ایک صارف نے مشورہ دیا کہ ’آپ کو ہر مہینے ملاقات کا اہتمام کرنا چاہیے۔ میں آپ کے درد کو محسوس کرسکتا ہوں لیکن آپ کے مداح ہیں انھیں سنبھالیں۔ یہ آپ کی زندگی کا حصہ ہیں۔ جب آپ عوامی چہرہ ہوں تو شہرت کے مشکلات بھی آتی ہیں ان سے نمٹنے کے لیے کوئی راستہ تلاش کرنے کی کوشش کریں۔ ہر دوسرے مہینے معافی مانگتے ہوئے اپنی تو ہین نہ کریں۔‘(بہ شکریہ بی بی سی اردو)

پرائمری کو چھوڑ کر یوپی میں 16 اگست سے کھلیں گے سبھی اسکول کالج ، ہفتہ واری کرفیو بھی ختم کرنے کا اعلان

لکھنؤ(اردو اخبار دنیا): کورونا وائرس وبا کے بہتر ہوتے حالات کے درمیان یوپی کے اسکول اور کالج پھر سے کھلنے ہونے جارہے ہیں۔ یوپی کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کی ہدایت کے مطابق پرائمری کو چھوڑ کر سبھی تعلیمی ادارے یوم آزادی 15 اگست سے کھلیں گے ، حالانکہ پڑھائی 16 اگست سے شروع ہوگی۔ بتادیں کہ سیکنڈری اسکول دو شفٹوں میں صبح 8 سے 12 بجے اور پھر دوپہر ساڑھے بارہ بجے سے شام 4:30 بجے تک کھلیں گے۔ کل تعداد کا نصف پہلی شفٹ میں اور نصف دوسری شفٹ میں کلاس میں موجود ہوں گے۔ اس کے ساتھ ہی اب چھٹی تک کی جماعت میں داخل شروع کرنے کی تیاری ہے۔

وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے بدھ کو ایک اعلی سطحی میٹنگ میں اسکول و کالجوں میں نئے سیشن کے آغاز کی تیاریوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ بچوں اور سرپرست صحت کا خاص خیال رکھتے ہوئے پرائمری سے اوپر کے کالجوں میں آف لائن درس وتدریس کا سلسلہ شروع ہونا چاہئے۔ ریاستی سطح کی طبی ماہرین کی مشاورتی کمیٹی نے گذشتہ دنوں اسکولوں کو کھولے جانے کے ضمن میں اپنی شفارشات دی تھیں۔

کمیٹی کی شفارشات کے مطابق اسکولوں میں 50 فیصدی طلبا کی موجودگی کے ساتھ کلاسز کا آغاز کیا جائے گا۔ ہر جگہ کلاسز دو شفٹوں میں منعقد کی جائیں گی اور کووڈ پروٹوکول پر سخت سے عمل کیا جائےگا۔ وزیر اعلی نے کہا کہ بیسک ایجوکیشن کونسل کے اسکول میں 6 تا 8 جماعت میں نئے داخلوں کی کار وائی کا آغاز حالات کا اندازہ کرتے ہوئے کیا جانا چاہئے۔ ان اسکولوں میں بھی درس و تدریس کا آغاز یکم ستمبر سے کیا جائے گا۔

کورونا انفکشن کے کم ہوتے اثر کے ساتھ ہی اترپردیش حکومت نے کورونا کرفیو میں مزید راحت دیتےہ وئے اعلان کیا کہ اب اتوار کو چھوڑ کر دیگر دنوں میں صبح 6تا رات10بجے تک بازار کھل سکیں گے اور اتوار کو مکمل بندی رہے گی۔ ریاست کے اڈیشنل چیف سکریٹری داخلہ اونیش کمار اوستھی نے بدھ کو سبھی اضلاع اور ڈویژن سربراہوں کو جاری ہدایت نامہ میں کہا کہ 14اگست سےپیر تا ہفتہ تک ماسک، سماجی فاصلہ اور سینیٹائز کی شرائط کے ساتھ صبح 6تا رات 10بجے تک سبھی سرگرمیاں معمول سے چلائی جائیں گی۔

اب تک کورونا کرفیو کے تحت پورے ہفتے میں دو دن سنیچر اور اتوار کو مکمل بندی رہتی تھی۔ لیکن ریاست میں کم ہوتے کورونا کے مریضوں کے درمیان حکومت نے کورونا کرفیو میں مزید راحت دینے کا اعلان کیا ہے۔

ممبئی کی لوکل ٹرینوں میں سفر کے لیے پاس دینے کا عمل شروع

ممبئی(اردو اخبار دنیا) ، 11 اگست۔ ممبئی کی لائف لائن کہی جانے والی لوکل ٹرین میں عوام کو سفر کرنے کیلئے آج سے پاس دینے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ جن لوگوں نے ویکسین کی دو نوں ڈوز لی ہیں ان کی دستاویزات کی ممبئی کے 53 اسٹیشنوں اور ایم ایم آر کے 109 اسٹیشنوں پر جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔ دستاویزات کی جانچ پڑتال کے بعد ،کیو آر کوڈ کے ساتھ ایک ماہ کا پاس دیا جائے گا۔ یوم آزادی یعنی 15 اگست سے لوکل ٹرینوں میں سفر کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے نے 15 اگست سے عام لوگوں کے لیے لوکل ٹرین سفر مشروط طور پر شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ممبئی میونسپل کارپوریشن نے ایم ایم آر کے 109 اسٹیشنوں بشمول میٹروپولیس کے 53 اسٹیشنوں پر صبح 7 بجے سے رات 11 بجے تک کورونا ویکسین کی دونوں ڈوز لینے کے بعد 14 دن کا وقفہ مکمل کرنے والوں کو آف لائن طریقہ سے پاس فراہم کرنے کی سہولت فراہم کی ہے۔ ہر اسٹیشن پر ہیلپ اینڈ چیک سنٹر قائم کیے گئے ہیں۔ جہاں درخواست گزاروں کے دستاویزات کی جانچ پڑتال کے بعد انہیں اہل ہونے پر مہر لگے گی اور اس کے بعد انہیں ریلوے ونڈو پر پاس ملے گا۔ فی الحال ٹکٹ کی سہولت فراہم نہیں کی گئی ہے۔ یہ پاس 15 اگست سے موثر سمجھا جائے گا۔ لوگوں کوپاس کی سہولت قریبی اسٹیشن پر دستیاب ہے۔ اس لیے بھیڑ نہ کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ سرکاری ملازمین ، ہیلتھ ورکرس اور ضروری خدمات سے وابستہ لوگ پہلے کی طرح سفر کر سکیں گے۔ یہ ضابطہ ان پر لاگو نہیں ہوگا۔ درخواست گزار کو کورونا ویکسین کی دونوں ڈوز کا سرٹیفکیٹ دینا ہوگا (دوسری ڈوز کے 14 دن بعد) ، اس کے ساتھ اپنا شناختی کارڈ ، اس طرح کے دو دستاویزات جمع کرنے ہوں گے۔ممبئی کے 53 لوکل اسٹیشنوں پر کل 358 ہیلپ اینڈ چیک سنٹر قائم کیے گئے ہیں۔ یہ سہولت مہاممبئی کے کل 109 لوکل اسٹیشنوں پر دستیاب ہے۔ یہاں دو شفٹوں میں میونسپل کارپوریشن کے ملازمین کو ہیلپ اور چیککے لیے تعینات کیا جائے گا۔ یہ مراکز صبح 7 بجے سے سہ پہر 3 بجے تک اور 3 بجے سے 11 بجے تک کھلے رہیں گے۔ اگر ویکسین کی دونوں خوراکیں لینے کی جعلی دستاویز ملی تو متعلقہ شخص کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ پولیس ایسے افراد کے خلاف مقدمہ درج کرے گی۔ اس کے علاوہ میونسپل کارپوریشن آن لائن سرٹیفکیٹس کے لیے ایک ایپ بنا رہی ہے۔ جس کے ذریعے لوگ آن لائن ذریعے ریلوے پاس حاصل کر سکیں گے۔ یہ ایپ بھی اگلے چند دنوں میں شروع کی جائے گی۔ جس کے بعد پاس حاصل کرنے کا یہ عمل آسان ہو جائے گا

مسلم لڑکیوں کا غیر مسلم لڑکوں سے شادی کرنا ایمانی غیرت کے خلاف: نائب امیر شریعت ‏



مسلم لڑکیوں کا غیر مسلم لڑکوں سے شادی کرنا ایمانی غیرت کے خلاف: نائب امیر شریعت 

پھلواری شریف(اردو اخبار دنیا) اس وقت ملک کے بعض علاقوں سے یہ دلدوز اور روح فرسا خبریں آرہی ہیں کہ معمولی مفاد کی خاطر مسلم لڑکیاں غیرمسلم لڑکوں کی ہوس رانی کا شکار بن رہی ہیں اور مذہب تبدیل کرکے شادیاں بھی کرتی ہیں، یہ صورت حال مسلم معاشرہ کی بربادی کے لئے زبردست خطرہ کی گھنٹی ہے، ان حالات میں اگر ملک کے باشعور مسلم طبقہ نے سنجیدگی سے اس کے تدارک پر غور نہ کیا تو مسلمانوں کے خاندانی نظام کے تانے بانے بکھر جائیں گے، ان کی عظمت وشرافت اور انسانیت کی جڑیں کھوکھلی ہو جائیں گی، ان خیالات کا اظہار امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ وجھارکھنڈ کے نائب امیر شریعت حضرت مولانا محمد شمشاد رحمانی قاسمی مد ظلہ نے اخباری نمائندوں سے بات چیت میں کیا، انہوں نے فرمایا کہ ملک کی انتہا پسند اور ہندو احیاء پرست تنظیمیں مسلمانوں کی کثیر آبادی والے علاقوں کو نشانہ بناتی ہیں، مسلمانوں کے مہذب خاندانوں کی تعلیم یافتہ لڑکیوں کو جال میں پھنساتی ہیں اور غریب گھرانے کی بچیوں کو لالچ دے کر غیر مسلم لڑکوں سے شادیاں کراتی ہیں، پھر ان کی عفت وعصمت کو تار تار کرواتی ہیں، اس قسم کے روح فرسا واقعات ملک کے مختلف خطوں میں پیش آچکے ہیں، جہاں لڑکیاں مذہب تبدیل کرکے غیرمسلم لڑکوں سے شادیاں رچا لیتی ہیں، حضرت نائب امیر شریعت نے فرمایا کہ بھلا بتلایئے کہ اسلام نے عورتوں کے سروں پر عزت واحترام کا تاج رکھا ہے، اس نے ماں کے قدموں تلے جنت، اچھی اور نیک بیوی کو آدھا ایمان اور بیٹی کی پیدائش کو رحمت قرار دیا۔

لیکن افسوس ہے آج اسی مذہب کے شیدائی بے حیائی وبے راہ روی پر گامزن ہیں، جس کا غلط فائدہ اٹھاکر عہد جدید کی تہذیب نے استحصال کرنا شروع کردیا اور ستم ظریفی کہئے کہ مسلم معاشرہ بھی اس کا شکار ہوتا جارہا ہے، آج کل تعلیم نسواں کے نام پر ایسی تعلیم دی جاتی ہے کہ ان میں مادیت پرستی کے سواکوئی فکری اور روحانی تبدیلی پیدا نہیں ہوتی ہے، جس کے نتیجہ میں معاشرہ آزاد جنسی، آوارگی اوربے راہ روی میں مبتلا ہو تا جارہا ہے، اس وقت حالات انتہائی نازک وناگفتہ بہ ہیں اور یہ ہماری ایمانی غیرت کے بھی خلاف ہے، اس لئے ہمارے علماء وفضلاء مدارس اور ائمہ مساجد کی دینی واخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ اس پہلو پر فوری توجہ دیں اور مسجد کے منبر ومحراب سے اس بے راہ روی کے خلاف خطاب کریں، خواتین کے اصلاحی اجتماعات منعقد کریں اس میں اسلام نے عورتوں کو عزت واحترام کا جو مقام عطا کیا ہے اس سے انہیں روشناس کرائیں، غیر مخلوط نظام تعلیم کے قیام پر توجہ دلائیں، ٹیلی ویزن اور موبائل کا کثرت سے استعمال کرنے پر تنبیہ کریں، انٹرنیٹ اور یوٹیوب پر فحاشی کے جو مناظر دکھلائے جاتے ہیں ان کے دیکھنے سے منع کریں، ساتھ ہی مسلم گھرانوں میں بھی والدین لڑکیوں کے سامنے خواتین اسلام کے کردار وعمل کے اسباق سنائیں، ان کے اندر وہی ذوق عمل پیدا کیا جائے جو ماضی میں ہماری ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کا طرز عمل رہا ہے، جب تک گھر میں لڑکیوں کی صحیح اسلامی، دینی واخلاقی تربیت اور ذہن سازی نہیں ہوگی، خارجی ماحول وفضائ میں خوشگواری نہیں آئے گی، اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اس فتنہ وبگاڑ سے محفوظ رکھے اور سنت وشریعت کے مطابق زندگی گذارنے کی توفیق بخشے۔آمین


بریکینگ نیوز:مہاراشٹرمیں دوکانوں اور ہوٹلوں کے اوقات میں تبدیلی‘شادی تقاریب کیلئے بھی رعایت

ممبئی:11اگست (اردو اخبار دنیا) ریاستی کابینہ کااہم اجلاس ہواجس میں ریاست میں جاری لاک ڈاون کی پابندیوں میں آج مزید نرمی دینے کافیصلہ کیاگیا ہے۔ا س کے مطابق اب ریاست میں ہوٹلس اور دوکانوں کے اوقات میں ا ضافہ کردیاگیا ہے۔۱۵ اگست سے یہ نرمی دی جارہی ہے ۔

ّآج شام چھ بجے ممبئی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ریاست کے وزیر صحت عامہ راجیش ٹوپے نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہاکہ مہاراشٹرمیں 15اگست سے شادی بیاہ کی تقاریب یعنی منگل کاریالیہ شادی خانوں میں اب 50کے بجائے 100افراد کوشرکت کی اجازت رہے گی ۔اگر کوئی شادی کی تقریب کھلے میدان میں رکھی جاتی ہے تو وہاںپر200مہمان شرکت کرسکتے ہیں۔

اس کے علاوہ ریاست میں اب ہوٹلس اوردوکانیں رات آٹھ بجے کے بجائے شب دس بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت رہے گی ۔مگر ہوٹل مالکان و ملازمین کو کورونا کے دو ٹیکہ لینا لازمی رہے گا۔جبکہ منادر ‘مساجد اوردیگر تمام مذہبی مقامات‘ سینما ہال ‘ناٹیہ گرہ فی الحال بند ہی رہیں گے ۔

اسکولوں کے دوبار ہ کھولنے کے بارے میں راجیش ٹوپے نے کہاکہ ٹاسک فورس اسکولوںکے دوبارہ کھولنے کے حق میں نہیں ہے اسلئے اس پر آج رات وزیراعلیٰ کے ہمراہ ٹاسک فورس کا اجلاس ہوگا جس کے بعد کوئی اہم فیصلہ کیاجائے گا۔

انگلینڈاور ہندوستانی کرکٹ ٹیم پرکیوں لگایا گیا جرمانہ

انگلینڈاور ہندوستانی کرکٹ ٹیم پرکیوں لگایا گیا جرمانہ

انگلینڈ اور ہندوستانی کرکٹ ٹیم پرکیوں لگایا گیا جرمانہ
انگلینڈ اور ہندوستانی کرکٹ ٹیم پرکیوں لگایا گیا جرمانہ

(اردو اخبار دنیا)

دبئی:انگلینڈ اور ہندوستانی کرکٹ ٹیم پر بدھ کے روز ناٹنگھم میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میں سست اوور ریٹ کے لئے 40 فیصد میچ فیس کاجرمانہ لگایا گیا ہے۔

اس کے علاوہ دونوں ٹیموں کے آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ (ڈبلیوٹی سی) کے دو دو پوائنٹس کاٹے گئے ہیں مقررہ وقت کوذہن میں رکھتے ہوئے یہ پایا گیا کہ دونوں ٹیموں نے ہدف سے دواوور کم ڈالے، جس کے پیش نظرمیچ ریفری کے آئی سی سی ایلیٹ پینل کےکرس براڈ نے یہ جرمانہ لگایا۔

آئی سی سی نے ایک بیان میں کہا کہ کھلاڑیوں اور ان کے انفرادی سپورٹ اسٹاف کے لئے آئی سی سی کے ضابطہ اخلاق کے آرٹیکل 2.22، جوسست اوور ریٹ سے متعلق ہے، کے مطابق کھلاڑیوں کو ان کی میچ فیس کا 20 فیصد جرمانہ کیا جاتا ہے، جب ان کی ٹیم مقررہ وقت میں پورے اوور ڈالنے میں ناکام رہتی ہے۔

اس کے علاوہ آئی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کھیلنے کی شرائط کے آرٹیکل 16.11.2 کے مطابق ایک ٹیم کاہرایک اوور ہر شارٹ کے لئے ایک پوائنٹ کاٹا جاتا ہے۔

اردودنیانیوز۷۲

عید الفطر کا پیغام

عید الفطر کا پیغام  مضمون نگار : محمد ضیاء العظیم، معلم چک غلام الدین ہائی اسکول، ویشالی، بہار، موبائل نمبر :7909098319 اللہ رب ...