Powered By Blogger

منگل, اگست 17, 2021

ناندیڑمیں حضرت مصطفی ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے کرانہ دوکان مالک کے خلاف مقدمہ درج

ناندیڑ:16اگست (اردو اخبار دنیا) کل یوم آزادی کے دن سوشل میڈیا پر ایک شخص نے رسول اکرم حضرت محمد مصطفی ﷺ کی شان میںگستاخی کی ۔اس معاملے میں گستاخ شخص کے خلاف شیواجی نگر پولس اسٹیشن میں مقدمہ درج کیاگیا ہے ۔

اس طرح اس شخص نے مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح کو کرتے ہوئے شہر کے حالات کو خراب کرنے کی مذموم کوشش کی ہے ۔تفصیلات کے مطابق شہر کے آئی ٹی آئی روڈ پر گوکل ہوٹل کے بازو واقع گرہ سیوا بھنڈار کرانہ دوکان ہے ۔جس کے مالک دیپک کرشنا رودروار نے واٹس ایپ گروپ کرانہ ایسوسی ایشن میں حضرت محمدﷺ کی شان میںگستاخی کرتے ہوئے ایک نازیبا پیغام روانہ کیاتھا ۔

جیسے ہی اسکی خبر کچھ مسلم نوجوانوں تک پہنچی وہ فی الحال رات آٹھ بجے اس دوکان مالک کے پاس پہنچے اور اس گستاخی کے بارے میں پوچھ گچھ کی ۔اسی دوران علاقہ کی دوکانیں و کاروبار بند ہوگئے اور کچھ دیر کیلئے حالات کشیدہ ہوگئے ۔جبکہ ملزم دیپک نے شیواجی نگر پولس کواطلاع دی کہ اسکی دوکان پر کچھ نوجوان آئے ہیں جوانھیں دھمکیاںدے رہے ہیںاورسامان کی توڑپھوڑ کی ۔اسلئے پولس نے کچھ نوجوانوں کو حراست میں لیا۔جبکہ ناندیڑ کے ڈپٹی آئی جی نثارتنبولی کو اس کی اطلا ع ملتے ہی وہ بھی ایڈیشنل ایس پی نلیش مورے ‘ شہر کے تمام پولس اسٹیشنوں کے پی آئی اور دیگر پولس ملازمین کی ٹیم شیواجی نگر پولس اسٹیشن میںداخل ہوگئی ۔اس وقت تک سینکڑوں کی تعدادمیں نوجوان سڑکوں پر جمع ہوگئے تھے ۔نثارتنبولی نے بتایا کہ مذکورہ دوکان مالک کےخلاف مقدمہ درج کردیاگیا ہے ۔یاسین عبدالباری شیٰخ عبدالقادر کی شکایت پر مقدمہ کااندراج کیاگیا ہے اوراسکی گرفتاری بھی عمل میں آئی ۔ شیواجی نگر پولس اسٹیشن میں سبھی سیاسی جماعتوں کے لیڈران پہنچ گئے جنہوں نے اس واقعہ پر شدید برہمی کااظہارس کیااور حراست میں لے گئے مسلم نوجوانوں کوفی الفور چھوڑنے کامطالبہ کیاہے جس کے بعد نوجوانوں کوچھوڑ دیا گیا ۔واضح رہے کہ آئے دن چند فرقہ پرست ذہنیت کے حامل افراد سوشل میڈیا پر مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے مقصد سے اس طرح کی گستاخی کرتے ہیں اور حالات کو خراب کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔

پیر, اگست 16, 2021

مسلم پرسنل لا بورڈ آف انڈیا کا دو روزه تاریخی اجلاس ، مسلمانوں کو درپیش مختلف مسائل پر ہوگا تبادلہ خیال

مسلم پرسنل لا بورڈ آف انڈیا کا دو روزه تاریخی اجلاس ، مسلمانوں کو درپیش مختلف مسائل پر ہوگا تبادلہ خیاللکھنئو(اردو اخبار دنیا) : مسلم پرسنل لا بورڈ آف انڈیا کا دو روزہ تاریخی اجلاس 23 اور 24اگست کو لکھنئو میں منعقد کیا جائے گا جس میں پورے ملک سے اہم علماء کرام ، پیرانِ طریقت،مفتیان ، سجاد گان اور اہم دانشوروں کی شرکت متوقع ہے۔ مسلم پرسنل لا بورڈ آف انڈیا کے قومی صدر مولانا قاری محمد یوسف عزیزی نے مجوزہ اجلاس کی ضرورت اور اہمیت کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ملک میں ملت اسلامیہ برے دور سے گزر رہی ہے۔ ایک ایسے دور سے جس میں صرف ان کے مذہبی سماجی تعلیمی اور اقتصادی حقوق ہی نہیں بلکہ آئینی ، دستوری اور جمہوری حقوق بھی صلب کئے جارہے ہیں۔ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ ان حقوق کی بازیابی کے کئے بشمول آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ ، کسی بھی مذہبی سیاسی اور سماجی جماعت نے سنجیدہ اقدامات نہیں کئے۔بلکہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ تو بابری مجد اور تین طلاق جیسے مسائل پر بھی اپنا کردار ادا نہ کر سکا اسے مسلمانوں کے دیگر مسائل سے تو سروکار ہی نہیں۔

اس مجموعی صورت حال اور ملت کی زبوں حالی اور بے چارگی کو دیکھتے ہوئے سترہ مارچ دوہزار سترہ کو مسلم پرسنل لا بورڈ آف امڈیا کا قیام عمل میں آیا تھا اور بورڈ کے تمام عہدیداروں اور اراکین نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ مسلم پرسنل لا بورڈ آف انڈیا خود کو صرف شرعئی مسائل تک محدود نہیں رکھے گا بلکہ مسلمانوں کی ہمہ جہت ترقی کو یقینی بنانے کے لئے مستحکم کام کرے گا۔ ۲۳ اور ۲۴ اگست کے مجوزہ اجلاس میں مسلمانوں کو درپیش اہم مسائل پر تبادلہءِ خیال کرکے ٹھوس اور جامع حکمت عملی وضع کی جائے گی اس میں آئین کی دفعہ ۳۴۱ سے مذہبی پابندی ہٹانے،سچر کمیٹی کی سفارشات کو لاگو کرانے ، پار لیمنٹ میں تحفظِ ناموسِ رسالت بل پاس کرانے اور مسلمانوں کی ہمہ جہت ترقی کو یقینی بنانے جیسے موضوعات وفاقی طور پر زیر غور رہیں گے۔

مولانا قاری محمد یوسف یہ بھی کہتے ہیں کہ ہم مسلکی تضاد ونفاق کے خلاف مشترکہ اتحاد میں یقین رکھتے ہیں جو موجودہ عہد کی اہم ضرورت ہے لیکن اہل سنت کا ایک بڑا اور ذمہدار طبقہ یہ محسوس کرتا ہے کہ ملک کی مختلف سرکردہ اور اہم جماعتوں میں ہمارے خیالات و نظریات کی پاسداری و ترجمانی کرنے والے لوگوں کی مناسب نمائندگی نہیں لہٰذا اس حوالے سے بھی ہم شرکاء سے تبادلہء خیال کریں گے۔


یوپی : آبادی کنٹرول قانون کا 260 صفحات پر مشتمل مسودہ وزیراعلی یوگی کے سپرد

یوپی : آبادی کنٹرول قانون کا 260 صفحات پر مشتمل مسودہ وزیراعلی یوگی کے سپردلکھنؤ۔(اردو اخبار دنیا)16؍اگست: یوپی صوبائی لاء کمیشن نے پیر کو 260 صفحات پر مشتمل آبادی کنٹرول قانون کا مسودہ یوگی حکومت کو سونپ دیا۔ اس مسودہ کو کمیشن کے چیئرمین جسٹس آدتیہ ناتھ متل نے تیار کیا ہے۔ حکومت اس مسودہ کو مانسون سیشن میں متوقع طو رپر پیش کر سکتی ہے۔ اگریہ مسودہ قانون میں بدل گیا ، تویوپی میں مستقبل میں جن لوگوں کے 2 سے زائد بچے ہیں انہیں سرکاری ملازمت سے محروم رہنا پڑے گا۔علاوہ ازیں 77 سرکاری اسکیموں کی سہولت سے بھی ہاتھ دھونا پڑے گا۔ غور طلب ہے کہ اس سے قبل مبینہ لو َجہاد کا مسودہ بھی آدتیہ ناتھ متل نے ہی تیار کیا تھا۔یہ مسودہ کسی حکومتی حکم پر نہیں بلکہ کمیشن نے از خود تیار کی ہے۔ تجویزیہ ہے کہ دو سے زائد بچوں کے والدین پر سرکاری ملازمتوں کے لیے درخواست دینے سے لے کر بلدیاتی انتخابات لڑنے تک پابندی لگ سکتی ہے۔ اس تجویز میں ایک شق بھی شامل کی گئی ہے ، شق یہ ہے کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والے شہریوں کو 77 سرکاری سکیموں اور گرانٹس سے محروم کردیا جائے گا۔لاء کمیشن کی تیار کردہ 260 صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں مختلف طبقات کی طرف موصول تجاویزبھی شامل کی گئی ہیں۔ انہیں 57 زمروں میں رکھے گئے ہیں۔ رپورٹ میں درست اور غیر درست تجاویز کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کی قانونی پوزیشن کو بھی واضح کیا گیا ہے۔ مستقبل میں یہ بل اتر پردیش آبادی (کنٹرول ، استحکام اور بہبود) ایکٹ 2021 کے نام سے جانا جائے گا، یہ 21 سال سے زائد عمر کے نوجوانوں اور 18 سال سے زائد عمر کی لڑکیوں پر لاگو ہوگا۔ مسودے کو حتمی شکل دینے سے قبل کمیشن نے اپنی ویب سائٹ پر تجاویز اور اعتراضات وصول کئے تھے۔ 19 جولائی تک کمیشن کو 8500 سے زائد تجاویز اور اعتراضات موصول ہوئے تھے۔ ان تجاویز اور اعتراضات پر غور کرنے کے بعد کمیشن نے بل کے مسودے کو حتمی شکل دے دی ہے۔اس مسودہ میںدو سے زائد بچوں کے والدین کو سرکاری ملازمت نہیں ملے گی۔یہاں تک کہ انہیں بلدیاتی اور پنچایتوں کے انتخابات لڑنے پر بھی پابندی ہوگی۔راشن کارڈ میں چار سے زائد ممبران کے نام نہیں لکھے جائیں گے۔یہ قانون 21 سال سے زیادہ عمر کے نوجوانوں اور 18 سال سے زیادہ عمر کی لڑکیوں پر لاگو ہوگا۔اسکولوں میں آبادی کنٹرول سے متعلق کورس پڑھانے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔قانون کے نفاذ کے بعد اگر کسی عورت کے دوسرے حمل میں جڑواں بچے ہوں، تو وہ قانون کے دائرے میں نہیں آئے گی۔تیسرے بچے کو گود لینے پر کوئی پابندی نہیں ہوگی۔ اگر کسی کے 2 بچے معذور ہیں تو وہ تیسرے بچہ کی پیدائش پر سہولیات سے محروم نہیں ہو گا۔علاوہ ازیں سرکاری ملازمین کو یہ یقین دہانی کرانی ہوگی کہ وہ اس قانون کی خلاف ورزی نہیں کریں گے۔

پٹرو اور ڈیزل في الحال نہیں ہوں گے سستے وزیرخزانہ نے بتائی قیمتوں میں تخفیف نہیں کرنے کی وجہ

پٹرو اور ڈیزل في الحال نہیں ہوں گے سستے وزیرخزانہ نے بتائی قیمتوں میں تخفیف نہیں کرنے کی وجہنئی دہلی (اردو اخبار دنیا): ترقی پسند اتحاد (یو پی اے) کی سابقہ حکومت کی طرف سے 2013-14 میں تیل کی قیمتوں کو کم کرنے کے مقصد سے جاری کردہ تیل کے بانڈز کی ادائیگی مودی حکومت کر رہی ہے اور اب تک 60205.67 کروڑ روپے صرف سود میں ادا کیے گئے ہیں ۔ اس کے پیش نظر تیل کی قیمتوں میں فوری تخفیف کی توقع نہیں کی جا سکتی ۔ وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ مارچ 2021 تک تیل بانڈ کے 130923.17 کروڑ روپے کے بقایا اور 2025-26 تک اس کی سود کے ساتھ ادا کیے جانے ہیں ۔ ابھی تقریبا دس ہزار کروڑ روپے ہر سال صرف بطور سود ادا کیے جا رہے ہیں ۔ اب تک مودی حکومت نے 60205.67 کروڑ روپے بطور سود ادا کئے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت کی یو پی اے حکومت نے تیل کی قیمتوں کو کم کرنے کے لیے یہ آئل بانڈ جاری کیا تھا اور تیل کی مارکیٹنگ کمپنیوں پر اس کا بوجھ ڈال دیا ۔ انہوں نے کہا کہ سال 2024-25 تک ایک سال میں 25 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کی ادائیگی کرنی ہوگی ۔تیل پر چنگیوں میں کمی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے اور اس کو وزارت پٹرولیم دیکھ رہی ہے۔ یو پی اے حکومت کی طرح مودی حکومت بھی آنے والی حکومت پر بوجھ ڈال کر تعریف حاصل نہیں کرنا چاہتی ہے ۔ مودی حکومت یو پی اے حکومت کا بوجھ اٹھا رہی ہے اور ادائیگی کر رہی ہے۔ اس وقت حکومت نے آئل بانڈز سے پیسے ادھار لے کر تیل کی قیمتوں میں کمی کی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ سال 2014 میں اس حوالے سے وائٹ پیپر بھی جاری کیا گیا تھا۔



جب کچھ ریاستوں کی جانب سے پیٹرول اور ڈیزل پر ویٹ وغیرہ میں کمی کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ تمل ناڈو نے یہ کام ریاست میں انتخابات سے پہلے کیا تھا ۔ پہلے اس میں 7 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا اور بعد میں اسے 3 روپے کم کردیا گیا۔

مہاراشٹر: دوبارہ لاک ڈاؤن کی وارننگ، ممبئی میں عوامی مقامات کے لیے رعایت کا فیصلہ


ممبئی(اردو اخبار دنیا): ممبئی میں کووڈ-19 کے معاملات میں کمی کے پیش نظر ممبئی میونسپل کارپوریشن نے چند رعایتیں دینے کا فیصلہ کیا ہے،لیکن گزشتہ روز احتیاطی تدابیر نہیں کرنے سے ناراض وزیراعلی ادھو ٹھاکرے نے وارننگ دی تھی کہ اگر احتیاط نہیں کیاگیا تو دوبارہ سخت لاک ڈاؤن لگایا جاسکتا ہے۔

بی ایم سی نے میدان،گارڈن اور ساحل پر رات 10بجے جانے کی اجازت دے دی ہے۔ بی ایم سی نے اپنی ہدایات میں کہاہے کہ اس دوران عوام۔کو کوویڈ19 کے پروٹوکول کاخیال رکھناہوگا۔ گزشتہ روز سے حکومت نے چند شرائط پر لوکل ٹرینوں میں سفر کی اجازت دے دی ہے۔پہلے سرکاری،نیم سرکاری ملازمین کو اس کی اجازت تھی۔جن لوگوں نے دونوں خوراک لگالی ہیں انہیں لوکل میں سفر کی اجازت ہوگی ،یوم آزادی سے اس کی اجازت دی گئی ہے۔

بہار سیلاب : وزیر اعلی نتیش کمار نے کہا کہ پٹنہ کے لوگوں کو فی الحال کوئی خطرہ نہیں ہے

بہار سیلاب : وزیر اعلی نتیش کمار نے کہا کہ پٹنہ کے لوگوں کو فی الحال کوئی خطرہ نہیں ہے(اردو اخبار دنیا)بہار میں سیلاب کی صورتحال تشویشناک ہے دریائے گنگا کے پانی کی سطح گزشتہ چند دنوں سے بڑھ رہی ہے 23 اضلاع کے لاکھوں لوگ سیلاب سے متاثر ہیں سیلاب کی صورت حال پر چیف منسٹر نتیش کمار نے اتوار کو کہا کہ دارالحکومت پٹنہ کے لوگوں کو فی الحال کوئی خطرہ نہیں ہے اس سے قبل بدھ کو نتیش کمار نے سڑک کے ذریعے پٹنہ کے ارد گرد سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا جائزہ لیا تھا بدھ کے روز نتیش کمار نے کہا تھا کہ دریائے گنگا کے پانی کی سطح بڑھ رہی ہے آنے والے دنوں میں دریا کے پانی کی سطح میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے انہوں نے کہا تھا کہ سال 2016 میں بھی سیلاب کی صورتحال تقریباایک جیسی تھی عہدیداروں سے کہا گیا ہے کہ وہ 2016 کے سیلاب کو مدنظر رکھتے ہوئے تیاری کریں اور ضروری اقدامات کریں سیلاب کے حوالے سے عہدیداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ گنگا کے کنارے گنجان آباد علاقوں میں پانی کا رساو روکیں بدھ کے روز پٹنہ کے ہتھیدہ میں دریائے گنگا کی پانی کی سطح خطرے کے نشان سے 144 سینٹی میٹر اوپر تھی۔


سال 2022 میں پرگتی شیل سماج وادی پارٹی لوہیا اتحاد کی بنے گی حکومت : شیوپال

سال 2022 میں پرگتی شیل سماج وادی پارٹی لوہیا اتحاد کی بنے گی حکومت : شیوپال(اردو اخبار دنیا)اٹاوہ: پرگتی شیل سماج وادی پارٹی لوہیا ( پی ایس پی ایل) کے سربراہ شیوپال سنگھ یادو نے دعوی کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس بھی پارٹی سے ان کا اتحاد ہوگا سال 2022 کے اسمبلی انتخابات کے بعد اسی پارٹی کی حکومت بنے گی۔ پی ایس پی سربراہ آج یہاں اپنے انتخابی حلقے جسونت نگر میں لوہیا پیغام یاترا کا آغاز کرنے کے موقع پر بول رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ جس پارٹی سے ان کی پارٹی کا اتحاد ہوگا اسی پارٹی کی سال 2022 کے اسمبلی انتخاب میں حکومت بنے گی۔ آج ریاست کی ایسی حالت ہے جس میں ہماری پارٹی کافی مضبوط ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر 2022 میں ہماری حکومت بنتی ہے تو کسانوں اور مسلمانوں کو پورا احترام ملے گا۔ کسی کے ساتھ مذہب و ذات کے نام پر کوئی تفریق نہیں کی جائے گی۔ کسان حکومت کے ذریعہ پاس کئے گئے کالے قانون کی مخالفت کر رہا ہے لیکن حکومت کسانوں کے مسائل کو نہیں سن رہی ہے۔ جسے لے کر کسان مہینوں سے احتجا ج پر بیٹھے ہیں۔ حکومت کو کسانوں کی بات سننا چاہئے کیونکہ کسان ملک کو اناج دینے والے ہیں۔

شیوپال یادو نے بی جے پی پر نشانہ سادھتے ہوئے کہا کہ جب سے یہ پارٹی اقتدار میں آئی ہے تب سے عوام پریشان ہیں۔ لگاتار مہنگائی بڑھ رہی ہے اور پٹرول ڈیزل اور بجلی کی قیمتیں آسمانی چھورہی ہیں حکومت اس جانب دھیان نہیں دے رہی ہے۔ پی ایس پی سربراہ نے کہا کہ ان پانچ سالوں میں کس کو فائدہ ہوا۔ صرف دو ہی سرمایہ کاروں کو فائدہ ہوا ہے اب بہت سے لوگوں کو بکھاری بنایا گیا ہے جبکہ روزگار دینا چاہئے تھے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ گذشتہ 5 سالوں میں بی جے پی نے ریاست کو سب سے نیچے 25 ویں پائیدان پر لا کھڑا کر دیا ہے اور بہار کا اس کے بعد نمبر آتا ہے۔

اردودنیانیوز۷۲

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا

مظفر نگر: آج تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا ...