Powered By Blogger

جمعرات, جون 09, 2022

' پی ایم مودی مسلم ممالک کی بات سنتے ہیں ، مگر ہندوستان کے مسلمانوں کی نہیں ' ، اویسی نے توہین رسالت معاملے پر حکومت کو گھیرا

' پی ایم مودی مسلم ممالک کی بات سنتے ہیں ، مگر ہندوستان کے مسلمانوں کی نہیں ' ، اویسی نے توہین رسالت معاملے پر حکومت کو گھیرانئی دہلی: اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسدالدین اویسی نے ایک بار پھر پی ایم نریندر مودی کو پیغمبر اسلامﷺ کے بارے میں متنازعہ ریمارکس کے معاملے پر نشانہ بنایا ہے۔ اویسی نے کہا کہ نوپور شرما اور نوین جندل کے خلاف کارروائی اس وقت کی گئی جب مسلم ممالک نے اعتراض کیا، لیکن جب ملک کے مسلمان آواز اٹھا رہے تھے تو کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ مہاراشٹر کے لاتور میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا 'ہم ناراض ہیں کہ وزیر اعظم نے ان مسلمانوں پر توجہ نہیں دی جو اس ملک کے باشندے ہیں۔ لیکن جب باہر کے ممالک نے سوشل میڈیا پر اپنے غصے کا اظہار کیا تو فوری ایکشن لیا گیا۔ انہوں نے نوپور شرما اور نوین جندل کا نام لیے بغیر کہا "پیغمبر اسلامﷺ کے بارے میں متنازعہ بیان دینے پر دونوں کو گرفتار کیا جانا چاہیے۔ اگر حکومت یہ سمجھتی ہے کہ ان سے غلطی ہوئی ہے، تو ان لوگوں کو گرفتار کریں، تب انصاف ہو گا۔ اگر میں وزیر اعظم ہوں۔ اگر میں مودی کے خلاف کوئی غیر پارلیمانی زبان استعمال کرتا ہوں تو بی جے پی والے اویسی کی گرفتاری کا مسئلہ بنالیں گے، لیکن ہم ان کی گرفتاری کا 10 دن سے مطالبہ کر رہے ہیں، مگر ہماری بات نہیں سن رہے ۔ واضح رہے کہ نوپور شرما اور نوین کمار جندل کے ناموس رسالت کے خلاف متنازعہ ریمارکس نے بی جے پی کو عالمی سطح پر رسوا کردیا ہے اور بھارت کے لیے سفارتی مشکلات بھی پیدا ہوگئی ہیں۔ کویت اپنے اسٹورز سے ہندوستانی مصنوعات ہٹا رہا ہے۔ اس گستاخانہ بیان پر کویت، ایران، افغانستان، پاکستان، عمان، انڈونیشیا سمیت 15 سے زائد ممالک نے احتجاج کیا ہے۔ دوسری جانب ممبرا(مہاراشٹر) پولیس نے نوپور شرما کو طلب کر کے 22 جون کو پیش ہونے کو کہا ہے۔

کیسے رکے گا یہ نفرت کا طوفان - ڈاکٹر مظفر حسین غزالی

کیسے رکے گا یہ نفرت کا طوفان - ڈاکٹر مظفر حسین غزالی

دنیا میں بھارت کی پہچان تکثیری ملک کی ہے ۔ یہاں مختلف زبانیں بولنے، رسم و رواج پر عمل کرنے اور مذاہب کو ماننے والے افراد برسوں سے ساتھ رہتے آئے ہیں ۔ مسلم بادشاہوں کے دربار میں ہندو اعلیٰ و عزت دار عہدوں پر فائز تھے اور ہندو راجاؤں کے یہاں مسلمان ۔ اس وقت ہندو مسلمانوں کے درمیان نہ کوئی امتیاز تھا نہ نفرت ۔ ہندو بغیر کسی رکاوٹ کے اپنی مذہبی رسومات ادا کرتے اور تہوار مناتے تھے ۔ دونوں ایک دوسرے کے تہواروں میں شریک ہوتے اور مذاہب کا احترام کرتے تھے ۔ ریاستوں پر انگریزوں کے قبضہ اور مغل سلطنت کے خاتمے نے دانشوروں کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ۔ ایک انگریزوں کی غلامی سے ملک کو بچانا چاہتا تھا ۔ اس میں مسلمانوں کی اکثریت تھی ۔ 1857 میں انہیں ہندو مسلمانوں نے بہادر شاہ ظفر کی لیڈر شپ میں انگریزوں کو ملک بدر کرنے کی کوشش کی ۔ دوسرا (ہندو دانشور) طبقہ وہ تھا جس نے انگریزوں کے ساتھ مل کر ہندو احیاء پرستی کی تحریک شروع کی ۔ ان کی تعداد بہت قلیل تھی وہ ہندو مسلم اتحاد اور رواداری کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے ۔ اس اتحاد کا مظاہرہ اس وقت ہوا جب 1905 میں انگریزوں نے بنگال کو تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا ۔ ہندو مسلمانوں کے متحدہ احتجاج کی وجہ سے انہیں اپنا فیصلہ واپس لینا پڑا ۔ اس تحریک نے ان کی آنکھیں کھول دیں، اس کے بعد ہی پھوٹ ڈالو اور راج کرو کی پالیسی اپنائی گئی ۔ جس کا مقصد ہندو مسلم اتحاد کو ختم کرنا تھا ۔ انگریزوں نے ہندو مسلمانوں کے درمیان ریل کی پٹریوں کی طرح فاصلہ بنا کر رکھا ۔ جو ساتھ تو رہتی ہیں لیکن ملتی نہیں ۔ وہ بانٹو اور راج کرو کی پالیسی کی وجہ سے ہی بھارت کے عوام کو غلام بنا سکے ۔ اور برسوں تک ان پر اپنے اقتدار کی گاڑی دوڑاتے رہے ۔

بھارت کے لوگوں نے اس پالیسی کو سمجھا اور ہندو مسلمان دونوں نے مل کر آزادی کی لڑائی کندھے سے کندھا ملا کر لڑی ۔ مگر ہندو احیاء پرستی کے حامی آزادی کی تحریک کا حصہ نہیں بنے بلکہ انہوں نے انگریزوں کے مخبر کے طور پر کام کیا ۔ وہ آزادی کی جدوجہد میں شامل افراد کے راستہ کی رکاوٹ بنے اور انتظامیہ کو ان کی سرگرمیوں سے واقف کراتے تھے ۔ انگریز حکمرانوں کے یہ دوست نہیں چاہتے تھے کہ وہ ملک چھوڑ کر جائیں ۔ مگر ملک کی اکثریت غلامی کے خلاف متحد تھی اس لئے انگریز جیسے طاقتور حاکم کو بھارت چھوڑ کر جانا پڑا ۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ آزادی کے بعد ہمارے حکمرانوں نے ہندو مسلم کے درمیان تفریق اور نفرت کی موٹی لکیر کو مٹنے نہیں دیا ۔ انہوں نے سماج کو بانٹنے اور نفرت پھیلانے والوں کو بھی نہیں روکا بلکہ ان کی سرگرمیوں کو جاری رہنے دیا ۔ یہاں تک کہ 1860 کے پولس ایکٹ کو بھی نہیں بدلا گیا ۔ جبکہ برطانوی پولس کے مظالم کو وہ خود بھگت چکے تھے ۔ یہ پولس انگریز حکومت کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو دبانے کا کام کرتی تھی ۔ اب یہ پولس لا اینڈ آرڈر کو درست رکھنے کے بجائے حکمران جماعت کے لئے فنڈ جٹانے، اس کے مخالفین کو ٹھکانے لگانے اور اس کی سیاست سادھنے کے لئے کام کرتی ہے ۔ سابق ڈائریکٹر جنرل آف پولس وبھوتی نرائن رائے کا کہنا ہے کہ آزاد بھارت میں پولس اصلاحات کی ضرورت ہے ۔ مگر حکمرانوں نے اچھے ہتھیار، تیز رفتار گاڑیاں، وردی اور اچھی تنخواہ دینے کو ہی پولس کی اصلاح سمجھ لیا ہے ۔ حالانکہ پولس کا مزاج اور کام کرنے کے طریقہ کو بدلنا چاہئے ۔ حکمراں پولس کو اپنے مفادات سادھنے کے لئے استعمال کرتے ہیں ۔ اس کی وجہ سے پولس پر بار بار داغ لگتا ہے اور سماج میں اس کی منفی شبیہ بنتی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ جو پولس اہلکار برسراقتدار جماعت کے مفادات اور مزاج کے مطابق کام کرتا ہے اسے سپاہی سے انسپیکٹر بننے میں زیادہ وقت نہیں لگتا ۔ یہی وجہ ہے کہ اقتدار بدلنے کے ساتھ پولس کی وفاداری بدل جاتی ہے ۔ پولس کی زیادتی، فسادیوں کو روکنے میں ناکامی اور حراست میں موت کو اسی پس منظر میں دیکھنا چاہئے ۔ جو کام سیاست داں سیدھے طور پر نہیں کر پاتے وہ پولس کے ذریعہ کرایا جاتا ہے ۔ نفرت اور طبقاتی تفریق کو بنائے رکھنے میں بھی پولس معاون ثابت ہوتی ہے ۔ سیاست داں جانتے ہیں کہ جب تک سماج ٹکڑوں میں نہیں بٹے گا تب تک ان کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا ۔ وہ اپنے مفاد کے لئے کبھی ہندو مسلمان، کبھی اگڑی پچھڑی، کبھی برہمن راجپوت اور یادو کے نام پر سماج کو بانٹ کر اقتدار حاصل کرنا اپنی پالیسی بنا چکے ہیں ۔ اس لئے جو جتنا سماج کو بانٹ سکتا ہے وہ اتنی ہی جلدی اقتدار کی بلندی پر پہنچ جاتا ہے ۔ ملک میں مذہب، ذات، طبقات اور امتیازات پہلے بھی موجود تھے مگر سماج اتنی بری طرح بٹا ہوا نہیں تھا ۔ لوگوں کی آنکھوں میں شرم اور بزرگوں کی عزت تھی ۔ حالانکہ آزادی کے بعد شروع ہوا فسادات کا سلسلہ کبھی رکا نہیں ۔ لیکن پھر بھی غیر مسلم مسجد یا درگاہ کے سامنے سے ہاتھ جوڑ کر گزرتے تھے ۔ ہندو خواتین شام کو اپنے نونہالوں پر نمازیوں سے دم کرانے کے لئے مسجد کے باہر کھڑی دکھائی دیتی تھیں ۔ منڈل کے مقابلے کمنڈل پھر رام جنم بھومی بابری مسجد تنازعہ اور رتھ یاترا نے سماج کو بدل دیا، آنکھوں کی شرم اور بزرگوں کی عزت کو خاک میں ملا دیا ۔ سماجی نفرت اور تفریق پچھلے چند سالوں میں اپنے عروج پر آگئی ۔ جس میں سیاست دانوں کی شمولیت صاف دکھائی دیتی ہے ۔ ابھی تک یہ سمجھا جاتا رہا ہے کہ الیکشن جیتنے اور لوگوں کا دھیان بنیادی مسائل سے ہٹانے کے لئے ہجومی تشدد، گو کشی، مسلمان، قبرستان، لوجہاد، جناح، پاکستان، سی اے اے، این آر سی، مسلمانوں کا اقتصادی بائیکاٹ، آذان، حجاب، مندر مسجد کا ذکر کیا جاتا ہے ۔ کسی نہ کسی بہانے سماج میں تفریق پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ بیس فیصد مسلمانوں سے اسی فیصد غیر مسلموں کو ڈرایا جاتا ہے ۔ جبکہ تمام اعلیٰ عہدوں پر غیر مسلم فائز ہیں ۔ ملک کی معیشت ہندوؤں کے ہاتھوں میں ہے ۔ فوج کے تمام اعلیٰ افسران غیر مسلم ہیں ۔ وزیراعظم، وزیر داخلہ، وزیر دفاع، چیف جسٹس اور صدر جمہوریہ تک غیر مسلم ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب قواعد صرف ووٹ حاصل کرنے کے لئے ہے یا کسی منصوبہ کا حصہ ہے ۔ ایک مسئلہ سے دھیان نہیں ہٹتا کہ دوسرا شروع ہو جاتا ہے ۔ اب بات مسلم مخالف نعروں اور قتل عام کے حلف سے آگے بڑھ کر مساجد کے نیچے مندر کے آثار تلاش کرنے اور اہانت رسول صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچ چکی ہے ۔ اس سے لگتا ہے کہ نفرت کی آندھی چلانے والوں کی نیت میں کچھ کھوٹ ہے ۔ حکومت کی خاموشی نے ان کا حوصلہ اور بڑھا دیا ہے ۔ شاید اس کے ذریعہ وہ اپنی کارکردگی پر جواب دہی سے بچنا چاہتی ہے ۔

یہ صورتحال اس وقت اور زیادہ سنگین ہو جاتی ہے جب نفرت اقتدار حاصل کرنے کا ذریعہ بن جائے ۔ گزشتہ کئی سال اس کے گواہ ہیں کہ جس نے فرقہ وارانہ نفرت پھیلانے اور سماج کو توڑنے کا کام کیا اسے سزا کے بجائے ترقی ملی، وزارت ملی ۔ اس کے بعد تو جیسے یہ فیشن بن گیا کہ اگر بی جے پی کا ٹکٹ چاہئے یا پارٹی میں کوئی مقام تو کسی کمزور مسلمان کو پیٹو یا گئو تسکری، چوری کا الزام لگا کر قتل کر دو ۔ اس کا ویڈیو بنا کر وائرل کرو اور مشہور ہو جاؤ ۔ مسلمانوں کو مارنے کاٹنے کے نعرے لگاؤ اور میڈیا میں چھا جاؤ ۔ برسراقتدار جماعت کے افراد، وی ایچ پی، بجرنگ دل، اے بی وی پی وغیرہ مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنے والوں کی حمایت میں آ جاتے ہیں ۔ دوسری طرف ملک کے کچھ حق پرست مظلوموں کو انصاف دلانے کی مانگ کرتے ہیں ۔ انہیں ٹرول کیا جاتا ہے اور میڈیا میں گرماگرم بحث کرائی جاتی ہے تاکہ لوگوں کی توجہ بھک مری، بے روزگاری، صحت، تعلیم، مہنگائی اور کسانوں کے مسائل سے ہٹ جائے ۔ برسراقتدار جماعت کو ان نفرت آمیز و سماج کو توڑنے والے نعروں، واقعات کو الیکشن میں بھنانے کا موقع مل جاتا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ ملک و آئین کو ایک رنگ میں رنگنے سے بچانے اور نفرت کے طوفان کو روکنے کے لئے کیا کیا جائے ۔ مولانا توقیر رضا خان کے مطابق جمہوری نظام میں افرادی قوت کے ذریعہ حکومت کو صحیح فیصلہ لینے کے لئے مجبور کیا جا سکتا ہے ۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ ملک میں ایسے لوگ اکثریت میں ہیں جو بی جے پی سے اتفاق نہیں رکھتے ۔ انہیں اکٹھا ہو کر اس کا مقابلہ کرنا چاہئے ۔ اسلامک اسکالرز کے مطابق ملک کو اسلامی تعلیمات کے ذریعہ ہی موجودہ مسائل سے نجات مل سکتی ہے ۔ ان کا ماننا ہے کہ یہ وقت ملک کے لوگوں کو اسلام کی تعلیمات اور نبی آخر الزماں کی سیرت سے واقف کرانے کا ہے ۔ اگر عربی، فارسی نام والے بادشاہوں نے اسلام کا تعارف کرایا ہوتا، انہوں نے مندروں کو توڑا ہوتا یا یہاں کے مذاہب کی حفاظت نہ کی ہوتی تو بھارت میں ایک بھی ہندو نہیں ہوتا ۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک میں آریہ سماجی، لنگایت، برہما کماری، سکھ اور کئی ایسے طبقات ہیں جو بتوں کی پوجا نہیں کرتے ۔ وہ کسی نہ کسی شکل میں توحید کے قریب ہیں ۔ ان کی کانفرنس ہونی چاہئے ۔ کچھ قانون کے ماہرین اپنے دفاع کے حق کا استعمال کرنے اور کاونٹر مقدمات کرنے کی صلاح دیتے ہیں ۔ سول سوسائٹی کے ذمہ داران کا کہنا ہے کہ آئین میں یقین رکھنے والے امن پسند حضرات کو آگے آکر نفرت کے طوفان کو روکنا چاہئے ۔ انہیں میں سے کئی صبر کی تلقین کرتے ہوئے بھی دکھائی دیتے ہیں ۔ ان کے مطابق ملک کے مزاج میں تشدد اور نفرت نہیں ہے ۔ بھارت کے لوگ زیادہ دیر تک شدت پسندی کے ساتھ نہیں رہ سکتے ۔ انہیں کچھ ہی دنوں میں اپنی غلطی کا احساس ہو جائے گا ۔ یہ صحیح ہے کہ بھارت کے لوگ عدم تشدد کے حامی ہیں لیکن جذجات کی رو میں بہہ کر بڑے بڑے فسادات کا حصہ بن چکے ہیں ۔ اس لئے ضروری ہے کہ نفرت کے طوفان کو روکنے کی سنجیدہ کوشش کی جائے ۔ طریقہ جو بھی ہو ملک کو اس بیماری سے نجات ملنا چاہئے ۔ کیوں کہ نفرت اور سماجی امتیاز کی بنیاد پر کوئی بھی ملک ترقی نہیں کر سکتا ۔ بھارت کے پاس وہ سب کچھ ہے جو اسے دنیا کا لیڈر بنا سکتا ہے ۔ ضرورت ہے تو بس یہاں کے حکمراں کے قوت ارادی کی ۔

بدھ, جون 08, 2022

بالاگھاٹ کے بھوتنا کدان گاؤں میں کنویں سے زہریلی گیس کا اخراج ، پانچ لوگوں کی موت

بالاگھاٹ کے بھوتنا کدان گاؤں میں کنویں سے زہریلی گیس کا اخراج ، پانچ لوگوں کی موت

مدھیہ پردیش کے بالاگھاٹ ضلع کے بھوتنا کدان گاؤں میں بدھ کو زہریلی گیس کے اخراج سے پانچ افراد کی موت ہو گئی۔ اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچی اور معاملے کی جانچ شروع کر دی ہے۔ ابھی تک مرنے والوں کے نام سامنے نہیں آئے ہیں۔ حادثے کے بعد گاؤں میں غم کا ماحول ہے۔ پولیس معاملے کی جانچ میں مصروف ہے۔

بدھ کی دوپہر گاؤں بھوتنا کدان میں کچھ لوگ کنویں کی صفائی کے لیے اس میں اترے تھے تبھی کنویں میں زہریلی گیس کا اخراج ہوا جس سے کنویں میں اترنے والے پانچ افراد بے ہوش ہوگئے۔ موقع پر موجود گاؤں والوں نے اسے کنویں سے نکال کر کمیونٹی ہیلتھ سینٹر لے گئے جہاں ڈاکٹروں نے جانچ کے بعد انہیں مردہ قرار دیا۔ اطلاع ملنے کے بعد پولیس اور انتظامی اہلکار موقع پر پہنچ گئے اور معاملے کی معلومات جمع کر رہے ہیں۔

اب روپے کریڈٹ کارڈ یو پی آئی کے ساتھ لنک کیا جائے گا

ممبئی، 08 جون (یو این آئی) یونیفائیڈ پیمنٹ انٹرفیس (یو پی آئی) کے ذریعے ادائیگیوں کو مزید آسان بنانے کے لیے اب روپے کریڈٹ کارڈ کو بھی یو پی آئی کے ساتھ لنک کیا جا سکتا ہے۔




اب روپے کریڈٹ کارڈ یو پی آئی کے ساتھ لنک کیا جائے گاریزرو بینک آف انڈیا (اردو دنیا نیوز۷۲) کی طرف سے بدھ کو ترقیاتی

اور ریگولیٹری پالیسیوں پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ رسائی اور استعمال کو مزید مضبوط بنانے کے لیے یو پی آئی کے ساتھ کریڈٹ کارڈز کو لنک کرنے کی اجازت دینے کی تجویز ہے۔

ابتدائی طور پرروپے کریڈٹ کارڈ کو یو پی آئی سے منسلک کیا جائے گا۔


ممبئی، 08 جون (یو این آئی) یونیفائیڈ پیمنٹ انٹرفیس (یو پی آئی) کے ذریعے ادائیگیوں کو مزید آسان بنانے کے لیے اب روپے کریڈٹ کارڈ کو بھی یو پی آئی کے ساتھ لنک کیا جا سکتا ہے۔


ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کی طرف سے بدھ کو ترقیاتی

اور ریگولیٹری پالیسیوں پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ رسائی اور استعمال کو مزید مضبوط بنانے کے لیے یو پی آئی کے ساتھ کریڈٹ کارڈز کو لنک کرنے کی اجازت دینے کی تجویز ہے۔

پروفیسر اسلم آزاد کا انتقال ادبی اور سیاسی دنیا کا بڑا نقصان: مفتی محمد ثںاء الہدیٰ قاسمی

پروفیسر اسلم آزاد کا انتقال ادبی اور سیاسی دنیا کا بڑا نقصان: مفتی محمد ثںاء الہدیٰ قاسمی 
----------------------------------------------------------------------------
پٹنہ (پریس ریلیز 8جون )پروفیسر محمد اسلم آزاد نے آخر کار لمبی بیماری کے بعد دنیا کو الوداع کہہ دیا ، ابھی حال ہی میں وہ دہلی سے علاج کراکر لوٹے تھے، زندگی سے مایوس پروفیسر اسلم آزاد نے دہلی سے لوٹتے ہوئے کہا تھا اب جو ہوگا ، پٹنہ جا کر ہی ہوگا، پروفیسر اسلم آزاد کے انتقال سے ادبی اور سیاسی دنیا کا بڑا نقصان ہوا، اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور پس ماندگان کو صبر جمیل دے ان خیالات کا اظہار نائب ناظم امارت شرعیہ مفتی محمد ثناءالہدی قاسمی صدر اردو میڈیا فورم، و کارواں ادب ،نائب صدر اردو کارواں امارت شرعیہ نے کیا۔
پروفیسر اسلم آزاد بن محمد عباس 12 دسمبر 1948ء کو موجودہ ضلع سیتامڑھی کے گاؤں مولیٰ نگر ڈاک خانہ آواپور میں پیدا ہوئے، انہوں نے ایم اے تک کی تعلیم حاصل کی اور تحقیق کی دشوار گذار وادیوں کو عبور کرکے پی اچ ڈی کی ڈگری پائی ، تعلیم وتدریس ادب وشاعری اور سیاست سے انہیں خاص دلچسپی تھی ۔
انہوں نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز 1983ء میں لوک دل کے ریاستی نائب صدر کی حیثیت سے کیا 1989ء تک وہ اس عہدہ پر فائز رہے، 1991ء میں وہ سماج وادی جنتا پارٹی کے ریاستی جنرل سکریٹری رہے 1985 میں انہوں نے رونی سید پور حلقہ سے لوک دل کے امیدوار اور 1991 میں سیتامڑھی لوک سبھا حلقہ سے سماج وادی جنتا پارٹی کے ٹکٹ پر انتخاب میں حصہ لیا، 11 مئی 2006 سے وہ پوری مدت بہار ودھان پریشد کے ممبر رہے ۔
مفتی صاحب نے پروفیسر اسلم آزاد کے انتقال پر اپنے گہرے صدمے کا اظہار کیا، انہوں نے فرمایا کہ ان سے میرے ذاتی تعلقات تھے، اور انہوں نے میری بعض کتابوں پر لکھا بھی تھا۔

امارت پبلک اسکول ____ مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ

امارت پبلک اسکول ____
 مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ
 امارت شرعیہ نے اپنے قیام کے وقت سے ہی بنیادی دینی تعلیم کے لیے مکاتب قائم کیے، لیکن عصری تعلیمی اداروں کے قیام کی طرف اکابر کی توجہ تھوڑی تاخیر سے ہوئی، اس تاخیر کی وجہ یہ تھی کہ فطری طور پر مسلمان عصری تعلیم کی طرف راغب تھے، اور جگہ جگہ عصری تعلیم کے ادارے کام کر رہے تھے، جن سے مسلمان بچے بچیوں کی تعلیمی ضرورت پوری ہو رہی تھی۔
 امیر شریعت رابع حضرت مولانا منت اللہ رحمانی نور اللہ مرقدہ نے محسوس کیا کہ جن عصری تعلیمی ادارں میں ہمارے بچے جا رہے ہیں، وہاں نہ تو اسلامی ماحول ہے اور نہ ہی بنیادی دینی تعلیم کا نظم ، اس لیے حضرت نے عصری تعلیم کا پہلا اسکول قاضی نور الحسن میموریل اسکول کے نام سے کھولنے کی منظوری دی قاضی مجاہد الاسلام قاسمی ؒ اس کے پہلے سکریٹری ہوئے اور انہوں نے امیر شریعت کی حسب منشا اس میں رنگ بھرنے کا کام کیا ، یہ ادارہ ترقی کرتا رہا ، امیر شریعت سابع نے بچیوں کی بڑھتی تعداد اور مقامی ضرورت کا خیال رکھتے ہوئے اسے خالص لڑکیوں کا ادارہ بنا دیا، اس کی عمارت بہت مخدوش تھی اور خطرہ تھا کہ کوئی حادثہ نہ ہوجائے، اس لیے حضرت امیر شریعت سابع ؒ مفکر اسلام حضرت مولانا محمد ولی رحمانی ؒنے اس کی تعمیر نو کا فیصلہ لیا اور الحمد للہ امیر شریعت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی دامت برکاتہم کی توجہ سے اس کی عمارت بن کر تیار ہو گئی ہے اور جلد ہی وہاں تعلیمی سلسلہ شروع ہو جائے گا۔
 حضرت امیر شریعت رابع ؒ کے دور میں ہی مدرسہ معراج العلوم آسنسول قائم ہوا، جو بعد میں ترقی کرکے ام، ام یو ہائی اسکول ہو گیا، حضرت امیر شریعت سابع مفکر اسلام مولانا محمد ولی رحمانی ؒ نے ایک بار مجلس میں مجھ سے دریافت کیا کہ ایم ایم یو کا پورا نام کیا بنتا ہے، میں نے کہا مدرسہ معراج العلوم اردو ہائی اسکول، فرمایا کہ مدرسہ اور اسکول کا جوڑ ایک ساتھ تو سمجھ میں نہیں آتا، میں نے عرض کیا کہ ایم ایم یو ہائی اسکول کا فل فارم مولانا منت اللہ رحمانی اردو ہائی اسکول بھی ہو سکتا ہے، بہت خوش ہوئے اور حکم میں لکھا کہ مولانا ثناء الہدیٰ کی تجویزکے مطابق اب اس اسکول کاپورا نام مولانا منت اللہ رحمانی اردو ہائی اسکول ہر کاغذ پر درج کیا جائے، تب سے یہی نام رائج ہے، یہاں ہائی اسکول تک کی معیاری تعلیم ہوتی ہے، لڑکے اور لڑکیوں کے کلاس الگ الگ ہوا کرتے ہیں، یہ اسکول آسنسول کے اسکولوں میں تعلیمی اعتبار سے بہت ممتاز ہے، کم فیس ، اسلامی ماحول، دینی تربیت ، بنیادی دینی تعلیم اردو میڈیم اس ادارہ کی شناخت اور پہچان ہے۔
 اس سلسلے کو آگے بڑھانے کا خیال حضرت امیر شریعت سابعؒ کے ذہن میں اللہ نے ڈالا انہوں نے عصری تعلیم کے لیے پرائمری سطح کے اسکولوں کا خاکہ بنایا، منصوبہ سازی کی ، نام پر گفتگو شروع ہوئی تو اللہ نے میرے ذہن میں ایک نام ’’امارت پبلک اسکول‘‘ ڈالا اور حضرت امیر شریعت رحمۃ اللہ کو یہ نام پسند آگیاحضرت امیر شریعت نے ان دونوں اسکول کا ذمہ دار مجھے بنایا اور مقامی طور پر دونوں جگہ نگرانی کے لیے مولانا ابو الکلام معاون ناظم امارت شرعیہ کو نامزد ، چنانچہ نگری پسکا رانچی اور گریڈیہ ، بھنڈارا ڈیہ میں پہلے سے تعمیر شدہ عمارت میںا س نام سے ادارہ کھولا گیا ، تعلیم کے آغاز کے لیے حضرت نے دونوں جگہ کا سفر کیا اور بڑے اجلاس سے خطاب کیا اور الحمد للہ کام چل نکلا، اور اب دھیرے دھیرے وہاں کے درجات میں اضافہ ہو رہا ہے، حضرت امیر شریعت سابع ؒ نے اربا میں اپنے آخری سفر میں ایک اور اسکول کی بنیاد رکھی اور اس کا نام ’’امارت انٹرنیشنل اسکول‘‘ تجویز فرمایا۔
 حضرت کے وصال کے بعد امیر شریعت ثامن حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی دامت برکاتہم نے امارت شرعیہ کے جن کاموں کو ترجیحی بنیاد پر اولیت دی ان میں ’’امارت پبلک اسکول‘‘ کے منصوبے کی توسیع شامل ہے، حضرت کے دور میں کٹیہار، پورنیہ، کٹک اور اربا(رانچی) میں معیاری ادارے کا قیام عمل میں آچکا ہے، ان جگہوں میں طلبہ وطالبات کثرت سے داخل ہیں، ترانہ اور جاتے وقت ان کا اجتماع دیکھ کر دل میں خاص سرور وکیف پیدا ہوتا ہے، حضرت کی ہدایت ہے کہ ان بچوں کو پورے طور پر اسلامی ماحول ، دینی تربیت اور بنیادی دینی تعلیم کے ساتھ آگے بڑھایا جائے، حضرت کی خواہش ہے کہ ان کے یونی فارم میں بھی اس کا خیال رکھا جائے ، ہاف پینٹ اسکاٹ اور ٹائی کے استعال سے یونی فارم میں گریز کیا جائے۔
 حضرت دامت برکاتہم نے اسکول ومدارس ، مکاتب کے نصاب پر نظر ثانی کے لیے بھی چند افراد کی مختصر کمیٹی بنائی ہے جو نصاب پر نظر ثانی کرکے اسے موجودہ حالات کے مطابق عصری تقاضوں کے مطابق ترتیب دے گا ، جلد ہی اس سلسلہ کی میٹنگ ہوگی اور حضرت کے ذہن میں ان اداروں کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کا جو منصوبہ ہے وہ عملی طور پر ہمارے سامنے آئے گا اور ہم نئی نسلوں کے دین وایمان اور اسلامی افعال و اقدار کے تحفظ میں انشاء اللہ کامیاب ہوں گے ۔

حکومت ہند توہین مذہب پر مضبوط اور واضح قانون سازی کرے:دارالعلوم دیو بند

حکومت ہند توہین مذہب پر مضبوط اور واضح قانون سازی کرے:دارالعلوم دیو بند

دیوبند(ایچ ایف خان) عالمی شہرت یافتہ دینی دانشگاہ دارالعلوم دیوبند نے ایک تحریری بیان جاری کرحکومت ہند سے توہین مذہب توہین پر مربوط مضبوط اور واضح قانون سازی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ کسی مذہب یا مذہبی پیشوا کی توہین نہ کی جا سکے۔مہتمم دارالعلوم دیوبند مولانا ابوالقاسم نعمانی کے دستخط سے جاری تحریری بیان میں دارالعلوم دیوبند نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیاہے کہ توہین مذہب سے متعلق قانون کومزید سخت بنایا جائے،تاکہ آزادی گفتار کے نام پر کسی مذہب کے خلاف لب کشائی نہ کی جاسکے۔

مولانا ابوالقاسم نعمانی نے کہا کہ یہ حقیقت سب کو معلوم ہے کہ ہندوستان مذہبی اقدار و روایات کو تحفظ فراہم کرنے والا ایک سیکولر ملک ہے لیکن گذشتہ چند برسوں سے آئے دن ایسے اذیت ناک واقعات اور بیان سامنے آتے رہے ہیں جن سے مذہبی احساسات اور جذبات مجروح ہوئے ہیں، فرقہ پرست وشدت پسند عناصر اور ان کا ہمنوا میڈیا ہر روز دل آزار گفتگو کرنے لگا ہے،جیسے جیسے فرقہ واریت کو شہ مل رہی ہے مذہبی شخصیات اور مذہبی کتابوں کو بھی ھدف تنقید بنایا جانے لگا ہے جس کے سبب عالمی سطح پر ہمارے ملک کی سیکولر اور انصاف پسند شبیہ کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

دار العلوم دیوبند کے لئے بھی ایسا ہونا باعث تشویش ہے چونکہ یہ آزاد ہندوستان اور اس کا سیکولر کردار ہمارے اکابر کی بے مثال قربانیوں کا نتیجہ ہے، اس ملک کی نیک نامی کے لئے علمائے دار العلوم دیوبند کی قربانیاں جگ ظاہر ہیں۔ ہندوستانی مسلمان صبرو تحمل کے ساتھ ملک کی سلامتی اور امن و آشتی کے خاطر آج بھی بہت کچھ برداشت کر رہے ہیں لیکن توہین رسالت کا معاملہ ہر مومن اور انصاف پسند انسان کے لئے قطعی ناقابل برداشت ہے،جس پر خاموش رہنا ممکن نہیں،گذشتہ دنوں ہمارے ملک میں اہانت رسول کا جو دلخراش واقعہ پیش آیا اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے،اس کے خاطیوں کو قرار واقعی سزا ملنی چاہئے ہم نہیں چاہتے وطن عزیز میں ایک دوسرے کے خلاف توہین مذہب کی مقابلہ آرائی شروع ہوجائے اور مزید جگ ہنسائی ہو، اس لئے ہم حکومت ہند سے مطالبہ کرتے ہیں کہ "ایشٹ نندا"پر مربوط مضبوط اور واضح قانون سازی ہو تاکہ کسی مذہب یا مذہبی پیشوا کی توہین نہ کی جا سکے۔

اردودنیانیوز۷۲

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا ...